Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 1

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان – قسط نمبر 1

–**–**–

پنڈی فوڈ سٹریٹ میں ذولجان کا گھر عریشہ کے گھر کے عقبی سائیڈ میں ایک چھوٹی تنگ گلی میں تھا ۔ ذولجان کے والد مسٹر ہشام اور عریشہ کے والد مسٹر حالد دونوں بچپن کے دوست تھے اسی وجہ سے ذولجان اور عریشہ کے درمیان دوستی کا آغاز بچپن سے ہو گیا تھا اور اب ذولجان کی عمر پندرہ سال اور عریشہ کی عمر چودہ سال ہو چکی تھی ۔ دونوں کے درمیان بہت گہری دوستی تھی ۔ شام چار بجے ذولجان عریشہ کے گھر آ جاتا اور چھت کی بڑی بڑی چار دیواری کے اندر ذولجان اور عریشہ ٹینس کھیلتے اور پھر بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کرتے اور اپنے اپنے راز ایک دوسرے کو بتاتے ۔ یہ معمول پچھلے پانچ سالوں سے مسلسل چلتا آ رہا تھا لیکن آج عریشہ اپنے گھر کی چھت پر ایک ہاتھ میں ٹینس اور دوسرے ہاتھ میں گیند پکڑے بیٹھ کر ذولجان کے آنے کا انتظار کر رہی تھی ۔ چار کے بعد پانچ بج گئے اور اب چھ بجنے والے تھے سورج بھی غروب ہو چکا تھا لیکن ذولجان نہیں آیا ۔ ذولجان آج کہاں مصروف ہے ؟ وہ میرے ساتھ ٹینس کھیلنے کیوں نہیں آیا؟ عریشہ انہیں سوچوں میں گم پریشان ہو رہی تھی کہ مسز حالد کی آواز عریشہ کی سماعت سے ٹکرائی ۔
“عریشہ بیٹی! چھت سے نیچے آؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہاری سہیلی جیا تم سے ملنے آئی ہے” عریشہ جیا کا نام سنتے ہی ٹینس اور گیند پھینک کر چھت سے نیچے آئی اور ڈرائنگ روم کی طرف چلی گئی ۔جیا اور عریشہ کی پہلی ملاقات مری میں ٹرپ کے دوران ہوئی ۔ پہلی ملاقات کے وقت جیا کی عمر اٹھارہ سال اور عریشہ کی عمر بارہ سال تھی اور اب جیا کی عمر بیس سال اور عریشہ کی عمر چودہ سال ہو چکی تھی ۔ دو سالوں میں دونوں کے درمیان کافی گہری دوستی ہو گئی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عریشہ نے پھلوں کی ٹوکری جیا کے سامنے رکھی اور خود جیا کے ساتھ بیٹھ گئی ۔ جیا نے کھانے کے لیے سنگترہ اٹھایا تو عریشہ نے سیب اٹھا لیا ۔
“یہ اتنا خوبصورت سیل فون آپ نے کہاں سے لیا؟” عریشہ نے جیا کے ہاتھ میں نوکیا سیل فون دیکھتے ہوئے جیا سے پوچھا
“میں نے لیا نہیں ، میرے بوائے فرینڈ نے مجھے گفٹ دیا ہے” جیا نے عریشہ کی بات کا مختصر جواب دیا
“بوائے فرینڈ مطلب؟” عریشہ نے جیا کو سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا
“بوائے فرینڈ مطلب وہ لڑکا جسے کوئی لڑکی پسند کرتی ہے اور اس سے محبت کرتی ہے اور اسے شادی کے لیے اپنی چوائس (انتخاب) سمجھتی ہو” جیا نے عریشہ کو اپنے نظریے کے حساب سے بوائے فرینڈ کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہا
“پھر تو میں ذولجان کو پسند کرتی ہوں اور ذولجان سے محبت کروں گی اور بعد میں میری شادی بھی ذولجان سے ہو گی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مطلب کہ ذولجان ہی میرے بوائے فرینڈ بنے گا” عریشہ ذولجان کے خیالوں میں گم سوچتی چلی گئی ۔
یہ اتوار کا دن تھا اور عریشہ نے پورا دن بے چینی اور اداسی میں گزارا تھا ۔ شام کے چار بج چکے تھے اور وہ چھت پر ذولجان کا انتظار کر رہی تھی ۔ ٹینسوں کی جوڑی اور گیند اس کے قریب پڑا تھا ۔ چار بجنے کے دس منٹوں بعد وہ چھت سے نیچے اتری اور یہ جانتے ہوئے کہ امی کو بتائے بغیر گھر سے باہر جانا ممنوع ہے ۔ ۔ ۔ ۔ وہ مسز حالد کو بتائے بغیر گھر سے باہر نکلی اور ذولجان کے گھر چلی گئی ۔ ایسا پہلے بار ہوا تھا کہ عریشہ خاص طور پر ذولجان سے ملنے کے لیے اس کے گھر آئی تھی ۔ ذولجان کی ماما سے پوچھنے پر عریشہ کو معلوم ہوا کہ کل جب سے ذولجان اسکول سے آیا ہے تو تب سے وہ اپنے روم سے باہر نہیں آیا اور آج صبح سے تو اس نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔
“بھائی کل سے بہت اداس ہے اور وہ کسی کو اپنی اداسی کی وجہ نہیں بتا رہا” عریشہ کو روم میں دیکھ کر ذولجان کے چھوٹے بھائی شاہان نے کہا
“اس نے ماما کو بھی نہیں بتایا کہ یہ کیوں اداس اور پریشان ہے” شاہان نے اپنی بات مکمل کی تو عریشہ نے اسے کمرے سے جانے کے لیے اشارہ کیا تو وہ باہر چلا گیا ۔ عریشہ ٹانگیں لٹکا کر ذولجان کے بیڈ پر بیٹھ گئی تو ذولجان نے ایک نظر عریشہ کو دیکھا اور پھر اس نے اپنی نگاہیں کھڑکی پر مرکوز کر لیں ۔
“ذولجان! تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے یہی بتایا گیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سویاں کھا لو” عریشہ نے بیڈ کے ساتھ ملحقہ ٹیبل سے سویوں سے بھرا ہوا پیالہ اٹھایا اور ذولجان کی طرف بڑھا دیا لیکن اس نے نفی میں سر ہلا کر سویاں کھانے سے انکار کر دیا ۔ ذولجان کے انکار کے بعد عریشہ سویوں کا پیالہ خود ہی کھا گئی تو ذولجان نے عریشہ کو ایک نظر دوبارہ دیکھا اور لمحے بھر کے لیے مسکرایا اور دوبارہ سنجیدگی سے کھڑکی کے باہر دیکھنے لگا ۔ عریشہ کیچن میں گئی اور مسز ہشام کو بتایا کہ آپ کا بیٹا ساری سویاں کھا گیا ہے لیکن اس کی بھوک باقی ہے ۔ مسز ہشام مسکرائیں اور کپڑے سے ڈھانپی ہوئی ایک بڑی سی پلیٹ عریشہ کو تھما دی ۔ عریشہ نے پلیٹ ذولجان کے بیڈ پر رکھی اور اوپر سے کپڑا اٹھایا ۔ پلیٹ کے اندر چکن نوڈلز کے علاوہ شامی کباب ٹکیاں اور رائیتہ بھی موجود تھا ۔
“اب اپنی اداسی کی وجہ بتاتے ہو مجھے یا پھر میں تم پر پانی پھینک دوں” عریشہ نے ٹیبل پر پڑے پانی کے جگ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اور پھر ایک نظر ذولجان کو دیکھا ہے ۔
“وجہ ہی کچھ ایسی ہے کہ کسی سے شیئر نہیں کرسکتا” ذولجان نے کروٹ بدلتے ہوئے کہا ۔ کروٹ بدلنے کے بعد ذولجان کی پشت کھڑکی کی طرف تھی اور چہرہ عریشہ کی طرف تھا ۔
“لیکن تم تو مجھے اپنے رازوں کی ڈائری کہا کرتے ہو تو پھر اداسی کی یہ وجہ بھی ایک راز سمجھ کر اپنی اس رازوں والی ڈائری میں لکھ دو” عریشہ نے ذولجان سے کہا
“کیا اب مجھ پر اعتبار نہیں رہا؟” عریشہ نے ذولجان سے پوچھا
“مجھے کسی سے محبت ہو گئی ہے؟” ذولجان نے دھیمی آواز میں کہا
“میری بات غور سنو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے پیار محبت کے چکروں میں نہیں الجھنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ خود بھی سٹڈی پر توجہ دو اور میری سٹڈی بھی خراب کرنے کی کوشش مت کرو” عریشہ نے شانے اچکاتے ہوئے کہا اور چکن نوڈلز کھانے شروع کر دئیے ۔
” ارے تم تو میری پیاری سی دوست ہو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم سے محبت نہیں ہوئی ۔ ۔ ۔ ۔ مجھے کسی اور سے محبت ہو گئی ہے” ذولجان نے نشیلی نظروں سے عریشہ کو دیکھتے ہوئے کہا
“مذاق کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں جانتی ہو تمہیں میرے علاوہ کسی لڑکی سے محبت نہیں ہو سکتی” عریشہ نے مسکراتے ہوئے کہا
“میں مذاق بالکل نہیں کر رہا ۔ ۔ ۔ ۔ میں تمہیں سنجیدگی سے بتا رہا ہوں کہ مجھے تم سے نہیں بلکہ اپنے اسکول کی کسی فی میل ٹیچر سے محبت ہوئی ہے”ذولجان نے عریشہ کی خوش فہمی کو جڑ سے اکھار دیا ۔ عریشہ کے چہرے پر حیرانگی کے آثار نمودار ہو گئے ۔ اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا اور ہاتھ سے چمچ گر گیا ۔ عریشہ نے ذولجان کو قہرآلود نظروں سے دیکھا اور کھانے کی پوری پلیٹ ذولجان پر پھینک دی اور پھر دوسرے لمحے اس نے ذولجان پر پانی کا جگ انڈیل دیا اور بھاگتے ہوئے کمرے سے چلی گئی ۔ وہ چھوٹی تنگ گلی میں بے آواز روتے ہوئے بھاگ رہی تھی ۔
“نہیں عریشہ ابھی تمہاری عمر محبت کرنے کی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ابھی تمہیں اپنی سٹڈی مکمل کرنی ہے اور پاپا کا بزنس کی دنیا میں سہارا بننا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ تم پاپا کو کبھی احساس مت ہونے دینا کہ ان کا کوئی بیٹا نہیں”وہ بھاگتے ہوئے خود سے بڑبڑائی
“ابھی تم عشق کی وادی میں قدم نہیں رکھو گی اور جب تم سٹڈی مکمل کر لو گی تب ذولجان سے محبت بھی کر لینا” عریشہ چھوٹی تنگ گلی کے اختتام پر روک گئی ۔ وہ کمر جھکائے ، گھٹنوں پہ دونوں ہاتھ جمائے لمبے لمبے سانس لے رہی تھی ۔
“ذولجان! جب میں تم سے محبت کروں تب میں تمہیں اس استانی سے بھی چھین لوں گی جس سے تمہیں محبت ہوئی ہے” عریشہ نے سیدھے کھڑے ہو کر گہری سانس لی اور آپ آنسو صاف کرنے کے بعد پنڈی فوڈ سٹریٹ میں بھاگنے کی بجائے نارمل حالت میں چلنے لگی ۔
“عریشہ! تم بنا بتائے کہاں گئی تھی ، میں تمہیں پہلے بھی بتا چکی ہوں کہ تم اب بچی نہیں رہی ، تم بڑی ہو چکی ہو” لاؤنج میں داخل ہوتے ہی مسز حالد کی کربناک آواز عریشہ کی سماعتوں ٹکرائی
“میں بچی نہیں رہی ، میں اب بڑی ہو چکی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ماما یہ بات اب آپ اس ذولجان کو سمجھائیے گا جسے پاپا اور آپ اپنا بیٹا تصور کرتے ہیں اور اسے کہیے گا کہ اب ٹینس کھیلنے کے لیے کسی لڑکے سے دوستی کر لے اور ہمارے گھر نہ آیا کرے” عریشہ غصے سے قہر آلود لہجے میں کہہ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی اور مسز حالد کے چہرے پر حیرت اور تعجب کے آثار نمایاں نظر آ رہے تھے ۔ کمرے میں جاتے ہی عریشہ نے دروازے لاک کیا اور بلک بلک کر رونے لگی ۔ جب عریشہ رو رو کر تھک گئی تو وہ کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔
“تمہیں محبت ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ نہیں عریشہ نہیں تمہیں کسی سے محبت نہیں ہو سکتی ۔ ۔ ۔ ۔ ذولجان سے تو بالکل نہیں” عریشہ نے آئینے میں خود کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
ذولجان وہ لڑکا جس کے لیے اس کا پیار ہی سب کچھ تھا .وہ ہر پل اسی کے پیار میں کھویا رہتا ۔ ذولجان اس کا دیوانہ ہو چکا تھا وہ اسکول کے بوائز کیمپس سے فارغ ہوتے ہی باہر اسے دیکھنے کے لیے چلا جاتا تھا ۔ وہ ٹیچر مملوکہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوتا ۔
لیکن ٹیچر مملوکہ نے کبھی اس کو نہیں دیکھا اور نہ کبھی غور کیا کہ کوئی لڑکا اس سے دیوانگی کی حد تک پیار کرتا ہے ۔ وہ بس نکلتی اور چلی جاتی .ابھی ٹیچر مملوکہ کو ریکسیا اسکول جوائن کیے بس پندرہ دن گزرے تھے اور ذولجان کو وہ دوسرے دن سے ہی اچھی لگنے لگی تھی ۔ ٹیچر مملوکہ تیس سے بتیس سال عمر کی خاتون تھی ۔ وہ خوبصورت پرکشش چہرے کی مالک تھی ۔ سیاہ لمبی زلفیں ، گورے گلابی گال ، متناسب ناک ، گلاب کی پنکھڑیوں سے اس کے عنابی ہونٹ ، بڑی بڑی نیلی جھیل سی بیکراں آنکھیں ، لمبی صراحی دار گردن جیسے خدوخال اس کے حسن کو چار چاند لگائے ہوئے تھے ۔ ریکسیا اسکول گرلز کیمپس گیٹ سے کچھ فاصلے پر ذولجان کیکر کے درخت کے ساتھ کھڑا تھا اور ٹیچر مملوکہ کے حسن و جمال کا نظارہ کر رہا تھا ۔ ٹیچر مملوکہ وین سے اتری اور گرلز کیمپس کے گیٹ کی طرف چلی گئی ۔ جب ٹیچر مملوکہ گیٹ سے گزر کر اندر چلی گئیں تو ذولجان ریکسیا اسکول کے بوائز کیمپس کی طرف چلا گیا جو گرلز کیمپس سے چھ سو میٹر دور تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: