Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 14

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 14

–**–**–

”علیدان آپ جلد رشتہ بھیج دیں پلیز ایسا نہ ہو بھابھی بھاٸ کو مزید میرے خلاف بھر دیں“
اذفرین نے بےچینی سے جوابی پیغام ٹاٸپ کیا ۔ ان تین دنوں میں اس بات کو یقین ہو چلا تھا کہ علیدان اس سے بہت پیار کرتا ہے پر فروا کی ماٸدہ سے کی گٸ گفتگو وہ سن چکی تھی ۔ وہ اذفرین کے یوں آسٹریلیا میں رہنے پر خوش نہیں تھی اور کسی بھی قیمت پر اسے واپس پاکستان بھجوانا چاہتی تھی۔
”اوہ ہاں بھیجوں گا نا ضرور بھیجوں گا “
علیدان کے جوابی مسیج پر مسکراہٹ نے لبوں گھیراٶ کیا۔ سکون سے سانس لیا ۔
” اچھا یہ تو بتاٸیں اس ہٹ والے آدمی نے کوٸ رابطہ کیا پھر آپ سے؟“
اچانک یاد آیا تو شرارت سے مسکراتے ہوۓ پوچھا ۔دوسری طرف خاموشی رہی پھر کچھ دیر بعد مسیج ٹاٸپنگ نظر آٸ ۔
” کون سی ہٹ ؟“
عجیب سا سوال تھا اذفرین نے حیرت سے آنکھوں کو سکیڑا ۔ تنگ کر رہے ہیں مجھے ۔ ہٹ کو کیسے بھول سکتے ہیں ۔
”علیدان وہی جنگل والی ہٹ جہاں آپ اپنا ایڈریس چھوڑ کر آۓ تھے “
پیشانی پر حیرت کے زیر اثر شکن نمودار کیے جواب ٹاٸپ کیا ۔ جب کے جواب لکھنے کے بعد لب پھر سے مسکرا دیے جانتی تھی وہ محض تنگ کر رہا ہے اسے۔ وہ اب جواب دیر سے دے رہا تھا۔
”ہاں ہاں کر لیا رابطہ کر لیا “
دوسری طرف جواب نے اور حیران کیا۔ اتنی جلدی رابطہ کر لیا ۔ پر خوشی ہوٸ کہ اس آدمی کو اس کے گھر میں ہوٸ توڑ پھوڑ کی وجہ مل گٸ ۔ کہ یہ توڑ پھوڑ کسی غلط مقصد کے لیے نہیں کی گٸ تھی ۔
” کیا سچ کتنے پیسے مانگے اس نے؟“
اذفرین نے اگلا سوال کیا ۔ اسے اچھا لگتا تھا علیدان سے جنگل کے بارے میں باتیں کرنا پر وہ یہ محسوس کرتی تھی کہ علیدان جنگل کی باتوں کو سرسری سے انداز میں کرتا تھا یا ٹال دیتا تھا ۔
”اچھا سنو پھر بات کرتے ہیں رات کو بات کریں گے ابھی مجھے کام ہے“
آج پھر جنگل کی بات پر جواب عجیب تھا۔ اذفرین نے بجھے سے دل سے ہاتھوں کو لیپ ٹاپ کے ٹاٸپنگ پیڈ پر رکھا ۔
”علیدان رات کو بات نہیں کرسکوں گی بھاٸ کے پاس ہوتا ہے لیپ ٹاپ“
روہانسی صورت بناۓ اپنی پریشانی سے آگاہی دی۔ دوسری طرف سے وہ جواب لکھ رہا تھا ۔
”کچھ نہیں جانتا میں کیا اتنا نہیں کر سکتی میرے لیے باۓ ناٶ“
جواب اس دفعہ بھی بہت عجیب تھا وہ پریشان سی ہوٸ ۔ وہ آف لاٸن ہو چکا تھا علیدان ایسا کیوں کر رہا تھا اس کے ساتھ ایسا تو نہیں تھا وہ بلکل بھی پھر اچانک جنگل میں اس کے کیے گۓ غصے کو یاد کیا تو گہری سانس لی وہ مجھے دیکھنا چاہتا ہے اور میں تصویریں نہیں دے رہی شاٸد یہی وجہ ہے ۔
************
علیدان کمر پر ہاتھ دھرے پریشان سا کھڑا تھا ۔ خبر تھی یا بمب تھا جو اس کے سر پر پھوڑا گیا تھا ۔ دلاور ولاز میں آج رات کو اس کے زندہ سلامت مل جانے پر ساری فیمیلی کو مدعو کیا گیا تھا اور یہ دعوت صرف یہیں تک محدود نہیں تھی ۔ اسکی اوزگل کے ساتھ باقاعدہ رسمِ نسبت کی تقریب بھی تھی ۔
اور اس کو آج دو ہفتے کے بعد خبر ہو رہی تھی کہ اوزگل کے ساتھ اس کا رشتہ طے ہو چکا ہے اور اوزگل کی اور صندل کی پڑھاٸ ختم ہوتے ہی صندل کی شادی کے ساتھ اس کی اور اوزگل کی بھی شادی کر دی جاۓ گی ۔
زیب بیگم اسے خبر سنانے کے بعد اب بغور علیدان کا چہرہ تک رہی تھیں ۔اور اس کے بولنے کا انتظار کر رہی تھیں ۔ وہ کمر پر ہاتھ دھرے پیشانی پر پرسوچ شکن سجاۓ کھڑا تھا ۔
اسے آسٹریلیا سے آۓ دو ہفتہ ہو چلے تھے اور سرجری ہوۓ بارہ دن اب وہ کافی حد تک بہتر تھا اس لیے میر دلاور نے گھر میں ہی سب قریبی رشتہ دار کو مدعو کیا تھا اور اسی تقریب میں وہ باقاعدہ علیدان اور اوزگل کی نسبت کی رسم ادا کرنا چاہتے تھے ۔
”مما آپ بابا سے بات کریں میں گل کو صندل کی طرح سمجھتا رہا ہوں میں اس سے کسی صورت شادی جیسے رشتے کے لیے تیار نہیں ہوں“
علیدان نے بےزار سی صورت بناۓ زیب کے بلکل سامنے آ کر کہا ۔ زیب نے سپاٹ چہرے کے ساتھ محض ایک گہری سانس لی ۔
”تو سمجھتے رہے ہو نہ اب مت سمجھنا “
زیب نے اس کے چہرے پر کھوجتی سی نگاہ ڈالی ان کا لہجہ معنی خیز تھا چبھتا سا ۔ علیدان نے الجھ کر ان کی طرف دیکھا۔اذفرین کی محبت اور یاد وقت مندمل نہیں کر سکا تھا بلکہ وہ تو ہر گزرتے وقت کے ساتھ اس کے اندر مزید گہری ہوتی جا رہی تھی ۔
”آپ سمجھ کیوں نہیں رہی مما میں اس کو ۔۔۔ “
علیدان نے فقرہ ادھورا چھوڑا اور پھر جھنجلا کر دونوں ہاتھوں سے بالوں کو جکڑا ۔ سوچا تو یہ تھا کہ پہلے اذفرین کو تلاش کرے گا پھر ہی بتاۓ گا سب کو پر یہ اچانک افتاد نے بوکھلا کر رکھ دیا تھا ۔ قصور اس میں میر دلاور کا بھی نہیں تھا کل تک سب علیدان کی عادت سے یہی توقع رکھتے تھے کہ اسے لڑکیوں میں قطعاً کوٸ دلچسپی نہیں ہے اور گھر والے جہاں چاہیں گے وہ وہاں سر جھکا کر شادی کر لے گا ۔
”آٸ لاٸک سم ون ایلس مما“
گہری سانس خارج کرتے ہوۓ اس نے اپنی طرف سے زیب کو ایک ایسی خبر سے آگاہی دی تھی جس سے وہ یکسر انجان تھیں ۔ پر ان کا تاثر اس کی سوچ کے بلکل برعکس تھا ۔
”اور اگر وہ نہ ملی تو کیا کرو گے،کیا وہ بھی کرتی ہے تم سے محبت؟“
زیب نے سپاٹ لہجے میں اس سے دو سوال پوچھ ڈالے علیدان نے چونک کر ان کی طرف دیکھا ان کو کیسے معلوم تھا کہ وہ اسے ڈھونڈ رہا ہے اور وہ اسے ابھی تک ملی نہیں ہے ۔حیرت سے آنکھوں کا حجم بڑھا پر بول کچھ نا سکا ۔
”علیدان اگر وہ پیار کرتی تم سے تو وہ خود تمہیں اپنا ایڈریس دیتی تم ایک سیراب کے پیچھے کیوں بھاگ رہے ہو“
زیب کی پیشانی پر بل تھے اور لہجہ سپاٹ کے بجاۓ سختی کا عنصر لے چکا تھا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ پوچھنے کے لیے لب کھولتا زیب بیگم نے ہاتھ کو ہوا میں اس کے اور اپنے بیچ حاٸل کرتے ہوۓ اسے بولنے سے روک دیا ۔
”سہیل مجھے بتا چکا ہے سب تم پھر سے اسے سڈنی بھیج رہے ہو اس لڑکی کو تلاش کرنے کے لیے علیدان مت کرو ایسا اس لڑکی کو اگر تم سے محبت ہوتی کیا وہ یوں چپ چاپ وہاں سے چلی جاتی“
زیب بیگم کے لہجے میں اب کی باری سختی قدرے کم تھی ۔ علیدان نے کمر سے ہاتھ اٹھا کر ہوا میں اچھالے ۔
”سہیل نے بتایا آپ کو سب“
علیدان کی آواز گھٹی سی تھی ایک دم سے جیسے دل بجھ سا گیا تھا ۔ مطلب سہیل صرف زیب کے کہنے پر سڈنی نہیں گیا تھا دوبارہ ۔
”اس نے خود نہیں بتایا تھا میں نے ہی پوچھا تھا تم اتنے چپ چپ گم سم سے تھے پہلے دن سے تو میں ماں ہوں مجھے کہاں چین تھا “
زیب بیگم نے قریب آ کر اسے کندھوں سے تھام لیا۔ علیدان نے چہرے کا رخ خفگی سے موڑا۔ ان کو کیسے سمجھاتا کہ وہ جب تک اذفرین کو تلاش کرنے کے بعد اس سے خود کنفرم نہیں کر لیتا تب تک اس کے دل کو کبھی یقین نہیں آۓ گا کہ وہ اس کے لیے وہی محسوسات نہیں رکھتی جو وہ اس کے لیے رکھتا ہے ۔
”علیدان تم فلحال گل سے منگنی کر لو اس لڑکی کو تلاش کرتے رہو میں تمہیں نہیں رکوں گی اگر وہ مل جاتی ہے تو پھر میں تمھارے بابا سے بات کروں گی تمھارے لیے یہ وعدہ ہے میرا “
زیب نے محبت بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے کندھوں پر دباٶ ڈالا علیدان نے الجھ کر ان کی طرف دیکھا ۔ کندھوں پر ان کا محبت بھرا دباٶ ایک بوجھ محسوس ہوا جو وہ زبردستی اسے کندھوں پر اٹھانے پر مجبور کر رہی تھیں ۔
”مطلب تب تک میں گل کو اپنے ساتھ لٹکا کر رکھوں مما عجیب بات ہے یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ “
علیدان نے جھنجلا کر ان کے کندھے پر رکھے ہاتھوں کو خود سے الگ کیا اور رخ موڑے پریشانی سے سینے پر ہاتھ باندھے
”علی تم سمجھ نہیں رہے میری بات درخشاں کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی ابھی مناسب نہیں منگنی سے انکار کرنا گل بہت سمجھدار بچی ہے اگر وہ لڑکی مل گٸ تو میں خود گل کو سمجھا دوں گی مجھے یقین ہے وہ مان جاۓ گی اور تب تک شاٸد درخشاں کی طبیعت بھی بہتر ہو جاۓ ابھی تو اس کے باٸ پاس کو چند دن ہی گزرے ہیں “
زیب نے التجاٸ لہجہ اپنایا علیدان کا انداز اس بات کی گواہی دے رہا تھا کہ وہ جس لڑکی کو تلاش کر رہا ہے وہ اس سے کتنی محبت کرتا ہے ۔ پر یہاں رخشاں کی حالت اس طرح نہیں تھی کہ ان کو اتنا بڑا شاک دیا جاتا ۔
”مما عجیب بات کر رہی ہیں آپ “
علیدان نے الجھ کر زیب کی طرف دیکھا پر ان کی آنکھوں میں موجود التجا دیکھ کر وہ چپ ہو گیا۔ ایک طرح سے وہ بھی اپنی جگہ درست تھیں اذفرین اس سے محبت کرتی ہے یہ اس کا ہی خودساختہ مفرضہ تھا ۔
”کچھ عجیب نہیں میری جان بس ابھی سب بہت خوش ہیں سب کو خوش رہنے دو “
زیب نے باہیں پھیلا دی تھیں اور وہ پرسوچ سا ان کے ساتھ لگا ۔ آنکھیں ساکن تھیں اور چہرہ بجھا سا تھا۔
**********
سانولے سے مردانہ ہاتھ لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر چل رہے تھے ۔ سکرین پر فیس بک سرچنگ میں علیدان کا نام ٹاٸپ ہوا اور ملک آسٹریلیا منتخب ہوا تلاش کے آپشن پر کلک کرتے ہی صرف ایک اکاونٹ سامنے آیا ۔
دانش کی پہلی نظر اس کی ڈسپلے پر لگی تصویر پر پڑی وہ بہت خوبصورت چبھیس ستاٸیس سالہ لڑکا تھا سفید رنگ کی ٹی شرٹ پہنے وہ مسکرا رہا تھا اکاٶنٹ دو ہفتے پہلے بنایا گیا تھا ۔
دانش نے کمینگی سے ایک آبرٶ چڑھاۓ تھورڈی پر ہاتھ پھیرا اس کا رنگ سانولہ تھا موٹی سی ناک پر بہت سے کھڈے تھے گال پر بھی اسی طرح جگہ جگہ کھڈے اور مسام کھلے تھے آنکھیں گدلے سے رنگ کی تھیں جن میں سرخ ڈورے تھے ۔ دانش نے جلدی سے علیدان دلاور نامی اس لڑکے کی باقی دی گٸ معلومات چیک کیں اور پھر ایک شاطرانہ سی مسکراہٹ چہرے پر سج گٸ تھی وہ آسٹریلیا یونیورسٹی کا ہی طالب علم تھا ۔ یہ وہی علیدان تھا جسے وہ حسینہ تلاش کر رہی تھی اور غلطی سے اس سے ٹکرا گٸ تھی ۔ جلدی سے اس کی ڈسپلے پر لگی اس کی تصویر کو محفوظ کیا ۔ اس کی ساری انفارمیشن کے سکرین شارٹ لیے
سر کے پیچھے ہاتھ رکھے اب وہ قہقہ لگا گیا ۔ سیاہ ہوتے ہونٹوں کے پیچھے گدلے سے دانت باہر نکلے اس کے مکروہ چہرے کو اور وحشت ناک بنا رہے تھے
کتنی معصوم اور بیوقوف لڑکی تھی پر بلا کی خوبصورت تھی پہلے دن جب اسے ویڈیو کال پر دیکھا تو وہ ششد رہ گیا تھا ۔ بیضوی چہرہ چکمتے بھورے ریشمی بال جو کندھوں پر بکھرے تھے چھوٹی سی تیکھی ناک گھنی مڑی ہوٸ پلکوں کے نیچے بڑی سی معصومیت لیے شفاف سی آنکھیں بھرے سے گداز گلابی لب لمبی سی گردن اس نے تو ویسے ہی اپنی عادت سے مجبور ہو کر دو چار آوارہ سے جملے اچھالے تھے پر وہ تو ایسی مچھلی کی طرح اس کے پھینکے گۓ پھندے میں خود آ کر پھنسی تھی جیسے اسی کے انتظار میں تھی ۔ ویسے ہی ویڈیو کال کر لی کہ دیکھے آگے کوٸ لڑکا تو نہیں جو اتنی جلدی سیٹ ہو رہا ہے پر جیسے ہی اس نے کال ایکسیپٹ کی وہ تو منجمند ہی ہو گیا تھا ۔
وہ مکمل حسن رکھنے والی معصوم سی باٸیس تٸیس سال کی لڑکی تھی جو اسے کوٸ اور ہی علیدان سمجھ بیٹھی تھی ۔ اس کے حسن نے آنکھوں کو تو خیرہ کیا ہی تھا پر دل کو بھی بے ایمان کر دیا تھا اب اس سے بات کرتے ہوۓ اسے دو ہفتے ہو چلے تھے پر اب اسے مکمل طور پر جال میں پھنسانے کا وقت آن پہنچا تھا یہی وجہ تھی اس نے آج اصلی علیدان کو کھوج نکالا تھا اور یہ علیدان اذفرین کو کیوں نہیں مل سکا تھا اس کا بھی جواز اسے باخوبی سمجھ آ چکا تھا۔
اذفرین نے جس رات اسے تلاش کیا تھا اصلی علیدان کا فیس بک اکاٶنٹ اس سے اگلے دن کریٹ ہوا تھا ۔ اور اس نے باقاعدہ اپنی تصویر لگا رکھا تھی ۔
”دانش دانش“
نسوانی آواز کی بازگشت پر اس نے جلدی سے فیس بک اکاٶنٹ کو بند کیا ۔ سانولی سی صحت مند عورت کمرے کے دوازے میں کھڑی تھی دانش نے بے زار سی صورت بناۓ سامنے کھڑی عورت کی طرف دیکھا جو اس کی بیوی تھی۔
”دانش علیدان کل سے رو رہا ہے اس کے پیٹ میں درد ہے شاٸد “
سامنے کھڑی عورت نے پریشان سے لہجے میں اس کے دوسرے نمبر والے بیٹے کے بیمار ہونے کی اطلاع دی ۔ یہی وہ بیٹا تھا جو علیدان دلاور کا ہم نام تھا اور اس کے نام سے دانش نے ایک فیک اکاٶنٹ بنا رکھا تھا جس سے اکثر وہ لڑکیوں کو تنگ کرتا تھا ۔
دانش نے بے زار سی صورت بناۓ سامنے کھڑی عورت کی طرف دیکھا سارا مزہ خراب کر چکی تھی وہ ۔ وہ دو بیٹوں کا باپ تھا ۔اور اس کی کمپیوٹر ریپیرنگ کی چھوٹی سی دوکان تھی جس پر بیٹھ کر وہ سارا دن فیس بک پر اس طرح کی حرکات کرتا تھا اور اذفرین تو ایسی پری تھی جو انجانے میں ہی اس کے جال میں آ پھنسی تھی اور اسے اس سارے کھیل میں مزہ آنے لگا تھا اس کی وجہ اذفرین کی معصومیت اور خوبصورتی تھی ۔
”تو تمہیں کہا تو تھا کہ ڈاکٹر کے پاس چلی جانا اب میں دوکان سے تھکا ہارا گھر آتا ہوں تو تمھاری فرماٸشیں شروع“
دانش نے پیشانی پر بل ڈالے ناگواری سے کہا ۔
”دانش یہ فرماٸش ہے کیا افسوس ہے آپ پر مجھے ہمارا بیٹا ہے وہ “
سامنے کھڑی عورت کے چہرے پر اب فکرمندی کے ساتھ ساتھ افسردگی بھی تھی ۔
”اچھا اچھا بس اب چلو تیار ہو جا کر آ رہا ہوں میں“
دانش نے نظریں چراتے ہوۓ لیپ ٹاپ بند کیا اور ہاتھ کے اشارے سے اسے جانے کے لیے کہا۔ اور خود پھر سے فیس بک اکاٶنٹ کھول کر محفوظ کی ہوٸ تصویر اذفرین کو انباکس کی ۔
**********
صندل ہلکے سے پیچ رنگ کے لمبے گھیرے دار پاٶں میں پڑتے فراک کو دونوں اطراف سے پکڑے احتیاط سے سیڑھیاں چڑھ رہی تھی جبکہ متلاشی نظریں ارد گرد گھما رہی تھی ۔
لان میں اوزگل اور علیدان کی منگنی کی تقریب شروع ہونے والی تھی سب موجود تھے مسواۓ ادیان کے اور اب صندل اسی کی تلاش میں اوپر تک آ گٸ تھی یونہی اسے کھوجتی وہ اب ادیان کے کمرے تک آ چکی تھی دروازے پر ہاتھ رکھا تو وہ اندر کو کھلتا چلا گیا۔
صندل متلاشی نظروں کو گھماتی کمرے میں داخل ہوٸ تو ادیان سامنے لان میں کھلنے والی کھڑکی میں اداس سا کھڑا تھا صندل کی طرف پیٹھ تھی پر دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ گڑبڑا سا گیا اور اب چہرہ جھکاۓ ہاتھوں سے آنکھوں کے کونوں کو مسل رہا تھا۔
”ادیان بھاٸ آپ یہاں ہیں آ جاٸیں نا نیچے علیدان بھاٸ کی منگنی کی رسم شروع ہونے والی ہے “
صندل ناسمجھی اور حیرانگی سے اسے بغور دیکھتی ہوٸ آگے بڑھی ۔ وہ سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس تقریب کے لیے بلکل تیار کھڑا تھا پھر نیچے کیوں نہیں آ رہا تھا صندل کو اس کا یوں اسے یہاں دیکھ کر ایکدم سے بوکھلا جانا عجیب لگا تھا ۔
”ہاں۔۔۔ہاں آ رہا ہوں تم چلو“
ادیان نے جلدی سے چہرے کا رخ موڑا ۔ صندل اب بلکل اس کے پیچھے پر تجسس سی کھڑی تھی ۔
تیار تو ہو چکا تھا پر جیسے جیسے تقریب کا وقت قریب آ رہا تھا دل پر جیسے کوٸ پتھر دھرنے لگا تھا اور ہر گزرتے لمحے میں پتھروں کی تعداد بڑھ رہی تھی ۔ اب تو وزن اتنا زیادہ ہو چکا تھا کہ ایک پھانس سی تھی جو سینے میں اٹک گٸ تھی اور سانس لینے میں دشواری ہونے لگی تھی لان میں کھلنے والی کھڑکی سے نیچے دیکھا تو جیسے قدم جکڑے گۓ اوزگل پستہ رنگ کی میکسی میں دلکشی کے تمام پچھلے ریکارڈ توڑے بیٹھی تھی چہرے پر کچھ جیت جانے جیسا احساس تھا آنکھیں سب کچھ پا لینے کی خوشی میں دمک رہی تھیں لبوں پر دلکش مسکراہٹ تھی۔
ادیان کے دل میں بھرتا دھواں اب آنکھوں میں چبھن پیدا کر رہا تھا ایسے جیسے کسی نے آنسو گیس پھینک دی ہو اور اب یہ چبھن آنسو بن کر آنکھوں میں اترنے لگی تھی ۔وہ انہی خیالوں میں کھویا سا کھڑا تھا جب پیچھے سے دروازہ کھلنے کی آواز پر چونک گیا۔
”ادیان بھاٸ ۔۔۔“
صندل پرتجسس سی آواز میں کہتی گھوم کر ادیان کے سامنے ہوٸ تو دھک رہ گٸ۔ وہ رو رہا تھا شاٸد آنکھوں کے کونوں میں نمی سی تھی جو صندل کی آنکھوں سے پوشیدہ نہیں رہ سکی تھی ۔
”آپ رو رہے ہیں بھاٸ؟“
صندل تڑپ کر آگے ہوٸ اور پریشان سے لہجے میں پوچھا ادیان گڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔ اور مضبوط انگلیوں کی پور سے آنکھ کے کونے رگڑ ڈالے ۔
”نہیں ویسے ہی پرفیوم لگایا تو شاٸد آنکھوں میں چلا گیا “
ادیان نے جلدی سے رخ موڑے اس سے نم آنکھوں کو چھپانا چاہا ۔ مبادہ وہ اس کی آنکھوں میں موجود کرب کو جانچ کر وجہ نہ طلب کر بیٹھے
”بھاٸ۔۔۔۔۔۔“
صندل نے ادیان کا کندھا پکڑ کر اپنی طرف موڑا ۔ ادیان کو آج سے پہلے کبھی اس نے یوں اداس نہیں دیکھا تھا وہ دونوں بھاٸیوں سے چھوٹی تھی پر حساس بہت تھی اب بھی ادیان کا بجھا سا چہرہ اسے پریشانی میں مبتلہ کر چکا تھا ۔
”چلو نہ یار آ رہا ہوں اوز آ گٸ ہے کیا؟“
ادیان نے اس کے ہاتھ کو جھٹک کر نظریں چراٸیں اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا سنگہار میز کے سامنے جا کھڑا ہوا اور بلاجواز کنگھی شدہ سر کو پھر سے ہیر برش چلا کر کنگھی کرنے لگا ۔
”جی وہ آ گٸ ہے “
صندل نے گہری سوچ میں ڈوبی آواز میں جواب دیا اور پھر سے ادیان کے قریب آٸ اب وہ ادیان کے چہرے پر سامنے آٸینے میں جانچتی نظر ڈالے ہوۓ تھی ۔
”ادیان بھاٸ میں کچھ سوچ رہی ہوں اور جو میں سوچ رہی ہوں ۔۔۔“
صندل نے مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ ادیان کے چہرے کے بدلتے رنگ جانچے ابھی بات مکمل نہیں کر پاٸ تھی کہ ادیان جھٹکے سے سیدھا ہوا
” کیوں سوچ رہی ہو تم، کچھ مت سوچو “
ادیان نے نارمل سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے سر پر چپت لگاٸ اور آگے بڑھا۔ ادیان اور اوزگل بچپن سے ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست تھے اور یہ بات دونوں خاندان باخوبی جانتے تھے پر یہ کبھی کسی کے ذہن میں نہیں آیا کہ یہ دوستی کسی ایک کے لیے پیار میں بھی تو بدل سکتی ہے ۔
” اب تو سوچ چکی بھاٸ اور سوچا یہ ہے کہ آپ اوزگل کو۔۔۔ “
صندل کی گھٹی سی آواز نے ادیان کے دل کو گھٹن کا شکار کر دیا تھا وہ تڑپ کر صندل کے قریب آیا ۔ سپاٹ چہرہ بھیگی اداس آنکھیں صندل کا دل دکھ سے بھر گیا ۔
”لیکن اوز مجھ سے نہیں علیدان بھاٸ سے محبت کرتی ہے، بس چپ اس بات کو اور اپنی سوچ کو یہیں پر دفن کر دو “
ادیان کا لہجہ بھی آنکھوں کے کونوں کی طرح بھیگا ہوا تھا صندل نے ہاتھ اٹھا کر کچھ کہنا چاہا لیکن ادیان نے اس کے منہ پر انگلی رکھ کر اسے کچھ بھی بولنے سے اس سختی کے ساتھ منع کیا کہ وہ دم سادھ گٸ ۔ ادیان لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر جا چکا تھا جب کے صندل دلاور الجھی سی وہیں کھڑی تھی ۔
دِل تھا ،کہ پُھول بَن کے بِکھرتا چلا گیا
تصوِیر کا جمال اُبھرتا چلا گیا
شام آئی، اور آئی کچھ اِس اہتمام سے!
وہ گیسُوئے دراز بِکھرتا چلا گیا
غم کی لکیر تھی کہ، خوُشی کا اُداس رنگ
ہر نقش آئینے میں اُبھرتا چلا گیا
ہر چند، راستے میں تھے کانٹے بچھے ہُوئے
جس کو تیری طلب تھی گُزرتا چلا گیا
جب تک تِری نِگاہ نے توفِیق دی مُجھے
میں تیری زُلف بَن کے سَنورتا چلا گیا
دَو ہی تو، کام تھے دلِ ناداں کو، اے عدمؔ!
جِیتا چَلا گیا ، کبھی مَرتا چلا گیا
علیدان اوزگل کے ہاتھ کو تھامے اپنے نام کی انگوٹھی پہنا رہا تھا ۔ صندل بار بار ادیان کی طرف دیکھ رہی تھی جو قہقے لگاتا ہوا تصویریں بنا رہا تھا ۔ علیدان کو چھیڑ رہا تھا تو کبھی اوزگل کو چھیڑ رہا تھا اور اوزگل بار بار مسکراہٹ دباتی مصنوعی خفگی سے ادیان کی طرف دیکھ رہی تھی صندل بھی ادیان کے اس کرب کو چھپاۓ چہرے میں ایسی کھوٸ کہ اوزگل کے بلکل بغل میں بیٹھے اپنے دوسرے بھاٸ علیدان کے اترے سے چہرے کو فراموش کر گٸ ۔
************
ملبرین سٹینڈرڈ ایجوکیشنل یونیورسٹی کے کوریڈور میں لگے بینچ پر وہ سر جھکاۓ موباٸل پر پیغام دیکھ رہی تھی لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی اور جسم کے رویں رویں سے اس کے اندر کی خوشی جھلک رہی تھی ۔
اسکا ماسٹرز ساٸنس آف کامرس میں داخلہ ہو چکا تھا یونیورسٹی میں آتے اسے ایک ماہ ہو چلا تھا اور علیدان سے بات کرتے ہوۓ دو ماہ ہو گۓ تھے ۔ اور اس وقت بھی وہ اپنے ساتھ بیٹھی ٹینا سے بے نیاز علیدان سے بات کرنے میں مصروف تھی ۔
”ایک اور تصویر چاہیے پلیز“
علیدان کا پیغام پڑھتے ہی گال گلابی ہو گۓ تھے ۔ اس نے نیا موباٸل خرید لیا تھا اور آج صبح سے وہ علیدان کی فرماٸش پر اپنی کتنی ہی تصاویر اسے بھیج چکی تھی اور وہ تھا کہ اس کا دل ہی نہیں بھر رہا تھا ۔ اس نے رات کو علیدان کے لیے کتنی ہی سیلفی لی تھیں جو وہ اب اسے بھیج رہی تھی ۔اور علیدان کے جوابی تعریفی پیغامات اس کے گال گلابی کر رہے تھے اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ کھڑوس سا علیدان اتنا رومینٹک بھی ہو سکتا ہے ۔
”ایک اور پیاری سی تصویر مسکراتے ہوۓ اور اپنی کسی دوست کو کہو نا تمہاری بناۓ ایک تصویر پھر تمہیں اپنا فون نمبر دوں گا “
علیدان کا پھر سے پیغام آیا اذفرین نے الجھی سی نظروں سے اپنے ساتھ بنچ پر بیٹھی ٹینا کی طرف دیکھا وہ اپنی آساٸنمنٹ بنانے میں مصروف تھی ۔ یہاں یونیورسٹی میں ٹینا اس کی واحد دوست بنی تھی وہ مزہبی لحاظ سے یہودی تھی بہت ہی کم گو اور پڑھاکو قسم کی یہ لڑکی اذفرین کو بلکل اپنے مزاج کے مطابق لگی تھی اسی لیے وہ دنوں اس ایک ماہ میں ایک دوسرے کے ساتھ بہت گھل مل گٸ تھیں ۔
”ٹینا پلیز ٹیک ماٸ ون پک “
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ ٹینا کو مخاطب کیا ۔ٹینا نے سر کو ہاں میں ہلاتے ہوۓ اس کے ہاتھ سے موباٸل پکڑا اور مختلف زاویوں سے اس کی چار تصاویر بنا ڈالیں ۔ وہ گرے رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے جینز پہنے ہوۓ تھی سرخ رنگ کا سکارف گلے میں باندھ رکھا تھا اور بالوں کی سیدھی مانگ نکالے پونی ٹیل کر رکھی تھی چہرہ ہر طرح کے میک اپ سے بے نیاز شفاف سا تھا پر گال قدرتی گلابی رنگ لیے ہوۓ تھی جو علیدان کے لیے تصویریں بناتے ہوۓ اور بلش ہو رہے تھے ۔
ٹینا کی لی گٸ تصاویر میں سے تین اچھی تصاویر جلدی سے علیدان کو بھیجیں کچھ دیر بعد ہی علیدان نے اپنا فون نمبر بھیجا پاکستانی کوڈ دیکھ کر وہ حیران سی ہوٸ ۔
” آپ کب گۓ پاکستان بتایا نہیں مجھے ؟“
اذفرین نے ناسمجھی سے پیشانی پر بل ڈالے سوال ٹاٸپ کیا۔ وہ اب علیدان سے دن رات بات کرنے لگی تھی اٹھتے بیٹھتے ہر وقت وہ اس سے پورا جنگل کا واقع پھر سے سن چکا تھا اذفرین اس کی اس عجیب سی فرماٸش پر بہت حیران ہوٸ تھی لیکن علیدان نے کہا کہ وہ اس سے سارا واقع سن کر وہ سارے لمحے پھر سے جینا چاہتا ہے ۔ اور آج اس نے بہت مانگنے کے بعد اپنا نمبر اذفرین کو دیا تھا ۔
”کچھ دن پہلے ہی آیا ہوں پاکستان اور صرف تمھارے لیے تو آیا ہوں “
علیدان کے جوابی پیغام پر وہ مسکرا دی تھی نچلے لب کو مخصوص انداز میں دانتوں میں دباۓ سوال ٹاٸپ کیا ۔
” میرے لیے؟ میں تو ادھر ہوں ملبرین میں“
مسکراتے ہوۓ اس کے جواب کا انتظار کیا علیدان ڈسپلے پک پر سے اب بچے کی تصویر ہٹا کر اپنی وہی تصویر لگا چکا تھا جو اس نے اذفرین کو بھیجی تھی علیدان کے تصویر دیتے ہی اس کے دل میں جو کبھی کبھی عجیب سے شک ابھرتے تھے کہ یہ علیدان ہے بھی کہ نہیں وہ ختم ہو چکے تھے اذفرین کے ہر دفعہ اور تصویر مانگنے پر وہ اسے یہ کہہ کر ٹال دیتا تھا کہ اسے تصویر لینے کا شوق نہیں ہے ۔
”اوہ سمجھا کرو نا خود ہی تو کہتی ہو رشتہ بھیجوں جلدی تمھارے گھر تو پاکستان اسی لیے آیا ہوں گھر میں بات تو کروں“
علیدان کے جوابی پیغام پر تو جیسے وہ کھل اٹھی تھی موتیوں جیسے دانت چہرے پر دمک اٹھے ۔
”اچھا تو آپ اب سڈنی نہیں ہیں میرا سڈنی چکر لگ رہا تھا اگلے ہفتے یونیورسٹی کا سٹڈی ٹرپ جا رہا ہے “
اذفرین کے دمکتے چہرے پر ایک دم سے اداسی چھاٸ اسے یاد آیا ان کا سٹڈی ٹرپ جا رہا تھا سڈنی اور اس نے یہی سوچا تھا وہ علیدان کو دیکھے گی وہاں ۔ وہ وہیں تو اپنے فاٸنل پروجیکٹ پر کام کر رہا تھا ۔
”سنو تم پاکستان آ جاٶ نا اپنے بھاٸ سے کہو “
علیدان نے کے جوابی مسیج پر وہ حیران سی ہوٸ ۔ دل اس کی اس فرماٸش پر زور زور سے دھڑکنے لگا ان بہت دنوں میں دل نے بہت دفعہ چاہا کہ وہ علیدان کو کہے کہ وہ ملبرین آۓ اس سے ملنے پر ایک جھجک اور شرم آڑے آتی رہی ۔
”میں پاکستان ناممکن ہے علیدان “
کچھ یاد آ جانے پر ایک پل میں خوشی ہوا ہوٸ تھی مہرین تو بہت دفعہ اسے پاکستان بلا چکی تھی پر سعد اسے کسی قیمت پر پاکستان نہیں بھیجنا چاہتا تھا اس کے بقول مہرین زبرستی وہاں اس کی شادی باسط سے کروا دے گی پریشان سے چہرے کے ساتھ جوابی پیغام ٹاٸپ کیا ۔
”کچھ بھی نا ممکن نہیں تم کہو اداس ہوں اور مہرین سے ملنا ہے، پاکستان آٶ نا میں تمہیں ملوانا چاہتا ہوں اپنے گھر والوں سے “
علیدان کے اگلے پیغام پر وہ سوچ میں پڑ گٸ تھی وہ سہی کہہ رہا تھا اس کے گھر والے اس کے کہنے کے مطابق بہت لبرل تھے اور ان کو ویسی ہی بولڈ سی بہو چاہیے تھے ۔اسی لیے علیدان اسے اپنے گھر والوں سے ملوانا چاہتا تھا ۔
”ٹھیک ہے پر علیدان رشتہ ادھر آسٹریلیا ہی بھیجنا ہو گا آپکو بھاٸ کے پاس ہوں میں “
پیشانی پر پرسوچ شکن ڈالے پیغام ٹاٸپ کیا اور پھر سنڈ کیا ۔
”ڈونٹ وری رشتہ یہیں بھیجوں گا “
علیدان کے اگلے پیغام پر وہ پرسکون سی ہوٸ اوپر دیکھا تو ٹینا اس کو اشارے سے کلاس کا بتا رہی تھی ۔
”اوکے علیدان میر ی کلاس ہے میں جا رہی ہوں پھر بات ہو گی“
جلدی سے پیغام ٹاٸپ کیا اور موباٸل کو بیگ میں رکھ کر مسکراتی ہوٸ اٹھی ۔
***********
”جانی اتنے سٹور ہیں کہاں کہاں اس کا پوچھے گا “
سہیل نے آنکھیں سکیڑ کر بنکس ٹاٶن کی مارکیٹ میں موجود اونچی اونچی عمارتوں پر نظر ڈالی ۔
”سب سٹورز میں “
علیدان نے سن گلاسز آنکھوں پر سے ہٹاۓ اور مسکراتے ہوۓ کہا ۔ وہ پورے دو ماہ بعد پھر سے آسٹریلیا آ گیا تھا بہانہ تو اپنے پروجیکٹ کا کیا تھا پر مقصد صرف اذفرین کی تلاش تھی اسی لیے وہ برسبین سے سہیل کو لے کر آج صبح سڈنی پہنچا تھا ۔
”علیدان بلکل پاگل ہے تو “
سہیل نے افسوس سر کو ہوا میں مارا جبکہ وہ تو اپنے قدم پہلی عمارت کی طرف بڑھا چکا تھا ۔ ہلکے نیلے رنگ کی ٹی شرٹ کے نیچے جینز پہنے بکھرے سے بالوں اور ہلکی سی بڑھی شیو میں وہ بلکل مجنوں لگ رہا تھا جو اپنی لیلا کی تلاش میں سرگرداں تھا ۔
”وہ تو ہوں میں پاگل اس انجان لڑکی کے لیے درست فرما رہے ہیں آپ اس کو تلاش کر کے ہی دم لوں گا میں ، مما نے صندل کی شادی سے پہلے تک کا وقت دیا ہے اگر اس سے پہلے میں اذفرین کو تلاش کر لوں گا تو وہ میرا ساتھ دیں گی “
علیدان جیبوں میں ہاتھ ڈالے مصروف سے انداز میں ساتھ چلتے سہیل کو بتا رہا تھا ۔ اپنی اور اوزگل کی منگنی کی بات وہ گول کر چکا تھا
”اس لیے ہمت پکڑ یہ پہلے پلازے سے شروع کرتے ہیں“
سہیل کی پیٹھ تھپک کر وہ مسکرایا تو سہیل نے بھی گہری سانس لیے سر کو اثبات میں ہلا دیا ۔ اور اس کے قدم کے ساتھ قدم ملاۓ
***********
”یہاں کس سے ملنا ہے تمہیں“
ٹینا نے بنکس ٹاٶن کی اونچی عمارت کو گردن اٹھا کر دیکھا اور پھر مسکراتے ہوۓ ساتھ کھڑی اذفرین کی طرف دیکھا جو اب کیب کو کرایہ ادا کرنے کے بعد سیدھی ہوٸ تھی ۔
”یہاں میں ایک سٹور پر جاب کرتی رہی ہوں تو وہاں ایک لڑکی کو پیسے دینے ہے مجھے چکر تو لگا ہی تھا قسمت سے تو سوچا قرضہ ہی اتار دوں “
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا اور قدم آگے بڑھاۓ ان کا دو دن کا سٹڈی ٹرپ سڈنی آیا تھا اور آج صبح ہوتے ہی وہ تھوڑی دیر کے لیے اجازت لینے کے بعد ٹینا کو لے کر بنکس ٹاٶن آٸ تھی یہاں وہ جس سٹور پر ملازمت کرتی تھی وہاں اس نے ایک لڑکی سے پیسے ادھار لیے تھے جو اس نے اپنی پہلی تنخواہ پر واپسی کا کہہ کر لیے تھے اور اب وہ پیسے واپس کرنا چاہتی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: