Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 1

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 1

–**–**–

ٹرے کو ہاتھ میں تھامے جب وہ کمرے میں داخل ہوٸ تو وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپاۓ بیٹھا تھا۔ اس انداز پر وہ بے ساختہ مسکرا دی ۔ سر کو آہستگی سے ہلاتی آگے بڑھی اور ٹرے کو بیڈ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
اس کے بال شاٸد بلکل اس کی ماں جیسے تھے سنہری چمکتے ہوۓ کیونکہ نجف کے بال تو گہرے بھورے رنگ کے تھے۔ آہستگی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا کسی نرم و ملاٸم سے فرز جیسا احساس ہوا ۔
” جاج جاج “
نرم دھیمی سی آواز میں اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوۓ کہا ۔ پر وہ ہنوز اُسی انداز میں بیٹھا تھا۔ اس کا کیا قصور تھا اس سب میں دل اچانک جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچ ڈالا تھا آنکھوں کے کونے نم ہونے لگے ۔
” جاج لک ڈنر از ریڈی “
پیار سے میٹھے سے لہجے کو اپناتے ہوۓ کہا ۔ جاج نے غصے سے چہرہ اوپر اٹھایا چہرہ تنا ہوا تھا ۔ دانتوں کو ایک دوسرے میں غصے سے پیوست کیے وہ اپنے سامنے بیٹھی اس نازک سی لڑکی کو گھور رہا تھا ۔
” نو آٸ ڈونٹ وانٹ ٹو ایٹ “
وہ چیخا تھا اس کے گلے کی رگیں پھول رہی تھیں جو اس بات کی گواہ تھیں وہ اسے ایک پل بھی برداشت نہیں کر رہا ہے۔
” آٸ ایم یور مام جاج “
اذفرین نے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جاج نے ایک جھٹکے سے ہاتھ کو پیچھے دھکیلا ۔ اس کے سانس کی رفتار تیز ہو چلی تھی ننھے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے وہ اب اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا ۔
” نووووو یو آر ناٹ “
اس کا لہجہ اس کی آنکھیں سب میں نفرت موجود تھی ۔ وہ اس وقت چار سال کا بچہ نہیں لگ رہا تھا ۔
” لیو می آلون “
باریک سی آواز میں ایسے چیخا کہ وہ گڑبڑا کر کھڑی ہوٸ ۔
” اوکے اوکے “
ہاتھ کے اشارے سے اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کرتی وہ ٹرے وہیں چھوڑ کر جلدی سے کمرے سے باہر نکلی ۔ باہر نکلتے ہی دروازے کے ساتھ لگے گہری سانس خارج کی ۔ وہ کھوٸ کھوٸ سی زینے کے جنگلے کو تھامے کھڑی تھی ۔
” کیا ہوا نہیں کھا رہا کھانا “
نجف کی آواز پر چونک کر نیچے دیکھا وہ سیڑھیوں کے بلکل پاس پریشان حال کھڑا تھا۔ بکھرے سے بال بڑھی ہوٸ شیو بل پڑی شرٹ جس کے بازو کے کف فولڈ کیے ہوۓ تھے اذفرین نے آہستگی سے سر کو نفی میں ہلایا ۔
” آپ فکر نہ کریں میں کچھ دیر میں پھر سے ٹراٸ کرتی ہوں “
اذفرین نے نجف کا اترا چہرہ دیکھ کر تسلی آمیز انداز اپنایا ۔زینہ اتر کر وہ ابھی کمرے کی طرف مڑی ہی تھی جب پھر سے نجف کی آواز آٸ ۔
” اذفرین “
وہی شرمندگی بھرا لہجہ اذفرین نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاٸ اور پلٹی۔ ایک نظر اذفرین کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” جی “
شاٸستگی سے کہا وہ اب سر جھکاۓ کھڑا تھا ۔
” تھنکیو تھنکیو فار ایوری تھنگ “
زینے کے جنگلے کو تھامے وہ اس سے نظریں چرا گیا تھا ۔
” آپ کے لیے کھانا لگا دوں “
اذفرین نے اس کی شرمندگی کم کرنے کے لیے بات کو فوراً بدلہ ۔ اب پچھلی باتیں دہرانا بے کار تھا ۔
” نہ نہیں امی نے کھا لیا کیا؟ میں کھا لوں گا جب بھوک لگے گی “
نجف نے سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ وہ نماز کے انداز میں سر پر سکارف کو باندھے ہوٸ تھی ۔ سفید چہرہ پر نور تھا ۔
” جی وہ سو گٸ ہیں “
اذفرین نے آہستہ سی آواز میں کہا جس پر وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔ اذفرین نے مسکرا کر دیکھا اور کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔ نجف کی نظریں پشت پر گڑی محسوس ہو رہی تھیں جلدی سے آ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور دروازے سے ٹیک لگاۓ کرب کے عالم میں آنکھیں موند لیں ۔
آہستہ سے چلتی سٹڈی ٹیبل تک آٸ دراز میں سے ڈاٸری نکالی اور کرسی کو پیچھے دھکیلتی بیٹھ گٸ ۔ کچھ یاد آ جانے پر پھر سے دراز کو کھولا اور ایک مخمل کی سرخ ڈبیا کو نکالا ۔ جیسے ہی اسے کھولا بھینی سی خوشبو کے احساس سے دل عجیب طرز میں دھڑکنے لگا ۔
سوکھا گلاب جس کی پتیاں اب سفوف سا بن چکی تھیں ٹہنی بھی سوکھ کر دھاگہ سا لگنے لگی تھی نرمی سے ڈیبا کو پھر سے بند کیا اور دراز میں رکھ دیا ۔ ٹیبل لیمپ کو چلا کر ڈاٸری کو کھولا ۔ قلم سفید کاغز پر رکھا اور لکھنا شروع کیا۔
جنوری بروزمنگل 2019 آج پورا ایک سال بیت گیا دیکھو پر تمھاری یاد اور اس گلاب کی خوشبو آج بھی تازہ ہے نہیں جانتی تم سے زندگی میں پھر کبھی مل سکوں گی کہ نہیں پر تم سے جڑا یہ یاد کا رشتہ کبھی نہیں ختم کر سکوں گی ۔ میں ہر روز رات کو یوں ہی بیٹھ کر تمہیں پہروں یاد کرتی ہوں وہ چند دن اور ان چند دنوں کا ایک ایک پل یاد کرتی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایک سال بھی بیت گیا اسی طرح پوری زندگی بیت جاۓ گی اور میں تمہیں یونہی یاد کیا کروں گی ۔
قلم آہستہ آہستہ کاغز پر سرکتا جا رہا تھا اور سیاہ دھبے واضح ہونے لگے تھے ۔
********
بروز جمعہ سات جنوری 2018 سڈنی بنکس ٹاٶن سے باہر نکلتے ہی سیاہ چارکول میں لپٹی شفاف سڑک اتنی گرم تھی کے جوتے کے تلوے بھی گرم ہوتے ہوۓ محسوس ہو رہے تھے ۔ 1939 کے بعد سڈنی کے اندر پڑنے والی یہ شدید گرمی اپنا ریکارڈ توڑ رہی تھی ۔
اس کی سفید جلد جیسے جلنے لگی تھی اور سرخی ماٸل ہوتی جارہی تھی تیز تیز قدم اٹھاتی وہ بس سٹینڈ کی طرف جا رہی تھی۔ گھبراٸ سی پریشان صورت لیے جس پر گھبراہٹ واضح تھی ۔
سفاک لوگ ہر جگہ موجود تھے چاہے وہ پاکستان ہو چاہے آسٹریلیا اور یہاں اس کے معاملے میں تو سفاکی برتنے والے چاروں طرف اس کے اپنے ہی تھے ۔
سفید رنگ کے جوگرز میں بھی پاٶں جھلس رہے تھے ڈھیلی سی سیاہ رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے جینز پہنے بار بار گردن پر آۓ پسینے کو صاف کر رہی تھی ۔ گلے کے گرد لپٹا سکارف اب گیلا ہونے لگا تھا بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناۓ پیشانی پر گرمی کو برداشت کرتے شکن اور آنکھوں پر سیاہ چشمہ لگاۓ وہ بےحال سی بس سٹاپ کی تلاش میں نظریں گھما رہی تھی ۔ میک اپ سے بے نیاز سفید چہرہ اب گرمی کی شدت سے سرخ پڑ گیا تھا ۔
گرمی میں پگھلتی کاریں بسیں بنکس ٹاٶن کی سڑکوں پر دوڑ رہی تھیں ۔ اللہ اللہ کر کے بس سٹینڈ نظر آنے لگا تھا ۔تھوڑی سی ہمت بندھی تو قدموں نے بھی ہمت پکڑی ۔
ازفرین نے ہاتھ میں پکڑی پانی کی بند بوتل کو کھولا دو گھونٹ حلق میں انڈیلے ۔ تیز تیز قدم اٹھاتی بس سٹاپ تک پہنچی
بس سٹاپ پر پہنچ کر شیڈ کے نیچے جاتے ہی جیسے سکون ملا تھا ۔ کندھے پر لٹکے بیگ کو اوپر اٹھا کر اس میں سے پھر سے وہ کاغز نکالا جس کو وہ اس راستے پر آتے ہوۓ بیسوں بار کھول چکی تھی اور بس سٹاپ پر لکھے گۓ الفاظ کو کاغز کی چھوٹی سی چٹ پر لکھے گۓ الفاظ کے ساتھ ملایا ۔
وہ درست بس سٹاپ پر پہنچ چکی تھی ایک طرف چلتے سکرین بورڈ پر بس کانمبر چیک کیا ۔ درست تھا تسلی سے دل پر ہاتھ رکھا ۔ گہری سانس لی آج خود جانے کا پہلا دن تھا اسی لیے ہر بات پر ہاتھ پاٶں پھول رہے تھے ۔ چشمے کو سر پر ٹکاۓ آنکھوں کو سکوڑ کر سڑک کی مطلوبہ جانب کی طرف دیکھا ۔
نیلے رنگ کی ڈبل ڈیکر بس دور سے آتی دکھاٸ دی ایسا لگ رہا تھا جیسے بس سڑک پر ہر طرف سے پگھل رہی ہو۔ بس کے کھڑے ہوتے ہی بس کے بڑے سے دروازہ کے کھلنے کی آواز پر سکھ کا سانس لیتی وہ بس میں سوار ہوٸ ۔ بس کی ٹھنڈک نے اندر تک سکون اتار دیا اب دو گھنٹے اسی سکون میں گزارنے تھے۔
بس ہوسٹس نے مسکرا کر خالی سیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ دونوں اطراف میں لگی سیٹوں کے درمیان میں سے گزرتی وہ اپنی مطلوبہ سیٹ تک پہنچی اس کی سیٹ کھڑکی کی طرف تھی ۔ اور پہلی سیٹ پر بیٹھا نفس چہرہ کتاب کے پیچھے چھپاۓ ہوا تھا ہلکے سے گرے رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے نیلے رنگ کی جینز پہنے وہ ارد گرد کی دنیا سے یکسر بے نیاز تھا اذفرین کی نظر اب کتاب پر تھی ۔
” دی اینمی وِداِن باۓ جان وینٹری “ ہلکے گرے رنگ کی جلد پر آف واٸٹ رنگ کے الفاظ لکھے تھے وہ جو بھی تھا اس کے پاس آنے پر بھی کتاب میں گم تھا ۔
” ایکسکیوزمی ماٸن سیٹ پلیز “
اذفرین نے پر اعتماد آواز میں کہا ۔ کتاب نیچے ہوٸ تھی وہ کوٸ ایشاٸی تھا گو کہ رنگت بے حد سفید تھی پر اس کے چہرے کے نقوش اور وضع قطع سے وہ ایشاٸی تھا ۔ لمباٸ کے رخ بڑی سی آنکھیں ایک لمحے میں دیکھنے والے کو اپنے سحر میں قید کرنے کی طاقت رکھتی تھیں اذفرین بھی دل میں داد دیے بنا نہیں رہ سکی تھی ۔
” واٹ “
ناسمجھی جیسے انداز میں آنکھیں سکیڑے سوال کیا ۔ پیشانی پر بھی بل پڑے تھے سیاہ بال تھوڑے سے بے ترتیب ہوۓ ماتھے پر بھی موجود تھے اس کی اس ناسمجھی پر اذفرین نے کھا جانے والی نظروں سے گھورا عجیب انسان ہو بھٸ تمھارے سامنے کھڑی ہوں اندازہ بھی نہیں کہ کس لیے ۔
” ماٸن سیٹ پلیز “
اذفرین نے زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر پھر سے کہا ۔انداز طنزیہ تھا اذفرین کے اس انداز پر وہ تھوڑا سا خم دے کر سیدھا ہوا ۔پر چہرہ ہنوز سپاٹ تھا ۔
” اوہ شٸور “
ٹانگیں سمیٹیں اور کتاب کو پھر سے چہرے کے آگے کیا ۔
” تمیز تو چھو کر نہیں گزری “ اذفرین بڑ بڑاتی ہوٸ ٹانگوں اور سیٹ کے درمیان کے راستے میں سے گزرتی کھڑکی کی ساتھ کی سیٹ پر پہنچی بیگ کو گود میں رکھے کھڑکی کے پردے کو تھوڑا سا پیچھے کیے باہر دیکھا ۔ باہر جتنے بھی لوگ تھے سب کے پیشانی کے بل باہر موجود گرمی کے گواہ تھے۔
اذفرین نے کھڑکی کے ساتھ سر ٹکایا اور آنکھیں موند لیں ۔
” تو کوٸ بات نہیں امی چلی جایا کرے گی بچی تو نہیں ویسے بھی یہاں رہنا ہے تو ہر کام خود کرے “
ذہن میں ہونے والی بازگشت نے حلق تک کڑوا کر دیا تھا ۔ ذہن کو جھٹکا ۔ اور آنکھوں کو اور زور سے بند کیا۔ ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے نیند کی آغوش میں بھیج دیا تھا ۔ کوٸ چیخ رہا تھا اذفرین نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ۔
” اۓ اۓ ستاپ(سٹاپ ) رید (ریز ) یور ہینڈ ایند ہید داٶن ایوری ون “
کرخت اور اونچی آواز تھی ساتھ لوگوں کی ہولناک چیخیں تھیں اذفرین کی آنکھیں کھلی تھیں تو پھٹی سی رہ گٸیں بس کا پرسکون منظر عجیب بھونچال میں تبدیل تھا خوف کی سرد سی لہر ریڑھ کی ہڈی میں سنسناہٹ بھر گٸ ۔
سیاہ فام چار آدمی ہاتھوں میں پسٹل تھامے بس کی مختلف جگہوں میں کھڑے تھے ایک آدمی ڈراٸیور کے سر پر بندوق تانے ہوۓ تھا اور اسے بس روکنے سے منع کر رہا تھا گیٹ کے پاس کھڑا گارڈ بے ہوش تھا ۔
” یہ یہ کون لوگ ہیں “
اذفرین نے گھبرا کر اپنے ساتھ بیٹھے لڑکے سے کہا جو ہاتھ کھڑے کیے ہوۓ تھا ۔ اور اب چور نظروں سے بار بار سر اٹھاۓ آدمیوں کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر بھی کچھ دیر پہلے والا سکون غاٸب تھا
”ششششش کچھ مت بولو کچھ مت بولو سر نیچے کرو “
ساتھ بیٹھے لڑکے نے ہونٹوں پر ہاتھ رکھے ارود میں جواب دیا اذفرین کا سارا جسم کانپ گیا تھا ایک لمحے کو دل نے چاہ یہ خواب ہو پر یہ خواب نہیں تھا ۔ وہ چاروں آدمی لوگوں کو رونے سے منع کر رہے تھے اور خود اپنی عجیب سی زبان میں بات کر رہے تھے ۔
” اے لسن ہید داٶن گیمی یور موباٸل “
ان میں سے ایک چیخ چیخ کر ٹوٹی پھوٹی انگلش بول رہا تھا اب وہ لوگوں سے ان کے موباٸل فون اور سامان کھینچ رہا تھا ۔
” گیمی یور موباٸل “
اب وہ دنوں کے سر پر کھڑا چیخ رہا تھا اور ان دونوں سے موباٸل فون مانگ رہا تھا ۔ لڑکے نے جیب سے موباٸل نکال کر دیا اب وہ اذفرین کے آگے ہاتھ کر چکا تھا اذفرین نے کانپتے ہاتھوں سے بیگ اس لڑکے کی طرف بڑھایا ۔ اس نے جھپٹ کر بیگ چھینا اور آگے بڑھ گیا ۔ اذفرین نے دھیرے سے گردن موڑے ساتھ بیٹھے لڑکے کو دیکھا جو لب بھینچے سرخ ہوتے چہرے کے ساتھ بیٹھا تھا ۔
” ٹرن دا بس ٹرن دا بس باسٹڈ “
وہی آدمی اب ڈراٸیور کے سر پر کھڑا تھا ۔ اور اسے بس کو موڑنے کا کہہ رہا تھا سنسان سڑک کا رخ سڈنی کے سنسان جنگل کی طرف جا رہا تھا ۔ سب لوگ اب کاپننے لگے تھے سب کا خیال تھا وہ سامان لوٹنے کے بعد بس سے اتر جاٸیں گے پر وہ تو شاٸد بس کو یرغمال بنا چکے تھے ۔ ایک عورت اونچا اونچا رونے لگی تھی ۔
” پلیز لیو اَس پلیز پلیز “
وہ ہاتھ جوڑے کھڑی رو رہی تھی ۔ انگلش بولنے والا سیاہ فام اب تیز تیز قدم اٹھاتا اس عورت کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
” ہے لیدی ہے لیدی ستاپ کراٸنگ اف یو نات ستاپ اٸ ول شوت یو راٸت ناٶ “
سیاہ فام نے اس عورت پر پسٹل تانی تھی عورت کے ساتھ بیٹھا آدمی تیزی سے کھڑا ہوا اور عورت کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اسے زبردستی چپ کروا رہا تھا ۔ عورت اب اس کے قابو میں بھی پھڑپھڑا رہی تھی ۔
” ہے ٹرن دس روڈ “
آدمی اب جنگل میں بس کو لے آیا تھا ۔ لوگ خوف سے سر نیچے جھکاۓ بیٹھے تھے بچوں کے رونے کی آوازیں تھیں شاٸد ہلکی ہلکی ۔
” ستاپ ستاپ “
وہ اب بس کو روکنے کے لیے کہہ رہا تھا وہ ۔ اور پھر وہ چاروں مارتے ہوۓ سب کو بس سے اتار رہے تھے ۔ اذفرین کے بازو تھکنے لگے تھے ۔
” مٶو مٶو “
اب ان میں سے ایک آدمی نے ساتھ بیٹھے لڑکے کے بازو کو دبوچا تھا ۔ اسے کھڑا کرنے کے بعد اس کے بازو کو جھپٹ کر کھڑا کیا تھا ۔ وہ ہاتھوں کو پیچھے باندھ کر بس سے اتار رہے تھے اور بس سے اترتے ہی ایک آدمی آنکھوں پر پٹی باندھ رہا تھا ۔ جیسے ہی اس کی آنکھوں پر پٹی بندھی کچھ بھی نظر آنا بند ہو چکا تھا ۔ بس قدم چل رہے تھے ۔ پانچ سے چھ منٹ کے فاصلے پر چلانے کے بعد وہ اب ایک جگہ پر کھڑا ہونے کے لیے کہہ رہے تھے ۔ کسی کا کندھے پر زور کا ہاتھ پڑا تھا ۔ اور وہ لڑکھڑاتی ہوٸ پیچھے ہوٸ وہ بیٹھنے کا کہہ رہے تھے ۔
*********
” نہیں بس پھول رکھ دیتا تھا میری کتابوں میں “
وہ مسکراٸ اور ناز سے کتاب میں پڑے سوکھے پھول کی طرف دیکھا جو اس کی تصویر کے بلکل اوپر پڑا تھا ۔ پاس بیٹھی سنبل نے گردن جھکا کر تصویر کی طرف دیکھا اور پھر اس کے چہرے کی طرف جو محبت کا ہر رنگ چہرے پر بکھیرے ہوۓ تھا ۔
” واہ واہ اتنی محبت اور تم اس کی تصاویر جمع کرتی تھی ہے نہ ؟“
سنبل نے قہقہ لگاتے ہوۓ کتاب میں پڑی تصویر کی طرف اشارہ کیا وہ مسکرا رہا تھا اور آنکھیں سحر پھونک رہی تھیں ۔ یہ کہنا غلط نہیں تھا وہ بہت خوبرو تھا ۔ سامنے بیٹھی اوزگل کیا کوٸ بھی دل ہار بیٹھے ۔
” کہاں بھٸ یہ کچھ تصاویر ہی ہیں بس میرے پاس“
اوزگل نے شرماتے ہوۓ کہا ۔ سنبل پھر سے قہقہ لگا چکی تھی اوزگل کے فون پر بجتی بل پر وہ اب فون کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ وہ دونوں آخری لیکچر کے بعد یونیورسٹی کے لان میں بیٹھی تھیں ۔
” اوہ ادیان کی کال لگتا وہ لینے آ گیا ہے میں چلتی ہوں “
تیزی سے کتابیں سمیٹتی وہ اٹھی تھی کتاب میں سے ایک تصویر پھسل کر گھاس پر گری ۔ اور وہ بے نیازی سے سب سمیٹ کر اب کندھے پر بیگ رکھے کھڑی تھی ۔
” رکو پاگل لڑکی “
جیسے ہی وہ مڑی سنبل نے تصویر کو ہاتھ میں لے کر شرارت سے کہا ۔وہ آواز سنتے ہی پلٹی ۔
” اس کو تو سنبھال لو اپنے اُن کو “
سنبل نے آنکھ کے کونے کو دبایا اور تصویر پکڑے ہاتھ کو ہلایا ۔ اوزگل اُن کہنے پر جھینپ گٸ ۔
” اوہ یہ کیسے گری نیچے دو مجھے “
وہ سر پر ہاتھ مارتی آگے ہوٸ اور سنبل کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ سنبل نے لب شرارت کے انداز میں بھینچے مسکراہٹ دباۓ تصویر پکڑے ہاتھ کو ہوا میں گھمایا ۔ وہ اب جس طرف کو بڑھتی سنبل ہاتھ گھما کر ہاتھ کو دوسری طرف لے جاتی ۔
”سنبل تنگ مت کرو “
اوزگل نے بےچینی سے بازو جھٹکے سنبل اب اس کی حالت سے محزوز ہوتی قہقےلگا رہی تھی اور اس کی تصویر چھیننے کی کوشش کو مسلسل ناکام بنا رہی تھی۔
” سنبل پھٹ جاۓ گی اور باہر کھڑا انتظار کرتا ادیان دانت توڑ دے گا میرے “
اوزگل نے پیر پٹخے اور گھور کر سنبل کی طرف دیکھا ۔
” یہ لو پکڑو ترس آ گیا تم پر ابھی تصاویر پر تو گزارا ہے تمھارا “
سنبل نے تصویر اس کے آگے کی جس کو خفگی سے دیکھتے ہوۓ وہ تھام چکی تھی ۔ اور پھر عجلت میں بھاگنے کے سے انداز سے گیٹ کی طرف چل دی ۔ فکر تھی تو ادیان کی جو بلاوجہ کا پکڑ کر جھاڑ دیتا اسے دیر سے آنے پر ۔
*******
ان کو یہاں بیٹھے شاٸد تین گھنٹے سے زاٸد ہوچکے تھے ان سب کی آنکھوں پر بندھی پیٹیاں یہاں آتے ہی اتار دی گٸ تھیں پر ہاتھ سب کے ابھی بھی پشت کی طرف بندھے تھے ۔ اردگرد اونچے اونچے درخت تھے یہاں ان چار آدمیوں جیسے اور بہت سے سیاہ فام تھے جو بڑی بڑی گن اٹھاۓ لوگوں کے چاروں اطراف میں کھڑے تھے۔
علیدان نے اردگرد چور نظر سے دیکھا اور تھوڑا سا سرک کر درخت کے ساتھ ٹیک لگاٸ ۔ وہ ہلکا ہلکا سرکنے کا عمل تین گھنٹے سے جاری رکھے ہوۓ تھا مقصد اپنے ہاتھ درخت کی اٶٹ میں چھپانا تھا ۔
ہاتھوں کو بس پینٹ کے پیچھے کی جیب میں سے کٹر کو نکالنا تھا درخت کے پاس پہنچنے کے بعد اب وہ اس کی اٶٹ میں ایک گھنٹے سے یہ کوشش کر رہا تھا ۔ جنگل میں ارد گرد بہت سے گھنے درخت ہونے کے باعث حبس اور گھٹن تھی ۔سب لوگ پسینے میں شرابور ڈرے سہمے بیٹھے تھے ۔ کچھ لوگ وقفے وقفے سے رونے کا عمل جاری رکھے ہوۓ تھے جن میں سے ایک وہ لڑکی تھی جو بس میں اس کے ساتھ بیٹھی تھی علیدان کی توجہ زیادہ اس پر جانا اس کا ایشاٸ ہونا تھا باقی سب گورے تھے جن میں تین بچے اور کچھ بوڑھے لوگ بھی شامل تھے عورتیں اور سب لوگ ملا کر کل تیس کے قریب لوگ تھے ۔
بہت مشکل سے باریک سا کٹر اس کے ہاتھ لگا تھا وہ یہ کٹر اکثر کتابوں کے جڑے اوراق کو الگ کرنے کے لیے استعمال کرتا تھا اور باز اوقات اخباروں اور تصاویر کو کاٹنے کے لیے اس لیے یہ اس کی پینٹ کی پچھلی جیب میں وہ اسی وقت منتقل کر چکا تھا جب بس میں اچانک بھگدڑ مچی تھی فاٸلر نما یہ کٹر اس وقت اس کے ہاتھ میں موجود تھا ۔
کٹر سے وہ اب بڑی مہارت کے ساتھ ہاتھوں کی رسی کاٹ رہا تھا ۔ انداز ایسا تھا کہ سامنے سے کوٸ یہ محسوس بھی نہ کر سکے وہ اس وقت کیا کر رہا ہے ۔ وہ تھک جاتا تو ہاتھ روک دیتا کیونکہ ہاتھوں میں پسینہ آنے کی وجہ سے کٹر کے پھسل جانے کا ڈر تھا ۔
” دی کوپے کوم دی کوپے کوم “
”سر آ رہے ہیں سر آ رہے ہیں “
ایک سیاہ فام چیختا ہوا آیا اب باقی سب آدمی لوگوں کی گردنیں پکڑ پکڑ کر نیچے جھکا رہے تھے ۔ علیدان نے جلدی سے کٹر کو چھپایا ۔ اس کے گردن کوزور کا جھٹکا پڑا تھا ۔ اور گردن نیچے ہوٸ تھی سامنے اب بہت سے آدمیوں کے پاٶں نظر آ رہے تھے ۔
” وار از ہل بیگاسی“
” ان سب سے لوٹا ہوا سامان کدھر ہے “
کرخت سی آواز ابھری تھی شاٸد کچھ الفاظ کو ہی وہ سمجھ پا رہا تھا وہ سامان کا پوچھ رہا تھا باقی لوگوں سے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: