Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Episode 6

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- قسط نمبر 6

–**–**–

مملوکہ اپنی ساس کے ساتھ روشنی ہسپتال گئی اور ڈاکٹر اطہر سے ملاقات کر کے اچھو کے علاج کے بارے میں تمام معلومات حاصل کی اور پھر اپنی ساس کے ساتھ اس کمرے میں چلی گئی جہاں پر اچھو کو شفٹ کیا گیا تھا ۔ اچھو بیڈ پر لیٹے ہوئے مملوکہ کو دیکھ رہا تھا اور مملوکہ اچھو کے قریب کھڑی ہو گئی ۔
“ماں جی! ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر علاج کے دوران اچھو نے کسی قسم کا نشہ کیا تو اس کے جسم میں شدید ری ایکشن ہو گا اور اس ری ایکشن سے اچھو کی موت بھی ہو سکتی ہے” مملوکہ نے اپنی ساس فردوس بیگم سے کہا
“اپنی بکواس اپنے پاس رکھ اور میرے بیٹے کے بارے میں منہ سے اچھے الفاظ بول” فردوس بیگم نے مملوکہ کو ڈانٹتے ہوئے کرخت لہجے میں کہا
“ماں جی! میں آپ کو صرف وہ بتا رہی ہوں جو ڈاکٹر نے کہا ہے” مملوکہ سنجیدہ مگر سرد لہجے میں بولی اور آنسو کا ایک گولا اس کے حلق میں اٹک گیا
“ماں جی! آپ بیڈ پر سوجائیں کل سارا دن آپ نے اچھو کا خیال رکھنا ہے کیونکہ مجھے صبح اسکول بھی جانا ہے” مملوکہ نے فردوس بیگم سے کہا اور خود دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھ گئی ۔
عریشہ ایک بار پھر مسٹر ہشام کے آفس چلی گئی اور مسٹر ہشام نے عریشہ کی خوب آؤ بھگت کی ۔ عریشہ نے مسٹر ہشام سے رسمی گفتگو کی اور مسٹر ہشام نے اپنے ملازم کو چائے لانے کو کہا
“جی بیٹی بتاؤ آج میرے آفس کا راستہ کیسے یاد آ گیا؟” مسٹر ہشام نے عریشہ سے پوچھا
“تین دن قبل میں آپ سے اپنی سہیلی کے نام پر آپ سے پچاس ہزار روپے جو لے کر گئی تھی وہ ۔ ۔ ۔ ۔ میں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وہ دراصل وہ ذولجان نے مجھے کہا تھا کہ اسے پچاس ہزار روپووں کی ضرورت ہے اور اس نے مجھے بولا تھا کہ اگر میں نے پچاس ہزار روپے آپ سے لے کر اسے نہ دئیے تو وہ مجھ سے دوستی ختم کر دے گا” عریشہ نے جھجھک جھجھک کر کہا تھا
“مطلب کہ تم یہ کہہ رہی ہو کہ وہ پچاس ہزار روپے تم نے اپنی سہیلی کی مدد کرنے کے لیے نہیں لیے تھے بلکہ ذولجان نے تمہیں میرے پاس بھیجا تھا کہ تم مجھ سے جھوٹ بول کر پچاس ہزار روپے لے کر ذولجان کو دو” مسٹر ہشام نے عریشہ سے پوچھا تو اس نے شرمندگی کے ساتھ اثبات میں سر ہلایا
“میں نے آپ سے جھوٹ تو بول لیا تھا لیکن زیادہ دنوں تک اپنے جھوٹ پر قائم نہ رہ سکی اور میرا دل اور ضمیر نہیں مان رہے تھے کہ میں آپ کو دھوکا دوں” عریشہ نے شرمندہ لہجے میں کہا
“کیا آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے؟” عریشہ نے مسٹر ہشام سے پوچھا
“ہاں بیٹی میں نے تمہیں معاف کر دیا ہے لیکن آئندہ کبھی مجھ سے جھوٹ مت بولنا اور ذولجان کی کوئی بھی غلطی دیکھو تو مجھے فوری طور پر مطلع کر دینا” مسٹر ہشام نے عریشہ کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تو عریشہ اس مشروط معافی نامے پر زیادہ خوش تو نہ ہو سکی لیکن اس نے پھر بھی اثبات میں سر ہلایا
ڈنر کے بعد مسٹر ہشام ذولجان کے روم میں آئے اور شاہان کو روم سے باہر بھیج دیا ۔ اب مسٹر ہشام ذولجان کے پاس بیٹھ گئے ۔
“عریشہ سے جو پچاس ہزار روپے لیے تھے وہ کہاں خرچ کیے ہیں؟” مسٹر ہشام نے اپنے غصے پر قابو پاتے ہوئے ذولجان سے پوچھا تو ذولجان نے حیرت اور تعجب سے مسٹر ہشام کو دیکھا
“پاپا! یہ آپ کن پچاس ہزار روپوں کی بات کر رہے ہیں میں آپ کی بات سمجھ نہیں پایا؟” ذولجان نے مسٹر ہشام کو دیکھتے ہوئے کہا
“انجان مت بنو اور مجھے بے وقوف مت سمجھو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ عریشہ خود مجھ سے پچاس ہزار روپے لے کر آئی تھی اور آج اس نے خود میرے آفس آ کر مجھ سے اعتراف کیا ہے کہ اس نے وہ پچاس ہزار روپے تمہیں دئیے تھے اور اب مجھے بتاؤ کہ تم نے وہ پچاس ہزار روپے کہاں خرچ کیے ہیں؟” مسٹر ہشام کے لہجے میں سختی اور کرواہٹ تھی ۔
“پاپا! عریشہ نے آپ سے جھوٹ بولا ہے اور آپ کو دھوکہ دیا ہے” ذولجان نے مسٹر ہشام سے کہا تو مسٹر ہشام غصے پر قابو نہ رکھ پائے اور ذولجان کو ایک تھپڑ دے مارا پھر عریشہ کو آواز دی تو عریشہ بھی روم میں داخل ہوئی ۔ عریشہ کو دیکھ کر ذولجان پر خوف طاری ہو گیا اور اس کے خوبصورت چہرے پر بدصورتی کے تاثرات نظر آنے لگے ۔
“ہاں پاپا ۔ ۔ ۔ ۔ میں نے عریشہ سے پچاس ہزار روپے ادھار لیے تھے لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ وہ پچاس ہزار روپے آپ سے لے کر مجھے دے گی” ذولجان نے سٹھیائے لہجے میں کہا
“تو اب بتاؤ تم نے وہ پچاس ہزار روپے کہاں خرچ کیے؟” مسٹر ہشام نے ذولجان سے پوچھا لیکن ذولجان نے خاموش رہنے کو ترجیح دی ۔
“مجھے پتا ہونا چاہیے کہ تم نے وہ پیسے غلط کام پر خرچ کیے ہیں یا کسی صیح جگہ پر؟” مسٹر ہشام نے دوسرا سوال پوچھا لیکن ذولجان اب کی بار بھی خاموش رہا تو مسٹر ہشام نے ذولجان کی پٹائی شروع کر دی ۔ عریشہ کو لگا کہ وہ ذولجان کو پاپا سے پٹتے ہوئے دیکھ کر اپنی ہنسی نہیں روک پائے گی اس لیے عریشہ فوری طور پر روم سے باہر چلی گئی ۔
شام کے چار بج چکے تھے اور ذولجان ٹیچر مملوکہ کے گھر ٹیوشن کے لیے پہنچ چکا تھا ۔ ٹیچر مملوکہ ذولجان کو سٹڈی روم میں ٹیوشن پڑھا رہی تھی کہ عریشہ بھی وہاں آ گئی ۔ ٹیچر مملوکہ سے سلام و دعا اور رسمی گفتگو کرنے کے بعد عریشہ ٹیچر مملوکہ کے قریب پڑی کرسی پر بیٹھ گئی ۔
“میرا نام عریشہ ہے ، اصل میں میرے پاپا اور ذولجان کے پاپا دونوں بہت اچھے دوست ہیں لیکن ان کی دوستی اس قدر گہری ہے کہ لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دونوں کے درمیان بھائی کا رشتہ ہے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ میری اور ذولجان کی دوستی بھی بچپن سے چلی آ رہی ہے اور جتنا میں ذولجان کو جانتی ہوں اتنا ذولجان مجھے نہیں جانتا” عریشہ نے ٹیچر مملوکہ کو اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا تو ٹیچر مملوکہ نے عریشہ کو سنجیدگی سے دیکھتے ہوئی اسکی بات سنی جبکہ ذولجان کا ہاتھ بھی لکھتے لکھتے روک چکا تھا اور وہ غصیلی نظروں سے عریشہ کو گھور رہا تھا اور عریشہ اسے دیکھتے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔
“ٹیچر جی مسئلہ یہ ہے کہ میں ذولجان سے محبت کرتی ہوں لیکن ذولجان کمینہ ہے اسے آپ سے محبت ہو چکی ہے” عریشہ نے مسکراتے ہوئے کہا تو ٹیچر مملوکہ نے حیرت سے عریشہ کو دیکھا اور پھر متحیر نگاہوں سے ذولجان کو دیکھنے لگی ۔ ذولجان کرسی سے اٹھا اور عریشہ کو بالوں سے پکڑ کر فرش پر پٹخ دیا تو ٹیچر مملوکہ کا سٹڈی روم کربناک چیخ سے گونج اٹھا ۔ عریشہ نے فرش سے اٹھنے کی کوشش کی تو ذولجان نے لاتوں اور گھونسوں سے عریشہ کی خوب پیٹائی کی تو ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کو بازوؤں کے حصار میں لے لیا اور اسے کھینچتے ہوئے لاونج میں لے گئی اور وہ فرش پر بیٹھ کر ہانپنے لگا ۔ ٹیچر مملوکہ ذولجان کے لیے پانی لانے کے لیے کیچن میں گئی تو ذولجان بھاگتا ہوا دوبارہ سٹڈی روم میں گیا ۔ عریشہ لڑکھراتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی تو ذولجان نے عریشہ کے پیٹ میں زور سے لات ماری اور وہ دوبارہ فرش پر گر گئی ۔ ذولجان نے لکڑی کی کرسی اٹھائی اور عریشہ کے گھٹنوں پہ ماری اور دوسری بار عریشہ کے چہرے پر کرسی مارنے کے لیے گھمائی لیکن عریشہ نے اپنے بازوؤں کو ڈھال بنایا تو اسے کہنیوں پر شدید چوٹ لگی اور وہ درد کی شدت سے چیخ اٹھی ۔ ذولجان نے دوبارہ کرسی عریشہ کی ٹانگوں اور گھٹنوں پر ماری اور چوتھی بار کرسی مارنے کے لیے ہوا میں بلند کی تو ٹیچر مملوکہ نے ذولجان سے کرسی چھین کر پھینک دی اور ذولجان کو پانی کا گلاس دیا ۔ ذولجان نے پانی سمیت شیشے کا گلاس عریشہ کے چہرے پر پھینک دیا ۔ گلاس ٹوٹ گیا اور اس کی کرچیاں عریشہ کے دائیں بائیں بکھر گئیں ۔ عریشہ کی پیشانی سے خون بہنے لگا ۔
“ذولجان! سٹاپ اٹ” ٹیچر مملوکہ غصے سے چلا اٹھی اور ذولجان نے غصے سے ایک نظر ٹیچر مملوکہ کو دیکھا اور پھر اپنا اسکول بیگ وہیں پر چھوڑ کر چلا گیا جبکہ عریشہ شدت سے رو رہی تھی ۔
ہسپتال میں اچھو کے علاج کا یہ ساتواں دن تھا ۔ ٹیچر مملوکہ دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر فرش پر بیٹھی تھی ۔ وہ ٹک ٹکی باندھے اچھو کو دیکھ رہی تھی جبکہ اچھو سکون کی نیند سو رہا تھا ۔ اچھو سے مملوکہ کو ایک لگاؤ سا ہو گیا تھا ۔ یوں کہنا زیادہ بہتر ہو گا کہ مملوکہ کو اچھو کی عادت سی ہو گئی تھی ۔ اچھو کے چہرے نے مملوکہ آج پھر وہ خوفناک رات یاد دلا دی تھی جب مسز کمال یعنی اس کی اپنی سگی بھابھی نے اسے گھر سے نکال دیا تھا اور وہ اس تاریک رات کو کسی دارالامان کی تلاش میں نکلی تھی اور اسے چند غنڈوں نے گھیر لیا تھا ۔ یہ وہی اچھو تھا جس نے مملوکہ کو ان غنڈوں سے بچایا تھا اور اسے اپنے گھر میں پناہ دی تھی ۔ مملوکہ کو وہ رات بھی یاد تھی جب اچھو کے دو دوستوں نے اس کے گھر میں گھس کر مملوکہ کی عزت کو پاش پاش کرنا چاہتے تھے لیکن اچھو نے اپنے دونوں دوستوں کی گردنیں کاٹ دیں تھیں ۔ آج اچھو کے چہرے نے مملوکہ کو وہ دن بھی یاد دلا دیا جب بھرے بازار میں مسز کمال مملوکہ کو بدچلنی کے طعنے دے رہی تھی اور مملوکہ کی عزت کی دھجیاں اڑا رہی تھی تو اچھو اس کے طعنے اور مملوکہ کی بے عزتی برداشت نہ کر سکا اور اس بھرے بازار میں مملوکہ سے نکاح کر لیا ۔ مملوکہ اپنی ہی سوچوں میں گم تھی کہ اچھو اچانک تڑپنے لگا تھا ۔ مملوکہ اس کے قریب گئی اور اسے پوچھنے لگی کہ کیا ہوا ہے ۔ تکلیف کی شدت کی وجہ سے وہ کچھ نہ بول سکا اور مملوکہ کو بھی کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اچھو کو اچانک کیا ہوا ہے ۔ مملوکہ بھاگتے ہوئے گئی اور ڈاکٹر کو ساتھ لے کر آئی لیکن اس کے واپس آنے تک اچھو کی موت واقع ہو چکی تھی ۔ چیک اپ کے بعد ڈاکٹر نے بھی اچھو کی موت کی تصدیق کر دی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Dhal Gai Phir Hijar Ki Raat by Sumaira Sharif – Episode 6

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: