Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 19

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 19

–**–**–

کار تنگ سی گلیوں میں بمشکل چل رہی تھی ۔ بار بار کاغذ پر لکھے ایڈریس پر نظر جما کر وہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر گردن نکال نکال کر گھروں کے باہر ایڈریس کو دیکھ رہا تھا ۔
اسے لاہور آۓ اور یہاں گلیوں میں خوار ہوتے ہوۓ چار گھنٹے ہو چکے تھے۔
اذفرین نے اپنی سم سے آخری پیغام صندل کے نمبر پر چھوڑا تھا جس میں اس نے معافی مانگی کہ وہ یہ سب جان بوجھ کر چھوڑ کر جا رہی ہے اس کے گھر والوں تک یہ بات پہنچی تو بہت مسٸلہ ہو جاۓ گا ۔
اس کی سم بند تھی پر علیدان سم کی انفارمیشن لے کر تیسرے دن لاہور آ گیا تھا سم کسی مرحوم نازیہ خلیل کے نام پر تھی وہ شاٸد اذفرین کی والدہ تھیں ۔ وہ اسلام آباد سے لاہور تک کی ڈراٸیو سے تھک چکا تھا صبح سے نکلا وہ تین بجے یہاں پہنچا تھا اور اب شام کے پانچ بج رہے تھے ۔ بکھرے بال ہلکے سے گلابی رنگ کی ڈریس شرٹ میں ملبوس وہ ایک لمبی مسافت کا تھکا ہوا مسافر لگ رہا تھا ۔ ظاہر سفر سے تھکا تھا تو باطن اذفرین کی تلاش سے تھک گیا تھا ۔
اس ٹاٶن میں وہ مطلوبہ گھر کافی دیر سے تلاش کر رہا تھا جو اس سم کی انفارمیشن حاصل کرنے پر اسے ملا تھا۔ بہت سے لوگوں سے پوچھنے پر بھی مطلوبہ گھر نہیں مل سکا تھا یہ لاہور کا پرانا سا رہاٸشی علاقہ تھا ٹوٹی پھوٹی سڑک والی گلیاں تھیں جن میں بمشکل کار اپنا راستہ بناۓ ہوٸ تھی ۔
بار بار دل میں یہ خیال کچوکے لگا رہا تھا کاش اس دن صندل کے کہنے پر وہ ڈراٸنگ روم میں چلا جاتا وہ بار بار اس پل کی واپسی اپنے ذہن میں لا کر اسے اپنے حساب سے چلا رہا تھا ۔ پر گزرا لمحہ کبھی واپس نہیں آتا اذفرین اس سے چند قدم پر دوری پر بھی ہو کر اس سے نہیں مل سکی تھی ۔ اب افسوس کے علاوہ کوٸ چارہ نہیں تھا ۔
وہ انہیں سوچوں میں گم تھا جب پاس سے ایک عمر رسیدہ بزرگ نے گزرتے ہوۓ سر تک ہاتھ لے جا کر سلام کیا بے ساختہ علیدان کی نظر ان پر پڑی ۔
سفید رنگ کے قمیض شلوار میں ملبوس سفید بالوں اور سفید داڑھی والے وہ وجہیہ چہرے کا مالک بزرگ تھے ۔ علیدان نے سلام کا جواب دیتے ہی کاغز ان کی طرف بڑھایا ۔ گلی اتنی تنگ تھی کہ وہ کار کے بلکل پاس سے گزر رہے تھے ۔
” یہ ایڈرس بتا سکتے ہیں آپ؟ “
علیدان نے مودب سے لہجے میں کہتے ہوۓ کاغز ان کو تھاما دیا ۔وہ اب کاغز کو ہاتھ میں تھامے اس پر نظریں جماۓ ہوۓ تھے ۔ جھری دار سفید ہاتھ میں کاغز دھیرے سے کانپ رہا تھا ۔ کاغز پر سے نظر ہٹا کر ارد گرد دیکھا ۔
”یہ تین گلیاں چھوڑ کر ہے بیٹا “
بزرگ نے تھوڑا سا جھک کر کاغز واپسی علیدان کی طرف بڑھاتے ہوۓ کہا ۔ علیدان نے مایوس سی صورت بناۓ کاغز واپس تھاما تو وہ سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے ۔ علیدان کی اتری سی صورت شاٸد انہیں باور کروا گٸ تھی کہ اسے اس طرح پتا بتانے پر تسلی نہیں ہوٸ ۔
” تین چکر لگا چکا ہوں کچھ سمجھ نہیں آ رہا گھوم پھر کر ایک ہی جگہ پر آ رہا ہوں “
بزرگ کی نظروں میں موجود سوال کو بھانپ کر علیدان نے گہری سانس لے کر جواب دیا جس طرح انہوں نے پتہ بتایا تھا ایسے تو بہت سے لوگوں نے بتا دیا تھا پر اسے گلیوں کا ہیر پھیر سمجھ ہی نہیں آ رہا تھا۔
”برا نا لگے تو ساتھ چلوں برخوردار “
بزرگ نے جھری دار سفید ہاتھ گاڑی کے شیشے پر رکھا اور تھوڑا سا جھک کر پوچھا ۔ علیدان نے چونک کر کاغز پر سے نظر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ۔ ان تین گھنٹوں میں یہ وہ واحد انسان تھے جو اتنی تسلی سے اس کی بات سن رہے تھے اور پھر اس کے ساتھ بیٹھ کر گھر تک لے جانے کی پیش کش کر رہے تھے ۔
”جی جی کیوں نہیں بہت شکریہ “ ۔
علیدان نے فوراً مسکرا کر اثبات میں سر کو دھیرے سے جنبش دی اور مشکور نظر بزرگ پر ڈالی جو اب گھوم کر کار کی برابر سیٹ پر بیٹھ چکے تھے علیدان نے کار کو چلانا شروع کیا تو بزرگ نے ہاتھ کے اشارے سے چند گالیاں موڑنے کے بعد ایک گھر کے سامنے کار روکنے کا اشارہ کیا ۔
”یہ نیلے گیٹ والا گھر ہے بیٹا “
علیدان کی طرف والی کھڑکی سے سامنے گھر کے گیٹ کی طرف اشارہ کیا ۔ علیدان فوراً کاغز کو پکڑے باہر نکلا ۔
یہ کافی بوسیدہ سا گھر تھا جس کی درودیوار اس کے اوپر گزرے بہت سے ماہ و سال کی گواہ تھیں ۔
گھر کی گھنٹی بجا کر اب وہ بے تابی سے دروازہ کھلنے کا انتظار کر رہا تھا ۔ دو یا تین منٹ کے بعد دروازہ کھولے لگ بھگ انیس سال کا لڑکا سامنے کھڑا تھا ۔
” جی؟“
لڑکا اب کبھی علیدان کو حیرانگی سے دیکھ رہا تھا اور کبھی کار کو دیکھ رہا تھا۔
**************
”مجھے بھی بنا دو چاۓ “
عقب سے مانوس سی مردانہ آواز پر وہ جھٹکے سے سیدھی ہوٸ ۔ چاۓ کے نیچے آنچ کو ہلکا کرنے کو جھکی تھی جب پیچھے سے باسط کی آواز آٸ ۔
پیچھے مڑ نا چاہا تو وہ اتنا پاس کھڑا تھا کہ مڑنے پر اس سے ٹکرا ہی جاتی ۔ پیشانی پر ناگواری کے بل فوراً نمودار ہوۓ ۔ وہ ناجانے کس وقت یوں کچن میں آ گیا تھا ۔ شادی بھی ہو گٸ تھی پر عجیب سا انداز نہیں بدلہ تھا اسکا ۔
”جی ۔۔۔ آپ باہر چلیں باسط بھاٸ سب کے لیے بنا رہی ہوں “
ناگواری سے کہتے ہوۓ نظریں چراٸیں دل تو کیا ہاتھ میں پکڑا چاۓ کا کپ اس کے سر پر دے مارے ۔ ایک دم سے مہرین آپی کے گھر میں گزارے وہ سارے اذیت ناک سال ذہن میں گردش کر گۓ جن میں وہ باسط سے منسوب تھی اور وہ اسے اپنی ملکیت سمجھ کر اس طرح کی حرکات سے تنگ کرتا رہتا تھا ۔
” بڑی بدل سی گٸ ہو “
خباثت سے دانت نکالتا وہ تھوڑا سا پیچھے ہو کر کچن کی شیلف سے ٹک گیا ۔ مہرین بچوں کو لے باسط کے ساتھ خالہ سیدہ کے گھر آٸ تھی۔ وہ چاۓ بنانے کی غرض سے کچن میں آٸ تو کچھ دیر بعد ہی باسط کچن میں آن دھمکا تھا ۔
”مطلب سمجھی نہیں میں “
اذفرین نے بےزار سے لہجے میں کہتے ہوۓ چہرے کا رخ موڑا پیشانی پر شکن اور گہرے کۓ اب وہ ڈیڑھ سال پہلے والی ڈرپوک سی اذفرین ہر گز نہیں تھی پر آج بھی باسط کی عجیب سی نظریں الجھن کا شکار کر رہی تھیں جس کی وجہ سے بظاہر تو وہ بہت مضبوط بن رہی تھی پر دل ابھی بھی لرز رہا تھا ۔
”مطلب غصہ کرنے لگی ہو بھٸ اب “
باسط نے لبوں کو باہر نکال کر شکوہ کیا ۔ اور بڑے انداز میں اپنی سٹک کو ایک طرف رکھے کان کو کھجایا ۔
”نہیں باسط بھاٸ ایسی تو۔۔۔“
اذفرین نے بے نیازی سے نظریں چراتے ہوۓ کہنا چاہا ابھی بات مکمل بھی نہ کر پاٸ تھی کہ باسط نے فوراً تڑپ کر بات کاٹی ۔
”ارے بھاٸ کیوں بولے جا رہی ہو پگلی بھاٸ تو کبھی نا رہا میں تمھارا“
باسط نے گھبراۓ سے لہجے میں کہتے ہوۓ دانت نکالے ۔ دل ایک دم سے تذلیل کے احساس سے دوچار ہوا ۔ کیا تھی وہ ایک کھلونا وہ کس طرح حق جتا کر ہراساں کر رہا تھا اسے ۔
تھوک نگل کر خود کی حالت پر قابو پایا ۔ جسم میں گڑتی اس کی نظریں آری کی طرح دل کو کاٹ رہی تھیں ۔
” بازل بھاٸ کو بھاٸ بولتی ہوں تو آپکو بھی وہی بولوں گی نا “
اذفرین نے چاۓ کو کپوں میں انڈیلا ۔ بمشکل ہاتھوں کی لرزش کو قابو کیا مبادہ وہ ہاتھوں کا لرزتا دیکھ کر شیر ہو جاۓ ۔
”بازل تو بہنوٸ ہے تمھارا میں تو مینگتر تھا تمھارا“
وہی ہوا ہلکی سی ہاتھوں کی لرزاہٹ نے اسے ایسی ہمت دی کہ اذفرین کے ہاتھ کو بے باکی سے تھام کر اب وہ اس کے چہرے پر نظریں گاڑے کھڑا تھا ۔ اذفرین نے چونک کر اس کی اس حرکت پر آنکھیں سکیڑیں ۔
” تھے۔۔۔۔۔ ہے نہیں “
جھٹکے سے ہاتھ چھڑوایا ۔ اور ٹرے اٹھا کر تیزی سے باہر نکل گٸ ۔ پر اس کا قہقہ دل میں عجیب سی گھٹن بھرنے لگا ۔ٹرے اٹھاۓ ڈراٸنگ روم میں آٸ تو بچے بیٹھے تھے صرف خالہ اور مہرین موجود نہیں تھیں ان کو تلاش کرتی وہ برآمدے میں آٸ تو خالہ کے کمرے کے باہر مہرین کی آواز سے قدم منجمند ہوۓ ۔
”خالہ اچھا بھلہ رشتہ تھا باسط کا نکل گیا ہاتھ سے بیٹھی ہے ابھی تک کنواری نکلی جا رہی ہے عمر“
مہرین تلخ لہجے میں خالہ سیدہ سے کہہ رہی تھی۔ مہرین کا ان بارہ دنوں میں تیسرا چکر تھا خالہ سیدہ کے گھر اور ہر بار کی ہوٸ باتیں وہ آج پھر دہرا رہی تھی ۔
” سعد کے لاروں نے زندگی برباد کر چھوڑی میری معصوم سی بہن کی “
مہرین کے لہجے میں پریشانی سے زیادہ سعد کے لیے چبھن تھی ۔ بس اس کو یہ دکھ تھا کہ گھر میں دیورانی کی جگہ اذفرین ہوتی تو اس کی جان کو سکون آ جاتا اذفرین نے اس کا سارا گھر سنبھال رکھا تھا ۔
”مہرین فری اتنی پیاری ہے پڑھی لکھی ہے ایسی مایوسی کی باتیں کیوں کرتی ہو؟ “
سیدہ خالہ نے مہرین کی بات پر اسے تسلی دینے کے انداز میں کہا ۔
”خالہ وہ جو فروا نے شوشا چھوڑ دیا پورے خاندان میں اس کے اغوا کا وہ “
مہرین کی بات پر اذفرین کا دل پھر سے ڈوب گیا تھا ۔ فروا نے تو جو چرچا کیا تھا کیا ہی تھا اس کی بہن اب اس بات کا دکھڑا رو رو کر ان سب کو بھی بتا رہی تھی جن کو نہیں پتا تھا اس بات کا کہ وہ اغوا ہوٸ تھی اور پھر وہاں سے اکیلی نو دن تک ایک انجان لڑکے کے ساتھ جنگل میں رہی ۔
”یقین مانیں میرا بھی دل ہے میری بہن ہے میرے گھر بھی جاۓ رہے میرے ساتھ بچے بھی اتنا یاد کرتے ہیں اپنی خالہ کو پر اسی بات کو سوچ کر بس دل مسوس کر رہ جاتی ہوں کس منہ سے لے کر جاٶں اسے اپنے سسرال میں “
مہرین بول رہی تھی یہی سب باتیں وہ پچھلی دفعہ دہرا کر چلی گٸ تھی ۔ اذفرین نے پھیکی سی مسکراہٹ لبوں پر سجاٸ اور کمرے کے اندر داخل ہوٸ ۔
”آپی فکر نا کریں نجف سے شادی کے لیے ہاں کر دی ہے میں نے بھابھی کو “
مہرین نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اب سامنے بیٹھے دونوں نفوس کے چہرے پر حیرت تھی جبکہ وہ مسکرا رہی تھی ۔ ہاں بس رات کو بھاٸ سے بات کروں گی اور کہوں گی کہ نجف سے شادی کر دیں میری ۔
*************
وہ مریل سے قدم اٹھاتا واپس کار میں آ کر بیٹھ گیا تھا ۔ سٹیرنگ پر ہاتھ رکھے ہارے ہوۓ انسان کی طرح بیٹھا تھا ۔ جب ساتھ بیٹھے بزرگ کی آواز سناٸ دی ۔
” تھک گۓ ہو لگتا ہے “
بزرگ نے علیدان کے اترے سے چہرے کو دیکھ کر سوال کیا ۔ وہ گھر جن کا تھا انہوں نے دس سال پہلے اذفرین کے والد سے وہ خرید لیا تھا اور انہیں اب نہیں پتا تھا کہ وہ لوگ کہاں گۓ یا اذفرین کی بہن کہاں رہتی ہے ۔
بزرگ کی بات پر علیدان نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا تو ان کے لبوں پر موجود معنی خیز سے مسکراہٹ سے ایسے لگا جیسے وہ سب جانتے ہوں ۔ کہ وہ کسی لڑکی کو تلاش کر رہا ہے ۔
” ہاں تھک گیا ہوں اور مایوس ہونے لگا ہوں اب گماں سا ہونے لگا ہے اللہ ملن نہیں چاہتا اس کا اور میرا “
علیدان نے تھکے سے لہجے میں کہتے ہوۓ کندھے اچکاۓ علیدان کی بات پر بزرگ نرم سی مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ دھیرے سے نفی میں گردن ہلا نے لگے ۔
” تھک گۓ نہیں ہو، تھکا دیا ہے اُ س نے “
بزرگ کی بات پر علیدان نے حیرت سے دیکھا ۔ وہ مسکرا رہے تھے گہری مسکراہٹ اور آنکھوں میں ایسی چمک جیسے سب جان گۓ ہوں ۔
” میری اور اس کی کہانی بہت عجیب ہے سنیں گے تو ہنس دیں گے آپ “
علیدان نے ٹرانس میں کہا نہیں پتا تھا وہ سامنے بیٹھے شخص کو کیوں سب بتا رہا تھا ۔ پر دل چاہ رہا تھا سب بتا کر دل ہلکا کر دے ۔ کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ کوٸ انجان شخص پہلی ملاقات میں ہی اتنا اپنا لگتا ہے کہ انسان اسے بلاجھجک سب بتاتا ہی چلا جاتا ہے ۔ اور اب علیدان کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی تھا ۔
وہ ہم تن گوش تھے کار اسی طرح اس گھر کے سامنے کھڑی تھی علیدان کے ہاتھ سٹیرنگ پر تھے اور نظریں سامنے بیٹھے اس بزرگ پر جمی تھیں ۔
”پہلے تو وہ یوں ملی مجھے کہ لگا اللہ نے اس دنیا میں اسے میرے لیے ہی بنایا ہے اور یوں ہمارا ملنا مقصود تھا ۔ پہلی بار کسی لڑکی کے لیے جزبات دل میں جاگے پھر وہ بچھڑ گٸ اور ایسی بچھڑی کہ اب سامنے سے گزر جاتی ہے میں پھر بھی دیکھ نہیں پاتا “
علیدان کھوۓ سے لہجے میں سب کہہ رہا تھا ۔ سامنا بیٹھا شخص فقط مسکرا رہا تھا معنی خیز سی مسکراہٹ
”مطلب وہ جسے میں پانچ ماہ سے تلاش کر رہا ہوں خوار ہو رہا ہوں وہ میرے گھر میں مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر تھی پر اللہ نے مجھے نہیں ملوایا اس سے وہ اتنا پاس تھی پھر بھی نہیں ملی “
علیدان کے لہجے میں دکھ تھا عجیب سی الجھن تھی خدا سے شکاٸیت تھی ۔
” کتنی عجیب بات ہے نہ، کیا ایسے بھی ہوتا ہے اللہ کو میری محبت کا پتا ہے میرے جزبوں کی سچاٸ کا پتا ہے پر وہ یوں سامنے لا کر بھی اسے میری نظروں سے اوجھل رکھتا ہے تو کیا نہ ہوں مایوس میں کیا نہ تھکوں میں ؟“
علیدان نے پریشان سے لہجے میں سوال کیا۔ سر کو گاڑی پشت سے ٹکاۓ گہری سانس لی چہرہ لہجہ شکوہ کنعاں تھا ۔
دوسری طرف ایک پل کی خاموشی رہی ۔ پھر لرزتی سی آواز نے خاموشی کی توڑا ۔
”ہوتا ہے ایسا کیوں نہیں ہوتا اکثراوقات ہم کسی چیز کی تلاش میں سرتوڑ کوشش کرتے ہیں وہ نہیں ملتی سامنے ہو کر بھی نہیں ملتی بس اللہ نہیں چاہتا کہ وہ ملے ایسے تمہیں وہ جان بوجھ کر تھکا دیتا ہے اس کے حصول کے لیے تمہیں “
وہ شاٸستگی سے کہتے ہوۓ مسکراۓ ۔ تھوڑا سا رخ موڑے بات کو جاری رکھا ۔ علیدان نا سمجھی سے ان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
” ایک دفعہ میری زوجہ کے کان سے سونے کی بالی گری نیک بخت نے پوارا دن لگا کر سارا گھر الٹ مارا کان کی بالی نہ ملی مایوس سی ہو کر بیٹھ گٸ “
وہ مسکرا رہے تھے اور کوٸ مثال دے رہے تھے شاٸد ان کی آواز میں ایسا ٹھہراٶ تھا کہ علیدان کو ان کی بات سننے میں عجیب سا سرور ملنے لگا ۔
” میں نے کہا نیک بخت اللہ سے مانگ بولی کیسی باتیں کرتے ہیں سونے کی بالی اللہ سے مانگوں “
وہ اپنی بیوی کی بات بتا رہے تھے آنکھوں میں چمک تھی تو لبوں پر میٹھی سی مسکراہٹ ۔
”میں نے کہا ہاں کاہے کی شرم دعا مانگ اللہ میرے کان کی بالی مجھے ملا دے کھو گٸ ہے “
بزرگ نے ہلکا سا قہقہ لگاتے ہوۓ بات کو آگے بڑھایا ۔ موتیوں سے سفید دانت بوڑھے سے لبوں سے جھلکے
”خفگی سے میری طرف دیکھا پر دعا مانگنے لگی دعا مانگ کر منہ پر ہاتھ پھیرے سامنے بستر پر نظر پڑی بالی بلکل سامنے چادر کے ہم رنگ پھول پر پڑی ہوٸ ملی “
وہ سفید ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوۓ بات کر رہے تھے اور علیدان بغور ان کے انداز کو دیکھ رہا تھا ۔ شفاف چہرہ روشن سی آنکھیں چہرے پر انگنت جھریاں تھیں پر ایک عجیب سا سحر تھا ان کی شخصیت میں ۔
” پھر تو رونے ہی لگی باولی “
اپنی بات مکمکل کیے اب وہ سوالیہ انداز میں ایسے علیدان کی طرف دیکھ رہے تھے جیسے پوچھ رہے ہوں تم نے مانگا اللہ سے اسے ۔ وہ اب خاموش بیٹھے تھے بنا سوال کیے جواب کے منتظر ۔
”اللہ سے تو دن رات مانگتا ہوں ہر سانس کے ساتھ مانگتا ہوں“
علیدان نے گہری سانس لے کر جواب دیا ۔ وہ اب ہنس رہے تھے کندھے ہلنے لگے تھے ۔ علیدان ان کے ہنسنے پر حیران ہوا ۔ ہنستے ہنستے شاٸد ان کی آنکھوں میں پانی آ گیا تھا ۔ آنکھ کے کونے کو صاف کرتے ہوۓ ہنسنے پر قابو پایا ۔
”نماز پڑھتے ہو ؟“
ہنستے ہنستے ایک دم سے رک کر سوال کیا تو علیدان نے نظریں چرا کر سر نیچے جھکا لیا ۔ نماز ۔۔۔
ہاں نماز کب پڑھی تھی اس نے وہ ذہن پر زور دے رہا تھا ۔گردن اور جھک گٸ تھی ایسا لگا جیسے کوٸ بوجھ تھا سر بھاری تھا کہ گردن میں سکت نہیں تھی کہ اسکے وزن کو سنبھالے اسے سیدھا کر لے ۔
*********
” فری لیکن ۔۔۔“
سعد کی الجھی سی آواز فون سے ابھری اذفرین نے فوراً بات کاٹی ۔
”کچھ لیکن ویکن نہیں بھاٸ آپ یہ مت سوچیں کہ میں یہ سب آپ کے لیے کر رہی ہوں “
اذفرین نے پر عزم لہجے میں کہا ۔ مہرین کے جاتے ہی وہ سعد کو کال کر چکی تھی کہ وہ نجف سے شادی کے لیے تیار ہے ۔ سعد اب سمجھ رہا تھا وہ صرف اس کی وجہ سے یہ سب کر رہی ہے کیونکہ فروا سعد اور ماٸدہ کے ساتھ ناراض ہو کر واپس سڈنی جا چکی تھی ۔ سعد گھر میں اکیلا تھا اور بے حد پریشان تھا کیونکہ جو بھی تھا وہ فروا سے بے حد محبت کرتا تھا ۔
”ایسا کچھ بھی نہیں ہے بھاٸ جو آپ سوچ رہے ہیں میں یہ خود کے لیے ہی کر رہی ہوں مجھے نجف کا رشتہ منظور ہے “
اذفرین نے آنکھوں میں ابھرتے آنسوٶں کو نگلا علیدان کے مسکراتے چہرے کو آنکھوں کو زور سے بند کر کے ختم کیا ۔ دوسری طرف سعد کی خاموشی اس کی منظوری کا ساٸن تھی ۔
” بھاٸ مجھے واپس بلوا لیں آسٹریلیا “
آخری الفاظ پر آواز لڑکھڑا سی گٸ ۔
پیا ملن کی آس ہے من میں
نینوں میں برساتیں ہیں
تنہائی کے چپ آنگن میں
میری ان سے باتیں ہیں
موہے جھپ دکھلا مورے سانوریاں
توری پریت میں ہوگئی باولیاں
توہے نگر نگر میں ڈھونڈ پھری
توہے کوکت ہوں میں بن بن میں
موہے پریت تہاری مار گئی
تم جیت گئے میں ہار گئی
میں ہار کے بھی بل ہار گئی
ایسا پریم بسا مورے تن من میں
********
”یہ تو ۔۔۔ شرمندگی کی بات نہیں کہ ایک لڑکی کی محبت مانگنے کے لیے اللہ کی طرف راغب ہو جاٶں ۔۔۔ اسے مانگنے کے لیے نمازیں شروع کر دیں کس منہ سے کھڑا ہو جاٶں صف میں “
علیدان نے جھکا سر اٹھا کر ساتھ بیٹھے شخص کو بغور دیکھا جو نماز کے بعد کی دعا میں اذفرین کو مانگنے کے لیے کہہ رہے تھے ۔
”تو کیا جانے تیرے دل میں محبت ڈال کر پھر اسے تجھ سے دور کر کے تجھے تھکا کر بے بے بس کر کے وہ اپنی طرف لانا چاہتا ہو ، عشق مجازی سے ہارے ہی تو سجدوں میں گرتے ہیں اور کس نے کہہ دیا کہ ایک لڑکی کی محبت کو مانگنا ایک شرمندہ کر دینے والی دعا ہے کیا پتا وہ لڑکی ایسی نایاب ہو کہ خدا چاہتا ہو تو اسے خدا سے مانگے گڑ گڑاۓ اور جب وہ مل جاۓ اس کی قدر ہو تجھے “
بزرگ نے بھنویں اچکاۓ سوال کیا تو علیدان اور حیران ہوا ۔ پہلا کوٸ ایسا عمر ریسدہ شخص دیکھا تھا جو محبت کو برا نہیں کہہ رہا تھا ۔ بلکہ ترغیب دے رہا تھا کہ محبت بھی اللہ سے ہی مانگو ۔ چاہے وہ کسی نا محرم کے لیے جاگ جاۓ ۔ دعا مانگو اسے محرم بنانے کی ۔
”تو اس لڑکی کو زوجیت میں لانے کے لیے مانگ رہا ہے نہ تو کیا گناہ اللہ تو رازدار ہے سب کے دلوں کے بھید خوب جانتا ہے جس سے تمہیں محبت ہو خدا سے مانگو اور نکاح میں لے آٶ اس میں کیا شرم تمھاری بیویاں جنت میں تمھارے ساتھ ہوں گی تو یہ دعا فقط دنیا کے لیے تو نہیں آخرت کے لیے بھی ہوٸ “
سامنے بیٹھے شخص کی باتیں جیسے دل کو چھونے لگی تھیں ۔ پیشانی پر سے شکن غاٸب ہو چکے تھے۔
” پر اس کے لیے ضروری ہے نماز پڑھوں اللہ تو ہر جگہ ہے ، تو نماز میں ہی کیوں مانگوں اسے “
علیدان نے آہستگی سے ذہن میں امڈ آنے والے سوال کیا ۔ تو سامنے بیٹھے شخص کے لبوں کی مسکراہٹ اور گہری ہوٸ۔
”برخوردار وہ بادشاہ ہے پوری کاٸنات کا کچھ تو اداب کچھ تو سلیقہ ہو اس سے کچھ مانگنے کا دربار میں جھک کر حاضری دو پھر عرضی ڈال دو سنے گا ضرور سنے گا سب کی سنتا ہے گناہ گاروں کو بھی گلے لگاتا ہے “
بزرگ کے لہجے میں ایسا یقین تھا کہ علیدان اب خاموش ہو گیا تھا ۔
” پانچ وقت دربار سجتا ہے بہت رش ہوتا ہے کتنے ہی لوگ اپنی اپنی عرضی ڈالتے ہیں پر ایک وقت ایسا ہے جس میں بھیڑ کم ہوتی ہے “
بزرگ نے رازدانہ لہجے میں کہا اور تھوڑا سا پاس ہوۓ ۔ علیدان نے حیرت سے دیکھا ۔
”کونسا وقت ؟“
کھوۓ سے لہجے میں سوال کیا ان کی باتیں بھی ان کی طرح ہی تھیں سحر طاری کرنے والی تھیں ۔ علیدان کے بے چین دل کو جیسے تسکین سی ملنے لگی تھی ۔ بے چین دل کو قرار سا آ گیا تھا ۔ تھوڑی دیر پہلے جو اپنی تقدیر پر غصہ تھا خدا سے شکوہ تھا ختم ہو گیا تھا ۔
”رات کا ایسا پہر جب سب سو رہے ہوتے ہیں وہ دربار سجاتا ہے خود پکارتا ہے
ہے کوٸ ۔۔۔۔۔
ہے کوٸ ۔۔۔۔
دربار میں بھیڑ کم ہوتی ہے تب عرضی جلدی پہنچتی ہے “
وہ مسکرا رہے تھے سورج ڈوب گیا تھا ۔ مغرب کی اذان گونجنے لگی تھی ۔ بزرگ اب گاڑی سے اتر رہے تھے ۔
”تہجد۔۔۔۔۔ “
علیدان کی سرگوشی نما آواز ابھری وہ پلٹے اور مسکرا کر سر ہلایا ۔ اور چل دیے ۔ کار میں اب خاموشی تھی ۔ ۔۔۔ اور علیدان کے دل میں سکون تھا ۔
**************
نجف سے منگنی ہوۓ پانچ ماہ بیت چکے تھے ۔ سعد شادی اس کی تعلیم مکمل کرنے پر کرنا چاہتا تھا ۔ وہ سڈنی میں نجف کے کہنے پر ہی شفٹ ہوٸ تھی ۔ نجف چاہتا تھا کہ شادی سے پہلے وہ جارج کے ساتھ کچھ اسطرح سے گھل مل جاۓ کہ وہ اسے اپنی ماں کی طرح ایکسیپٹ کر لے ۔
ٹرے کو ہاتھ میں تھامے جب وہ کمرے میں داخل ہوٸ تو وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپاۓ بیٹھا تھا۔ اس انداز پر وہ بے ساختہ مسکرا دی ۔ سر کو آہستگی سے ہلاتی آگے بڑھی اور ٹرے کو بیڈ ساٸیڈ ٹیبل پر رکھ دیا۔
اس کے بال شاٸد بلکل اس کی ماں جیسے تھے سنہری چمکتے ہوۓ کیونکہ نجف کے بال تو گہرے بھورے رنگ کے تھے۔ آہستگی سے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرا کسی نرم و ملاٸم سے فرز جیسا احساس ہوا ۔
” جارج جارج “
نرم دھیمی سی آواز میں اس کے چہرے کے قریب ہوتے ہوۓ کہا ۔ پر وہ ہنوز اُسی انداز میں بیٹھا تھا۔ اس کا کیا قصور تھا اس سب میں دل اچانک جیسے کسی نے مٹھی میں لے کر بھینچ ڈالا تھا آنکھوں کے کونے نم ہونے لگے ۔
” جارج لک ڈنر از ریڈی “
پیار سے میٹھے سے لہجے کو اپناتے ہوۓ کہا ۔ جاج نے غصے سے چہرہ اوپر اٹھایا چہرہ تنا ہوا تھا ۔ دانتوں کو ایک دوسرے میں غصے سے پیوست کیے وہ اپنے سامنے بیٹھی اس نازک سی لڑکی کو گھور رہا تھا ۔
” نو آٸ ڈونٹ وانٹ ٹو ایٹ “
وہ چیخا تھا اس کے گلے کی رگیں پھول رہی تھیں جو اس بات کی گواہ تھیں وہ اسے ایک پل بھی برداشت نہیں کر رہا ہے۔
” آٸ ایم یور مام جارج “
اذفرین نے دھیرے سے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جاج نے ایک جھٹکے سے ہاتھ کو پیچھے دھکیلا ۔ اس کے سانس کی رفتار تیز ہو چلی تھی ننھے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچے وہ اب اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہا تھا ۔
” نووووو یو آر ناٹ “
اس کا لہجہ اس کی آنکھیں سب میں نفرت موجود تھی ۔ وہ اس وقت چار سال کا بچہ نہیں لگ رہا تھا ۔
” لیو می آلون “
باریک سی آواز میں ایسے چیخا کہ وہ گڑبڑا کر کھڑی ہوٸ ۔
” اوکے اوکے “
ہاتھ کے اشارے سے اسے پرسکون رہنے کا اشارہ کرتی وہ ٹرے وہیں چھوڑ کر جلدی سے کمرے سے باہر نکلی ۔ باہر نکلتے ہی دروازے کے ساتھ لگے گہری سانس خارج کی ۔ وہ کھوٸ کھوٸ سی زینے کے جنگلے کو تھامے کھڑی تھی ۔
” کیا ہوا نہیں کھا رہا کھانا “
نجف کی آواز پر چونک کر نیچے دیکھا وہ سیڑھیوں کے بلکل پاس پریشان حال کھڑا تھا۔ بکھرے سے بال بڑھی ہوٸ شیو بل پڑی شرٹ جس کے بازو کے کف فولڈ کیے ہوۓ تھے اذفرین نے آہستگی سے سر کو نفی میں ہلایا ۔
” آپ فکر نہ کریں میں کچھ دیر میں پھر سے ٹراٸ کرتی ہوں “
اذفرین نے نجف کا اترا چہرہ دیکھ کر تسلی آمیز انداز اپنایا ۔زینہ اتر کر وہ ابھی کمرے کی طرف مڑی ہی تھی جب پھر سے نجف کی آواز آٸ ۔
” اذفرین “
وہی شرمندگی بھرا لہجہ اذفرین نے زبردستی چہرے پر مسکراہٹ سجاٸ اور پلٹی۔ ایک نظر اذفرین کی آنکھوں میں دیکھا ۔
” جی “
شاٸستگی سے کہا وہ اب سر جھکاۓ کھڑا تھا ۔
” تھنکیو تھنکیو فار ایوری تھنگ “
زینے کے جنگلے کو تھامے وہ اس سے نظریں چرا گیا تھا ۔
” آپ کے لیے کھانا لگا دوں “
اذفرین نے اس کی شرمندگی کم کرنے کے لیے بات کو فوراً بدلہ ۔ اب پچھلی باتیں دہرانا بے کار تھا ۔
” نہ نہیں امی نے کھا لیا کیا؟ میں کھا لوں گا جب بھوک لگے گی “
نجف نے سوالیہ انداز میں دیکھا ۔ وہ نماز کے انداز میں سر پر سکارف کو باندھے ہوٸ تھی ۔ سفید چہرہ پر نور تھا ۔
” جی وہ سو گٸ ہیں “
اذفرین نے آہستہ سی آواز میں کہا جس پر وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔ اذفرین نے مسکرا کر دیکھا اور کمرے کی طرف بڑھ گٸ ۔ نجف کی نظریں پشت پر گڑی محسوس ہو رہی تھیں جلدی سے آ کر کمرے کا دروازہ بند کیا اور دروازے سے ٹیک لگاۓ کرب کے عالم میں آنکھیں موند لیں ۔
آہستہ سے چلتی سٹڈی ٹیبل تک آٸ دراز میں سے ڈاٸری نکالی اور کرسی کو پیچھے دھکیلتی بیٹھ گٸ ۔ کچھ یاد آ جانے پر پھر سے دراز کو کھولا اور ایک مخمل کی سرخ ڈبیا کو نکالا ۔ جیسے ہی اسے کھولا بھینی سی خوشبو کے احساس سے دل عجیب طرز میں دھڑکنے لگا ۔
سوکھا گلاب جس کی پتیاں اب سفوف سا بن چکی تھیں ٹہنی بھی سوکھ کر دھاگہ سا لگنے لگی تھی نرمی سے ڈیبا کو پھر سے بند کیا اور دراز میں رکھ دیا ۔ ٹیبل لیمپ کو چلا کر ڈاٸری کو کھولا ۔ قلم سفید کاغز پر رکھا اور لکھنا شروع کیا۔
جنوری بروزمنگل 2019 آج پورا ایک سال بیت گیا دیکھو پر تمھاری یاد اور اس گلاب کی خوشبو آج بھی تازہ ہے نہیں جانتی تم سے زندگی میں پھر کبھی مل سکوں گی کہ نہیں پر تم سے جڑا یہ یاد کا رشتہ کبھی نہیں ختم کر سکوں گی ۔ میں ہر روز رات کو یوں ہی بیٹھ کر تمہیں پہروں یاد کرتی ہوں وہ چند دن اور ان چند دنوں کا ایک ایک پل یاد کرتی ہوں مجھے ایسا لگتا ہے جیسے یہ ایک سال بھی بیت گیا اسی طرح پوری زندگی بیت جاۓ گی اور میں تمہیں یونہی یاد کیا کروں گی ۔
اذان کی آواز پر ڈاٸری کو بند کیے گہری سانس لیتے وہ اٹھی تھی ۔ آس تھی کہ ختم ہونے کا نام لیتی تھی دعا میں آج بھی وہ علیدان کو مانگتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: