Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 16

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 16

–**–**–

ادیان نے کھانے سے بھری ٹرالی ہاتھ سے پکڑ کر پاس کی اور واصف کو ہاتھ کے اشارے سے واپس جانے کے لیے کہا ۔ واصف نے سر جھکایا اور واپسی کا رخ کیا ۔ واصف دلاور ولاز میں بہت پرانے کک تھے ۔ وہ اور ادیان اس وقت صندل کے کمرے کے بلکل بغل والے کمرے کے سامنے کھڑے تھے ۔ ادیان نے ایک نظر واصف کو جاتے دیکھ کر گہری سانس لی
کھانے کی ٹرالی کو ہاتھ سے پکڑ کر وہ دروازے کا ہینڈل کو گھماتا کمرے میں داخل ہوا ۔ ٹرالی سفید ماربل پر آہستگی سے سرکی تو برتنوں کے بجنے کی ہلکی سی کھنک اوزگل کے کانوں میں پڑی ۔
کمرا دوپہر کے بارہ بجے بھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔ ہاں شاٸد سامنے لیٹی اوزگل کی زندگی میں بھی ایک ہفتہ پہلے ایسا ہی اندھیرا چھا گیا تھا جب درخشاں بیگم اسے اس دنیا میں بالکل اکیلا چھوڑ کر اس جہان فانی سے کوچ کر گٸ تھیں۔ اور وہ اس اندھیرے کو ایک ہفتے سے اپنی زندگی کا محور کیے ہوۓ تھی ۔
اس دن کے بعد سے اوزگل دلاور ولاز میں ہی تھی ۔ وہ سارا دن کمرے میں بند رہتی تھی ۔ پورا دلاور ولاز غم میں ڈوب گیا تھا ۔ اوزگل کی دردناک چیخوں نے درو دیوار ہلا دیے تھے پر جانے والے کبھی نہیں لوٹتے ۔
وہ کتنی اکیلی ہو گٸ تھی اس کا درد صرف وہ جانتی تھی ۔ چھوٹی تھی تو بابا چلے گۓ تھے بہن بھاٸ کوٸ نہیں تھا اور اب ماں بھی چھوڑ گٸ تھیں ۔ ہر چیز کاٹ کھانے کو دوڑتی تھی ۔ ماں باپ کے بعد جس شخص کی محبت پر ناز تھا وہ تو ایسے بے نیاز ہوا تھا کہ جیسے وہ اسے جانتا تک نہیں ہے ۔ اس پورے ہفتے میں گھر کا ہر فرد اسے دلاسہ دینے آیا تھا مسواۓ علیدان کے ۔ علیدان کی بےرخی نے اسے اندر سے اور توڑ پھوڑ دیا تھا۔
ادیان نے آگے بڑھ کر کمرے کی لان میں کھلتی بڑی بڑی کھڑکیوں کے سارے پردے سرکا دیے کمرے میں روشنی پھیلتے ہی اوز نے ہاتھ کی اٶٹ سے آنکھوں کو چھپایا ۔ روشنی ایسے آنکھوں میں چبھی تھی کہ جلتی آنکھوں میں تکلیف ہونے لگی تھی سامنے دیکھا تو ادیان پردے درست کر رہا تھا ۔ وہ شاٸد یونیورسٹی سے لوٹا تھا ہلکے نیلے رنگ کی ڈریس شرٹ اور سیاہ پینٹ میں ملبوس تھا شرٹ کے کف آدھی بازو تک فولڈ کیے ٹاٸ کی ناٹ کو ڈھیلا کیے وہ تھکا تھکا سا تھا ۔
ادیان کھانے کی ٹرالی کو بیڈ کے بلکل پاس لے آیا تھا ۔ آہستگی سے بیڈ پر بیٹھا اور ایک نظر اوزگل پر ڈالی وہ اب ہاتھ کے بجاۓ بازو آنکھوں پر رکھے لیٹی تھی سفید بازو نے آنکھوں کے ساتھ ناک پر بھی اٶٹ بنا ڈالی بس گلابی ہونٹ جو جگہ جگہ سے سرخی لیے ہوۓ تھے نظر آ رہے تھے ۔ جانتا تھا اسے روتے ہوۓ اپنے ہونٹ کاٹنے کی عادت ہے جس کے باعث وہ سرخ ہو رہے تھے ناک کے کنارے بھی ہلکے سے سرخ ہو رہے تھے
”اوز اٹھو “
جھجکتے ہوۓ جھک کر آہستگی سے اس کے بازو کو اس کی آنکھوں پر سے ہٹایا ۔ جب سے علیدان سے منگنی ہوٸ تھی وہ اوز کے سامنے آنا کم ہو گیا تھا اوز کی آنکھیں رونے کی وجہ سے سوزش کا شکار تھیں پلکوں کے نیچے آنکھوں کے پوٹے سوجے ہوۓ تھے بڑی بڑی سیاہ آنکھوں میں ابھی بھی پانی کہ تہہ موجود تھی۔ ادیان کے دل میں اس کا یہ دکھ سے بھرا چہرہ درد بھرنے لگا تھا ۔ وہ سامنے بیٹھی اس لڑکی سے بے پناہ محبت کرتا تھا ۔ اور اس کی یہ حالت برداشت سے باہر تھی ۔
وہ کسی کے بھی کہنے پر کھانے کو نیچے نہیں آتی تھی صندل کے بہت اسرار پر ادیان اب اوز کو کھانا کھلانے آیا تھا۔
اوز نے آہستگی سے گردن کو خم دیتے کھانے کی ٹرالی پر نظر ڈالی ۔ ٹرالی اس کے کمرے میں دوسری بار سج کر آٸ تھی ۔ پہلی بار صندل لے کر آٸ تھی اور اب ادیان ۔
”ادی بھوک نہیں ہے مجھے“
مدھم سی سرگوشی نما آواز تھی جو دن رات رونے کی وجہ سے بےحد بھاری ہو رہی تھی ۔ بھوک کا احساس تو جیسے مر گیا تھا ایک نوالہ بھی حلق سے نیچے اترتے درخشاں کا چہرہ نظروں کے سامنے گھوم جاتا تھا ۔ اور دل میں بڑھتی تکلیف آنکھوں میں آنسو لے آتی تھی ۔
”ہممم جانتا ہوں بھوک نہیں ہے تمہیں پر اٹھو تھوڑا سا کھا لو ویکنیس ہو جاۓ گی “
ادیان نے نارمل سے انداز میں اسے اسطرح اٹھنے کا کہا جیسے سب نارمل ہو ایسا انداز اپنانا اس کو غم سے باہر نکلانے کے لیے ضروری تھا ۔پلاٶ کو پلیٹ میں نکال کر چمچ رکھتے رخ موڑے پھر سے اس کی طرف دیکھا وہ ویسے ہی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی ۔ ایک ہفتے بعد بھی اس کی حالت پہلے دن جیسی تھی کسی سے بات نہیں کرتی تھی ۔
” اوز شاباش اٹھو نا “
ادیان نے پھر سے ملاٸم سے لہجے میں کہا اور تھوڑا قریب ہوا ۔ اس کے چہرے کو بغور دیکھا تو اوزگل کی آنکھوں کے کونوں سے پھر سے آنسو بہہ رہے تھے ۔ ادیان نے سر جھکایا اور پیلٹ کو بیڈ کے ساٸیڈ میز پر رکھا ۔
”اوز پلیز خود کو سنبھالو ہمت کرو دیکھو ، ایک دن ہم سب کو وہیں جانا ہے آگے پیچھے پر منزل سب کی وہی ہے آنٹی کی روح کو تکلیف دے رہی ہو تم یوں رو رو کر “
بیڈ پر ہاتھ ٹکاۓ وہ اس پر جھکا ہوا تھا جو بلکل ساکن پژمردگی سے چھت کو گھور رہی تھی ۔ کچھ دیر یوں ہی خاموشی رہی ادیان اس کی آنکھوں میں جھانک رہا تھا پر وہ چھت کو دیکھ رہی تھی خالی خالی آنکھیں تھیں جن میں جینے کی رمق نہیں تھی ۔
” کس کے لیے ہمت کروں کس کے لیے خود کو سنبھالوں میرا تو کوٸ نہیں ہے اب اس دنیا میں“
گھٹی سی مایوس آواز نے کمرے کی خاموشی کو توڑا ایسی آواز تھی جس میں اس کے اندر کے خالی پن کی واضح جھلک تھی ۔
”یہ کب سے سوچنے لگی تم، کل تک تو ہم سب تمھارے تھے بابا تمھارے تایا نہیں تابابا تھے ،مما تمھاری تاٸ نہیں تاٸ امی تھیں صندل تمہاری بہن میں تمھارا واحد دوست اور۔۔۔“
ادیان نے خفگی بھرے لہجے میں روانی سے کہا ابھی بات مکمل نہیں ہو پاٸ تھی کہ وہ تڑپ کر ادیان کی بات کاٹ کر گویا ہوٸ ۔
”اور وہ۔۔۔۔وہ سب ہو کر بھی میرے کچھ بھی نہیں ادی “
اوزگل نے بھیگے سے لہجے میں شکوہ کیا ۔ اس کی آنکھیں بھی شکوہ کنعاں تھیں ۔ وہ علیدان کی بات کر رہی تھی ۔ یہ بات اس نے ہی نہیں سب نے محسوس کی تھی منگنی کے بعد سے علیدان بھاٸ اوزگل سے کھچے کھچے سے رہنے لگے تھے لیکن یہ علیدان کی شخصیت کا خاصہ تھا وہ کم گو تھے شروع سے لڑکیوں سے بلکل بات نہیں کرتے تھے اوزگل کو وہ بلکل صندل کی طرح سمجھتے تھے اور شاٸد اس رشتے میں اب ان کو جھجھک تھی ۔ ادیان نے سوچتے ہوۓ کن اکھیوں سے اوزگل کی طرف دیکھا ۔
”ادی وہ بدل گۓ ہیں وہ وہ نہیں رہے وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے“
اوزگل اب باقاعدہ رونے لگی تھی یہ سچ تھا کہ اس دکھ کے لمحے علیدان کے منہ سے نکلا کوٸ ایک ہمدردی کا لفظ بھی اس کی بجھی زندگی میں روشنی کی کرن لا سکتا تھا ۔
”اوز وہ شروع سے ایسے ہی ہیں تم جانتی ہو “
ادیان نے سر جھکاۓ آہستگی سے کہا ۔ اس سے اس لمحے نظریں ملانا مشکل ہورہا تھا یہاں اس جگہ شاٸد علیدان بھاٸ کو ہونا چاہیے تھا جہاں وہ بیٹھا اس کو سنبھال رہا تھا ۔
”نہیں وہ بدل گۓ ہیں رکو نہیں یقین تمہیں تو“
اوزگل نے پھیکی سی آواز میں کہتے ہوٸ کہنی کے بل جسم کو اوپر اٹھایا اور پھر آنسو صاف کرتی ساتھ پڑے لیپ ٹاپ کو کھول چکی تھی ۔ سنبل کے بعد آج وہ ادیان کو ان سکریٹ ایمیلز کے بارے میں بتانے جا رہی تھی جو علیدان اسے بھیجتا رہا تھا ۔
”دیکھو یہ دیکھو “
لیپ ٹاپ کی سکرین اوزگل نے جیسے ہی ادیان کی طرف گھماٸ اس کے چہرے کا رنگ فق ہوا ۔ سامنے اسی کی بھیجی ہوٸ ایمیلز تھیں جو وہ چھپ کر اوزگل کو بھیجتا تھا ۔ نجانے کب اُس کی دوستی پیار میں بدلنے لگی تھی اور یہ پیاری سی کزن دل کے نہاں خانوں میں جا بسی تھی ۔ اظہار کی ہمت نہیں تھی تو وہ اسے ایک انجان ایمیل سے پیار بھری شاعری اور جزبات بھیجنے لگا تھا ۔ اس بات سے یکسر انجان کہ وہ ان ایمیلز کو علیدان بھاٸ کی ایمیلز سمجھتی رہی ۔
”یہ۔۔۔“
ادیان کی آواز کہیں اندر ہی دم توڑ گٸ تھی ۔ گھٹن سی تھی جو دل کی دیواروں سے ٹکرا کر ٹیس بن رہی تھی
” ہاں ادی یہ ان کی بھیجی ہوٸ ساری ایمیلز ہیں جو وہ آسٹریلیا سے مجھے بھیجتے تھے“
اوزگل نے پریقین لہجے میں کہا ادیان نے نظریں چراٸیں ایسے جیسے وہ آنکھوں سے پڑھ لے گی ۔
”اور اب تو نہ ایمیلز بھیجتے ہیں اور نہ میری طرف دیکھتے ہیں “
اوزگل نے روتے ہوۓ بھاری آواز میں کہا ۔ ادیان نے نظر بھر کر اس کی طرف دیکھا ۔
”ادی وہ مجھ سے پیار نہیں کرتے ہیں اب “
وہ باقاعدہ چہرے کو ہتھیلوں کی اٶٹ میں چھپاۓ رونے لگی تھی ۔ ادیان نے گڑبڑا کر پہلو بدلہ ۔
”نہیں ایسا بھی تو ہو سکتا ہے وہ بزی ہوں اور جھجک رہے ہوں تم سے بات کرنے کے لیے “
گڑبڑا کر جلدی سے جواز گھڑا پر وہ اسی طرح بیٹھی تھی آہستگی سے پاس ہو کر اس کی ہتھیلیوں کو چہرے پر سے ہٹایا۔
”اوز اگر وہ تم سے پیار نہ کرتے تو منگنی کیوں کرتے وہ کرتے ہیں پیار میں جانتا ہوں “
ادیان نے پریقین لہجے میں کہا ۔ اوز نے بے یقینی سے دیکھا تو ادیان نے مسکرا کر سر کو ہاں میں جنبش دی ۔بازو کو لمبا کیے پلیٹ اٹھاٸ اور چمچ بھر کر اس کی طرف بڑھایا۔
”کھانا کھاٶ شاباش “
محبت بھرے لہجے میں کہا اوز نے آہستگی سے منہ کھولا ۔
***********
”علیدان پر یہ کیسے ممکن ہے میں ایسے کیسے آ سکتی ہوں اسلام آباد“
اذفرین نے کھڑکی کی اٶٹ سے باہر جھانک کر دیکھا۔ سامنے صحن میں سیدہ خالہ گملوں میں پانی ڈال رہی تھیں ۔ وہ فون ہاتھ میں پکڑے علیدان سے پیغامات کے ذریعے بات کر رہی تھی ۔ اسے پاکستان آۓ آج چار دن ہو چکے تھے ۔ اور علیدان اس سے ملاقات پر بضد تھا ۔
”کیوں نہیں آ سکتی تم آسٹریلیا سے اکیلی پاکستان آ گٸ ہو ، تو کیا یہاں نہیں آ سکتی ، اگر میں کہتا ہوں میں آ جاتا ہوں یہاں تو لاہور میں تم ملنے کو تیار نہیں “
علیدان کے جوابی پیغام پر لبوں کو دانتوں میں دباۓ آسمان کی طرف دیکھا ۔ عجیب سا احساس ہو رہا تھا علیدان اسے بہت مختلف سا لگنے لگا تھا ۔ بہت سی باتیں عجیب محسوس ہونے لگی تھیں جن میں سے ایک اس کی یوں ملاقات کی ضد تھی ۔ بات یہ نہیں تھی کہ اسے علیدان پر یقین نہیں تھا بلکہ بات اس کی شخصیت سے یکسر مختلف تھی ۔
”علیدان یہ سب عجیب ہے آپکو نہیں لگتا کیا ہماری فیمیلی میں ایسا کچھ نہیں ہوتا آپ رشتہ بھیجیں نا پلیز جلدی “
اذفرین نے جوابی پیغام ٹاٸپ کیا ۔ دل زور زور سے دھڑک رہا تھا ۔لاہور سے اسلام آباد جانے کے لیے کوٸ ایسی وجہ بھی چاہیے تھی جس کے ذریعے وہ خالہ کو قاٸل کر سکتی ۔
”دیکھو میرے گھر والے پہلے تمہیں دیکھنا چاہتے ہیں ملنا چاہتے ہیں اور ان سے پہلے ایک دفعہ میں ملنا چاہتا ہوں تمہیں سب کے بارے میں بتانا چاہتا ہوں کہ کس کو کیسے ڈیل کرو گی تم “
علیدان کا جواب پڑھ کر پیشانی پر پریشانی کی لکیریں اور بڑھ گٸ تھیں ۔ وہ اکیلے ملنا نہیں چاہتا تھا اس کا مطلب تھا وہ تو اتنا اسرار صرف اپنے گھر والوں سے ملوانے کے لیے کہہ رہا تھا ۔
”تو آپ نے اتنی تصویریں دکھاٸیں تو ہیں ان کو “
اذفرین نے گھبرا کر جواز پیش کیا۔ اب دماغ اس کی بات پر قاٸل ہونے لگا تھا تھوڑا ۔
”تم نہیں آنا چاہتی مت آٶ پھر مجھے لاہور آنے دو کم از کم کچھ باتیں کرنی ہیں ضروری رشتہ بھیجنے سے پہلے۔ “
اذفرین اب پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ سوچ رہی تھی ۔پھر پریشان سی بے بس شکل بناۓ پیغام لکھا ۔
”نہیں نہیں بلکل نہیں لاہور مت آنا آپ علیدان میرا پورا خاندان ہے یہاں “
یہاں لاہور میں تو وہ ہرگز بھی علیدان کے ساتھ نہیں مل سکتی تھی کیونکہ یہاں توپہلے سے ہی اس کو لے کر عجیب سی باتیں ہو رہی تھیں ۔ اور سعد نے اسے پاکستان صرف اس شرط پر بھیجا تھا وہ کسی سے بھی کوٸ بات نہیں کرے گی اس معاملے میں بس خاموشی سے دس دن رہ کر واپس آ جاۓ گی جس میں سے چار دن وہ اور علیدان اسی بحث میں گزار چکے تھے وہ رشتہ بھیجنے کا کہہ رہی تھی اور وہ اس سے پہلے ملنے پر بضد تھا ۔
”اچھا میں اپنی دوست سے بات کرتی ہوں“
جواب لکھنے کے بعد اب وہ عالیہ سے بات کرنے کے بارے میں سوچ چکی تھی ۔ عالیہ اس کی سکول کے زمانے سے ہی بہت اچھی دوست تھی دونوں کا ایک دوسرے کی طرف بہت آنا جانا تھا ۔ وہ تھوڑی لبرل فیمیلی سے تعلق رکھتی تھی یقیناً وہ ضرور کوٸ مدد کر سکتی تھی ۔
”عالیہ تم مجھے ملنے آ سکتی ہو“
نچلے لب کو پریشانی سے کچلتے ہوۓ وہ عالیہ کو پیغام بھیج چکی تھی ۔
********
”شکر ہے تم مسکرانے تو لگی ویسے کیا راز ہے اس مسکراہٹ کا“
سنبل نے ایک آنکھ کو دباتے شرارت سے سامنے بیٹھی اوزگل سے پوچھا جسکی مسکراہٹ سنبل کے اس انداز پر اور گہری ہوٸ ۔ بلش ہوتی گالوں اور بے اختیار امڈ آنے والی مسکراہٹ کو لبوں کو اندر لے جا کر دباتے ہوۓ ارد گرد دیکھا ۔ وہ دونوں دلاور ولاز میں اوزگل کے کمرے میں بیٹھی ہوٸ تھیں ۔
سنبل نے آبرٶ نچاۓ اپنے سوال کا جواب پھر سے طلب کیا تو اوزگل کھلکھلا دی ۔
”علی پھر سے مجھے ایمیل بھیجنے لگے ہیں مجھ سے بات کرنے لگے ہیں “
گہری ہوتی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ایسی مسکراہٹ جو اس کی اندر کی خوشی کا واضح ثبوت تھی ۔ علیدان پھر سے اسی انجان ایمیل سے اسے پیار بھری ایمیل اور شاعری بھیجنے لگا تھا وہ سب کے بیچ ہوتا تو اسے دیکھتا تک نہیں تھا پر اس کی ایمیل میں وہ اپنی سب بے تابیوں کا اظہار کر دیتا تھا جو اوزگل کے مردہ جسم میں جان بھر دیتی تھیں ۔ درخشاں بیگم کو گزرے آج مہینہ ہو چلا تھا ۔ اور سنبل ہر ہفتے اس کے پاس گھر چکر لگاتی تھی اس دفعہ وہ دو ہفتوں بعد آٸ تو اوزگل کا انداز یکسر مختلف تھا وہ مسکرا رہی تھی شرما رہی تھی زرد چہرے کی سرخی واپس لوٹ آٸ تھی تھکی سی پژمردہ آنکھیں پھر سے چمکنے لگی تھیں ۔ اس کو اسطراح دیکھ کر سنبل پرسکون ہو گٸ تھی ۔ جس دن سے درخشاں بیگم اس دنیا سے گٸ تھیں وہ اور صندل اس کو لے کر بہت پریشان رہنے لگی تھیں وہ ڈپریشن میں جانے لگی تھی ۔
پر صندل سہی کہتی تھی اس کا ڈپریشن اس دفعہ میں تم یا ادیان ختم نہیں کر سکتے اسے اس ڈپریشن سے باہر آنے کے لیے دوست کی نہیں محبت کی ضرورت ہے اور اسکی محبت علیدان تھا ۔ اور ایسا ہی ہوا جیسے ہی علیدان نے پھر سے اسے توجہ دینی شروع کی تو وہ ڈپریشن سے باہر آ گٸ تھی یہی وجہ تھی آج دو ہفتوں بعد اس کا ہر انداز نارمل تھا ۔
”ہاۓ یہ تو واقعی بہت بہت خوشی کی بات ہے تمھارا علی ویسے ہی بڑا چھپا رستم ہے ، سب کے سامنے تو نظر اٹھا کر نہیں دیکھتا اور چھپ چھپ کر اتنی لمبی لمبی ایمیلز “
سنبل نے رشک اور خوشی سے اوز کی طرف دیکھا ۔ اوز بس مسکرا کر اثبات میں سر ہلا گٸ تھی ۔
” بہت بہت خوشی ہوٸ تمہیں خوش اور ریلکیکس دیکھ کر ، اچھا سنو اس خوشی میں ایسا کرتے ہیں تینوں کسی دن ڈے آٶٹ پلین کرتے ہیں میں صندل اور تم بس پورا دن گھومیں گے پھریں گے شاپنگ کریں گے “
سنبل نے جوش میں اس کے گلے لگ کر کہا ۔ اور پھر مسکراتی ہوٸ الگ ہوٸ ۔
”ہممم ٹھیک ہے سنڈے کو چلیں گے “
اوزگل نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ آواہ لٹوں کو کانوں کے پیچھے آڑایا ۔ سب پھر سے اچھا لگنے لگا تھا محبت کتنی عجیب چیز ہے اگر یہ روٹھ جاۓ تو اردگرد کی بے جان چیزیں بھی روٹھی ہوٸ لگتی ہیں کھانے کی چیزیں بدمزہ لگنے لگتی ہیں ہر چہرہ اپنا دشمن لگنے لگتا ہے اور جب محبت لوٹ آۓ تو ہر چیز مسکراتی ہوٸ لگتی ہے دل کی حالت کی طرح رقص کنعاں اوزگل نے پرسکون ہوتے ہوۓ سوچا ۔
اسی لمحے دروازہ کھولے کھانے کی ٹرالی کو دھکیلتی صندل کمرے میں داخل ہوٸ ۔ اوزگل اور سنبل کو مسکراتے دیکھ کر وہ بھی مسکرا دی تھی ۔
”مجھے ایسا لگتا ہے کہ تم دونوں مجھے بھیج کر میری ہی باتیں کرتی ہو “
صندل نے دونوں کے مسکراتے چہرے دیکھ کر شرارت سے کہا تو دونوں کھلکھلا کر ہنس دیں ۔
” ہاں ہاں اور نہیں تو کیا یہی تو کرتے ہیں اچھا سنو سنڈے کو پلین بنا ہے کوٸ بہانہ نہیں تمھاری طرف سے بھی “
سنبل نے تنبہیہ کے انداز میں انگلی کھڑے کرتے ہوۓ کہا ۔ صندل نے چور سی نظر اوزگل پر ڈالی ۔
” جی جی کیوں نہیں بس یہ بتا دیں یہ ہماری بھابھی صاحبہ مان گٸ ہیں یا نہیں ؟“
شرارت سے سوال کیا جبکہ اوزگل کا پرسکون سا انداز یہ باور کروا گیا تھا وہ اب بلکل نارمل ہو چکی ہے ۔
” جی منا لیا ہے ان کو بھی فکر نا کرو تم “
سنبل نے مسکراتے ہوۓ اوزگل کی طرف دیکھا اور صندل نے مشکور نظروں سے سنبل کی طرف دیکھا۔
*********
دھواں اڑاتی چاۓ کے ساتھ سگریٹ کے کش لگاتا وہ سامنے بیٹھے شخص کے ہاتھ سے اب اپنا موباٸل پکڑ رہا تھا جو کب سے رال ٹپکاتا ہوا اذفرین کی تصاویر دیکھنے میں مصروف تھے ۔
دانش نے اس کے ہاتھ سے موباٸل پکڑ کر بند کیا جس پر وہ بدمزہ سی صورت بنا گیا ۔ اور سگریٹ کے کش لگاتے دانش کی طرف دیکھا ۔
”دیکھ پہلے میں اس کافی شاپ پر ملوں گا اسے بلیک میل کر کے کار تک لاٶں گا تم بس کار تیار رکھنا بلکل کافی شاپ کے سامنے “
دانش نے خباثت سے ساتھ بیٹھے شخص کے کندھے کو پکڑ کر رازدانہ انداز میں سرگوشی کی ۔ ساتھ بیٹھا لڑکا تھورڈی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ پرسوچ انداز میں سر ہلا گیا ۔
”سن ابے اپنا وعدہ مت بھولیو تو نے کہا تھا تیرے بعد جتنی دیر میں چاہوں گا میرے ساتھ رہے گی“
دانش کے ساتھ بیٹھے شخص نے انگلی کھڑے کرتے ہوۓ تنبیہ کی ۔ دانش اس کے کندھے پر دباٶ ڈالے قہقہ لگا گیا ۔
”اتنا اتاولہ مت ہو لڑکی کوٸ ایسی ویسی نہیں ہے اتنی محبت کرتی ہے اس ہیرو سے پھر بھی اتنی مشکل سے ملنے پر راضی ہوٸ ہے کہ مت پوچھ ساری محنت میری ہے تو تجھے جتنا وقت دوں گا صرف اتنا “
دانش نے اکڑ سے گردن کو خم دے کر کہا جس پر سامنے بیٹھے شخص کا چہرہ بدمزہ ہو گیا ۔ اور ماتھے پر ناگوار سی لکیریں نمودار ہوٸیں ۔
” گاڑی میں لے کر آٶں گا جگہ میں نے ارینج کی، تو اب ایسا مت کر میرے ساتھ برابر کا حصے دار ہوں “
سامنے بیٹھے شخص نے ماتھے پر بل ڈالے کہا تو دانش ایک آنکھ کو اوپر اٹھاۓ سوچ میں پڑ گیا ۔
” چل ٹھیک ہے “
قہقہ لگاتے ہوۓ کہا تو دوسرا آدمی بھی مسکرا کر سر ہلانے لگا ۔
*********
ٹرین کی آواز دل کی دھڑکنوں کی رفتار بڑھا رہی تھی وہ بار بار بھیگتی ہتھیلیوں کو آپس میں ملاۓ نچلے لب کو بے چینی سے کچلتی کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی ۔انہیں لاہور سے اسلام آباد کے لیے نکلے ہوۓ تین گھنٹے ہو چکے تھے ۔ زرد رنگ کے جوڑے میں اس کا چہرہ لٹھے کی طرح سفید پڑا ہوا تھا ساتھ بیٹھی عالیہ اپنے موباٸل پر مصروف تھی ۔
ہر بیس سے پندرہ منٹ بعد علیدان کا پیغام آ رہا تھا ۔ جس کا جواب وہ بس ہوں ہاں میں دے رہی تھی اس نے کسی کافی شاپ پر بلایا تھا عالیہ کا بتانے پر وہ ناراض ہوا پر پھر کچھ دیر بعد پیغام آیا کہ ٹھیک ہے اسے بھی ساتھ لے آنا کافی شاپ پر وہ الگ ٹیبل پر بیٹھے گی اور گھر ساتھ نہیں جاۓ گی علیدان کی ضد کے آگے گھٹنے تو وہ ٹیک چکی تھی پر دل تھا کہ عجیب سی بے کلی کا شکار تھا ۔ یہ سب اسے بلکل خوشی نہیں دے رہا تھا پر دل کو بار بار تسلی دے رہی تھی کہ وہ خوش نہیں ہے لیکن جس سے محبت کرتی ہے وہ اس سب سے خوش ہو گا۔
”بس کر اب گھبرانا “
ساتھ بیٹھی عالیہ نے اسکا کندھا ہلاتے ہوۓ کہا تو وہ بدک کر خیالوں سے باہر آٸ انداز ڈر جانے جیسا تھا ۔ جلدی سے پیشانی پر آۓ ٹھنڈے پسینے کی بوندوں کو صاف کیا ۔ اور گھبراٸ سی نظر اردگرد دوڑاٸ ۔
”بہت عجیب لگ رہا ہے سب دل گھبرا رہا ہے میرا“
اذفرین کی آواز کسی کنویں سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ چہرے پر ہواٸیاں سی اڑ رہی تھیں بار بار سعد کی نصحتیں یاد آ رہی تھیں ۔ جو اس دفعہ اس نے کچھ زیادہ ہی کی تھیں کیونکہ فروا اسے پورے خاندان میں بس کے حادثے کو لے کر برے طریقے سے بدنام کر چکی تھی اور سعد اب چاہتا تھا وہ اس کے حوالے سے کوٸ بات نہ سنے کبھی سعد کی باتوں کی بازگشت ذہن میں گونجنے لگتی اور کبھی کفن میں لپٹے امی اور ابو کے چہرے یاد آ رہے تھے ۔ وہ سب کو دھوکا دے رہی تھی پر علیدان کی محبت ہر چیز پر ایسی بھاری پڑی کہ عقل پر بھی پردے ڈال چکے تھی ۔ جو سہی اور غلط کی پہچان نہیں کر پا رہی تھی ۔
”پاگل خود ہی تو کہتی ہو اس پر بہت اعتبار ہے وہ بہت اچھا ہے اور۔۔۔۔۔“
عالیہ نے سرگوشی کی اور اس کے چہرے کو پکڑ کر پیار سے اوپر کیا اذفرین نے بوکھلا کر اس کی بات کو کاٹا ۔
”بات اعتبار کی نہیں ہے عالیہ بات غلط کام کی ہے جھوٹ بول کر سب سے آٸ ہوں میں ایسا کبھی سوچا بھی نہیں تھا میں ایسے کروں گی زندگی میں “
اذفرین نے روہانسے لہجے میں کہتے ہوۓ عالیہ کے ہاتھوں کو یوں تھاما جیسے وہ ابھی رو دے گی ۔ عالیہ کو اپنی اور علیدان کی تمام کہانی وہ سنا چکی تھی اور اب عالیہ ہی اپنے کسی ٹیسٹ کا بہانہ بنا کر سیدہ خالہ اور سعد سے اجازت لے کر اسے اپنے ساتھ اسلام آباد لے کر جا رہی تھی ۔
”فکر مت کرو تمھاری نیت ٹھیک ہے جس سے ملنے جا رہی ہو اس کی نیت ٹھیک ہے مقصد اچھا ہے بس ریلیکس ہو جاٶ “
عالیہ نے اس کے ہاتھ کو مسکراتے ہوۓ تھپکا اور تسلی آمیز نظروں سے آنکھوں کو بند کر کے کھولا ۔
”ہاں دل کو تسلی دینے کو یہ سب باتیں ٹھیک ہیں “
اذفرین نے آہستگی سے کہا دھیرے سے عالیہ کے ہاتھوں کے نیچے سے اپنے ہاتھ نکالے اور پھر سے کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی ۔ بار بار آنکھیں نم ہو رہی تھیں۔
*******
لان میں صبح نو بجے کے قریب وہ ہلکی سی دھوپ میں کرسی پر بیٹھا تھا جاگنگ ڈریس میں ملبوس بکھرے سے بالوں اور ہلکی سی بڑھی ہوٸ شیو کے ساتھ کھویا کھویا سا ۔ پاکستان واپس آۓ ایک ماہ ہو چکا تھا درخشاں چچی کی اچانک انتقال پر اسے فوراً آسٹریلیا سے آنا پڑا تھا ۔ آتے ہوۓ وہ اپنے ساتھ ماریا کا فون نمبر لے آیا تھا اب ایک ماریا ہی تھی جو اذفرین کے ملنے کی آس بندھاۓ ہوٸ تھی ۔
علیدان نے جیب سے موباٸل نکالے پرسوچ انداز میں اس کی سکرین کو دیکھا پھر کال ملا کر موباٸل کان کو لگایا ۔ وہ ہر روز اس وقت ماریا کو کال کرتا تھا ہر بل پر دل دعا کر رہا تھا کہ آج کوٸ اچھی خبر سننے کو ملے ۔ جب سے صندل کا رشتہ طے ہوا تھا گھر میں شادی کے بارے میں باتیں ہونے لگی تھیں ۔ اور اذفرین کا ابھی تک کہیں کوٸ پتا نہیں تھا ۔
”ہیلو “
فون کے دوسری طرف سے نسوانی آواز کی بازگشت پر وہ خیالوں سے باہر آیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا ماریا فوراً گویا ہوٸ
”کیسے ہیں آپ؟ “
وہ شاٸستگی سے پوچھ رہی تھی علیدان نے پھیکی سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔ کیا بتاتا کہ کیسا ہے وہ ، ہر گزرتے دن کے ساتھ بےکلی بڑھتی جا رہی تھی وہ جس کو سمجھا تھا کہ اللہ نے اس سے ملنا قسمت میں لکھ رکھا تھا اب ایسا لگ رہا تھا بس اس کا ساتھ وہیں تک ہی تھا اس کے ملنے کی آس دن بدن اور شدت اختیار کرتی جا رہی تھی پر دل میں کہیں نہ کہیں مایوسی اپنی جگہ بنا رہی تھی
”ڈسٹرب تو نہیں کیا آپکو“
یہ وہ فقرہ تھا جو وہ ہر روز ماریا سے کہتا تھا ۔ بالوں میں ہاتھ پھیرے سر کو تھوڑا اوپر اٹھایا۔
” بلکل نہیں جی پر معافی چاہتی ہوں اس نے کوٸ رابطہ نہیں کیا اور نہ وہ خود آٸ “
ماریا نے بھی گہری سانس لیتے ہوۓ مایوسی سے وہی فقرہ دہرا دیا جو وہ ہر روز دہراتی تھی ۔ علیدان نے کے لبوں کی مسکراہٹ غاٸب ہوٸ
”ہممم ٹھیک ہے “
علیدان نے لب بھینچے آہستگی سے کہا اور پھر باۓ کہتے ہوۓ فون بند کر دیا ۔ دنوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ سر کے نیچے رکھا رتجگوں کے اثر کو لیے مخمور سی آنکھیں دکھ سے بھری تھیں ایک عجیب سا روگ تھا جو وہ خود کو لگا بیٹھا تھا پر وہ بے بس تھا
*********
” عالیہ وہ تمھارے لیے یہ نیچے سیٹ ریزرو ہے مجھے اوپر بلا رہے ہیں علیدان “
اذفرین نے شرمندگی سے کہتے ہوۓ عالیہ سے نظریں چراٸیں وہ دوپہر ایک بجے کے قریب مطلوبہ کافی شاپ پر پہنچ چکی تھیں یہ کافی شاپ ڈبل سٹوری پر مشتمل تھی ۔ علیدان نے اسے اوپر آنے کا کہا تھا پر ساتھ میں یہ بھی کہا کہ عالیہ کو نیچے ہی بیٹھنا ہے ۔ جس کے لیے وہ نیچے سیٹ ریزرو کروا چکا تھا ۔
اذفرین کو علیدان کی بات عجیب سی لگی پیشانی پر ناگواری کے شکن ڈالے موباٸل کو گھورا اور پھر شرمندہ سے لہجے میں ساتھ کھڑی عالیہ سے درخواست کی
”اوہو کوٸ بات نہیں میں ہوں یہاں تم جاٶ اوپر ٹیک یور ٹاٸم “
عالیہ نے اس کی شرمندگی کو بھانپ کر مسکراتے ہوۓ کہا۔اذفرین نے پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ ایک عجیب سی بے چینی تھی دل کو جو خوشی محسوس ہونی چاہیے تھی وہ نہیں ہو رہی تھی
”اوکے بیٹھو تم “
اذفرین نے پھیکی سی آواز میں کہا اور سامنے لگے میز کی طرف اشارہ کیا جس کا علیدان نے اسے بتایا تھا ۔
”ہاں ہاں تم جاٶ ڈونٹ وری “
عالیہ اسے تسلی دیتی ااپنا موباٸل دیکھتی اب اس سیٹ کی طرف بڑھ رہی تھی جس کی طرف اس نے اشارہ کیا تھا ۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی وہ اوپر آٸ تھی اوپر کوٸ نہیں تھا گھبراٸ سی ابھی وہ اردگرد دیکھ رہی تھی جب کان کے قریب سے کسی کی آواز سناٸ دی ۔
”ہاۓ “
بھاری سے انجان مرادانہ آواز پر وہ مڑی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: