Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 13

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 13

–**–**–

اذفرین کار کی پچھلی سیٹ کی پشت سے سر ٹکاۓ بیٹھی تھی اور اس کے کندھے سے بلکل پیچھے گاڑی کے شیشے میں وہ بے چین سا گھر کے گیٹ کے آگے کھڑا پل پل دور ہوتا جا رہا تھا ۔ جیسے اذفرین کی گاڑی آگے بڑھ رہی تھی فاصلہ بھی بڑھ رہا تھا ۔
وہ بار بار گھٹنی بجا رہا تھا ۔ اور اظطراب سے ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔ بہت سی گھنٹی دینے کے بعد بھی کوٸ جواب نہیں تھا ۔ مطلب یہاں کوٸ نہیں تھا ۔ سہیل بار بار گیٹ میں سے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اور علیدان بے چینی سے کچھ دیر کے وقفے کے بعد گھنٹی بجا رہا تھا ۔
”یہ تو بند ہے یہاں تو کوٸ نہیں“
سہیل نے پیچھے ہوتے ہوۓ ہاتھ جھاڑے اور علیدان کی طرف دیکھا علیدان نے مایوسی سے گردن ہلاٸ عجیب سی گھٹن تھی جس کا شکار نہ صرف دل ہو رہا تھا بلکہ دماغ بھی الجھا ہوا تھا ۔
وہ کیوں اسطرح غیروں کی طرح بے اعتناٸ برت کر جا چکی تھی وہ ایسی تو نہیں تھی یا شاٸد مجھے ہی غلط لگا وہ سمجھتی ہو گی بس ختم اب سب کچھ ایک دفعہ خدا حافظ تو کہتی ایک دفعہ بس ۔۔۔میں بابا سے ملواتا اور پھر اس کے گھر آتا بابا کو لے کر اسے بتاتا کہ یہ نو دن محظ ایک آفت نہیں تھے میری زندگی میں یہ تو ایک بہانا تھا کہ میں تم سے ملا تم ان نو دنوں میں میری روح کی گہراٸیوں میں اتر گٸ ہو بتاٶ ۔۔۔میں یہ نو دن اور تمھارا ساتھ کیا ساری زندگی فراموش کر پاٶں گا نہیں ہر گز نہیں پتہ نہیں کیوں ایسا محسوس ہو رہا ہے میں اب تمھارے بن ادھورا سا ہوں یہ نو دن ایک عجیب سی عادت ڈال گۓ ہیں مجھے تمھاری
میں علیدان دلاور حسین سے حسین لڑکی کو کبھی نظر بھر کر نہیں دیکھتا تھا پر تمہیں تو دل کی نظروں سے بھی دیکھا ہے ۔
میں علیدان دلاور جو اس محبت نام کے احساس کو محض ایک خودساختہ سوچ کا نام دیتا تھا اب خود کو سمجھ نہیں پا رہا ہوں کہ کیا نام دوں اپنی اس محسوسات کو عشق، محبت، پیار، چاہت، دل لگی ،سحر، یا پھر طلسم سمجھ سے باہر تھا سب ۔۔۔
انہی سوچوں میں گم ان کو یہاں گیٹ کے آگے دو گھنٹے گزر چکے تھے سہیل کبھی کار میں بیٹھ جاتا کبھی باہر آ کر اس کے ساتھ کھڑا ہوا جاتا اور اب تو وہ سگریٹ سلگاۓ ایک طرف کھڑا تھا ۔ اور ابھی علیدان مزید انتظار کرنا چاہتا تھا کہ موباٸل پر بجتی رنگ ٹون سے خیالات سے باہر آیا ۔
” علیدان کہاں ہو تم جلدی پہنچو رات کی فلاٸیٹ ہے ہماری“
میر دلاور نے پریشان سے لہجے میں کہا وہ صبح ہوتے ہی سہیل کے ساتھ نکل گیا ہے اور اب شام کے سات بج رہے تھے ۔
”بابا بس کچھ دیر میں آ رہا ہوں“
علیدان نے گردن کھجاٸ اور مایوس سی ایک نظر گیٹ پر ڈالی۔ فون بند کرنے کے بعد لب بھینچے گہری سانس لی ۔ سہیل نے سگریٹ ایک طرف پھینکی اور قریب آیا ۔
”پریشان نہ ہو گھر تو مل گیا ہے نہ کیا پتہ کہیں گۓ ہوں یہ لوگ کچھ گھنٹوں میں واپس آ جاٸیں تو ایسا کر تو جا پاکستان میں کل نکلوں گا یہاں سے تو بھابھی کا نمبر لے لوں گا تمھارے لیے“
سہیل نے تسلی دیتے ہوۓ اس کی پیٹھ پر تھپکی دی اور بھابھی کے لفظ پر آنکھ کو دبا کر شرارت بھری مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ جس پر علیدان بس سر جھکا کر مسکرا دیا ۔ کتنی عجیب بات تھی جو مزاق میں بھی کسی لڑکی کا نام خود کے ساتھ جوڑنے پر اپنے دوستوں کو اچھی خاصی سنا دیتا تھا آج سر جھکا کر مسکرا دیا تھا ۔ جیب سے موباٸل نکالا
” سہیل ایک کام کرنا اس کا نمبر تم نے نہیں لینا بلکہ یہ میرا پاکستان کا نمبر ہے یہ اسے دے دینا بس “
علیدان نے اسے ایک نمبر سنڈ کیا اور اشارہ اس کے موباٸل کی طرف کیا ۔ سہیل نے سر ہلاتے ہوۓ اپنی پینٹ کی جیب میں سے موباٸل نکالا ۔
” سہی ہے فکر نہ کر جانی میں سب سنبھال لوں گا “
سہیل نے واپس موباٸل جیب میں رکھتے ہوۓ مسکرا کر کہا ۔ علیدان نے گہری سانس لی ۔
” تھنکیو “
مسکرا کر مشکور نظروں سے سہیل کی طرف دیکھا ۔ وہ دونوں اب واپس گاڑی کی طرف بڑھ رہے تھے پر علیدان ابھی بھی کار سے باہر کار کا دروازہ پکڑ کر انتظار کر رہا تھا کہ شاٸد سڑک پر گزرتی گاڑیوں میں سے کوٸ کار اس گیٹ کے پاس آ کر رکے پر سب زن کی آواز سے سڑک کو روندتی ہوٸ اس کے دل میں دھواں بھرتے ہوۓ آگے بڑھ رہی تھیں ۔ مایوس سی صورت لیے گاڑی میں بیٹھا اور سر جھکا کر گاڑی کا دروازہ بند کر دیا ۔
”سن “
سہیل نے مسکراہٹ دباٸ وہ اب کار کو ریوریس کر رہا تھا ۔ اور بیک کیمرہ سکرین ہر نظر جماۓ ہوۓ تھا علیدان نے کھوۓ سے انداز میں اس کے طرف دیکھا ۔
” تو علیدان ہی ہے نہ؟“
سہیل نے مسکراہٹ دبا کر مصنوعی فکرمندی سے پوچھا ۔ آنکھوں میں ہلکی سی شرارت کہ جھلک تھی علیدان نے آہستگی سے سر کو سیٹ کے پشت سے ٹکایا ۔ اور کھڑکی کے باہر گھر کے گیٹ کے اوپر غیر مرٸ نقطے پر نظر جماٸ ۔
”نہیں علیدان نہیں ہوں اذفرین کا علیدان ہوں “
جزبات سے لبریز یہ الفاظ زبان سے محض ادا ہو رہے تھے بول تو دل رہا تھا ۔
ہار گیا تھا وہ سب ہار گیا تھا ۔۔۔
*******
کمرے کا دروازہ کھلنے کی آواز آٸ تھی ۔ زیب بیگم کے علیدان کے بالوں میں چلتی انگلیاں لمحہ بھر کو رکیں۔ وہ زیب کی گود میں سر رکھے لیٹا تھا وہ لوگ کل رات کو پاکستان پہنچے تھے سفر کی تھکاوٹ کے باعث سب کو ملنے کے بعد وہ سو گیا تھا اور اب صبح اٹھتے ہی وہ زیب بیگم کے کمرے میں ان کی گود میں سر رکھے پرسکون سا لیٹا تھا۔
میر دلاور نے کوٹ کو اٹھا کر پہنا اور ایک نظر مسکرا کر دونوں ماں بیٹا پر ڈالی ۔ کوٹ کو جھٹکے سے درست کرتے ہوۓ پاس آۓ ۔
”علیدان چلو اٹھو “
تھوڑا سا جھک کر علیدان کے کندھے کو ہلایا جو مزے سے آنکھیں موندے لیٹا تھا ۔ میر دلاور کی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا ۔ اور فوراً ذہن میں ان کے رات کو کہے گۓ الفاظ گونجے وہ شہر کے بہترین سرجن سے وقت لے چکے تھے اور اب علیدان کو چیک اپ کے لیے جانا تھا ۔
”بابا کیا ضرورت ہے معمولی سا تو زخم ہے“
علیدان نے سر سیدھا کیا اور آنکھیں اوپر اٹھا کر بچوں کی طرح التجا کی ۔ میر دلاور نے گھور کر اسے دیکھا ۔
”نہیں یہ معمولی نہیں میں نے بات کی ہے ڈاکٹر شاہزیب سے سرجری ہو گی ٹانگ والے زخم کی“
انہوں نے رعب سے کہا اور پھر سے اسے اٹھنے کا اشارہ کیا ۔ علیدان آہستگی سے تھکے سے انداز میں اٹھا ۔ بے چارگی سے زیب کی طرف دیکھا وہ اب بھی خفگی سے گھور رہی تھیں ۔
”بابا ٹانگ والا ہی زیادہ گہرا تھا اب تو کافی حد تک بھر بھی گیا ہے“
میر دلاور کی طرف پھر سے التجاٸ نظر اچھالتے ہوۓ مودب انداز میں جواب دیا ۔ گھر میں اتنا سکون تھا اور ابھی تو زیب کی گود سے اٹھنے کو بھی دل نہیں تھا ۔
”نہیں اٹھو جلدی وقت لیا ہے ڈاکٹر سے میں نے حلیہ درست کرو اپنا “
میر دلاور نے گھورتے ہوۓ کہا اور زیب نے بھی سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ تاٸید میں گردن ہلاٸ ۔ علیدان نے ہتھیار پیھنکے اور پھر گہری سانس خارج کرتا ہوا اٹھا ۔
تیار ہونے کے بعد میر دلاور اور علیدان ابھی پورچ میں نکلے تھے علیدان موباٸل پر مصروف تھا اور میر دلاور نے ہاتھ کے اشارے سے گارڈ کو گیٹ کھولنے کا کہا ۔
گیٹ کھلتے ہی اوزگل اندر داخل ہوٸ سامنے ہی علیدان اور میر دلاور کو دیکھ کر جھینپ گٸ رات کو تو وہ کچھ دیر ہی بیٹھنے کے بعد اپنے گھر چلی گٸ تھی اور اب صبح سے اٹھتے ہی ادھر آنے کو بے چین تھی اور اب درخشاں سے آنکھ بچا کر جیسے ہی آٸ تو سامنے پہلا دیدار ہی علیدان کا ہوا وہ سفید قمیض شلوار میں سلیقے سے بال بناۓ نکھرا سا اپنے موباٸل ہر نظر جھکاۓ کھڑا تھا۔
”اسلام علیکم تا بابا “
دور سے علیدان کو گہری نظروں سے دیکھتی وہ قریب آٸ اور پھر مودب لہجے میں میر دلاور کے قریب ہوتے ہوۓ سلام کیا ۔ وہ بچپن سے ان کو تایا کے بجاۓ تابابا کہتی تھی ۔
”ارے کیسی ہے میری گڑیا ؟“
میر دلاور نے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور بوسہ دیا ڈراٸیور اب کار کے دروازے کھول رہا تھا۔ اوزگل نے کے چھوٹے بھاٸ کی اکلوتی اولاد تھی اور بھاٸ کے گزر جانے کے بعد انہوں نے اوزگل کو صندل سے بھی زیادہ محبت دی تھی ۔
”ٹھیک ہوں تا بابا “
اوزگل نے میر دلاور کے سینے پر سر رکھے چور سی نظر علیدان پر ڈالی جو پیشانی پر بل ڈالے ہنوز موباٸل کی سکرین پر نظریں جماۓ ہوۓ تھا ۔ دل پر ایک گھونسہ پڑا تھا کل سے وہ یہ بات نوٹ کر رہی تھی علیدان نے ایک دفعہ بھی اس کی طرف نہیں دیکھا تھا وہ کھویا کھویا سا تھا ۔ وہ ایسے کیوں کر رہا تھا اس کے ساتھ ۔
”کہاں جا رہے ہیں آپ لوگ؟“
اوزگل نے لاڈ سے میر دلاور سے سوال کیا ۔ ایک نظر پھر سے سامنے کھڑے مغرور سے شہزادے پر ڈالی جس کے لیے اس کایہاں ہونا نا ہونا برابر لگ رہا تھا ۔ وہ نک سک سے تیار صرف اسی کے لیے ہوٸ تھی جس نے نظر بھر کر دیکھا تک نہیں تھا اور یہ بات آری کی طرح دل کو کاٹ رہی تھی ۔
”علیدان کو لے کر جا رہا ہوں ہاسپٹل اچھا بیٹا آپ اندر جاٶ آتے ہیں کچھ دیر میں “
میر دلاور نے اوزگل کے سر کو تھپکا تھا اور علیدان اب لاپرواہی سے گاڑی کی طرف جا رہا تھا ۔ اوزگل کا دل بیٹھ گیا ہو جیسے ۔ اس کی پشت کی طرف دیکھا یہ ہزراوں دلوں کا دھڑکا دینے والا صرف اس کا تھا ۔
” جی “
پھیکی سی آواز میں کہتی وہ مڑی تھی ۔ گاڑی پورچ میں سے نکل رہی تھی ۔ اور لاونج میں داخل ہو رہی تھی ۔
*************
جلدی سے کمرے کے دروازے کو لاک کیے بیڈ پر آٸ کشن کو اٹھا کر گود میں رکھا اور اس پر لیپ ٹاپ رکھا کانپتےہاتھوں کے ساتھ لیپ ٹاپ کو کھولا اور پھر فیس بک کی ساٸیٹ کھولی
دل عجیب طرح سے پریشان ہو رہا تھا اس طرح کا کام وہ زندگی میں پہلی بار کر رہی تھی اس نے کبھی یوں چھپ کر کچھ بھی نہیں کیا تھا اور اب دو دن سے دل نے عجیب طرح سے پریشان کر ڈالا تھا ۔ علیدان جب پیچھا مڑا ہوا گا تو اس نے مجھے ڈھونڈا ہوا گا مجھے وہاں نا پا کر اس نے کیا سوچا ہو گا ۔
فیری اذ فری کے نام سے فیس بک اکاٶنٹ کھولا ملبرین آۓ آج ان کو دوسرا دن تھا اور ایک پل بھی ایسا نہیں گزرا تھا جب علیدان اس کے ذہن سے مندمل ہوا ہو ۔ ساری رات اس کے دیے گۓ پھول کو تکیے کے دوسری طرف رکھے وہ اس کو اور ان لمحوں کو سوچتی رہی تھی ۔
اس نے کل علیدان کے نام سے اکاٶنٹ سرچ کیے تھے صرف دو اکاٶنٹ ملے تھے اس کا نام اتنا مختلف تھا دو اکاٶنٹ ہونا کوٸ اچھنبے کی بات نہیں تھی ۔ اس نے دونوں اکاٶنٹ پر ہیلو کا مسیج بھیج دیا تھا ۔
اور آج پھر وہ سعد کا لیپ ٹاپ لے کر کمرے میں آٸ تھی ۔سعد کسی کام سے باہر گیا تھا اور یہ ہی موقع اچھا تھا فروا بھی اس وقت ماٸدہ کے ساتھ ان کے کمرے میں تھی
ابھی وہ موباٸل فون نیا نہیں لے سکتی تھی اور نا ابھی سعد سے یہ سب کہنے کی ہمت تھی اس میں ۔ کانپتے ہاتھوں سے فیس بک کے پیغامات کو کھولا اور دل کے دھڑکنے کی رفتار اتنی تیز ہوٸ کہ گال تپنے لگے نچلے لب کو دانتوں میں دبا کر ترچھا ساکیا علیدان کے نام سے ایک آٸ ڈی سے جوابی پیغام آیا ہوا تھا ۔ علیدان کا مکمل نام وہ بھول چکی تھی ذہن پر بہت زور ڈالنے پر بھی اس کا مکمل نام وہ یاد نہیں کر پاٸ تھی ۔
اس آٸ ڈی کی پروفاٸل تصویر پر ایک چھوٹے سے بچے کی تصویر لگی تھی بچہ بہت خوبصورت تھا اور مسکرا رہا تھا ۔ یہ علیدان پاکستان کے اسلام آباد شہر سے تھا باقی کوٸ معلومات نہیں تھی ۔ اسلام آباد کا نام دیکھتے ہی ذہن میں پہلا خیال یہی آیا تھا کہ علیدان نے اپنا شہر اسلام آباد ہی بتایا تھا۔
”یس“
اس کے ہیلو کا جوابی مسیج تھا ۔ جو اس کے بھیجے گۓ پیغام کے آدھے گھنٹے کے بعد بھیج دیا گیا تھا اذفرین نے کانپتے ہاتھوں سے اگلا پیغام لکھا
”ہیلو علیدان ؟“
پیغام لکھنے کے بعد اب وہ گردن کو خم دے کر بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی فروا اسے آتے جاتے عجیب نظروں سے گھورتی تھی جیسے جانچ رہی ہو اور اذفرین کو ہر پل یہ محسوس ہو رہا تھا کہ وہ اس کے دل کی حالت کو جان لے گی ۔ وہ پہچان لے گی کہ وہ اب اذفرین نہیں تھی وہ تو سر سے لے کر پاٶں تک کسی کی عشق میں گرفتار ایک مجبور اذفرین تھی جوابی پیغام کی رنگ ٹون پر وہ اپنے خیالوں سے باہر آٸ جلدی سے سکرین پر نظر ڈالی ۔
”یس علیدان“
اذفرین کے لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ ابھری دوسری طرف اب پھر وہ لکھ رہا تھا کچھ اذفرین کے ٹاٸپ کرتے ہاتھ رکے ۔
”تمھارا علیدان میری فری “
جوابی پیغام نے تو جیسے اس کے دل کی دھڑکن روک دی تھی ۔ تمھارا کے لفظ پر تو سانس اٹک گٸ تو وہ کرتا ہے اس سے محبت یہ پھول اور پھول دیتے ہوۓ اس کی آنکھیں وہ کیسے بھول سکتی تھی علیدان نے اسے پہچان لیا تھا ۔ وہ خوشی سے سر شار تھی افف ہاتھوں کی کپکپاہٹ بڑھ گٸ تھی ۔
” آپ نے پہچان لیا کیا مجھے؟“
نچلے لبوں کو دانتوں میں دباۓ شوخ سے انداز میں ٹاٸپ کیا ۔
”بھول کیسے سکتا ہوں“
جواب پر وہ بے ساختہ مسکرا دی تھی ایک دفعہ پھر سے دروازے کی طرف مڑ کر دیکھا ۔
”تھنک گاڈ میں پریشان ہو گٸ تھی ۔۔ ایکچولی اس وقت سچویشن کچھ اسطرح کی بنی کہ میں آپ سے بات نہیں کر سکی بھاٸ زبردستی مجھے لے گۓ وہاں سے آپ کا رخ دوسری طرف تھا “
اذفرین نے جلدی سے وضاحتی پیغام ٹاٸپ کیا ۔
”سمجھ سکتا ہوں پریشان نہ ہو تم “
جوابی پیغام پر اذفرین نے شکر کا سانس لیا گداز سی نرم انگلیاں اب پھر سے لیپ ٹاپ سکرین پر دوڑ رہی تھیں۔
”ابھی بھاٸ کے لیپ ٹاپ سے ہوں تھوڑی دیر بات کر سکوں گی موباٸل ابھی نہیں لے سکتی تو یہیں سے کانٹیکٹ کیا کروں گے فیس بک سے “
پیغام لکھنے کے بعد اب منہ پر دونوں ہاتھ رکھے وہ جواب کا انتظار کر رہی تھی ۔ دوسری طرف سے وہ لکھ رہا تھا۔
”ہاں تو فیس بک ٹھیک ہے نا یہیں سے بات کرو مجھ سے بس “
جوابی پیغام پڑھتے ہی وہ پھر سے ٹاٸپ کر رہی تھی ۔
”شکر آپ مل گۓ مجھے میں بہت خوش ہوں“
اذفرین کے دانت لبوں کی اٶٹ سے جھلک پڑے آنکھیں چمک رہی تھیں ایک انوکھا سا رنگ تھا چہرہ کا جو دلکشی کو بڑھا رہا تھا ۔
”آہاں میں بھی تو دیکھوں یہ خوشی ذرا چہرہ تو دکھاٶ اپنا “
جوابی پیغام پر وہ بلش ہوٸ ۔ بے ساختہ منہ پر ہاتھ دھر لیے اور انگلیوں کی اٶٹ سے سکرین پر موجود جواب کو پھر سے پڑھا ۔
”مطلب ؟“
دھڑکتے دل کے ساتھ جواب لکھا ۔ تپتے گالوں کو انگلی کی پوروں سے چھوا ۔
”مطلب تصویر بھیجو اپنی بھٸ “
جوابی پیغام پڑھ کر پریشانی سے لب کچلا ۔
”علیدان تصویر کیسے بھیجوں لیپ ٹاپ سے ہوں “
پیغام بھیج کر معصوم سی صورت بناٸ ۔
” چلو ویڈیو کال کرتے ہیں “
جوابی پیغام نے تو اور جان نکال دی بے چارگی سے دروازے کی طرف دیکھا ۔ اور پھر دوسری طرف سے کال آنے لگی تھی جلدی سے بالوں کو ہاتھوں سے درست کیا اور کال کو ایکسیپٹ کیا ۔ دوسری طرف اندھیرا تھا ۔ وہ جو یہ سوچ رہی تھی علیدان کو دیکھے گی پریشان سی ہوٸ
” آپ کی طرف کا کیمرہ بھی آن کریں نا “
قریب ہو کر سرگوشی میں کہا پر اسی لمحے دوسری طرف سے کال کٹ گٸ تھی ۔
” آپ نے کال کاٹ دی مجھے دیکھنا تھا آپکو“
جلدی سے خفا سی صورت بناۓ پیغام ٹاٸپ کیا ۔
”سگنل اشو آ رہے ہیں نہ سمجھا کرو“
جوابی مسیج پر دھیرے سے سر ہلایا ۔ دل بجھ سا گیا ۔
”سنو بہت بہت خوبصورت ہو تم “
علیدان کی طرف سے آۓ مسیج نے تو ہتھیلی بھیگا دی تھی اتنی بے ساختہ تعریف تو وہ پہلی دفعہ کر رہا تھا ۔دل نے اوپر سے نیچے ایسے غوطہ لگایا کہ کان کی لو تک تپنے لگیں ۔بمشکل دھڑکتے دل کو سنبھالا ۔ اور جوابی پیغام ٹاٸپ کیا ۔
”سنیں سعد بھاٸ مجھے ملبرین لے آۓ ہیں میں سڈنی میں نہیں ہوں اب“
فوراً ذہن میں آنے والے خیال کو ٹاٸپ کیا ۔ اسے یہ بتانا ضروری تھا مبادہ وہ اسے سڈنی میں تلاش کرتا رہے ۔
” آہاں“
دوسری طرف سے مختصر جواب آیا تھا۔
”آپ کہاں ہے سڈنی میں ہیں کیا؟“
اگلا پیغام لکھا ۔ کمرے کا دروازہ زور سے بجا اذفرین نے فوراً فیس بک اکاٶنٹ بند کیا ۔
***********
علیدان نے بمشکل آنکھیں کھول کر لیمپ جلایا اور فون اٹھا کر کان سے لگایا رات کے دو بجے سہیل کی کال پر آنکھ کھلی تھی آسٹریلیا میں اس وقت شاٸد صبح ہو چکی تھی ۔ اس لیے وہ اس کی کٸ گٸ کال کے جواب میں جوابی کال کر چکا تھا ۔ سہیل ان کے پاکستان جانے کے ایک دن بعد سڈنی سے نکلا تھا اور اب علیدان کو بتا رہا تھا کہ اُس گھر میں اگلے دن بھی کوٸ موجود نہیں تھا
” یار عجیب مخلوق ہے تو اب تو فیس بک سے کوٸ بھی مل جاتا ہے چیک کر نا اسے کیا گھر کے پیچھے پڑا ہے “
سہیل کی آواز پر علیدان کے لب مسکرا دیے ننگے پاٶں چلتا وہ ٹیرس پر آ گیا تھا ۔ فون کان کو لگاۓ آسمان پر چمکتے چاند کو دیکھا ۔ ٹی شرٹ اور ڈھیلے سے کھلے پاٸنچے والے ٹریوزر میں وہ بکھرے بالوں میں بے حال سا لگ رہا تھا ۔ زیادہ سونے کی وجہ سے آنکھیں سوزش لیے ہوۓ تھیں ۔
” پیار کرتا ہوں اس سے تجھ سے زیادہ ہر پہلو سے سوچتا ہوں “
علیدان نے گہری سانس لی ٹیرس پر لگے جنگلے پر مضبوطی سے ہاتھ دھرے ۔ آسٹریلیا میں گرمی پڑ رہی تھی پر یہاں تو شدید سردی تھی ۔ ٹھنڈی ہوا کے تھپیڑوں نے پل بھر میں ہی احساس دلا دیا کہ وہ ننگے پاٶں اور آدھی آستین والی شرٹ میں ہے ۔
” کل سب سے پہلا کام یہی کیا تھا میں نے، تجھے پتا ہے میں پہلے کتنا الرجک ہوں اس سب سے صرف اس کی خاطر اکاونٹ بنایا اور اذفرین نام کی کوٸ لڑکی نہیں فیس بک پر“
علیدان نے افسردگی سے کہا اور جنگلے پر ٹکے اپنے ہاتھوں پر نظر دوڑاٸ ٹھنڈا فرش پاٶں سے ٹھنڈک کو دل تک پہنچا رہا تھا جہاں آگ سلگ رہی تھی۔ پل پل یہ احساس اندر سے کھا رہا تھا کہ وہ اس سے کیوں بات نہیں کر کے گٸ کیا تھا اس کے دل میں جو یوں چلی گٸ۔
”ایک تو یہ پاکستانی لڑکیاں اپنے نام سے کب بناتی ہیں اکاٶنٹ بابا کی پری تو پاپا کی پرنسز “
سہیل نے بھی افسردگی سے کہا ۔ علیدان اس کی بات پر بے ساختہ مسکرا دیا ۔
” نہیں مجھے جہاں تک لگتاہے وہ فیس بک استعمال نہیں کرتی ہے “
علیدان نے فوراً اس کی بات کی نفی کی ۔ چاند میں اس کے معصوم سے چہرے کا عکس دکھا ۔
”یعنی کے بلکل تیرے جیسی واہ رب نے بنا دی جوڑی بھٸ دونوں ٹارزن ،دونوں خوبصورت، دنوں کے نام کا مطلب ایک جیسا اور دنوں سوشل میڈیا سے الرجک “
سہیل قہقہ لگا رہا تھا ۔ علیدان نے اسے کے قہقے کا بھرپور ساتھ دیا ۔رخ پھیر کر کمر کو جنگلے سے ٹکایا اور ایک بازو فولڈ کیے بغل میں دبایا اب باقاعدہ جسم کانپنے لگا تھا ۔
” کر لے مزاق میں بہت پریشان ہوں ادھر بابا بلکل نہیں مان رہے کہ میں آسٹریلیا جاٶں اور اس دفعہ تو مما بھی ساتھ نہیں میرے “
علیدان نے پریشان سی صورت بناٸ ۔ دو دن سے تو وہ نید پوری کر رہا تھا پر اذفرین ایسے حواسوں پر چھاٸ تھی کہ خواب میں بھی وہی نظر آتی تھی ۔
” ایک کام کرے گا میرا ؟“
علیدان نے تھورڈی پر پرسوچ انداز میں ہاتھ پھیرتے ہوۓ سہیل سے پوچھا ۔
”بول؟ “
سہیل نے محبت سے پوچھا ۔ آسٹریلیا میں یہ علیدان کا واحد دوست تھا وہ انڈیا سے تھا پر مسلمان ہونے کی وجہ سے دنوں میں بہت جلد گہری دوستی ہو گٸ تھی۔ علیدان کے ساتھ ہونے والے سانحہ کی خبر سہیل نے ہی گھر والوں کی دی تھی ۔
” ایک دفعہ پھر سے سڈنی جا میرے لیے پلیز ،وہ بنکس ٹاٶن کے کسی سٹور پر ورکر کے طور پر کام کرتی تھی وہاں سے ضرور اس کا پتا چل سکتا ہے “
علیدان کے لہجے میں دنیا بھر کی التجا تھی ۔اب وہ کمرے میں آ گیا تھا جلدی سے ٹیرس کا رولنگ دروازہ بند کیا ۔
”علیدان بنکس ٹاٶن میں اتنے سٹور ہیں بھاٸ میرے“
سہیل کا حیران سا لہجہ ابھرا۔ علیدان نے فوان والے ہاتھ کو بدلہ ۔ یہی تو مسٸلہ تھا اس نے صرف اپنی جاب کا ذکر کیا تھا لیکن سٹور کا نام نہیں بتایا تھا ۔
” ہاں پتا ہے بہت سے سٹور ہیں کیا کر نہیں سکتا میرے لیے“
علیدان نے پھر سے التجاٸ لہجہ اپنایا ۔ دوسری طرف تھوڑی دیر خاموشی رہی
” ہممم کوشش کرتا ہوں “
سہیل کی پر سوچ آواز ابھری کیا پتہ وہ گھر غلط ہو اور سٹور سے اذفرین کی انفارمیشن مل جاۓ یا کیا پتہ اذفرین ہی مل جاۓ ۔ علیدان گہری سوچ میں ڈوبا تھا اور سہیل اسے یونیورسٹی کے حالات بتا رہا تھا ۔
***********
”بھاٸ بھابھی اگر نہیں چاہتی تو ۔۔۔“
اذفرین نے سہمی سی نگاہ سامنے بیٹھے سعد پر ڈالی سعد نے پانی پیتے ہوۓ ہی آنکھیں اٹھا کر اسے گھورا ۔ خالی گلاس سامنے کھڑی اذفرین کو تھمایا ۔
”کیوں بھابھی تم پر خدا ہے کہ جو وہ کہے گی وہی ہو گا “
سعد نے پیشانی پر بل ڈالے اور گھور کر دیکھا ۔ وہ اب اذفرین کو آگے پڑھانا چاہتا تھا اور فروا اس کی بھی مخالفت کر رہی تھی اس کا کہنا تھا کہ اسکی پڑھاٸ کا خرچہ اٹھانا بہت مشکل ہے ۔
” یہ پراسپیکٹس اٹھاٶ اور فارم فل کرو تم پڑھو گی آگے “
ساتھ پڑی یونیورسٹی پراسپیکٹس کی طرف اشارہ کیا سعد کے غصے کے پیش نظر گھبرا کر پراسپیکٹیس اٹھاٸ ۔ابھی دروازے پر ہی پہنچی تھی کہ
”اور میرا لیپ ٹاپ تمھارے پاس ہے “
عقب سے سعد کے سوال پر کانپ گٸ ۔
” جی بھاٸ وہ مہرین آپی سے بات کر رہی تھی تو“
چہرے کا رخ موڑے بناکہا ۔ پہلی دفعہ بھاٸ سے چوری کر رہی تھی دل لرز رہا تھا ۔
”اچھا ٹھیک ہے رات کو دے جانا مجھے کام کرنا ہے تھوڑا“
سعد کی مصروف سے آواز ابھری اذفرین نے سر ہلایا اور تیزی سے قدم کمرے سے باہر نکالے ۔
کمرے میں جاتے ہی دروازہ لگا کر لیپ ٹاپ کو گود میں رکھے لیپ ٹاپ کھولا علیدان سے باتیں کرتے اسے آج تیسرا دن تھا ۔ بات کچھ دیر ہی وہ کر پاتی تھی لیکن وہ جب بھی پیغام بھیجتی وہاں سے فوراً جوابی پیغام آ جاتا تھا یقیناً وہ فون سے فیس بک استعمال کرتا تھا ۔
”کیسی ہو؟“
اسکا پیغام آیا ہوا تھا اذفرین نے جلدی سے جوابی پیغام ٹاٸپ کیا ۔
”میں ٹھیک ہوں آپ بتاٸیں ٹانگ اور پیٹ کا زخم کیسا ہے اب ؟“
اچانک یاد آیا ان تین دنوں میں وہ اس کے ٹانگ اور پیٹ کے زخم کے بارے میں تو پوچھنا ہی بھول گٸ تھی۔
”وہ سب ٹھیک ہے اب ، اچھا تم نے کہا تھا تم آج تصویریں بھیجو گی اپنی مجھے“
دوسری طرف سے بے تابی بھرا پیغام آیا ۔ اذفرین کا دل بجھ گیا جو یہ سوچے ہوۓ تھا کہ وہ اس کے زخم کا پوچھے گا
”جی پر وہ جس فلیش میں تھیں وہ مل نہیں رہی مجھے لگتا ہے میں سڈنی بھول آٸ ہوں وہ “
اذفرین نے پریشانی سے لب کچلے ۔ دوسری طرف سے اداس سی شکل بھیجی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: