Mohabbat Ki Paidaish Drama by Sadat Hassan Manto – Read Online – Last Episode 4

0

محبت کی پیدائش از سعادت حسن منٹو – آخری قسط نمبر 4

–**–**–


خالد:ایک بار جو میں نے پی ہے۔ وہی عمر بھر کے لئے کافی ہے آپ بے فکر رہیں۔
(دروازہ کھلنے اور بند کرنے کی آواز)
(دروازے بند کرنے کے ساتھ ہی دس پندرہ لڑکوں کی آوازوں کا شور۔ پیدا کیا جائے یہ لڑکے خالد سے طرح طرح کے سوال پوچھیں۔)
۱۔کیوں خالد کیا ہوا؟
۲۔سال بھرکے لئے Expel کر دئیے گئے؟
۳۔پر میں پوچھتا ہوں۔ شراب پی کر تمہیں کالج ہی میں آ کر ادھم مچانا تھا؟
۴۔تم نے سخت غلطی کی، شراب تومیں بھی پیتا ہوں ، مگر کسی کو کانوں کان
خبر نہیں ہوتی؟
۵۔کیا جانے اس کے سر پرکیا وحشت سوار ہوئی؟
۶۔پہلی دفعہ پی اور بری طرح پکڑے گئے میرے یار؟
۷۔اب کیا ہو گا؟
خالد:(تنگ آ کر)بکواس نہ کرو۔ جو کچھ ہو چکا ہے تمہارے سامنے ہے جو کچھ ہو گا وہ بھی تم دیکھ لو گے۔ دنیا کی نگاہوں سے کوئی چیز پوشیدہ بھی رہی ہے؟
(کالج کے گھنٹے کی آواز ٹن ٹن ٹن)
خالد:جاؤ۔ جاؤ اپنی اپنی کلاس Attend کرو۔۔۔ مجھے میرے حال پر چھوڑ دو۔
(چند لمحات کے بعد خاموشی طاری ہو جاتی ہے۔)
خالد:بڑے بڑے معرکہ خیز میچوں میں حصہ لیا ہے بڑی بڑی چوٹیں کھائی ہیں مگر یہ تھکن جواس وقت محسوس ہو رہی ہے آج تک کبھی طاری نہیں ہوئی۔ بغیچے کی اس جھاڑی کے پاس حمیدہ نے میرے دل کے ٹکڑے کئے تھے۔ اب یہیں تھوڑی دیر بیٹھ کران کو جوڑتا ہوں۔۔۔ دل ٹوٹا ہوا ہو مگر پہلو میں ضرور ہونا چاہئے۔۔۔ اس کے بغیر زندگی فضول ہے۔۔۔
(وقفہ)
۔۔۔ اس وقت مجھے کسی ہمدرد کی کتنی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔۔۔ مگر۔۔۔
(گیت)
کون کسی کا میت منوا
کون کسی کا میت!
راگ سبھا ہے دنیا ساری
جیون دکھ کا گیت
منوا کون کسی کا میت
رام بھروسے کھینے والے
نیا کو منجدھار!
اپنے ہاتھوں آپ ڈبو دے
کیوں ڈھونڈے پتوار
ڈبو دی۔۔۔ اپنے ہاتھوں سے آپ ڈبو دی۔۔۔
حمیدہ:خالد صاحب۔
(خالد خاموش رہتا ہے۔)
حمیدہ:(ذرا بلند آواز سے)خالد صاحب!
خالد:(چونک کر)کیا ہے؟۔۔۔ اوہ!حمیدہ تم ہو۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ شاید گا رہا تھا۔
حمیدہ:میں سن رہی تھی۔
خالد:سن رہی تھیں۔۔۔ کیا سچ مچ؟۔۔۔ تو معلوم ہو گیا نا تمہیں کہ میں کتنا بے سرا ہوں۔۔۔ اور یہ گیت جو میں گا رہا تھا کتنا اوٹ پٹانگ تھا۔ ہاں تو۔۔۔ کیا تمہیں کسی بات کے بارے میں کچھ پوچھنا ہے؟
حمیدہ:میں یہ پوچھنے آئی ہوں کہ کل آپ نے میری غیر حاضری میں کیا کیا؟
خالد:اوہ۔۔۔ تم کل کی بات پوچھ رہی ہو۔ مگر جو کل کی بات ہو چکی۔۔۔ اس کے متعلق پوچھ کر کیا کرو گی؟
حمیدہ:کیا آپ نے سچ مچ کل شراب پی کر یہاں شور و غل مچایا؟
خالد:یہ تم کیوں پوچھ رہی ہو۔
حمیدہ:مجھے یقین نہیں آتا۔
خالد:کہ میں نے تمہارے کہے پر عمل کیا ہو گا؟
حمیدہ:(حیرت سے)میرے کہے پر؟میں نے آپ سے شراب پینے کو کبھی نہیں کہا۔
خالد:تو کیا زہر پینے کو کہا تھا؟
حمیدہ: اور اگر میں نے کہا ہوتا تو؟
خالد:میں کبھی نہ پیتا۔
حمیدہ:کیوں؟
خالد:اس لئے کہ میں مرنا نہیں چاہتا۔ میں تم محبت کرتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیں مگر میں اس محبت کی شکست پر خود کو ہلاک کرنے کے لئے تیار نہیں۔ پرانے عاشقوں کا فلسفہ میری نگاہوں میں فرسودہ ہو چکا ہے جب تک میں زندہ رہ سکوں گا تمہاری محبت اپنے دل میں دبائے رہوں گا۔تم میری آنکھوں کے سامنے رہو گی تو میرے زخم ہمیشہ ہرے رہیں گے۔۔۔ جب ایک روگ اپنی زندگی کو لگایا ہے تو کیوں نہ وہ عمر بھر تک ساتھ رہے۔ تم مجھ سے محبت نہیں کرتیں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ میں اپنی محنت کا گلا گھونٹ دوں۔
حمیدہ:تو آپ نے صرف میری محبت کی خاطر اپنے آپ کو رسوا کیا؟
خالد:ظاہر ہے۔
حمیدہ:لیکن کیا آپ کو اس رسوائی کے علاوہ کوئی اور راستہ نظر نہ آیا؟
خالد:کئی راستے تھے لیکن مجھے یہی اچھا نظر آیا۔ تم خود دیکھ لو گی کہ ہینگ پھٹکری لگے بغیر رنگ چوکھا آئے۔۔۔ آج شام ہی کو جب تمہارے گھر میرے کالج سے نکال دینے کی خبر پہنچے گی تو تمہارا وہ کام فوراً ہو جائے گا۔ جس کے لئے تم نے مجھ سے امداد طلب کی تھی۔ نہ میں نے اپنے والدین کی عدول حکمی کی اور نہ تمہیں اپنے ماں باپ کو ناراض کرنے کا موقع ملا۔ بتاؤ کیا میں نے غلط راستہ منتخب کیا۔
حمیدہ:لیکن یہ بدنامی، یہ رسوائی، جو آپ نے مول لی؟
خالد:مجھے اب شادی نہیں کرنا ہے۔۔۔ جو یہ رسوائی اور بدنامی میرے حق میں غیر مفید ہو گی۔
حمیدہ: اور اگر آپ کو شادی کرنی پڑی تو؟
خالد:پاگل ہو گئی ہو۔۔۔ جب تم ایسے مرد سے شادی کرنے کو تیار نہیں ہو جس سے تم محبت نہیں کر سکتیں تومیں کیونکر ایسی عورت سے شادی کر سکتا ہوں جس سے میں محبت نہیں کرتا؟
حمیدہ:ممکن ہے آپ کوکسی سے محبت ہو جائے !
خالد:یہ ناممکن ہے جس طرح تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی اسی طرح میرے دل میں اور کسی کی محبت پیدا نہیں ہو سکتی۔۔۔ مگر اس گفتگو سے کیا فائدہ۔۔۔ میری روح کو سخت تکلیف پہنچ رہی ہے۔
حمیدہ:آپ نے کیسے کہہ دیا کہ میرے دل میں محبت پیدا نہیں ہو سکتی؟
خالد:میں نے یہ کہا تھا کہ تمہارے دل میں میری محبت پیدا نہیں ہو سکتی؟
حمیدہ:اگر ہو جائے؟
خالد:(حیرت زدہ ہو کر)یعنی کیا؟
حمیدہ:میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو جائے۔۔۔ ایکا ایکی مجھے ایسا محسوس ہونے لگے کہ میں آپ سے محبت کرتی ہوں۔ کیا ایسا نہیں ہو سکتا۔
خالد:اپنے دل سے پوچھو۔
حمیدہ:ایسی بات پوچھی نہیں جاتی اپنے آپ معلوم ہو جایا کرتی ہے۔۔۔ پڑوسی کے مکان میں اگر آگ لگ جائے تو کیا آپ دوڑے ہوئے اسی کے پاس جا کر پوچھیں گے۔ کیوں صاحب!کیا واقعی آپ کا مکان جل رہا ہے۔
خالد:میں تمہارا مطلب نہیں سمجھا۔
حمیدہ:میں ٹھیک سمجھا نہیں سکتی پر اب سمجھنے اور سمجھانے کی ضرورت ہی کیا ہے جو کچھ آپ چاہتے تھے اور جس کے متعلق مجھے وہم و گمان بھی نہ تھا۔ آج ایکا ایکی ہو گیا ہے۔
خالد:کیا ہو گیا ہے۔
حمیدہ:میرے دل میں آپ کی محبت پیدا ہو گئی ہے۔۔۔ اتوار کو ہمارا نکاح ہو رہا ہے۔
خالد:محبت؟میں۔۔۔ تم۔۔۔ میں۔۔۔ میں۔۔۔ نکاح۔۔۔ کیسے؟
حمیدہ:مجھے آپ سے شادی کرنا منظور ہے جب گھر میں آپ کے کالج سے نکال دیئے جانے کی بات شروع ہو گی تومیں سارا واقعہ بیان کر دوں گی۔۔۔ اس طرح کوئی بدگمانی پیدا نہ ہو گی۔ مگر مجھے افسوس ہے کہ آپ کا ایک برس ضائع ہو گیا۔
خالد:ایک برس ضائع ہو گیا۔۔۔ میں تمہیں اپنا بنانے کے لئے اپنی زندگی کے سارے برس۔۔۔ پر میں کیا سن رہا ہوں۔
حمیدہ:میں اب جاتی ہوں۔ مجھے پرنسپل صاحب سے مل کر یہ کہنا ہے کہ میں اس سال امتحان میں شریک نہیں ہو رہی اگلے برس ہم اکٹھے امتحان دیں گے۔
(چند لمحات خاموشی طاری رہتی ہے۔)
خالد:نیلے آسمان میں ابابیلیں اڑ رہی ہیں اس بغیچے کی پتی پتی خوشی سے تھر تھرا رہی ہے اور میں کس قدر حیرت زدہ ہوں۔۔۔ کس قدر حیرت زدہ ہوں۔
فیڈ آؤٹ
***

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: