Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 10

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 10

–**–**–

اذفرین کی پلکوں پر جیسے کسی نے پتھر دھر دیے ہوں افف وہ دیکھ رہا تھا مجھے تب سے پتہ نہیں کب سے اسی حالت میں کھڑی تھی شرمندگی سے چہرہ سرخ ہوا جلدی سے شرٹ کو دونوں اطراف سے پکڑ کر کندھوں پر درست کیا ۔ علیدان نے بمشکل قہقہ روکا ۔
نظریں جھکاۓ نادم سی کھڑی اذفرین کو دیکھا تو فوراً اس کی شرمندگی دور کرنے کے لیے نارمل انداز اپنایا۔
”چلیں پھر اب ؟“
علیدان نے آہستگی سے کہتے ہوۓ قدم دروازے کی طرف بڑھاۓ وہ بھی سر ہلاتی کمرے کے داخلی دروازے کی طرف بڑھی ۔ اب وہ بلاجواز بار بار کندھے پر سے شرٹ کو درست کر رہی تھی وہ لوگ ابھی لاونج میں ہی پہنچے تھے جب علیدان ٹھٹھک کر رکا ۔ نظریں لکڑی کے بنے فرش پر مٹی کی تہہ کے نیچے سے جھلکتے سیاہ گول سے ہینڈل پر تھی ۔
” رکو ذرا ایک منٹ “
اذفرین کو ہاتھ کے اشارہ دیا اور گھٹنے ٹیک کر زمین پر بیٹھا اور زمین پر موجود لکڑی کے فرش پر ہاتھ سے مٹی کو صاف کیا نیچے ایک گول ساہینڈل موجود تھا جو اندر کو ایک خول میں پیوست تھا علیدان نے انگلی کے مدد سے دباٶ دے کر اس ہینڈل کو اوپر کیا اور پکڑ کر کھینچا تو عجیب سی چرارہٹ کی آواز کے ساتھ ایک تخت نما دروازہ اوپر کو کھلا۔ دروازہ اب کھل کر ایک طرف اوپر کو کھڑا تھا اور نیچے کو ترتی سیڑھیاں نظر آ رہی تھیں غالباً وہ سٹور نما بیس منٹ تھا کتنی عجیب بات تھی کہ باہر سے گھر دکھنے میں زمین سے اونچا رکھ کر بنایا ہوا لگ رہا تھا اور یہاں ایک سات سیڑھیاں اتر کر ایک بیس منٹ موجود تھا ۔
” بیس منٹ ہے “
علیدان نے گردن موڑ کر حیران سی کھڑی اذفرین کو بتایا وہ دم سادھے کھڑی تھی ۔ دروازے کھلتے ہوۓ ایک بڑا سا جالا راستے کو ڈھکے ہوۓ تھا علیدان نے ہاتھ سے جالا ہٹایا اور احتیاط سے پہلی سیڑھی پر قدم رکھا ۔
” سنو تم باہر ہی رہو “
ہاتھ سے اذفرین کے بڑھتے قدم کو روکا اور خود نیچے اترنا شروع کیا ۔ جگہ جگہ جالے لگے تھے وہ ٹانگ کے درد کو برداشت کرتا سیڑھیاں اتر رہا تھا پانچویں سیڑھی پر ہی ایک رسی نیچے لٹک رہی تھی جس کے نیچے ایک بٹن تھا بٹن کو دباتے ہی بیس منٹ روشن ہوا تھا یہ بیس منٹ پورے گھر کے نیچے مشتمل نہیں تھا صرف لاونج کے نیچے تھے ۔ جگہ جگہ جالے لگے تھے کاٹھ کباڑ تھا جو مٹی سے اٹا ہوا تھا علیدان ایک طرف سے شروع کیے نظر کو گھما رہا تھا اور پھر بلکل سامنے جاتے ہی نظر رک گٸ ۔
” ارے واہ “
علیدان کی چہکتی سی آواز بیس منٹ سے برآمد ہوٸ وہ جو گھٹنے نیچے ٹکاۓ گردن کو تھوڑا سا نیچے کیے آنکھیں سکوڑے غور سے نیچے دیکھ رہی تھی فوراً تھوڑا سا آگے ہوٸ
” کیا ہے ؟“
تجسس بھری آواز میں پوچھتے ہوۓ گردن کو اور نیچے کیا ۔ علیدان جہاں کھڑا تھا سامنے ہی ایک سپورٹ ساٸیکل تھی جالوں سے بھری ہوٸ مٹی سے اٹی ہوٸ ۔
” چیز تو کمال ہے پر فاٸدہ نہیں “
علیدان نے گہری سانس لی اور کمر پر ہاتھ دھرے ایک اچٹتی سی نظر ڈالی اور مڑا ۔ ٹانگ پر لگے گھاٶ کی وجہ سے ساٸیکل چلانا اس کے لیے مشکل ہی نہیں ناممکن تھا ۔
” ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ہے کیا وہاں؟ “
اذفرین نے پھر سے پوچھا اب وہ ایک سیڑھی نیچے آ چکی تھی ۔ پیشانی پر تجسس کی لکیریں سجاۓ ۔
” ساٸیکل ہے بھٸ “
علیدان نے آخری سیڑھی پر پاٶں دھرے چہرہ اوپر کیا۔ اذفرین کے چہرے پر بھی ویسی ہی خوشی کی جھلک ابھری جو کچھ دیر پہلے علیدان کے چہرے پر آٸ تھی ۔
” ارے واہ تو بے کار کیوں ہوٸ بھلا؟“
اذفرین نے چہکتے ہوۓ پوچھا ۔ اور حیرت سے علیدان کی طرف دیکھا جو اب مایوس سا اوپر آ رہا تھا ۔ ابھی وہ نیچے سے دوسری سیڑھی پر ہی پاٶں رکھے ہوۓ تھا
” مجھے سے چلاٸ نہیں جاٸ گی تو بے کار ہوٸ نا “
لبوں کو مایوسی سے باہر نکالا اور پھر سے ایک نظر ساٸیکل پر ڈالی ۔اگر وہ چلا سکتا تو کتنا فاٸدہ ہوتا ان کو ۔
” مجھے آتی ہے چلانی تو بے کار تو نہ ہوٸ نہ “
عقب سے اذفرین کی پرجوش آواز پر حیرت سے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا۔ اُسے درخت پر چڑھنا نہیں آتا تیراکی نہیں آتی تو خود سے ہی اندازہ لگا لیا کہ اسے ساٸیکل بھی نہیں چلانی آتی ہو گی ۔
” کیا !!!“
اذفرین کے اس نکشاف پر آبروٶ چڑھاۓ اور اس کے پرجوش چہرے کو بغور دیکھا۔ وہ بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ چمکتی آنکھوں کے ساتھ سیڑھی پر بیٹھی تھی۔
” ہاں نا مجھے آتی ہے چلانی اپنے بھانجے کی چلاتی تھی میں “
خوشی سے کہا اور جوش سے دو تین سیڑھیاں نیچے آ گٸ ۔ اور گردن کو نیچے کرتے ہوۓ شوق سے سامنے کھڑی ساٸیکل کو دیکھا ۔
” وہ بچوں والی ساٸیکل ؟ “
علیدان نے مسکراہٹ دباۓشریر سا لہجہ اپنایا ۔ جس پر اذفرین نے خفگی سے گھورا ۔ وہ اب چمکتی آنکھوں کے ساتھ شرارت سے مسکراتا دل کو دھڑکا گیا ۔
” جی نہیں میرا بھانجا بڑا ہے تو ساٸیکل بھی بڑی ہی چلاتی تھی آٶں مدد کے لیے کہ اٹھا لیں گے؟ “
اذفرین نے مصنوعی خفگی سجا کر ناک اوپر چڑھاٸ ۔ سیڑھیاں اترنے کے لیے قدم آگے بڑھاۓ پر علیدان نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا ۔ وہ اب سیڑھیاں اتر کر ساٸیکل کی طرف جا رہا تھا پھر بغل میں ساٸیکل دباۓ پہلی سیڑھی تک آیا اور آہستگی سے چڑھنا شروع کیا ۔
” ہٹو پیچھے ذرا “
اذفرین نے بغور ساٸیکل کو دیکھا اور اسے راستہ دیا وہ اب اوپر لا کر ساٸیکل کو فرش پر کھڑا کر چکا تھا ۔ اور ہاتھ جھاڑ رہا تھا شرٹ پر بھی جگہ جگہ مٹی لگی تھی جسے وہ جھاڑ رہا تھا ۔ اذفرین آگے بڑھ کر پاس پڑی کرسی سے چادر اٹھاۓ ساٸیکل کو جھاڑنے لگی ۔
” چلا لوں گی میں اسے “
اذفرین نے ساٸیکل کے پیڈل کو گھمایا اور گردن موڑ کر علیدان کی طرف دیکھا وہ اب کتابوں کی الماری کے پاس کھڑا تھا ۔ اور آنکھوں کو سکوڑے متلاشی نظروں سے الماری کے اندر رکھی کتابوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
”اب کیا کر رہے ہیں ؟“
وہ پرتجسس سی آواز میں کہتی اب بلکل اس کے ساتھ کھڑی تھی وہ مختلف دراز کھول رہا تھا ۔ اذفرین نا سمجھی سے کبھی اسے دیکھ رہی تھی اور کبھی الماری کی طرف
” کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟ “
اذفرین نے ناسمجھی کے انداز میں پھر سے سوال کیا ۔ وہ مسکراتا ہوا پیچھے ہوا اس کے ہاتھ میں اب ایک نوٹ پیڈ تھا جس کے ساتھ ایک عدد قلم لٹک رہا تھا۔
”اتنا سامان لے کر جا رہے ہیں اس کے گھر سے تو چوری کے زمرے میں آتا ہے یہ سب “
علیدان نے مسکرا کر کہتے ہوۓ کھانے کے میز کی طرف قدم بڑھاۓ اذفرین ابھی بھی ویسے ہی حیرت میں ڈوبی کھڑی تھی ۔
”یہ کیا بات ہوٸ ہم مجبور ہیں “
اذفرین نے کندھے اچکاۓ اور ساٸیکل کی طرف دیکھا ۔ وہ مجبور تھے اور اس بند گھر سے اسی غرض سے وہ ضرورت کی چیزیں اٹھا رہی تھی ۔
” چوری ہر کوٸ مجبوری میں ہی کرتا ہے میڈیم پر ہوتی تو وہ چوری ہی ہے “
وہ اب سر جھکاۓ کرسی پر بیٹھا کاغز پر کچھ لکھ رہا تھا ۔اذفرین قریب جا کر کھڑی ہوٸ ۔ اور نظریں سفید کاغز پر تیزی سے قلم چلاتے اس کے ہاتھ پر پڑی ۔ اس کی لکھاٸ اس کی شخصیت کی طرح ہی متاثر کن تھی ۔
” میں یہاں اسے اپنا ایڈریس اور فون نمبر دے کر جا رہا ہوں وہ جب کبھی آۓ تو مجھ سے رابطہ کرکے اپنے سامان کے پیسے لے “
علیدان نے نوٹ پیڈ سے کاغز کو پھاڑا نوٹ پیڈ کے اوپر رکھے اس کو کھانے کے میز پر رکھا اور اس پر پیپر ویٹ رکھ کر کھڑا ہوا ۔ ساٸیکل کو بغل میں دباۓ گھر کے بیرونی دروازے سے باہر آیا پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ دروازے میں ہی کھڑی تھی
”آٶ اب یہاں کیوں رک گٸ “
اذفرین کو یوں پرسوچ سی صورت بناۓ دروازے پر کھڑی دیکھ کر پوچھا۔ دروازہ یوں کھلا چھوڑ کر جانا تو کسی کو بھی اندر آنے کی دعوت دینا تھا جبکہ اس کاٹیج کا لاک اس نے خود کھڑکی سے کود کر کھولا تھا تو اب اس دروازے کو یہاں سے اسی طرح لاک کر کے باہر جانا چاہیے ۔ ذہن میں آتی سوچ کے زیر اثر لب مسکراۓ
“ رکیں میں ڈور لگا کر کھڑکی سے آتی ہوں“
مسکرا کر کہا اور دروازہ بند کیا ۔ علیدان سر کو ہلاتا مسکرا دیا
اذفرین نے گہری سانس لے کر ایک اچٹتی سی نظر گھر پر ڈالی اور پھر کمرے کی کھڑکی کو پھلانگ کر باہر آٸ ۔ علیدان ساٸیکل کو ڈیک سے نیچے اتارے کھڑا تھا ۔ جلدی سے پرجوش انداز میں ساٸیکل پر سوار ہوٸ اور علیدان کو پیچھے بیٹھنے کا اشارہ کیا اس کو پیچھے بیٹھاۓ وہ پورا زور لگا کر ساٸیکل چلا رہی تھی ۔ وہ وزنی تھا اور راستہ غیر ہموار جس کی وجہ سے زیادہ زور لگانا پڑ رہا تھا اور رہی سہی کثر ساٸیکل کا زنگ آلودہ ہونا پوری کر رہا تھا۔
” مجھے لگتا ہے ہم دونوں میں سے کسی ایک کی قسمت بہت اچھی ہے “
علیدان نے اس کی پشت پر بکھرے بالوں کو بغور دیکھا ۔ اس نے کپڑے کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ربن کی صورت میں بالوں میں باندھ رکھا تھا ۔
” نہیں مجھے کچھ اور لگتا ہے “
اذفرین نے پھولی سانسوں کو بحال کیا ۔ وہ بمشکل بول پا رہی تھی۔
” کیا؟“
علیدان نے ٹانگ کو ایک ہاتھ سے تھام رکھا تھا ۔ اور اردگرد دیکھنے میں مصروف تھا لمبے گھنے درختوں کا سلسلہ تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ اور وہ ان کے درمیان بننے والے راستے پر وہ ساٸیکل چلا رہی تھی
” مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے جیسے ہم اس گھر سے دور ہو رہے ہیں وہ گھر وہاں سے مٹ جاۓ گیا“
اذفرین نے آنکھوں کو سکوڑے مسکرا کر گردن کو ہلکا سا خم دیا وہ واقعی میں یہی سوچ رہی تھی بلکل اُسی طرح جیسے اسے امی کے مرنے کے بعد رونے پر ایسا احساس ہوا تھا کہ ایک بہت بڑا سا ہاتھ آسمان سے نیچے آیا اور اس کے سر پر تھپکی دے رہا ہے۔
”کیا یہ کیا بات ہوٸ “
علیدان نے حیرت سے پوچھا ۔ اس کی عجیب سی بات پر ناسمجھی کے انداز پھر سے اس کے بالوں کو دیکھا ۔
”ہاں نہ جیسے کوٸ پنسل سے کچھ بنا کر پھر کچھ دیر بعد مٹا دے ویسے ہی “
اذفرین مسلسل نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ ہوٸ تھی اور وہ اس کی بات پر قہقہ لگا گیا۔ اس کا یوں ہنسنا عجیب نہیں لگا تھا کوٸ بھی اس کی یہ عجیب سی منطق سنتا وہ یوں ہی ہنس دیتا ۔
” جب آپ بہت زخمی تھے میں نے آسمان کی طرف دیکھا اور کہا اللہ ہماری مدد فرما تو اسی وقت اللہ نے اس گھر کو وہاں بنا دیا ہو گا مجھے تو ایسا لگتا ہے “
اس کی اس بات پر علیدان کا قہقہ تھم گیا تھا ہاں البتہ اب لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی ۔ وہ معصوم تھی بے ضرر تھی ہاں وہ اس قابل تھی کہ علیدان جیسے شخص کے دل کی سلطنت کے ملکہ بن بیٹھتی ۔
” اچھا بچوں جیسی لاجک ہے خدا پر یقین کی “
ملاٸم سے لہجے میں کہتے ہوۓ محبت پاش نظروں سے پھر سے اس کی کمر کو دیکھا جس پر ریشمی سے بال بکھرے تھے جنہیں نظریں چھو کر دل کی اس حسرت کو تھپک رہی تھیں جو ہاتھوں سے انہیں چھونے کی خواہش لیے ہوۓ تھی ۔
*************
درخشاں نے کمرے کا دروازہ کھول لاٸٹ کو آن کیا تو اوزگل نے جلدی سے پیشانی پر بل ڈال کر آنکھوں پر بازو دھر لیے ۔ دوپہر کا وقت تھا اور سب پردے گراۓ وہ کمرے میں اپنے دل کے اندھیرے کی طرح گھپ اندھیرا کیے لیٹی تھی ۔ علیدان کا نا ملنا سب کے لیے تکلیف دہ تھا پر اس کا تو جیسے کسی نے دل مٹھی میں دبوچ لیا تھا۔
درخشاں دکھ سے اس کی طرف دیکھتی قریب آٸیں اور جھک کر دھیرے سے اس کے آنکھوں پر دھرے ہاتھ کو ہٹایا ۔
”یہ وہ وقت ہے گل جس میں تمہیں اپنی تاٸ امی کو سنبھالنا چاہیے بیٹا “
نرمی سے اس کے ماتھے پر بکھرے بالوں کو پیچھے کرنا چاہا تو ہاتھ آنکھ کے کونوں سے نکل نکل کر کنپٹی تک بہتے آنسوٶں سے گیلا ہوا ۔ ممتا کا دل پسیج سا گیا جانتی تھیں بھلے اس کی اور علیدان کی نسبت کو طے ہوۓ ایک ہفتہ ہوا ہے پر اوز گل اپنے دل میں وہ یہ رشتہ برسوں سے طے کیے ہوۓ تھی ۔
” اٹھو ہمت کرو اور علیدان کو کچھ نہیں ہو گا بھاٸ صاحب بتا رہے ہیں وہ سرچ آپریشن کرواٸیں گے جنگل میں“
اوزگل سے زیادہ وہ خود کو تسلی دے رہی تھیں پورے گھر میں ایک واحد وہ ہی تھیں جو تین دن سے سب کو سنبھالے ہوۓ تھیں ۔
”چلو اٹھو ساتھ میرے کھانا کھلاٶ بھابھی کو شاباش سنبل کو بھی سنبھالو دیکھو اس کو“
درخشاں نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اسے حوصلہ دیا ۔ اوزگل نے تڑپتی نظر خود پر جھکی اپنی ماں پر ڈالی وہ ان کو تکلیف دے رہی تھی ۔ جلدی سے اٹھ کر آنسو صاف کیے ۔
”جی جاتی ہوں آپ بھی ساتھ چلیں آپ بھی کھانا کھاٸیں گی سب کے ساتھ “
نیچے اتر کر سلیپر پاٶں میں آڑستی ان کے ساتھ کمرے سے باہر آٸ یہ سنبل کا کمرہ تھا جہاں وہ تین دن سے رہ رہی تھی وہ اور درخشاں علیدان کی خبر ملتے ہی دلاور ولاز میں آ گٸ تھیں ۔ زبردستی سنبل اور زیب کو تو وہ دونوں کھانے کے میز پر لے آٸ تھیں پر ادیان وہاں موجود نہیں تھا ۔ اوزگل سب پر اچٹتی سی نظر ڈالتی اب ادیان کے کمرے کی طرف جا رہی تھی ۔ ہمیشہ کی طرح بنا نوک کے وہ اس کے کمرے کا دروازہ کھولتی اس کے سر پر کھڑی تھی ۔ وہ سٹڈی ٹیبل پر پڑے لیپ ٹاپ پر نظریں جماۓ بیٹھا تھا سکرین پر سڈنی کی نیوز کھلی تھیں ۔
” ادیان کھانا کھاٶ آ کر“
اوزگل نے لیپ ٹاپ سکرین کو ہاتھ رکھ کر بند کیا ۔ وہ ابھی بھی اسی طرح ساکن خالی آنکھوں سے سامنے گھوری جا رہا تھا ۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد گہری سانس لے کر تکلیف کو کم کرتا ہوا سیدھا ہوا ۔
”بھوک نہیں امی اور سنبل کو دیا کھانا“
بھنویں اچکا کر سوالیہ نظروں سے سامنے بے حال کھڑی اوزگل کی طرف وہ کس طرح نچڑ کر رہ گٸ تھی ان پانچ دنوں میں زرد رنگت آنکھیں ویران سی ۔
”ہاں تم بھی چلو کھانا کھاٶ سب کے ساتھ “
ہاتھ پکڑ کر اسے زبردستی اٹھایا ۔ ادیان نے دھیرے سے اس کے ہاتھ کی گرفت اپنے ہاتھ سے ختم کی۔
” ایک شرط پر تم کھاٶ گی تو میں کھاٶں گا “
ادیان نے دوٹوک لہجہ اپنایا جس پر لب بھینچے وہ سر ہلا گٸ ۔
**********
اذفرین نے خوف سے آنکھیں پھیلاۓ علیدان کی طرف دیکھا جو ہاتھ میں دھواں اڑاتی ہوٸ ایک لکڑی پکڑے ہوۓ تھا لکڑی کے اوپر وہ اذفرین کی سیاہ شرٹ کو آگ لگانے کے بعد بجھاۓ اب درخت پر لگے شہد کے چھتے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ کپڑے سے اب دھواں نکل رہا تھا ۔
وہ دوپہر کی بڑھتی گرمی کے باعث سستانے کی غرض سے یہاں رکے تھے بھوک سے برا حال تھا پر یہاں کھانے کو کچھ بھی ایسا نظر نہیں آ رہا تھا بوتل میں پانی بھی ختم ہو چکا تھا اور حبس کے باعث چلنا مشکل تھا ۔
علیدان کی نظر درخت پر لگے شہد کے چھتے پر پڑی تو جلدی سے پاس پڑی لکڑی کو اٹھاۓ اذفرین سے کوٸ کپڑا مانگا اذفرین کے پاس اس وقت اس کی پرانی شرٹ ہی تھیلے میں موجود تھی وہی قربان کرنی پڑی ۔ اور اب وہ درخت پر چڑھ رہا تھا جہاں اسے یہ دھواں درخت پر موجود چھتے کے پاس رکھنا تھا۔
”علیدان یہ خطرناک ہے“
اذفرین ڈری سی آواز میں کہتی اس کے قریب ہوٸ جو اب چھتے کے قریب جا رہا تھا۔ علیدان نے افسوس سے سر کو گھما کر خفگی سے گھورا ۔
” کچھ خطرناک نہیں پیچھے جا کر بیٹھو وہاں چھپ کر بلکہ منہ نیچے کر کے لیٹ جاٶ“
علیدان نے دانت پیستے ہوۓ کہا اور پھر سے آہستگی سے آگے کھسکانا شروع کیا وہ سر ہلاتی کچھ دوری پر آ کر منہ کو نیچے چھپاۓ لیٹ گٸ ۔ علیدان نے دھویں سے بھرا کپڑا درخت کے دو تنوں کے درمیان چھتے کے بلکل پاس آڑیا اور خود بھی تیزی سے درخت سے نیچے اتر کر ویسے ہی چہرہ چھپاۓ الٹا لیٹ گیا ۔ اسی وقت زوں زوں جیسی مکھیوں کی آواز سروں کے اوپر بازگشت کرنے لگی علیدان نے بازوٶں کی اوٹ بناۓ چور سی نظروں سے اوپر دیکھا ۔ مکھیاں پاگلوں کی طرح جھرمٹ میں بھنبھنا رہی تھیں ۔ شہد کی مکھیاں کچھ دیر وہاں بھنبھنانے کے بعد دھویں کی تاب نا لاتے ہوۓ ایک ساتھ جھنڈ کی شکل میں اڑ چکی تھیں اکا دکا وہیں بے حال سی تڑپ رہی تھیں جنہیں علیدان نے چھتے پر سے ہاتھ سے اڑایا اور چھتے کو کھینچ کر درخت سے الگ کیا شہر سے بھرا تازہ چھتہ ہاتھ میں پکڑے اذفرین کے پاس آیا جو ہنوز اسی حالت میں لیٹی تھی ۔
” اٹھو لو کھاٶ“
علیدان نے اس کے سر پر کھڑے ہو کر کہا ۔ اذفرین نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا وہ ہاتھ میں شہد کا چھتہ پکڑے ایک ٹکڑا دوسرے ہاتھ میں منہ میں ڈالتا ہوا مسکرا رہا تھا۔ بھوک کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ وہ جلدی سے اٹھ کر شہد پر لپکی ۔ اب وہ بچوں کی طرح ہاتھ اور چہرہ خراب کیے کھا رہی تھی شہد اس طرح رس رہا تھا کہ کھانا بہت مشکل ہو رہا تھا جس کی وجہ سے اس کے گال ہاتھ سب کچھ خراب ہو رہا تھا ۔
علیدان نے کھاتے ہوۓ کن اکھیوں سے اس کا جاٸزہ لیا تھا گال پر ہونٹوں کے اطراف ہر جگہ شہد لگا ہوا تھا وہ اس کی اس حالت پر بے ساختہ ہنس دیا وہ جو سر جھکاۓ کھا رہی تھی سر اوپر اٹھاۓ نا سمجھی کے انداز میں بھنوں کو اچکاۓ علیدان کی طرف دیکھا ۔
”منہ صاف کرو “
علیدان نے مسکراہٹ دباۓ گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ اپنی گال پر اشارہ کرتے ہوۓ ایسے کہا کہ وہ جھینپ گٸ جلدی سے گالوں کو ہاتھ لگایا پاس پڑے پتوں سے گال صاف کیے ۔ علیدان بھی پتوں سے ہاتھ صاف کرتے ہوۓ اٹھا اور اسے بھی اٹھنے کا اشارہ کیا انداز حکمانہ تھا وہ جو بچارگی سے نفی میں سر ہل رہی تھی اس کی گھوری پر بے زار سی شکل بنا کر اٹھی ۔
ابھی آدھا گھنٹہ بھی بمشکل اس نے ساٸیکل چلایا تھا کہ شہد کھانے کے بعد اور ساٸیکل چلانے پر قوت لگانے کے باعث پانی کی طلب بڑھ گٸ تھی پر آس پاس کہیں بھی تو کوٸ ندی کوٸ تالاب نہیں آ رہا تھا ۔ اذفرین باربار خشک ہوتے لبوں پر زبان پھیر رہی تھی ۔ علیدان بھی اب خاموش تھا کیونکہ زیادہ بولنے سے پیاس بڑھ رہی تھی ۔ اذفرین ارد گرد بے چینی سے دیکھ رہی تھی اب تو آنکھوں کے آگے رنگ برنگے دھبے سے بھی ناچنے لگے تھے ۔
اچانک ایک طرف کھڑے درختوں کے درمیان میں پانی نظر آتے ہی جیسے اس کی جان میں جان آٸ اردگرد گیلی مٹی تھی اور درمیان میں تالاب کی شکل میں پانی موجود تھا پانی گندہ تھا پر اس وقت پیاس سے وہ اتنی بے حال تھی کہ پانی کے چند قطرے زندگی بخشنے کا موجب تھے تڑپ کر ساٸیکل سے نیچے اتری ۔
” علیدان پانی ہے وہاں رکیں رکیں پانی ہے “
جلدی سے ساٸیکل سے لٹکتی بوتل اتار کر بے سرو پا دوڑ پڑی ۔ جگہ جگہ پانی کھڑا تھا پر گیلی مٹی کے کیچڑ سے تھوڑا آگے زیادہ پانی موجود تھا ۔
” اذفرین رکو اذفرین رکو اک منٹ“
علیدان نے ساٸیکل کو تھام کر نیچے زمین پر رکھتے ہوۓکہا گردن کو خم دیے اس کو دیکھا تو تقریباً بھاگتی ہوٸ اس طرف جا رہی تھی جہاں ڈھلوان سے تھوڑا نیچے اترتے ہی درختوں کی قطار میں پانی کا جوہڑ بنا ہوا تھا اذفرین بات ہی نہیں سن رہی تھی پاگلوں کی طرح بھاگ رہی تھی
”اذفرین رکو مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا یہاں“
علیدان نے منہ کے گرد ہاتھ کو فولڈ کیے آواز کو اونچا رکھتے ہوۓ اسے پکارا پر اس کی تشنگی اس کے دماغ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو مفلوج کیے ہوۓ تھی۔
علیدان ٹانگ کو گھسیٹتے جتنا تیز چل سکتا تھا چل رہا تھا عجیب سی جگہ تھی نیچے اتر تی ہوٸ ڈھلوان تھی ۔ درخت ہی درخت تھے جگہ جگہ کیچڑ اور پانی کے جوہڑ تھے درخت بہت اونچے تھے ۔ پر تنے پتلے تھے ۔ وہ ارد گرد کا جاٸزہ لیتا آگے بڑھ رہا تھا
” علیدان ن ن ن ن ن “
اذفرین کی ہولناک چیخ پر وہ گڑ بڑا گیا اپنی ٹانگ کی تکلیف کو فراموش کیے اب وہ بھاگ رہا تھا جیسے ہی ڈھلوان سے نیچے اترا وہ درختوں کے تنوں کے درمیان موجود کیچڑ میں دھنسی ہوٸ تھی اور جتنا اوپر اٹھنے کی کوشش کر رہی تھی اتنا اور اندر جا رہی تھی وہ دلدل میں دھنس گٸ تھی جو اسے اب کمر تک جکڑ چکی تھی ۔
” ہلنا بند کرو بیوقوف لڑکی تمہیں سمجھ نہیں آ رہی تھی جب میں روک رہا تھا“
علیدان نے دور سے ہی چیختے ہوۓ اسے ہاتھ کا اشارہ کیا وہ رو رہی تھی اور خوف کے زیر اثر آنکھوں کا حجم بڑھا ہوا تھا ۔ علیدان کے ڈپٹنے پر بھی اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی گیلی مٹی اسے کچھ اس طرح سے جکڑے ہوۓ تھی کہ جتنا وہ اوپر ہونے کی کوشش کرتی جسم اور گہراٸ میں جا رہا تھا ۔
” علیدان نہیں نکلا جا رہا مجھ سے “
وہ ہاتھوں کو ہوا میں مارتی خود کو اوپر کرنے کی کوشش کر رہی تھی آواز خوف کی وجہ سے کانپ رہی تھی ہاتھ کیچڑ میں لت پتھ تھے۔ التجاٸ نظروں سے بوکھلاۓ سے کھڑے علیدان کی طرف دیکھا ۔
” دیکھو رونا اور ہلنا بند کرو زیادہ اندر دھنسو گی “
علیدان نے گھبراہٹ سے رندھی آواز میں سمجھایا وہ مسلسل اردگرد متلاشی نظریں گھما رہا تھا وہ بچوں کی طرح خوف سے ریں ریں کر رہی تھی ۔
اسطرح کی جگہوں پر تو مگر مچھ بھی اکثر پاۓ جاتے ہیں ذہن میں اس خیال کے آتے ہی علیدان نے آنکھیں سکوڑے سارے کھڑے پانی پر نظر دوڑاٸ مبادہ کوٸ مگر مچھ اذفرین کی طرف آ رہا ہو پر پانی میں کسی قسم کی کوٸ لہر موجود نہیں تھی وہ ساکن تھا ۔ پانی کے چاروں اطراف میں اسی طرح کیچڑ نما دلدل تھی
” کہہ بھی رہا ہوں پاگل لڑکی رکو رکو اسطرح کھڑے پانی کے گرد سوامپ ہوتی ہے اب ہو گٸ نہ سٹک“
علیدان کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کیا کرے اپنے سر کے بالوں کو بے چینی سے ہاتھوں سے جکڑۓ کچھ سوچ رہا تھا اگر خود اندر جاتا ہے تو دنوں کو بچنا ناممکن ہو جاتا ہے۔
” جاٸیں چلے جاٸیں میں اب نہیں نکل سکتی یہاں سے “
اذفرین نے گھٹی سی مایوس آواز میں کہتے ہوۓ بچارگی سے پریشان حال کھڑے علیدان کی طرف دیکھا پریشانیاں تھیں کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھیں سفر تھا کہ ختم نہیں ہو رہا تھا جنگل میں بھٹکتے آج آٹھواں دن تھا اور اب وہ پھر سے اسے مصیبت میں مبتلہ کر چکی تھی ۔
”شٹ اپ رونا بند کرو روک رہا ہوں تو اس کی کوٸ وجہ ہو گی بھاگی جا رہی ہو پاگلوں کی طرح“
علیدان کی خود سمجھ سے باہر تھا وہ کیا کرے ۔ کسی لمبی لکڑی کی تلاش میں اردگرد نظر دوڑاٸ اور پھر کچھ دوری پر پڑی ایک لکڑی کے قدرے موٹے تنے کو اٹھا کر اس کے پاس آیا ۔ وہ اب بلکل ساکن کھڑی تھی پر آنکھوں سے بہتے آنسوٶں کی رفتار بڑھ چکی تھی ۔ اسے یہ بات سمجھ آ چکی تھی کہ اس کی ہر کوشش اسے دلدل میں اور گاڑ رہی ہے
”دیکھو یہ لکڑی کا تنا ہے اس کو بلکل اپنے پاٶں کے پاس گاڑتے ہی پاٶں اوپر اٹھاٶ اور اسی طرح آگے بڑھو جیسے ہی میرے قریب آٶ گی میں ہاتھ تھام کر کھینچ لوں گا “
علیدان نے اسے سمجھاتے ہوۓ لکڑی کے تنے کو اس کی طرف اچھالا جسے وہ تھام چکی تھی اور اب لکڑی کے تنے کو وہ جیسے ہی دلدل میں داخل کرتی ہوا مٹی کے اندر داخل ہونے کی وجہ سے وہ با آسانی پاٶں اٹھا پاتی وہ آگے تو بڑھ رہی تھی پر دلدل میں مزید اندر جا رہی تھی دلدل اب اس کی ناف سے اوپر اسے جکڑ چکی تھی ۔
” بس تھوڑا اور ہمت کرو اٹھاٶ پاٶں اور جسم آگے بڑھاٶ سانس لو گہرا“
علیدان اب قریبی درخت میں کراس کی شکل میں ٹانگیں پھنسا کر لیٹ چکا تھا کیونکہ جیسے ہی اذفرین پاس آتی اسے اس کا ہاتھ تھام کر پوری قوت سے باہر کھینچنا تھا ۔ وہ اب اسی عمل کو دہراتی کافی حد تک قریب آ چکی تھی ۔
” ہاتھ دو مجھے “
وہ سینے تک اندر دھنس چکی تھی علیدان کی طرف ہاتھ بڑھایا جسے تھامتے ہی علیدان نے پیچھے کی طرف زور لگانا شروع کیا وہ اپنی پوری قوت لگارہا تھا ۔ وہ تھک چکے تھی اور اب پوری طرح خود کو علیدان کے رحم و کرم پر چھوڑ چکی تھی ۔ اسے دلدل سے باہر نکالنے تک وہ خود بھی نڈھال ہو چکا تھا ٹانگ کی تکلیف بڑھ گٸ تھی اذفرین اب زمین پر اوندھے منہ لیٹی رو رہی تھی
”اٹھو میں یہی کہہ رہا تھا صبر کر لو تھوڑا “
علیدان نے کھڑے ہو کر ہاتھ اذفرین کی طرف بڑھاتے ہوۓ ڈپٹنے کے انداز میں کہا ۔ وہ سینے تک کچڑ میں لت پتھ تھی علیدان کے بڑھے ہاتھ سے لاپرواہی برتتی اٹھی اور بمشکل کیچڑ میں لت پتھ پاٶں اٹھاتی ساٸیکل تک پہنچی علیدان اب ساٸیکل کو ہاتھوں سے تھامے چل رہا تھا اور وہ سر جھکاۓ پچھے چل رہی تھی ۔
ٹانگ کی تکلیف بڑھ گٸ تھی وہ بمشکل چل پا رہا تھا اور اب پیاس بے حال کۓ ہوۓ تھی اچانک پیچھے سے کچھ گرنے کی آواز پر گردن گھما کر دیکھا تو اذفرین زمین بوس تھی جلدی سے ساٸیکل پھینک کر اس کی طرف بھاگا ۔ وہ بے ہوش تھی اسے بمشکل اٹھا کر ساٸیکل پر بیٹھایا پھر اس کو اور ساٸیکل کو سنبھالتے ہوۓ وہ پھولی سانسوں کے ساتھ چل رہا تھا ۔
ابھی کچھ دور ہی چل پایا تھا جب ایک دم سے درخت کم ہونے کے وجہ سے سورج سیدھا منہ پر چمکا سامنے کھیت تھے اور لکڑی کے بنے تین گھر جو ایک ساتھ ایک جیسے تعمیر کیے ہوۓ تھے سیدھی دھوپ ایسی پڑی کہ اردگرد سب گول گول گھومنے لگا اور پھر آنکھوں کے آگے اندھیرا چھایا آخری منظر جو آنکھوں کے آگے تھا اس میں اس کے ہاتھ سے ساٸیکل چھوٹنے کے بعد ایک طرف لڑھکا تھا اور اذفرین ساٸیکل سمیت زمین پر گری تھی ۔
**********
”میر صاحب دیکھیں وہاں جانے کی پرمیشن نہیں مل رہی ابھی فوری تو بلکل نہیں “
آفیسر نے سامنے بیٹھے میر دلاور کو سمجھاتے ہوۓ کرسی کی پشت سے سر ٹکایا ۔ لبوں کو باہر کی طرف نکالے وہ آہستگی سے نفی میں سر کو جنبش دے رہا تھا ۔ میر دلاور کو سرچ آپریشن کے پیچھے خوار ہوتے آج تیسرا دن تھا پر کوٸ بھی ان کی بات سمجھنے کو تیار نہیں تھا ۔
” کیوں ایسا کیوں ہے ؟“
میر دلاور کی بے چینی عروج پر تھی ۔ بوکھلاۓ سے انداز میں دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ وہ تھوڑا آگے ہوۓ اور دنوں ہاتھوں کو میز پر دھرے اب وہ التجاٸ سی نگاہوں سے سامنے بیٹھے آفیسر کی طرف دیکھ رہے تھے
”بات کو سمجھا کریں میر صاحب جو لوگ بچ گۓ ہیں اس گروہ کے وہ سارے اب جنگل میں چھپے بیٹھے ہیں اور وہ کتنے ہے کہاں کہاں موجود ہوں گے کہنا بہت مشکل ہے اس لیے سرچ آپریشن کا مطلب ہے ایک اور جنگ ان کے ساتھ“
آفیسر نے بال پوانٹ کو ہاتھ میں گھماتے ہوۓ ان کو قاٸل کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ پر وہاں آنکھیں ابھی بھی پرعزم تھیں ۔
” اور اس بات کی کوٸ گارنٹی بھی نہیں کہ آپکا بیٹا۔۔۔۔“
آفیسر نے نظریں چراتے ہوۓ بات کو ادھورا چھوڑا میر دلاور تڑپ کر میز کے بلکل ساتھ لگے اور سامنے بیٹھے آسٹریلوی پولیس آفیسر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔
” میرا بیٹا زندہ ہے انسپیکٹر اور اب میں پراٸیوٹ جیک سے خود سرچ کروں گا اپنے بیٹے کو “
میر دلاور نے دانت پیس کر کہا اور پھر وہاں رکے نہیں تھے کرسی کو غصے سے پیچھے دھکیلتے باہر نکل گۓ ۔
***********
آنکھوں کی پلکیں دھیرے سے اوپر اٹھی تھیں اوپر بانس کی بنی چھت تھی ۔ دھندلی سی چھت آہستہ آہستہ واضح ہو رہی تھی سر میں ٹیس اٹھی علیدان نے بے ساختہ ہاتھ کو سر پر رکھا ۔ ذہن پر زور دیا جھماکے سے بے ہوش ہونے سے پہلے کا خیال ذہن میں کوندا وہ بوکھلا کر اٹھنے کی سعی کرنے لگا وہ بانس کے بنے پلنگ پر لیٹا تھا اور جسم پر صاف ستھری پیٹیاں کی ہوٸ تھیں ۔ اسے ایک تہمد باندھی ہوٸ تھی
یہ ایک چھوٹا سا بانس کی لکڑیوں سے بنا کمرہ تھا جس کا نیچے کا فرش مختلف پتھر لگا لگا کر بنایا ہوا تھا ۔ کمرے میں باقاعدہ ایک کھڑکی بناٸ ہوٸ تھی جس کے آگے پردہ لٹک رہا تھا پاس ہی ایک میز تھا جس پر پانی کا جگ اور گلاس پڑا تھا ۔ پانی دیکھتے ہی جیسے علیدان کی جان میں جان آٸ جلدی سے اور اوپر ہوا پر سر میں شاٸد چوٹ لگی تھی چکر آ گیا ۔ تکلیف کے باعث پیشانی پر بل ڈالتا وہ سر کو تھام گیا ۔
” ہے ستاپ ستاپ لے داٶن ماٸ بواۓ “
” ہے رکو رکو لیٹے رہو نیچے میرے لڑکے “
ایک سیاہ فام افریقی کمرے میں داخل ہوا اور فوراً آگے بڑھ کر علیدان کو پھر سے پلنگ پر لیٹا دیا ۔اور خود جگ سے گلاس میں پانی بھرنے لگا ۔ وہ چالیس سال کے لگ بھگ لگ رہا تھا۔پانی کا گلاس بھر کر علیدان کے قریب ہوا اور اسے کندھے سے سہارا دیتے ہوۓ اوپر کیا ۔
” ہاٶ آر یو فیلنگ ناٶ ؟“
” اب تم کیسا محسوس کر رہے ہو “
وہ سیاہ فام ٹوٹی پھوٹی سی انگلش کو اپنے لب ولہجے میں بول رہا تھا ۔ اس کے حلیے سے وہ کسان لگ رہ تھا اس نے شرٹ کے نیچے اسی طرح تہمد باندھ رکھا تھا جیسے علیدان کو باندھ رکھا تھا ۔علیدان نے جلدی سے گلاس کو منہ سے لگایا پانی پیتے ہی سکھ کا سانس لیا ۔
”فاٸن “
گہری سانس لیتے ہوۓ مسکرا کر سامنے کھڑے فرشتہ صفت شخص کو دیکھا
”گد گد “
اس نے علیدان کے کندھے کو تھپکا اور گلاس واپس بانس کے بنے میز پر رکھا۔
” ویر از دا گرل ۔۔۔؟“
علیدان نے بے چینی سے سوال کیا ۔ اذفرین وہاں کہیں موجود نہیں تھی اسکا خیال آتے ہی جیسے دل کسی نے مٹھی میں لیا۔ اس کی پریشان اور بے چین سی صورت دیکھ کر سیاہ فام نے اسے پھر سے خود سے اٹھنے سے منع کیا ۔
” دونت وری دونت وری یور واٸف از آل راٸت شی از ود ماٸ واٸف آوٸت ساٸید “
” پریشان مت ہو پریشان مت ہو تمھاری بیوی باہر ہے میری بیوی کے ساتھ“
سیاہ فام نے مسکراتے ہوۓ کہا اور علیدان کو پھر سے لیٹنے کا کہا ۔
” آٸ وانٹ ٹو سی ہر پلیز “
علیدان نے پھر بھی بے چینی سے باہر کی طرف دیکھا تو آدمی نے مسکراتے ہوۓ اس کی طرف مدد کے لیے ہاتھ بڑھایا
” اوتے اوتے لتس گو ود می“
اس کا ہاتھ تھام کر وہ باہر تک آیا ۔ پتھروں کے فرش سے بنا لاونج نما بڑا سا کمرہ تھا ۔ اور اس کے ایک کونے میں لگی کرسیوں پر اذفرین ایک چھوٹے سے بچے کے ہاتھ تھامے کرسی پر بیٹھی مسکرا رہی تھی پیلے رنگ کے پیروں تک آتے میکسی نما فراک کو زیب تن کیے سر پر سرخ رنگ کا رومال باندھ رکھا تھا بالوں کی بہت ساری باریک چٹیا بنا کر دونوں کندھوں سے آگے کر رکھی تھیں ۔ صاف ستھری نکھرے سے چہرے اور سلیقے سے بنے بالوں کے ساتھ وہ غضب ڈھا رہی تھی علیدان مبہوت سا رہ گیا ۔
وہ بچے کی کسی بات پر کھلکھلا کر ہنستی ہوٸ مڑی تو علیدان پر نظر پڑی تقریباً بھاگتی ہوٸ اس کے پاس آٸ ۔
” علیدان کیسے ہیں آپ ؟“
خوشی اور پریشانی کے ملے جلے لہجے میں بیتابی سے سوال کیا وہ جو اس کے حسن سے گھاٸل سا دل کو بمشکل سنبھالے کھڑا تھا جاندار امسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اذفرین کی طرف دیکھا
” میں ٹھیک ہوں تم ٹھیک ہو نا ؟“
محبت پاش نظریں اس کے ملاٸم سے چہرے پر ڈالے ہوۓ کہا وہ بچوں کی طرح چہکتی ہوٸ آگے ہوٸ آنکھیں چمک رہی تھیں اور لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی۔
” ہاں میں نے کھانا کھا لیا ہے آپ کے لیے لگایا ہے ابھی بہت بہت اچھے ہیں دونوں میاں بیوی “
اذفرین ایک ہی سانس میں تیزی سے بول رہی تھی علیدان نے نظر اٹھا کر دیکھا تو سیاہ فام اور اس کی بیوی اب علیدان کے لیے کھانا میز پر رکھ رہے تھے ۔
سیاہ فام کی بیوی مسکراتی ہوٸ پاس آٸ اور علیدان کی طرف دیکھ کر سر کو تھوڑا سا جھکایا وہ شاٸد سلام کر رہی تھی علیدان نے بھی مسکرا کر سر جھکایا
” دیور سیلور اس باٸیل لیف “
” تمھاری بیوی بہت خوبصورت ہے “
سیاہ فام عورت نے مسکراتے ہوۓ علیدان سے کہا علیدان نے مسکرا کر دل پر ہاتھ رکھا اور جھکا سیلور کا مطلب صرف پتا تھا وہ دونوں میاں بیوی اذفرین کو اس کی بیوی سمجھ رہے تھے ۔
” کیا کہہ رہی ہے “
اذفرین نے علیدان سے پوچھا وہ عورت تب سے اپنی زبان میں اس سے بات کر رہی تھی جو اذفرین کے اوپر سے گزر رہی تھی علیدان کو بہت ساری زبانیں آتی تھی وہ یہ اسے بتا چکا تھا ۔ اس لیے تجسس سے پوچھتی علیدان کے قریب ہوٸ
” کہہ رہی ہے تمھاری دوست پیاری ہے بہت “
علیدان نے گہری آنکھوں سے دیکھتے ہوۓ کہا جبکہ لب مسکراہٹ دباۓ ہوۓ تھے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: