Mohabbat Ki Paidaish Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 2

0

محبت کی پیدائش از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 2

–**–**–

ششششششش
حمیدہ:لیکن میرا دل بھی تو آپ کی محبت سے بھرا ہو۔۔۔ میرے اندر سے بھی تو یہ آواز پیدا ہو کہ حمیدہ آپ کو چاہتی ہے۔۔۔ میں بھی تو آپ سے جھوٹ نہیں کہہ رہی۔۔۔ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں تو آپ کی محبت اس وقت مجھ پرکیا اثر کر سکتی ہے جب میرا دل آپ کی محبت سے خالی ہو۔
خالد:ایک دیا دوسرے دیئے کو روشن کر سکتا ہے۔
حمیدہ:صرف اس صورت میں جب دوسرے دیئے میں تیل موجود ہو۔۔۔ یہاں میرا دل تو بالکل خشک ہے آپ کی محبت کیا کر سکے گی۔ میں نے آج تک آپ کو ان نگاہوں سے کبھی نہیں دیکھا جو محبت پیدا کر سکتی ہیں۔۔۔ اس کے علاوہ کوئی خاص بات بھی تو نہیں ہوئی جس سے یہ جذبہ پیا ہو سکے۔۔۔ لیکن میں آپ کے بارے میں اچھی طرح جانتی ہوں کہ آپ اچھے نوجوان ہیں با اخلاق ہیں۔ کالج میں سب سے زیادہ ہوشیار طالب علم ہیں۔ آپ کی صحت آپ کی علمیت، آپ کی قابلیت قابل رشک ہے۔ آپ ہمیشہ میری مدد کرتے رہے ہیں۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ میرے دل میں آپ کی محبت ذرہ بھر بھی نہیں ہے۔۔۔ میر ا خیال ہو سکتا ہے کہ درست نہ ہو۔ پریہ تمام خوبیاں جو آپ کے اندر موجود ہیں ضروری نہیں کہ وہ کسی عورت کے دل میں آپ کی محبت پیدا کر دیں۔
خالد:تم ٹھیک کہہ رہی ہو۔ مجھے اس کا احساس ہے۔
حمیدہ:تو کیا میں امید رکھوں کہ آپ مجھے اس بے مرضی کی شادی سے بچانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔
خالد:مجھ سے جو کچھ ہو سکے گا۔ ضرور کروں گا۔
حمیدہ:تومیں جاتی ہوں۔۔۔ بہت بہت شکریہ!
(چند لمحات تک خاموشی طاری رہتی ہے۔۔۔ خالد درد ناک سروں میں سیٹی بجاتا ہے۔۔۔)
خالد:سسکیوں میں نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں۔ اس چھوٹے سے بغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھرتھرا رہی ہے۔ میں خوش نہیں۔ بالکل خوش نہیں ہوں۔
(اسی روز شام کو خالد کے گھر میں)
ڈپٹی صاحب:(خالد کا باپ۔ دروازے پر آہستہ سے دستک دے کر)بھئی میں ذرا اندر آ سکتا ہوں۔
خالد:آئیے آئیے۔ اباجی!
ڈپٹی صاحب:میں نے بہت مشکل سے تمہارے ساتھ چند باتیں کرنے کی فرصت نکالی۔ یوں کہو کہ ایسا اتفاق ہو گیا کہ تم بھی گھر میں موجود ہو اور مجھے بھی ایک، آدھ گھنٹے تک کوئی کام نہیں۔۔۔ بات یہ ہے کہ تمہاری ماں نے تمہاری شادی کی بات چیت پکی کر دی ہے لڑکی حمیدہ ہے جس کو تم اچھی طرح جانتے ہو۔ تمہاری کلاس میٹ ہے اور میں نے سنا ہے کہ تم دل ہی دل میں اس سے ذرا۔۔۔ محبت بھی کرتے ہو چلو اچھا ہوا۔۔۔ اب تمہیں اور کیا چاہئے۔۔۔ امتحان پاس کرو اور دلہن کولے آؤ۔
خالد:پر اباجی، میں نے تو یہ سن رکھا تھا کہ حمیدہ کی شادی مسٹر بشیر سے ہو گی جو پچھلے برس ولایت سے ڈاکٹر ی امتحان پاس کر کے آئے ہیں۔
ڈپٹی صاحب:شادی اس سے ہونے والی تھی مگر حمیدہ کے والدین کو جب معلوم ہوا کہ وہ شرابی اور آوارہ مزاج ہے تو انھوں نے یہ خیال موقوف کر دیا لیکن تمہیں ان باتوں سے کیا تعلق۔۔۔ حمیدہ تمہاری ہو رہی ہے۔ ہو رہی ہے کیا ہو چکی ہے۔
خالد:حمیدہ راضی ہے کیا؟
ڈپٹی صاحب:ارے راضی کیوں نہ ہو گی؟جب ڈپٹی ظہور احمد کے بیٹے خالد کی شادی کا سوال ہو، تو اس میں رضامندی کی ضرورت ہی کیا ہے۔
خالد:مجھے بنا رہے ہیں آپ؟
ڈپٹی صاحب:رہنے دو۔اس قصے کو، مجھے اور بہت سے کام کرنا ہے۔ اچھا تومیں چلا۔۔۔ پر ایک اور بات بھی تو مجھے تم سے کرنا تھی۔ تمہاری ماں نے ایک لمبی چوڑی فہرست بنا کر دی تھی۔۔۔ ہاں یاد آیا۔۔۔ دیکھو بھئی نکاح کی رسم پرسوں یعنی اتوار کو ادا ہو گی۔ اس لئے کہ حمیدہ کا باپ حج کو جانے سے پہلے اس فرض سے سبکدوش ہو جانا چاہتا ہے۔۔۔ ٹھیک ہے ، ٹھیک ہے ، ایسا ہی ہونا چاہئے اور جب تمہاری ماں کہہ دے تو پھر اس میں کسی کلام کی گنجائش نہیں رہتی۔۔۔ میں نے ان لوگوں سے کہہ دیا ہے کہ ہم سب تیا رہیں۔ تمہیں جن لوگوں کوInvite کرنا ہو گا کر لینا۔ مجھے اس درد سری میں مبتلا نہ کرنا بھئی، میں بہت مصروف آدمی ہوں۔
خالد:بہت اچھا اباجی!
ڈپٹی صاحب:ہاں ایک اور بات۔۔۔ ممکن ہے کہ میں تم سے کہنا بھول جاؤں اس لئے ابھی سے کان کھول کر سن لو۔۔۔ (رازدارانہ لہجہ میں) شادی کے بعد اپنی بیوی کو سر پر نہ چڑھا لینا۔ ورنہ یاد رکھو، بڑی آفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اپنی ماں کی طرف دیکھ لو، کس طرح مجھے نکیل ڈالے رکھتی ہے۔
خالد:(ہنستا ہے)۔۔۔ نصیحت کا شکریہ!
ڈپٹی صاحب:شکریہ وکریہ کچھ نہیں تم سے جو کچھ میں نے کہا ہے اس کا خیال رکھنا اور بس۔۔۔ تومیں چلا۔۔۔ نکاح کے ایک روز پہلے مجھے یاد دلا دینا۔ تا کہ میں کہیں اور نہ چلا جاؤں۔
خالد:بہت اچھا اباجی!
(دروازہ بند کرنے کی آواز)
خالد:(ہولے ہولے گویا گہری فکر میں غرق ہے) بہت اچھا اباجی۔۔۔ بہت اچھا اباجی۔۔۔ میں نے کتنی جلدی کہہ دیا بہت اچھا اباجی۔۔۔ بہت اچھا۔۔۔ جو کچھ کہا ہوا ہے۔۔۔ اب اس کے سوا اور چارہ ہی کیا ہے۔۔۔ نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑتی رہیں گی بغیچوں میں پتیاں خوشی سے تھرتھراتی رہیں گی اور یہ دل ہمیشہ کے لئے اجڑ جائے گا۔۔۔ اجڑ جائے گا!
(تیسرے روز کالج میں پرنسپل کا دفتر)
(گھنٹی بجائی جاتی ہے پھر دروازہ کھولا جاتا ہے۔)
چپراسی:جی حضور!
پرنسپل:خالد کو اندر بھیج دو۔
چپراسی:بہت اچھا حضور!
(دروازہ کھولنے اور بند ہونے کی آواز پھر خالد کے آنے کی آواز)
پرنسپل:(کھانستا ہے) تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟
(خالد خاموش رہتا ہے۔)
پرنسپل:(با رعب لہجے میں)تمہیں اپنی صفائی میں کچھ کہنا ہے؟
خالد:کچھ نہیں۔ میرا دل کوڑے کرکٹ سے صاف ہے۔
پرنسپل:تم گستاخ بھی ہو گئے ہو؟
خالد:کالج میں اگر کوئی گستاخ لڑکا نہ ہو تو پرنسپل اپنی قوتوں سے بے خبر رہتا ہے اگر اس کمرے کو جس میں آپ رہتے ہیں ترازو فرض کر لیا جائے تو میں اس ترازو کی وہ سوئی ہوں جو وزن بتاتی ہے۔
ــــــــــــــــــــ
ششششش

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: