Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 4

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- قسط نمبر 4

–**–**–

ذولجان اپنے کمرے میں بیٹھا آنسو بہا رہا تھا اس کے دماغ میں بار بار ٹیچر مملوکہ کے چہرے پر مارے گئے تھپڑ کی آواز گونج رہی تھی ۔ وہ مسلسل روئے جا رہا تھا کہ اچانک ذولجان کی نظر تکیے کے پاس پڑی ایک سنہری رنگ کی نئی ڈائری پہ پڑی اور ایک لمحے کے لیے اس کے آنسو تھم گئے ۔ ذولجان نے وہ ڈائری اٹھائی اور اس کو کھولا ۔ اس کے پہلے صفحے پر عریشہ کا نام لکھا تھا اور دوسرے صفحے پر درج ذیل اشعار لکھے تھے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
بڑا یاد کرو گے تم مجھ کو
جب کسی سے دھوکا کھاو گے
ترس جاو گے چین کے اک پل کو
جب کسی سے دُھوکا کھاو گے
بھول جاو گے تم نیند ہوتی کیا ہے
جب سرد راتوں میں خود کو تنہاپاو گے
بھوُک کیا ہے پیاس کیا ہےکچھ یاد نہ رہے گا
جب کسی سے دھوکا کھاو گے
درد اُتنا ہی دو جتنا سہ سکو
چیخ چیخ کے رو پڑو گے جب کسی سے زخم کھاو گے
غمِ زندگی کیا ہے یہ تب ہی جان پاو گے
جب پیارے کسی دُھوکا کھاو گے
بے ساختہ رو پڑو گے آنسوں نہ روک پاو گے
جب نام میرا کہی لکھا پاو گے
ہم نے سوچا نہ تھا
تم ہمیں اتنا تڑپاو گے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذولجان اشعار پڑھنے کے بعد پھر سے بے اختیار رونے لگا ۔ ذولجان نے ڈائری کا تیسرا صفحہ دیکھا تو اس پر یہ شعر لکھا تھا
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
تیرے بدلنے کے باوجود بھی تجھ کو چاہا
یہ گناہ بھی شامل ہے میرے اعمال میں
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذولجان نے ڈائری کا چوتھا صفحہ دیکھا تو وہاں پر ذولجان کا نام خون سے لکھا گیا تھا اور پانچواں صفحہ خالی تھا ۔ ذولجان نے ڈائری تکیے کے نیچے رکھی اور لاوئنج میں آیا تو اس نے دیکھا عریشہ اس کے چھوٹے بھائی شاہان کے ساتھ سیڑھیاں چڑھتی جا رہی ہے ۔ ذولجان واش روم میں چہرہ دھو کر کیچن میں گیا اور ایک ساتھ دو گلاس پانی پی گیا ۔ پانی پینے کے بعد ذولجان سیڑھی کے زینے چڑھتا گیا اور چھت پر جا کر دیکھا کہ اس کا تیرہ سالہ چھوٹا بھائی شاہان عریشہ کے ساتھ ٹینس کھیل رہا تھا
“یہ ٹینس مجھے دو اور تم نیچے جاؤ” ذولجان نے شاہان کو غصے سے گھورتے ہوئے کہا
“مجھے تمہارے ساتھ نہیں کھیلنا ، مجھے شاہان کے ساتھ کھیلنا ہے” عریشہ نے ذولجان کو حقارت سے دیکھتے ہوئے کہا
“شاہان! یہ ٹینس مجھے دو اور نیچے جاؤ ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ” ذولجان نے جملہ ادھورا چھوڑ دیا ۔
“ورنہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کیا؟ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم مجھے پیٹو گے؟” شاہان نے پوچھا اور ذولجان کو غصے سے دیکھا تو ذولجان نے شاہان سے ٹینس چھین لیا ۔ شاہان کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا اور اس نےذولجان کے ہونٹوں پر مکا مارا ۔ ذولجان نے شاہان کو ٹینس مارا تو شاہان نے ذولجان کی پسلیوں پر دو گھونسے مارے تو ذولجان نے عریشہ کی طرف دیکھا ۔ عریشہ سینے پر بازو لپیٹے کھڑی تھی ۔ وہ دونوں بھائیوں کو لڑتا دیکھ کر بہت خوش ہو رہی تھی اور مسکرا رہی تھی ۔ ذولجان نے ٹینس پھینکا اور شاہان کو دھکا دے کر چلا گیا ۔ ذولجان کو زینے اترتے ہوئے پیچھے سے عریشہ کا زوردار قہقہ سنائی دیا ۔
ذولجان کا ٹیوشن کا یہ پانچواں دن تھا اور وہ ٹیچر مملوکہ کے سٹڈی روم میں داخل ہوا تو اس نے دیکھا کہ ٹیچر مملوکہ اپنے سٹڈی ٹیبل پر ڈائری میں مسلسل لکھ رہی ہے ۔ ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کے سلام کا جواب دیا اور ڈائری کو الماری میں رکھ دیا تو ذولجان نے ہزار روپے والے چھ نوٹ ٹیچر مملوکہ کی طرف بڑھا دئیے ۔
“بیٹا! ابھی تو آج آپ کا ٹیوشن کا پانچواں دن ہے اور میں نے فیس طلب بھی نہیں کی تھی ۔ ۔ ۔ ۔”
“ٹیچر! پاپا نے بولا تھا کہ ٹیچر کو اڈوانس میں فیس دے دیا کرو” ذولجان نے ٹیچر مملوکہ کی بات مکمل ہونے سے پہلے کہا تو ٹیچر مملوکہ نے نوٹ اپنے پرس میں رکھے اور ذولجان کو پڑھانے میں مصروف ہو گئی ۔ دو گھنٹے پڑھانے کے بعد ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کو ریاضی کے کچھ سوال حل کرنے کا کہا اور خود کیچن میں چلی گئی تو ذولجان نے جلدی سے الماری سے وہ ڈائری نکالی جو دو گھنٹے قبل ذولجان کے آنے کے بعد ٹیچر مملوکہ نے الماری میں رکھ دی تھی ۔ ذولجان نے وہ ڈائری اپنے بیگ میں رکھ لی اور دوبارہ اپنا کام کرنے میں مصروف ہو گیا ۔ آخر میں ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کے چل کردہ سوالات چیک کیے اور اسے چھٹی دے دی ۔
گھر پہنچتے ہی ذولجان نے اپنے روم کا دروازے بند کیا اور ٹیچر مملوکہ کی ڈائری پڑھنے بیٹھ گیا ۔ پہلے پانچ سے چھ صفحے شعر و شاعری پر مشتمل تھے اور اس سے آگے ٹیچر مملوکہ نے اپنی پہلی محبت کے بارے میں لکھا تھا ۔ ذولجان نے جب یہ پڑھا کہ ٹیچر مملوکہ کو پہلی بار جس شخص سے محبت ہوئی تھی وہ کالج کا پروفیسر عیاز تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب ذولجان ڈائری کو زیادہ انہماک سے پڑھنے لگا تھا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پروفیسر عیاز اے ون اکیڈمی میں میتھ کا ٹیوٹر تھا اور اسی اکیڈمی میں مملوکہ تھرڈ ائیر کا میتھ پڑھنے کے لیے پروفیسر عیاز کے پاس ٹیوشن جاتی تھی اور اسی دوران مملوکہ کو پروفیسر عیاز سے محبت ہو گئی ۔ اس وقت مملوکہ عمر کے اٹھارھویں سال میں تھی اور پروفیسر عیاز کی عمر تیس سال تھی ۔ مملوکہ کا پروفیسر کو مسکرا مسکرا کر دیکھنا ، پروفیسر سے بات کرنے کے بہانے تلاش کرنا اور موقع ملنے پر ہنسی مذاق کرنا اور ہر بار مسکرا کر بات کرنا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ یہ سب باتیں پروفیسر عیاز کو یہ سمجھانے کے لیے کافی تھیں کہ مملوکہ پروفیسر سے بے پناہ محبت کرتی ہے ۔ پروفیسر عیاز نے تنہائی میں مملوکہ کو تنبیہ کی اور اس قسم کی حرکتوں سے باز رہنے کا کہا تو مملوکہ نے صاف اور واضح الفاظ میں پروفیسر سے اظہار محبت کر دیا ۔ پروفیسر نے اکیڈمی انتظامیہ کو اس بات سے آگاہ کیا تو اکیڈمی انتظامیہ نے مملوکہ کے خلاف ایکشن لینے کی بجائے پروفیسر عیاز کے خلاف ایکشن لیا اور انہیں اکیڈمی سے فارغ کر دیا ۔ اب مملوکہ کئی دن تک پروفیسر کو نہ دیکھ سکی تھی وہ پروفیسر کی ایک جھلک دیکھنے کو ترس رہی تھی اور اس نے کالج سے پروفیسر کے گھر کا پتہ (ایڈریس) لیا اور وہ پروفیسر سے ملنے کے لیے اس کے گھر پہنچ گئی ۔ ٹیچر مملوکہ نے اپنی ڈائری کے دسویں صفحہ پر پروفیسر عیاز کے بولے ہوئے آخری الفاظ کچھ یوں لکھے تھے
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
میں تمہارا ٹیچر ہوں اور تم میری سٹونٹ ہو تو یہ بات یاد رکھنا کہ ایک استاد اور اسٹوڈنٹ کا رشتہ بہت مقدس رشتہ ہوتا ہے ۔ مشہور قول ہے کہ استاد روحانی باپ کا درجہ رکھتا ہے اس لیے ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کی محبت ممنوع ہے ۔
میری دعا ہے کہ جس طرح تم نے مجھے اپنا شہر چھوڑنے پر مجبور کر کیا ہے بالکل ایسے ہی فیوچر میں کسی اسٹوڈنٹ کی وجہ سے تمہیں اپنا شہر نہ چھوڑنا پڑے ۔
اگر کسی شہر میں کسی ٹیچر اور اسٹوڈنٹ کے لو افیئر Love Affair کی افواہ ہی منظر عام پر آجائے تو اسٹوڈنٹ کی ذات پر کوئی حرف نہیں آتا لیکن ہاں ٹیچر ضرور بدنام ہوتا ہے اور والدین ٹیچرز کی بجائے اپنے بچوں پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں اور یوں استاد معاشرے میں اپنے مقام سے محروم ہو جاتا ہے ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذولجان کی ڈائری کے مزید صفحات پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی اور اس نے ڈائری اپنے بیگ میں رکھی اور روم سے باہر چلا گیا ۔
ٹیچر مملوکہ ڈنر کرنے کے بعد ڈائری لکھنے کے ارادے سے سٹڈی روم میں گئی لیکن ڈائری وہاں الماری میں نہیں تھی ۔ اس نے پورے سٹڈی روم کو چھان مارا لیکن ڈائری نہ مل سکی ۔
“اف ۔ ۔ ۔ ۔ یہ ڈائری کہاں چلی گئی کہیں اچھو کے ہاتھ تو نہیں لگ گئی” وہ خوفزدہ ہوئی اور اپنے بیڈ روم میں گئی اور دیکھا کہ اچھو سکون کی نیند سو رہا تھا ۔ اس نے اپنے بیڈ روم کے ہر گوشے میں ڈائری کو تلاش کیا اور آخرکار مایوس ہو کر بیٹھ گئی ۔ اچانک اس کے دماغ میں خیال آیا کہ کہیں ذولجان تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
“نہیں ۔ ۔ ۔ نہیں وہ میری ڈائری کیوں لے کر جائے گا” مملوکہ نے سر جھٹکا
ڈنر کرنے کے بعد ذولجان اپنے روم میں گیا اور فرش پر ایک کونے میں بیٹھ کر ٹیچر مملوکہ کی ڈائری کا مطالعہ شروع کر دیا ۔ شاہان اسے ڈائری کا مطالعہ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور وہ سوچ رہا تھا کہ ڈائری میں کچھ تو خاص ہے اسی لیے تو بھائی اس سے دور بیٹھ کر ڈائری کو پڑھ رہا تھا ۔ ذولجان اب ڈائری کے گیارھویں صفحے کا مطالعہ کر رہا تھا ۔ اس صفحے پر ٹیچر مملوکہ نے لکھا تھا کہ دس جنوری کا دن تھا جب وہ پروفیسر عیاز سے ملاقات کرنے اس کے گھر گئی اور دستک دینے پر ایک نامعلوم آدمی گھر سے باہر آیا اور مملوکہ کو بتایا کہ پروفیسر عیاز نے یہ گھر مجھے کرایے پر دے دیا ہے ۔ مملوکہ کے پوچھنے پر اس آدمی نے اسے بتایا کہ وہ نہیں جانتا پروفیسر صاحب کہاں شفٹ ہو گئے ہیں ۔ پروفیسر عیاز جس کالج میں پڑھاتے تھے وہاں بھی مملوکہ کو یہی بتایا گیا کہ پروفیسرصاحب کا اس کالج سے کسی دوسرے کالج ٹرانسفر کر دیا گیا ہے ۔ چپڑاسیوں اور چوکیداروں کے تعاون سے مملوکہ کو پتا چلا کہ پروفیسر صاحب کا ٹرانسفر گورنمنٹ لیاقت علی خان کالج ہوا ہے ۔ گورنمنٹ لیاقت علی خان کالج میں جب مملوکہ نے پروفیسر عیاز کے بارے میں پوچھا تو اسے بتایا گیا کہ اس کالج میں اس نام کا کوئی پروفیسر نہیں تب مملوکہ کو یہ بات سمجھ آئی کہ پروفیسر عیاز نے ٹرانسفر سے پہلے یہ بات ہر خاص و عام کو بتا دی تھی کہ اس کا ٹرانسفر گورنمنٹ لیاقت علی خان کالج میں ہو گا لیکن ٹرانسفر گورنمنٹ لیاقت علی خان کالج کی بجائے کسی دوسرے کالج میں ہوا تھا تاکہ مملوکہ وہاں تک نہ پہنچ سکے۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ڈائری پڑھتے پڑھتے ذولجان کو نیند آنے لگی تو اس نے ڈائری کا بیسواں صفحہ فولڈ کیا اور ڈائری اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سو گیا
رات کے دو بجے ذولجان کی آنکھ کھلی تو وہ پھر کونے میں بیٹھ کر ڈائری پڑھنے لگا ۔ ڈائری کے صفحہ اکیس پر مملوکہ نے لکھا تھا کہ اسے اچھی طرح جانتی تھی کہ پروفیسر عیاز شہر چھوڑ کر نہیں گیا بلکہ شہر کے اندر کسی ایسی جگہ پر شفٹ ہو گیا ہے جہاں پر مملوکہ نہ پہنچ سکتی ہو سو مملوکہ نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ پروفیسر عیاز کو تلاش کرے گی ۔ مملوکہ کا باپ تو بچپن میں ہی فوت ہو چکا تھا اور اب ماں بھی دنیا سے چل بسی ۔ اور مملوکہ غم و الم میں گوشہ نشین ہو گئی ۔ مملوکہ کا بڑا بھائی خاور اس کی گوشہ نشینی اور اس کی ذہنی کیفیت سے بہت زیادہ پریشان تھا اور اس نے مملوکہ کی شادی کا فیصلہ کیا تو مملوکہ نے شادی کرنے سے انکار کر دیا ۔ مملوکہ نے اپنے بھائی کو واضح الفاظ میں بتا دیا تھا کہ وہ صرف اور صرف پروفیسر عیاز سے شادی کرے گی ۔ خاور نے تین مہینے تک پروفیسر عیاز کو تلاش کیا اور آخرکار مایوس ہو کر خاور نے زبردستی مملوکہ کی شادی اپنے دوست دانش سے کر دی ۔ دانش اور مملوکہ کی شادی تین سال تک چل سکی اور میاں بیوی کا گھریلو جھگڑا بڑھتا گیا اور شادی کے تین سال بعد دانش نے مملوکہ کو طلاق دے کر گھر سے نکال دیا اور وہ جب اپنے بھائی کے گھر گئی تو مسز خاور نے اپنے شوہر خاور کا بیرون ملک ہونے کا خوب فائدہ اٹھایا اور مملوکہ کو یہ کہہ کر گھر سے نکال دیا کہ مملوکہ کی اس گھر میں کوئی جگہ نہیں لہذا وہ کسی دارالامان پر چلی جائے ۔ یہ رات کا وقت تھا جب مملوکہ کسی دارالامان کی تلاش میں سڑکوں پر بھٹک رہی تھی کہ اچانک کچھ نشئیوں نے اسے گھیرے میں لے لیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ نشے باز حد سے بڑھتے ، ایک اچھو نامی نشے باز نے اپنے پاس تمام شراب کی بوتلیں ان نشے بازوں کے سروں میں مار کر توڑ دیں اور انہیں زخمی کر دیا ۔
یہ اتوار کا دن تھا لیکن ذولجان پھر بھی ٹیوشن کے لیے ٹیچر مملوکہ کے گھر مقررہ وقت سے دس منٹ پہلے پہنچ گیا اور قسمت نے اس کا ساتھ دیا ۔ گھر کا گیٹ کھلا تھا اور وہ دبے پاؤں گھر میں داخل ہوا اور ٹیچر مملوکہ کے سٹڈی روم میں چلا گیا اور جلدی سے ڈائری کو ٹیچر مملوکہ کی کتابوں میں رکھ دیا اور پھر پرسکون ہو کر کرسی پر بیٹھ گیا ۔
“تمہیں کل مملوکہ نے بتایا نہیں تھا کہ اتوار کے روز وہ گھر پر نہیں ہوتی اور تمہیں اتوار کے دن چھٹی ہوا کرے گی؟” اچھو نے ذولجان سے پوچھا
“ہاں بتایا تھا لیکن مجھے یاد نہیں رہا تھا اس لیے ٹیوشن چلا آیا” ذولجان نے اچھو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تو وہ شراب کی بوتل پکڑے سگریٹ کا کش لگاتے ہوئے اپنے روم کی طرف جارہا تھا کہ نشے کی زیادتی کے باعث فرش پر گر پڑا ۔ ذولجان نے اسے سہارا دے کر اٹھایا اور روم تک لے گیا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: