Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 5

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- قسط نمبر 5

–**–**–

ذولجان کا ٹیوشن کا بیسواں دن تھا اور وہ کتاب بند کیے ٹیچر مملوکہ کے سامنے خاموش بیٹھا تھا ۔ ٹیچر مملوکہ نے اسے کتاب کھولنے کا کہا
“ٹیچر جی! مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنا چاہتا ہوں لیکن آپ وعدہ کریں کہ آپ غصہ نہیں کریں گی” ذولجان نے ٹیچر مملوکہ سے کہا
“بولو ۔ ۔ ۔ ۔ میں غصہ نہیں کروں گی” ٹیچر مملوکہ نے کہا
“اسلام آباد میں ایک نیا ہسپتال بنا ہے جس کا نام روشنی ہسپتال ہے وہاں پر نشہ کرنے والے لوگوں کا علاج کیا جاتا ہے اور نشہ کرنے والے کو نشے سے نجات مل جاتی ہے ۔ اگر آپ کے شوہر کو بھی روشنی ہسپتال میں ایڈمٹ Admit کروایا جائے تو ان کا نشہ بھی چھوٹ جائے گا” ذولجان نے جھجھک جھجھک کر کہا
“روشنی ہسپتال ایک پرائیویٹ ہسپتال ہے اور وہاں ایک مہینے کا بل پچاس ہزار روپے ہے اور دوائیوں کا خرچ الگ ہے تو اب تم ہی بتاؤ کہ تمہارے اسکول کی پرنسپل مجھے پچاس ہزار روپے تنخواہ دیتی ہو گی ؟” ٹیچر مملوکہ نے ذولجان سے کہا تو اسے ٹیچر مملوکہ کی آواز میں بے بسی کا احساس ہوا تو ذولجان نے شرمندگی سے اپنا سر جھکا کر کتاب کھول لی اور ٹیچر مملوکہ بھی غمگین سی ہو گئی اور اس کی آنکھوں میں نمی اتر آئی ۔
“ٹیچر جی! آج میرے سر میں درد ہو رہا ہے اور اس لیے آج مجھے ٹیوشن نہیں پڑھنی” ذولجان نے اپنی آنکھوں کی نمی کو چھپاتے ہوئے کہا تو ٹیچر مملوکہ نے آنسو صاف کرتے ہوئے ذولجان کو جانے کے لیے اشارہ کر دیا ۔
یہ تیس نومبر کا دن تھا اور اس بار ریکسین سٹارز پریذینٹیشن ریکسیا اسکول کے بوائز کیمپس میں منعقد ہوئی ۔ تمام نشستوں کی سمت اسٹیج کی طرف رکھی گئی اور نشستوں کے درمیان گزرنے کا راستہ رکھا گیا تھا ۔ گزرگاہ کے بائیں جانب ششم کلاس سے دہم کلاس کے لڑکوں کی نشستیں جبکہ دائیں جانب لڑکیوں کی نشستیں تھیں ۔ تقریب کا آغاز تلاوت سے ہوا اور پھر نہم کلاس سے نوشی کو اسٹیج پر بلایا گیا ۔ نوشی نے بسم اللہ کے بعد نظم کا آغاز درج ذیل الفاظ سے کیا
” میرا حجاب حکم ربّی
شرم و حیا تحفظ اور ڈھال
مجھے مستور رہنے دو
میں حکم رب پے نازاں ہوں
مجھے مسرور رہنے دو” نوشی کے نظم کے آغاز پر ہی پورا ہال تالیوں سے گونج اٹھا
“برائے مہربانی ۔ ۔ ۔ ۔ تالیاں بجانا بند کریں تاکہ میں نظم کے اگلے اشعار پڑھ سکوں” نوشی نے مائیک کو ہونٹوں کے قریب لا کر کہا
“ردا ہے یہ تحفظ کی
مجھے مستور رہنے دو
نہیں محتاج میری ذات
مصنوعی سہاروں کی
حیا کی پاسداری سے
مثال حور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو” اسٹیج کے قریب والی نشستوں پر براجمان دہم کلاس کی لڑکیوں سے نوشی نے اس بار خوب داد وصول کی
“مثال سیپ میں موتی
رب مجھے قیمتی سمجھے
مجھے اپنی قدر افزائی پہ
مغرور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو
زمانے کی نظر گہنا نہ دے
پاکیزگی میری
حیا کے لعل و گہر سے
مجھے پرنور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو” نوشی نے ہال کے روشندانوں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا
“زمانہ خلق ہے
میں زریعہ تخلیق ٹھہری ہوں
مجھے اس منصب تخلیق پہ
معمور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو
میرے سر پہ جو چادر ہے
میرے ایماں کا سایہ
اسی ساۓ کی ٹھنڈک سے
ہر اک غم دور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو” نوشی نے اپنے اسکارف کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
“میں اپنے دیں پے شیدا ہو
یہ میرا تاج ہے گویا
میرے اس دیں کی کرنوں کو
میرا منشور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو
دعا ہے
آقا ! کہ اس امت کو
غیرت دے
میں اس امت کا مرکز ہوں
مجھے غیور رہنے دو
مجھے مستور رہنے دو” نوشی کی نظم اختتام پذیر ہو گئی اور اب پھر تالیاں بج رہی تھی اور نوشی اسٹیج سے مسکراتے ہوئے واپس آ رہی تھی اور اب بوائز میں سے نظم کے لیے مائیک پر ذولجان کا نام پکارا گیا تھا ۔ ذولجان نے اسٹیج پر آ کر مائیک میں السلام و علیکم کہا اور پھر بسم اللہ شریف پڑھی ۔
“صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے
اس کو پڑھنا ثواب اس کو سننا ثواب
یہ کتاب آخری ہے خدا کی کتاب
اس کا پیغام ہے انقلاب انقلاب
چھوڑ کر اس کو انسان پریشان ہے
صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے
رب کا نوع بشر پر جو احسان ہے
ہر مسلمان کا جس پہ ایمان ہے
خالق بحر و بر کا یہ فرمان ہے
جس میں رشد و ہدایت کا سامان ہے
صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے” ذولجان نے اساتذہ کے گروپ کی طرف دیکھتے ہوئے مائیک پر بولتے ہوئے کہا
“سرور انبیاء پر جو نازل ہوا
آدمی جس امانت کا حامل ہے
جس سے آسان ہر کار مشکل ہوا
جس کا مخاطب ہر انسان ہے
صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے
حروف جس کے ہیں سب محترم و معتبر
جس کی تفسیر ہے ذات خیرالبشر
رہبروں کا ہے آج بھی رہبر
مستقل روشنی جس کا عنوان ہے
صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے
ایک رشد و ہدایت ہے منشور ہے
زندگی کا جو مکمل دستور ہے
حرف تا حرف جس کا نور ہی نور ہے
جس کا عرفان خالق کا عرفان ہے
صرف قرآن ہے صرف قرآن ہے” ذولجان کی نظم مکمل ہو چکی تھی اور ہال سے ابھی تک سبحان اللہ اور ماشاء اللہ کی آوازیں بلند ہو رہی تھیں ۔ ذولجان کے بعد دو لڑکوں کی تقریروں کے بعد تقریب اختتام پذیر ہو گئی ۔
چار بجنے میں دس منٹ کم تھے اور عریشہ سو کر اٹھی ۔ اس نے اپنے روم کا دروازہ کھولا تو اس کے سامنے ذولجان سینے پر بازو لپیٹے کھڑا تھا اور عریشہ نے نیند سے بوجھل آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھا ۔
“ماما نے تمہیں بتایا تھا کہ اب میں بڑی ہو گئی ہوں اس لیے مجھے ملنے مت آیا کرو” عریشہ نے خمار آلود لہجے میں کہا
“ہاں آنٹی نے مجھے بتایا تھا لیکن اب آنٹی ہمارے گھر گئی تھیں ماما سے ملاقات کے لیے تو میں نے موقع کو غنیمت سمجھا اور تم سے ایک ضروری کام کے سلسلے میں ملاقات کے لیے چلا آیا” ذولجان نے دو ٹوک انداز میں کہا
“اگر ماما تمہارے گھر گئیں ہیں تو وہ لازمی طور پر گیٹ لاک کر کے گئی ہوں گی تو تم اندر کیسے آئے ہو؟” عریشہ نے ذولجان سے پوچھا
“دیوار پھلانگ کر لاؤنج کی ونڈو سے اندر آیا تھا تو معلوم ہوا کہ تمہارے روم کا دروازہ لاک تھا اس لیے بیس منٹوں سے دروازے کے سامنے کھڑا تھا اور دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہا تھا ” ذولجان نے عریشہ کے سوال کا جواب پوری وضاحت سے دیا
“اچھا بتاؤ کون سا ضروری کام تھا جس نے تمہیں دیوار اور کھڑکی پھلانگنے پر مجبور کر دیا تھا؟” عریشہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا
“ٹیچر مملوکہ نے اپنے ہسبنڈ Husband کا علاج کروانا ہے اور انہیں علاج کے لیے پچاس ہزار روپوں کی ضرورت ہے اور اس وجہ سے وہ بہت پریشان ہیں ۔ میں انہیں پریشان ہوتے ہوئے بالکل نہیں دیکھ سکتا اور میں انہیں پچاس ہزار روپے دینا چاہتا ہوں” ذولجان نے جھکی ہوئی نظروں کے ساتھ عریشہ سے کہا اور اس دوران عریشہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھتی رہی ۔
“کتنا کمینہ انسان ہے ، جب مجھ سے کوئی کام ہوتا ہے تو منہ اٹھا کر میرے پاس چلا آتا ہے ذرا دیکھو کتنا معصوم چہرہ بنا لیا ہے اب” عریشہ نے اپنے نچلے ہونٹ کا دایاں کونا دانتوں تلے دبا کر تیوری چڑھاتے ہوئے سوچا
“تم میری سب سے اچھی دوست ہو اس لیے مجھے یقین ہے کہ تم ضرور میری مدد کرو گی” ذولجان نے عریشہ سے کہا اور ایک نظر عریشہ کے چہرے کو دیکھا چونکہ عریشہ کی نگاہیں پہلے ہی ذولجان کے چہرے پر جمی تھیں اس لیے ذولجان عریشہ کے چہرے کو صرف ایک نظر ہی دیکھ سکا تھا اور اس نے دوبارہ نظریں جھکا لیں
“میں تمہاری کیا مدد کرسکتی ہوں؟” عریشہ نے ذولجان سے پیچھا
“تم انکل حالد کی اکلوتی اولاد اور لاڈلی بیٹی ہو اس لیے تمہارے ایک بار کہنے پر وہ تمہیں پچاس ہزار روپے دے دیں گے اور میں تمہیں ایک مہینے تک پچاس ہزار روپے واپس لوٹا دوں گا” ذولجان نے عریشہ سے کہا
“کیا تمہارے پاپا تمہیں پیسے نہیں دیں گے؟ کیا تم انکل ہشام کے لاڈلے بیٹے نہیں ہو؟” عریشہ نے مسکراتے ہوئے ذولجان سے پوچھا
“تمہارے پاپا کی عادت میرے پاپا سے بہت مختلف ہے میرے پاپا سے اگر کسی نے ایک ہزار روپے لینے ہوں تو پاپا کو ایک ہزار وجوہات بتانا پڑتی ہیں لیکن تمہارے پاپا دل کے بہت اچھے ہیں” ذولجان نے افسردہ لہجے میں کہا
“کیا میں بدصورت ہوں یا میں چڑیل جیسا دکھتی ہوں؟” عریشہ نے کرخت لہجے میں ذولجان سے پوچھا
“میں نے ایسا کب بولا ہے؟” ذولجان نے پریشان ہوتے ہوئے کہا
“تو پھر کیا وجہ ہے کہ تم ڈرتے ہوئے مجھے صرف ایک نظر ہی دیکھتے ہو” عریشہ نے الفاظ کو چبا چبا کر پوچھا تو ذولجان عریشہ کے چہرے کو تسلسل سے دیکھنے لگا
“ہاں یہ ہوئی نا بات ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اب میرے چہرے کو غور سے دیکھو اور مجھے بتاؤ کہ میرا چہرہ زیادہ خوبصورت ہے یا ٹیچر مملوکہ کا چہرہ ؟” عریشہ نے ذولجان سے پوچھا
“ٹیچر مملوکہ کا چہرہ تمہارے چہرے سے زیادہ خوبصورت ہے” ذولجان بے اختیار بول پڑا
“میرے صبر کا امتحان مت لو اور میرے گھر سے چلےجاؤ ورنہ اپنے ناخنوں سے تمہارا چہرہ نوچ لوں گی اور تم ٹیچر مملوکہ کو اپنا چہرہ دیکھانے کے قابل بھی نہیں رہو گے” عریشہ نے غصہ بھری آواز میں کربناک لہجے میں کہا تو ذولجان الٹے پاؤں چلتے ہوئے عریشہ سے دور ہٹنے لگا تو عریشہ نے ذولجان کو گریبان سے پکڑ لیا ۔
“کل چار بجے چھت پر آ کر پچاس ہزار روپے لے جانا” عریشہ نے ذولجان کو گریبان سے پکڑ کر جھنجھورتے ہوئے کہا
ذولجان کے جانے کے بعد عریشہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔ اسکی آنکھوں سے آنسو ٹپک پڑے تھے تو اس نے مکا مار کر آئینہ توڑ دیا
اگلے روز عریشہ نے اسکول سے چھٹی کی اور بہانہ یہ کیا کہ اسے اپنی دوست جیا کو برتھ ڈے وش کرنے جانا ہے اور پھر ٹیکسی کے ذریعے ذولجان کے پاپا مسٹر ہشام کے آفس چلی گئی ۔
“انکل! میری دوست کے پاپا بیمار ہیں اور اس نے اپنے پاپا کے علاج کے لیے مجھ سے پچاس ہزار روپے ادھار مانگے ہیں ، وہ کہہ رہی تھی کہ وہ یہ پیسے ایک مہینے تک مجھے واپس کر دے گی” عریشہ نے رسمی گفتگو کرنے کے بعد ذولجان کے پاپا مسٹر ہشام سے کہا تو انہوں نے مسکراتے ہوئے نوٹوں کی گنتی کی اور پچاس ہزار روپے عریشہ کو دے دئیے ۔
“انکل! جونہی میری سہیلی مجھے یہ پیسے واپس لوٹائے گی تو میں یہ کیش رقم آپ کو واپس کر دوں گی” عریشہ نے شرماتے ہوئے کہا
“عریشہ بیٹی! میں نے آپ سے پوچھا تو نہیں ہے کہ کب واپس کرو گی” مسٹر ہشام نے ہنستے ہوئے کہا تو عریشہ نے اپنے انکل ہشام کا شکریہ ادا کیا اور پچاس ہزار روپے لے کر چلی گئی
“ذولجان! کل تم ایک گھنٹہ لیٹ آئے تھے تو میں نے سوچا کہ تم پہلی بار ٹیوشن سے لیٹ ہوئے ہو اس لیے میں نے تمہیں نہیں ڈانٹا تھا لیکن آج تم نے حد کر دی تم پورے دو گھنٹے لیٹ آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ کان کھول کر میری بات دھیان سے سن لو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ پورے چار بجے ٹیوشن کے لیے آ جایا کرو اور ہاں اگر اگلی بار لیٹ ہوئے نا تمہاری پٹائی کرنے پر مجبور ہو جاؤں گی” ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کو ڈانٹتے ہوئے کہا
“ٹیچر جی! پچاس ہزار روپے کا بندوبست ہو گیا تھا اس لیے میں آپ کے شوہر کو روشنی ہسپتال لے گیا تھا ۔ میں نے ایک مہینے کا بل ادا کر دیا ہے اور ہسپتال والوں نے آپ کے شوہر کو ایڈمٹ Admit کر لیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ اب آپ آٹھ بجے وہاں اپنے شوہر کے پاس چلی جائیے گا” ذولجان نے روشنی ہسپتال کی فائل ٹیچر مملوکہ کو دیتے ہوئے کہا تو ٹیچر مملوکہ ذولجان کو حیرت زدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔
“اچھو تو روشنی ہسپتال کا نام سنتے ہی بھاگ جاتا تھا تم اسے وہاں کیسے لے گئے تھے؟” ٹیچر مملوکہ نے متحیر لہجے میں پوچھا
“میں نے انہیں نشے کے دو سگریٹ دئیے تھے اور جب وہ نشے سے چور ہو کر بے ہوش ہو گئے تو میں انہیں بے ہوشی کی حالت میں ہی روشنی ہسپتال لے گیا تھا” ذولجان نے ٹیچر مملوکہ کو بتایا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: