Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 12

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 12

–**–**–

”فری ی ی ی ی “
سعد تقریباً بھاگتا ہوا اذفرین کے پاس آیا تھا اور ایسی ہی کچھ حالت اپنے بھاٸ کو سامنے دیکھ کر اذفرین کی تھی ۔ سری لان پہنچنے سے تین گھنٹے پہلے ایک چھوٹے سے ٹاٶن میں پہنچتے ہی مارک اور اس کے دوستوں کے موباٸل پر نیٹ ورک سگنل آ گۓ تھے
اسی وقت علیدان نے اپنے دوست سہیل کو فون کیا اور اذفرین نے سعد کو یہی وجہ تھی جب وہ سری لان کے قریبی ہوٹل سٹی ویم میں پہنچے تو سعد فروا کے ہمراہ اور میر دلاور اشرف اور علیدان کے دوست سہیل کے ہمراہ وہاں پہلے سے پہنچ چکے تھے ۔ جیسے ہی علیدان اور اذفرین ہوٹل کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوۓ وہ ہوٹل لے وسیع عریض ریسیپشن پر لگے صوفوں پر بیٹھے ان کا انتظار کر رہے تھے ۔
جہاں سعد اذفرین کی طرف بھاگا تھا ایسا ہی کچھ حال تھوڑی دور کھڑے میر دلاور کا تھا اور وہ اب علیدان کو سینے سے لگاۓ لگاتار روۓ جا رہے تھے ۔ وہ دنوں اپنی اپنی فیمیلی سے ملتے ہوۓ ایک دوسرے سے قدرے فاصلے پر کھڑے تھے ۔
سعد کی آنکھوں سے پانی جاری تھا وہ بار بار اذفرین کا سر چوم رہا تھا ۔ اللہ نے اسے ایک موقع اور دے دیا تھا کہ وہ اپنے سارے پچھتاوے مٹا سکے اپنی بیٹی جیسی بہن کو تحفظ پیار اور وہ سب دے سکے جو پہلے نہیں دے رہا تھا ۔
فروا پاس کھڑی اذفرین کی پیٹھ پر تسلی آمیز ہاتھ پھیر رہی تھی پر نظریں کن اکھیوں سے کچھ دوری پر کھڑے علیدان کو جانچ رہی تھیں جو اب اپنے سامنے کھڑے میر دلاور کے آنسو صاف کر رہا تھا ۔ وہ مضبوط قدوقامت کا خوبرو لڑکا تھا اور اس کے سامنے کھڑا بوڑھا شخص کوٸ عام شخص ہر گز نہیں لگ رہا تھا ۔
اذفرین سعد سے الگ ہوٸ تو فروا نے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔ اذفرین فروا کے گلے لگے آنسو صاف کر رہی تھی جب فروا نے آہستگی سے اذفرین کے کان کے قریب اپنے ہونٹ کیے۔ جب کہ آنکھیں ابھی بھی علیدان پر جمی تھیں ۔ سعد اب اذفرین کے سر پر ہاتھ پھیر رہا تھا ۔
” فری اس لڑکے کے ساتھ تھی نو دن جنگل میں تم کیا؟“
فروا کا سرگوشی کرنے کا دکھاوا تھا بس کیونکہ آواز تو ساتھ کھڑے سعد کے کانوں میں باآسانی گٸ تھی جس نے فوراً نظریں گھما کر اب علیدان کو دیکھا ۔ وہ جوان لمبے قد کاٹھ کا خوبصورت سا لڑکا اب سامنے کھڑے بوڑھے شخص کے ہاتھ چوم رہا تھا ساتھ دو لوگ اور بھی کھڑے تھے ایک تھوڑا عمر ریسدہ شخص تھا اور ایک جوان لڑکا تھا
”جی بھابھی“
اذفرین نے آہستگی سے جواب دیا اور فروا سے الگ ہوٸ جھینپ کر کانوں کے پیچھے بالوں کو اڑایا ہاں اب مجھے ہمت دکھانی ہے اور بھاٸ سے نجف کے رشتے کے لیے انکار کرنا ہے اذفرین نے تھوک نگلا چور سی نظر فروا پر ڈالی ۔ جو اب معنی خیز مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اس کے ہر انداز کو جانچ رہی تھی آنکھوں میں ایک انوکھی سی ہتک آمیز چمک تھی ۔ کن اکھیوں سے ایک نظر سعد پر ڈالتے ہوۓ فروا نے اذفرین کے چہرے کو اپنے ہاتھ سے اوپر کیا ۔
”تو ٹھیک ہے نہ فری مطلب بلکل ٹھیک ہے نہ کچھ ایسا ویسا“
سر کو ہلاتے ہوۓ معنی خیز انداز میں پوچھا آواز اب بھی اتنی اونچی تھی کہ با آسانی پاس کھڑے سعد کے کانوں میں پڑی ۔ اذفرین نے چونک کر چہرہ اوپر اٹھایا اور گھبرا کر پاس کھڑے سعد کی طرف دیکھا جو اب بار بار علیدان کی طرف دیکھ رہا تھا علیدان شاٸد موباٸل پر کسی سے ویڈیو کال میں مصروف تھا۔ اذفرین نے فروا کے عجیب سے سوال پر گھبرا کر سعد کی طرف دیکھا ۔
”فروا۔۔۔“
سعد نے دانت پیسے اور آنکھیں نکال کر فروا کی طرف دیکھا جو مصنوعی فکر مندی چہرے پر سجاۓ اذفرین کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ اور اب طنزیہ سا چہرہ سعد کی طرف گھمایا۔
”آپ کیوں گھور رہے ہیں نو دن ایک نامحرم کے ساتھ رہی ہے اکیلی پوچھنےتو دیں اگر کچھ ایسا ویسا کیا ہو لڑکے نے ابھی کے ابھی اس لڑکے کو ۔۔۔“
فروا نے مصنوعی پریشانی سجا کر آنکھیں نچاتے ہوۓ کہا ۔ اذفرین نے تڑپ کر ایک نظر سعد کی طرف دیکھا اور پھر فروا کی طرف
”بھابھی پلیز کیا کہہ رہی ہیں آپ“
گھٹی سی آواز میں کہتے ہوۓ بلا جواز ہی وہ شرمندہ سی ہوٸ جب کہ پاس کھڑے سعد کا چہرہ سرخ ہوا پیشانی پر بل پڑے ۔ وہ لوگ میڈل کلاس فیمیلی سے تعلق رکھتے تھے جہاں یہ بات واقعی ہی معیوب تھی کہ اذفرین اتنے دن ایک لڑکے کے ساتھ تھی دن رات پر فروا کے انداز پر سعد کے تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی اسے اپنی بہن پر بہت یقین تھا پر سامنے کھڑے اس لڑکے پر نہیں تھا وجہ اذفرین کی معصومیت اور بے پناہ حسن تھا۔
”ڈر مت فری صاف صاف بتا اسی وقت اس لڑکے کو۔۔۔“
فروا باز آنے والوں میں سے نہیں تھی اب اذفرین کے کندھے پر ہاتھ رکھے مصنوعی فکرمندی جتا رہی تھی اذفرین نے گڑ بڑا کر بولنا چاہا تو سعد نے غصے سے فروا کا کندھا پکڑ کر رخ اپنی طرف موڑا۔
” فروا دماغ ٹھیک ہے کیا تمھارا چلو یہاں سے فوراً“
سعد کا لہجہ اب بے پناہ سختی لیے ہوۓ تھا ۔ فروا نے آنکھوں اور ہونٹوں کو ایک ساتھ سکوڑا اور سعد کے طرف گھور کر دیکھا ۔
” میرا دماغ ٹھیک ہے نو دن کم نہیں ہوتے سعد“
اب وہ ہاتھ کو بھی ہوا میں نچا گٸ تھی ۔ اذفرین کا چہرہ زرد پڑنے لگا ۔ سعد کو اب یہاں رکنا دشوار لگنے لگا تھا ۔ اسے ڈر ہوا کہ یہ ساری بکواس فروا اس لڑکے کو نہ کر دے اس سے کوٸ توقع نہیں تھی ۔
”چلو فری فوراً یہاں سے “
سعد نے غصے سے فروا کی طرف گھورا جو برداشت سے باہر ہو رہی تھی اور اذفرین کا بازو دبوچ کر اس کھینچتے ہوۓ آگے بڑھا ۔ اذفرین نے تڑپ کر کچھ دور کھڑے علیدان کی طرف دیکھا جو اب فون کو ہاتھ میں پکڑے رخ موڑے ویڈیو کال پر کسی سے بات کر رہا تھا پیٹھ اذفرین کی طرف تھی ۔ وہ تو یہ سوچے ہوٸ تھی وہ سعد کو علیدان سے ملواۓ گی سعد اسے گھر آنے کی دعوت دے گا علیدان بھی اپنا ایڈریس اور نمبر دے گا پر یہاں تو سب کچھ عجیب سا ہو گیا تھا ۔ ایک نظر اپنے بازو کو دبوچے سعد کی طرف دیکھا جس کی رگیں تن رہی تھیں چہرہ ضبط سے سرخ ہو رہا تھا ۔
”بھاٸ وہ “
اذفرین نے خجل ہو کر جھجکتے ہوۓ سعد سے بات کرنا چاہی ۔ اس سے پہلے کہ وہ کوٸ بات کرتی فروا بپھرے سے انداز میں سعد کے آگے آٸ ۔
”آپ میرے بھاٸ کو غلط کہہ رہے تھے تو مجھے بتاٸیں اب اس کی پاکیزگی کی گارنٹی آپ دیں گے کیا؟“
فروا نے دانت پیس کر زہر اگلا سعد نے مٹھیاں بھینچ کر اپنے غصے پر قابو پایا ۔ دل تو تھا کہ ایک تھپڑ فروا کے چہرے پر جڑ دے وہ یقیناً اس دن نجف پر کی گٸ باتوں کا بدلہ لے رہی تھی ۔
”بھابھی فار گاڈ سیک بس بھی کریں اب وہ ایسا نہیں ہے“
اذفرین نے روہانسے لہجے میں کہتے ہوۓ فروا کی طرف دیکھا جو بس معنی خیز مسکراہٹ سجا کر اسے اوپر سے نیچے دیکھ کر رہ گٸ ۔ فروا کی نظر ایسی تھی کہ اذفرین کے کانوں کی لو تک گرم ہوٸیں سعد نے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما ۔
”جسٹ سٹاپ ڈسکس دس بل شٹ راٸٹ ناٶ چلو فری تم یہاں سے “
سعد نے آواز کو آہستہ رکھتے ہوۓ دانت پیس کر فروا کو گھورا ور پھر اذفرین کا ہاتھ تھامے تیز تیز چلنےلگا ۔ اذفرین بار بار علیدان کی طرف دیکھ رہی تھی پر وہ پیٹھ موڑے ہوۓ تھا ۔وہ ایک دم سے اتنا لاپرواہ ہو گیا تھا ۔اذفرین کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر دبوچ دیا ہو آنکھوں میں عجیب سی چبھن ہوٸ ۔ دل کیا اونچی آواز میں چیختے ہوۓ اسی حق سے پکارے اٰسے جیسے جنگل میں آنے والی ہر مصیبت پراسے پکارتی تھی پر نہیں نہیں نہیں کر سکتی تھی ایسا اس وقت
”اپنی دفعہ بات سب کو یوں ہی لگتی ہے سعد اب معاملہ تمھاری بہن کا ہے نہ؟ میرے بھاٸ نے تو شادی کی ہے کوٸ گناہ نہیں “
فروا نے تیز تیز قدم ساتھ ملاتے ہوۓ ایک تیر اور کمان سے نکالا جو سعد کے کے اندر پیوست ہوتے ہی تن بدن میں آگ لگا گیا ۔ سعد ایک جھٹکے سے رُکا ۔ انگلی کو سختی سے فروا کی آنکھوں کے آگے کھڑا کیا ۔
” منہ بند کرو اپنا جاہل عورت “
سعد غرایا اور پھر اور تیزی سے وہ اذفرین کو تقریباً گھسیٹتا ہوا ہوٹل سے باہر لایا ۔ اذفرین نے تڑپ کر ہوٹل کے شیشے کے دروازے کے پار علیدان پر آخری نظر ڈالی دل چیخ رہا تھا علیدان پلیز پلٹ کے دیکھو میں جارہی ہوں ۔
” بیٹھو فری“
سعد نے غصے میں بھرے کار کی پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر اذفرین کو بیٹھنے کو کہا اور خود پاس کھڑی فروا سے بے نیازی برتتا گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر ڈراٸیور کے ساتھ بیٹھا فروا اب اذفرین کے ساتھ پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی ۔چہرے پر پرسکون سی زہریلی مسکراہٹ سجاۓ ۔ ڈراٸیور نے گاڑی سٹارٹ کر دی تھی ۔
علیدان باہر آٶ پلیز اذفرین کا دل جیسے پھٹنے کو تھا دھیرے سے میکسی کی ایک طرفہ جیب میں ہاتھ ڈال کر گلاب کے پھول کو نرمی سے ہاتھ میں لیا یہ وہی پھول تھا جو آج صبح علیدان نے گانے کی صورت میں محبت کا اظہار کرتے ہوۓ اسے دیا تھا وہ آنکھیں جھوٹی کیسے ہو سکتی تھیں جو اس کے دل کو گدگدا رہی تھیں ہر پل ہر لمحہ ۔
اذفرین کے دل کی یہ آواز گاڑی کے شیشے سے پار ہو کر ہوٹل کے شیشے سے بنے دروازوں کو پار کرتی جب تک علیدان تک پہنچی دیر ہو چکی تھی ۔
میر دلاور نے علیدان کے چہرے کو ہاتھوں میں لے رکھا تھا ۔ آنکھیں نم تھیں پر لب مسکرا رہے تھے ۔ ان کے بے جان جسم میں تو جیسے روح پھونک دی گٸ تھی ۔
”مجھے یقین تھا تم پر جان میری میرے شیر ہو تم “
میر دلاور نے اس کے چہرے سے ہاتھ اٹھا کر کندھے پر تھپکی دی علیدان اب سب گھر والوں سے بات کرنے کے بعد مڑا ہی تھا جب میر دلاور نے آگے بڑھ کر فرط محبت سے پھر اسکے چہرے کو ہاتھوں میں لے لیا تھا۔
” اللہ کے بعد آپ کے مجھ پر اس یقین نے ہی طاقت دی بابا ہر قدم پر “
علیدان نے جاندار مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ میر دلاور مسکرا دیے ۔ بابا سے ابھی اسی وقت اذفرین کو ملوا دوں گا اور پھر موقع ملتے ہی دل کی بات بتا دوں گا ان کو بتا دوں گا کہ بابا آپ کے شیر کو ایک معصوم سی شیرنی سے محبت ہو گٸ ہے ۔ جو اسے زندگی دینے کی خاطر اپنی ہر تکلیف فراموش کر دیتی ہے ۔ درد اس کو ہوتا ہے تو پیشانی پر شکن خود ڈال لیتی ہے چھوٹی چھوٹی بات پر بچوں کی طرح ریں ریں کرتی ہے ڈانٹوں تو غصہ کرتی ہے چوری چوری ایسے تکتی ہے کہ میٹھی سی چبھن ہونے لگتی ہے ۔ خوبصورت اتنی ہے کہ ایک نظر پڑتے ہی اٹھنے کا نام نا لے ہنستی ہے تو میں بے ساختہ دل کو تھام لیتا ہوں
اذفرین کا خیال آتے ہی علیدان نے کچھ شرماتے ہوۓ گردن کو کھجایا ۔
بابا اللہ کے بعد آپ اور آپ کے بعد۔۔۔“
علیدان نے بھر پور مسکراہٹ سجاۓ ملاٸم سے لہجے میں کہتے ہوۓ پیچھے مڑ کر دیکھا تو جیسے دھک رہ گیا وہاں کوٸ بھی موجود نہیں تھا تھوڑی دیر پہلے یہیں تو تھی وہ ۔ دل میں جیسے ایک عجیب سا خوف ابھرا کہاں گٸ وہ یوں بنا بتاۓ میں نے تو ابھی بہت کچھ سوچاتھا ۔
” ایک منٹ بابا “
بوکھلاۓ سے انداز میں میر دلاور کو انگلی کے اشارے سے روکتا ہوا وہ کھوجتی سی نگاہوں سے اردگرد دیکھتا اب ہوٹل کے بیرونی دروازے پر پہنچا۔ وہ کہیں بھی نہیں تھی اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا وہ یوں بات کیے بنا کچھ بھی کہے بنا چلی جاۓ گی ۔
”did you see a girl wearing yellow frock”
” ایک لڑکی تھی پیلے رنگ کے فراک میں کیا دیکھی آپ نے “
علیدان نے بوکھلاۓ سے لہجے میں ہوٹل کے باہر کھڑے گارڈ سے پوچھا گارڈ نے ہاتھ سے کچھ دور جاتی گاڑی کی طرف اشارہ کیا ۔ علیدان بھاگتا ہوا گاڑی کی طرف بڑھا کچھ دور تک گاڑی کے پیچھے بھاگنے کے بعد ہی اندازہ ہو گیا وہ نہیں رکے گی گاڑی بہت فاصلے پر تھی آنکھوں کو سکوڑ کر جلدی سے گاڑی نمبر پڑھا اور ذہن نشنین کیا ۔
************
دروازہ کھلنے کی آواز پر اوزگل نے مسکراتے ہوۓ گردن موڑی بہت جاندار مسکراہٹ تھی آج اس کے لبوں پر بڑے دن بعد وہ پھر سے چہکتی ہوٸ اوزگل میں تبدیل ہوٸ تھی ۔ ادیان دروازے میں کھڑا تھا سینے پر ہاتھ باندھے ۔
اوزگل کے اتنے دن سے مرجھاۓ چہرے پر آج بہار رقص کرتی دیکھ کر جیسے اس کے اندر سکون اتر گیا تھا۔ روتی وہ تھی تو دل اسکا دکھتا تھا ۔ اور اب علیدان کی خبر نے جیسے ہر طرف رنگ بکھیر دیے تھے ۔
” چڑیل تم مسکراتی ہی اچھی لگتی ہو“
ادیان نے ملاٸم سے لہجے میں کہا اور قدم آگے بڑھاۓ ۔ وہ پرجوش انداز میں آگے بڑھی وہی انداز چہکتی ہوٸ بے فکر سی مکمل سی
”ادی دیکھا وہ زندہ تھا تایا ابا سہی کہتے تھے ان کے علیدان کو کچھ نہیں ہو سکتا “
اوزگل کی خوشی نہ صرف اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی بلکہ اس کا انگ انگ اس کی اندرونی خوشی کا گواہ تھا ۔
” ہاں بھاٸ پر صرف بابا کو ہی نہیں مجھے بھی یقین تھا “
ادیان نے سر کو ہلا کر مسکراتے ہوۓ اس کی بات کی تاٸید کی جو اب سرشار سی کھڑی تھی ۔
”ادی تم علی سے کہو بس اب واپس آ جاٸیں پاکستان یہی پڑھیں کہیں مت جاٸیں “
اوزگل نے التجاٸ لہجہ اپنا کر ادیان سے کہا جس پر وہ مسکرا دیا۔ وہ کیا اب تو سارے گھر والے یہی چاہتے تھے کہ علیدان اب بس پاکستان ان کے ساتھ ہی رہے وہی جانتے تھے یہ نو دن انھوں نے کیسے انگاروں پر لوٹ کر کاٹے تھے ۔
”تمھارا بھی تو کوٸ رشتہ ہے اب ان سے، تو تم خود کہہ دینا “
ادیان نے معنی خیز انداز اپناتے ہوۓ مصنوعی شرارت سے کہا ۔وہ شرما گٸ سر جھکاۓ نچلے لب کو دانتوں میں دبا گٸ ۔ یعنی کہ سامنے کھڑے نفس کا دل بری طرح دھڑکا گٸ ۔
”تمہیں پتا تو ہے وہ کہاں اتنی بات کرتے مجھ سے اور صندل سے ، تم کہو تمھاری بات مان جاٸیں گے“
وہ لجاۓ سے انداز میں کہتی فرش پر پاٶں کو آگے پیچھے کر رہی تھی ۔ آہ اس کا یہ شرمانہ وہ کتنا پیارا شرماتی تھی پر کاش یہ شرمانہ اس کے لیے ہوتا تو آج وہ اسے بڑھ کر باہوں میں دبوچ لیتا ۔ بمشکل لرزتے دل پر قابو پایا ۔
”بات تو وہ کسی کی نہیں مانتے پر پھر بھی کوشش کی جا سکتی ہے تمھارے لیے“
ادیان نے آنکھوں میں شرارت بھرے مسکراہٹ کو دبایا تمھارے پر زور دیا ۔ وہ اب سر اوپر اٹھا چکی تھی اور مشکور نظروں سے ادیان کو دیکھ رہی تھی ۔
”ویسے باٸ دا وے بتانے تو میں یہ آیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔ بھاٸ پرسوں رات دس بجے بابا کے ساتھ گھر آرہے ہیں“
ادیان نے بات ختم کیے قہقہ لگایا کیونکہ کہ اوزگل کا خوشی اور حیرت سے کھلا منہ اس کی سوچ کے عین مطابق تھا ۔ وہ اب خوشی سے چیختی ہوٸ ادیان کو تکیہ اٹھا کر مار رہی تھی۔
*********
گاڑی کے نوٹ کیے نمبر سے گھر کا پتہ لگوا کر اب وہ سفید رنگ کے چھوٹے سے گیٹ کے سامنے کھڑا تھا ۔ دل اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کہ اپنے ہی کان دل کی آواز سن سکتے تھے ۔
بار بار بالوں میں ہاتھ پھیر کر وہ خود کو نارمل ظاہر کرنے کے لیے سانس کو منہ میں بھر کر خارج کر رہا تھا ۔ ساتھ کھڑا سہیل اس کی حالت پر مسکراہٹ دبا رہا تھا ۔ کل رات کو اذفرین کے جانے کے بعد وہ بھی میر دلاور کے ساتھ اس ہوٹل میں چلا گیا تھا جہاں وہ رہاٸش پزیر تھے اور اب صبح سے وہ لوگ کار کے نمبر سے گھر کا پتہ لگا کر بارہ بجے کے قریب یہاں پہنچے تھے ۔
گیٹ کھلنے کی آواز پر علیدان کے دل نے ایک لمحے کے لیے دھڑکنا بند کیا ۔
دروازہ کھول کر ایک تیس سالہ لڑکا اب سامنے کھڑا تھا ۔ وہ کوٸ پاکستانی تھا علیدان نے سکون کا سانس لیا وہ سہی جگہ پہنچ گیا تھا ۔
”جی فرماۓ ؟“
شاٸستگی سے پوچھتے ہوۓ اب وہ علیدان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ آنکھیں سکیڑ کر وہ شاٸد علیدان کو پہچاننے کی ناکام کوشش میں تھا ۔
”اممم جی مجھے اذفرین سے ملنا ہے“
علیدان نے ذہن میں الفاظ کو ترتیب دیا اور پھر ادا کیا ۔ سامنے کھڑے شخص کی آنکھیں مزید سکڑ گٸ تھیں۔
”کون اذفرین ؟“
سامنے کھڑے شخص نے آبرٶ چڑھاۓ پوچھا اس کے انداز سے صاف ظاہر تھا کہ وہ اذفرین نامی کسی لڑکی کو نہیں جانتا ہے ۔
”یہ اذفرین میرا مطلب ہے سعد سعد کا گھر نہیں ہے کیا ؟“
اچانک اذفرین کے بھاٸ کے نام یاد آتے ہی پوچھا جو اس کی باتوں کے ذکر سے پتا چلا تھا اسے پر سامنے کھڑے شخص کے چہرے پر ہنوز ویسی ہی حیرت موجود تھی۔
”نہیں یہاں کوٸ اذفرین یا سعد نہیں رہتے میرا نام ولید ہے یہ میرا گھر ہے “
اس شخص نے علیدان کا جاٸزہ لیا اور تسلی کرتے ہوۓ اسے درست انفارمیشن دی ۔ علیدان نے پریشان سی صورت بناۓ ساتھ کھڑے سہیل کی طرف دیکھا ۔
” یہ یہ نمبر آپکی کار کا ہے“
علیدان نے اچانک یاد آنے پر جلدی سے جیب سے موباٸل نکال کر گاڑی کا نمبر اس کی آنکھوں کے سامنے کیا یہ اسی گاڑی کا نمبر تھا جس میں کل اذفرین بیٹھی تھی ۔
”یس میری کار کا ہے“
اس آدمی نے گردن کو اثبات میں ہلایا ۔ حیرت کی لکیریں مزید گہری ہوٸیں ۔
”تو کل یہ کار سٹی ہوٹل سے اذفرین نامی لڑکی کو لے کر گٸ تھی “
علیدان نے سر کو کھجاتے ہوۓ پوچھا ۔ وہ اب اور بے چین ہو گیا تھا بار بار ذہن پر زور ڈالا پر گاڑی کا نمبر اس نے درست ہی نوٹ کیا تھا ۔
” ایک منٹ میرا چھوٹا بھاٸ کل گھر تھا میں اس سے کنفرم کرتا ہوں مجھے تو اس بات کا علم نہیں “
اس آدمی نے اپنی تھورڈی پر پرسوچ انداز میں ہاتھ پھیرا اور پھر جلدی سے جیب سے اپنا موباٸل نکال کر نمبر ملایا ۔ وہ کچھ دور جا کر اب اپنے بھاٸ سے بات کر رہا تھا ۔ پھر فون بند کیے علیدان کے قریب آیا ۔
”میرے بھاٸ کا دوست ہے وہ کار لے کر جاتا ہے کبھی کبھی اور رینٹ پر دیتا ہے تو وہ کہہ رہا ہے کل وہی کار لے کر گیا ہوا تھا اسے کچھ معلوم نہیں “
سامنے کھڑے شخص نے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے وضاحت دی ۔
”اس کا فون نمبر مل سکتا ہے کیا میرا مطلب آپکے بھاٸ کے دوست کا “
علیدان نے عجلت میں پوچھا ۔ اب وہ ماتھے پر بے چینی سے ہاتھ پھیر رہا تھا وقت کم تھا پاکستان جانے سے پہلے اذفرین سے ملاقات ضروری تھی ۔
”فون نمبر لے کر دیتا ہوں اپنے بھاٸ سے “
وہ پھر سے اب اپنے بھاٸ کا نمبر ملا رہا تھا ۔ اور علیدان نچلے ہونٹ کو کچل رہا تھا ۔ وقت گزر رہا تھا ۔ دل بیٹھ رہا تھا۔
”نمبر نوٹ کر لیں ویسے وہ فون کم اٹھاتا ہے ورکشاپ پر کام کرتا ہے تو اس کی ورکشاپ کا ایڈریس بھی دے دیتا ہوں“
اس آدمی نے اپنے موباٸل پر کھلی سکرین پر ایک نمبر علیدان کے سامنے کیا جسے علیدان اب تیزی سے اپنے موباٸل میں نوٹ کر رہا تھا ۔ اور اس کے بعد اس کی ورکشاپ کا ایڈریس بھی لیا جو یہاں سے دو گھنٹے کے فاصلے پر تھی ۔
وہ شخص سہی کہہ رہا تھا وہ آدمی فون نہیں اٹھا رہا تھا ۔ مطلب اس کی ورکشاپ پر جانا ہی پڑنا تھا ۔ سہیل کار چلا رہا تھا اور علیدان پریشان سی صورت بناۓ بار بار نمبر ملا رہا تھا ۔
********
”نہیں فری یہاں اب نہیں رہے گی میرے ساتھ جاۓ گی“
سعد نے دوٹوک لہجے میں سامنے کھڑی فروا سے کہا جو سعد کی بات سن کر اب بوکھلا سی گٸ تھی ۔ اذفرین بھی کچھ دوری پر کھڑی لب کچل رہی تھی ۔
”یہ کیا اس کی جاب ہے یہاں اور امی کو کون سنبھالے گا سعد “
فروا نے گڑ بڑا کر جواز پیش کیا جس پر سعد نے اسے کچا چبا جانے جیسے انداز میں دیکھا ۔
” یہ میری بہن کا فرض نہیں ہے اب اور ملبرین بھی مل جاۓ گی جاب اسے تم رکو یہاں آنٹی کی خدمت کرو نجف آ جاۓ تو آ جانا پھر“
سعد نے دانت پیس کر کہا اور پھر جھٹکے سے مڑ کر اپنے کپڑے بیگ میں رکھنے لگا ۔ فروا نے گھور کر کچھ دور بجھی سی کھڑی اذفرین کی طرف دیکھا اور پھر تھوڑا سا اور آگے ہوٸ ۔ اور اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتی سعد پھر سے مڑا اور سختی سے انگلی اس کی آنکھوں کے آگے کھڑی کی ۔
”اور کان کھول کر سن لو یہ میرے پاس رہے گی اور اب پڑھے گی آگے جاب نہیں کرے گی“
سعد کا لہجہ دو ٹوک تھا فروا کی تو جیسے جان پر بن گٸ تڑپ کر سعد کے قریب ہوٸ ۔ سب کچھ بدل گیا تھا سعد اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا ۔
”فری پیکنگ کرو چار گھنٹے بعد فلاٸیٹ ہے ہماری ملبرین کی“
سعد نے پاس کھڑی فروا سے بے نیازی برتی اور سختی سے اذفرین سے کہا ۔ اذفرین پریشان سی صورت بناۓ کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ سعد کے غصے سے تو وہ ویسے بھی بہت گھبراتی تھی اور اب کل رات کے واقع کے بعد سے تو سعد کا غصہ عروج پر تھا ۔
” اگر یہی آپکا فیصلہ ہے تو میں اور امی بھی ساتھ چلیں گے گھر کو لاک کر جاتے ہیں مجھے آپکے ساتھ ہی رہنا ہے سعد“
فروا نے سعد کے سینے پر سر رکھے لاڈ سے کہا ۔ سعد نے چہرے کو بے زاری سے گھمایا ۔
”تو آنٹی مان جانیں گی کیا ؟“
فروا کو بازو سے پکڑ کر سامنے کیا اب کی بار لہجہ تھوڑا نرم تھا ۔
”جی مان جاٸیں گی“
فروا نے سر کو اثبات میں ہلایا ۔
تو پیکنگ کرو وقت نہیں ہے میرے پاس میں دو سیٹ اور کرواتا ہوں“
سعد نے اسے حکمانہ انداز میں کہا اور موباٸل نکال کر ایک طرف چل پڑا ۔
***********
گاڑی میں بجھے سے دل کے ساتھ بیٹھی تھی وہ ۔ گہری سانس لی تو علیدان آپ مجھ سے پیار نہیں کرتے تھے ۔ اذفرین نے دل میں اٹھتی ٹیس کو اندر کیا کار اب اٸر پورٹ کی طرف رواں دواں تھی
اسی کار کے نکلتے ہی ایک سیاہ کار بند گیٹ لے سامنے آ کر رکی اور علیدان عجلت میں باہر نکلا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: