Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 17

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 17

–**–**–

آواز کی بازگشت بہت قریب سے ہوٸ تھی جو کوٸ بھی تھا اس کے بلکل پیچھے کھڑا تھا اذفرین نے تھوڑا پیچھے ہو کر رخ موڑا تو جھجکتے ہوۓ قدرے اور دور ہوٸ وہ جو کوٸ بھی تھا عجیب بے باک انداز میں اس کے قریب ہو رہا تھا ۔ لبوں پر معنی خیز مسکراہٹ سجاۓ اذفرین کی طرف دیکھ رہا تھا۔ وہ جتنا بد صورت تھا اس سے کہیں زیادہ اس کی نظریں عجیب سا تاثر پیدا کر رہی تھیں ۔
اذفرین نے بے چینی سے ارد گرد دیکھا پر یہاں اس وقت کوٸ نہیں تھا ۔ علیدان کہاں رہ گۓ ہیں ابھی تک آۓ کیوں نہیں سامنے کھڑا شخص دل دہلا رہا تھا ۔
اس کا قدم بہ قدم بڑھنا اور عجیب چبھتی سی نظریں پریشان کر رہی تھیں ۔ اذفرین نے گھور کر اسے ناگواری ظاہر کرنا چاہی پر وہ تو جیسے بے خوف تھا ہر چیز سے
”بیٹھو بیٹھو پریشان نہ ہو اذفرین “
وہ اپنی سوچوں میں مگن اس شخص سے انجان بنتے ہوۓ اس کے قریب سے گزرتے ہوۓ وہاں سےجانے ہی والی تھی جب اس کے منہ سے اپنا نام سن کر قدم منجمند ہوۓ ۔
حیرت سے آنکھیں کھول کر اس شخص کی طرف دیکھا جو اب اپنے نچلے ہونٹ کے نیچے انگلی کو آہستگی سے پھیرتا ہوا خباثت سے مسکرا رہا تھا۔ اس کو میرا نام کیسے معلوم ہے ۔ارد گرد پھر سے دیکھا علیدان کہیں نہیں تھا ۔ کیا ہو رہا تھا یہ سب ۔
”آ۔۔۔آپ۔۔۔آپ کون ؟“
اذفرین نے گڑبڑا کر ادرد گرد دیکھتے ہوۓ پوچھا نظریں بار بار علیدان کو تلاش کر رہی تھیں۔ گھبراہٹ کے باعث لفظوں کا ربط ٹوٹ گیا تھا
وہ بے آواز ہنستا قریب ہوا ۔ انداز ایسا تھا جیسے اسے جانتا ہو پہلے سے اذفرین پر تو حیرت کے پہاڑ ٹوٹ رہے تھے ۔
”میں وہی جس سے ملنے آٸ ہو تم “
دانش نے اذفرین کو اوپر سے نیچے دیکھتے ہوۓ تھوڑا سا جھک کر کان کے قریب سرگوشی کی ۔ وہ اپنی تصاویر سے بھی کہیں زیادہ حسین تھی ۔ بیوقوف تھی یا معصوم تھی پر اب اس کے رحم و کرم پر تھی ۔ اس نے بڑے آرام سے سوچ سمجھ کر کھیل کھیلا تھا جس کا نتیجہ تھا وہ حسینہ آج اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
اذفرین نے پیشانی پر ناسمجھی کے شکن ڈالے سامنے کھڑے آدمی کی طرف دیکھا وہ کیا کہہ رہا تھا کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا ۔ اور اسکا انداز عجیب طرح سے کھٹک رہا تھا ۔
”کہ۔۔کیا مطلب علیدان کہاں ہیں؟“
گھبراتے ہوۓ کہا اور جلدی سے اپنے کندھے پر لٹکے بیگ میں سے موباٸل نکالا یہ کس طرح کا مزاق تھا علیدان کہاں تھا
”کون وہ ہیرو تمھارا ارے بے بی اس کے تو فرشتوں کو بھی خبر نہیں ہو گی کہ تم مجھ سے مل رہی ہو “
دانش نے ہلکا سا قہقہ لگا کر کہا اذفرین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا اور جلدی سے موباٸل پر علیدان کا مطلوبہ نمبر ملایا یہ جو کوٸ بھی تھا اسے پریشان کر رہا تھا ۔ علیدان کو فوراً بتانا چاہیے تھا تاکہ وہ جلدی یہاں پہنچے ۔
پر جیسے ہی فون پر بل جانا شروع ہوٸ سامنے کھڑے اس شخص کے ہاتھ میں پکڑا موباٸل بجنے لگا اذفرین نے جھٹکے سے سر اٹھایا آنکھیں حیرت سے پھٹنے کو تھیں جبکہسامنے کھڑا وہ شخص فلک شگاف قہقہ لگا رہا تھا ۔
اذفرین کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑی دل کی دھڑکن خوف کے باعث رک سی گٸ وہ کبھی اپنے موباٸل کو دیکھ رہی تھی اور کبھی اس شخص کے ہاتھ میں پکڑے موباٸل کو دیکھ رہی تھی ۔ کچھ تو غلط تھا ذہن میں جیسے ہتھوڑے سے چلنے لگے ۔
جلدی سے بھاگنے کی غرض سے وہ پلٹی ہی تھی جب اس شخص نے ایک ہی جست میں اس کا بازو دبوچ کر کھینچا
” یہ میں ہوں دانش “
دانش نے بازو سے کھینچ کر قریب کیا اور جلدی سے اذفرین کے منہ پر ہاتھ رکھے فون کی سکرین آنکھوں کے سامنے کی جس پر اس کا نمبر فری کے نام سے جگمگا رہا تھا۔ اذفرین پھڑپھڑا سی گٸ ۔ پر اس کے مضبوط ہاتھ نے اسے پوری طرح قابو میں لے رکھا تھا ۔
”چپ چپ شششش شور نہیں “
دانش نے کان کے قریب سرگوشی کی وہ مسلسل چھوٹ کر چیخنے کی سعی میں تھی یہ اوپر والے سارے میز وہ ریزرو کروا چکا تھا اس لیے یہاں اوپر ابھی کسی کا بھی آنے کا امکان نہیں تھا پر اسکی بات سنے بنا اگر وہ نیچے بھاگ جاتی ہے تو سارا منصوبہ تحس نحس ہو سکتا تھا ۔ دانش نے اس کے کان کے قریب ہونٹ کیے
”میری بات سن لو پہلے “
اذفرین کے کان میں پھر سے سرگوشی ہوٸ وہ مسلسل خود کو اس کے بازو سے چھڑوانے کی سعی میں تھا۔ یہ سب کیا ہو رہا تھا ذہن اور دل ابھی بھی قبول نہیں کر رہا تھا۔
”دیکھو تمھاری اتنی تصویریں ہیں میرے پاس اور تمھارا سارا باٸیو ڈیٹا تم سے بات کرنے والا اور تمہیں یہاں تک بلوانے والا تمھارا علیدان نہیں میں ہوں ، سب سب میں ہی کرتا رہا ہوں“
وہ اذفرین کے کان میں ساری حقیقت بتا رہا تھا اور اذفرین ساکن ہو چکی تھی دانش نے دھیرے سے اس کے لبوں پر سے اپنے ہاتھ کی گرفت کو ختم کیا ۔ وہ اب بے یقینی سے سامنے کھڑے اس شخص کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” بس تمہیں اس کے بدلے وہ کرنا ہے اب جو میں چاہوں گا “
دانش نے سامنے آ کر اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوۓ کہا ۔اذفرین بدک کر پیچھے ہوٸ ۔ آنکھی اور منہ حیرت سے کھلا تھا ۔
”علیدان کہاں ہے “
گھٹی سی سہمی آواز میں پوچھا۔ اپنی سماعتوں پر ابھی بھی یقین نہیں آ رہا تھا سامنے کھڑا آدمی کیا کہہ رہا تھا ۔
”بتا تو چکا ہوں بے بی کوٸ علیدان نہیں ہے یہاں اسے تو پتا بھی نہیں تم شروع سے مجھ سے بات کرتی رہی ہو دانش ہے میرا نام تمھارا دانش جان جسے تم اپنی تصویریں بھجتی رہی ہو دن رات “
دانش نے چہرے کو چھوا تو جیسے وہ ایک دم سے ہوش میں آ گٸ گھن کھاتے ہوۓ چہرہ پیچھے کیا ایک ایک کر کے ساری باتیں یاد آنے لگیں ایسا لگا اردگرد کی تمام چیزیں جیسے گھوم گٸ ہوں ۔
”یہ ۔۔۔یہ نہیں ہو سکتا “
چکراتے سر پر ہاتھ رکھے مدھم سی آواز میں کہا آواز خوف اور بے یقینی کے باعث کانپ رہی تھی ۔ علیدان کی تصویر تھی یہ کیسے ہو سکتا تھا حیرت سے پھر سے اس شخص کی طرف دیکھا ۔
ّ” یہ تو ہو گیا ہے میری جان یہ دیکھو ساری تصویریں تمھاری اور میری “
اذفرین کے زور زور سے کانپتے جسم کو ایک جھٹکے سے اپنے قریب کرتے ہوۓ وہ گویا ہوا ۔ وہ موباٸل پر اپنے ساتھ فوٹو شاپ کی ہوٸ تصاویر دکھا رہا تھا اذفرین کی ہر تصویر کو وہ کچھ اس انداز میں اپنی تصویر کے ساتھ جوڑ چکا تھا کہ وہ اسی تصویر کا حصہ لگ رہا تھا اذفرین کا پورا جسم کانپ گیا تھا ۔ اس کی مختلف فرماٸش کی ہوٸ تصویروں کا مقصد سمجھ آنے لگا تھا ۔
”وہ علیدان کی تصویر وہ آٸ ڈی “
اذفرین کی گھٹی سی آواز ایسے نکلی جیسے وہ خود سے کلام کر رہی ہو ۔ دانش اب پھر ہنس رہا تھا ۔
”علیدان تک تم نہیں پہنچ سکی تو کیا کوٸ بھی نہیں پہنچ سکتا کہہ تو رہا ہوں جیسے تم انجان تھی ایسے وہ بھی انجان رہے گا ۔ میری بات مانو میں تمہیں اصل علیدان تک پہنچا دوں گا اس کے بعد “
اذفرین کو اس کی نظریں آر پار ہوتی ہوٸ محسوس ہوٸ تھیں ۔ دل لرز اٹھا تو وہ علیدان سے بات نہیں کر رہی تھی ۔
اب ایسا ہے کہ چپ چاپ دوسری طرف کی سیڑھیوں سے نیچے اترو میرے ساتھ چلو نہیں تو یہ ساری تصویریں نہ صرف تمھارے بھاٸ تک پہنچیں گی بلکہ تمھارے اس جنگل والے ہیرو اوہ نہیں کیا کہتی ہو تم اسے ۔۔۔۔آٸرن مین ۔۔۔ہاں آٸر مین تک بھی پہنچیں گی “
دانش نے آنکھیں نکالیں اور اس کا بازو پکڑ کر دوسری اطراف کی سیڑھیوں کی طرف چل دیا اذفرین کا جسم کانپ رہا تھا ابھی تک ذہن کچھ بھی قبول کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ وہ اس کا ہاتھ پکڑے اسے لے جا رہا تھا اور وہ بے یقینی سے یہ سب ہوتا دیکھ رہی تھی ۔ سیڑھیاں اترتے ہی اذفرین نے گھبرا کر کچھ دور پشت کیے بیٹھی عالیہ کی طرف بے چارگی سے دیکھا وہ موباٸل پر نظر جماۓ اس کی طرف پشت کیے بیٹھی تھی ۔
دانش اب بیرونی دروازہ کھولے اسے باہر لے آیا تھا ۔ دانش نے بازو اس قدر مضبوطی سے دبوچ رکھا تھا کہ اذفرین کے بازو میں تکلیف ہونے لگی تھی۔ جیسے ہی دروازہ کھلا سامنے ایک کار کھڑی تھی ۔ اذفرین ایک دم سے جیسے ہوش میں آٸ ۔ وہ کیا کرنے والا تھا اس کے ساتھ چھٹی حس آلارم دینے لگی ۔
”پلیز مجھے جانے دو پلیز “
التجاٸ انداز میں اس آدمی کی طرف دیکھا ۔ اور پھر اردگرد دیکھا ۔ وہ اسے کار کی طرف دھکیل رہا تھا ۔ خوف پر قابو پا کر اذفرین نے ایک ہی جست میں گردن جھکا کر اسکے بازو کو دبوچے ہوۓ ہاتھ پر اپنے دانت گاڑے وہ تڑپ گیا جیسے ہی ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑی اذفرین نے اپنا آپ چھڑواتے وہاں سے دوڑ لگا دی تھی ۔
وہ اندھا دھند بھاگ رہی تھی سڑک پر چلتی ٹریفک کے بیچ وہ پاگلوں کی طرح دوڑ پڑی تھی۔ پیچھے دیکھنے کی ہمت نہیں تھی وسیع عریض سڑک پر بھاگتی ٹریفک میں وہ کاروں سے بچتی کانپتی ہوٸ بھاگ رہی تھی سڑک کی ایک اطراف کراس کرنے کے بعد اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو دانش اب کار میں بیٹھ رہا تھا یقیناً وہ اب سڑک موڑ کر کار اس طرف لانا چاہتے تھے ۔ اذفرین نے جلدی سے سڑک کی دوسری طرف بھاگنا شروع کیا ۔ اسی دوران ایک کار سے بری طرح ٹکراتے ہوۓ وہ بچ گٸ تھی کار نے بروقت بریک لگاٸ تھی
اذفرین سڑک پر کار کے سامنے تقریباً بیٹھ چکی تھی ۔
**********
”دیکھو پریشان نہیں ہو تم بلکل بھی پلیز رونا بند کرو“
ساتھ بیٹھی لڑکی نے اذفرین کے کندھے پر ہاتھ رکھے اسے تسلی دی وہ تین لڑکیاں تھیں جن کی کار سے وہ ٹکراتے ہوۓ بچ گٸ تھی اذفرین کے مدد مانگنے پر انہوں نے فوراً اسے کار میں بیٹھا لیا تھا اور اب کار سڑک پر دوڑ رہی تھی اذفرین روتے ہوۓ منہ چھپا رہی تھی ۔
لیکن شاٸد دانش نامی اس شخص نے اسے یوں ان لڑکیوں کی کار سے ٹکراتے اور بیٹھتے نہیں دیکھا تھا ۔
اذفرین نے گال پر بہتے آنسو صاف کیے اور ساتھ بیٹھی لڑکی کی طرف دیکھا جو نرمی سے اس کے گرد بازو حاٸل کیے ہوۓ تھی ۔ وہ پچھلی سیٹ پر تھی اور دو لڑکیاں اگلی سیٹ پر تھیں ۔
”سنیں پیچھے کافی شاپ میں میری ۔۔۔میری دوست ہے “
اذفرین نے بمشکل گھٹی آواز میں بتایا وہ مسلسل اپنے رونے پر قابو پا رہی تھی لیکن اس وقت سب کچھ گھوم رہا تھا دل خوف سے پھٹ رہا تھا ۔
”اوکے اوکے جاتے ہیں اس کے پاس تم رونا بند کرو تم سیف ہو ہمارے ساتھ “
ساتھ بیٹھی لڑکی نے تسلی دی اور تھوڑا سا آگے ہو کر ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھی لڑکی کے قریب ہوٸ ۔
”سنبل کافی شاپ پر لو پہلے “
گاڑی جیسے ہی کافی شاپ پر رکی اذفرین نے گھبرا کر سر کو کھڑکی سے تھوڑا اونچا کیا ۔ خوف سے ارد گرد دیکھا ۔
”دیکھیں گھبراٸیں مت آپ کار میں رہو میں آپکی دوست کو لے کر آتی ہوں باہر بتاٶ وہ کہاں بیٹھی ہے “
ساتھ بیٹھی لڑکی نے پیار سے پوچھا اذفرین نے التجاٸ انداز میں اس کی طرف دیکھا ۔
***********
دلاور والاز کے وسیع عریض لاونج میں علیدان پیشانی پر بل ڈالے کھڑا تھا اور سامنے صندل اور اوزگل مجرم سی بنی کھڑی تھیں ۔
”بھاٸ وہ بہت پریشان ہے لڑکی “
صندل نے التجاٸ لہجے میں کہتے ہوۓ علیدان کی طرف دیکھا جو اس وقت ان کی اس بیوقوفی پر آگ بگولہ ہو رہا تھا ۔ تینوں کسی انجان لڑکی کو اٹھا کر گھر لے آٸ تھیں اور اب اس کی مدد کرنا چاہتی تھیں ۔
”پاگل ہو تم پریشان تھی تو تم تینوں گھر اٹھا لاٸ اس کو “
علیدان نے دانت پیس کر کہا اور گھور کر سامنے کھڑی اوزگل کی طرف دیکھا۔ اوزگل نے جلدی سے نظریں جھکا لیں ۔ علیدان تھری پیس سوٹ میں ملبوس کہیں جانے کو بلکل تیار گھر سے نکلنے ہی والا تھا جب انہوں نے اسے لاونج میں روکا تھا ۔
انہیں کچھ سمجھ نہیں آیا تھا لڑکی ان کی کار میں بےہوش ہو گٸ تھی اور اس کی دوست بہت گھبرا گٸ تھی اس لیے وہ ان دونوں کو لے کر گھر آ گٸ تھیں گھر آ کر اس لڑکی نے بتایا کہ وہ آدمی اس کو بلیک میل کر رہا ہے ۔ جس سے بچ کر وہ بھاگی تھی اور ان کی کار سے ٹکراٸ تھی اب بھی وہ آدمی بار بار اسے فون کر رہا تھا جو وہ نہیں اٹھا رہی تھی ۔ اس لڑکی کا تو رو رو کر اتنا برا حال تھا کہ وہ بات نہیں کر پا رہی تھی ۔
اب سنبل ڈراٸنگ روم میں ان لڑکیوں کے ساتھ بیٹھی تھی اور وہ دنوں علیدان سے اس بے چاری لڑکی کی مدد کرنے کی التجا کر رہی تھیں ۔
”بھاٸ پلیز وہ آدمی بری طرح اس کو بلیک میل کر رہا ہے اس کی تصویریں ہیں اس کے پاس اور فوٹو شاپ کر دی ہیں اس نے بچاری بہت معصوم ہے اسے لے جا رہا تھا پکڑ کر وہاں سے بچ کر بھاگی اور ہماری کار سے ٹکرا گٸ “
صندل نے التجاٸ انداز میں ساری بابت سناٸ علیدان اب کمر پر ہاتھ دھرے کھڑا تھا ۔ اور پرسوچ انداز میں دونوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
”علیدان بھاٸ پلیز سوچیں مت صفدر بھاٸ سے ہیلپ لیں نا پلیز آٸ سویر وہ انوسینٹ ہے “
صندل نے پھر سے کہا تو علیدان نے گہری سانس لی صفدر اس کا دوست تھا اور پولیس فورس میں تھا شاٸد یہی وجہ تھی کہ صندل بضد تھی کہ وہ اس لڑکی کی مدد کرے
”نمبر لے کر آٶ اس لڑکی سے جو لڑکا بلیک میل کر رہا اسے “
علیدان نے ماتھے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ کہا ۔ صندل جلدی سے ڈراٸنگ روم کی طرف بھاگی تھی جہاں وہ ان دنوں لڑکیوں کو بیٹھا کر آٸ تھی
ڈراٸینگ روم میں داخل ہوٸ تو وہ اپنی دوست کے گلے لگی مسلسل رو رہی تھی ۔
” سنیں اس لڑکے کا نمبر دیں گی آپ “
صندل نے نرم سے لہجے میں کہتے ہوۓ کاغز سامنے میز پر رکھا اذفرین نے چونک کر جھکا سر اوپر اٹھایا ۔ آنکھیں رو رو کر سرخ ہو رہی تھیں ۔ کیا وہ سب ٹھیک کر رہی تھی ۔ اس نمبر سے مسلسل کال آ رہی تھی جو وہ اٹھا نہیں رہی تھی خوف بے یقینی ایسی تھی کہ سمجھ سے باہر تھا کہ کیا کرے
”دیکھو پریشان نہ ہو میرا بھاٸ ہے اس کا دوست پولیس فورس میں ہے وہ نمبر سے اسے ٹریس کر لیں گے اور ساری پکس لے لیں گے اس سے “
صندل نے تسلی آمیز لہجے میں کہتے ہوۓ اذفرین کی طرف دیکھا عالیہ نے اذفرین کے کندھے پر دباٶ ڈال کر سر کو اثبات میں ہلایا اور پھر خود اذفرین کا فون پکڑ کر نمبر سامنے پڑے کاغز پر لکھ دیا ۔
” ڈونٹ وری آپ بیٹھو یہاں “
صندل نے مسکرا کر تسلی دی اور پھر باہر نکل گٸ ۔ اذفرین نے گھبرا کر عالیہ کی طرف دیکھا دوپہر کے چار بج چکے تھے اور انہیں شام چھ بجے یہاں سے نکلنا تھا لازمی ۔
************
علیدان نے کار میں بیٹھ کر فون سے کال ملا کر اس کو ایک طرف سیٹ پر رکھا اور ایر پوڈ کو کان میں لگایا گاڑی کا سٹیرنگ موڑا گاڑی دلاور ولاز سے باہر نکل رہی تھی ۔ چار فون بل جانے کے بعد دوسری طرف موجود نفس نے فون اٹھا لیا تھا ۔
”اسلام علیکم جناب کیسے ہیں “
دوسری طرف سے ہیلو کی آواز پر پرجوش لہجے میں علیدان نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ گاڑی اب سڑک پر دوڑ رہی تھی ۔
” وعلیکم سلام ۔۔۔میں ٹھیک بھٸ آج کیسے یاد آٸ بےوفا انسان کو میری کیسے ہو؟ سنا ہے پاکستان میں ہو ؟“
دوسری طرف صفدر نے خوش دلی سے پوچھا جس پر وہ مسکرا دیا ۔ ٹاٸ کی ناٹ کو ایک ہاتھ سے تھوڑا سا گھمایا جبکہ دوسرا ہاتھ سٹرینگ کو تھامے ہوا تھا ۔ وہ سہی کہہ رہا تھا اس دفعہ پاکستان آ کر وہ کسی دوست سے نہیں ملا تھا ۔
” بلکل ٹھیک ہوں ہاں پاکستان میں ہوں بس یار ایک مدد درکار ہے تجھ سے کیس ہے ایک بیلک میلنگ کا “
علیدان نے سٹیرنگ کو گھماتے ہوۓ لب بھینچے ۔ گاڑی اب مین روڈ پر آ چکی تھی ۔ صفدر اس کا بہت پرانا دوست تھا اور گھر میں بھی کافی آنا جانا تھا یہی وجہ تھی کہ صندل بھی اس کے بارے میں اچھی طرح جانتی تھی۔
”اچھا خیریت حاضر جناب حکم کریں آپ ہوا کیا ہے “
صفدر نے گرم جوشی سے جواب دیا ۔
”دیکھ مجھے تو جانا ہے مری بابا کی بزنس میٹنگ کے سلسلے میں ، تو میں تمہیں نمبر سنڈ کر رہا ہوں اس کو ٹریس کر اور اس لڑکے کو پکڑ جلدی“
علیدان نے سڑک پر نظر جماتے ہوۓ کہا ۔ وہ دلاور کے کہنے پر ان کے ساتھ بزنس میں انٹرسٹ لینا شروع ہوا تھا جس کے لیے اسے آج رات میر دلاور کے ساتھ بزنس ڈیل پر جانا تھا ۔
”کسی لڑکی کو بلیک میل کر رہا کوٸ تصویریں وغیرہ لے کر سوشل میڈیا سے پتہ تو ہے آجکل کی بیوقوف لڑکیوں کا اسی لیے سخت چڑ ہے مجھے اس سب سے ۔۔۔۔ “
علیدان نے ماتھے پر شکن ڈالے نفرت آمیز لہجے میں کہا ۔ اسے اس انجان لڑکی پر غصہ آ رہا تھا جو اپنی بیوقوفی کہ بل بوتے پر آج پریشان حال تھی
” اوکے۔۔ اوکے میں دیکھ لیتا ہوں تو نمبر سنڈ کر مجھے “
صفدر نے اس کی بات کاٹتے ہوۓ کہا ۔
” ہاں نمبر بھی سنڈ کر رہا ہوں اور سن صندل سے رابطہ کر اس کی دوست ہے کوٸ یار پلیز وہ پریشان ہے “
علیدان نے عجلت میں کہا دوسری طرف سے میر دلاور کی پھر سے کال آنے لگی تھی۔ جو آفس میں بے تابی سے اس کا انتظار کر رہے تھے ۔
” اچھا فکر نہ کر بس نمبر دے اس کا میں کرتا ہوں صندل سے بات اور گھر بھی جانا پڑے تو چلے جاٶں گا “
صفدر نے اسے تسلی دی ۔
” اچھا شکریہ یار میں شہر سے باہر جا رہا ہوں صبح ملتا ہوں پھر آ کر اللہ حافظ“
علیدان شکر گزار لہجے میں کہا ۔ فون بند کیا اور جلدی سے صفدر کو صندل کا اور اس لڑکے کا نمبر سنڈ کیا ۔ اور خود اب وہ میر دلاور کو کال ملا چکا تھا ۔
**********
دو پولیس والے بلکتے ہوۓ دانش کو واپس لاک اپ کی طرف لے کر جا رہے تھے وہ بار بار اذفرین کے پاٶں پکڑ رہا تھا۔ پولیس نے اسے اتنے برے طریقے سے مارا تھا کہ اس کے منہ پر جگہ جگہ نیل پڑے ہوۓ تھے ۔ شرٹ پھٹی ہوٸ تھی ۔
وہ کچھ دیر پہلے ہی ان تینوں لڑکیوں کے ساتھ پولیس سٹیشن پہنچی تھی ۔ جہاں اس کے سامنے دانش کے فون سے اور لیپ ٹاپ سے وہ اپنی تصاویر ڈیلیٹ کروا چکی تھی ۔ وہ ابھی بھی روۓ جا رہی تھی ۔ عالیہ اس کے ساتھ بیٹھی اسے بار بار تسلی دے رہی تھی
”دیکھیں اب رونا بند کر دیں آپ کے سامنے آٸ ڈیز بند کرواٸیں ہیں پریشان نہ ہوں اور یہ لیپ ٹاپ اس کا فون اب پولیس کسٹڈی میں ہے اس کو بھی ڈسٹراۓ کرواتے ہیں “
صفدر نے سامنے بیٹھی اذفرین سے کہا ۔ اس کے سامنے لیپ ٹاپ کھلا ہوا تھا جس میں تھوڑی دیر پہلے ہی وہ دانش نامی شخص اپنا آٸ ڈی ڈی ایکٹیویٹ کر چکا تھا۔ جس سے وہ اسے بلیک میل کرتا رہا تھا اس نے بڑے دھڑلے سے اس آٸ ڈی پر اب اس کی اور اپنی تصویر ڈسپلے پک میں لگا رکھی تھی ۔
صفدر نے دانش کی اذفرین کے ساتھ فون پر بات کروا کر اس کا فون ٹریس کرنے کے بعد مطلوبہ جگہ پر پہنچا تھا جہاں وہ اسی دوسرے آدمی کے ساتھ بیٹھ کر بار بار اذفرین کو فون پر دھمکا رہا تھا ۔ صفدر نے ان دنوں کو گرفتار کر لایا تھا ۔
اس کی دوکان اور گھر سے اس کے تمام فون اور لیپ ٹاپ کسٹڈی میں لے لیے گۓ تھے ۔
” آپ اب گھر جاٸیں صبح تک یہ باقی بھی ہر چیز اگل دے گا جہاں جہاں آپکی تصویریں رکھی ہونگی اور اب تو اس کی سات پشتیں بھی آپکو بلیک میل نہیں کریں گی “
صفدر نے اذفرین کو تسلی دی اور صندل کے ساتھ جانے کے لیے کہا ۔ عالیہ اسے بتا چکی تھی کہ وہ اس شہر سے نہیں ہیں انہیں جانا ہے واپس رات کے سات بچ چکے تھے ۔لیکن صفدر نے ابھی انہیں گھر جانے سے سختی سے منع کیا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: