Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 2

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- قسط نمبر 2

–**–**–

ریکسیا اسکول میں ہر مہینے کی ٣٠ تاریخ کو طلباء و طالبات کا شرمیلا پن اور ان کی ہچکچاہٹ ختم کرنے اور مجمع کے سامنے گفتگو کرنے کا حوصلہ پیدا کرنے کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا جاتا ہے ۔ اس پروگرام کو ریکسین سٹارز پریذینٹیشن کا نام دیا گیا ہے ۔ اس پروگرام میں نہم و دہم کلاس کے لڑکے اور لڑکیوں کے درمیان تقریر اور شعر و شاعری کا مقابلہ ہوتا ہے جبکہ مڈل کلاسز کے طلباء و طالبات اس مقابلے سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔اس بار ریکسیا اسکول کے گرلز کیمپس میں یہ پروگرام منعقد کیا گیا تھا ۔ مرکزی ہال کے وسط میں اسٹیج سجایا گیا تھا ۔ اسٹیج کے بائیں حصے میں اساتذہ کی نشستیں اور دائیں حصے میں استانیوں کی نشستیں تھی ۔ اسٹیج کے درمیان میں مائیک اور ڈائیس رکھی گئی تھی ۔ اسٹیج کے سامنے لڑکوں اور اسٹیج کے عقب میں لڑکیوں کی نشستیں تھیں ۔ مرکزی ہال کے اطراف کے کمروں میں چھٹی ، ساتویں اور آٹھویں کلاس کے طلباء و طالبات کو الگ الگ بٹھایا گیا تھا ۔ عریشہ نہم کلاس کی طالبہ تھی اس لیے اسے اسٹیج کے عقب والی نشستوں پر بیٹھنا تھا سو وہ ایسی نشست پر بیٹھی جہاں سے وہ دہم کلاس کے طالبعلم ذولجان کے چہرے کو با آسانی دیکھ سکے ۔ ریکسین سٹارز پریذینٹیشن پروگرام شروع ہو چکا تھا اور عریشہ کی نگاہیں ذولجان کے چہرے پر مرکوز تھیں اور ذولجان کی نگاہیں استانیوں کے گروپ کی طرف مرکوز تھیں ۔ عریشہ خوب اچھی طرح غور کر رہی تھی کہ ذولجان کون سی سمت میں دیکھ رہا ہے اور کس ٹیچر کے چہرے کو دیکھ رہا ہے ۔ وہ کافی دیر غور و خوض کرتی رہی حتی کہ اسٹیج سیکرٹری نے عریشہ کا نام پکارا اور اسے اب نظم بولنے کے لیے اسٹیج پر جانا تھا ۔
“بسم اللہ الرحمن الرحیم ” عریشہ کی آواز مائیک کے ذریعے پورے ہال میں گونجی اور پھر عریشہ نے اپنی نظم پڑھنی شروع کی ۔
” ﺳﻨﻮ ﻟﮍﮐﯽ
——- ﺑﭽﺎﺅ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ” عریشہ نے دوبارہ ذولجان کی نگاہوں کی سمت کا جائزہ لیتے ہوئے کہا
“ﯾﮧ ﻧﺮﻡ ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟﺗﻢ ﺳﮯ ﮐﻮﺋﯽﺑﺎﺗﻮﮞ ﺑﺎﺗﻮﮞﻣﯿﮟﮐﮭﯿﻞ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ
ﺗﻢ ﺳﻤﺠﮭﺘﯽ ﮨﻮ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟﺣﻘﯿﻘﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﮦ ﻭﺍﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ” عریشہ نے اپنی دائیں طرف فی میل ٹیچرز گروپ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ﯾﮧ ﻣﯿﭩﮭﮯ ﺑﻮﻝ ﺑﻮﻟﻨﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺩﻟﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﺮﺽ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ
ﺳﻨﻮ ﺑﺎﺗﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ
ﻧﮧ ﻟﮩﺠﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﮐﺮﻧﺎ
ﺭﻭﯾﮧ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﻠﮑﻞ ﺍﯾﮏ ﺳﺎ ﺭﮐﮭﻨﺎ” عریشہ نے دوبارہ ذولجان کے چہرے کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ﯾﮩﺎﮞ ﻧﺮﻣﯽ ﺫﺭﺍ ﺳﯽ ﺩﮐﮭﻼﺋﯽ ﻭﮨﺎﮞ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﯿﺎﻝ ﺁﯾﺎ
ﯾﮧ ﺗﻮ ﭘﮕﮭﻞ ﮔﺌﯽ ﺟﻠﺪﯼ ﯾﻌﻨﯽ ﭘﮩﻼ ﺯﻭﺍﻝ ﺁﯾﺎ
ﻣﺤﺎﺭﻡ ﮐﮯ ﺳﻮﺍ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﭘﻨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ” عریشہ نے ٹیچر مملوکہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“ﺍﺩﺍﺋﯿﮟ ﺩﮐﮭﺎﺅ ﮔﯽ ﭘﯿﺎﺭ ﭼﮭﻠﮑﺎﺅ ﮔﯽ
ﮨﺮ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﮐﮩﮧ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ ﻣﻮﻗﻊ ﺧﻮﺩ ﮨﯽ ﺩﮮ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ
ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﮭﭙﭩﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻟﭙﭩﯿﮟ ﮔﮯ
ﮨﻨﺴﯽ ﻣﺬﺍﻕ ﺳﮯ ﮔﺮﺩ ﺳﻤﭩﯿﮟ ﮔﮯ ﺑﭻ ﻧﮧ ﭘﺎﺅ ﮔﯽ ﮔﮭﻞ ﻣﻞ ﺟﺎﺅ ﮔﯽ ﻣﻘﺎﻡ ﺍﭘﻨﺎ ﮔﻨﻮﺍﺅ ﮔﯽ
ﺑﺮﺍﺋﯽ ﺗﮏ ﻧﮧ ﺳﻤﺠﮭﻮ ﮔﯽ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺍﭘﻨﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﺘﻨﮯ ﺳﭽﮯ ﻣﺨﻠﺺ ﮨﯿﮟ
ﺩﮬﻮﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﺁﺟﺎﺅ ﮔﯽ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﻮ ﺑﮭﻼﺅ ﮔﯽ” عریشہ نے ذولجان کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتے کہا
“ﮔﮭﯿﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﺁﻧﺎ ﺧﺪﺍ ﮐﻮ ﯾﺎﺩ ﺗﻢ ﮐﺮﻧﺎ
ﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﺫﺭﺍ ﭘﮍﮬﻨﺎ ﺭﺏ ﮐﮩﺘﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺳﻨﻨﺎ” عریشہ نے عقب میں بیٹھی نہم و دہم کلاس کی لڑکیوں کی طرف گھوم کر دیکھتے ہوئے کہا
“ﺳﻮﺭﻩ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ
*لہﺠﮧ ﻧﺮﻡ ﻧﮧ ﺗﻢ ﺍﭘﻨﺎ ﮐﺮﻧﺎ ”*
ﺑﺎﺕ ﻣﺨﺘﺼﺮ ﺑﺎﻣﻘﺼﺪ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮐﺮﻧﺎ
“ ﻭﺭﻧﮧ ﻣﺮﺩ ﮐﺎ ﻣﺮﺽ ﮨﮯ ﺑﮍﮬﻨﺎ
ﯾﮧ ﻣﻨﮧ ﺑﻮﻟﮯ ﺭﺷﺘﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﻧﮩﯿﮟ
ﺍﺻﻞ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺍﮎ ﺣﺠﺎﺏ ﮨﻮﻧﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ ﺗﮭﺎ
ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﺠﺎﺏ ﺑﺎﻗﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ
ﺧﻄﺎ ﮨﮯ ﻓﻄﺮﺕ ﺍﻧﺴﺎﻧﯽ
ﺗﻮﺑﮧ ﮨﮯ ﺷﯿﻮۂ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﯽ
ﺟﻮ ﺟﺐ ﭘﻠﭩﮯ ﺭﺏ ﮈﮬﺎﻧﭗ ﻟﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ
ﺍﮮ ﮐﺎﺵ ﮐﻮﺋﯽ ﺟﻠﺪ ﺑﮭﺎﻧﭗ ﻟﮯ” عریشہ کی نظم مکمل ہو چکی تھی اور پورا ہال اور اطراف کے کمرے تالیوں سے گونج اٹھا
عریشہ کے بعد دہم کلاس کے طالبعلم اذہان کو اسٹیج پر بلایا گیا ۔
اذہان نے بسم اللہ پاک پڑھنے کے بعد السلام و علیکم کہا اور پھر اپنی نظم کا آغاز کیا ۔
“میری بہن تو حیا کر سر سے ردا ہٹا کر
خود کو بنا سجا کر سڑکوں پر مت چلا کر
میری بہن تو حیا کر” اذہان نے اسٹیج کے عقب میں بیٹھی لڑکیوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“عورت تو وه هے جو کہ هر
غیر کی نظر سے خود کو بچائے رکهے
جامہ میں اپنے آ کر میری بہن تو حیا کر
اسلام کا هے کہنا
ایمان میں خلا کا باعث هے تیرا جلوه
مردوں پہ یہ عطا کر میری بہن تو حیا کر” اذہان سرد لہجے میں بولا تھا
“عظمت وقار عفت پرده کی هے بدولت
پرده هے تیری عزت عزت کو رکھ بچا کر
میری بہن تو حیا کر
تیری یہ کج ادائی تیری یہ بے حیائی
شوهر سے بے وفائی شوهر سے تو وفا کر
میری بہن تو حیا کر” جیسے جیسے اذہان نظم کے مصرعے بول رہا تھا وہ استانیوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہا تھا ۔ مملوکہ ٹیچر سمیت چار استانیوں نے اپنے دوپٹوں سے چہرے پر نقاب کر لیے ۔
“هے یہ گناه اذہان دنیائے بد سی بدتر
دوزخ هے تیرا مقدر دوزخ سے تو ڈرا کر
میری بہن تو حیا کر
پرده میں ره کر جتنی تو چاهے کر ترقی
حائل نہیں هے کوئی بهائی کی تو سنا کر” اذہان کی نظم اپنے اختتام کو پہنچی تو ایک بار پھر پورا ہال تالیوں کی آواز سے گونج اٹھا ۔
پریذینٹیشن کے آخر میں ریکسیا اسکول کی پرنسپل مسز کمال نے چھوٹی سی تقریر کی اور یوں ریکسین سٹارز پریذینٹیشن اختتام کو پہنچی ۔ تمام طالبات ہال سے چلی گئیں لیکن عریشہ ہال کے دروازے کے سامنے کھڑی رہی اور اب طلباء ہال سے باہر نکل رہے تھے ۔
“کس کا انتطار کر رہی ہو چلبلی chulbulli ؟” اذہان نے عریشہ سے سرگوشی کے انداز میں کہا اور ہنستا ہوا چلا گیا تو عریشہ نے اذہان کو حیرت سے دیکھا اور دوبارہ اپنی نظریں ہال کے دروازے پر مرکوز کر دیں ۔ ٹیچر مملوکہ دروازے سے باہر آ رہی تھیں اور ان کے دائیں طرف ذولجان ٹیچر مملوکہ کے قدم سے قدم ملا کر چل رہا تھا ۔ ذولجان نے ایک فولڈ کیا ہوا ورق ٹیچر مملوکہ کے پرس میں ڈالنے کی کوشش کی لیکن پرس کی زپ بند ہونے کی وجہ سے وہ پیپر کو پرس میں ڈالنے میں ناکام رہا ۔ ذولجان کو محسوس ہوا کہ کسی نے پیچھے سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ہو تو وہ روک گیا اور پیچھے مڑ کر دیکھا تو اس کے پیچھے عریشہ کھڑی تھی ۔
“لاؤ یہ خط مجھے دے دو ، میں یہ خط ٹیچر مملوکہ کو دے دوں گی” عریشہ نے ذولجان کے کان میں سرگوشی کی اور تہہ شدہ پیپر اس کے ہاتھ سے لے کر چلی گئی جبکہ ذولجان متحیر نگاہوں سے عریشہ کو جاتے ہوئے دیکھتا رہ گیا ۔
ٹیچر مملوکہ گھر پہنچی تو کمرے میں داخل ہوتے ہی اس کے نشئی شوہر اچھو نے اسے گردن سے دبوچ لیا اور اس کا سانس رکنے لگا ۔
“دیکھو اچھو! اگر تم مجھے مار دو گے تو تم نشے کے لیے پیسے کس سے لو گے؟” مملوکہ نے اپنی گردن سے اچھو کا ہاتھ ہٹانے کی ناکام کوشش کی جبکہ اچھو نے مملوکہ کی گردن پر مزید دباؤ بڑھا دیا اور درد کی شدت کی وجہ سے مملوکہ کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تو اس نے اپنا دایاں مڑا ہوا گھٹنہ اچھو کے پیٹ میں مارا تو اچھو کے منہ سے آؤووو کی آواز نکلی اور اس نے مملوکہ کی گردن چھوڑ دی ۔ اچھو دونوں ہاتھ جوڑ کر گھٹنوں کے بل مملوکہ کے پاؤں میں بیٹھ گیا
“میرا سارا جسم ٹوٹ رہا ہے اور جسم میں بہت درد اور بے چینی ہے ، مجھے نشے کا سگریٹ لینے کے لیے کچھ پیسے دے دو” اچھو نے التجائیہ لہجے میں کہا تو مملوکہ نے اچھو کے جوڑے ہوئے ہاتھوں کو چوما اور پھر اپنے پرس سے ہزار روپے کا نوٹ نکال کر اچھو کو دے دیا تو وہ مملوکہ کو شکریہ شکریہ کہتے چلا گیا ۔ اچھو کے جانے کے بعد مملوکہ کی نظر اپنے پاؤں میں پڑے ہوئے تہہ شدہ پیپر پر پڑی ۔ پرس سے ہزار روپے کا نوٹ نکالتے وقت یہ پیپر بھی پرس سے نکل کر نیچے فرش پر گر گیا تھا ۔ مملوکہ نے وہ پیپر اٹھا کر اس کی تہوں کو کھولا تو اس پر درج ذیل عبارت لکھی تھی ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“کل آپ کے شوہر نشے کی زیادتی کی وجہ سے بے ہوش ہو کر ندی کے کنارے گر گئے تھے ۔ میں نے آپ کے شوہر کو رکشا میں لٹا کر آپ کے گھر میں چھوڑ آیا تھا ۔ اس کے لیے اگر آپ میرا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہیں تو نیچے لکھے ہوئے سیل فون نمبر پر کال کر سکتی ہیں”
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
شام کے چار بجے ذولجان عریشہ کے گھر گیا اور مسز حالد سے عریشہ کے بارے میں پوچھا
“ذولجان بیٹا! عریشہ اب چھوٹی بچی نہیں رہی ، وہ بڑی ہو چکی ہے اس لیے عریشہ سے ملنا اب کم کر دو کیونکہ لوگوں کی انگلیاں ہمیشہ لڑکی پر ہی اٹھتی ہیں” مسز حالد نے ذولجان کو تنبیہ کی ۔
آنٹی! آج تو ملنے دیں مجھے عریشہ سے ایک ضروری بات کرنی ہے” ذولجان نے مسز حالد سے کہا تو مسز حالد نے اسے بتایا کہ عریشہ اپنے روم میں ہوم ورک کر رہی ہے ۔ ذولجان عریشہ کے کمرے میں گیا اور اسے سلام کرنے کے بعد رسمی گفتگو کی ۔
“پلیز میرا خط مجھے دے دو” ذولجان نے عریشہ سے کہا
“اوہ تو اب تمہیں اپنی دوست پر اعتبار بھی نہیں رہا” عریشہ نے اپنی دائیں آبرو اوپر تک کھینچتے ہوئے کہا
“کیا مطلب؟” ذولجان نے پوچھا
“میں تمہاری دوست ہوں ، دشمن تو نہیں ، تمہیں مجھ پر بھروسہ کرنا چاہیے ، خط لیتے وقت میں نے تم سے کہا تھا کہ میں یہ خط ٹیچر مملوکہ کو دے دوں گی تو میں نے ٹیچر مملوکہ کے پرس کی زپ کھول کر وہ خط ٹیچر کے پرس میں ڈال دیا تھا اور ٹیچر مملوکہ کو اس بات کی خبر تک نہ ہوئی” عریشہ نے ذولجان کو بتاتے ہوئے کہا
“اگر ایسا ہے تو پھر اب تک ٹیچر مملوکہ کی مجھے کال آ جانی چاہیے تھی ” ذولجان نے فکرمند ہوتے ہوئے کہا
“ہو سکتا ہے ٹیچر مملوکہ نے ابھی تک تمہارا خط پڑھا بھی نہ ہو یا یہ بھی ہو سکتا ہے ٹیچر نے ابھی تک پرس ہی نہ کھولا ہو” عریشہ نے شانے اچکاتے ہوئے کہا
“تم یہاں بیٹھو میں تمہارے لیے کافی لے کر آتی ہیں” عریشہ نے ذولجان سے کہا اور پھر کیچن کی طرف چلی گئی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 14

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: