Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 22

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 22

–**–**–

جارج کے بار بار پکارنے پر وہ جیسے سکتے کے عالم سے ہوش کی دنیا میں واپس آٸ تھی۔ ہاں وہ سامنے کھڑا تھا حیران سا پریشان سا کیا سوچ رہا ہو گا کیوں ایسے ساکن سا کھڑا ہے ۔ ذہن انگنت سوالات بننے لگا تھا ۔
وہ چھلانگ لگا کر نیچے اتری تھی جارج تالیاں بجا رہا تھا ۔ پر سامنے کھڑا شخص ابھی بھی ویسے ہی بے یقینی میں تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جب دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب ہو جانا تھا پر یہ کیا وہ تو تھم گٸ تھیں ۔
ایک شیشہ تھا جو گرا تھا زمین پر اور کرچی کرچی ہو گیا تھا اس شیشے کے ٹوٹے ہوۓ ٹکڑوں میں بہت سے لمحے ایک فلم کی طرح چل رہے تھے ۔
ایک نوکیلے سے ٹکڑے میں وہ اذفرین کا ہاتھ پکڑے دوڑ رہا تھا ۔
ایک چوڑے ٹکڑے میں وہ اذفرین کو درخت پر چڑھا رہا تھا ہاتھ اس کی نازک سی کمر کو تھامے ہوۓ تھے ۔
ایک ٹکڑے میں وہ سسکتی ہوٸ بچوں کی طرح اس کے سینے میں منہ چھپاۓ ہوۓ تھی۔
ایک ٹکڑے میں وہ پتھر پر پانی سے نچڑی ہوٸ لیٹی ہوٸ تھی اور علیدان اُس کی سانسوں سے سانسیں ملاۓ اسے ہوش دلا رہا تھا
ایک ٹکڑے میں جلے کی تکلیف میں وہ تڑپتی ہوٸ اس کے ساتھ لگی تھی
ایک میں ہنس رہی تھی
ایک میں رو رہی تھی
ایک میں اس کے پٹی باندھ رہی تھی
ایک میں اس کے بہت بہت قریب لیٹی تھی
اور آخری ٹکڑے میں وہ اسے پھول پکڑا رہا تھا ۔
بکھر گیا تھا سب سب بکھر گیا تھا ۔ ہر لمحہ الگ الگ ٹوٹے ہوۓ شیشے کے ٹکڑوں میں تھا ۔ سب ختم تھا سب کچھ ۔
ایک طوفان سا تھا جس کے جھکڑ ذہن کی دیواروں سے ٹکرانے لگے تھے ۔ وہ مل گٸ تھی دعاٸیں پوری ہو گٸ تھیں پر ایسے کہ وہ کسی اور کی تھی ۔
اس سے بڑھ کر زندگی میں اذیت کا پل کیا ہو گا ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ارد گرد سب کچھ گھوم رہا تھا ۔
اذفرین نے نظریں جھکاٸیں اور جارج کے قریب ہوٸ علیدان کی سوالیہ نظروں سے وہ پل پل شرمندگی کے گڑھے میں گڑ رہی تھی ۔ چہرہ فق تھا تو پلکیں بھاری ہو گٸ تھیں جن پر شرمندگی کے پتھر دھرے تھے ۔۔۔
کیا سوچ رہا ہوگا کہ پوچھے مجھ سے کہ تمہارا کیا رشتہ تھا اس آدمی سے ۔ پر کیوں پوچھے اس کا پوچھنے کا ہی کیا رشتہ تھا ۔ بس ملے تھے دو اجنبی وقت گزارا ایک دوسرے کا سہارا بنے اور بس وہ خوش ہے شادی ہونے والی ہے اوزگل کے ساتھ
جب سے یہ پتہ چلا تھا کہ وہ اس کے لیے کوٸ جزبات نہیں رکھتا اور اس دانش نامی آدمی کا ٹاکرہ علیدان سے بھی ہو چکا ہے دل میں دھواں سے بھر گیا تھا اس بات کو لے کر ۔ یہی وجہ تھی اب اس کے سامنے کھڑے رہنا دنیا کا سب سے مشکل ترین کام لگ رہا تھا ۔
”چلو جارج “
جارج کا ہاتھ تھام کر وہ سر جھکاۓ تھوڑا سا آگے بڑھی ۔ پر علیدان ہنوز اسی حالت میں کھڑا تھا ۔ ایسے جیسے مجسم ہو جاۓ کوٸ ایسے جیسے کسی کی آخری ٹرین بھی چھوٹ جاۓ اور وہ سٹیشن پر دور جاتی ٹرین کو دیکھ رہا ہو ۔ اس ٹرین کو جس نے منزل تک پہنچانا تھا ۔
” تھنکیو آٸرن مین “
جارج نے پیچھے مڑ کر علیدان کو ہوا ہاتھ میں اٹھا کر ہلاتے ہوۓ کہا ۔ پر اس کے ہلتے ہاتھ سے زیادہ اس کا ذہن اس کے ساتھ قدم اٹھاتی لڑکی کے پیروں میں اٹکا تھا ۔ وہ قدم قدم اس سے دور ہو رہی تھی ۔
تو علیدان دلاور اللہ نے تمھاری آزماٸش تمہارا انتظار ختم کیا اور ایسے کیا کہ تمہیں دکھا دیا وہ تمھاری نہیں ۔ دیر ہو گٸ بہت دیر بس وہ نہیں تھی اس کی قسمت میں ۔
وہ جا چکی تھی اور وہ وہیں کھڑا تھا۔ کچھ دوری پر رکھا بینچ چھاٶں میں تھا ۔ لوگ ہنستے ہوۓ جاگنگ ٹریک پر سے گزر رہے تھے ۔ جن کے ہنستے ہوۓ چہرے ایسے تھے جیسے اس کا تمسخر اڑا رہے ہوں ۔
وہ دیکھو لٹا ہوا
وہ دیکھو ہارا ہوا
وہ دیکھو جس کی دعاٸیں آج کھڑی اس پر قہقے لگا رہی ہیں ۔ کوٸ تو گناہ ایسا تھا جس کی یہ سزا تھی ۔ کیا ہو گا وہ گناہ وہ ذہن پر زور ڈالے ہوۓ تھا ۔ ۔۔۔
وہ گناہ کیا ہو سکتا ہے ۔۔۔
لوگ اس کے پاس سے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھتے ہوۓ واپس جا رہے تھے اور وہ وہیں سوچ میں ڈوبا کھڑا تھا بچپن سے لے کر اب تک کے سارے لمحات سب کچھ ذہن میں دہرا لیا پر ایسا تو کوٸ گناہ نہیں تھا یا خدا جس کی پاداش میں یہ سزا دی اسے لاکر سامنے کھڑا بھی کر دیا اور چھین بھی لیا۔
بنچ آدھے سے زیادہ دھوپ اوڑھ چکا تھا پر وہ وہیں کھڑا تھا ۔
پارک میں اب کوٸ نہیں تھا ۔ پر وہ ۔۔۔۔ وہیں ۔۔۔۔ کھڑا ۔۔۔ تھا ۔
*********
” شکر ہے بیٹا میں بہت بہت خوش ہوں “
زیب بیگم نے فرط محبت سے علیدان کی پیشانی ہی چوم ڈالی ۔ بات ہی ایسی تھی علیدان نے اوزگل سے شادی کے لیے ہاں کر دی تھی ۔
علیدان گم سم سا ان سے الگ ہوا ۔ تین دن کمرے میں بند رہنے کے بعد وہ آج باہر نکلا تھا ۔ تین دن کی بڑھی ہوٸ شیو مخمور سی سوجی ہوٸ آنکھیں بکھرے سے بال سوکھے پپڑی سی جمے لب تین دن سے وہی ناٸٹ ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس وہ زیب بیگم کے سامنے کھڑا تھا ۔
”تمھارے بابا بھی بہت بہت خوش ہوں گے بس اب جلدی سے شادی کی ڈیٹ فکس کر دیں گے ہم لوگ“
زیب بیگم کو خوشی سے سانس چڑھا ہوا تھا ۔ پر بار بار چور سی نظر علیدان کے چہرے پر ڈال رہی تھیں جو اب اداس سی شکل بناۓ موباٸل پر جھکا ہوا تھا ۔ کچھ تھا جو ان کو کٹھک رہا تھا بری طرح ۔
علیدان بیماری کا بہانہ کر کے تین دن تک کمرے میں بند رہا اور اب باہر نکلتے ہی آ کر کہنے لگا مما شادی کر دیں اس سال ہی ۔
عجیب سا تھا کچھ جو ان کی اتنی منت سماجت پر بھی متوقع نہیں ہوا تھا ۔ وہ تو اس لڑکی کو بھولنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا پھر یہ کیسی کایا پلٹ تھی ۔ کچھ یاد آ جانے پر انہوں نے بغور علیدان کو دیکھا ۔
” اچھا سنو وہ حسیب کی طرف کھانا ہے ہم سب کا تو وہ اس دفعہ بہت زیادہ اسرار کر رہا تھا کہ علیدان بھاٸ ضرور آٸیں “
زیب بیگم نے سر جھٹک کر مسکراتے ہوۓ کہا۔ علیدان نے آنکھ اٹھا کر بے زار سا منہ بنا کر ان کی طرف دیکھا۔ کہاں دل چاہ رہا تھا کہیں جانے کا وہ شروع سے ہی اس طرح چپ چپ سی طبیعت کا مالک تھا اور اب عشق کے روگ نے تو اور لوگوں سے دور کر دیا تھا ۔
” پلیز بیٹا ایسا مت کرو بہن کے سسرال کا معاملا ہے کیا سوچیں گے وہ لوگ ، پتہ نہیں کیوں نہیں آتا صندل کا بڑا بھاٸ “
زیب نے خفگی بھرے لہجے میں شکوہ کیا ۔ جبکہ نظریں اس کے عجیب سے انداز کو مسلسل جانچ رہی تھیں ۔
” ٹھیک ہے بتا دیجیے گا جس دن جانا ہوا “
علیدان نے گہری سانس لے کر بیٹھی سی آواز میں جواب دیا اور پھر ٹرایوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکاۓ آگے بڑھ گیا ۔
” آج رات کو ہے ڈنر اب نکل نہ جانا کسی دوست کی طرف “
وہ سر جھکاۓ کمرے سے باہر نکل رہا تھا جب زیب بیگم نے پیچھے سے ہانک لگاٸ ۔ اور وہ بنا کوٸ جواب دیے بنا پلٹے وہاں سے جا چکا تھا ۔
وہ الجھی سی پریشان صورت بناۓ اس کی پشت کو تکتی رہ گٸیں ۔
***********
مخملی سے ہاتھ لیپ ٹاپ کے کی بورڈ پر رقص کر رہے تھے اور سکرین پر فیس بک مسینجر پر الفاظ ٹاٸپ ہو رہے تھے ۔
”علیدان پر میں چاہتی ہوں نہ اب کہ ہم فون پر بھی بات کریں “
اوزگل نے بچوں کی طرح خفا سی صورت بناۓ مسیج ٹاٸپ کیا ۔ اپنے کمرے میں بیڈ پر آلتی پالتی مارے وہ گود میں کشن کے اوپر لیپ ٹاپ رکھے بیٹھی تھی ۔
وہ اب کوفت کا شکار ہونے لگی تھی عجیب تھا سب جس میں وہ اکثر الجھ جاتی تھی علیدان سب میں ہوتا تو اس کی طرف نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھتا تھا اور ایمیلز اور چیٹ میں محبت کے سمندر بہا دیتا تھا ۔
جب کبھی اذفرین زیادہ شکوہ کرتی اس بات کا تو یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ صندل ہے گھر میں تو اسے عجیب لگتا کہ وہ اپنی جوان بہن کے سامنے یوں اپنے ہونے والی بیوی سے بات کرے۔
اوزگل یہ سب سن کر اپنے مچلتے دل کو سمجھا لیتی تھی جو اس سے بات کرنے کے لیے گھومنے پھرنے کے لیے بے تاب ہوتا تھا ۔
اور آج بھی ایسا ہی ہوا تھا جب اس نے صندل کو حسیب سے باتیں کرتا دیکھا تو عجیب سے خواہش نے دل میں سر اٹھا لیا تھا کہ علیدان اس سے فون پر لمبی لمبی باتیں کیا کرے ۔ اور اسی خواہش کا اظہار وہ اب کر چکی تھی ۔
”نہیں اوز ایسا ممکن نہیں ہے تمہیں پتا ہے میری نیچر کا میں زیادہ باتیں نہیں کر سکتا ہوں اور فون پر تو بلکل نہیں “
ادیان نے پریشان سی صورت بناۓ پیغام ٹاٸپ کیا ۔ اوزگل کے سوال پر وہ کچھ دیر تو ساکن سا ہو گیا تھا کیا جواب دے اس کو پھر کچھ سوچ کر جواب ٹاٸپ کر دیا جب سے صندل نے یہ بات ذہن میں ڈالی تھی کہ وہ یہ سب بہت بہت غلط کر رہا اور یہ اوزگل کے لیے بہت بڑی پریشانی بن سکتا تھا وہ بھی اس دن سے پریشان رہنے لگا تھا ۔
” اچھا ٹھیک ہے کوٸ بات نہیں آپ پریشان نا ہوں “
اوزگل نے جلدی جلدی علیدان کی ناراضگی کے خوف سے جواب ٹاٸپ کیا ۔دوسری طرف پھر خاموشی تھی ۔ پتا نہیں کیا وجہ تھی وہ اب اس سے بات کرنا بلکل ختم کر چکا تھا بس جب وہ زبردستی چیٹ کرتی تو وہ چند ایک جواب دیتا اور بس ۔ وٹس ایپ پر اور ٹیکسٹ پر بات کرنے سے وہ سختی سے منع کر چکا تھا ۔بس نیٹ پر بات کرتا جہاں وہ اب بہت کم آن لاٸن آتا تھا ۔
” اچھا کل میں نے سوپ بھجوایا تھا کمرے میں کیسا لگا آپکو “
اوزگل نے نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ آنکھوں میں شوخی بھر کر سوال ٹاٸپ کیا پر دوسری طرف سے وہ جا چکا تھا ۔ آف لاٸن سٹیٹس کو بے بسی سے دیکھتے ہو دل اداس ہوا اور لبوں کو باہر نکالے لیپ ٹاپ سکرین کو بند کر دیا ۔
*********
وسیع عریض لمبے سے کھانے کے میز کے گرد لگی کرسیوں پر موجود تمام نفوس ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف تھے۔ یہ حسیب کے گھر کا ڈاٸنگ ہال تھا جہاں اس وقت میر دلاور ولاز کی ساری فیمیلی، ماٸدہ بیگم، اذفرین ، جارج اور حسیب کے اپنے گھر والے موجود تھے ۔
ہلکی ہلکی برتنوں کی آوازوں میں بڑوں کی بھی مدھم مدھم آواز سناٸ دے رہی تھی ۔
”اب ان شا اللہ دو جوڑوں کی شادی نہیں تین جوڑوں کی ہو گی “
صوفیہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ کہا تو کھانے کی میز پر سب کی سوالیہ نظریں ان کی طرف اٹھیں ۔ ہلکی پھلکی گفتگو کا رخ اچانک شادیوں کی طرف ہو گیا تھا جس پر حسیب کی والدہ نے خوشی سے معنی خیز انداز میں بات کی ۔
” میرا بھانجا بھی آ رہا ہے کچھ ماہ تک تو میں نے اور ماٸدہ نے سوچا ہے کہ اذفرین اور نجف کا بھی نکاح ساتھ کریں گے تو اب حسیب اور علیدان کے ساتھ نجف کی بھی شادی ہو گی “
صوفیہ نے محبت سے پاس بیٹھی ماٸدہ بیگم کی طرف دیکھا جو مسکرا کر تاٸید میں سر ہلانے لگی تھیں۔ سب لوگ مسکرا دیے تھے صندل اور اوزگل تو چہک کر اذفرین کی طرف دیکھنے لگی تھیں ۔سب لوگ اس بات سے خوش ہو رہے تھے اس بات سے یکسر انجان کے کسی کے سر پر تو بمب پھوٹ گیا ۔ اور چاول کا چمچ جو خوارک کی نالی میں جانا تھا اچانک سے اس کی سانس کی نالی کا رخ اختیار کر گیا تھا۔
علیدان اس بری طرح کھانس رہا تھا کہ سب پریشان ہو گۓ تھے کوٸ اس کی طرف پانی کا گلاس بڑھا رہا تھا تو کوٸ اس کی پیٹھ کو سہلا رہا تھا ۔
اذفرین ہونق بنی دیکھ رہی تھی ۔ اوزگل کی صورت روہانسی ہو چلی تھی اس کا بس نہیں تھا اٹھے اور علیدان کی پشت خود سہلانے لگے ۔
علیدان نے بمشکل پانی حلق سے نیچے اتارا ۔ آنکھیں کھانس کھانس کر سرخ ہو گٸ تھیں ۔ اس کی حالت کچھ بہتر ہوتے دیکھ کر سب لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے تھے ۔
تف ہے مجھ پر بنا کچھ پوچھے جانے اللہ سے شکوے شکاٸتیں لے بیٹھا تین دن سے تہجد میں وہ شکوے ہی تو کر رہا تھا خدا سے کہ اے اللہ کیا میری دعاٶں میں میری محبت میں کوٸ سچاٸ نہیں تھی جو وہ یوں کسی اور کی ہو گٸ تھی۔
اور آج جب اسے یوں حسیب کے گھر دیکھا تو دل چاہ بھاگ جاۓ یہاں سے کہیں چھپ جاۓ کیا اتنی اذیت دینے کا ارادہ کر لیا ہے اللہ نے کہ اسے بار بار میرے سامنے لاۓ گا ۔ پر اب سمجھ آیا آج وہ یہاں کس لیے موجود تھا ۔ اذفرین کی شادی نہیں ہوٸ تھی وہ سب غلط سوچتا رہا تین دن تک ۔
اللہ نے اس کی دعاٶں کو رد نہیں کیا تھا ۔
علیدان نے منہ کے آگے ہاتھ فولڈ کر کے رکھے گلا صاف کیا اور ہلکا سا رخ کچھ کرسی چھوڑ کر بیٹھی ماٸدہ بیگم کی طرف کیا۔
” تو آنٹی آپ کے بیٹے کا نکاح۔۔۔۔ میرا مطلب ہے شادی نہیں ہوٸ کیا ابھی ؟“
ذہن تو بہت روک رہا تھا اس کو پر دل میں مچلتا سوال وہ پوچھ ہی بیٹھا یہ وہ پہلے الفاظ تھے جو اس سارے دورانیہ میں اس کے منہ سے نکلے تھے اس لیے کچھ لوگ حیران تھے اور کچھ لوگ خوش ہو کر اس کی طرف دیکھ رہے تھے کہ جناب کھڑوس سے علیدان دلاور منہ میں زبان بھی رکھتے ہیں سب کی ملی جلی حالت میں ایک واحد وہ تھی جس کے چہرے پر ہواٸیاں سی اڑ گٸ تھیں علیدان کی بات پر ۔
” نہیں بیٹے ابھی کہاں بس میرا بچہ الجھا ہوا ہے پہلی بیوی نے جینا حرام کر رکھا ہے “
ماٸدہ نے افسوس بھرے لہجے میں جواب دیا ۔ علیدان میں تو جیسے کسی نے روح پھونک دی تھی ایک دم سے وہ زندوں میں شمار ہونے لگا تھا ۔
اب اٹھی تھی جناب علیدان دلاور والی بھرپور نگاہ سامنے بیٹھی اس صنف نازک پر پستہ رنگ کے جوڑے پر میرون رنگ کا بڑا سا دوپٹہ کندھے پر ڈالے بالوں کی درمیانی مانگ اور پونی ٹیل کیے شفاف سادہ چہرے کے ساتھ بیٹھی وہ اس دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی لگ رہی تھی ۔
”اچھا وہ جارج کی اصلی مما ؟“
علیدان نے بمشکل نظروں کو قابو کیا اور پھر سے ماٸدہ کی طرف متوجہ ہو کر سوال کیا ۔
” ہاں بیٹا بس بہت بڑی غلطی ہو گٸ میرے بیٹے سے اس کا کفارہ ہے یہ سب “
ماٸدہ دکھ بھرے لہجے میں اب پتا نہیں کیا کیا کہہ رہی تھی علیدان کو تو کچھ سناٸ نہیں دے رہا تھا بس دل کے دھڑکنے کا شور تھا ۔ نظریں بار بار اذفرین پر اٹھنے لگی تھیں ۔
آنٹی آپ کے بیٹے کو ایک دکھ تو اب میں بھی دینے والا ہوں ۔۔۔۔
لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ تھی ۔ اذفرین علیدان کے یوں بار بار دیکھنے پر پریشان ہو گٸ تھی ۔
ہو کیا گیا ہے ان کو یوں کیوں دیکھ رہے ہیں اللہ۔۔۔۔۔۔۔ کہیں۔۔۔۔ کہیں یہ دانش والی ساری بات حسیب کو یا پھر آنٹی کو بتانے کا نہ سوچ رہے ہوں اذفرین کی جان پر بن گٸ تھی ۔
*************
جیسے ہی پارک میں داخل ہوا کھوجتی نگاہیں اردگرد دوڑاٸیں ۔ آنا تو چاہیے اگر گارڈ بتا رہا تھا چھوٹا بچہ روز اپنی مما کے ساتھ جاتا ہے جاگنگ پر تو یہیں ہوں گے دونوں پھر اسی خیال کے زیرے اثر وہ پورے پارک پر متلاشی نظریں گھما رہا تھا ۔
وہ بہادر ولاز کے گیٹ کے سامنے موجود گارڈ سے جارج کا پوچھ کر آیا تھا ۔ مقصد تو اذفرین کا ہی پوچھنا تھا ۔ رات اتنی بڑی خوشی ملی تھی کہ ساری رات کروٹ بدلتے گزر گٸ تھی ۔ شکرانے کے نوافل ادا کیے اللہ سے شکوہ کرنے کی معافی مانگی اور سورج کی روشنی پھیلتے ہی ٹریک سوٹ پہن کر باہر آیا ۔ اور قدم خود بہ خود بہادر ولاز کے آگے رک گۓ تھے ۔اور اب پارک میں داخل ہوتے ہی وہ دھڑکتے دل سے جارج اور اذفرین کو تلاش کر رہا تھا ۔
اور پھر ایک طرف ٹریک پر جارج اور اذفرین تیز تیز قدم اٹھاتے نظر آۓ ان کی پشت تھی علیدان کی طرف اس لیے وہ اسے نہیں دیکھ سکتے تھے ۔
علیدان کے چہرے پر بھرپور مسکراہٹ ابھری اور پھر اس نے بھاگتے ہوۓ اپنے اور ان کے بیچ کا فاصلہ ختم کیا تھا ۔
” ہے لٹل چیمپ کیسے ہو “
عقب سی آتی آواز پر اذفرین نے چونک کر پیچھے دیکھا ۔ علیدان کھڑا مسکرا رہا تھا ۔ بھاگنے کی وجہ سے سانس چڑھا تھا ٹریک سوٹ میں ہشاش بشاش سا تھا رات تو مجنوں والا حلیہ تھا اب تو شیو بھی بنا رکھی تھی بال بھی سلیقے سے سیٹ تھے
وہ اب اذفرین کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ نیلے رنگ کے شلوار قمیض میں وہ چندن کی طرح چمک رہی تھی دوپٹے کو کندھے پر ڈالے کمر کی ایک طرف باندھ رکھا تھا پاٶں میں جوگرز تھے ڈھیلا سا بالوں کا جوڑا بنا رکھا تھا جس سے ان گنت لٹیں جوڑے سے آزاد ہو کر سفید گردن اور چہرے پر گری تھیں شفاف دھلا ہوا چہرہ اور گلابی سے لب وہ صبح کی میٹھی میٹھی خوبصورتی کا حصہ لگ رہی تھی ۔
جارج مسکراتا ہوا آگے بڑھا ۔ اور علیدان کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ علیدان نے خوش دلی سے اس کا ہاتھ تھاما ۔
” کیوں ہیرو پھر میرے جیسے مسلز بنانا چاہتے ہو؟“
علیدان نے گھٹنوں پر ہاتھ رکھ کر تھوڑا سا جھک کر جارج سے پوچھا ۔ جارج نے دانت نکال کر سر کو زور زور سے ہلایا ۔ اذفرین حیرانگی سے دونوں کی گفتگو سن رہی تھی ۔ جارج تو علیدان سے بہت زیادہ متاثر لگ رہا تھا ۔
”چلو پھر پہلے تو میں یہاں ویٹ کرتا ہوں آپ راٶنڈ لگا کر آٶ یہ سامنے چھوٹے ٹریک پر“
علیدان نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اس کے بال بکھیرۓ ۔ اور سامنے ٹریک کی طرف اشارہ کیا جارج نے گردن گھما کر ٹریک کی طرف دیکھا اور مسکراتے ہوۓ علیدان کی طرف دیکھ کر زور سے سر اثبات میں ہلایا اور ٹریک کی طرف بھاگ گیا ۔
اس کے جاتے ہی علیدان سیدھا ہوا بھنویں اچکاۓ حواس باختہ سی کھڑی اذفرین کی طرف دیکھا وہ گڑ بڑا کر علیداب کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اب نظریں چرا رہی تھی ۔
علیدان نے گہری سانس لی اور اذفرین کے بلکل سامنے آکر کھڑا ہوا ۔ سینے پر ہاتھے باندھے اور مسکراہٹ دباٸ ۔
افف کیا ہے ایسے کیوں دیکھے جا رہا ۔ اذفرین کی نظریں تو اٹھ نہیں رہی تھیں پر علیدان کا یوں مسلسل خاموش رہنا عجیب طرح سے پریشان کر رہا تھا ۔
وہ میرے روبرو ہیں ایسے کہ
ان کو دیکھوں کہ ان سے بات کروں
علیدان نے بے تاب سی دھڑکنوں پر قابو پایا ۔ ویسی ہی تھی بلکل نہیں بدلی تھی گھبراٸ سی ڈرپوک سی علیدان کے لب بے ساختہ بھرپور طریقے سے مسکرا دیے ۔
”کیسی ہو؟“
ملاٸم سے لہجے میں سوال کیا جب کے محبت پاش نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔ یوں اچانک اس کی آواز پر دل لرز گیا ۔ افف آج ایک سال بعد وہ یوں اس سے مخاطب تھا ۔
”ٹھیک ہوں“
اذفرین نے گھٹی سی آواز میں جواب دیا ۔ اور بلا جواز ارد گرد دیکھا ۔ اب کیا بات کرے گا کہ دھوکا دے رہی ہو حسیب کے کزن کو تم یہ وہ دل ڈوب رہا تھا ذہن میں اٹھتے خیالوں پر ۔
”اگر میرا ہم نام آٸ ڈی مل ہی گیا تھا ، پہلے اچھی طرح تسلی تو کرتی وہ میں تھا بھی یا نہیں “
علیدان نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ سنجیدہ سے لہجے میں کہا انداز بھرپور اپناٸیت لیے ہوۓ تھا ۔ اذفرین کے ہاتھ کانپنے لگے تھے پلکیں گالوں پر لرزنے لگی تھیں ۔
اللہ آسمان نگل لے مجھے یا زمین پھٹے اس میں سما جاٶں ۔ اذفرین کا دماغ ساٸیں ساٸیں کرنے لگا تھا ۔
سب کچھ جانتا ہے کتنی۔۔۔ کتنی ۔۔۔۔بے عزتی کی بات ہے ہنستا ہو گا مجھ پر کہ بیو قوف لڑکی نو دن میں ہی مجھ پر دل ہار بیٹھی تھی ۔
”اذفرین محبت کرتی ہو مجھ سے؟ “
علیدان نے سنجیدہ لہجے میں قریب ہو کر سرگوشی نما آواز میں کہا تو اذفرین نے تڑپ کر اوپر نظر اٹھاٸ وہ جو خیالوں میں یہی سوچ رہی تھی اور وہی اس کی زبان سے سن کر جھٹکا کھا گٸ ۔
وہ خمار آلودہ سی آنکھیں لیے سنجیدہ سا کھڑا تھا ۔ اس کے جواب کا منتظر ۔ اب کیا کہوں اسے اچھی سناۓ گا مجھے کہ تم پاگل تھی یوں مجھ سے پیار کرنے لگی ۔ نظریں پھر سے ٹریک کی اینٹوں پر ٹک گٸ تھیں ۔
”نہیں۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔۔کرتی “
اذفرین نے گڑبڑا کر جواب دیا ۔ نظریں اس سے ملانے کی سکت تو تھی نہیں ۔ علیدان نے اس کے جواب پر خفیف سا قہقہ لگایا ۔
”جھوٹ کہہ رہی ہو تم ، تم کرتی ہو “
علیدان نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ کہا ۔ اسکا قہقہ جیسے اذفرین کو زمین میں گاڑ رہا تھا ۔ افف وہ ہنس رہا ہے میری بیوقوفی پر دل کیا بھاگ جاۓ یہاں سے چھپ جاۓ اسے نظر نا آۓ کبھی کتنی تزلیل کی بات تھی دل جس سے بے پناہ محبت کرتا تھا اس کی نظروں میں وہ گر چکی تھی ۔
”نہیں تو وہ سب غلط تھا بس دوست سمجھ کر کیا تھا سب ایسا کچھ نہیں ہے میں نے کبھی محبت نہیں کی ۔۔۔۔ مجھے جانا ہے اللہ حافظ “
اذفرین نے سخت لہجے میں ماتھے پر بل ڈالے جواب دیا اور تیزی سے پاس سے گزرتی تیز تیز قدم اٹھاتی جارج کی طرف جا رہی تھی جو ابھی راٶنڈ پورا کیے ان کی طرف ہی چلا آ رہا تھا۔
جارج کا ہاتھ تھامے وہ اب تیز تیز قدم اٹھاتی پارک کے گیٹ کی طرف جا رہی تھی جبکہ جارج اس کو کچھ کہتے ہوۓ بار بار پیچھےمڑ کر علیدان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
اچھا نہیں کرتی ۔۔۔۔۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔ نگاہیں اس کو جاتا دیکھ رہی تھیں پر پیشانی پر گہری سوچ کی لکریں تھیں ۔
*********
وہ تنگ سا بازار تھا جہاں آکر گاڑی رکی تھی ۔ گاڑی سے اتر کر ایک ہاتھ سے سن گلاسز اتارے اور آنکھوں کو سکیڑے ارد گرد دیکھا ۔ سفید ڈریس شرٹ کے نیچے گرے پینٹ میں ملبوس بال سلیقے سے بناۓ وہ آفس سے جلدی اٹھ کر سیدھا ادھر آیا تھا ۔
کچھ دوری پر دانش کمپویٹر ریپرنگ شاپ کے نام سے لگے بورڈ پر نظریں تھمیں اور قدم چلے ۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اب دوکان کی طرف جا رہا تھا ۔ اذفرین کی صبح کی باتوں پر ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا پر دل کو عجیب سی بے کلی نے گھیر لیا تھا ۔
جیسے ہی دوکان کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا سامنے کاٶنٹر کے پیچھے بیٹھا دانش جھٹکا کھا کر کرسی پر سے کھڑا ہوا وہ کانپ گیا تھا اور آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھلی تھیں چہرہ خوف سے سفید پڑ گیا تھا ۔ علیدان کا چہرہ تو اب وہ تاحیات نہیں بھول سکتا تھا علیدان نے چار ماہ تک اسے جیل میں رکھا تھا اور وہ درگت بنی تھی کہ اس کہ سات پشتوں نے ایڈوانس معافی مانگ لی تھی لیکن وہ آج یہاں کیوں آیا تھا ۔ خون خشک ہو رہا تھا ۔
”ع۔۔لی۔۔۔دا۔۔ن صاحب ک۔۔ہ۔۔۔کہ۔۔۔ کیا ہوا قسم لے لیں جو اب کبھی ایک مسیج بھی کیا ہو اسے “
دانش نے جلدی سے ہاتھ جوڑ کر گھبراٸ سی آواز میں کہا جب کے آنکھوں میں عجیب سا خوف تھا ۔ علیدان اب بلکل اس کے سامنے کاٶنٹر کی دوسری طرف کھڑا تھا ۔
” تم سے بات کرنی ہے کچھ باہر نکلو ذرا “
علیدان نے پینٹ کے جیبوں میں ہاتھ ڈالے پرسکون لہجے میں کہا جبکہ نظریں ارد گرد اس کی دکان کا جاٸزہ لے رہی تھیں ۔ چھوٹی سی دوکان پرانے کمپیوٹروں اور پرزوں سے بھری پڑی تھی ۔
” دیکھیں قسم کھاتا ہوں اپنے بیٹے کی ایسی توبہ کی ہے اذفرین کیا اب کبھی کسی لڑکی سے بات نہیں کی مجھے معاف کر دیں “
دانش نے گھبراٸ سے آواز میں التجا کی ۔ علیدان نے گھور کر کھا جانے والی نظروں سے دیکھا ۔
” میں کہہ رہا ہوں باہر آٶ کاونٹر سے “
غصے سے ایسے کہا کہ دانش جلدی سے فق چہرہ لیے کاٶنٹر سے باہر آیا ۔ وہ سہم گیا تھا ۔ ہر جگہ سے وہی چھ ماہ پہلے والی مار کی ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں علیدان کی مار یاد آنے لگی تھی ۔
” بیٹھو یہاں “
علیدان نے سامنے کرسی کی طرف اشارہ کیا ۔ دانش نے ماتھے سے پسینہ صاف کیا اور پریشان سی صورت بناۓ کرسی پر بیٹھ گیا ۔
علیدان نے دوسری کرسی اس کے بلکل سامنے رکھی اور خود آگے بیٹھ گیا ہاتھ میں موباٸل پکڑے اب وہ آبرٶ چڑھاۓ سامنے بیٹھے دانش کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ جو بار بار تھوک نگل رہا تھا ۔
” دیکھو سچ سچ بتانا جو بھی بتاٶ گے “
علیدان نے موباٸل کو ہونٹوں کے نیچے رکھ کر پرسوچ لہجے میں کہا ۔ دانش نے خوف سے دیکھا ۔ کیا پھنس گیا تھا وہ اس لڑکی کو پھنسانے کے چکر میں یہ ہیرو تو ساری زندگی جان چھوڑنے والوں میں سے نہیں تھا ۔
” دیکھیں علیدان صاب مجھے معاف کر دیں میں نے اب کبھی۔۔۔“
دانش نے گھبراٸ سی آواز میں بات شروع کی ۔ ہاتھ پھر سے جوڑے تھے۔
” ابے چپ ۔۔۔۔ بات تو سن لے کیا معاف کر دیں معاف کر دیں کی رٹ لگا رکھی ہے “
علیدان نے اونچی آواز میں ایسے ڈپٹا کہ اس کی چلتی زبان ایک دم رکی ۔ اب وہ سانس بھی روک چکا تھا ۔۔
” ہاں یہ بتاٶ اذفرین جب تم سے بات کرتی تھی میرا سمجھ کر تو کیوں کرتی تھی کیا کہتی تھی ؟“
علیدان نے گہری نظریں اس کے چہرے پر گاڑ کر سوال کیا ۔ دانش نے ڈر کر اس کی طرف دیکھا ۔ کچھ دیر ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھتا رہا پر اس کی گھوری پر جلدی سے بول پڑا ۔
” وہ۔۔۔ بہت پیار کرتی ہے آپ سے اسی لیے بات کرتی رہی مجھ سے “
دانش نے سہمی سی آواز میں کہا ۔ علیدان نے ایسے دیکھا جیسے کہہ رہا ہو آگے بولو۔۔۔ بولتے جاٶ ۔۔۔ چپ نہ کرو ۔ دانش نے بھی ڈر کر بات شروع کی ۔
” وہ تب سے پیار کرتی ہے جب جنگل میں تھے آپ دونوں اور اس نے وہ پھول بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے ابھی تک جو آپ نے دیا تھا شاٸد اس کو ، اس کو ہر ہر لمحہ ازبر تھا ان نو دنوں کا ، ہر وقت بس وہی باتیں کرتی رہتی تھی ، دیوانہ وار چاہتی ہو آپکو “
دانش بول رہا تھا اور علیدان مسکراہٹ چھپا رہا تھا ۔
دل میں ہو رہی عجیب سی الجھن اب ختم ہو رہی تھی ۔ یقین تو پہلے ہی تھا دل کو پر اب سکون تھا ۔
وہ ایک دم سے اٹھا دانش کی زبان کو بریک لگی وہ دوکان کے دروازے تک گیا پھر واپس پلٹا دانش اسی طرح کرسی پر بیٹھا تھا
واپس آکر ہاتھ ہوا میں اٹھا کر زناٹے دار تھپڑ دانش کی گال پر مارا وہ گال پر ہاتھ رکھے ہکا بکا دیکھ رہا تھا ۔ اب کیا۔۔۔ کیا تھا گال جلنے لگا تھا ایسے لگا جیسے کسی نے چمڑے کا بنا بیلٹ گال پر مارا ہو گال کو سہلاتے اس کی طرف دیکھا
جبکہ وہ سن گلاسز آنکھوں پر چڑھاۓ اب دوکان سے باہر جا رہا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: