Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 11

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 11

–**–**–

”اچھا مجھ سے تب سے باتیں کر رہی ہیں مجھے کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا کیا بول رہی ہیں “
اذفرین نے شرارت سے ایک آنکھ کا کونا دبا کر علیدان کے قریب ہوتے ہوۓ سرگوشی کی اور اس کی یہ ادا بے ساختہ تھی پر چہرے پر امڈ آنے والی اچانک شوخی اور شرارت کا یہ حسین امتزاج وہ آج اس کے چہرے پر دیکھ رہا تھا بات یہ نہیں تھی کہ اس نے آج سے پہلے اتنا حسین چہرہ نہیں دیکھا تھا ہاں بس اسے نہیں دیکھا تھا ۔ دل آج اس کے لیے جو محسوسات لے بیٹھا تھا پہلے کبھی ان سے آشنا نا ہوا تھا وہ جب بھی پاس آتی عجیب طرح کا میٹھے سے ارتھ جیسا احساس ہوتا جو پورے وجود میں لہروں کی طرح آ کر دل سے ٹکرانے لگتا اسے یو بلا جواز تکتے جانا دل کو اچھا لگنے لگا تھا اس کے چہرے کا ہر نقش دل کو بھانے لگا تھا وہ اس معصوم سے چہرے والی انجان لڑکی کے لیے دل کے دروازے کھول چکا تھا ۔
اذفرین فوراً اس عورت کی مدد کے لیے مسکراتے ہوۓ مڑی اس بات سے یکسر انجان کے اسکی یہ ادا پیچھے کھڑے شخص کے دل کا کیا حال کر چکی ہے ۔
وہ اب مسکراتی ہوٸ اس عورت کے ساتھ لکڑی کے بنے میز پر برتن رکھوا رہی تھی پیلے رنگ کے لمبے سے فراک میں سفید رنگت دمک رہی تھی گھنی پلکوں کے نیچے بڑی سی آنکھیں آج بے فکری سے چمک رہی تھیں گداز خوبصورت تراش لیے لبوں پر انوکھی سی تبسم تھی جو ایک میٹھے سے سرور کی طرح علیدان کے دل میں اترنے لگی تھی وہ ایسے ہی کھویا کھویا سا کھڑا تھا جب وہ شخص مسکراتا ہوا قریب آیا
” اے برادر کم ایند ایت پلیز“
”اے بھاٸ آٶ اور کھاٶ “
میز پر کھانا سج چکا تھا اور وہ اب اسے آ کر کھانے کے لیے کہہ رہا تھا۔ علیدان مسکراتا ہوا آگے بڑھا ۔
********
سعد غصے میں ناک پھلاۓ کمرے کے چکر لگا رہا تھا جیسے ہی فروا کمرے میں داخل ہوٸ تیزی سے آگے بڑھ کر اس کا بازو دبوچا ۔
”یہ ہے تمھارے بھاٸ کی اصلیت تم جانتی تھی سب فروا“
سعد نے دانت پیستے ہوۓ کہا اس کی پیشانی پر پیشمانی اور پچھتاوے کی لکیریں تھیں ۔ نجف آج اپنی بیوی ایملیی اور بیٹے جارج کو لے کر گھر آیا تھا اور ماٸدہ اور فروا کو اسے قبول کرنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔ ماٸدہ نے اسے گھر سے نکال دیا تھا پر خود دل پکڑ کر ڈھے سی گٸ تھیں ۔ فروا اب ان کو میڈیسن دے کر کمرے میں آٸ تھی ۔
” سعد میں کچھ نہیں جانتی تھی مجھے بھی آج پتا چل رہا ہے “
فروا نے کسمساتے ہوۓ اپنا بازو چھڑوانے کی سعی کی سعد اس قدر سختی سے بازو تھامے ہوۓ تھا کہ اسے تکلیف ہونے لگی تھی ۔ سعد نے ایک جھٹکے سے اس کا بازو چھوڑا اور خود بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا ۔
”میری معصوم بہن کا رشتہ تم اس شادی شدہ سے کروانے جا رہی تھی۔ تمہیں بھی سب پتا تھا اور آنٹی کو بھی سب پتا تھا“
سعد نے افسوس سے دھیمی ہوتی آواز میں کہا سر جھک گیا تھا دل دکھ سے پھٹنے لگا تھا ۔ فروا لب کچلتی پریشان سی صورت بناۓ قریب آٸ اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” مجھے سکون نہیں مل رہا اذفرین کی لاش تک نہیں ملی اس کی تدفین تک نہیں کر سکا ایسا بد نصیب بھاٸ ہوں میں “
سعد نے منہ پر ہاتھ رکھے گھٹی سی آواز میں کہا وہ تین دن سے بار بار پولیس سٹیشن کا چکر لگا رہا تھا اگر سب جاں بحق ہونے والے لوگوں کی لاشیں موجود تھیں تو اس کی بہن کی کیوں نہیں تھی دل میں عجیب عجیب سے خیالات جنم لے رہے تھے کہ کہیں وہ ابھی بھی ان لوگوں کے پاس نا ہو ۔ یہ پھانس چین نہیں لینے دے رہی تھی
” سعد اب آپ ہر بات کا الزام تو مجھ پر مت دھریں میں نے تو فقط بھلاٸ چاہی تھی آپکی بہن کو اپنی بہن سمجھ کر“
فروا نے رونے جیسی آواز میں شکوہ کیا اور سعد کے ساتھ بیڈ پر براجمان ہوٸ ۔ ہاتھ ابھی بھی سعد کے کندھے پر تھا۔
” ہنہ۔ن۔ن۔ بھلاٸ بس کر دو تم اب اور پلیز میں اب یہاں سے واپس جانا چاہتا ہو ملبرین“
سعد نے اس کی بات پر غصے سر موڑا اور ایک جھٹکے سے اس کا کندھے پر دھرا ہاتھ ایک طرف کیا ۔
” امی کی طبیعت بہت خراب ہے اب نجف بھی نااراض ہو کر جا چکا ہے نجف کے گھر آتے ہی چلتے ہیں“
فروا نے التجا کی جس پر وہ اب اسے گھور کر رہ گیا ۔
*********
جوزف اور اس کی بیوی مارلین دل کے بہت اچھے تھے ۔ کھانے کے بعد ان کے چاروں بچے بھی گھر میں آ چکے تھے اب بانس کے بنے اس گھر میں جگہ جگہ کینڈل روشن تھیں ۔ جوزف اور مارلین کے چار بچے تھے ۔ سب سے بڑا بیٹا اب شام گۓ گھر آیا تھا جو قریبی شہر سری لان میں صبح کو پڑھنے کی غرض سے جاتا اور شام گۓ واپس لوٹتا تھا ۔ مارک آٹھارہ سال کا لمبا اور مضبوط لڑکا تھا ۔
رات ہوتے ہی مارلین اسے اس چھوٹے سے کمرے میں لے آٸ تھی جہاں پہلے سے ہی علیدان جوزف کے ساتھ کھڑا تھا ۔ اذفرین جیسے ہی کمرے میں داخل ہوٸ تو ایک لمحے کے لیے تو سامنے کھڑے علیدان کو پہچاننا مشکل ہوا وہ شیو بناۓ مارک کی پینٹ شرٹ زیب تن کیے کھڑا تھا ۔
جیبوں میں ہاتھ ڈالے وہ جوزف کی کسی بات پر مسکرا رہا تھا ۔ اذفرین ایک لمحے کے لیے اس پر سے نظر ہٹانا بھول گٸ ۔ وہ خوبرو تھا نظر اٹھا کر زیر کر دینے والا طلسم پھونک کر اسیر کر دینے والا وہ نہ صرف اس کے دل میں پوری طرح اپنی حکومت کر چکا تھا بلکہ اس کی قربت ایک عجیب سی کشش لیے ہوۓ تھی وہ اس کا نا ہو کر بھی اسے اپنا سب کچھ محسوس ہوتا تھا ۔ دل پہلی بار یوں اس طرز پر دھڑک کر اس کے معصوم سے ذہن کو الجھن میں مبتلا کر رہا تھا ۔ مارلین اب جا چکی تھی اذفرین مسکراتی ہوٸ کمرے میں داخل ہوٸ ۔ جوزف نے جب اسے دیکھا تو فوراً علیدان سے باتوں کا سلسلہ ختم کیا ۔
”ہوپ سو یو ایند یور واٸف فیل کمفرت ہیر گد ناٸیت “
جوزف لبوں پر گہری مسکراہٹ سجاۓ کمرے کے دوازے میں کھڑا تھا ۔ علیدان نے بھی اس کی مسکراہٹ کا جواب مسکراہٹ سے دیا ۔یہ وہی کمرہ تھا جس میں کچھ دیر پہلے وہ لیٹا ہوا تھا ۔ پر اب بانس کے بنے پلنگ پر صاف ستھری نیلے رنگ کی چادر بچھی تھی ۔ وہ علیدان کو یہ بتا رہا تھا کہ ان کے اس علاقے میں وہ چند لوگ ہی مقیم ہیں یہاں نا بجلی ہے اور نا ہی فون کی سہولت موجود ہے ۔ اس کا کہنا تھا اس کی وین ہے جس پر گاۓ کا دودھ لے کر اس کا بھاٸ شہر گیا ہے وہ کل صبح کو واپس آۓ گا اور پھر کل دوپہر وہ ان دونوں کو شہر لے جاۓ گا ۔
علیدان نے جوزف کے جانے کے بعد مسکرا کر اذفرین کی طرف دیکھا جو ہونق سی بنی کھڑی تھی وہ جوزف کے واٸف والے لفظ پر اٹک کر رہ گٸ تھی اور اب حیرت سے علیدان کی طرف دیکھ رہی تھی
جوزف کمرے کے دروازے کو بند کرتا ہوا جا چکا تھا اس کے جاتے ہی اذفرین حیران سی صورت بناۓ علیدان کی طرف گھومی جو اس کی حالت سمجھ کر اب مسکراہٹ چھپانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔
”واٸف کہہ رہے تھے یہ“
اذفرین نے نا سمجھی سے انگلی کا اشارہ دروازے کی طرف کیا جہاں کچھ دیر پہلے جوزف کھڑا تھا۔ علیدان ہلکا سا قہقہ لگا گیا ۔ وہ اب بیڈ کے پاس پڑے میز کی طرف جا رہا تھا ۔
”ہاں واٸف ہی سمجھ رہے سب یہاں اسی لیے ایک ہی روم دیا رہنے دو ایسے ہی غلط فہمی میں اگر کہیں گے کہ نہیں ہیں ہم ہیز بینڈ واٸف تو سمجھیں گے بھاگے ہوۓ ہیں گھر سے ایسے عزت نہیں دیں گے “
علیدان نے مسکراہٹ دبا کر سنجیدگی سے کہتے ہوۓ پاس پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیلا ۔ اور منہ کو لگایا ۔
”پر۔۔۔۔۔ “
اذفرین نے آنکھوں کو گھماۓ اشارہ پلنگ کی طرف کیا جو دو نفوس کے میاں بیوی نہ ہوتے ہوۓ سونے کے لیے بلکل مناسب نہیں تھا ۔ وہ بانس کے ساتھ خود سے تیار کیا گیا پلنگ تھا جس کی چوڑاٸ عام بیڈ سے بہت کم تھی ۔ علیدان نے گلاس کی اٶٹ سے ہی نظریں گھما کر پلنگ کی طرف دیکھا ۔ ریڑھ کی ہڈی میں اوپر سے نیچے انوکھی سی سنسناہٹ ہوٸ بمشکل دل کی حالت پر قابو پا کر نظریں چراتے ہوۓ گلاس کو میز پر رکھا ۔
”تم سو جاٶ نہ“
علیدان نے نارمل سے لہجے میں کہتے ہوۓ پلنگ کا بغور جاٸزہ لیا یہ اس ہٹ میں موجود بیڈ کی نسبت بہت کم چوڑاٸ والا بیڈ تھا اس لیے اذفرین کی جھجک بے بنیاد نہیں تھی ۔ اور اب اس کی جھجک کو ختم کرنے کے لیے وہ نارمل سا لب و لہجہ اپناۓ ہوۓ تھا جبکہ دل کے دھڑکنے کی رفتار پریشان کیے ہوۓ تھی ۔
”تو آپ کیا یوں ہی کھڑے رہیں گے رات بھر“
اذفرین نے پریشان سی صورت بناۓ ارد گرد دیکھا چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں پلنگ اور ایک چھوٹا سا میز رکھا ہوا تھا کوٸ کرسی کوٸ صوفہ موجود نہیں تھا ۔ ہاتھوں کی ہتھیلیاں بھیگ سی گٸیں ۔ گو کہ علیدان پر بہت بھروسہ تھا پر خود جب سے دل نے اسے کے لیے جزبات بننا شروع کیے تھے اس کی قربت پریشانی کا باعث بن رہی تھی ۔ دل بری طرح دھڑکنے لگتا تھا تو آنکھوں پر جیسے کوٸ پتھر رکھ دیتا تھا ۔
”آپ لیٹ جاٸیں ٹھیک بھی نہیں ہیں آپ میں یہاں نیچے۔۔۔“
اذفرین نے تکیے کو اٹھاۓ پلنگ کے پاس نیچے فرش کو دیکھتے ہوۓ بوکھلاۓ سے انداز میں حل پیش کیا وہ علیدان سے نظریں چرا رہی تھی مبادہ وہ آنکھوں کے اندر موجود جزبات کے موجزن سمندر کو نہ دیکھ لے علیدان نے فوراً فرش کی طرف دیکھا اور پھر کن اکھیوں سے اسے دیکھا تو وہ گھبراٸ سی تھی ۔
”ایکسکیوزمی کیوں بلکل نہیں تم کیوں سوٶ گی نیچے ویٹ “
علیدان جلدی سے آگے بڑھا اور اس کے ہاتھ میں پکڑا تکیہ چھین کر واپس پلنگ کے بلکل درمیان میں افقی رخ کو کھڑا کیا تاکہ زیادہ جگہ نا گھیر سکے
”اب لیٹو آ کر اس طرف “
وہ تکیے کو ہنوز پکڑے اب آنکھوں سے اشارتاً اسے بیڈ کی داٸیں طرف لیٹنے کے لیے کہہ رہا تھا ۔ کیا جھٹ سے ہر چیز کا حل تلاش کر لیتا تھا وہ اذفرین پلکیں لرزاتی جھجکنے جیسے انداز میں ایک طرف سمٹ کر لیٹی چہرہ مخالف سمت میں کھڑکی کی طرف کیے وہ کروٹ لے کر لیٹ گٸ تھی ۔ علیدان اس کے بعد تکیے کے باٸیں طرف لیٹا اب تکیہ دنوں کی درمیان لمباٸ کے رخ کھڑا تھا ۔
علیدان نے اپنا ایک بازو کو فولڈ کیے سر کے نیچے رکھے ہوۓ تھا سیدھا لیٹنے والی جگہ نہیں تھی اس لیے وہ بھی داٸیں طرف کروٹ لیے لیٹا ہوا تھا ۔ کمرے میں ایک کونے میں لگے کینڈل سٹینڈ میں کینڈل جل رہی تھی جس کی پیلی سی روشنی کمرے میں پھیلی ہوٸ تھی اذفرین کی گردن سے بالوں کی چٹیا ڈھلک کر اس کے تکیے پر بال بکھیرے ہوٸ تھی جن میں سے کچھ بال اوپر پلنگ کے ٹیک میں موجود دڑاڑوں میں پھنسے تھے بے ساختہ دل نے ذہن کو اس کے اٹکے بال نکالنے پر آماد کیا
علیدان نے کہنی کے بل سر کو تھوڑا اوپر کیا اور آہستگی سے بالوں کو نکالنے کی غرض سے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ اسی لمحے سیدھی ہوٸ علیدان کا چہرہ بلکل اوپر جھکا ہوا تھا ۔ وہ گڑ بڑا سا گیا۔
وہ جو کب سے خود سے لڑ رہی تھی نیند تو جیسے کسوں دور تھی اور دل یہ بھولے بیٹھا تھا کہ کتنے دن بعد یوں پرسکون نیند آۓ گی ۔ وہ تو سو بھی گیا ہوگا ایک میں ہوں کہ یہ سوچتے ہی کروٹ بدلی تو جیسی سارے بدن میں بجلی سی کوند گٸ ۔
”سوری سوری غلط مت سوچنا ۔۔۔“
علیدان نے شرمندہ سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے بالوں کی طرف اشارہ کیا وہ ابھی فقرہ مکمل نہیں کر پایا تھا جب اذفرین نے اس کی بات کو کاٹا ۔
”خود سے زیادہ بھروسہ ہے آپ پر “
آہستگی سے علیدان کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ کہا لبوں پر نرم سی مسکراہٹ تھی اور آنکھیں پریقین تھیں
”درمیان میں یہ تکیہ نا بھی ہو تو بھی بھروسے میں رتی بھر بھی کمی نہیں آۓ گی“
اذفرین نے دھیمے سے لہجے میں کہا یہ جانے بنا کہ وہ ساتھ لیٹے اس شخص کو اسیر کر چکی ہے اب تو فقط وار تھے جو اسے گھاٸل کر رہے تھے
اذفرین نے پھر سے کروٹ لے کر چہرے کا رخ دوسری طرف موڑا جبکہ وہ اب چھت پر نظر جماۓ ہنس رہا تھا ۔ تو علیدان دلاور سارے دعوے دلیلیں دھری کی دھری رہ گیں تمہیں محبت ہو ہی گٸ ۔
جاندار مسکراہٹ اس ہار کو دل سے تسلیم کر چکی تھی ۔
*********
اوزگل نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجا کر لیپ ٹاپ سکرین پر نظریں جماٸیں جہاں وہی انجان آٸ ڈی سے آٸ ہوٸ ایمیل سکرین پر کھلی تھیں ۔ سنبل بلکل اس کے پاس بیڈ پر بیٹھی تھی وہ اور صندل چار دن سے یونیورسٹی نہیں آ رہی تھیں اور سنبل آج اس کو اور صندل کو دیکھنے گھر پہنچ گٸ تھی ۔ علیدان دلاور کے بعد ادیان دلاور اور ان دونوں سے چھوٹی اور اوزگل کی ہم عمر صندل دلاور تھی ۔ وہ نہ صرف اوزگل کی ہم عمر تھی بلکہ دونوں ہم جماعت بھی تھیں۔
سنبل دونوں کی مشترکہ دوست تھی پر علیدان سے متعلق وہ ساری گفتگو صرف سنبل سے ہی کرتی تھی ابھی بھی جب سنبل اس کے کمرے میں آٸ تو وہ ایمیلز کو کھولے رو رہی تھی ۔
”یہ ساری ایملز ان کا ایک ایک لفظ میری روح میں سمایا ہوا ہے“
اوز نے دھیرے سے سکرین پر ہاتھ پھیرا یہ وہ ساری ایمیلز تھیں جو اسے ایک انجان ایمیل آٸ ڈی سے آتی تھیں اور اوز گل کو یقین تھا وہ علیدان ہے جو چھپ کر اس سے محبت کرتا تھا اور پھر جب وہ باہر گیا تو اسے ایمیل بھیجتا تھا جیسے ہی ان کی بات طے ہوٸ تو ایمیل آنا بھی بند ہو گٸ۔ اور اس کا شک یقین میں بدل گیا کہ ایمیل بھیجنے والا اس کا سیکریٹ چاہنے والا اور کوٸ نہیں علیدان تھا ۔
”علیدان کی ایمیلز ہیں کیا ؟“
سنبل نے سکرین کا رخ اپنی طرف موڑتے ہوۓ سوالیہ نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھا ۔
” ہاں علیدان کی ایمیلز اس کو لگتا تھا میں پہچان نہیں سکوں گی کہ یہ وہی ہے جو یوں مجھے ان ناٶن اٸ ڈی سے ایمیلز بھیج رہا ہے پر ایسے الفاظ اس کے علاوہ کوٸ لکھ ہی نہیں سکتا “
اوزگل نے گہری سانس لی ۔ اور پھر گال بھیگنے لگے تھے ۔
”اچھا پلیز گل تم چپ کرو حوصلہ رکھو وہ مل جاۓ گا“
سنبل نےآہستگی سے کہتے ہوۓ آگے بڑھ کر اسے ساتھ لگایا ۔ جو کندھا ملتے ہی سسک اٹھی تھی ۔
**********
”آر یو ایندین؟“
” کیا تم ہندوستانی ہو؟“
مارک نے مسکراتے ہوۓ علیدان سے پوچھا ۔ وہ جو چلتی وین کے ارد گرد نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا سامنے بیٹھے مارک کی طرف دیکھا ۔
وہ لوگ جوزف کے بھاٸ کے آتے ہی اگلی صبح قریبی شہر سری لان کے لیے نکل پڑے تھے اور اب وین کے پیچھے کھلے حصے میں بیٹھے تھے اس کے اور اذفرین کے علاوہ مارک اور اس کے چند دوست ان کے ہمراہ تھے ۔ اور دودھ کے بہت سے کین تھے جو وہ کسی فیکٹری کو سپلاٸ کرتے تھے ۔ وین کے اگلے حصے میں جوزف اور اسکا بھاٸ بیٹھے تھے
”نہیں پاکستانی“
علیدان نے مسکرا کر جواب دیا ہوا سے بال بے تحاشہ اڑ رہے تھے ۔جن میں وہ بار بار ہاتھ پھیر رہا تھا اذفرین نے سر پر سکارف باندھ رکھا تھا اور کل والے پیلے فراک کو ہی زیب تن کیے ہوۓ سامنے بیٹھی تھی ۔ اور پرسکون انداز میں ارد گرد دیکھ رہی تھی ۔
علیدان دو گھنٹے سے یہ سوچ رہا تھا کہ کیسے اذفرین سے اس کا ایڈریس لے گا فون تو دونوں کے سانحہ میں کھو چکے تھے ۔ اب ایڈریس ہی تھا جس سے وہ اذفرین سے رابطہ رکھ سکتا تھا ۔پر اس سے کیا کہے گا وہ کیا سوچے گی ۔ انہی سوچوں میں گم تھا جب مارک نے اس مخاطب کیا
”آٸ سنگ ایند لو دا ایندین سونگ“
”میں ہندوستانی گانوں سے پیار کرتا ہوں اور گاتا بھی ہوں“
مارک نے سارے دانتوں کی نماٸش کی اس کے سارے دوست ہاتھ پر ہاتھ مار کر ہنسنے لگے تھے ۔ جن کو وہ بار بار گھور رہا تھا ۔
”دیٹس گریٹ“
علیدان نے مسکرا کر اس کی حوصلہ افزاٸ کی اذفرین بھی اب دلچسپی سے مارک کی طرف دیکھ رہی تھی۔ جیسے جیسے سفر ختم ہو رہا تھا دل عجیب سی اداسی کا شکار ہو رہا تھا علیدان سے رابطہ کیسے رکھے گی وہ اس شہر میں صرف پروجیکٹ کے لیے آیا تھا اور خود اس نے تو ایڈریس تک نہیں پوچھا میرا ۔ اذفرین بار بار چور نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی جو سنجیدہ سا بیٹھا اردگرد دیکھ رہا تھا ۔
رات ایک لمحے کو لگا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے پر اب دل بار بار جھٹلا رہا تھا ۔
” دو یو وانت تو لسن“
”کیا تم سننا چاہو گے“
مارک نے پرجوش انداز میں علیدان سے کہا علیدان نے قہقہ لگایا اور سر تاٸید میں ہلایا ۔ سفر چار سے پانچ گھنٹوں پر مشتمل تھا اور اسی طرح خاموشی سے ابھی وہ صرف دو گھنٹے کا سفر طے کر پاۓ تھے ۔
” دن یو آل سو سنگ ود می “
”پھر تم بھی میرے ساتھ گانا“
مارک نے کہہ کر اپنے دوستوں کی طرف دیکھا وہ سب بھی زور زور سے سر ہلا رہے تھے اور ہنس رہے تھے۔ مارک نے گلا صاف کیا اور آنکھیں بند کیے سر لگایا۔
”مییرا دل بی کتھنا پاٸیگل ہیے یہ پھیار تھو تھم سے کرتھا ہے پر سامنے جیب تھم آتے ہیو و و و “
مارک ہندستانی گانا گا رہا تھا وہ سچ کہہ رہا تھا اس کی آواز بہت اچھی تھی وہ جو گا رہا تھا بلکل نہیں جانتا تھا کیا گا رہا ہے لیکن اس کی طرز گانے کے عین مطابق تھی۔ اذفرین بھی اب اس سے لطف اندوز ہو رہی تھے مارک کے دوست تالیاں بجانے میں مصروف تھے ۔
”ہے سنگ ود میں “
مارک نے علیدان کو کہا علیدان نے سر کو نفی میں ہلایا ۔پر اس کے دوست بھی اسرار کرنے لگے علیدان ہنس رہا تھا اور سر نفی میں ہلا رہا تھا ۔ سامنے اذفرین کی طرف دیکھا تو وہ گھور رہی تھی اور جیسے ہی نظروں کا تصادم ہوا اشارے سے گانے کا کہا ۔ اس کا انداز ایسا تھا علیدان اب کی بار نفی میں سر نہیں ہلا سکا ۔
” میرا دل بھی کتنا پاگل ہے یہ پیار تو تم سے کرتا ہے “
وہ گانا شروع ہوا تو جیسے سب ساکن ہو گۓ اس کی آواز اتنی اچھی تھی کہ سب مبہوت ہو کر تکنے لگے تھے۔
” پر سامنے جب تم آتے ہو و و و و “
علیدان نے چور سی نظر سامنے بیٹھی اذفرین پر ڈالی ۔ وہ بھی حیرت سے منہ کھولے سن رہی تھی ۔
” پر سامنے جب تم آتے ہو کچھ بھی کہنے سے ڈرتا ہے “
علیدان نے محبت پاش نظروں سے سامنے بیٹھی اذفرین کی طرف دیکھا ۔ تو مارک کو جیسے اندازہ ہو گیا وہ بار سامنے اذفرین کو دیکھ رہا تھا پاس پڑے تھیلے میں سے ایک گلاب نکال کر علیدان کو دیا کہ وہ یہ اذفرین کو دے ۔
”او مییرے سادن او میرے سادن او۔و۔وو میرے سادن “
مارک بھی اب علیدان کا ساتھ دے رہا تھا ۔ اور اس کے باقی سب دوست جھوم رہے تھے ۔ علیدان نے مسکراتے ہوۓ پھول اذفرین کی طرف بڑھایا ۔
”کتنا اس کو سمجھتا ہوں ہوں کتنا اس کو بھلاتا ہوں نادان ہے کچھ نہ سمجھتا ہے دن رات یہ آہیں بھرتا ہے “
اذفرین نے خجل ہوتے ہوۓ پھول کو پکڑا علیدان کی نظریں پھر الجھن میں ڈال رہی تھیں ۔ اس کے بعد تو مارک سارا سفر وقفے وقفے سے علیدان سے گانے سنتا رہا ۔ اور اس سب میں وہ اذفرین سے ایڈریس لینے کا ارداہ ملتوی کر چکا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: