Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 3

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- قسط نمبر 3

–**–**–

ٹیچر مملوکہ اسکول سے گھر واپس آئی تو اس کا شوہر اس سے پیسے مانگنے لگا ۔
“اچھو! تم جانتے ہوئے مجھے اسکول سے پے ہی کتنی ملتی ہے اور وہ میں تمہیں دے دیتی ہوں ۔ ۔ ۔ ۔ ” اچھو نے مملوکہ کو چوٹی سے پکڑ لیا
“میں اچھی طرح سے جانتا ہوں کہ تم نے ریکسیا اسکول اس لیے جوائن کیا تھا کہ یہاں تمہیں تنخواہ زیادہ ملے گی ۔ ۔ ۔ ۔ اب تمہیں بیس ہزار روپے ملتے ہیں نا؟” اچھو نے مملوکہ کے بالوں مزید کھینچا
“ہاں لیکن چھ ہزار روپے تو میرا اپنا خرچ ہوتا ہے اور بارہ ہزار اس مہینے تم لے چکے ہو” مملوکہ نے بالوں کی تکلیف کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا
“اب بھی دو ہزار روپے بچتے ہیں وہ دو ہزار مجھے دو میرا دارو ختم ہو چکا ہے” اچھو نے سرد لہجے میں کہا
“وہ دو ہزار روپے کا تمہاری اماں گھر کا راشن لے آئی تھی” مملوکہ کی بات سنتے ہی اچھو نے غصے سے مملوکہ کو بیڈ پر پٹخ دیا تھا ۔
“آج ایک لڑکا آیا تھا ، وہ تم سے ٹیوشن پڑھنا چاہتا ہے ، میں نے اسے چھ ہزار روپے ٹیوشن بتائی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ دو دن کے بعد اس سے ایڈوانس فیس لے کر اپنا خرچ کا حساب پورا کر لینا اور اب مجھے اپنے خرچ میں سے دو ہزار روپے دو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے دارو خریدنا ہے اور نشے کے سگریٹ بھی” اچھو ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا اور مملوکہ نے اسے ایک ہزار روپے دئیے ۔
“ایک ہزار روپے دو دن بعد لے لینا” مملوکہ نے پھاڑ کھانے والے انداز میں کہا
“وہ لڑکا چار بجے آئے گا ٹیوشن کے لیے” اچھو نے ہزار روپے کا نوٹ پکڑتے ہوئے کہا تو مملوکہ نے اسے حقارت سے دیکھا ۔
عریشہ ذولجان کے گھر گئی اور شاہان سے ذولجان کے بارے میں پوچھا
“بھائی ٹیوشن پڑھنے گیا ہے”ذولجان کے چھوٹے بھائی شاہان نے کہا
“پہلے تو وہ ٹیوشن نہیں جاتا تھا ؟” عریشہ نے شاہان کو سوالیہ نظروں سے دیکھا
“ہاں لیکن رات کو وہ پاپا سے کہہ رہا تھا کہ مجھے انگلش اور کیمسٹری میں تھوڑا مسئلہ ہے اس لیے مجھے لگتا ہے کہ ٹیوشن کی ضرورت ہے” شاہان نے عریشہ کو ذولجان کے بارے میں بتایا
“وہ کس کے پاس ٹیوشن کے لیے گیا ہے؟” عریشہ نے متجسس نگاہوں سے شاہان کو دیکھتے ہوئے کہا
“ٹیچر مملوکہ کے پاس” شاہان نے مختصر جواب دیا تو عریشہ نے اپنے آنکھیں دائیں بائیں گھمائیں اور ایک لمبی سانس لی
“ویسے تین دن پہلے جب بھائی بہت افسردہ تھے اور آپ ان سے ملنے آئیں تھی تب اس دن میں نے آپ دونوں کی باتیں سن لیں تھی ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ بھائی نے تمہیں بتایا تھا کہ انہیں ٹیچر مملوکہ سے محبت ہو گئی ہے اور اس بات پر آپ بھائی پر غصہ ہو گئی تھیں اور آپ کے ردعمل سے مجھے لگا کہ آپ بھی ذولجان بھائی جان سے محبت کرتی ہیں” شاہان نے دھیمے لہجے میں عریشہ سے کہا
“تم نے جو باتیں سنی تھی وہ کسی سے شیئر تو نہیں کیں؟” عریشہ نے فکرمندانہ انداز میں پوچھا
“بس اپنے ایک دوست سے شیئر کیں تھیں” شاہان نے سر جھکاتے ہوئے شرمسار ہو کر کہا
“میری بات غور سے سنو شاہان۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہماری عمر ابھی عشق و محبت کی نہیں ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ہمیں اپنی پڑھائی پر توجہ دینی چاہیے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اور دوسری بات یہ بھی ذہن نشین کرلو کہ میں کسی لڑکے سے محبت نہیں کرتی اور تمہارے بھائی سے تو بالکل بھی نہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ایک ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کا آپس میں محبت کرنا ممنوع ہے کیونکہ اسلامی تعلیمات کے مطابق ٹیچر مملوکہ ذولجان کے لیے روحانی ماں کا درجہ رکھتی ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تمہارا بھائی پاگل ہے جو ایک عزت مند ٹیچر کو رسوا کرنے کا ارادہ کر چکا ہے اور بس یہی وجہ تھی کہ مجھے اس دن تمہارے بھائی کی بات سن کر غصہ آ گیا تھا اور میں نے سارے برتن تمہارے بھائی ذولجان پر پھینک دئیے تھے” عریشہ نے شاہان کو سمجھانے کی کوشش کی ۔
“اور ہاں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اپنے دوست کو بھی منع کر دینا کہ جو باتیں تم نے اپنے دوست سے شیئر کیں تھیں وہ کسی اور سے شیئر نہ کرے” عریشہ نے شاہان کو تنبیہ کی ۔
عریشہ کے جانے کے بعد شاہان اپنے دوست کے پاس گیا اور اس سے پوچھا کہ جو باتیں میں نے تم سے اپنے بھائی ذولجان اور ٹیچر مملوکہ کے بارے میں شیئر کیں تھیں وہ کسی سے شیئر تو نہیں کیں؟
“بس اپنی بڑی بہن سے کیں تھیں شیئر” شاہان کے دوست نے کہا
“او کے ۔ ۔ ۔ ۔ اپنی بڑی بہن کو منع کر دینا کہ وہ آگے کسی اور سے وہ باتیں شیئر نہ کرے ۔
شاہان کے جانے کے بعد اس کے دوست نے اپنی بڑی بہن نوشی کو باتوں کے بارے میں یاد دلا کر اسے منع کیا کہ ذولجان اور ٹیچر مملوکہ کے بارے میں کسی سے شیئر نہ کرے ۔
“لیکن وہ باتیں تو میں اپنے سہیلیوں کو بتا چکی ہوں” نوشی نے اپنے چھوٹے بھائی کو بتایا تو وہ پریشان ہو گیا اور سہم گیا
عریشہ وین سے اتر کر گرلز کیمپس کے گیٹ کی طرف جا رہی تھی کہ اچانک اس کی نگاہ شاہان پر پڑی جو کچھ فاصلہ پر کھڑا عریشہ کو دیکھ رہا تھا ۔ عریشہ شاہان کے پاس گئی اور اس سے کرخت لہجے میں پوچھا کہ تم یہاں گرلز کیمپس میں کیا کر رہے ہو ۔
“میں آپ کو بتانے آیا تھا کہ میرے دوست نے اپنی بڑی بہن نوشی کو ذولجان اور ٹیچر مملوکہ کی باتوں کے بارے میں بتا دیا تھا اور اس کی بہن نوشی نے وہ ساری باتیں اپنی سہیلیوں سے شیئر کر دی ہیں” شاہان نے عریشہ کو بتایا تو حیرت سے اس کی آنکھیں پھیل گئیں اور وہ گرلز کیمپس میں چلی گئی ۔ وہ اب بےچینی سے بریک ٹائم کا انتظار کرنے لگی ۔ بریک ٹائم عریشہ کنٹین پر گئی اور نوشی کے پاس بیٹھ گئی ۔
“لگتا ہے تمہیں اپنے دوست کی کرتوت کا پتا چل گیا ہے” نوشی نے منہ بناتے ہوئے عریشہ سے کہا
“تم نے اپنی کون کون سی سہیلی کو بتایا ہے کہ ذولجان ٹیچر مملوکہ کو پسند کرتا ہے؟” عریشہ نے نوشی سے پوچھا
“تم کیا چاہتی ہو؟” نوشی نے عریشہ سے پوچھا
“میں چاہتی ہوں کہ تم اور تمہاری سہلیاں ٹیچر ممکوکہ کے خلاف چہ مگوئیاں بند کر دو” عریشہ نے نوشی سے کہا
“او کے ٹھیک ہے آپ مجھے اور میری سہیلیوں کو جمعہ کے روز بریانی کھلا دیا کرو اور پورا ہفتہ نو ٹینشن No Tention میں اور میری سہیلیاں پورا ہفتہ اس موضوع پر بات نہیں کریں گی” نوشی نے شانے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا
“تمہاری سہیلیاں کتنی ہیں؟” عریشہ نے پوچھا
“چار” نوشی نے مختصر جواب دیا
“مجھے یہ ڈیل منظور ہے” عریشہ نے کہا
ٹیچر مملوکہ کے پاس ذولجان کا ٹیوشن کا یہ چوتھا دن تھا ۔ ٹیچر مملوکہ ذولجان کو ریاضی کے سوالات سمجھا رہی تھی ۔ ذولجان جب بھی نظر اٹھا کر ٹیچر مملوکہ کی طرف دیکھتا تو وہ انتہائی غصہ کے ساتھ اس کو گھور کر دیکھتی اور ذولجان اپنی نگاہیں نوٹ بک پر مرکوز کر دیتا ۔ میتھ کا کام مکمل کروانے کے بعد ٹیچر مملوکہ اپنے شوہر کے بلانے پر روم سے باہر چلی گئیں ۔ ذولجان جو ٹیچر مملوکہ کے سخت رویے سے بہت خوفزدہ اور سہما ہوا تھا اب پرسکون ہو گیا ۔ وہ ارد گرد دیکھنے لگا ۔ شاید وہ روم کا جائزہ لے رہا تھا ۔ یہ چھوٹا سا کمرے تھا جو ماحول کے اعتبار سے ٹیچر مملوکہ کا سٹڈی روم لگ رہا تھا ۔
“یہ ٹیچر مملوکہ کا سٹڈی روم ہے شاید” ذولجان نے بڑبڑاتے ہوئے کہا تو اسے اچانک شور کی آواز سنائی دی ۔ اس نے دروازے کے قریب جا کر غور سے سننے کی کوشش کی ۔ ٹیچر مملوکہ کا شوہر اچھو اس سے نشہ اور دارو خریدنے کے لیے پیسے مانگ رہا تھا لیکن وہ بار بار اسے یہ کہہ رہی تھی کہ ذولجان نے ابھی فیس پے نہیں کی تو میں تمہیں پیسے کہاں سے دوں اسکول سے پے ملنے میں ابھی دس دن باقی ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“میں تنگ آ گیا ہوں تمہاری بکواس سے” اچھو نے انتہائی بلند آواز میں غصہ سے کہا اور مملوکہ کو ایک زوردار تھپڑ مار کر چلا گیا ۔ ذولجان یہ سارا منظر چھپ کر دیکھ چکا تھا اور اب وہ شرمندگی کے ساتھ اپنی کرسی پر بیٹھ گیا
“ذولجان میری طبعیت اچانک خراب ہو گئی ہے آج تم جلدی چھٹی کر لو” ٹیچر مملوکہ کی آواز ذولجان کی سماعتوں سے ٹکرائی اور جب ذولجان نے شرمسار سر اٹھا کر دیکھا تو ٹیچر مملوکہ وہاں سے جا چکی تھیں ۔
.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: