Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 21

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 21

–**–**–

اذفرین جیسے ہی پیچھے مڑی اس کی حالت بھی اوزگل سے کچھ زیادہ مختلف نہیں رہی تھی ۔ چہرہ ایک دم سے فق ہوا تھا۔ چھ ماہ پہلے کے سارے دل خراش مناظر پل بھر میں ذہن میں گردش کر گۓ تھے ۔ سامنے کھڑی لڑکی کو کیسے بھول سکتی تھی وہ اس حادثے کو تو شاٸد تا حیات ذہن سے کھرچ نہیں سکتی تھی ۔
” مجھے پہچانا میں۔۔۔“
اذفرین کی غیر ہوتی حالت سے بے خبر اوزگل خوشگوار لہجے میں پوچھتے ہوۓ اس کے اور قریب ہوٸ تو اذفرین جیسے کرنٹ کھا کر حواسوں میں واپس آٸ ۔ انداز گڑبڑا جانے جیسا تھا ۔ بمشکل اپنی حالت پر قابو پایا ۔
”بلکل۔۔۔ کیسے۔۔۔ کیسے ۔۔۔۔ بھول سکتی ہوں “
گڑبڑاہٹ ایسی تھی کے لفظ ٹوٹ ٹوٹ کر زبان سے ادا ہو رہے تھے۔ اوزگل کے بلکل پیچھے چلتی ہوٸ نفیس سی خاتون جو قدرے دوری پر تھیں اب بلکل پاس آ گٸ تھیں ۔
” گل دوست ہے کیا تمھاری ؟“
زیب بیگم نے مسکراتے ہوۓ حیرت سے پوچھا ۔ اذفرین نے گھبرا کر اوزگل کی طرف دیکھا ۔ جبکہ خاتون کے چہرے پر مسرت کے آثار تھے۔
”جی جی دوست ہے تاٸ امی “
اوزگل نے دوستانہ مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ محبت سے سامنے ڈری سہمی سی کھڑی اذفرین کی طرف دیکھا ۔ زیب بیگم بھی بھرپور طریقے سے مسکرا دیں ۔
”ماشااللہ یہ تو بہت اچھا ہوا بھٸ تمھارے گھر میں تمھاری دوست ہی آ گٸ ہیں ، نجف کی ہونے والی واٸف ہو نہ بیٹا حسیب نے بتایا تھا ؟ “
زیب بیگم نے محبت سے پاس ہو کر اذفرین کو بغل گیر کیا جو ایسے ساکن کھڑی تھی جیسے کاٹو تو خون کا قطرہ نا بہے چہرہ لٹھے کی مانند سفید پڑ گیا تھا تو زبان خوف کے مارے تالوے سے چپکنے لگی تھی ۔
اذفرین نے دھیرے سے گردن ہلانے پر ہی اکتفا کیا کیونکہ آواز کا حلق سا نکلنا ناممکن سا ہو گیا تھا ۔
”چلو میں ذرا حسیب کی خالہ سے ملوں تم دونوں دوستیں اچھی طرح مل لو ایک دوسرے سے “
وہ مسکراتی ہوٸ آگے بڑھیں تو اذفرین نے بوکھلا کر ساتھ کھڑی اوزگل کے ہاتھ کو تھام لیا ۔ نہیں پتا تھا وقت اتنا ظالم نکلے گا کہ جس بات کو وہ بھلانے کے دن رات جتن کرتی ہے ۔ وہی بات اور اس سے جڑے لوگ یوں ٹکرا جاٸیں گے ۔ اللہ اللہ کۓ تو وہ اپنے دونوں بہن بھاٸیوں کی کھینچا تانی سے جان چھڑا کر اب نجف کے ساتھ زندگی گزارنے کا کڑوا گھونٹ بھر چکی تھی اور اب اگر اس بات کی نجف کو بھنک پڑی تو پتہ نہیں کیا ہو گا ۔ وہ مقام جو اب نجف کی نظروں میں وہ اپنا دیکھ رہی تھی وہ پل بھر میں ڈھے جاۓ گا ۔
”سنیں۔۔۔ اوزگل “
گھبراٸ سے التجا تھی جس پر اوزگل اب حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔ وہ پریشان حال سی بڑی بڑی آنکھیں پھیلاۓ کھڑی تھی ۔ کتنی معصوم اور دلکش تھی وہ پر شاٸد دکھوں سے چور تھی اذفرین نے نرمی سے اس کی طرف دیکھا اس دن والا اذفرین کا روتا بلکتا چہرہ یاد آ گیا ۔
”پلیز میں نے کسی سے بھی اُس واقع کے بارے میں کوٸ ذکر نہیں کیا تھا میری شادی ہونے والی ہے تو ۔۔۔“
وہ بوکھلاہٹ میں بات ادھوری چھوڑے رو دینے والی تھی ۔ اذفرین کے اس گھبراۓ سے انداز پر اوزگل نے گہری سانس لیتے ہوۓ اس کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔
وہ کتنا ڈری ہوٸ تھی بات ہی ایسی تھی ایک لڑکی کے پاس اس کی عزت سے بڑھ کر ہوتا ہی کیا ہے اور اس عزت کا بھرم وہ سب سے زیادہ اس شخص کے دل میں قاٸم و داٸم رکھنا چاہتی ہے جو اس کا شریک حیات بننے جا رہا ہو ۔
”بے فکر رہو اذفرین صندل کے نمبر پر جو پیغام تھا وہ میں نے بھی پڑھا تھا اس واقع کا ذکر کوٸ نہیں کرے گا ہمارے گھر میں میرے اور صندل کے علاوہ کوٸ تمہارے بارے میں نہیں جانتا اور صندل کی گارٸنٹی میں دیتی ہوں “
اوزگل کا لہجہ تسلی آمیز تھا ۔ اذفرین نے مشکور نگاہوں سے اسے دیکھا ۔ دل کو جیسے اس کی بات پر تسلی ہوٸ تھی ۔ چہرہ اب کچھ پرسکون دکھنے لگا تھا ۔
جارج ہاتھ پر بیٹھی تتلی کو دیکھ کر حیران سا کھڑا تھا ۔ معصوم سی آنکھیں حیرت سے تتلی پر ٹکی تھیں ۔
”مام ۔۔۔۔۔ مام۔۔۔۔کم ہیر “
جارج باریک آواز میں چیخا تو اذفرین کے ساتھ ساتھ اوزگل کی توجہ بھی لان میں کھڑے چار سالہ دبلے پتلے سے لڑکے کی طرف ہوٸ ۔ جو اذفرین کو مام کہہ رہا تھا حیرت سے آنکھوں کو کھولے اوزگل نے سوالیہ انداز میں اذفرین کی طرف دیکھا ۔
اذفرین نظریں چراتی آگے بڑھ گٸ تھی ۔ اور اوزگل ترس کھاتی نگاہوں سے اس کی پشت پر بکھرے گھنے بالوں کو دیکھ رہی تھی ۔
********
وہ گردن گھما کر صندل کے کمرے کا جاٸزہ لے رہی تھی کتنا خوبصورت کمرہ تھا ہر چیز کتنی نفیس تھی بلکل صندل کی طرح نازک سی دل موہ لینے والی ڈریسنگ میز پر بیش قیمت پرفیومز میک اپ اور جولیری کے ڈھیر لگے تھے جگہ جگہ صندل کی بڑی بڑی تصاویر آویزاں تھیں ۔
وہ بہت خوبصورت تھی اور اتنی ہی خوش قسمت بھی مکمل ہر خوشی ہر رشتہ ہر چیز تھی اس کے پاس ۔
زیب بیگم نے ان کا رات کا کھانا دلاور ولاز میں کیا تھا ساتھ حسیب کے گھر والے بھی تھے کھانا کھانے کے بعد صندل اور اوزگل اسے اوپر لے آٸ تھیں ۔ وہ دونوں اذفرین کی یوں شادی شدہ ایک بچے کے باپ سے شادی کرنے پر افسوس ظاہر کر رہی تھیں جبکہ وہ صندل کا کمرہ دیکھ کر اس کی قسمت پر رشک کر رہی تھی ۔
”پھر تم ایسے کیوں رہتی ہو شادی سے پہلے ان لوگوں کے ساتھ “
صندل نے ملاٸم سے لہجے میں سامنے بیٹھی اذفرین سے سوال پوچھا ۔ اس کے سوال پر وہ کمرے کا جاٸزہ لینا چھوڑ کر ان دونوں کی طرف متوجہ ہوٸ جو ترس کھاتی نگاہیں اس پر ڈالے بیٹھی تھیں ۔
”اگر میں نہیں رہوں گی تو بھابھی کو رہنا پڑتا دراصل نجف کی جاب ایسی ہے وہ کٸ کٸ دن تک گھر نہیں آتے تو پھر گھر میں آنٹی اور جارج اکیلے ہوتے ہیں آنٹی کی صحت ٹھیک نہیں رہتی اس لیے مجھے شادی سے پہلے ہی رہنا پڑ رہا ہے یہاں “
اذفرین نے مصنوعی سی مسکراہٹ زبردستی لبوں پر سجاۓ بظاہر نارمل انداز اپنایا پر اس کی آنکھوں کی ویرانی اس بات کا واضح ثبوت تھی کہ وہ کتنی مجبور ہے ۔ اگر بہن کے گھر رہتی ہے تو اس کا سسرال غیر ہے اور بھاٸ کا گھر اب بھابھی کے رحم و کرم پر ہے تو وہ کہاں جاۓ کیا کرے ہاں جانتی تھی یہ سب عجیب ہے پر اور کوٸ چارہ نہیں تھا ۔
”ہم۔م۔م۔م۔م۔“
صندل نے اس کی مسکراہٹ کو جانچتے ہوۓ جوابی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا اور اس کی شرمندگی کو مٹایا ۔ اذفرین نے گہری سانس لے کر سر کو جھٹکا اب تو دل نے چھوڑ دیا تھا خود کو اللہ کی رضا پر ڈور اس کے ہاتھ میں تھی وہی تو اس کا تھا اب صرف جو اس کے رونے پر ایک بڑا سا ہاتھ آسمان سے نیچے بھیجتا تھا جو اس کے سر کو ایسے تھپکتا تھا کہ وہ سمٹ کر سو جاتی تھی ۔
اذفرین نے سامنے بیٹھی اوزگل اور صندل کے چہرے پر اپنے دکھ کی لکیریں دیکھ کر فوراً ماحول کو تبدیل کرنے کی خاطر موضوع بدل دیا۔
”حسیب اچھا لڑکا ہے مجھے خوشی ہوٸ شادی کب ہے؟“
اذفرین نے تھوڑا شرارت بھرا لہجہ اپناتے ہوۓ صندل سے پوچھا تو وہ اس اچانک سوال پر جھینپ گٸ ۔ نچلا لب یک لخت دانتوں کی گرفت میں آ گیا تھا تو لبوں پر دلکش سی مسکراہٹ نے گھیراٶ کر لیا تھا۔ حسیب نجف کا اچھا دوست ہونے کی وجہ سے اذفرین کو بہت عزت دے رہا تھا وہ بہت ہی نفیس طبیعت کا لڑکا تھا ۔
”شادی اس سال کے آخر میں ہے اور میری اکیلی کی تھوڑی نا ہے شادی بھٸ “
صندل نے بات شروع تو لجاۓ سے انداز میں کی پر اوزگل پر شرارتی نظروں سے دیکھتے ہوۓ معنی خیز لہجے میں اختتام کیا یعنی کے توپوں کا رخ اوزگل کی طرف کیا اور اب جھینپ کر بلش ہو جانے کی باری اوزگل کی تھی ۔ اذفرین جو صندل کے بلش ہونے سے لطف اندوز ہو رہی تھی اوزگل کا سن کر خوشگوار حیرت سے اس کی طرف نظریں گھماٸیں ۔
”یہ جو بیٹھی ہیں محترمہ ان کی بھی ہے میرے بھاٸ کے ساتھ شادی “
صندل نے شرماٸ سی بیٹھی اوزگل کے کندھے کو اپنے کندھے سے ٹہوکا تو وہ مصنوعی خفگی سے گھورنے لگی ۔
”اچھا بہت خوشی ہوٸ سن کر “
اذفرین نے ہنستے ہوۓ اوزگل کی طرف دیکھا تو وہ بھی دھیرے سے شرماتے ہوۓ مسکرا دی ۔ وہ اوزگل کی طرف دیکھنے میں مصروف تھی جب اچانک ساتھ بیٹھی صندل نے موباٸل کی سکرین اس کی نظروں کے سامنے کر دی ۔
وہ تھا سبز رنگ کی ٹی شرٹ پہنے ہوۓ جینز کی پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا لبوں پر قاتلانا مسکراہٹ سجاۓ ہاں وہی تھا آنکھیں کیسے بھول سکتی ہیں اس کے چہرے کو جس کے ہر ہر نقش کو نظروں نے بوسے دیے ہوں ۔ یہ وہی تھا جس کی سال بھر سے دل پر حکومت ہوا کرتی ہے ۔ یہ وہی تھا جو رگوں میں بہتے خون کی روانی کا موجب بن گیا تھا ۔ہاں یہ وہی تھا جس کے ملن کی ، ایک جھلک کی ، دعا جسم کا رواں رواں کرتا تھا ۔
وہ پھٹی پھٹی نظروں کو موباٸل سکرین پر جماۓ ہوٸ تھی جب صندل کی آواز کانوں میں پڑی ۔
”یہ وہی بھاٸ ہیں جن کے دوست ہیں صفدر بھاٸ انہوں نے ہی ہیلپ کی تھی آپ کی اس دن اور یہ ہماری گل کی محبت ، میرے بڑے بھاٸ “
سن تو سب کچھ رہا تھا پر لبوں پر جو مسکراہٹ رقصاں تھی کچھ دیر پہلے اب ہوا ہاتھ میں اٹھاۓ ایسی تھمی کہ سب کچھ رک جانے جیسا احساس ہوا ۔
بس وہ تھی جو دور گھنے جنگل میں کھڑی اونچی اونچی بین کر رہی تھی ۔ پر اب کوٸ نہیں تھا ہر مشکل سے ہاتھ بڑھا کر بچا لینے والا ، وہ گلا پھاڑ کر رو رہی تھی اور وہ پیٹھ موڑے جا رہا تھا وہ تو کبھی خیالوں میں ایسی گستاخی نہیں کرتا تھا پھر آج کیوں اذفرین کا یہ بین سناٸ نہیں دے رہا تھا اسے کیوں احساس نہیں تھا وہ جنگل میں اکیلی ہے ۔
”علیدان دلاور “
صندل چہکتے ہوۓ نام بتا رہا تھی ۔ وہ نام جو اس کے دل پر پہلے سے کھدا تھا ہاں اب خون سا رسنے لگے تھا ۔ کسی نے خنجر سے پکڑ کر مٹانے کی کوشش میں زخم ہرا کر دیا تھا ۔ پھانس تھی کوٸ جو اٹک گٸ تھی سینے میں یا پھر کوٸ کھڑا گلا ہی دبا رہا تھا ۔
سامنے بیٹھے دنوں چہرے جن پر زندگی کی ہر خوشی کی رمق موجود تھی مسکرا رہے تھے ۔
ہاۓ ری ۔۔۔۔۔قسمت تو ملا بھی تو میرے ہی محسن کی محبت بن کر ۔ وہ مسکراٸ تھی ایسے جیسے کسی نے کنپٹی پر بندوق دھر کر کہا ہو ۔ مسکرا اذفرین خلیل نہیں تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے گی ۔
”ب۔۔ہ۔۔۔ت۔۔۔ بہت پیاری۔۔۔ جوڑی ہے “
آہ وہ بول پڑی تھی ۔۔ مُردے بھی بول پڑتے ہیں جناب ۔۔۔
وہ آوز تو جیسے کسی کنویں سے سناٸ دینے جیسی آواز تھی ۔پر سامنے بیٹھے دونوں نفوس کیا جانیں کے اس لڑکی پر انجانے میں ہی کیا ظلم ڈھا دیا ہے ۔
”بھاٸ اسی رات آگۓ تھے آپ کا بہت پوچھا صفدر بھاٸ اور علیدان بھاٸ نے ، پھر میں نے آپکے پیغام کے بارے میں بتایا اور ریکویسٹ کی اس بات کو یہیں پر ختم کر دیتے ہیں “
صندل روانی میں بولے جا رہی تھی اور وہ اسی دلدل میں دھنس رہی تھی جس سے کبھی کسی مضبوط ہاتھ نے اسے کھینچ کر نکال لیا تھا ۔ دلدل کا گدلہ گاڑھا پانی اب منہ میں گھسنے لگا ۔۔۔۔
اوہ اس نے کیا سوچا ہو گا میرے بارے میں اتنی گری ہوٸ لڑکی ہوں میں
سانس ۔۔۔۔ سانس۔۔۔۔۔ نہیں آ رہا تھا ۔ چہرہ زرد ہوا اور پھر سفید ہونے لگا ۔ اذفرین کا دھواں دھواں چہرہ اب اوزگل اور صندل سے چھپا نہیں رہ سکا تھا ۔ گھنی پلکیں گالوں پر پھڑ پھڑا رہی تھیں ۔
” اویری تھنگ از اوکے اذفرین “
صندل نے اس کے چہرے کے بدلتے رنگ کو دیکھ کر فوراً اس کے کندھے کو تھام کر سوال کیا ۔ اذفرین نے خالی سی نظریں اس کی طرف گھماٸیں ۔
وہ نہیں کرتا محبت وہ تو خوش ہے اپنی زندگی میں شادی ہونے والی ہے اور وہ بھی اتنی پیاری لڑکی سے اور اوزگل کے چہرے پر رقص کرتا وہ لجایا سا پن اس بات کا گواہ تھا کہ یہ آگ یک طرفہ تو نہ تھی جو اسکے گال کو جلا کر گلابی کر رہی تھی ۔
نہیں ۔۔۔نہیں ۔۔۔۔ کچھ تھا جو آنکھوں میں مرچیں سے چبھو گیا تھا اب نہیں رکنا یہاں ۔وہ ایک دم سے اٹھی ۔
” وہ ۔۔۔۔جارج ۔۔۔ جارج ۔۔۔ کہاں رہ گیا ابھی تو یہاں تھا میں اسے دیکھ کر آتی ہوں “
بوکھلاٸ سی اٹھی تھی ایسے جیسے موتیوں کی ٹوٹی ہوٸ لڑی کو کوٸ سنبھالے کہ کوٸ موتی گرنے نا پاۓ ۔ قدم رکھ کہیں رہی تھی پڑ کہیں رہا تھا۔ جارج کی خبر تو نہیں تھی مگر اپنی روح کو ضرور تلاش کرنا تھا جو جسم کو بے جان چھوڑے بھٹکنے لگی تھی ۔
ہوش و خرد سے مفلوج وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ان کے لاونج سے نکلتی پورچ سے ہوتی اب گیٹ سے باہر آ گٸ تھی
بس۔۔۔۔۔
بس۔۔۔۔
بس۔۔۔
بہنے لگا تھا سیال گرم تپتا سا مادہ
بہہ گیا اور پھر بہہ گیا گال تر تھے تو دھندلہ گیا تھا سامنے کسی گھر کے گیٹ کا منظر ہر گھر کے گیٹ پر ایک عدد لاٸٹ روشن تھی اب تو ہر روشنی کی شاخیں سی نکل آٸ تھیں جو آگے سے نوکیلی تھیں
شفاف پانی کی ایک تہہ تھی جو آنکھوں پر چڑھ گٸ تھی ۔ تو اذفرین خلیل آج یہ گماں بھی ختم ہوا وہ چاہتا ہے تمہیں چاہے کہیں بھی سانس لے رہا ہو ۔
کس اسم کی ہے تلاش مجھے
کوٸ پنکھ بن کر میں اڑ چلوں
یہ عشق کا جنوں ہے کہ
ہر جنوں کو میں چھوڑ دوں
یہاں منزلیں کسے ملیں فقط
یہاں منزلوں کی تلاش کہاں
یہ علم عشق بیاں ہے کہ
کہ عشق میں کوٸ بھی بیاں نہیں
ماہم ہاشمی
**********
ڈھیلے سے چیک دار ٹرایوزر اور سیاہ ٹی شرٹ میں ملبوس وہ لیپ ٹاپ اٹھاۓ لان میں آیا تھا شام کے چار بج رہے تھے ۔ موسم خوشگوار تھا اور پتا نہیں ہوا میں عجیب سا سرور تھا کہ کمرے کی کھڑکی سی آتے ہوا کا جھنکوں نے مجبور کیا کہ وہ لان میں آ گیا تھا ۔
دبٸ سے وہ صبح سات بجے کی فلاٸیٹ سے گھر واپس آیا تھا ۔ اور پھر بھرپور نیند لینے کے بعد کچھ دیر پہلے ہی اٹھا تھا ۔ کچھ بزنس ایمیلز تھیں جن کو آج گھربیٹھ کر ہی وہ چیک کرنا چاہتا تھا ۔
لان میں آیا تو حیران سا ہوا ادیان لان میں کسی چھوٹے سے بچے کے ساتھ بیڈ منٹن کھیل رہا تھا ۔ علیدان نے آنکھیں سکیڑ کر بغور بچے کو پہچاننے کی ناکام کوشش کی پر آج سے پہلے وہ بچہ کبھی یہاں گھر میں نظر نہیں آیا تھا ۔
ایسے ہی حیرت سے بچے کو دیکھتا وہ اب قریب آ گیا تھا ۔
”یہ کون ہے بھٸ چھوٹا سا پلیر ؟“
پاس آ کر تجسس سے آبرٶ چڑھاۓ ادیان سے پوچھا ۔ ادیان نے سانس کو بحال کرتے ہوۓ مسکرا کر جارج کی طرف دیکھا اور پھر علیدان کی طرف متوجہ ہوا ۔
”بھاٸ حسیب بھاٸ کی خالہ کا گرینڈ سن ہے تین دن ہوۓ چاچو کے پورشن میں شفٹ ہوۓ ہیں یہ لوگ “
ادیان نے قریب ہو کر جارج کے بالوں میں ہاتھ چلایا ۔ علیدان نے بے ساختہ نظر اٹھاٸ تو بہادر ولاز کے ٹیرس پر پڑی وہ بزنس ڈیل کے سلسلے میں پانچ دن سے دبٸ میں تھا تو یہ انقلاب یقیناً اس کے پیچھے ہی آیا تھا ۔ ادیان تو ویسے بھی بچوں کا دیوانہ تھا اس لیے بہت جلد دوستی بھی کر لی تھی ۔
بچے پر ایک نظر ڈال کر وہ کچھ دوری پر موجود لان چٸیر پر براجمان ہوا ۔ وہ لیپ ٹاپ کو کھولے مصروف سے انداز میں ٹانگیں پسارے بیٹھا تھا جب پاس سے باریک سی آواز ابھری جارج اس کے بلکل پاس کھڑا تھا ۔
ادیان کان کو موباٸل لگاۓ شاٸد کسی سے باتوں میں مصروف ہو گیا تھا اس لیے یہ لیٹل چیمپ اب اس کے پاس آ گیا تھا۔
” کیا آپ ورزش زیادہ کرتے ہو؟“
جارج نے علیدان کی ٹی شرٹ کی آدھی آستینوں سے جھلکتے کسرتی بازٶں پر نظر جماۓ حیرت سے سوال کیا ۔ وہ انگریزی میں بات کر رہا تھا علیدان نے پہلے اس کی طرف دیکھا اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں اپنے بازٶں پر نظر ڈالی ۔ وہ بہت پر کشش دبلا پتلا سا لڑکا تھا اور اس کہ چہرے پر موجود معصومیت اسے نظر انداز کرنے نہیں دے رہی تھی ۔
” نہیں تو اتنی تو نہیں کرتا ورزش “
علیدان نے شرارت سے مسکراہٹ دباتے ہوۓ جواب دیا ۔ جارج پھر سے حیران ہو کر اس کے بازو دیکھنے لگا تھا ۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ علیدان بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو روک نہیں پا رہا تھا ۔
” تو پھر یہ مسلز کیسے بناۓ آپ نے ؟ “
معصومیت سے سوال کرنے کے بعد اب وہ ایک انگلی کو منہ میں لے چکا تھا جبکہ نظریں ستاٸٸشی انداز میں اس کے بازو اور ٹی شرٹ میں پھنسے چوڑے سینے کو دیکھ رہی تھیں ۔
” تو یہ کیسے بنے آٸرن مین جیسے ؟ ، مجھے بھی بنانے ہیں ایسے “
جارج نے نظریں اٹھا کر علیدان کی طرف دیکھا اور پھر خواہش ظاہر کی جس پر علیدان بے ساختہ قہقہ لگا گیا۔ جبکہ وہ ویسے ہی اشتیاق سے جواب کا منتظر تھا ۔
”اوکے بن سکتے ہیں آپ کے بھی پر کچھ رولز ہیں ہیرو چلو مجھے یہ بتاٶ آپ کہ ۔۔۔۔ آپ دودھ پیتے ہو روز ؟“
علیدان نے ہنسی پر قابو پا کر اب دلچسپی سے اس کے باریک سے بازو کو پکڑ کر سوال کیا ۔
”نہیں “
جارج نے معصومیت سے جواب دیا ۔ جس پر علیدان نے ہونٹ باہر نکال کر بچوں کی طرح افسوس کا اظہار کیا ۔
”اوہ ویری بیڈ تو پھر یہ کیسے بنیں گے مسلز یہ تو دودھ پینے سے کھانا کھانے سے بنتے ہیں “
علیدان نے پیشانی پر مصنوعی لکیریں ڈال کر کہا تو جارج واقعی سوچ میں پڑ گیا ۔
” دودھ روز پینا ہو گا کیا ؟ مام تو دیتی ہیں پر میں چھپ کر گرا دیتا ہوں “
جارج نے لبوں کو باہر نکالے گردن کو ایک طرف ڈھلکایا ۔
”اوہ۔۔۔۔۔ یہ غلط بات ہے بھٸ ایسے مسلز نہیں بنیں گے اب سے دودھ مت پھینکنا اوکے اور پھر دیکھنا یہ مسلز بن جاٸیں گے “
علیدان نے ہنستے ہوۓ اس کے گال تھپتھپا کر بات ختم کی اور پھر سے لیپ ٹاپ کی طرف متوجہ ہوا ۔
اذفرین جارج کو دیکھنے کے لیے ٹیرس پر آٸ تو سامنے لان کا منظر دیکھ کر ششد رہ گٸ ۔
ستم گر، دل کا بادشاہ، سامنے جارج کے ساتھ باتیں کرتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔ دل کی رفتار اس پر نظر پڑتے ہی ایسے بڑھی کہ کانوں میں ڈب ڈب کی آواز گونج گٸ ۔ تین دن سے تو وہ کہیں بھی نظر نہیں آیا تھا اور وہ یہ سمجھ بیٹھی تھی کہ وہ آسٹریلیا ہو گا ۔
بدلہ تو نہ تھا وہ ایک سال میں۔۔۔ ویسا ہی تھا ایک نظر میں دل دھڑکا کر رکھ دینے والا۔ آہ پوری ہوٸ آج اس کو ایک جھلک دیکھ لینے کی دعا وہ اتنا پاس تھا پر میرا نہیں تھا۔ اس کو تو شاٸد میں یاد بھی نہیں رہی ہوں گی کتنا مصروف کتنا خوش لگ رہا ہے ۔ وہ جارج سے باتیں کر رہا تھا قہقہ لگا رہا تھا ۔
وہ یونہی اس کے دیدار سے آنکھوں کو سیر کرتی مجسم سی بنی کھڑی تھی جب جارج کی آواز کانوں میں پڑی ۔
”مام ۔۔۔مام ۔۔۔۔۔ مام “
اذفرین نے بجلی کی سی تیزی سے رخ موڑا اور فوراً تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے میں داخل ہوٸ اور دل پر ہاتھ رکھے دیوار کی اٶٹ میں یوں خود کو چھپایا جیسے وہ دیوار کے پار بھی دیکھ لے گا ۔ وہ تو علیدان کو دیکھنے میں اتنا کھو گٸ تھی کہ اندازہ ہی نہ ہوا پاس کھڑا جارج کب سے اسے یوں علیدان پر نظریں جماۓ کھڑا دیکھ رہا ہے ۔
جارج کے یوں چیخنے پر علیدان نے سر اٹھا کر اس کی طرف دیکھا وہ سامنے بہادر ولاز کے ٹیرس کی طرف دیکھتے ہوۓ چلا رہا تھا ۔ ٹیرس پر دیکھا تو وہاں کوٸ نہیں تھا ۔
”وہاں تھیں کیا ٹیرس پر ، بلا رہی ہوں گی آپکو جاٶ اپنے گھر “
علیدان نے ایک نظر ٹیرس پر ڈال کر جارج کی طرف دیکھا جو اب عجیب سی نظروں سے علیدان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
”نہیں وہ بلا تو نہیں رہی تھیں وہ تو آپ کو دیکھ رہی تھیں “
جارج نے معصومیت سے سپاٹ لہجے میں جواب دیا تو علیدان حیران سا ہوتے ہوۓ ہنس دیا ۔ ایک دفعہ پھر سے ٹیرس کی طرف دیکھا ۔ جبکہ وہ اب بڑے انداز میں بازو مارتا ہوا گیٹ کی طرف جا رہا تھا ۔
” مجھے دیکھ رہی تھیں “
علیدان نے ہنستے ہوۓ سر کو ہوا میں مارا اور پھر سے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظر جما دی ۔
اور وہ دیوار سے لگی دھیرے دھیرے زمین پر بیٹھتی چلی گٸ ۔ وہ کیا جانے میں کتنی محبت کرتی ہوں اس سے ۔ اللہ ۔۔۔۔ دعا کو بدل دے آج ۔۔۔
سال بھر سے اس کے ملن کی دعا مانگی آج جداٸ مانگتی ہوں پھر سے تا حیات جداٸ روح سے دل سے ذہن سے ہر جگہ سے نقش مٹا دے اس کا ۔
وہ رو رہی تھی گھٹنوں کو بازٶں میں سمیٹ کر رو رہی تھی ۔
**********
جارج کے ساتھ جاگنگ کے لیے آتے آج اُسے تیسرا دن تھا ۔ یہ سوساٸٹی کا سب سے بڑا پارک تھا جہاں صبح کے وقت بہت سے لوگ جاگنگ کے لیے اور ورزش کے لیے آتے تھے ۔
علیدان کو دیکھ لینے کے بعد رات بھر وہ روتی رہی تھی جس کی وجہ آج سر بہت بھاری ہو رہا تھا جارج کو اتنا منع بھی کیا پر وہ ضد کرنے لگا جس کے آگے وہ ہار گٸ تھی ۔
وہ جارج کے ساتھ قدم سے قدم ملاۓ چل رہی تھی جب ایک دم سے گھبرا کر رکی سامنے بہت بڑے منہ والا کتا کھڑا تھا وہ شاٸد اپنے مالک سے رسی چھڑوا کر بھاگ آیا تھا۔ وہ کوٸ عام کتا نہیں تھا اس کا قد کاٹھ عام کتوں سے کافی بڑا تھا اور منہ بھی خوفناک سا تھا اس کے گلے میں بھورے رنگ کی بیلٹ تھی جس کا ایک سرا زمین پر گرا ہوا تھا ۔
اذفرین نے قدم قدم آہستہ آہستہ جارج کے کندھے کو پکڑ کر پیچھے ہٹنا شروع کیا کیونکہ کتے کے گھورنے سے اذفرین کو اس کے ارادے خطرناک لگ رہے تھے ۔
” جا۔۔۔ر۔۔۔۔ج بھاگو “
گھبراٸ سی آواز میں پاس کھڑے جارج کا کندھا ہلا کر کہا ۔ خوف کی وجہ سے آواز لڑکھڑا سی گٸ تھی ۔
”مام کچھ نہیں ہوتا “
جارج نے لاپرواہی سےکہا ۔ جارج کا ایسے کہنا ہی تھا کہ کتا غراتا ہوا آگے بڑھا ۔ اس کی آواز ایسی خوفناک تھی کے اذفرین کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گۓ ۔
” جارج۔ج۔ج۔ج۔ج۔ بھاگو ۔و۔۔و۔و۔ “
اذفرین نے چیختے ہوۓ کہا اور سرپٹ پیچھے کو دوڑ لگاٸ اس کا یوں دوڑنا تھا کہ کتا چوکنا ہو کر اذفرین کے پیچھے بھاگنے لگا ۔ اب اذفرین چیختی ہوٸ آگے تھی اور کتا جارج کے پاس سے پھلانگتا اذفرین کے پیچھے تھا ۔
”مام کچھ نہیں ہو گا رُک جاٸیں ۔۔۔۔مام۔۔۔۔۔مام۔۔۔“
جارج وہیں کمر پر ہاتھ رکھے کھڑا اذفرین کو روک رہا تھا پر وہ تو سر پر پیر رکھے بس دوڑے ہی جا رہی تھی اور کتا اس پر مسلسل بھونکتا ہوا اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا ۔
جارج افسوس سے سر مارتا ہوا پیچھے بھاگا کچھ دور ہی گیا تو افسوس سے ماتھے پر ننھا سا ہاتھ زور سے مارا اذفرین درخت کی شاخ پر بیٹھی تھی اور کتا نیچے کھڑا مسلسل اس پر بھونک رہا تھا ۔ کتا بھی بچارا کیا کرتا اذفرین کی ساری حرکات ہی مشکوک تھیں ۔
جارج نے کتے کو اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی پر ناکام رہا کمر پر ہاتھ دھرے مدد طلب نظروں سے ارد گرد دیکھا تو سامنے موجود نفس پر نظر پڑتے ہی دوڑ لگا دی ۔
” آٸرن مین ۔۔۔۔ آٸرن مین رکو “
عقب سے آتی چیختی سی باریک آواز پر اس کے جاگنگ کرتے قدم رک گۓ تھے۔ پیچھے مڑ کر دیکھا تو جارج پریشان حال سا کھڑا تھا سانس بھی چڑھا ہوا تھا ۔
” وٹ ہیپن لٹل چیمپ اویری تھنگ از اوکے ؟“
علیدان نے ایک نظر میں ہی اسے پہچان لیا تھا وہ کل شام والا بچہ تھا اس کی گھبراٸ شکل دیکھ کر علیدان فوراً اس کے پاس آیا ۔
” میری مام سٹک ہو گٸ ہیں درخت پر نیچے ایک کتا کھڑا ہے جو ان پر بھونک رہا ہے ان کو مدد چاہیے “
جارج نے گھبراٸ سی آواز میں کہا اور پلٹ کر درخت کی طرف بھاگنے لگا جہاں اذفرین موجود تھی علیدان فوراً اس کے پیچھے بھاگنے لگا ۔
کچھ دوری پر ہی ایک درخت کے نیچے کتا بھونک رہا تھا اور کوٸ لڑکی اوپر دبک کر گھٹنوں میں منہ دیے بیٹھی تھی ۔
علیدان نے قریب جا کر کتے کو ہاتھ کے اشارے سے ڈرایا تو وہ دم ہلاتا ہوا ایک طرف چل دیا ۔
کتے کو بھگانے کے بعد جیسے ہی پیچھے مڑا تو جیسے طلسم تھا کوٸ جس کے زیر اثر آنکھیں، دل ، روح ، رگوں میں بہتا خون سب کچھ منجمند ہو گیا ۔
وہ تھی یا نہیں بے یقینی بد حواسی کیا تھا جو بھی تھا پر بازوٶں پر موجود بال کھڑے ہو گۓ تھے ۔ اور ہر بال کے نیچے موجود جلد دانوں کی شکل میں ابھر گٸ تھی ۔
وہی چہرہ جو ہزاروں چہروں میں وہ پہچان جاۓ وہ آنکھیں ان کو ڈھکتی پلکیں وہ سہم کر اوپر کو اچکی بھنویں ۔ چہرے کے ارد گرد لٹکتی ریشمی بالوں کی لٹیں اس جیسا تو کٸ تھا ہی نہیں اسکا تو ہم نام کوٸ نا تھا تو اس کا ہمشکل کون ہو سکتا تھا ۔
بوڑھی آواز کی بازگشت گونجنے لگی تھی ۔ ایک پل میں سب سمٹ گیا تھا وقت رک گیا تھا ۔
ایک وقت ایسا ہے جس میں بھیڑ کم ہوتی ہے وہ خود پکارتا ہے
کوٸ ہے ۔۔۔۔
کوٸ ہے۔۔۔۔
وہ ہی تھی وہ جس کے لیے وہ رات کے درمیانے پہر اٹھ اٹھ کر گڑگڑایا تھا ۔ وہ بھی یوں ہی ساکن بیٹھی تھی ۔ چہرہ سفید پڑ گیا تھا اسکا ۔
” مام نیچے آٸیں اب کتا چلا گیا ہے “
جارج کی چیختی آواز پر علیدان نے چونک کر جارج کی طرف دیکھا ۔
”مام آٸیں نیچے “
جارج ہاتھ سے اشارے کرتا اذفرین کو نیچے آنے کا کہہ رہا تھا ۔
مام کا لفظ ایسا تھا جس پر وہ الجھ سا گیا تھا بے یقینی سی اذفرین کی طرف دیکھا جو ابھی بھی ویسے ہی بیٹھی تھی ۔
سر پر جیسے پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: