Mohabbat Mamnoo Hai Novel by Waheed Sultan – Last Episode 7

0

محبت ممنوع ہے از وحید سلطان- آخری قسط نمبر 7

–**–**–

رات کے آٹھ بج رہے تھے اور ذولجان نے اپنے دوست اذہان کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر اذہان کو فون کال کی تو اذہان گھر سے باہر آیا ۔
“ذولجان! میرے دوست کیا ہوا ہے؟ تم اتنے پریشان کیوں ہو؟” اذہان نے ذولجان سے پوچھا
“مجھے پاپا نے گھر سے نکال دیا ہے” ذولجان اسے بس اتنا ہی بتا سکا تھا ۔
“مگر کیوں؟” اذہان نے ذولجان سے پوچھا
“سب کچھ یہاں ہی پوچھو گے یا گھر بھی لے کر جاؤ گے؟” ذولجان نے اذہان کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا تو اذہان اسے اپنے گھر لے گیا ۔ اذہان ذولجان کو ایک چھوٹے سے کمرے میں لے گیا ۔ یہ ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں ایک چارپائی اور اذہان کا سامان پڑا تھا ۔ اذہان نے پھرتی کے ساتھ اپنا سامان سمیٹا اور تمام سامان چارپائی کے نیچے پھینک دیا ۔
“تم نے ڈنر کیا ہے؟” اذہان نے پوچھا تو ذولجان نے نفی میں سر ہلایا تو اذہان کمرے سے نکل کر کیچن کی طرف گیا اور ذولجان کے لیے کھانا لے کر آیا ۔
ذولجان فرش پر بیٹھا تھا اور اس کے سامنے پلیٹ میں سفید چاول ، آلو پالک کا سالن اور دودھ کا گلاس پڑا تھا ۔
“پاپا عریشہ کو اپنی بیٹی طرح سمجھتے ہیں اور اکثر اس کی موجودگی میں یہ الفاظ بھی بول دیتے ہیں کہ عریشہ ہماری ہونے والی بہو ہے اور پاپا کی انہی باتوں نے عریشہ کو میرے سر پر سوار کر دیا تھا اور آج میں نے اسے اس کی اوقات دکھا دی” ذولجان نے کھانا کھاتے ہوئے کہا
“کیا مطلب؟” اذہان نے ذولجان کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھا
“آج میں نے عریشہ کی خوب پٹائی کی اور اسی وجہ سے پاپا نے مجھے گھر سے نکال دیا ہے” ذولجان کے لہجے میں اداسی اور اضطراب تھا
“میرا کزن اعجاز چیمہ پولیس اہلکار ہے ، اس سے میں نے پروفیسر عیاز کو تلاش کرنے کی بات چلائی ہے اور اس نے حامی بھر لی ہے کہ وہ چند دنوں میں پروفیسر عیاز کو تلاش کرے گا اور اس کا ایڈریس ہمیں دے گا” اذہان نے بات چیت کا موضوع تبدیل کرتے ہوئے کہا
“اسے کہنا کہ پروفیسر کو جلدی تلاش کرے ، ہمارے پاس وقت بہت کم ہے اور ایک دو دن میں اچھو بھی مر جائے گا” ذولجان نے فکرمندانہ لہجے میں کہا
“آپ لوگوں کی غفلت اور لاپرواہی کی وجہ سے میرے شوہر کی موت ہے ، میں ہرگز خاموش نہیں بیٹھوں گی ، میں آپ لوگوں کو عدالت تک گھسیٹوں گی” مملوکہ نے غصہ سے غڑاتے ہوئے ہسپتال انتظامیہ سے مخاطب ہو کرکہا
“بی بی! ہم نے علاج شروع کرنے سے پہلے آپ کو باخبر کیا تھا کہ اگر علاج کے دوران تمہارے شوہر نے نشہ کیا تو اسکا ری ایکشن ہو سکتا ہے اور تمہارے شوہر نے علاج کے دوران بڑی مقدار میں نشہ کیا اور تمہارے شوہر کی موت اسی ری ایکشن کی وجہ سے ہوئی ہے” ڈاکٹر اطہر نے اچھو کی موت کے بعد کیے گئے ٹیسٹوں کے نتائج مملوکہ کو دیتے ہوئے کہا
“یہ نشے کے خصوصی سگریٹ تمہارے شوہر کے تکیے سے برآمد ہوئے ہیں” ایک نرس نے نشے کے دو سگریٹ مملوکہ کو دیتے ہوئے کہا
“اعجاز چیمہ کا میسیج آیا ہے کہ اس نے پروفیسر عیاز کے ایڈریس کا پتا لگا لیا ہے” اذہان نے ذولجان کو بتایا تو ذولجان نے اسے کہا کہ ہمیں اعجاز کے پاس جانا چاہیے اور پروفیسر عیاز کے بارے میں تمام معلومات حاصل کرنی چاہیے ۔ ذولجان اور اذہان دونوں پولیس اہلکار اعجاز چیمہ سے ملاقات کے لیے اس کے گھر چلے گئے ۔ اعجاز چیمہ نے انہیں پروفیسر عیاز کا ہوم ایڈریس دیا تو ذولجان نے اس سے پروفیسر کی فیملی کے بارے میں پوچھا تو اس نے انہیں بتایا کہ پروفیسر کی کوئی فیملی نہیں اس کی عمر پنتالیس سال ہو چکی ہے لیکن اس نے شادی نہیں کی البتہ پروفیسر کے ساتھ دس سال عمر کی ایک چھوٹی بچی رہتی ہے وہ چھوٹی بچی پروفیسر کی بھانجی ہے ۔ پروفیسر اپنی بھانجی کی پرورش اپنی بیٹی کے طور پر کر رہا ہے ۔ اعجاز سے ملاقات کے بعد ذولجان اور اذہان واپس آ گئے ۔
“مجھے ٹیچر مملوکہ کا فون آ رہا ہے ، انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا ہے ، تم ایسا کرو کہ اعجاز کو ساتھ لے کر جاؤ اور پروفیسر عیاز کو بھانجی کو اغواء کرو اور پروفیسر کو ٹیچر مملوکہ سے شادی کے لیے راضی کرو” ذولجان نے اذہان سے کہا
“کیا ہم نے اچھو کو موت کے گھاٹ اس لیے نہیں اتارا تھا کہ بعد میں ٹیچر مملوکہ سے شادی کر سکو”اذہان نے حیران ہوتے ہوئے ذولجان سے پوچھا
“میرا صرف ایک ہی مشن ہے اور وہ یہ کہ میں ٹیچر مملوکہ کو خوش دیکھنا چاہتا ہوں ، ٹیچر مملوکہ صرف ایک ہی صورت میں خوش ہو سکتی ہیں کہ پروفیسر عیاز ان سے شادی کرے” ذولجان نے ٹیچر مملوکہ کے بارے میں اپنے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے کہا تو اذہان نے ذولجان کو متحیر نگاہوں سے دیکھا
“جب پروفیسر عیاز ٹیچر مملوکہ سے شادی کے لیے راضی ہو جائے تو مجھے میسیج کر دینا” ذولجان نے اذہان سے کہا اور پھر ٹیچر مملوکہ سے ملاقات کے لیے چلا گیا
ذولجان ٹیچر مملوکہ کے گھر پہنچا تو ٹیچر مملوکہ ذولجان کو اپنے بیڈ روم میں لے گئی ۔ بیڈ روم کا ماحول دیکھ کر ذولجان پر خوف کی کپکپی طاری ہو گئی ۔ ٹیچر مملوکہ کے بیڈ پر ایک بڑا سا خنجر اور کلہاڑا پڑا تھا ۔ صوفے پر چھ فٹ لمبا پلاسٹک کا بیگ پڑا تھا ۔ ذولجان نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ٹیچر مملوکہ بیڈ روم کا دروازہ لاک کر چکی تھی ۔ ٹیچر مملوکہ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔
“یہ بات صرف میں اور تم جانتے تھے کہ اچھو نے علاج کے دوران کسی بھی قسم کا نشہ کیا تو ری ایکشن کے طور پر اس کی موت واقع ہو سکتی ہے تو پھر تم نے ایسا کیوں کیا ؟ کیوں علاج کے دوران اچھو کو چرس کے سگریٹ دیتے رہے” ٹیچر مملوکہ نے کرخت مگر پرسکون لہجے میں ذولجان سے پوچھا اور ساتھ ہی ذولجان کو اچھو کے تکیے سے برآمد ہونے والے دو سگریٹ دیکھائے ۔ ذولجان پر مزید خوف طاری ہو گیا تو ٹیچر مملوکہ نے ذولجان کا دایاں ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھا اور اسی دوران ذولجان کو اپنی جیب میں سیل فون کی تھرتھراہٹ کا احساس ہوا ۔
“میرے سر کی قسم کھا کر کہو کہ تم ہی اچھو کے قاتل ہو” ٹیچر مملوکہ کے لہجے میں بلا کی وحشت تھی ۔
“کیا آپ اپنے اس شوہر کے قتل کا بدلہ مجھ سے لیں گی جو شوہر آپ پر تشدد کرتا تھا ، آپ کو مارتا پیٹتا تھا ، وہ شوہر جو یہ بھی نہیں جانتا تھا کہ گلا دبانے سے آپ کی موت واقع ہو سکتی ہے؟” ذولجان نے کپکپاتی آواز کے ساتھ کہا
“جب وہ آپ پر تشدد کرتا تھا تو مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا اور مجھے بہت تکلیف ہوتی تھی ، میں آپ پر ہونے والے تشدد کو کئی بار چھپ کر دیکھ چکا تھا اس لیے میں نے اچھو کو موت کے گھاٹ اتارنے کا فیصلہ کیا” ذولجان کی بات سنتے ہی ٹیچر مملوکہ نے بیڈ سے خنجر اٹھایا ۔
“وہ جیسا بھی تھا میرا شوہر تھا اور دنیا کے ظالموں کے تشدد سے بچنے کے لیے اچھو میری ڈھال تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں اچھو کے تشدد کو ہنسی خوشی برداشت کرلیتی تھی” ٹیچر مملوکہ نے سرد لہجے میں کہا
“میرے شوہر کا قاتل ہے تو ، اس لیے اب تو بھی مرنے کے لیے تیار ہو جا” ٹیچر مملوکہ نے خنجر کی دھاڑ پر شہادت کی انگلی پھیرتے ہوئے کہا
“اپنی آخری خواہش بتا سکتے ہو لیکن ایسی خواہش ہرگز مت کرنا جسے پورا کرنا میرے بس میں نہ ہو” ٹیچر مملوکہ نے کہا تو ذولجان نے کاغذ کا ایک ٹکڑا ٹیچر مملوکہ کی طرف بڑھایا
“اس پر پروفیسر عیاز کا ایڈریس لکھا ہوا ہے ، پروفیسر عیاز نے آپ سے شادی کے لیے رضامندی ظاہر کی ہے ، میری بس ایک ہی خواہش ہے کہ میں آپ کی اور پروفیسر عیاز کی شادی میں شرکت کروں ، اس کے بعد اگر آپ حکم کریں گی تو میں خود ہی موت کو گلے لگا لوں گا” ذولجان نے کہا تو حیرت کے سمندر میں ڈوبی مملوکہ ذولجان سے دو قدم پیچھے ہٹ گئی اور خنجر اس کے ہاتھ سے گر گیا ۔
ذولجان کے دئیے ہوئے پتہ پر مملوکہ پروفیسر عیاز سے ملاقات کرنے چلی گئی ۔ پروفیسر عیاز کرسی پر بیٹھا تھا اور ذولجان اس کے دائیں طرف کھڑا تھا ۔ ٹیچر مملوکہ کے آتے ہی پروفیسر عیاز کرسی سے اٹھا اور مودبانہ انداز میں کھڑا ہو گیا ۔
“مملوکہ! میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں” پروفیسر عیاز نے مودبانہ لہجے میں کہا تو مملوکہ نے ایک نظر پروفیسر عیاز کو دیکھا اور پھر ذولجان کو دیکھتے ہوئے اس کی طرف بڑھی اور ذولجان کے پاس کھڑی ہو گئی ۔
“آج تم نے میری محبت مجھے لٹا دی میرے پروفیسر صاحب مجھے لٹا دئیے ، آج میں ایسا محسوس کر رہی ہوں جیسے کسی نے مجھے دنیا بخش دی ۔ ۔ ۔ ۔ بتاؤ تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟” مملوکہ نے ذولجان سے پوچھا تو پروفیسر عیاز نے مملوکہ کو حیرت سے دیکھا
“آپ مجھے شرمندہ نہ کریں ، آپ تو میری ٹیچر ہیں اور پھر آپ کی خوشی تو مجھے ہر چیز سے زیادہ عزیز اور قیمتی ہے” ذولجان نے کہا اور اس نے ٹیچر مملوکہ کے سامنے سر خم کر دیا ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ذولجان عریشہ کے گھر گیا تو مسز حالد نے اسے گیٹ پر ہی روک لیا ۔
“یہ اپنی غلطی پر شرمندہ ہے اور عریشہ آپی سے معافی مانگنے کے لیے آیا ہے ۔ ۔ ۔ ۔ آنٹی پلیز اسے عریشہ آپی کے پاس لے چلیں” ذولجان کے چھوٹی بھائی شاہان نے مسز حالد سے کہا تو انہوں نے راستہ چھوڑ دیا اور ذولجان لاونج میں عریشہ کے پاس کھڑا ہو گیا ۔
“ٹیچر مملوکہ کو ان کی محبت مل گئی اور انہوں نے پروفیسر عیاز سے شادی کر لی ہے ، پلیز اب تم بھی مجھے معاف کر دو ، اگر تم مجھے معاف کر دو گی تو پاپا بھی مجھے معاف کر دیں گے” ذولجان نے عریشہ کے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے ۔
“جب میں اپنے پاؤں پر کھڑی ہو جاؤں گی تب تمہیں معاف کروں گی” عریشہ نے بڑا سا منہ بناتے ہوئے کہا اور پھر ویل چیئر دوسری طرف موڑ دی
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
چھ مہینوں کے بعد عریشہ کی ٹانگیں ٹھیک ہو گئی اور وہ اپنے پاؤں پر چلنے لگی اور پھر اس نے ذولجان کو بھی معاف کر دیا ۔ اس کے بعد ذولجان اور عریشہ کی منگنی کر دی گئی ۔
.

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: