Mohabbat Ki Paidaish Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Episode 3

0

محبت کی پیدائش از سعادت حسن منٹو – قسط نمبر 3

–**–**–


پرنسپل:تم گستاخ بھی ہو گئے ہو؟
خالد:کالج میں اگر کوئی گستاخ لڑکا نہ ہو تو پرنسپل اپنی قوتوں سے بے خبر رہتا ہے اگر اس کمرے کو جس میں آپ رہتے ہیں ترازو فرض کر لیا جائے تو میں اس ترازو کی وہ سوئی ہوں جو وزن بتاتی ہے۔
پرنسپل:تم مجھے اپنی اس بے ہودہ منطق سے مرعوب نہیں کر سکتے۔
خالد:یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔
پرنسپل:(زور سے) تم خاک بھی نہیں جانتے۔
خالد:آپ بجا فرما رہے ہیں۔
پرنسپل:میں بجا نہیں فرما رہا۔ اگر میرا فرمانا بجا ہوتا تو کل تم ایسی بے ہودہ حرکت کبھی نہ کرتے جس نے تمہیں سب لوگوں کی نگاہ میں ذلیل کر دیا ہے اب تم میں اور ایک بازاری غنڈے میں کیا فرق رہا ہے۔
خالد:آپ سے عرض کروں؟
پرنسپل:کرو۔ کرو کیا عرض کرنا چاہتے ہو تمہاری یہ نئی منطق بھی سن لوں !
خالد:بازاری غنڈہ چوک میں کھڑا ہو کر جو اس کے دل میں آئے کہہ سکتا ہے مگر میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔ مجھ میں اتنی قوت نہیں ہے کہ اپنے دل کا تالا کھول سکوں جو تہذیب آج سے بہت عرصہ پہلے لگا چکی ہے بازاری غنڈہ مجھ سے ہزار درجے بہتر ہے۔
پرنسپل:جو تھوڑا بہت تم میں اور اس میں باقی رہ گیا ہے اب پورا کر لو۔۔۔ میں تمہیں اپنے کالج سے باہر نکال رہا ہوں۔
خالد:مگر۔۔۔
پرنسپل:مگر وگر کچھ بھی نہیں۔ میں فیصلہ کر چکا ہوں میرے کالج میں ایسا لڑکا ہرگز نہیں رہ سکتا۔۔۔ جو بد چلن ہو، آوارہ ہو۔ کالج میں شراب پی کر آنا ایسا جرم نہیں کہ سزا دیئے بغیر تمہیں چھوڑ دیا جائے۔
خالد:اپنے آپ پر دوبارہ غور فرمائیے۔ اتنی جلدی نہ کیجئے۔۔۔ آپ مجھے اپنے کالج سے ہمیشہ کے لئے باہر نہیں نکال سکتے۔
پرنسپل:(غصے میں) کیا کہا۔
خالد:میں نے یہ کہا تھا کہ مجھے اپنے کالج سے کیسے باہر نکال سکتے ہیں۔۔۔ آپ کو۔۔۔ آپ کو۔۔۔ میرے چلے جانے سے کیا آپ کو نقصان نہ ہو گا؟
پرنسپل:نقصان؟تمہارے چلے جانے سے مجھے کیا نقصان ہو سکتا ہے۔ تم جیسے دو درجن لڑکے میرے کالج سے چلے جائیں۔ خس کم جہاں پاک!
خالد:آپ میرا مطلب نہیں سمجھے پرنسپل صاحب!مجھے افسوس ہے کہ اب مجھے خود ستائی سے کام لینا پڑے گا۔ آپ کے سامنے یہ کالا بورڈ جو لٹک رہا ہے اس پر سب سے اوپر کس کا نام لکھا ہے۔ آپ بتانے کی تکلیف گوارا نہ کیجئے۔ یہ اسی آوارہ اور بد چلن کا نام لکھا ہے ، جو یہ ظاہر کرتا ہے کہ بی اے میں وہ صوبے بھرمیں اول رہا۔ اس بورڈ کے ساتھ ہی ایک اور بورڈ لٹک رہا ہے جو آپ کو بتا سکتا ہے کہ ہندوستان کی کسی یونیورسٹی کا ہوشیار سے ہوشیار طالب علم بھی آپ کے کالج کی کالی بھیڑ خالد کا مقابلہ نہیں کر سکا۔ تقریر میں اس نے تین سال تک کسی کو آگے بڑھنے نہیں دیا۔ آپ کے پیچھے ایک اور تختہ لٹک رہا ہے۔ اگر آپ کبھی اس پر نظر ڈالیں تو آپ کو معلوم ہو سکتا ہے کہ خالد جب سے آپ کی ہاکی ٹیم کا کپتان بنا ہے شکست ناممکن ہو گئی ہے۔ فٹ بال کی ٹیم میں مجھ سے بہتر گول کیپر آپ کہاں سے تلاش کریں گے؟اخبار لکھتے ہیں کہ میں لوہے کا مضبوط جال ہوں ، سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہوں۔۔۔ اور پچھلے برس میچ میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ تو آپ کو بچانے کے لئے کس نے آگے بڑھ کر ڈھال کا کام دیا تھا اسی خاکسار نے۔۔۔ آپ اپنے فیصلے پر دو بارہ غور کیجئے۔
پرنسپل:کیا اب احسان جتلا کر تم مجھے رشوت دینے کی کوشش کر رہے ہو۔
خالد:پرنسپل صاحب آج کل دنیا کے سارے دھندے اسی طرح چلتے ہیں بچہ جب روئے نہیں ماں دودھ نہیں دیتی یہ تو آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔ مگر آپ کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ پڑوس میں اگر بن ماں کا یتیم بچہ رونا شروع کر دے تو میری ماں دودھ کی بوتل لے کر ادھر کبھی نہیں دوڑے گی۔۔۔ آپ نے آج تک مجھ پر اتنی مہربانیاں کی ہیں تو محض! اس لئے کہ مجھ میں خوبیاں تھیں اور آپ مجھے پسند کرتے تھے اور میں نے اس روز آپ کو اس لئے بچایا تھا کہ وہ میرا فرض تھا۔ میں آپ کو رشوت نہیں دے رہا۔ مجھے معلوم ہے کہ آپ سزا دے کر رہیں گے۔ میں خود سزا چاہتا ہوں۔ مگر کڑی نہیں۔۔۔ رشوت تو وہاں دی جاتی ہے جہاں بالکل اجنبیت ہو۔
پرنسپل:تم تقریر کرنا خوب جانتے ہو۔
خالد:(ہنس کر)یہ کالا بورڈ بھی جو آپ کے سامنے لٹک رہا ہے یہی کہتا ہے۔
پرنسپل:خالد۔۔۔ میں حیران ہوں کہ تم نے کالج میں شراب پی کر ادھم کیوں مچایا۔۔۔ تم شریر ضرور تھے ، مگر مجھے معلوم نہ تھا۔ تم شراب بھی پیتے ہو۔ تمہارے کیریکٹر کے بارے میں مجھے کوئی شکایت نہ تھی۔ مگر کل کے واقعہ نے تمہیں بہت پیچھے ہٹا دیا ہے۔
خالد:جب کھائی پھاندنا ہو تو ہمیشہ دس بیس قدم پیچھے ہٹ کر کوشش کی جاتی ہے ہو سکتا ہے کہ میں نے اپنی زندگی میں ایک گہری کھائی پھاندنے کی کوشش کی ہو۔
پرنسپل:مجھے افسوس ہے کہ تم اس کوشش میں اوندھے اس گہری کھائی میں گر پڑے ہو۔
خالد:ایسا ہی ہو گا۔ مگر مجھے افسوس نہیں۔
پرنسپل:تواب تم کیا چاہتے ہو؟
خالد:میں کیا چاہتا ہوں؟۔۔۔ کاش کہ میں کچھ چاہ سکتا۔ آپ سے میری صرف یہ گزارش ہے کہ سزا دیتے وقت پرانے خالد کو یاد رکھئے۔ بس۔!
پرنسپل:تمہیں ایک سال کے لئے کالج سے خارج کر دینے کا حکم میں لکھ چکا ہوں یہ سزا تمہاری ذلیل حرکت کے مقابلے میں بہت کم ہے۔ اس لئے تم معلوم کر سکتے ہو کہ پرانے خالد کو میں نے ابھی تک دل سے محو نہیں کیا۔
خالد:میں آپ کا بے حد ممنون ہوں۔ ایک سال کے بعد جب خالد پھر آپ کے پاس آئے گا۔ تو وہ پرانا ہی ہو گا۔
پرنسپل:اب تم چپ چاپ یہاں سے چلے جاؤ اور دیکھو۔ اس غم کو دور کرنے کے لئے کہیں شراب خانے کا رخ نہ کرنا۔
خالد:ایک بار جو میں نے پی ہے۔ وہی عمر بھر کے لئے کافی ہے آپ بے فکر رہیں۔
(دروازہ کھلنے اور بند کرنے کی آواز)
(دروازے بند کرنے کے ساتھ ہی دس پندرہ لڑکوں کی آوازوں کا شور۔ پیدا کیا جائے یہ لڑکے خالد سے طرح طرح کے سوال پوچھیں۔)

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: