Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 18

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 18

–**–**–

بوجھل سے قدم اٹھاتے ہوۓ وہ عالیہ کے ہم قدم پولیس سٹیشن سے باہر نکل رہی تھی ۔ سر بھی دل کی طرح انجانے سے خوف کے زیر اثر بھاری ہو رہا تھا ۔ اپنا ہی ضمیر بار بار سامنے کھڑا ہو کر اس کے منہ پر طمانچے رسید کر رہا تھا ۔ خود سے بھی نظریں ملانے کے قابل نہیں رہی تھی وہ جلد بازی اور محبت کے جوش میں آج زندگی میں پہلی دفعہ وہ پولیس سٹیشن جیسی جگہ پر کھڑی تھی ۔
ایسی بیٹی جسے کبھی بھاٸ اور باپ نے اکیلے کہیں جانے نہیں دیا تھا آج پولیس سٹیشن میں بیٹھ کر خود کو معصوم ثابت کرنے کی گواہیاں دینی پڑ رہی تھیں ۔ دل میں بسے شخص کی آڑ میں ایک شیطان کی آنکھوں کی بھوک مٹاتی رہی تھی وہ ۔
صندل سنبل اور اوزگل اب کار کے قریب پہنچ چکی تھیں ۔ اور وہاں باتوں میں مصروف ان دونوں کا پہنچنے کا انتظار کر رہی تھیں جو اپنی اپنی سوچوں میں گم سم سی تھیں ۔
اور وہ جو نہیں بناتیں اپنے چھپےہوۓ دوست۔۔۔
اور وہ جو نہیں بناتیں اپنے چھپے ہوۓ دوست ۔۔۔
ذہن میں بار بار گونجتے ہوۓ الفاظ زمین میں گاڑ رہے تھے ۔ وہ ایسی نہیں تھی وقت اور حالات نے یہ سب کروا دیا تھا جس کا خمیزہ بھگتا تھا اور دل شرمندہ تھا توبہ کے ورد کے لیے بھی ۔
اس کے فون پر سعد کی کال آرہی تھی تو عالیہ کے موباٸل پر بھی اس کے گھر والے بار بار فون کر رہے تھے ۔ دونوں گھر سے جھوٹ بول کر نکلی تھیں اور یہاں معاملا اتنا طول پکڑ گیا تھا ۔
” عالیہ ہمیں واپس جانا ہے سعد بھاٸ کی کال آ رہی ہے بار بار اور خالہ بھی پریشان ہیں “
اذفرین کی سہمی ہوٸ سرگوشی نما آواز پر ساتھ چلتی عالیہ نے کھوۓ سے انداز میں گردن کو خم دے کر اس کی طرف دیکھا اذفرین کے زرد چہرے پر کیا کیا نہیں تھا دکھ، تزلیل، پریشانی اور شرمندگی ۔ وہم و گمان میں بھی نہیں تھا یہ سب ہو جاۓ گا ۔ وہ اذفرین کو بچپن سے جانتی تھی ۔ اور اب اذفرین کا اس سے بھی نظریں چراتا چہرہ اس کے دل کو تکلیف دے رہا تھا ۔
”میرے گھر والے بھی پریشان ہو رہے ہیں بہت لیٹ ہو چکے ہیں ہم چھ بجے ہمیں یہاں سے ہر صورت نکلنا تھا “
عالیہ نے اپنے موباٸل کی طرف دیکھتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں اس کی سوچ کی تاٸید کی رات کے آٹھ بج رہے تھے اور وہ گھر والوں کو بار بار ٹرین کے بے سبب رکے رہنے کا بتا کر ٹال رہی تھیں ۔ عالیہ کے گھر والے تو اب اسے بس سے آنے پر اکسانے لگے تھے ۔
ان دونوں نے کسی کو بھی اصل حقیقت سے آگاہ نہیں کیا تھا اور آج کے دن ہی واپسی کا کہا تھا اور اگر وہ آج واپس نہیں جاتیں تو عالیہ کے گھر والے بھی چوکنے ہو سکتے تھے جو اب تک تو آرام سے ان کے آنے کا انتظار کر رہے تھے ۔
”یہ دوبارہ ہمیں اپنے گھر لے جا رہی ہیں عالیہ تم ان سے کوٸ بہانہ کرو ہمیں یہیں سے نکلنا ہو گا واپس لاہور کے لیے ورنہ بہت دیر ہو جاۓ گی “
اذفرین نے گھٹی سی آواز میں عالیہ کے قریب ہوتے ہوۓ اس کے بازو کو دبوچ کر کہا ۔ وہ اب کار کے قریب پہنچ چکی تھیں ۔ عالیہ نے اذفرین کے ہاتھ پر تسلی آمیز تھپکی دی ۔وہ اب ان تینوں کے ساتھ کار میں بیٹھ رہی تھیں ۔
اوزگل ان دونوں کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھ چکی تھی ۔صندل کار ڈراٸیو کر رہی تھی جبکہ سنبل فرنٹ سیٹ پر صندل کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ اذفرین نے مدد طلب نظروں سے ساتھ بیٹھی عالیہ کی طرف دیکھا ۔ عالیہ نے پرسوچ انداز میں اردگرد دیکھا ۔ اوزگل موباٸل پر مصروف تھی جبکہ صندل اور سنبل اپنی ہی کوٸ بات کر رہی تھیں ۔
” صندل آپ ہمیں یہاں مین روڈ پر اتار دیں دراصل یہاں پاس میں ہی میری خالہ کا گھر ہے میری بات ہو گٸ ہے ان سے ہم رات وہاں رکیں گے “
عالیہ نے جھجکتے ہوۓ تھوڑا آگے ہو کر ڈراٸیونگ سیٹ پر بیٹھی صندل سے بات شروع کی وہ تینوں اب ایک دوسرے کی طرف دیکھنے لگی تھیں ۔ عالیہ اور اذفرین ہی جانتی تھیں کہ وہ جھوٹ بول رہی ہیں ۔
”دیکھیں عالیہ آپ اور اذفرین ہماری بہنوں کی طرح ہیں ہمارا آپکی مدد کرنا کوٸ احسان نہیں ہے آپ پر، ہمیں خوشی ہے کہ ہماری وجہ سے اذفرین ایک بہت بڑی مصبیت سے بچ گٸ ہیں آپ بلا جھجک ہمارے گھر رات گزار سکتی ہیں گھبرانے کی بات نہیں ہے “
صندل نے اپناٸیت سے کہتے ہوۓ رخ موڑے عالیہ کی طرف دیکھا اذفرین نے جلدی سے نظریں چراٸیں جبکہ سنبل اور اوزگل اب دھیرے سے صندل کی بات کی تاٸید میں سر ہلا رہی تھیں ۔ وہ شاٸد یہ سمجھ رہی تھیں کہ وہ رات ان کے گھر میں گزارنے سے جھجک رہی ہیں۔
عالیہ نے سوالیہ انداز میں اذفرین کی طرف دیکھا اذفرین کی آنکھوں میں بے چارگی کو بھانپ لیا ۔ اذفرین نے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ تھوک نگلا ۔ الفاظ کو ذہن میں ترتیب دیا۔
”سمجھ نہیں آ رہا کس طرح سے آپ کا شکریہ ادا کروں خدا نے آپکو اور آپکے بھاٸ کو فرشتہ بنا کر میرے لیے بھیجا اور آپکی طرف نا رکنے کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہے کہ ہم دونوں اس کو احسان سمجھ رہی ہیں “
اذفرین نے دھیرے سے سر اٹھاۓ باری باری تینوں کی طرف مشکور نظروں سے دیکھا ۔
”جی بلکل ٹھیک کہہ رہی ہے فری ایسی کوٸ بات نہیں آپ بہت اچھی ہیں اس وقت اگر آپ ہمیں یوں سپورٹ نا کرتیں تو پتہ نہیں کیا ہوتا “
عالیہ نے جلدی سے اذفرین کی ہاں میں ہاں ملاٸ انہیں یہاں سے نکلتے ہی قریبی کسی بھی بس سٹینشن پر پہنچنا تھا اور لاہور کے لیے نکلنا تھا ۔
” اوکے چلیں پھر بتا دیں کہاں ڈراپ کرنا ہے آپکو صبح پھر میں اذفرین کے نمبر پر کال کروں گی آپکو لینے آ جاٶں گی “
صندل نے سڑک پر نظریں جماۓ ہوۓ کہا ۔ عالیہ نے گڑبڑا کر اذفرین کی طرف دیکھا جس کی نظروں میں صرف نفی تھی ۔
” آپ یہیں۔۔۔۔ یہیں ۔۔۔ اتار دیں کچھ ہی فاصلے پر ہے کالونی ہم ٹیکسی سے چلے جاٸیں گی پریشان نہ ہوں بلکل ، اور صبح کزن کے ساتھ پولیس سٹیشن پہنچ جاٸیں گے “
عالیہ نے سامنے مین روڈ کی طرف دیکھتے ہوۓ مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ جھوٹ بولا ۔ اذفرین اب بوکھلاۓ سے انداز میں عالیہ کی بات کی تاٸید میں زور زور سے سر ہلا رہی تھی ۔
”چلیں ٹھیک ہے صبح پھر صفدر بھاٸ جب کہیں گے آپ لوگ پہنچ جاۓ گا پولیس سٹیشن “
صندل نے مسکراتے ہوۓ کار کو سڑک کے ایک اطراف میں روکا۔
”جی بلکل “
اذفرین نے آہستگی سے سر جھکاۓ جواب دیا۔ اب وہ بیگ کو کندھے پر درست کرتیں اتر رہی تھیں ۔
”اوکے پھر صبح ملاقات ہوتی ہے “
اوزگل نے ہاتھ ملاتے ہوۓ اپناٸیت سے کہا جسکے جواب میں وہ دنوں بس سر جھکا کر مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ سر ہلا کر رہ گٸیں ۔ ان کی کار اس وقت تک کھڑی رہی جب تک اذفرین اور عالیہ ٹیکسی میں بیٹھ نہیں گٸیں ۔ وہ بہت اچھی تھیں ان سے جھوٹ بولتے ہوۓ اور دھوکا دیتے ہوۓ بھی شرمندگی ہو رہی تھی پر بات صرف اتنی تھی کہ وہ اس پوزیشن میں نہیں تھیں کہ یہ بات ان کےگھروں تک پہنچتی اور یہاں رک کر پولیس انویسٹی گیشن کو مکمکل کروانے سے ان کے گھر والوں کو بھنک پڑ سکتی تھی ۔
سب کچھ تو ختم تھا اور اذفرین دل میں سم توڑ کر اور موباٸل کو پھینک کر ہر ہر طرح کا رابطہ ختم کر دینے کا تہیہ کر چکی تھی ۔ اور توبہ کے ہر ورد کے بعد یہی وہ بات تھی جس کو دہرا رہی تھی کہ اب اسے علیدان کو نہیں تلاش کرنا ۔
” اب ؟“
عالیہ نے سوالیہ انداز میں بھنویں اچکاۓ پریشان حال بیٹھی اذفرین کی طرف دیکھا ۔
”اب کیا ۔۔۔۔واپس جانا ہے ہمیں یہ پولیس کا چکر یہ سب اگر سعد بھاٸ کو اس کی بھنک بھی پڑی ۔۔۔افف میرے خدا“
اذفرین نے نچلے لب کو کچلتے بے چینی سے کھڑکی سے باہر دیکھا جبکہ آنکھوں میں پھر سے موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے تھے ۔ اس قصے کو یہیں دفن کرنا تھا کسی کو بھی اس بات کی بھنک بھی پڑی تو رہی سہی عزت بھی خاک میں مل سکتی تھی اور سعد بھاٸ کا جھکا ہوا سر اب وہ نہیں دیکھ سکتی تھی ۔ لبوں کو رونے کے انداز میں باہر نکالے وہ اب آسمان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
اللہ مجھے معاف کر دے میری پردہ پوشی فرما ۔ منہ پر ہاتھ رکھے پھر سے دعا شروع کی ۔
عالیہ نے اس کی بات پر دھیرے سے سر ہلایا اور پھر تھوڑا سا آگے ہو کر ٹیکسی ڈراٸیور کو قریبی بس سٹاپ پر لے جانے کا کہنے لگی ۔
**************
”واٹ “
صفدر نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا ۔ نیچے میز پر پڑے کاغز پر لکھے گۓ الفاظ ناقابل یقین تھے ۔ حیرت سے بھنویں سکیڑے سامنے کھڑے پولیس انسپکیٹر کی طرف دیکھا جو کچھ دیر پہلے ہی دانش کا بیان اتار کر اس کے سامنے لایا تھا ۔
”سنو لے کر آٶ اس دانش کو لاک اپ سے جلدی ۔۔جلدی“
صفدر نے تھورڈی پر ہاتھ دھرے الجھے سے انداز میں سامنے کھڑے انسپیکٹر سے کہا ۔ حیرت ایسی تھی کہ وہ بار بار دانش کے بیان کو پڑھ رہا تھا ۔
علیدان دلاور ۔۔ یہ وہ نام تھا جو دانش کے بیان میں نمایاں تھا جس نے پریشان کر دیا تھا ۔ اگر علیدان یہ سب جانتا تھا تو مجھے کیوں کہا کہ صرف صندل کی دوست ہے عجیب بات تھی ۔ صفدر الجھ کر رہ گیا تھا ۔
”جی سر“
وردی میں ملبوس انسپیکٹر نے سر پر ہاتھ رکھے پاٶں کو زمین پر مارا اور باہر نکل گیا ۔ کچھ دیر بعد وہ دانش کے ہمراہ آفس میں تھا ۔ دانش کے ہاتھ ہتھکیڑیوں میں جکڑے ہوۓ تھے ۔ اور اس کی باٸیں طرف کھڑے انسپیکٹر نے اس کے بازو کو دبوچ رکھا تھا ۔
”یہ۔۔۔ یہ جو تم نے سب لکھوایا ہے اپنے بیان میں یہ سچ ہے کیا تم علیدان دلاور کو کیسے جانتے ہو؟“
صفدر نے آبرٶ چڑھاۓ الجھے سے لہجے میں سوال کیا ۔
”میں نہیں جانتا تھا جی ۔۔۔ اور اب بھی نہیں جانتا ہوں۔۔۔۔ بس۔۔۔۔ تصویر اٹھا لی تھی اس کی آٸ ڈی سے ہاں پر وہ لڑکی اس سے پیار کرتی تھی “
دانش نے سوجے ہونٹ کے ساتھ بمشکل جواب دیا ۔ تکلیف کے باعث وہ رک رک کر بول رہا تھا ۔ پولیس نے اسے بے تحاشہ مار کر سارا بیان لکھوایا تھا ۔ بقول اس کے اب اس کے پاس کہیں بھی اذفرین کی کوٸ تصویر نہیں تھی اور ساتھ ساتھ اس نے ساری کہانی بتا دی تھی کہ اسے اذفرین کیوں اور کیسے ملی تھی ۔
”کیا ۔۔۔۔؟“
صفدر کی آنکھیں حیرت سے اور زیادہ کھل گٸ تھیں ۔ وہ لڑکی علیدان سے محبت کرتی تھی علیدان کو تلاش کر رہی تھی اور صندل کی دوست تھی ۔ اور جنگل میں ملی تھی علیدان کے گھر میں تھی اور علیدان کہہ رہا تھا نہیں جانتا اس کو ۔۔۔ کیا تھا یہ سب صفدر کا دماغ گھوم گیا ۔ کوٸ کڑی کہیں سے بھی نہیں مل رہی تھی ۔ اور اس الجھی ڈور کو سلجھا صرف علیدان سکتا تھا ۔
”ہاں جی۔۔۔۔ جی۔۔۔۔ میرے تو بیٹے کا نام ہے علیدان اس کے نام سے بنایا تھا میں نے تو آٸ ڈی اور اذفرین سمجھی وہ علیدان دلاور میں ہوں، میں نے بھی اسے کہہ دیا ہاں میں وہی ہوں “
دانش نے سر جھکاکر شرمندہ سے انداز میں کہا ۔ صفدر حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتا الجھا سا بیٹھا اس کی باتیں سن رہا تھا ۔
”یہ اس علیدان کو سمجھ کر مجھ سے بات کرنے لگی تو میں بھی کرتا رہا پھر “
دانش بات کو جاری رکھے ہوۓ تھا ۔ دانش کی باتیں صفدر کو اور الجھارہی تھیں ۔ پر یہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ علیدان دلاور کوٸ اور ہی علیدان دلاور ہو ذہن میں اٹھتے سوال پر صفدر جھٹکے سے کرسی کے پشت سے کمر ہٹا کر سیدھا ہوا میز پر پڑا اپنا موباٸل اٹھایا ۔
”اوہ ایک منٹ رک “
صفدر نے ہاتھ کے اشارے سے دانش کو بولنے سے روکا اپنے موباٸل میں جلدی سے علیدان کی تصویر نکال کر دانش کے سامنے کی ۔
”یہ علیدان دلاور دیکھو اسے، کیا یہ تھا وہ جس کی پھر تم نے اصل تصویر اٹھاٸ “
صفدر نے بھنویں اچکاۓ سوال کیا دانش کے چہرے کو بغور دیکھا جو اب حیرت سے کبھی علیدان کی تصویر کی طرف دیکھ رہا تھا اور کبھی صفدر کی طرف ۔
”جی ۔۔۔ یہ۔۔یہی تھا جی “
اب الجھنے کے باری دانش کی تھی گھٹی سے آواز میں جواب دیتا اب وہ حیرانگی سے صفدر کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
”لے کر جاٶ اسے اور بند کر دو پھر سے “
صفدر نے پاس کھڑے انسپیکٹر کو رعب سے حکم دیا جو فوراً تعمیل میں دانش کو گریبان سے پکڑے واپس لے جارہا تھا جبکہ صفدر کے ہاتھ اب تیزی سے موباٸل کی سکرین پر علیدان کا نمبر ملا رہے تھے ۔
************
بس سٹیشن پر وہ سر جھکاۓ زمین پر بیٹھی موباٸل سے نکالے گۓ سم کارڈ کو اینٹ سے مار رہی تھی ۔اسلام آباد سے لاہور کے لیے بس کے نکلنے میں آدھا گھنٹہ پڑا تھا ۔ یہ ویٹنگ روم سے باہر واش روم کی قریبی جگہ تھی جہاں پر وہ بیٹھی تھی ۔
”یہ کیاکر رہی ہو؟“
عالیہ نے حیرت سے اس کی طرف دیکھ کر پوچھا وہ واش روم سے باہر آٸ تو اذفرین زمین پر بیٹھی اینٹ کو کسی چیز پر مار رہی تھی ۔ پاس سے گزرتے لوگ بھی گردن موڑ موڑ کر اذفرین کی طرف دیکھ رہے تھے ۔ پر وہ تو ایسے بے نیاز بیٹھی تھی جیسے وہ اکیلی بیٹھی ہوٸ اور سم پر اینٹ کچھ اس انداز سے مار رہی تھی جیسے اپنے دل پر مار کر اسے سزا دے رہی ہو۔
”سم توڑ کر پھینک رہی ہوں سعد بھاٸ کو تمھارے موباٸل سے کال کر کے کہوں گی کہ موباٸل گر گیا کہیں “
اذفرین نے مدھم سی آواز میں جواب دیا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا ۔ ہاتھ اسی طرح اینٹ کو سم پر پٹخ رہے تھے ۔ سم پچک گٸ تھی پر وہ ہنوز اسی طرح اینٹ کو سم پر پٹخ رہی تھی ۔
”کیوں؟ فری ۔۔ ایسا کیوں کر رہی ہو پاگل ؟“
عالیہ فوراً اس کے سامنے زمین پر بیٹھی اور اب حیرت سے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔ کتنی ہی لٹیں دوپٹے کی اٶٹ سے نکل کر چہرے سے نیچے لٹک رہی تھیں زرد چہرہ بس سٹینڈ پر جلتے بلب کی زرد روشنی میں اور ہلدی کی مانند لگ رہا تھا ۔ آنکھوں کے پوٹے سوج کر پلکوں کے بالوں کے درمیانی فاصلہ بڑھاۓ ہوۓ تھے ناک بار بار صاف کرنے کے باعث نتھنوں کے نیچے کا حصہ بھی سرخی ماٸل ہو رہا تھا۔
یہ وہ چہرہ نہیں تھا جو آج صبح کافی شاپ کے زینے چڑھنے سے پہلے کا تھا ۔
” علیدان کا تو پتہ نہیں پر میں نہیں چاہتی پولیس یا پھر وہ گندہ شخص کسی بھی طرح مجھ تک پہنچ سکے “
اذفرین کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ ۔ عالیہ جو اس کے چہرے کو بغور دیکھ کر اس کے اندر کی ٹوٹ پھوٹ کا اندازہ لگا رہی تھی اس کی آواز کے درد پر دکھ بھری نظر اس پر ڈالی ۔
”لیکن فری شاٸد اس طرح اس آدمی کے ذریعے اصل علیدان مل ہی جاتا تمہیں “
عالیہ نے ملاٸم سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کے جھکے چہرے کو اوپر اٹھایا ۔ پہلی دفعہ تو اس نے اذفرین کو کسی کے لیے یوں بدلہ سا دیکھا تھا
ویسے تو اُسے ہمیشہ سے ایک کٹھپتلی لگتی تھی وہ جسے اس کے بھاٸ بہن اپنے اشاروں پر نچاتے تھے ۔ بہن اپنے مفاد کے لیے تو بھاٸ اپنے مفاد کے لیے ۔
زندگی میں پہلی دفعہ اس نے اذفرین کو یوں خود سے کوٸ قدم اٹھاتے دیکھا تھا اپنے لیے فیصلہ کرتے دیکھا تھا اور اس کے اس فیصلے سے وہ خوش ہوٸ تھی ۔ پر وہ تو اور ٹوٹ گٸ تھی اس سب سے اور ڈرپوک لگ رہی تھی ۔ خوف زدہ ہو گٸ تھی۔
”علیدان کا ملنا خدا پر چھوڑ دیا میں نے “
اذفرین نے ہاتھ جھاڑے اور آہستگی سے کھڑی ہوٸ ۔ عالیہ بھی اُسی انداز میں اس کے چہرے کو دیکھتے ہوۓ کھڑی ہوٸ ۔
محبت ہو جانا خطا نہیں تھی محبت کے لیے جس رستے کو اختیار کیا تھا وہ غلط تھا ۔ اسے خود سے تلاش کرنا ہی نہیں چاہیے تھا اگر تلاش کیا ہی تھا تو رابطہ نا کرتی ۔ اگر رابطہ کر ہی لیا تھا تو بس کہتی کہ محبت ہے تو رشتہ بھیج دو علیدان دلاور بس ختم بات ۔
بات کرتی رہی کرتی ہی چلی گٸ اور پھر کرتی ہی رہی علیدان سمجھ کر یہ خطا تھی ۔
تصویریں بھیجی یہ خطا تھی ۔ بھاٸ سے چھپ کر بات کرتی رہی یہ خطا تھی ۔ ہاں اسی خطا کی یہ سزا تھی ۔ اذفرین نے سوچتے ہوۓ کھوٸ سی صورت بناۓ عالیہ کی آنکھوں میں دیکھا ۔
”اگر میری محبت میری بے لوث چاہت میں ذرا سی بھی پاکیزگی ہے تو وہی واحد ایک ذات ہے جو اب اس سے ملوا سکتی ہے مجھے “
اپنے ہاتھ کی لکیروں کو بغور دیکھتے ہوۓ آہستگی سے جواب دیا ۔
”اگر وہ محبت دل میں ڈال سکتا ہے تو ملوا بھی صرف وہی سکتا ہے “
گہری سانس لی اور لبوں پر پھیکی سی مسکراہٹ تھی ۔
”آج کے بعد میں اس کو یاد کروں گی اور اس کے ملنے کی دعا کروں گی خدا سے ہاں اس سے کیا چھپانا وہ تو جانتا ہے کرتی ہوں ایک نامحرم سے محبت پر مانگنا اس سے ہی چاہیے تھا چپکے چپکے سر عام تلاش کرنے نکل پڑی باتیں کرنے لگی راتوں کو جاگ کر پر نہیں اب نہیں اب تو اگر نا بھی ملا تو کوٸ شکوہ نہیں خدا سے رضا سمجھوں گی اس کی “
وہ ٹرانس میں بول رہی تھی کھوٸ کھوٸ سی ۔ نظریں سامنے جمی تھیں ہتھیلیوں پر ابھی بھی اینٹ سے اتری مٹی جمی تھی انگلیوں کی پوریں اینٹ کو بار بار پٹخنے پر سرخ ہو رہی تھیں ۔
”میری غلطی نے مجھے کہاں سے کہاں لا کھڑا کیا اللہ کی ناراضگی بھی مول لی ایک نامحرم سے غلط ربط استوار رکھا اس کی سزا ملی مجھے “
وہ بول رہی تھی اور عالیہ بس چہرے پر کرب سجاۓ اسے سن رہی تھی ۔ کہہ بھی کیا سکتی تھی اسے اس کی ہر بات درست تھی ۔
”اور مجھے تو یہ بھی نہیں پتہ علیدان مجھ سے محبت کرتا بھی تھا یا نہیں “
آخری بات پر اس کا ضبط ختم ہو چکا تھا وہ رو دی تھی ۔ ہاں یہ بھی تو نہیں پتا تھا اسے کہ علیدان اس سے محبت کرتا بھی ہے یا نہیں بس خود سے ہی سوچ لیا اس کا گانا اس کی نظریں اس کا پھول سب اس کا اظہار تھا ۔ عالیہ نے جلدی سے اسے اپنے ساتھ لگایا ۔
***********
علیدان کی سانس پھول رہی تھی ۔ تیز تیز قدم ہوٹل کے کمرے کی طرف اٹھ رہے تھے ۔ سیاہ کوٹ پینٹ میں ملبوس ہواٸیاں اڑے چہرہ لیا اب وہ تقریباً بھاگ رہا تھا ۔ اس کے بھاگنے سے کرمزی رنگ کی ٹاٸ گلے میں جھول رہی تھی ۔ بال جو کچھ دیر پہلے ترتیب سے کنگھی تھے اب فرنٹ سے بکھر سے گۓ تھے ۔ بڑی آنکھیں پریشانی کی وجہ سے تھکی سی تھیں ۔
ہاتھ میں پکڑی چابی سے عجلت میں کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا میر دلاور نے ہاتھ میں پکڑے موباٸل پر سے نظریں اٹھا کر اوپر دیکھا ۔ وہ کمرے میں موجود صوفے پر بلکل تیار بیٹھے تھے میٹنگ شروع ہی ہونے والی تھی ۔ رات کے نو بج رہے تھے ۔
”بابا “
پھولی سانسوں کو بحال کرتا وہ اب بلکل میر دلاور کے سامنے کھڑا تھا چہرہ پریشان تھا تو پیشانی پر شکن تھے ۔
”بابا مجھے اسلام آباد جانا ہے واپس ابھی “
مودب لہجے میں کہتے ہوۓ ماتھے پر ہاتھ پھیرا ۔ میر دلاور جو عجیب الجھے سے انداز میں اس کی حواس باختہ سی حالت کو دیکھ رہے تھے اس کے یوں واپس جانے کی بات پر اب حیرت سے آنکھیں پھیلا چکے تھے ۔
”کیوں کیا ہوا بیٹا خیریت ہے ابھی تو آٸیں ہیں ہم مری “
میر دلاور نے پریشان سے لہجے میں پوچھا جس پر اب علیدان کمر پر ہاتھ دھرے اوپری ہونٹ کو دانتوں میں پکڑ کر کھینچ رہا تھا سانس اب کچھ نارمل حالت میں آ چکا تھا پر چہرہ ابھی بھی سرخ ہو رہا تھا۔
”بابا پلیز مجھے جانا ہے کچھ بہت اہم کام ہے “
علیدان نے الجھے سے انداز میں کہا اس کو جلدی نکلنا تھا دل کی دھڑکن بے ترتیب تھی تو دماغ پھٹ رہا تھا صفدر کی ساری باتیں سن کر ۔ کوٸ تھا جو دل اور دماغ پر برابر ضرب پر ضرب لگا رہا تھا ۔
”ہوا کیا ہے کیوں اتنے گھبراۓ ہوۓ لگ رہے ہو ابھی تو پہنچیں ہیں ہم “
میر دلاور اب پریشان سے ہو کر صوفے پر سے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے نرمی سے کہتے ہوۓ اس کے قریب ہوۓ ۔
”بابا میرے ایک دوست ۔۔۔“
علیدان نے کمر سے ہاتھ اٹھا کر ہوا میں معلق کیے فقرہ ادھورا چھوڑا ذہن میں بہانہ گھڑا ہاتھوں کو نیچے گرایا
”وہ میرا دوست پریشان ہے مجھے پہنچنا ہے اسلام آباد جلدی میں آپکو پھر فون پر بتا دوں گا ساری بات آپ پریشان مت ہوۓ گا “
علیدان نے چہرے کے تاثرات کو قابو میں رکھتے ہوۓ تیزی سے ترتیب شدہ الفاظ زبان سے باہر اچھالے ۔
میر دلاور ابھی بھی بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہے تھے پر پھر بھی سر کو آہستگی سے اثبات میں ہلا کر اسکو جانے کی اجازت دی ۔ اور وہ تو جیسے سر کی مثبت جنبش کے ہی انتظار میں تھا ۔ تیزی سے پلٹا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر نکل گیا ۔
جبکہ میر دلاور گہری سوچ میں اب بند دروازے کو دیکھ رہے تھے ۔
***********
اس نے رابطہ کیا اس سے کہا تم علیدان ہو یہ کہتا ہاں میں تمھارا علیدان ہوں ۔۔۔۔
یہ کہتا ہاں میں تمھارا علیدان ہوں ۔۔۔۔
وہ کہتی تم علیدان ہو ۔۔۔۔۔۔
یہ کہتا ہاں تمھارا علیدان ہوں ۔۔۔
صفدر کی آواز گونجی زور کی ضرب دل پر لگی ۔ گاڑی فراٹے بھرتی مری سے اسلام آباد کی طرف رواں دواں تھی ۔ آنکھوں کو سکیڑے سامنے سڑک پر جماۓ علیدان کار ڈراٸیو کر رہا تھا ۔
پہلے دن ہی اسے ویڈیو کال پر بلا لیا خبیث نے اور وہ تمھارا سمجھ کر فوراً آ گٸ ۔ بس کہتا اس کو دیکھا اور ۔۔۔۔
علیدان نے زور سے سٹیرنگ پر ہاتھ مارا ۔ دل پر ایسا ہی گھونسا پڑا تھا جس زور سے اس نے سٹیرنگ پر ہاتھ مارا تھا ۔ ہتھیلی کی سن ہو گٸ تھی ۔
دل میں گھٹن سی ہو رہی تھی بے چینی سے ٹاٸ کو داٸیں باٸیں گھما کر گلے سے کھینچ کر ساتھ کی سیٹ پر اچھالا۔ ٹاٸ اب آڑی ترچھی موباٸل کے اوپر پڑی تھی ۔
اس نے کہا میں نے بھی تمہیں دیکھنا ہے اس آدمی نے تمھارے آٸ ڈی کو تلاش کیا اور تمھاری تصویر اٹھا کر اسے بھیج دی اور اس کے یقین کو پختہ کر دیا ۔
کار کی رفتار اور تیز ہو چکی تھی ۔ چہرہ اور آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں ۔ لب ایک دوسرے میں ایسے پیوست تھے کے پیشانی کے اطراف کی رگیں پھول رہی تھیں ۔ جبڑے باہر کو واضح ہو رہے تھے ناک کے نتھنے بھی اپنے حجم سے زیادہ بڑے ہو رہے تھے ۔ ایسے جیسے وہ کچل کر رکھ دے گا کسی کو گاڑی کے پہیوں کے نیچے ۔
اس نے تصویریں مانگیں اذفرین کی اور ان کو اپنی تصویروں کے ساتھ ملا دیا ۔ اب اس کو لے کر جا رہا تھا انہیں تصویروں کے ذریعے بلیک میل کرتے ہوۓ
گاڑی کے ٹاٸر عجیب طرح سے چرچرا رہے تھے ۔ اتنی سردی میں بھی کنپٹی پر پسینے کی بوندیں واضح ہونے لگی تھیں ۔ سٹرینگ پر موجود ہاتھوں کی رگیں بھی پھول گٸ تھیں ۔
************
زور سے سر جا کر دیوار میں لگا تو دانش لڑ کھڑا سا گیا ۔ ابھی سنبھلا نہیں تھا کہ علیدان نے پھر سے گردن سے پکڑ کر منہ سیدھا کیا ۔
مٹھی کو بھینچ کر ہاتھ کو اوپر اٹھاۓ دور سے لا کر اتنی زور سے مکا دانش کے گال پر مارا کہ اس کے منہ سے رال نکل کر زمین پر گری ۔ دانش کی گردن اسی رخ کو ڈھلک گٸ جس رخ مکا پڑا تھا ۔ خون سے لت پتھ چہرہ لیے وہ کراہ راہ تھا ۔ پر مارنے والے کو کوٸ رحم نہیں آ رہا تھا ادھ موا کر چھوڑا تھا ۔
” بس کر علیدان بس کر یار“
صفدر نے علیدان کا بازو پکڑ کر پیچھے کھینچتے ہوۓ التجا کی علیدان نے جھٹکے سے بازو چھڑوایا اور پھر سے جا کر اس کے پیٹ میں ٹانگ ماری ۔ دانش کے منہ سے عجیب وحشت ناک چیخ نکلی وہ اب زمین پر لیٹ گیا تھا ۔ اور ٹانگوں کو سمیٹ کر تکلیف کو برداشت کر رہا تھا ۔
صفدر نے علیدان کی کمر کے گرد بازو ڈال کر اسےپیچھے کی طرف کھینچا۔
” علیدان مر جاۓ گا یار پلیز “
صفدر اب بمشکل علیدان کو قابو کیے اس کے کان میں چیخ رہا تھا ۔ اسے لاک اپ میں گھسا کر بہت بڑی غلطی کی تھی اس نے اسے نہیں پتا تھا اس لڑکی کے لیے وہ کچھ ایسا ردعمل ظاہر کر دے گا ۔
” مر جاۓ ۔۔۔۔۔“
علیدان کی دھاڑ ایسی تھی کہ دانش نے کانپتے سے ہاتھ اوپر اٹھا کر ہوا میں جوڑے ۔ صفدر اب علیدان کو گھسیٹتے ہوۓ باہر لا رہا تھا پاس کھڑے انسپیکٹر کو آنکھ کے اشارے سے لاک اپ بند کرنے کا کہا۔
دانش کا چہرہ زمین پر پڑا تھا ناک سے نکلتا سانس زمین پر پڑی مٹی کو اڑا رہا تھا ۔ پھر اس کے لب آہستہ سے ہلے ۔
” آٸیرن مین ۔۔۔۔“
صفدر اب علیدان کو گھسیٹ کر کرسی پر بیٹھا چکا تھا ۔ اس کے کندھے پر ہاتھ کھے دباٶ ڈالا ۔
”علیدان پلیز یار پلیز سنبھال خود کو بھٸ “
اس کے چہرے کو پکڑ کر اپنی طرف کیا جو ابھی بھی دانش کو خونخوار نظروں سے گھورے جا رہا تھا ۔
”مجھے کچھ بتاۓ گا کون ہے وہ لڑکی کیا ہے یہ سب؟“
پاس پڑے جگ سے پانی گلاس میں انڈیل کر گلاس علیدان کی طرف بڑھایا ۔
” بتاٶں گا پہلے مجھے ملنا ہے اس سے کہاں ہے وہ اب ؟“
علیدان نے پانی کا گلاس ایک طرف رکھے پیشانی پر بل ڈالے پوچھا ۔ شرٹ کے کف فولڈ کیے بکھرے بالوں کے ساتھ سانس بحال کرتا وہ پھولی سانسوں سے اب صفدر کو گھور رہا تھا ۔
”صندل کے ساتھ ہی گٸ ہے “
صفدر نے کندھے اچکاتے ہوۓ کہا ۔ علیدان اب موباٸل جیب سے نکال رہا تھا ۔ رات کا ایک بج رہا تھا دوسری طرف سے صندل کے فون اٹھاتے ہی وہ تیزی سے گویا ہوا ۔
” ہیلو ہاں وہ لڑکی کہاں ہے جس کی مدد کی ہے آج “
بے چینی سے پوچھا ۔ دوسری طرف وہ شاٸد سوٸ اٹھی تھی ۔ کچھ دیر خاموشی رہی ۔
” بول بھی پڑو اب وہ لڑکی اذفرین گھر پر ہے ؟“
دھڑکتے دل سے سوال غصے میں سوال کیا ۔
”بھاٸ وہ لوگ تو اتر گٸ تھیں مین روڈ پر انہیں اپنی کسی رشتہ دار کے گھر سٹے کرنا تھا رات کو “
نیند کی خماری میں بھاری سی آواز میں صندل نے جیسے ہی کہا علیدان نے دانت پیس کر غصے سے موباٸل بند کیا ۔
”نمبر دو اُسکا “
صفدر کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا صفدر نے جلدی سے پاس پڑے کاغزات میں سے ایک فاٸل نکال کر کچھ ورق پلٹے اور پھر کھلی فاٸل علیدان کے سامنے رکھی ۔
” یہ نمبر لکھوا کر گٸ ہے “
صفدر نے نیلے رنگ کے سیاہی کے ساتھ لکھے گۓ ہندسوں پر انگلی رکھے ہوۓ کہا ۔ جبکہ علیدان اب تیزی سے اپنے موباٸل پر وہ نمبر ملا رہا تھا ۔
” بند ہے یہ “
کان سے موباٸل نیچے کۓ بے چینی سے صفدر کی طرف دیکھا
” پریشان مت ہو شاٸد ابھی بند ہو صبح آٸیں گی وہ تو بات ہو جاۓ گی “
صفدر نے کندھے پر تسلی آمیز انداز میں ہاتھ رکھ کر کہا ۔جبکہ وہ اب پھر سے دانش کو گھور رہا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: