Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 15

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 15

–**–**–

”افف اُسے چاہے یاد بھی نا ہو کہ تم نے اس سے پیسے ادھار لیے تھے اور ایک تم ہو “
ٹینا نے افسوس سے سر کو ہوا میں ہلاتے ہوۓ کہا ۔ وہ اب اذفرین کے قدم کے ساتھ قدم ملاۓ چل رہی تھی ۔ وہ بنا ناشتہ کۓ اذفرین کے جلدی مچانے کی وجہ سے اس کے ساتھ آ گٸ تھی اور اب بھوک لگنے لگی تھی ۔
”دینے والے کو یاد رکھنا چاہیے نا“
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا ۔ انہیں پانچویں منزل پر جانا تھا جس کے لیے انہوں نے لفٹ کا سہارا لیا ۔ پانچویں منزل پر پہنچ کر لفٹ سے نکلنے کے بعد بھی وہ تیز تیز چل رہی تھیں۔
ہلکے سبز رنگ کی شرٹ کے نیچے بل باٹم جینز پہنے بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناۓ وہ دھلے منہ کے ساتھ صبح ہوتے ہی ٹینا کے ساتھ یہاں آ گٸ تھی آج ان کے سٹڈی ٹرپ کا آخری دن تھا اور اسے اس کام کے بعد فوراً نکلنا تھا اس لیے وہ خلاف معمول تیز تیز چل رہی تھی ۔
**********
سہیل نے کمر پر ہاتھ رکھے تھکے سے انداز میں گردن کو داٸیں باٸیں جھٹکا دیا ۔ اور ہاتھ میں پکڑی پانی کی بوتل کو کھول کر منہ سے لگایا۔ یہ بنکس ٹاٶن کا سب سے بڑا مال تھا اور اب وہ نیچے سے چیک کرتے ہوۓ اس کی پانچویں منزل پر پہنچے تھے ۔ لفٹ سے نکلنے کے بعد علیدان اب پرسوچ نگاہوں سے چاروں طرف نظر گھما رہا تھا کہ کہاں سے شروع کرنا ہے ۔
” او بھاٸ میرے تھک گیا ہوں میں اچھی طرح یاد کر لے تیری لیلا نے بنکس ٹاٶن کا ہی کہا تھا یہیں پر جاب کرتی تھی کیا وہ؟“
سہیل نے تھکے سے لہجے میں پاس کھڑے علیدان سے پوچھا جو اب سامنے سٹور کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ سہیل کی بات پر گھور کر اس کی طرف دیکھا ۔
”جی بلکل یہیں پر مجھے یاد ہے بس نے یہیں سے اسے پک کیا تھا زیادہ نخرے مت دکھا اور اگر بہت تھک گیا ہے تو لے چابی جا کر کار میں بیٹھ “
علیدان نے پیچھے مڑ کر دانت پیستے ہوۓ جواب دیا اور خفا سی شکل بناۓ قدم سامنے سٹور کی طرف بڑھا دیے سہیل جو تھک کر رک گیا تھا کمر سے ہاتھ اٹھا کر کندھے اچکاۓ اور اسکے پیچھے قدم بڑھا دیے ۔
انہیں دو گھنٹے ہو چکے تھے ایک سٹور سے دوسرے سٹور میں گھس کر اذفرین کا پوچھتے ہوۓ اور اب سہیل کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا تھا پر علیدان کے جوش میں کوٸ کمی دکھاٸ نہیں دے رہی تھی ۔
*********
اذفرین سٹور کاٶنٹر پر کہنی ٹکاۓ سامنے کھڑی ماریا نامی لڑکی کو پیسے پکڑا رہی تھی ۔ پانچویں منزل پر لفٹ سے نکلتے ہی یہ پہلا سٹور تھا جو لفٹ سے تھوڑا فاصلے پر تھا ۔
”تمہیں یاد رہا بہت بڑی بات ہے “
ماریا نے مسکراتے ہوۓ اذفرین سے پیسے پکڑے سٹور پر ملازمت کرتے اسے دو ہفتے ہی ہوۓ تھے جب اس کے ساتھ بس کا وہ حادثہ پیش آیا اس لیے ماریا ہی واحد وہ لڑکی تھی جس سے اس کی اچھی دعا سلام تھی ۔ یہ گارمینٹس سٹور تھا جہاں بچوں اور بڑوں دونوں کے کپڑے موجود تھے ۔
”بھول کیسے سکتی تھی “
اذفرین نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ جواب دیا ۔ ٹینا کے فون پر رنگ ٹون ہوٸ تو وہ فون کان کو لگاۓ ایک طرف چل دی ۔ اذفرین ماریا کو ابھی فقط اتنا ہی بتا پاٸ تھی کہ وہ اس حادثے کے بعد سڈنی چھوڑ گٸ تھی کہ اسی پل ٹینا گھبراٸ سی صورت بناۓ اس کے قریب آٸ ۔
”اذفرین سیم کی کال آ رہی ہے پروفیسر ناراض ہو رہے ہیں ہمیں جلدی نکلنا ہو گا“
ٹینا کا انداز عجلت لیے ہوۓ تھا ۔ سیم ان کا ہم جماعت تھا وہ کچھ دیر کی اجازت لے کر نکلی تھیں اس لیے پروفیسر کا ناراض ہونا بنتا تھا ۔ وقت گزرنے کا اندازہ ہی نہیں ہوا تھا انہیں ہوٹل سے نکلے ایک گھنٹہ ہو چکا تھا اور اب واپسی کیب سے ہی جانا تھا ۔
”اوکے ماریا پھر کبھی سڈنی آٸ تو آٶں گی“
اذفرین نے جلدی سے ماریا سے مصاحفہ کیا اور پھر ٹینا کے ساتھ تیز تیز قدم بیرونی دروازے کی طرف بڑھا دیے ۔
**********
پانچویں منزل کی لفٹ سے نکلنے کے بعد سامنے یہ سب سے بڑا گارمینٹس سٹور تھا جس کے داخلی دروازے کی طرف وہ دونوں بڑھ رہے تھے ۔ داخلی دروازے کے بلکل قریب پہنچ کر علیدان ایک دم سے نیچے بیٹھا تو سہیل بھی رکا ۔
”ایک منٹ لیسز تنگ کر رہی ہیں “
علیدان نے سر جھکایا اور جوگرز کی لیسز کو باندھنا شروع کیا ۔ سہیل نے چونگم چباتے چہرہ اوپر کیا تو ایک لمحے کو پلک جھپکنا بھول گیا سامنے سے سٹور کے بیرونی دروازے سے باہر نکلتی دو لڑکیوں میں سے ایک کی خوبصورتی نے نظر بھر کر دیکھنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ ویسے بھی باہر کے ممالک میں ایشین حسن کم ہی دیکھنے کو ملتا تھا ۔ سر جھکاۓ اپنے موباٸل سکرین پر نظر جماۓ وہ مسکرا رہی تھی ۔ سہیل یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا اس بات سے یکسر انجان کے ساتھ چلتی ٹینا ناک چڑھاۓ نخوت سے اسے ہی گھور رہی ہے ۔ سہیل کا دیکھنے کا انداز ہی ایسا تھا کہ ٹینا کو عجیب محسوس ہوا۔
” ہاٶ چیپ“
ٹینا نے ناک چڑھا کر کہا دونوں تیزی سے نیچے جھکے علیدان اور سہیل کے پاس سے گزری تھیں اذفرین کا سر موباٸل سکرین پر جھکا تھا دونوں کے جھکے سر چپکے سے دونوں کے بیچ سال بھر کی دوری کا سبب بن گۓ تھے اور دلوں کو خبر تک نہ ہوٸ۔
ٹینا کا بےزار سا لہجہ محسوس کرتے ہوۓ اذفرین نے موباٸل سکرین پر جھکا سر اوپر اٹھایا۔
”کون؟ “
آبرٶ چڑھاۓ اس کے بے زار سے لہجے کا سبب پوچھا ۔ ان کے قدم اب لفٹ کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
” وہ پیچھے ایک لڑکا گھور رہا تھا تمہیں پاگلوں کی طرح “
ٹینا نے گردن کو ہلکا سا خم دیتے ہوۓ ناگواری سے کہا تو اذفرین نے بے ساختہ پیچھے مڑ کر دیکھا دو لڑکے اسی سٹور میں داخل ہو رہے تھے جہاں سے وہ دونوں ابھی نکلی تھیں ۔ اذفرین کو بس ایک لڑکے کی پشت دکھاٸ دی ۔ ہنستے ہوۓ سر کو ہلاتے چہرہ سیدھا کیا ۔
”اگنور کرو مجھے تو عادت ہے اس سب کی پاکستان میں یہ عام ہے “
اذفرین نے ہلکا سا قہقہ لگا کر ٹینا کی طرف دیکھا اور لفٹ کا بٹن دبایا ۔لفٹ نیچے تھی ابھی شاٸد
” ایکسکیوزمی مس کچھ معلومات درکار تھیں “
علیدان نے کاونٹر پر کھڑی لڑکی سے کہا ۔ لڑکی نے سامنے رکھے کمپوٹر سے نظر ہٹاٸ اور علیدان کی طرف متوجہ ہوٸ ۔ سہیل ساتھ کھڑا پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔
”جی فرماٸیے “
لڑکی نے بھرپور مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ کہا ۔
”کیا یہاں کوٸ پاکستانی لڑکی اذفرین کام کرتی ہے ؟“
علیدان نے شاٸستگی سے پوچھا یہ وہی سوال تھا جو وہ بہت سے سٹورز میں دہرا چکا تھا ۔ اذفرین کا نام سنتے ہی ماریا چونک گٸ ۔
”اذفرین ۔۔۔“
ماریا نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں اور علیدان کا بغور جاٸزہ لیا ۔ اور پھر ایک نظر سٹور کے بیرونی دروازے کی طرف دیکھا ۔ اذفرین کو سٹور سے نکلے ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے ۔
”جی جی اذفرین یہی نام ہے “
علیدان نے اس کے ردعمل پر گڑبڑا کر جلدی سے تاٸید کی لڑکی کے چہرے کے تاثرات علیدان کو بتا گۓ تھے کہ وہ اذفرین کو جانتی ہے ۔ دل کی رفتار ایک دم سے تیز ہو گٸ تھی ۔ اور امید کی کرن نظر آنے لگی تھی ۔
”تو وہ تو ابھی گٸ ہے باہر“
ماریا نے ہاتھ اٹھا کر ایگزیٹ ڈور کی طرف اشارہ کیا ۔ علیدان نے بے یقینی سے سامنے کھڑی لڑکی کی آنکھوں میں دیکھا اور سر ایک جھٹکے کے ساتھ بیرونی دروازے کی طرف موڑا
”سچ سچ کہہ رہی ہیں کیا آپ؟“
علیدان نے بے یقینی سے پھر سے لڑکی سے سوال کیا سہیل جو بے نیازی سے ارد گرد دیکھ رہا تھا اب وہ بھی حیران ہوتے ہوۓ پوری توجہ سے سامنے کھڑی لڑکی کی بات سن رہا تھا ۔
”جی میں ٹھیک کہہ رہی ہوں سر وہ جاب تو چھوڑ چکی ہے کب سے آج دو ماہ بعد مجھے میرے پیسے واپس دینے آٸ تھی ، سبز رنگ کی شرٹ پہنی ہے ابھی تو نکلی ہے آپ کے داخل ہونے سے ایک سکینڈ پہلے “
ماریا نے لفظوں پر زور دیتے ہوۓ پریقین لہجہ اپنایا ۔ سبز رنگ کی شرٹ کا سنتے ہی سہیل کی آنکھیں پھیل گٸیں
”اوہ میں نے دیکھا ہے علیدان اُسے بھاگ “
سہیل کے ذہن میں جھماکا ہوا سبز رنگ میں ملبوس وہ لڑکی آنکھوں کے آگے گھوم گٸ تو وہ آفرین ہی اذفرین تھی اوہ شٹ سہیل نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا
دونوں پاگلوں کی طرح سٹور سے باہر نکلے باہر ہر طرف گھومتے لوگوں میں دنوں تیزی سے متلاشی نظر گھما رہے تھے وہ اتنی تیزی سے بھاگ کر باہر نکلے تھے کہ دونوں کی ہی سانس پھولی ہوٸ تھی ۔ سہیل نے اچانک نظر اٹھا کر سامنے دیکھا تو وہ دونوں لفٹ میں داخل ہو رہی تھیں ۔
”علیدان وہ لفٹ میں۔۔۔ “
سہیل نے زور سے علیدان کا کندھا ہلایا جو گھوم گھوم کر ارد گرد دیکھ رہا تھا سہیل کی آواز پر جلدی سے اس کے ہاتھ کے تعاقب میں نظریں گھماٸیں اذفرین شیشے کی بنی لفٹ میں دوسری طرف رخ موڑے کھڑی تھی اور ٹینا اب بٹن دبا رہی تھی لفٹ کا دروازہ بند ہو رہا تھا سہیل نے بلا ارادہ بازو اٹھا کر لفٹ میں کھڑی لڑکی کو رکنے کے لیے کہا جبکہ ٹینا غصے سے فقط گھور کر رہ گٸ ۔
وہ لفٹ سے نیچے جا رہی تھی یہاں وقت ضاٸع کرنے کے بجاۓ ایلیویٹر سے نیچے جانا چاہیے ذہن میں آتے خیال کے زیر اثر علیدان نے تیزی سے قدم ایلویٹر کی طرف بڑھا دیے اور سہیل بھی اس کے پیچھے بھاگا ۔
”کیا ہوا“
ٹینا کی بگڑتی شکل دیکھ اذفرین نے حیرت سے پوچھا۔ وہ لفٹ کی دیوار سے ٹیک لگاۓ ہوۓ تھی ۔
”وہی دو لڑکے سٹور کے سامنے والے ایسا لگا ہاتھ ہلا رہے ہیں ہمیں“
ٹینا نے پیشانی پر بل ڈالے آنکھوں سے سامنے اشارہ کیا لفٹ نیچے جا رہی تھی
”دیکھوں تو کہاں ہیں“
جیسے ہی اذفرین پیچھے مڑی لفٹ اس منزل سے نیچے آ چکی تھی اور وہ سر ہلاتے ہوۓ فقط مسکرا کر رہ گٸ ۔
” اگنور کرو“
ہنستے ہوۓ ٹینا کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ اور پھر سے رخ موڑ لیا ۔ اس بات سے انجان کے علیدان پاگلوں کی طرح چلتی ایلیویٹر کو بھی پھلانگتے ہوۓ لفٹ سے پہلے نیچے پہنچنے کی کوشش میں ہلکان ہو رہا ہے ۔
لفٹ سے نکلتے ہی ٹینا کے موباٸل پر سیم کی پھر سے کال آنے لگی تھی اور دنوں نے بھاگتے ہوۓ مال سے باہر قدم نکالے اور پاس کھڑی کیب کی طرف لپکیں ۔
سب سے نچلی منزل تک پہنچنے میں علیدان کی سانس بری طرح پھول چکی تھی بھاگتا ہوا لفٹ کی طرف گیا پر دیر ہو چکی تھی ۔ لفٹ خالی تھی پوری قوت لگا کر بیرونی دروازے کی طرف بھاگا باہر نکل کر کمر پر ہاتھ دھرے آنکھوں کو سکوڑ کر ارد گرد نظر دوڑاٸ پر وہاں کوٸ آثار نہیں تھے وہاں کوٸ نہیں تھی ۔
وہ کبھی مڑ کر مال کے اندر دیکھ رہا تھا اور کبھی پھر سے باہر سڑک پر سہیل بھی مال کے دروازے سے باہر نکلا اور مایوسی سے ہارے سے کھڑے علیدان کی طرف دیکھا ۔
وہ اتنا قریب سے گزری تھی اگر اس کو پتا ہوتا یہ وہی بلا ہے جس نے اس کے دوست کو دیوانہ بنا رکھا ہے تو بازو ہی دبوچ لیتا اس کا روک لیتا اسکو وہیں اور کہتا دیکھ اس کو دو ماہ سے تمھاری تلاش میں خوار ہو رہا ہے پر کچھ نہ کر سکا سہیل نے لبوں کو ملا کر زور سے اپنے ایک ہاتھ کا مکا بنا کر دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارا
مریل سے قدم اٹھاتا علیدان کے پاس آیا ۔ جو کمر پر ہاتھ دھرے ابھی بھی کدی آس میں ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔
” ہممم سمجھ آیا اس کو دیکھ کر تیرا یوں مجنوں بن جانا“
سہیل نے لب بھینچے گہری سانس لیتے ہوۓ معنی خیز جملہ اچھالا ۔ علیدان نے ایک آبرٶ چڑھاۓ اس کی طرف دیکھا
”غلط بلکل غلط تو نا جو دیکھا میرے مجنوں بن جانے کی وجہ وہ نہیں اُسکی سیرت اس کی صورت سے بڑھ کر حسین ہے “
علیدان نے اداس سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ آہستگی سے جواب دیا اور ساتھ کھڑے سہیل کا منہ کھلا رہ گیا ۔جبکہ وہ واپس مال کے اندر جا رہا تھا ۔
واپس اسی سٹور میں جا کر پھر سے اس لڑکی سے معلومات لی تو اس نے اسی گھر کا بتایا اور جو نمبر دیا وہ بھی پرانا تھا جو بند تھا ۔ بس ایک فاٸدہ ہوا تھا انہیں یہ پتا چل گیا تھا وہ سڈنی سے جا چکی ہے ۔اور صرف آج ہی آٸ تھی ۔
*********
”کوٸ حرج بھی نہیں اس میں سعد“
فروا نے کندھے اچکاۓ اور گھوم کر پھر سے سعد کے آگے ہوٸ جو پیشانی پر غصے سے بل ڈالے کھڑا تھا ۔
”تمھارا دماغ ٹھیک ہے کیا ،ایک بچے کا باپ ہے وہ ، تم کہہ رہی ہو کوٸ حرج نہیں ہے “
سعد نے دانت پیس کر ناگواری سے فروا کی طرف دیکھا ۔ نجف کی بیوی ایمیلی اس سے طلاق لے کر جا چکی تھی اور نجف اپنے چار سالہ بچے سمیت یہاں آ کر معافی تلافی میں لگ گیا تھا ۔
اور آخر کار نجف کی دو دن کی منت سماجت کے بعد ماٸدہ اور فروا نے نا صرف اسے معاف کیا تھا بلکہ فروا تو سعد کو پھر سے اس بات کے لیے قاٸل کر رہی تھی کہ اذفرین اور نجف کی شادی کر دیتے ہیں ۔
”مت بھولو کہ تمھاری بہن بھی پورے خاندان میں بدنام ہے تم تو یہاں سب سے الگ ہو کر بیٹھے ہو ، پوچھو ذرا مہرین سے اسکو کتنی باتیں سننی پڑ رہی ہیں وہاں پاکستان میں “
فروا نے جلے کٹے لہجے میں کہتے ہوۓ نخوت سے ناک چڑھاٸ جبکہ لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ تھی ۔
”بس بس “
سعد نے چیخ کر اس کی آواز کو دبانے کی ناکام کوشش کی جو بھی تھا پر وہ یہ بات سچ کہہ رہی تھی کہ سارے خاندان میں اس بات کی چے موگیاں ہو رہی تھیں کہ اذفرین نو دن تک جنگل میں رہ کر واپس لوٹی ہے اور اس ساری بات کو پھیلانے میں بھی فروا کا اہم کردار تھا ۔
”بس بس نہیں۔۔۔ میرے بھاٸ جیسا رشتہ آپکی داغ دار بہن کو مل رہا ہے یہی غنمیت سمجھیں اب تو اس معزور باسط کی بھی شادی طے ہو چکی ہے “
فروا کو چپ کروانا اب نا ممکن تھا وہ تو جلدازجلد ایک تیر سے دو شکار کرنا چاہتی تھی اذفرین اور ماں کی ذمہ داری سے ایک ساتھ نجات ۔
”جسٹ شٹ اپ اب ایک اور لفظ منہ سے مت نکالنا“
سعد نے دھاڑتے ہوۓ انگلی کو اس کے اور اپنے بیچ حاٸل کیا ۔
”اور تم یہ بھی مت بھولو یہ جو آج باہر بیٹھے ہو یہ سب بھی میرے ہی بھاٸ کی بدولت ہے“
فروا تو بپھری شیرنی کے طرح گردن اکڑا کر آپ سے تم پر آٸ سعد پاکستان میں معمولی ملازمت کرتا تھا یہاں آسٹریلیا کی اچھی جاب نجف کی ہی بدولت ممکن ہوٸ تھی اور فروا آج وہ جتا رہی تھی اس بات پر سعد کا پیمانہ لبریز ہوا ۔
”اچھا تو تمہیں ان سب باتوں کا غرور ہے “
سعد نے ناگواری کے بل ماتھے پر سجاۓ افسوس سے سر ہلایا ۔
”ہاں ہے کیا تھے تم میرے بھاٸ کی وجہ سے تم یہاں ہو آج اور آج وہی تمہیں برا لگ رہا ہے “
سعد نے طیش میں آ کر مٹھیاں بھینچیں اور پھر فروا کو چیختا چھوڑ کر وہ دھماکے سے دروازہ مارتا باہر نکل گیا تھا ۔
تیز تیز قدم اٹھاتا اذفرین کے کمرے کی طرف بڑھا جیسے ہی دروازہ کھولا وہ پہلے سے ہی دم سادھے بیڈ کے کنارے پر بیٹھی تھی دونوں ہاتھوں سے بیڈ کے کنارے کو تھام رکھا تھا اور چہرہ زرد ہو رہا تھا ۔ گھر اتنا چھوٹا تھا کہ اس کی اور فروا کی بحث با آسانی گھر کے تمام نفوس سن سکتے تھے۔
سعد کو سامنے دیکھتے ہی اذفرین جلدی سے اٹھ کر کھڑی ہوٸ ۔ سعد آہستگی سے دروازہ بند کرتا سر جھکاۓ اس کے قریب آیا ۔ وہ سٹڈی ٹرپ سے واپس لوٹی تو نجف اپنے بیٹے سمیت گھر میں موجود تھا اور دو دن بعد آج صبح سے گھر میں سعد اور فروا کی جنگ چل رہی تھی ۔ وہ اب علیدان کے ہوتے ہوۓ کسی بھی صورت نجف سے شادی نہیں کر سکتی تھی اور اب تو علیدان پاکستان جا چکا تھا صرف اور صرف اس کے لیے ۔ سعد گم سم سا اس کے سامنے کھڑا تھا ۔
”بھاٸ میں نجف سے شادی نہیں کرنا چاہتی ہوں“
اذفرین کی سرگوشی نما گھٹی سی آواز نے کمرے کے سکوت کو توڑا ۔ سعد نے گہری سانس لی اور اس کے گھبراۓ سے چہرے کی طرف دیکھا
”فکر مت کرو اب کسی بھی معاملے میں زبردستی نہیں ہونے دوں گا تمھارے ساتھ “
سعد نے اذفرین کے سر پر ہاتھ رکھا تو اذفرین نے سکون سے آنکھیں موند لیں ۔ سعد کے یقین نے اندر تک سکون اتار دیا تھا ۔ پر ابھی ایک عجیب سی خلش تھی کہ وہ اپنے باپ جیسے بھاٸ کو دھوکا دے رہی علیدان سے اسطرح چھپ کر بات کرتے ہوۓ علیدان جلد رشتہ بھیجے تو یہ خلش بھی اس کے دل سے ختم ہو ۔ گردن اور جھک گٸ تھی
”بھاٸ مجھے پاکستان بھیج دیں کچھ دن کے لیے “
اذفرین نے گھٹی سی آواز میں التجا کی ۔ نجف بھی آکر یہاں بیٹھ گیا تھا گھٹا سا ماحول تھا فروا اٹھتے بیٹھتے احسان جتانے لگی تھی اس کا دم گھٹنے لگا تھا ۔ ایسے میں کچھ دن پاکستان چلے جانے میں ہی غنمیت تھی
”مگر کیوں گھبرا گٸ ہو کیا؟ تم میں ہوں نہ۔۔۔“
سعد نے اس کا سر اپنے سینے سےلگایا۔ تو اذفرین کے تھمے آنسو گال بھگو گۓ ۔ آج تو فروا نے اس کو چھوڑ سعد پر بھی اپنا احسان جتا دیا تھا اور وہ نہیں چاہتی تھی اس کی وجہ سے بھاٸ کا گھر خراب ہو ۔ اگر علیدان زندگی میں نا آیا ہوتا تو شاٸد آج وہ نجف سے شادی کے لیے چپ چاپ راضی ہو جاتی۔
”نہیں ایسی کوٸ بات نہیں ہے بھاٸ۔۔۔مجھے مہرین آپی سے ملنا ہے اور تب تک شاٸد یہ سب بھی ختم ہو جاۓ آپ بھابھی کو وقت دیں“
اذفرین نے تھوڑا سا پیچھے ہوتے ہوۓ آنسو صاف کیے ۔سر ہنوز جھکا ہوا تھا ۔
”ٹھیک ہے کرتا ہوں کچھ پر تم مہرین کی طرف نہیں سیدہ خالہ کی طرف جاٶ گی “
سعد نے پرسوچ لہجے میں کہا ۔ اذفرین نے سر کو ہاں میں جنبش دی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: