Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 2

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 2

–**–**–

وہ لوگ غالباً پانچ لوگ تھے جو اب آۓ تھے ان میں سے ایک کو وہ مَنیر یعنی سر بول رہے تھے وہ اب شاٸد لوگوں کے پاس جا جا کر ان کو ہراساں کر رہا تھا ۔ وہ جس کے پاس بھی جاتا اسے بالوں سے پکڑ کر چہرہ اوپر کرتا اور اس شخص کی چیخ و پکار شروع ہو جاتی ۔ اور اس کے ساتھ ساتھ باقی سب لوگ بھی کانپنے اور رونے لگتے ۔
علیدان نے ضبط سے لب بھینچے جبکہ ہاتھ رسی پر پوری قوت لگانے میں مصروف تھے کٹر نے اپنا کام دکھا دیا تھا رسی کی گرفت ڈھیلی ہو رہی تھی گردن جھکے رہنے کی وجہ سے شل ہو رہی تھی قوت لگانے کی وجہ سے پسینہ ناک سے ٹپک ٹپک کر مٹی پر گر کر جزب ہو رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا ان کا کوٸ مطالبہ پورا نہ ہونے پر یہ لوگ ایک ایک کر کے سب لوگوں کو مار دیں گے یہ یہاں کے جنگل میں رہنے والے ایک رہاٸشی قبیلے کے باغی لوگ تھے جو آۓ دن آسٹریلیا کے باشندوں کو یرغمال بنا کر حکومت سے مختلف مطالبات کر رہے تھے اور مطالبات نہ پورے ہونے پر وہ بے دردی سے لوگوں کا قتل عام کر دیتے تھے ۔ اور علیدان کو اس لمحے یہاں اسطرح جان سے ہاتھ دھونا ہر گز قبول نہیں تھا۔ اور شاٸد قدرت بھی اس کا پورا ساتھ دے رہی تھی ۔
اچانک نسوانی چیخ پر بےساختہ وہ نظریں اٹھانے پر مجبور ہوا تھا ۔ سیاہ فام افریقی اب اس ایشین لڑکی کے بال دبوچے اس کے چہرے پر جھکا ہوا تھا اور وہ کانپتے وجود کے ساتھ مچھلی کی طرح تڑپتی ہوٸ رو رہی تھی ۔ وہ بہت قد آوار اور مضبوط ڈیل ڈول کا آدمی تھا بڑے سے موٹی موٹی لٹوں والے بال کندھوں پر کھول رکھے تھے اس کی بے تحاشہ سیاہ رنگت میں اس کی سرخ آنکھیں اس کو ہیبت ناک بنا رہی تھیں ۔ وہ شاٸد اس لڑکی کو چھوڑنا بھول گیا تھا ۔ اور اپنی آنکھوں کو پوری طرح کھولے اس کے چہرے پر گاڑے ہوۓ لمبے لمبے سانس لے رہا تھا ۔ لڑکی اس کے سامنے کوٸ نازک سی چڑیا محسوس ہو رہی تھی ۔
اذفرین کے بال وہ اس بری طرح دبوچے ہوۓ تھا کہ تکلیف کے زیر اثر اس کی آنکھوں میں پانی امڈ آیا اس پر جھکا وہ ہیبت ناک صورت والا آدمی اسے اوپر سے نیچے بری طرح گھور رہا تھا گردن کو بالوں سے پکڑ کر اس بری طرح پیچھے کیا تھا کہ اذفرین کی سفید گردن کی رگیں واضح ہونے لگی تھیں ۔ پورا وجود کانپ رہا تھا گردن اور چہرہ خوف اور گرمی کے زیر اثر پسینے میں شرابور تھا ۔ اس شخص کی آنکھوں میں اترتی شیطانیت اذفرین کی ریڑھی کی ہڈی میں خوف کی لہر دوڑا گٸ تھی۔ اس کی نظریں وجود کے آر پار ہوتی محسوس ہو رہی تھیں ۔ اس نے اپنا چہرہ اذفرین کے چہرے کے بلکل قریب کیا ۔
”دی میسی موٶٹ ہار ہیرین برین “
” یہ لڑکی چاہیے اس کو لے کر آٶ ادھر “
اس نے ایک جھٹکے سے اذفرین کو چھوڑا اذفرین لڑکھڑا کر ایک طرف زمین بوس ہوٸ سمجھ میں نہیں آیا اس آدمی نے کیا کہا ۔ پر وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتا واپس جا رہا تھا اور تین سیا فام سر ہلاتے ہوۓ اذفرین کی طرف بڑھ رہے تھے ۔
” ٹل ہیرادی میسی اوپ“
“اس لڑکی کو اٹھا”
وہ اپنی زبان میں بول رہا تھا، گردن اشاراتآً لڑکی کی طرف اٹھی تھی۔ سب کی نظریں بیک وقت سیاہ شرٹ میں ملبوس لڑکی کی جانب گھومی تھیں اور اُن میں موجود لمبے قد والے آدمی کے قدم بھی۔
ماحول مکمل سناٹے میں آگیا تھا، لوگوں کی ابھرتی سسکیاں اور رونے کی آوازیں خوف سے دبنے لگی تھیں۔ ہر کوئی دو قدم پیچھے ہٹنے لگا تھا ۔ سیاہ شرٹ میں ملبوس لڑکی نے ساتھ والی خاتون کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا تھا۔
ان کے ہاتھوں میں موجود اسلحہ اور بھیانک روپ ہی دہشت زدہ کرنے کے لئے کافی تھے۔
قد آور شخص نے ایک ہی جھٹکے میں لڑکی کو کندھے پر اٹھا لیا ، وہ پیٹ کے بل اس کے کندھے سے پیچھے کی جانب جھول رہی تھی، ٹانگیں آگے کی طرف تھیں۔
” چھوڑو مجھے، چھوڑو مجھے، بچاؤ کوئی”
وہ درد اور خوف سے چلاتی ہوئی اس کی کمر پر سر مارتی خود کو آزاد کروانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ گو کے اس کے ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے تھے۔
لڑکی کی چیخیں اتنی دردناک تھیں کے سب رونا بھول کر تھر تھر کانپنے لگے تھے، اس کی چیخوں کی گونج جنگل میں دور دور تک پہنچ رہی تھی۔
قریب تھا کے وہ لوگ لڑکی سمیت ان کی نظروں سے اوجھل ہوتے، ایک چنگہاڑ سنائی دی تھی
” لیو ہر “
” چھوڑ دو اسے”
علیدان کی جانب ہر نظر مڑی تھی۔ یوں تمام آوازیں تھم گئیں، لمبے قد والے اور اس کے ساتھیوں کے قدم جم گئے ، وہ پلٹے تھے۔
” وات سے ہٸی “
“کیا بول رہا ہے یہ”
لمبے قد والے نے لب بھینچ کر اپنے ساتھی سے پوچھا، غالباً وہ انگلش نہیں جانتا تھا
” گیسے ورلادی میسی “
“کہہ رہا ہے لڑکی کو چھوڑ دو”
ساتھ کھڑے سیاہ فام نے گردن کو ہلاتے ہوۓ کہا اب وہ تینوں علیدان کو گھورنے میں مصروف تھے جو اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔
” نیم دت سام “
”اس کو بھی ساتھ لے چلو “
قد آوار سیاہ فام نے پیشانی پر بل ڈالے اور دانتوں کو پیس کر کہا ۔ اور اس کے ایسا کہتے ہی دنوں سیاہ فارم اب علیدان کی طرف قدم بڑھانے لگے تھے ۔ علیدان نے کسی بھی طرح کی مزاحمت نہیں کی وہ اب علیدان کو بھی دونوں بازٶں سے پکڑ کر گھسیٹتے ہوۓ لے کر جا رہے تھے ۔ ایک آدمی لڑکی کو اٹھاۓ ہوۓ تھے اور اس کے بلکل پیچھے دنوں علیدان کو گھسیٹتے ہوۓ لے کر جا رہے تھے ۔علیدان کی نظریں ان کے کندھوں سے لٹکتی راٸیفل پر تھی ۔ راٸیفل کے منہ پر سیلانسر چڑھے تھے جن سے فاٸر کی آواز سناٸ نہیں دیتی ۔
لڑکی مسلسل چیخ رہی تھی ۔ وہ لوگ اب درختوں میں سے گزرتے ہوۓ کافی آگے آ چکے تھے ۔ یہی وہ محفوظ جگہ تھی جہاں اسے اپنی زندگی بچانے کی آخری کوشش کرنی تھی کیونکہ اس کے بعد اس کا بچنا ممکن نہیں تھا ۔
علیدان نے پوری قوت سے بازوٶں کو جھٹکا دیا اور رسی یک لخت دو ٹکڑوں میں تقسیم ہوتی دور جا گری ۔
علیدان کے ہاتھوں کا یوں کھل جانا دنوں آدمیوں کی سوچ سے بلکل برعکس عمل تھا اس سے پہلے وہ سنبھل پاتے علیدان بڑی مہارت سے ٹانگیں گھماتا ان کو زمین بوس کر چکا تھا ایک کی آنکھ میں کٹر مار کر اس کی گن کو اس کے گلے سے کھینچ کر اب باقی دنوں پر تان چکا تھا سارا عمل اتنی تیزی سے ہوا کہ وہ دو لوگ اپنے کندھوں پر لٹکتی گنز کو بھی نہ اتار سکے ۔ نیچے لوٹ پوٹ ہوتا آدمی اپنی آنکھ پر ہاتھ رکھے اونچی آواز میں چیخ رہا تھا علیدان نے تیزی سے اس کے سر کے وسط میں فاٸر کیا گن کو پھر سے برق رفتاری سے دنوں پر تانا ان کے اپنی اپنی راٸفل پر بڑھتے ہاتھ پھر سے تھم گۓ ۔
” ٹیک آف دا گرل اینڈ ریز یور ہینڈ “
” لڑکی کو نیچے اُتارو اور ہاتھ اوپر کرو فوراً “
علیدان نے پھولی سانسوں کے ساتھ کہا جبکہ نظریں مسلسل اردگرد کا جاٸزہ لے رہی تھیں ۔ جیسے ہی اس نے اذفرین کو نیچے اتار وہ بھاگتی ہوٸ علیدان کے پیچھے آٸ تھی جسم بری طرح کانپ رہا تھا ۔ وہ دونوں آدمی اب ہاتھ اوپر کیے ہوۓ تھے ۔ علیدان نے ایک لمحے کی بھی دیر کیے بنا دونوں پر فاٸر کیے ۔ وہ بے آواز فاٸر پر اب زمین بوس ہو چکے تھے ۔
علیدان نے پھٹی آنکھوں سے تینوں لاشوں کی طرف دیکھتی اذفرین کی طرف دیکھا اور پھر جلدی سے اس کے بندھے ہاتھوں کی رسی کو کھولا ۔ تینوں گنز کو اپنے گلے میں لٹکا کر اذفرین کو اشارہ کیا ۔
” بھاگو “
اذفرین کانپتی ہوٸ اب اس راستے کی مخالف سمت میں علیدان کے پیچھے بھاگ رہی تھی۔ جوگرز تیزی سے زمین کو روندتے پیچھے چھوڑ رہے تھے کپڑوں سے پتے اور جھاڑیاں ٹکرا رہی تھیں
وہ اپنی زندگی میں پہلی دفعہ اتنی تیزی سے بھاگ رہی تھی ۔ اس لمحے وہ نہیں جانتی تھی وہ کون تھا پر وہ اس کا مسیحا تھا وہ جھاڑیوں کو پھلانگتا درختوں سے بچتا اندھا دھند بھاگ رہا تھا ۔ اذفرین اس کے پیچھے بھاگتی ہوٸ بے حال ہو چلی تھی ۔ ان کو اسطرح بھاگتے ہوۓ دس منٹ کے لگ بھگ ہوچکے تھے ۔ اس سارے لمحے میں لڑکا کٸ بار پیچھے مڑ کو اس کو دیکھ چکا تھا ۔ اور ارد گرد نظر دوڑا کر تسلی کر رہا تھا کہ ان کے پیچھے وہ لوگ آ رہے ہیں یانہیں ۔
دس منٹ اتنی تیز رفتاری میں بھاگنے کے بعد اذفرین نے چیخ کر سامنے بھاگتے نفس کو پکارا ۔
” سنو سنو “
اذفرین پوری قوت سے چیخی تھی وہ ایک دم سے رک کر پلٹا لبوں پر انگلی رکھے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کرتا اذفرین کے پاس آیا ۔ سانس بے تحاشہ پھول رہا تھا بھنویں سوالیہ انداز میں اوپر اچکاٸ ہوٸ تھیں۔
” مجھ سے اور بھاگا نہیں جا رہا ہے “
اذفرین نے روتے ہوۓ بچارگی سے کہا۔ وہ ابھی تک پھولی سانسوں کو بحال نہیں کر پاٸ تھی ۔ علیدان نے ارد گرد نظر دوڑاٸ ۔ اور پھر اپنے سامنے کھڑی بے حال سی لڑکی کی طرف دیکھا وہ اپنی جسامت کے لحاظ سے انیس بیس سال کی لڑکی لگ رہی تھی معصوم سا بیضوی چہرہ جن پر اس کی چھوٹی سی تیکھی ناک اور خوبصورت تراش کے لب چہرے کو جازب نظر بنا رہے تھے ۔ سیاہ شرٹ پر جگہ جگہ مٹی لگی تھی چہرے اور گردن پر بال بکھرے ہوۓ تھے ۔ اس سیاہ فام کا دیوانہ ہو جانا اب با خوبی سمجھ آ رہا تھا ۔
علیدان نے فوراً ذہن جھٹکا ۔
” دیکھو تمھاری بے کار کی باتیں سننے کا وقت نہیں ہے اس وقت بھاگو “
اتنا کہہ کر وہ پھر سے بھاگنے لگا تھا اذفرین نے روہانسی صورت بناٸ اور پھر سے اسکے پیچھے بھاگنا شروع کیا ۔
*********
میر دلاور ولاز کے گیٹ پر بیٹھے رحیم بابا کو مسکرا کر سلام کرتی پورچ پر نظر دوڑاتی وہ لان تک پہنچی تھی جہاں وہ سوزو کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ وہ اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھ چکی تھی اور یہ اچھا موقع تھا اس سے ساری بات کی وضاحت لینے کا اسی لیے ان کے گھر چلی آٸ تھی اوز گل نے کمر پر ہاتھ دھر کر سر کو ہوا میں افسوس کے انداز میں مارا ۔ اور آگے بڑھی
” ادیان ادیان “
غصے سے اسے پکارتی اب وہ اس کے سر پر پہنچ چکی تھی ادیان نے ایک بےزار سی نظر اس پر ڈال کر پھر سے سوزو کی طرف توجہ مرکوز کر دی ۔ ادیان کی اس بے رخی پر اوزگل کا منہ حیرت سے وا ہوا ۔
” کیا ہوا ہے تمہیں اس سارے اٹیٹوڈ کی وجہ پوچھ سکتی ہوں ۔“
جھٹکے سے اس کے بازو کو کھینچ کر رخ اپنی طرف موڑا اور اسکے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ کہا ۔ ادیان نے ناک چڑھا کر آنکھوں کو سکوڑے اس کی طرف دیکھا میرون رنگ کے گھٹنے تک آتے فراک کے نیچے جینز پہننے وہ اس سرمٸ شام کا حصہ لگ رہی تھی سوزو کو گود سے رہاٸ بخشی تو وہ بھاگتا ہوا دم ہلاتا ایک طرف کو چل دیا ۔
” مجھے کیا ہو گا “
دل پر قابو پا کر گہری سانس لی اور اٹھ کر کپڑے جھاڑتا وہ پاس کھڑی قلب جاں سے زبردستی بے اعتناٸ برت کے ایک طرف پڑی ریکٹ اور شٹل کو کٹ میں ڈالنے لگا۔
” موڈ بنا ہے اس طرح بات نہیں کر رہے ایک ہفتے سے نوٹ کر رہی ہوں میں “
اوزگل نے منہ پھلا کر خفگی کے انداز میں شکوہ کیا ۔ جس پر ادیان کے چہرے پر اور سنجیدگی طاری ہو چکی تھی ۔ وہ زندگی میں پہلی دفعہ اوزگل کے ساتھ اسطرح کا سلوک کر رہا تھا اور یہ سب کچھ ایک ہفتے سے ہو رہا تھا ۔ اوزگل کو اس سب کی عادت نہیں تھی اس لیے ادیان کی یہ بے اعتناٸ بری طرح کھل رہی تھی ۔
”کچھ نہیں ہوا میرا دماغ کھانا بند کرو پلیز “
سخت لہجا اپنایا اور نظریں چراٸیں جو بے ساختہ اس کے چہرے کے نقوش میں الجھ کر دل کو باغی ہو جانے پر اکسا رہی تھیں ۔
” ادیان یو نیور ٹریٹڈ می لاٸک دس واٹ ہیپنڈ “
اوزگل نے روہانسی آواز میں کہا ۔ ادیان کا سخت لہجہ آنکھوں میں پانی لے آیا تھا ۔ ادیان کیا اسے تو کسی کے بھی سخت لہجے کی عادت نہیں تھی۔
” کچھ نہیں “
یہاں مزید رہتا تو پگھل جانے کا ڈر تھا جو اب اسے ہونے نہیں دینا تھا سامنے کھڑی اس لڑکی کی عزت کرنی تھی محبت کی جگہ احترام کو دینی تھی پر یہ سب کرنا ابھی اس کے لیے آسان نہیں تھا اسی لیے بے رخی برت رہا تھا وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اب گیٹ کی طرف جا رہا تھا ۔ اور اوزگل ناسمجھی کے لکیریں ماتھے پر سجاۓ میردلاور ولاز کے وسیع لان میں پریشان حال کھڑی تھی ۔
**********
علیدان نے بھاگتے ہوۓ پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ بہت پیچھے گھٹنوں کے بل جھکی ہوٸ تھی ۔ اونچے اونچے آسمان سے بات کرتے درختوں کے درمیان میں وہ نڈھال سی جھکی ہوٸ گہرے سانس لے رہی تھی ۔
افف یہ لڑکی مروا کر چھوڑے گی دانت پیستا وہ تیزی سے واپس بھاگ کر اس کے پاس آیا ارد گرد نظر دوڑاٸ عصر ہوتے ہی جنگل میں ملگجا سا اندھیرا ہونے لگا تھا اور ابھی کچھ دیر میں سب کچھ نظر آنا بند ہو جانا تھا جو ان دونوں کے لیے مشکلات پیدا کر سکتا تھا پر وہ لوگ جو اب تک تو ان کو ڈھونڈنے نکل پڑے ہوں گے ٹارچ اور لاٸٹ کے ساتھ ان کو کھوج سکتے تھے ۔ اور یہی ڈر علیدان کو مسلسل بھاگنے پر مجبور کر رہا تھا ۔ گو کہ وہ ان کو لوڈڈ تین گن اپنے ساتھ لیے ہوۓ تھا پر ان لوگوں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتاتھا کہ وہ کتنے لوگ ان کو ڈھونڈنے نکلے ہوں گے۔
” کیا ہوا اب ؟ “
علیدان نے اس کے پاس جا کر پھولی سانسوں کے ساتھ پوچھا جب کے نظریں مسلسل اردگرد کا جاٸزہ لے رہی تھیں ۔ وہ انجان تھی ان کو ملے چند گھنٹے ہی ہوۓ تھے وہ اسے بچانے کی آڑ میں اپنی جان بچا پایا تھا یہ اس کا علیدان پر احسان تھا اور اسی احسان کے بوجھ تلے وہ اسے ساتھ گھسیٹے پھر رہا تھا نہیں تو اس لمحے وہ خود کو اس سارے جھمیلے سے باآسانی بچا سکتا تھا ۔ پر اب وہ ساتھ تھی تو اسے بچانا فرض بن گیا تھا ۔
” پانی پانی پینا ہے مجھے “
اذفرین نے مریل سی آواز میں کہا اور چہرہ اوپر اٹھا کر سامنے کھڑے لڑکے کی طرف دیکھا ۔ انسان تھا یا جن تھکا نہیں تھا کیا اذفرین کا چہرہ زرد پڑ چکا تھا ۔ سانس تھا کا بحال ہونے کا نام نہیں لے رہا جسم بلکل لاغر ہو چکا تھا گلے میں کانٹے چبھنے لگے تھے ۔ پیاس کی شدت کا احساس بری طرح بڑھ چکا تھا ۔ جس کی وجہ سے اب ایک قدم بھی چلنا محال تھا ۔
” کیا میری جان پر بنی ہے کہ وہ لوگ ہم تک نہ پہنچ جاٸیں اور آپ کو پانی پینا ہے “
علیدان نے حیرت سے سامنے کھڑی لڑکی کو دیکھا اب اس مہرانی کو میں یہاں کہاں سے مرنل واٹر پروواٸڈ کروں ۔ دانت پیستے ہوۓ سوچا وہ سیدھا سیدھا وقت ضاٸع کروانے پر تلی تھی ۔
” میں اور نہیں بھاگ سکتی مجھے پیاس لگی ہے “
اذفرین نے نفی میں زور زور سے سر کو ہلایا اور روتے ہوۓ کہا ۔ سامنے کھڑے لڑکے کی پیشانی پر اور زیادہ شکن نمودار ہوۓ ۔ افسوس سے سانس لیا لب بھینچ کر ضبط کرنے کے انداز میں ارد گرد دیکھا ۔ افف یہ بے زار ہو رہا ہے مجھ سے چھوڑ نا جاۓ مجھے اذفرین کو ایکدم سے انجانے سے خوف نے آ گھیرا ۔
” دیکھیں ابھی یہاں تو کہیں پانی نہیں نظر آ رہا آپ تھوڑی سی ہمت پیدا کریں شاٸد آگے کہیں مل جاۓ پانی “
کمر پر ہاتھ دھرے آواز میں سے سختی کو کم کرتے ہوۓ کہا کیونکہ سامنے کھڑی لڑکی کا زرد پڑتا چہرہ اس کی سچاٸ کا ثبوت تھا کہ اس کی ہمت جواب دے رہی ہے ۔ ویسے بھی وہ نازک سے ڈیل ڈول کی لڑکی اتنے میل اس کے ساتھ بھاگ گٸ تھی یہ بھی حیرت کی بات تھی ۔
” لیکن میں بھاگ نہیں سکوں گی “
اذفرین نے بچارگی سے کہا ۔ علیدان نے آبرٶ چڑھا کر ایک بھرپور نظر اس کے زرد پڑتے چہرے پر ڈالی ۔ ترس آ گیا تھا
” ہممم پر اس وقت ہمارا ان سے دوری بناۓ رکھنا زیادہ اہم ہے “
پر سوچ انداز میں کہا اور اب کی بار لہجے میں کچھ نرمی در آٸ تھی ۔ اذفرین نے بچوں کی طرح سامنے کھڑے لڑکے کی طرف دیکھا جو اس وقت اس گھنے سنسان جنگل میں واحد اسکا اپنا تھا ۔ علیدان اب بغور اس کا جاٸزہ لے رہا تھا ۔ دبلی سی تو ہے اگر اسے اٹھا کر بھاگوں تو کتنا وزن ہو گا اس کا علیدان نے تھورڈی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ سوچا ۔
” میری پیٹھ پر چڑھ سکتی ہیں کیا ؟“
علیدان نے کے اچانک کہنے پر وہ ایکدم سے سٹپٹا سی گٸ پر وہ بےحد سنجیدہ تھا ۔
” واٹ “
گھٹی سی آواز میں چہرے پر ناسمجھی سجاٸ ۔ علیدان نے افسوس سے ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ کیا ڈرامے کر رہی ہے اب یہ بیوقوف لڑکی ۔ اب ان حالات میں کیا میں اس سے فاٸدہ اٹھانے کے لیے اسے پاس آنا کا کہہ رہا ہوں ۔
” نہ نہیں آپ کیسے مجھے اٹھا کر بھاگ سکتے ہیں “
اذفرین نے گڑبڑا کر کہا ۔ اذفرین ابھی اس کی پیشکش میں ہی الجھی ہوٸ تھی کہ وہ آگے بڑھا وہ اب مزید اس کی کوٸ بات سننے کے موڈ میں نہیں تھا اسے بازو سے پکڑ پر کندھے پر ڈالا ۔ وہ رکیں رکیں کرتی ہی رہ گٸ تھی علیدان نے کسی بات پر کان نہیں دھرا ۔
” میں بھاگ سکتا ہوں آپ پریشان نہ ہوں “
پھولی سانس میں کہاں اور بھاگنا شروع کیا اذفرین نے زور سے آنکھوں کو بند کیا وہ واقعی میں اسے گود میں اٹھاۓ بھاگ رہا تھا اس بات سے یکسر انجان کے ارد گرد درختوں کی شاخیں اور پتے زور زور سے اذفرین کے منہ سے ٹکرا رہے تھے ۔
غلط سوچا تھا وہ اتنی بھی ہلکی نہیں تھی علیدان کے ویٹ لفٹنگ کے سارے ریکارڈ ٹوٹ رہے تھے ۔
**********
” کیوں وہ کس لیے آٸ ہے یہاں تم نے کہا تھا وہ کبھی نہیں آۓ گی یہاں “
ایمیلی نے اٹھا کر تکیہ ایک طرف مارا ۔ وہ سرخ چہرہ لیے اس وقت غصے کی آخری حدوں کو پار کر رہی تھی ۔نجف نے گہری سانس لی ۔
” ہاں کہا تھا پر مجبوری بن گٸ ہے بے بی سمجھا کرو نا “
نجف کا انداز التجا والا تھا ۔ پر سب بے کار تھا وہ اٹھا اٹھا کر چیزیں پھینک رہی تھی ۔ چھوٹے سے کمرے میں جگہ جگہ کارپٹ پر مختلف چیزیں بکھری ہوٸ تھیں ۔
” اوہ بس کرو تم مجھے بیوقوف بنانا “
ایمیلی نے حقارت سے کہا ۔ گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ چہرے کا رخ ایک طرف موڑا ۔
” میں تم سے اور جارج سے پیار کرتا ہوں اس سے آگے اور کچھ نہیں “
نجف نے بچارگی سے اس کے قریب جا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔
” تم اپنی مام کو بتاٶ ہمارے بارے میں “
ایملی نے کندھے کو ناگواری سے جھٹکا ۔ جس کی وجہ سے نجف کا کندھے پر دھرا ہاتھ نیچے گرا ۔
نجف کے بجتے فون پر وہ وہ خاموش ہوٸ نجف نے موباٸل نکالا ایک نظر ڈالتے ہی ہونٹوں پر انگلی رکھے ایمیلی کو خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔
” نجف اذفرین گھر نہیں پہنچی ہے رات ہو گٸ ہے نہ ہی اس کا نمبر لگ رہا ہے “
ماٸدہ بیگم کی گھبراٸ سی آواز فون میں ابھری ۔ نجف نے گھبرا کر سر پر ہاتھ رکھا ۔ یہ لڑکی عزاب بن گٸ تھی اس کے لیے ۔
” مما یہ کیسے ہو سکتا ہے میں نے اسے ہر ہر چیز نوٹ کرواٸ تھی ۔ “
نجف نے ناگواری سے کہا ۔ ایمیلی نے گھور کر نجف کی طرف دیکھا نجف نے التجاٸ نظروں سے اس کے آگے ہاتھ کی دو انگلیوں کو جوڑتےہوۓ مجبوری کا اشارہ کیا ۔
” مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا ہے تم فوراً گھر پہنچو میرا دل گھبرا رہا ہے “
ماٸدہ نے پریشان سے لہجے میں کہا ۔ نجف نے گھڑی پر نظر ڈالی رات کے سات بج رہے تھے اسے چار بجے گھر پہنچ جانا چاہیے تھا ۔
” اوکے میں آتا ہوں “
آہستہ سی آواز میں کہا اور فون بند کرتا ہوا باہیں پھیلا کر کچھ دور کھڑی ایمیلی کی طرف بڑھا ۔
” ایمیلی ماٸ بے بی پلیز انڈرسٹینڈ ماٸ سچویشن “

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: