Mohabbat Ki Paidaish Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 1

0

محبت کی پیدائش از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 1

–**–**–


محبت کی پیدائش
(خالد سیٹی بجا رہا ہے۔ سیٹی بجاتا بجاتا خاموش ہو جاتا ہے۔ پھر ہولے ہولے اپنے آپ سے کہتا ہے۔)
خالد:اگر محبت ہاکی یا فٹ بال میچوں میں کپ جیتنے ، تقریر کرنے اور امتحانوں میں پاس ہو جانے کی طرح آسان ہوتی تو کیا کہنے تھے۔۔۔ مجھے سب کچھ مل پاتا۔ سب کچھ (پھر سیٹی بجاتا ہے) نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں اس چھوٹے سے باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے پر میں خوش نہیں ہوں۔ میں بالکل خوش نہیں ہوں۔
حمیدہ:(دھیمے لہجے میں) خالد صاحب!
(خالد خاموش رہتا ہے)
حمیدہ:(ذرا زور سے)خالد صاحب!
خالد:(چونک کر) کیا ہے؟کوئی مجھے بلا رہا ہے؟
حمیدہ:میں ہوں !۔۔۔ مجھے آپ سے ایک ضروری کام ہے۔
خالد:اوہ!حمیدہ۔۔۔ کہو، یہ ضروری کام کیا ہے۔۔۔ میں یہاں یونہی لیٹے لیٹے اونگھنے لگ گیا تھا۔ کیا کسی کتاب کے بارے میں کچھ کہنا ہے؟۔۔۔ مگر تم نے مجھے اتنا قابل کیوں سمجھ رکھا ہے۔۔۔ فلسفے میں میں اتنا ہوشیار نہیں جتنی کہ تم ہو۔ عورتیں فطرتاً فلسفی ہوتی ہیں۔
حمیدہ:میں آپ سے فلسفے کے بارے میں گفتگو کرنے نہیں آئی۔ افلاطون اور ارسطو اس معاملے میں میری مدد نہیں کر سکتے جتنی آپ کر سکتے ہیں۔
خالد:میں حاضر ہوں۔
حمیدہ:میں بہت جرأت سے کام لے کر آپ کے پاس آئی ہوں۔ آپ یقین کیجئے کہ میں نے بہت بڑی جرأت کی ہے۔۔۔ بات یہ ہے۔۔۔ مجھے شرم محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ مگر نہیں۔۔۔ اس میں شرم کی کونسی بات ہے۔۔۔ مجھے یہ کہنا ہے کہ پرسوں رات میں نے اباجی کو امی جان سے یہ کہتے سنا کہ وہ آپ سے میری شادی کر رہے ہیں۔
خالد:(خوش ہو کر) سچ مچ؟
حمیدہ:جی ہاں۔۔۔ میں نے یہ سنا ہے کہ بات پکی ہو گئی ہے۔۔۔ اور اس فائنل کے بعد ہم بیاہ دیئے جائیں گے۔
خالد:(خوشی کے جذبات کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے) حد ہو گئی ہے۔۔۔ مجھے تو کسی نے بتایا ہی نہیں۔۔۔ یہ چپکے چپکے انھوں نے بڑا دلچسپ کھیل کھیلا۔۔۔ دراصل بات یوں ہوئی ہے کہ میں نے اپنی امی جان سے ایک دو مرتبہ۔۔۔ تمہاری تعریف کی تھی اور کہا تھا کہ جو شخص حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی۔۔۔ حمیدہ جیسی پیاری لڑکی کا شوہر بنے گا۔۔۔ وہ کس قدر خوش نصیب ہو گا۔ (ہنستا ہے)حد ہو گئی ہے۔۔۔ میں یہاں اسی فکر میں گھلا جا رہا تھا کہ تم کہیں کسی اور کی نہ ہو۔ جاؤ (خوب ہنستا ہے)۔۔۔ دیکھو نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں۔۔۔ اس باغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرا رہی ہے۔۔۔ اور میں بھی خوش ہوں۔۔۔ کس قدر خوش (ہنستا ہے) حمیدہ اب تمہیں ہم سے پردہ کرنا چاہئے۔۔۔ ہم تمہارے ہونے والے شوہر ہیں۔
حمیدہ:مگر مجھے یہ شادی منظور نہیں۔!
خالد:شادی منظور نہیں۔۔۔ پھر تم نے یہ بات کیوں چھیڑی؟۔۔۔ میں تمہیں نا پسند ہوں کیا؟
حمیدہ:خالد صاحب!میں اس معاملے پر زیادہ گفتگو کرنا نہیں چاہتی۔ میں آپ سے صرف یہ کہنے آئی تھی کہ اگر ہماری شادی ہو گئی۔ تو یہ میری مرضی کے خلاف ہو گی۔ ہماری دونوں کی زندگی اگر ہمیشہ کے لئے تلخ ہو گئی تو اس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔ میں نے اپنے دل کی بات آپ سے چھپا کر نہیں رکھی، جو فرض میرے ماں باپ کو ادا کرنا چاہئے تھا۔ میں نے ادا کر دیا ہے آپ عقل مند ہیں۔ روشن خیال ہیں۔ اس لئے میں آپ کے پاس آئی۔ ورنہ یہ راز قبر تک میرے سینے میں محفوظ رہتا۔
خالد:یہ جھوٹ ہے میں تم سے محبت کرتا ہوں۔
حمیدہ:ہو گا۔ مگر میں آپ سے محبت نہیں کرتی۔
خالد:اس میں میرا کیا قصور ہے؟
حمیدہ: اور اس میں میرا کیا قصور ہے؟
خالد:حمیدہ تم اچھی طرح جانتی ہو کہ میں جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ میرا دل تمہاری اور صرف تمہاری محبت سے بھرا ہے۔
حمیدہ:لیکن میرا دل بھی تو آپ کی محبت سے بھرا ہو۔۔۔ میرے اندر سے بھی تو یہ آواز پیدا ہو کہ حمیدہ آپ کو چاہتی ہے۔۔۔ میں بھی تو آپ سے جھوٹ نہیں کہہ رہی۔۔۔ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی محبت اس وقت مجھ پرکیا اثر کر سکتی ہے جب میرا دل آپ کی محبت سے خالی ہو۔
ــــــــــــــــــــــــ

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: