Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 20

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 20

–**–**–

کمرے میں ملگجا سا اندھیرا تھا ہاتھ میں کاغز کی لسٹ تھامے لیپ ٹاپ کی سکرین پر کھلی ایمیل پر صندل کی نظریں تیزی سے سفر کر رہی تھیں اور جیسے جیسے وہ ایمیل پڑھتی جا رہی تھی حیرت کے سمندر میں غرق ہوتی جا رہی تھی۔
وہ اور اوزگل آج بہت عرصے بعد کچن میں گھسی تھیں ۔ اوزگل کو ہی آج جوش اٹھا تھا کہ وہ سارا کھانا خود تیار کرے گی وہ بہت خوش اور پرجوش تھی اور بہت سی ڈیشز تیار کرنا چاہتی تھی ۔
کچھ سامان ایسا تھا جو کم تھا واصف بھاٸ گھر میں موجود نہیں تھے صندل ادیان سے وہ سب سامان منگوانے کی غرض سے اس کے کمرے میں آٸ تو لیپ ٹاپ سٹڈی میز پر کھلا پڑا تھا اور شاٸد ادیان ابھی ابھی اٹھ کر واش روم گیا تھا اس لیے وہ انٹرنیٹ چیٹ کھلی چھوڑ گیا تھا ۔ وہ چیٹ اوزگل کے ساتھ کر رہا تھا پر صندل کو حیرت میں مبتلا کر دینے کی بات یہ تھی کہ وہ اوزگل سے چیٹ علیدان بن کر رہا تھا ۔
واش روم کا دروازہ کھلنے کی آواز آٸ تھی پر ساکن کھڑی صندل نے پلک تک نہ جھپکی تھی ۔
ادیان جیسے ہی واش روم سے باہر نکلا تو قدم وہیں تھم گۓ ۔ سامنے صندل لیپ ٹاپ کی سکرین پر حیرت سے کھلی آنکھیں لیے کھڑی تھی۔
افف اسکے تو وہم و گمان میں بھی نہ تھا اس وقت یوں صندل اس کے کمرے میں آ دھمکے گی ۔ اگر تھوڑا سا بھی اندازہ ہوتا وہ چیٹ بند کر کے جاتا ۔
خجل ہوتے ہوۓ تیزی سے پاس آ کر لیپ ٹاپ سکرین کو آف کیا ۔ صندل اب حیرت سے ادیان کی طرف دیکھ رہی تھی۔
”بھاٸ یہ سب ۔۔۔؟“
صندل کی آواز بہت دھیمی تھی پر اس کی آواز میں موجود حیرت صاف ظاہر تھی ۔ ادیان کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا اوزگل کے ساتھ علیدان بن کر بات کرتے ہوۓ اسے ایک سال بیت گیا تھا یہ ایک سال پر لگا کر نکل گیا اور وہ اوزگل کو خوش رکھنے میں بہت آگے نکل گیا تھا ۔
”بیڈ مینرز ہیں یہ تم کیاکر رہی ہو میرے روم میں اور بنا اجازت لیپ ٹاپ سکرین پر کیوں آٸ؟ “
ادیان نے خفگی بھرے لہجے میں کہتے ہوۓ نظریں چراٸیں۔ آواز میں گھبراہٹ اور بوکھلاہٹ واضح تھی ہوتی بھی کیوں نہ یہ سب تو وہ خود سے بھی چھپاتا تھا کیا کرتا اوزگل کی خوشی کی آڑ میں کہیں اس کی بھی تسکین چھپی تھی اوز سے اتنی محبت تھی کہ اس عجیب سے کھیل میں بھی سکون ملنے لگا تھا۔
”آپ یہ سب غلط کر رہے ہیں ادیان بھاٸ “
صندل نے ادیان کے نظریں چراتے چہرے کو بغور دیکھتے ہوۓ پریشان سے لہجے میں کہا ۔ ادیان اب سٹڈی میز کے آگے رکھی کرسی کو گھسیٹتا اس پر بیٹھ چکا تھا ۔
”کچھ غلط نہیں ہے اور تمہیں میری قسم تم اوز کو یہ سب نہیں بتاٶ گی میں یہ اسی کی خوشی کے لیے کر رہا ہوں “
ادیان نے ہنوز نظریں چراتے ہوۓ کہا اور پھر سے لیپ ٹاپ سکرین کو کھولے اپنے آپ آپکو مصروف ظاہر کیا ۔ وہ تیزی سے لیپ ٹاپ کے کے بورڈ پر کچھ ٹاٸپ کر رہا تھا۔
صندل کچھ دیر یونہی خاموشی سے اسے گھورتی رہی۔
”آپ کو پتا ہے وہ آج کچن میں کیا کر رہی ہے ؟“
صندل نے چبھتے سے لہجے میں سوال کیا لبوں کو آپس میں پیوست کیے آنکھوں کو سکیڑے وہ اب ادیان کو گھور رہی تھی پر ادیان تو جیسے اسے نہ دیکھنے کا تہیہ کیے ہوا تھا ۔
ہاں اتنا ضرور تھا کہ لیپ ٹاپ پر ٹاٸپنگ کرتی انگلیاں تھم گٸ تھیں ۔
”آپکی پسند کے کھانے بنا رہی ہے دیوانی ، دل میں یہ سوچتے ہوۓ کہ وہ یہ سب علیدان بھاٸ کے لیے کر رہی ہے “
صندل نے دکھ بھری آواز میں تیزی سے اپنے ہی کۓ گۓ سوال کا جواب دیا اور پیشانی پر بل ڈالے تھوڑا سا جھک کر ادیان کی نظروں میں جھانکنے کی کوشش کی ۔
”تو وہ خوش ہے نہ بس تو رہنے دو اسے خوش کیا مسٸلہ ہے تمہیں “
ادیان نے جھٹکے سے سر اوپر اٹھایا ، سر کے اوپر اٹھنے کے ساتھ ساتھ لیپپ ٹاپ سکرین بھی بند ہوٸ تھی ۔ چہرہ سپاٹ تھا پر شرمندگی کی جھلک بھی موجود تھی ۔
صندل نے دھیرے سے افسوس کرنے کے انداز میں گردن کو ہلایا ۔ وہ جانتی تھی اپنے بھاٸ کو اس کے دل میں کچھ بھی غلط نہیں تھا لیکن یہ کیسے فراموش کر دیتی کہ وہ اوزگل سے محبت کرتا ہے ۔
” نہیں ہے یہ سہی ، غلط ہی ہے دل سے نہیں دماغ سے پوچھ کر دیکھیں تو ایک دفعہ ، جب شادی کے بعد وہ علیدان بھاٸ سے یہ سب پوچھے گی تو جانتے ہیں کیا ہو گا؟ “
صندل نے آنکھیں سکیڑے سوال کیا تو ایک پل کے لیے ادیان ساکن ہوا ۔ جواب دینے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔ اس لیے بس نظریں جھکا گیا۔
” نہیں جانتے نا تو سوچیں اس بارے میں آپ یہ بھول بیٹھے ہیں کہ اس کی یہ وقتی خوشی بعد میں اس کے لیے پریشانی بن سکتی ہے ۔ “
صندل نے تنک کر پر آہستگی سے کہا اور پھر وہاں رکی نہیں تھی ۔تیزی سے کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ ۔ اور ادیان یونہی خالی نظروں سے دروازے کو گھور رہا تھا۔
*************
بالوں کا بے ترتیب سا جوڑا بناتی وہ لاونج میں آٸ تو جارج ٹی وی سکرین پر نظریں جماۓ اشتیاق سے سامنے چلتی انگلش موی دیکھنے میں مصروف تھا ۔ وہ بار بار آٸرن مین کے ایک منظر کو پیچھے کر کے دیکھ رہا تھا ۔
اذفرین مسکراتی ہوٸ قریب آٸ اور ساتھ موجود کاٶچ پر بیٹھ گٸ ڈھیلی سی ٹی شرٹ اور ٹرایوزر میں ملبوس اب وہ جارج کے بلکل ساتھ کے کاٶچ پر براجمان تھی
جارج اذفرین کے آنے اور یوں اس کے پاس بیٹھنے کو یکسر نظر انداز کیے ہوۓ تھا۔ وہ دبلا پتلا سا بظاہر معصوم شکل کا بچہ تھا پر اندر سے وہ بہت ضدی اور حساس تھا ۔
”کیا دیکھ رہے ہو؟ “
اذفرین نے ملاٸم سے لہجے میں پوچھا لبوں پر محبت بھری مسکراہٹ سجاٸ ۔ وہ ان پانچ ماہ میں کافی نارمل ہو گیا تھا اپنی ماں کو بھی اب کم یاد کرتا تھا ۔
ایمیلی نے دوسری شادی کر لی تھی وہ اپنے نۓ شوہر کے ہمراہ انگلینڈ منتقل ہو چکی تھی ۔ اذفرین نے اپنی مرضی سے پڑھاٸ کو خیر باد کہہ دیا تھا ۔ سعد نے تو شادی میں تاخیر اس کی پڑھاٸ کی وجہ سے ہی کی تھی پر بعد میں نجف کو یہی لگا کہ ابھی جارج اور اذفرین ایک دوسرے کے ساتھ گھل مل جاٸیں اس لیے وہ ابھی شادی نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
فروا سے یہ بلکل برداشت نہیں ہوتا تھا کہ سعد اس کی پڑھاٸ کا خرچہ اٹھاۓ ۔ یہی وجہ تھی سڈنی آ کر وہ پڑھاٸ کا ارادہ ترک کر چکی تھی ۔
اذفرین سوال کیے اب جارج پر نظریں جماۓ بیٹھی تھی جبکہ جارج نے اذفرین کے سوال کا کوٸ جواب نہیں دیا ۔ وہ سب کے ساتھ ٹھیک ہو گیا تھا بس اذفرین کے ساتھ ابھی بھی کھچا کھچا سا رہتا تھا ۔اس کی وجہ شاٸد یہ تھی کہ نجف چاہتا تھا وہ اذفرین کو مما کہے ۔
” اوہ۔۔۔۔ واٶ۔۔۔۔ تمہیں آٸرن مین پسند ہے کیا ؟ “
پہلے سوال کا جواب نا ملنے پر بھی وہ ہمت نہیں ہاری تھی دوسرا سوال داغ چکی تھی پر ننھا جارج اب بھی اسی طرح سپاٹ سا چہرہ لیے بیٹھا تھا ۔ وہ شاٸد یہ فلم بہت دفعہ دیکھ چکا تھا اس لیے اپنی پسند کے مناظر کو ہی نکال نکال کر دیکھ رہا تھا ۔
” میرے پاس بھی اٸرن مین کی کہانی ہے ایک سناٶں کیا۔۔۔ کوٸ سنے گا ؟“
اذفرین نے بچوں کی طرح پرجوش انداز میں نظریں ارد گرد گھماتے ہوۓ پوچھا ، اب کی بار جارج ٹی وی سکرین سے نظریں ہٹاۓ اذفرین کی طرف متوجہ ہو چکا تھا۔ چہرہ اسی طرح سپاٹ تھا ۔
”سنو گے۔۔۔؟ “
اذفرین نے اس کے یوں دیکھنے پر خوش ہو کر پوچھا ۔ جارج نے دھیرے سے سر ہلایا پر چہرے پر اذفرین کی پرجوش مسکراہٹ کے جواب میں کوٸ مسکراہٹ نہیں تھی ۔
” ایک دفعہ کیا ہوتا ہے ایک ڈرپوک سی لڑکی ایک بس میں سوار ہوتی ہے “
اذفرین نے کہانی شروع کی اور بغور جارج کی طرف دیکھا جو ویسے ہی سنجیدہ بیٹھا تھا پر اس کا یوں متوجہ ہونا ہی غنیمت تھا ۔
” وہاں بس میں آٸرن مین بھی ہوتا ہے ۔ وہ ایک بک پڑھ رہا ہوتا ہے “
اذفرین اسے کہانی سناتے ہوۓ ہاتھوں سے مختلف اشارے بھی کر رہی تھی ۔ جارج اب مکمل طور پر اس کی طرف متوجہ تھا اور غور سے کہانی سن رہا تھا ۔
” لڑکی اٸرن مین کے ساتھ بیٹھ جاتی ہے بس چلنا شروع ہوتی ہے تو اس ڈرپوک لڑکی کو نیند آ جاتی ہے ، جب آنکھ کھلتی ہے تو کیا دیکھتی ہے ، تین خطرناک مونسٹرز بس میں ہوتے ہیں لوگ رو رہے ہوتے ہیں “
اذفرین نے آنکھوں کو اور لبوں کو اکٹھا سکوڑا اور تجسس پیدا کیا ۔ پھر تھوڑی دیر کے لیے چپ ہوٸ ۔ اور یوں چپ ہو جانا کام دکھا گیا تھا ۔
”پھر۔۔۔۔؟“
معصوم سی نرم آواز ابھری تو اذفرین کی آنکھیں چمک اٹھیں ، جارج کی آنکھیں کھل گٸ تھیں اور معصوم سے چہرے پر اب تجسس کو صاف دیکھا جا سکتا تھا ۔
”پھر کیا آٸرن مین کو وہ مونسٹرز مل کر باندھ دیتے ہیں اور سب بس والوں کو ساتھ لے کر ایک گھنے جنگل میں چلے جاتے ہیں “
اذفرین نے گھنے جنگل پر زور دے کر آنکھوں کو پھیلایا اور جارج کی دلچسپی کو اور بڑھایا۔ اور ایسا ہی ہوا وہ کہانی میں مکمکل دلچسپی لے چکا تھا ۔
” آٸرن مین فاٸیٹ کیوں نہیں کرتا ؟ “
جارج نے معصومیت سے پوچھا وہ اپنے ایک ہاتھ کو فولڈ کیے اپنے چہرے کے نیچے رکھ چکا تھا ۔ اذفرین کے چہرے پر ایک دم سے خوشی امڈ آٸ ۔ جارج کا یہ رویہ اس کا حوصلہ بڑھا گیا تھا ۔
” کرے گا نا کیوں نہیں کرے گا، سنو تو آگے بہت مزے کی سٹوری ہے پر پہلے جارج مما کے ساتھ دوستی کرے گا“
اذفرین نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا ۔ جارج نے بغور اس کے ہاتھ کی طرف دیکھا اور پھر تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ اپنا ننھا سا ہاتھ اذفرین کے ہاتھ میں دے دیا ۔
********
”بابا ابھی میں تھوڑا بزنس میں سیٹ ہو جاٶں ابھی پلیز شادی کے بکھیڑے میں مت ڈالیں مجھے “
علیدان نے سامنے کھڑے میر دلاور کی طرف التجاٸ نظروں سے دیکھا ۔ میر دلاور نے گھور کر علیدان کو دیکھا ۔ سفید رنگ کے قمیض شلوار میں نکھرا نکھرا سا وہ شاٸد ابھی مسجد سے واپس آیا تھا جب انہوں نے اسے اپنے کمرے میں بلا لیا تھا ۔ ایک طرف زیب دنوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنساۓ پریشان سی کھڑی تھیں ۔ کمرے میں اس وقت وہ تین نفوس ہی موجود تھے ۔
صندل اور اوزگل کی پڑھاٸ مکمل ہو چکی تھی صندل کی جہاں بات طے ہوٸ تھی وہ لوگ بھی اس سال شادی مانگ رہے تھے ۔ اور میر دلاور اوزگل اور علیدان کی شادی بھی ساتھ کر دینا چاہتے تھے ۔
پر علیدان مسلسل شادی نہ کرنے پر بضد تھا پہلے تو وہ یہ بات زیب سے ہی کرتا رہا تھا پر آج تو وہ یہ بات میر دلاور کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کر رہا تھا۔
” تو شادی کیا تمہیں روک دے گی بزنس میں آگے بڑھنے سے ، کیا عجیب بات کر رہے ہو تم “
میر دلاور نے پیشانی پر بل ڈالے ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ جبکہ لہجہ طنزیہ تھا۔ علیدان نے بے چارگی سے ان کی طرف دیکھا ۔
وہ کیسے سمجھاۓ انہیں کہ وہ جسے راتوں کو اٹھ کر مانگتا ہے اس کو کیسے دھوکا دے ۔ پہلے تو یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ اسے چاہتی ہے بھی کہ نہیں پر اب تو یہ معلوم تھا کہ وہ اسے چاہتی ہے اسے کھوجتے ہوۓ کسی اور سے ٹکرا گٸ تھی ۔
اب تو دل اور شدت سے اسے ملنے کی دعا کرنے لگا تھا ۔
اب صرف ہر سانس ہی اس کے ملنے کی تسبیح نہیں کرتی تھی بلکہ جب وہ تہجد کے لیے اٹھتا تو اس کی روح تک دعاگو ہوتی ۔
اور دعا مانگنے کے بعد ایسا محسوس ہوتا جیسے کوٸ ہے جو سر پر ہاتھ رکھ رہا ہے اور اسی احساس کی وجہ سے مایوسی امید میں بدلنے لگتی تھی ۔
”بابا پلیز ابھی صرف صندل کی کر دیں شادی مجھے ابھی نہیں کرنی“
علیدان نے بے زاری سے کہا تو سامنے کھڑے میر دلاور کے پیشانی کے بل اور گہرے ہوۓ۔ وہ ضبط سے لب پیوست کیے ہوۓ تھے گھور کر علیدان کو دیکھا تو فوراً علیدان نظریں چرا گیا۔ اذفرین سے محبت کے بارے میں گھر میں صرف زیب جانتی تھیں اور وہ نہیں چاہتا تھا میر دلاور کو اس سیراب محبت کے بارے میں پتا چلے ۔
”مجھے اپنی بیٹی سے زیادہ اس بن ماں باپ کی بچی کی فکر ہے تم اپنے مشورے اپنے پاس رکھو “
میر دلاور نے دانت پیستے ہوۓ جواب دیا وہ ضبط کی آخری سیڑھی پر تھے اس سے پہلے کہ وہ سامنے کھڑے اپنے بیٹے پر برس پڑتے ۔ فوارً غصے کو قابو کیا اور پاس کھڑی زیب کی طرف رخ موڑا ۔
” زیب اپنے بیٹے کا دماغ درست کرو ، اس سال شادی ہو گی اور ہر صورت ہو گی “
میر دلاور غراۓ زیب نے گردن جھکاٸ اور پھر وہ ناک پھلاۓ کمرے سے باہر نکل گۓ ۔ میر دلاور کے کمرے سے نکلتے ہی علیدان تیزی سے زیب کی طرف مڑا اس سے پہلے کہ زیب کچھ بولتی علیدان نے کی آواز نے انہیں بولنے سے روک دیا ۔
”مما اور میں کسی صورت شادی نہیں کروں گا “
علیدان کا لہجہ دو ٹوک تھا ۔ زیب جو کچھ بولنے کے لیے لب کھولے ہوۓ تھی گہری سانس لے کر بات بدلی اور بغور علیدان کی طرف دیکھا وہ غلط سمجھتی رہی تھیں کہ علیدان اُس لڑکی کو بھول جاۓ گا وہ وقتی خمار ہے جو اتر ہی جاۓ گا اور پھر علیدان ہنسی خوشی اوزگل سے شادی کر لے گا پر وہ غلط تھیں وہ لڑکی تو اب علیدان کی روح تک اتر چکی تھی ان پانچ ماہ میں کیا کچھ نہیں بدلتے ہوۓ دیکھا تھا انہوں نے علیدان میں ۔
وہ نہ صرف پانچ وقت نماز کے لیے جانے لگا تھا بلکہ وہ تہجد بھی پڑھتا تھا ۔ وہ جس کے پتا نہیں کتنے خواب ہوا کرتے تھے وہ اب خاموشی سے میر دلاور کے ساتھ آفس جانے لگا تھا ۔ وہ کھل کر ہنستا نہیں تھا گھر میں کسی سے بات نہیں کرتا تھا کھویا کھویا سا رہتا تھا ۔ ان کی ممتا تڑپ جاتی تھی ۔
”وہ نہیں ملے گی علیدان چھوڑ دو آس اس کے ملنے کی میرے چاند “
زیب نے دھیرے سے علیدان کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔ وہ اسی طرح کھڑا تھا سامنے دیوار پر لگی پینٹنگ کو گھورتا ہوا ۔ بڑی بڑی آنکھیں سکوڑے پیشانی پر ایک عزم کے بل لیے ۔ خوبرو چہرے پر ایک اداسی اب راج کرنے لگی تھی جس کی چھب آنکھوں میں بھی صاف دکھاٸ دیتی تھی۔
” صرف اتنا کہوں گی علیدان تم اس ایک سیراب لڑکی کی خاطر ہماری اتنے سالوں کی محبت کو فراموش کیے ہوۓ ہو بیٹا اس کی مختصر سی محبت کو بھول کیوں نہیں جاتے ، خدارا بھول نہیں سکتے تو بھولنے کی ادکاری ہی کر لو ، بس شادی کے لیے راضی ہو جاٶ “
زیب نے آہستگی سے کندھے سے ہاتھ کو ہٹایا اور پھر خاموشی سے کمرے سے باہر نکل گٸیں ۔ جبکہ وہ کمرے کے بیچ و بیچ مجسم سا بنا کھڑا تھا ۔
کیسے بھول جاۓ اور کیسے چھوڑ دے آس ۔ نہیں بھول سکتا تھا اسے اُس کے بس میں کچھ بھی نہیں تھا ۔ محبت ہر گزرتے دن کے ساتھ اس کی روح میں جڑیں پھیلاتی جا رہی تھی ۔
محبت مختصر بھی ہو تو
اس کو بھولنے میں عمر لگتی ہے
وہ چہرہ بھول جاتا ہے
مگر اس سے جڑی دل کی
سبھی یادیں
آکاس بیل کی مانند
روح کے شجر سے شاخ در شاخ
لپٹی ہی رہتی ہیں
انہیں خود سے جدا کرنے میں
اک عمر لگتی ہے !!
اور اسے تو ابھی ایک برس ہی گزرا تھا ۔ ۔۔۔۔
*********
کھوٸ کھوٸ سی وہ کپڑوں کی تہہ لگا رہی تھی ۔ دل میں عجیب سی اُدسی تھی سوچا تھا اب پاکستان کبھی نہیں جاۓ گی اور یہاں آسٹریلیا میں یہ احساس تھا کہ علیدان بھی انہی ہواٶں میں کہیں سانس لے رہا ہے پر پتا نہیں قسمت کو کیا منظور تھا وہ علیدان سے اور دور ہونے جا رہی تھی ۔ ہر وقت بس ایک ہی دعا تھی یا اللہ اگر وہ نہیں مل سکتا تو میرے دل سے اس کی ہر یاد کو مٹا دے پر کہیں بس ایک دفعہ اس کی ایک جھلک دکھا دے پر دنوں دعاٸیں شاٸد عرش سے ٹکرا ٹکرا کر واپس آ رہی تھیں ۔
نہ تو دل سے نکلتا تھا اور نہ ہی وہ نظر آتا تھا ۔ وہ بے بس تھی دل کے ہاتھوں مجبور تھی نجف سے شادی کو تیار تو ہو گٸ تھی پر دل سے علیدان کا نقش نہیں مٹتا تھا ۔
وہ انہیں خیالوں میں ڈوبی ہوٸ تھی جب پاس سے نجف کی آواز نے خیالوں کے کھڑے پانی کی جھیل میں پتھر پھینک کر ارتعاش پیدا کر دیا ۔
” امی میں آ جاٶں گا بس کیس نمٹا دوں ایمیلی کو میں جارج ہر گز نہیں دوں گا “
نجف نے ماٸدہ بیگم کے پاس بیٹھ کر ان کے گرد بازو حاٸل کیۓ ۔ وہ اداسی سے نجف کی طرف دیکھنے لگیں ۔ قریب ہی کھڑی اذفرین ماٸدہ بیگم کے کپڑوں کی تہہ لگا لگا کر بیڈ پر پڑے سوٹ کیس میں رکھ رہی تھی ۔
اپنی اور جارج کی پیکنگ وہ کر چکی تھی ۔ نجف انہیں پاکستان بھیج رہا تھا ۔ ایمیلی اچانک واپس آ کر جارج کی کسٹڈی کے لیے نجف سے لڑنے لگی تھی ۔ اور نجف اب اسے جارج نہیں دینا چاہتا تھا ۔ اسی لیے وہ ان تینوں کو پاکستان بھیج رہا تھا ۔
”کوٸ مسٸلہ نا بنا دے وہ تمھاری فرنگی بیوی جارج کو یوں پاکستان لے کر جانے پر ، بیٹا تو بھی ہمارے ساتھ ہی چل نا پاکستان “
ماٸدہ نے پریشانی سی صورت بناۓ کہا اور پاس بیٹھے نجف کے سینے پر محبت سے سر رکھا ۔ ایمیلی نے ابھی کیس فاٸل نہیں کیا تھا یہی وجہ تھی کہ نجف کیس فاٸل ہونے سے پہلے انہیں پاکستان بھیج دینا چاہتا تھا ۔
” نہیں بنتا کوٸ مسٸلہ میں جانتا ہوں اس عورت کو اچھی طرح ، امی بس آپ پریشان نہ ہوں فکر نہ کریں کچھ ماہ تک میں آٶں گا اور پھر پاکستان میں ہی شادی ہو گی “
نجف نے ملاٸم سے لہجے میں کہا ۔ اور ماٸدہ آہستہ آہستہ سر ہلانے لگیں ۔
” حسیب سے بات ہو گٸ ہے اس کے سسرالی رشتہ دار ہیں ان کی کوٹھی ہے رینٹ پر لی ہے میں نے بہت اچھے لوگ ہیں آپ کو اور فری کو کوٸ پرابلم نہیں ہو گی “
نجف نے بات مکمل کرنے بعد اذفرین کی طرف دیکھا جو جواب میں آہستگی سے مسکرا دی ۔ حسیب نجف کا خالہ زاد تھا جس کی مدد سے اس نے پاکستان میں ان کی رہاٸیش کا انتظام کیا تھا ۔
************
”بس چپ چپ رونا بند کرو گل “
زیب بیگم نے اوز کے پاس بیٹھ کر اس کے سر کو اپنی گود میں رکھا وہ بچوں کی طرح ان کی گود میں منہ دیے سسکنے لگی تھی آج ایک سال بعد وہ یوں اپنے والدین کو یاد کر کے رو رہی تھی ۔
بات ہی ایسی تھی میر بہادر ولاز آج پورے ایک سال بعد کھل رہا تھا ۔ درخشاں بیگم کے انتقال کے بعد اوزگل دلاور ولاز میں شفٹ ہو گٸ تھی اور بہادر والاز کو بند کر دیا گیا تھا ۔ پر اب ایک سال بعد اسے گھر کے داماد کی فرماٸش پر دلاور ولاز کے بلکل ساتھ جڑا بہادر ولاز کھولا جا رہا تھا ۔ صاف صفاٸ ہو چکی تھی دوسری طرف سے لان میں آوازیں سناٸ دے رہی تھیں جس سے پتا چل رہا تھا وہ لوگ آ چکے ہیں ۔
صندل کی جہاں نسبت طے تھی اس لڑکے کی خالہ آسٹریلیا سے پاکستان آ رہی تھیں کچھ عرصے کے لیے اور انہیں رہاٸیش کے لیے کوٸ اچھی جگہ چاہیے تھی اسی لیے
حسیب یعنی صندل کے فیانسی نے میر دلاور سے بہادر ولاز کی بات کی تو وہ خوشی خوشی اسے رینٹ پر دینے کے لیے راضی ہو گۓ تھے۔
جب سے اوزگل نے یہ خبر سنی تھی تب سے اس کے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ جس گھر میں آنکھ کھولی جہاں بچپن گزارا جوانی کے خواب بننے اس گھر میں آج کوٸ اور رہے گا یہ سوچ ہی دل میں ٹیس ابھار رہی تھی ۔
” اچھا ہے نہ بند گھر میں رونق ہو جاۓ گی تم کبھی کبھار جا بھی سکو گی اس گھر کی درو دیوار میں یادیں بسیں ہیں ان کو دیکھ سکو گی ، حسیب کی خالہ ہی ہیں ہمارا بھی تو گہرا رشتہ ہونے جا رہا ان کے ساتھ ، جب دل چاہے جایا کرنا “
زیب نے گود میں دھرے اوزگل کے سر میں دھیرے سے انگلیاں چلاٸیں ۔ سسکنے کی وجہ سے اس کا دھیرے سے ہلتا وجود تھم گیا تھا۔ آہستگی سے چہرہ اوپر کیا ۔
” تاٸ امی بس پورے سال بعد یوں گھر کو کُھلتے دیکھا تو دل بھر آیا “
اوزگل نے نم آنکھوں کے کونے صاف کیے اور بھاری سی آواز میں دل بھر آنے کا جواز بتایا ۔
” چلو میں بھی چلتی ہوں تمھارے ساتھ مل کر آتے ہیں اور ان کو کہتے ہیں آج کا کھانا ہماری طرف کھاٸیں وہ لوگ “
زیب نے مسکراتے ہوۓ اس کے گال کو تھپکا اور اٹھنے کے لیے کہا۔ اوزگل نے آنسو صاف کیے اور مسکراتی ہوٸ اٹھی ۔
***********
اسلام آباد آتے ہی عجیب سے خوف کی لہر نے ریڑھ کی ہڈی میں سراٸیت کرنا شروع کر دیا تھا ۔ چھ ماہ پہلے ہوۓ حادثے کے سارے مناظر آنکھوں میں گھومنے لگے تھے ۔ اس نے ڈر کر کار میں سر نیچے کر لیا تھا۔
اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ نجف نے ان کی رہاٸیش کا انتظام یہاں اسلام آباد میں کیا ہے ۔ آسٹریلیا سے فلاٸیٹ سیدھی یہاں اتری تھی وہاں سے حسیب ان کو لینے آ گیا تھا ۔
گھر کے پورچ میں پہنچ کر اس نے سر اوپر اٹھایا تھا۔
پتہ نہیں کیوں جگہ مانوس سی لگ رہی تھی جیسے وہ یہاں پہلے آ چکی ہو ۔ تین گھنٹے لگا کر گھر کو مکمل سیٹ کر چکے تھے گھر پہلے سے ہی فرنیشڈ تھا ۔ اس لیے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی تھی ۔
حسیب اب ماٸدہ کے ساتھ باتوں میں مصروف تھا ۔ ان لوگوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر وہ عجیب سے خیالوں سے بوجھل ہوتے دل کو سنبھالتی پورچ سے ہوتی ہوٸ لان میں آٸ تھی ۔
جارج لان میں گھوم پھر کر دیکھ رہا تھا اور وہ اب جارج کو محبت سے دیکھنے میں مگن تھی وہ اس کے ساتھ بہت گھل مل گیا تھا ۔ اور اسے مام کہنے لگا تھا ۔
گیٹ کھلا تھا پورچ میں حسیب کی گاڑی کھڑی تھی وہ اسی طرح جارج کو دیکھنے میں مصروف تھی جب پاس سے ایک نسوانی چیخ پر چونک کر مڑی ۔
” اوہ ماٸ گاڈ اذفرین ہو نا آپ “
اوزگل حیرت سے آنکھیں پھیلاۓ اور منہ کھولے کھڑی اسے دیکھ رہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: