Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 23

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 23

–**–**–

”علیدان ۔۔۔۔“
بمشکل آواز حلق سے برآمد ہوٸ تھی حیرت سے زیب کی آنکھیں پھٹنے کو تھیں جو وہ کہہ رہا تھا کان تو سن چکے تھے پر ذہن ابھی قبول نہ کرتے ہوۓ نہیں نہیں کی گردان الاپ رہا تھا ۔
”امی میں سچ کہہ رہا ہوں اذفرین ہی وہ لڑکی ہے جس کو میں سال بھر سے تلاش کرتا رہا “
علیدان نے دوٹوک لہجے میں کہا ۔ وہ زیب بیگم کے کمرے میں موجود انہیں اذفرین کے بارے میں بتا رہا تھا اور وہ حیرت کے سمندر میں غوطے لگاتی اپنے آپ کو بمشکل سنبھالے ہوٸ تھیں ۔
آج اذفرین اور جارج جاگنگ کے لیے پارک میں نہیں آۓ تھے اور وہ ابھی مایوس ہو کر جاگنگ سے واپس لوٹا تھا ۔ جان بوجھ کر وہ آج میر دلاور کے ساتھ آفس کے لیے نہیں نکلا تھا ان کے نکلتے ہی وہ اب زیب بیگم کے کمرے میں موجود تھا ۔ وہ کل دانش کے ملنے کے بعد ہی طے کر چکا تھا وہ جلد از جلد زیب سے اذفرین کے لیے بات کرے گا
”علیدان جو بھی تھا اور جو بھی ہے بیٹا پر اب یہ کیسے ممکن ہے جو تم کہہ رہے ہو اس کی شادی ہونے والی ہے تم شادی کے لیے اپنے بابا سے ہاں کر چکے ہو “
زیب نے الجھ کر ہاتھ ہوا میں چلاتے ہوۓ اسے کہا جو عجیب ہی فرماٸش لیے اس کے سامنے کھڑا تھا کہ وہ جاٸیں اور اذفرین کی ہونے والی ساس سے اسکے بھاٸ کا فون نمبر لاٸیں اور اسکے اور اذفرین کے رشتے کی بات کریں ان سے ۔
” مما ہونے والی ہے نہ ہوٸ تو نہیں“
” اور دونوں کی شادی ابھی تک نہ ہونا ہی اللہ کی طرف سے اشارہ ہے “
” وہ میری ہے صرف مما ۔۔۔ میں اس کے سوا کسی کے ساتھ خوش نہیں رہ سکوں گا وہ ایک شادی شدہ ایک بچے کے باپ سے مجبوری میں شادی کر رہی ہے محبت وہ مجھ سے کرتی ہے “
علیدان کا لہجہ اس کے اندرونی جذبات کی سچاٸ لیے ہوۓ تھا ۔ وہ بولے جا رہا تھا اور سامنے خاموش کھڑی زیب بیگم کے چہرے کا رنگ زرد پڑ گیا تھا وہ یہ سب کیا چاہتا تھا یہ بہت ۔۔۔بہت ۔۔۔۔غلط تھا ۔
اس سے نہ صرف اب اوزگل کا گھر تو اجڑتا تھا بلکہ ساتھ ساتھ صندل کا رشتہ بھی خطرے میں پڑ سکتا تھا ۔ حسیب بہت اچھا پڑھا لکھا بزنس مین تھا اور گھر بار بھی بہترین تھا اور اب بات یہاں تک ہی نہ تھی صندل اور حسیب کی بہت اچھی انڈرسٹینگ ہو چکی تھی وہ دونوں بہت خوش تھے اس رشتے سے ۔
”علیدان جو تم چاہتے ہو یہ ناممکن ہے بیٹا “
زیب نے سخت لہجے میں نظریں چراتے ہوۓ جواب دیا دل عجیب طرح سے بدل ہو گیا تھا کل تک وہ جس بات کو لے کر خوش باش تھیں علیدان نے اس خوشی کو ایک پل میں مٹی میں ملا دیا تھا ۔
”مما ناممکن کچھ نہیں ہوتا آپ نے مجھے کہا تھا اگر وہ شادی سے پہلے مل گٸ تو آپ اوزگل کو سمجھا لیں گی “
” اور پرسوں میں نے شادی کے لیے ہاں اس لیے کر دی تھی کہ میں سمجھا تھا وہ ایک بچے کے باپ سے شادی کر چکی ہے “
علیدان نے پیشانی پر بل ڈالے ان کو ان کے کہے ہوۓ الفاظ یاد کرواۓ اور اپنی غلط فہمی کی وجہ سے شادی کے لیے رضامندی کا اقرار کیا۔
” غلط ۔۔۔کہا تھا میں نے صرف تمہیں بہلانے کے لیے کہا تھا کہ وقتی جنون ہے اس لڑکی کا تمھارے سر پر اتر جاۓ گا ایک نا ایک دن اور اب صرف اوزگل ہی نہیں ٹوٹے گی اس سب سے بلکہ صندل کا رشتہ بھی ختم ہو جاۓ گا “
زیب نے دانت پٕستے ہوۓ کہا وہ پہلی دفعہ اتنے غصے میں علیدان سے بات کر رہی تھیں کرتیں بھی کیا وہ تو پھنس کر رہ گٸ تھیں بیٹا ایسی چاہت کا طلبگار تھا جو سب کچھ تہس نہس کر سکتی تھی ۔
”مما اگر اذفرین نہیں تو پھر کوٸ نہیں“
” اور اوزگل سے میں خود بات کروں گا میں کیوں اس کے ساتھ دھوکا کروں “
” میرے دل میں اس کے لیے کوٸ جذبات نہیں ہیں میں اس سے محبت نہیں کرتا تو کیوں کسی اور کو دل میں رکھ کر اس سے شادی کروں“
” میں ہر گز اس سے شادی نہیں کروں گا جبکہ مجھے میری محبت مل گٸ ہو وہ محبت جس کے حصول کی دعا میں نے دن رات کی ہو “
علیدان نے بچارگی سے کہتے ہوۓ بات کو دو ٹوک انداز میں ختم کیا ۔
” جاٶ یہ سب تماشہ اپنے باپ کے سامنے لگاٶ جو اس دن سے خوش ہے کہ تم مان گۓ ہو “
زیب بیگم نے ناگواری سے کہا اور رخ دوسری طرف موڑے ہاتھ سینے پر باندھے ان کا چہرہ خفگی سے سرخ پڑ رہا تھا ۔
اذفرین کی بھولی سی صورت نظروں کے آگے گھوم رہی تھی
” میں خود سب اپنے حساب سے ٹھیک کر لوں گا آپ نہیں ساتھ دینا چاہتی مت دیں “
” مما اگر آج میں نے اسے کھو دیا تو ہمیشہ کے لیے کھو دیا یہ وہ واحد رشتہ ہے جو اس دنیا میں بھی ہو گا اور داٸمی دنیا میں بھی اور مجھے اذفرین ہی چاہیے وہاں ۔۔“
علیدان نے سپاٹ لہجے میں کہا اور پھر وہاں رکا نہیں تھا ۔ جبکہ زیب بیگم کچھ سوچتے ہوۓ اس کے جانے کے کچھ دیر بعد ہی کمرے سے باہر نکل گٸ تھیں رخ دلاور ولاز کے گیٹ کی طرف تھا ۔
*********
صندل کے موباٸل کو ہاتھ میں پکڑے ہوۓ سکرین پر نظریں جماۓ وہ مگن سا اپنے کمرے سے ملحقہ ٹیرس پر آیا تھا صندل کے موباٸل میں اذفرین کے نام سے کوٸ فون نمبر محفوظ نہیں کیا گیا تھا ۔ وہ آج پھر جارج کے ساتھ پارک میں نہیں آٸ تھی ۔ وہ اس سے بات کرنے کے لیے بے تاب تھا پر وہ دون دن سے پارک میں نہیں آ رہی تھی ۔
مایوس ہو کر ٹھنڈی سی آہ بھرتے ہوۓ سر اوپر اٹھایا تو ایک طرفہ منظر کو دیکھ کر آنکھیں اور وجود ایک ساتھ ساکن ہو گۓ تھے ۔
بہادر ولاز کے ٹیرس سے ملحقہ کمرے کی روشنی کھڑکیوں اور کھلے دروازے سے چھن کر ٹیرس کو ملگجی سی روشنی میں نہلا رہی تھی اور وہ اس کے خیالوں کی ملکہ ، دل و دماغ کو جکڑ لینے والی ٹیرس کے جنگلے کو تھامے بے آواز آنسو بہا رہی تھی ۔
اس کا یوں گھٹ گھٹ کر رونا جیسے علیدان کے تن بدن کو سلگا گیا تھا ۔ رو وہ رہی تھی پر اس کے گال پر بہتے آنسوٶں کی نمی اور اس کے دل میں سلگتی آگ کا دھواں اس کے آس پاس سے سے ہی کہیں اٹھ رہا تھا دل نے تڑپ کر چاہا کہ اڑ کر اس کے پاس جاۓ اور بازٶں میں بھر کے اس کی ساری تکلفیں سارے دکھ سمیٹ لے علیدان کی طرف کا ٹیرس اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا یہی وجہ تھی اذفرین اسے دیکھ نہیں سکتی تھی ۔
پتہ نہیں کیا طاقت تھی یا کوٸ طلسم تھا جس کے زیرے اثر وہ جلدی جلدی کمرے کے بیرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔ صندل کے کمرے کا دروازہ بجا کر اسے اس کا موباٸل واپس کیا جو اس سے جھوٹ بول کر کسی کال کے بہانے مانگا تھا ۔
اس کو موباٸل پکڑا کر خود گول گھوم کر اوپری چھت کی طرف جاتے زینے کی طرف لپکا ۔ زینے کی دیوار پر لٹکتی چابیوں میں سے وہ دو چابیوں کو جیب میں رکھتے ہوۓ زینے چڑھنے لگا ۔
وہ ایک چابی سے دلاور ولاز کی چھت کے دروازہ کو کھول کر اوپر آ گیا تھا ۔ جیسے جیسے وہ فاصلہ ختم کر رہا تھا دل کے دھڑکنے کی رفتار بڑھ رہی تھی ۔
بہادر ولاز اور دلاور ولاز دونوں الگ الگ گھر تھے پر دونوں گھروں کی چھتوں کے درمیان دیوار نہ رکھ کر اوپر ایک وسیع عریض مشترکہ چھت بناٸ گٸ تھی ۔
چھت کو بہت خوبصورتی سے سجایا گیا تھا ۔ مصنوعی گھاس سے ایک عدد بڑا سا لان تھا جس میں ان گنت کرسیاں تھیں ایک طرف باربی کیو کی خاطر جدید طرز کے چولہے تھے دوسری طرف بڑے بڑے جھولے رکھے گۓ تھے ۔ جوھلوں کے ایک طرف پتھروں سے بناٸ گٸ مصنوٸ آبشار تھی ۔ بہادر ولاز اور دلاور ولاز کی یہ مشترکہ چھت وہ اکثر گھر کی مختلف تقریبات کے لیے استعمال کرتے تھے۔
وہ اب کچھ دور موجود بہادر ولاز کی چھت کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔ بہادر ولاز کی چھت کا دروازہ ایک چابی سے کھولتا دبے پاٶں زینہ نیچے اتر رہا تھا ۔
یہ وہ علیدان دلاور تھا جس کے قریب کھڑی لڑکی اس کی توجہ کے لیے سو جتن کر جاتی تھی پر وہ سرسری سی نظر ڈالنے کا بھی روادار نہیں ہوتا تھا اور آج ایک لڑکی کی آنکھوں سے بہتے آنسو برداشت نہ ہوۓ تھے اور وہ چوری چھپے یوں ان کے گھر گھس جانے کی نا زیبا حرکت کر چکا تھا ۔
زینہ اترتے ہی دوسری منزل پر موجود ایک کمرے کے دروازے کی اٶٹ سے روشنی نظر آ رہی تھی ۔ یہ وہی کمرہ تھا جس سے ملحقہ ٹیرس پر کھڑی اذفرین رو رہی تھی ۔ وہ اب آہستگی سے قدم اٹھاتا ہوا کمرے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
***********
آسمان پر باریک سا چاند تھا جس کی وجہ سے رات زیادہ اندھیری تھی بلکل اس کے اندر پھیلے اندھیرے جیسی گھپ اندھیرا جس سے اپنی بیناٸ پر شک ہونے لگے ۔ آنسو تھے کے تھم نہیں رہے تھے اور زیب بیگم کے کہے ہوۓ الفاظوں کی بازگشت ذہن کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی ۔
پتا نہیں کیوں زندگی کے دکھ کم ہونے کا نام کیوں نہیں لیتے تھے ہر طرف سے آنے والی روشنی کی کرن روٹھ کیوں جاتی ہے ۔
وہ ٹیرس پر اسی لیے نکلی تھی کیونکہ کمرے میں سانس لینا مشکل ہو رہا تھا ۔ ایسا لگ رہا تھا گھٹن سی ہی جو سینے میں بڑھتی ہی جا رہی ہے ۔ زیب نے ہی بتایا کہ علیدان اس سے شادی کے لیے بضد ہے اور یہ شادی ناممکن ہے وہ اذفرین سے التجا کرنے آ پہنچی تھیں کہ وہ علیدان کی اپنی طرف سے ہر امید ختم کر دے وہ علیدان کو راضی کرے کہ وہ اوزگل کے ساتھ شادی کر لے اور کہا وہ اگر تم سے شادی کرے گا تو دو لڑکیوں کے ہنںی خوشی بسنے والے گھر اجڑ جاٸیں گے ۔ کیا تم دو اجڑے ہوۓ گھروں پر اپنا گھر بساٶ گی ؟ ان کے اس سوال نے اسے اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا ۔
ایک طرف جہاں یہ گماں سچ ہوا تھا کہ علیدان اس سے محبت کرتا ہے تو دوسری طرف زیب کی التجا اور آنسوٶں نے دل پسیج کر رکھ دیا تھا ۔
وہ انہیں سوچوں میں گم تھی جب کمرے کے دروازے پر ہلکی سی دستک ہوٸ ۔ دروازے پر وقفے وقفے سے ہلکی سی دستک ہو رہی تھی ۔ وہ حیرت سے گالوں پر سے آنسو صاف کرتی کمرے کی طرف بڑھی ۔
جارج کو تو وہ سلا کر آٸ تھی پھر اس وقت یہ کون تھا ماٸدہ بیگم بھی دواٸیوں کے اثر سے جلدی سو جاتی تھیں ۔ اور ان کا کمرہ تو نیچے تھا ان کا یہاں آنا ممکن نہیں تھا انہیں گھٹنوں کے درد کی وجہ سے زینے چڑھنے میں تکلیف ہوتی تھی ۔
یہ یقیناً جارج ہو گا اٹھ گیا ہو گا وہ الجھی سی دروازے کی طرف بڑھی پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ جارج یوں نیند سے اٹھ جاۓ وہ تو جلدی سونے اور صبح جلدی اٹھ جانے والے بچوں میں سے تھا ۔
دماغ میں الجھتے سے خیالوں کے زیر اثر اس نے جلدی سے کمرے کا دروازہ کھولا اور سامنے کھڑے نفس کو دیکھ کر اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ۔ علیدان دروازے کے بلکل سامنے بے چین سا کھڑا تھا۔ ناٸٹ ٹرایوزر شرٹ میں ملبوس وہ ٹرایوزر کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔
جیسے ہی اذفرین نے دروازہ کھولا لمحہ تھم سا گیا ۔ وہ بھیگی پلکوں اور نم آنکھوں سمیت اس کے سامنے کھڑی اس کے صبر کا امتحاں لے رہی تھی ۔ وہ لڑکی جو رگوں میں خون بن کر بہتی تھی اس کی آنکھ سے آنسو اس کے دل پر گر رہے تھے ۔ ڈھیلے سے سیاہ رنگ کے کرتے میں آنسوٶں سے تر دودھیا چہرہ کمرے کی روشنی میں دل کو میٹھی سی چبھن دیا گیا ۔
ایک پل کے لیے تو اذفرین کو کچھ سمجھ نہیں آیا وہ یہاں ایسے کیسے موجود تھا نہ تو ڈور بل ہوٸ اور نہ دروازہ کھلا تھا وہ ٹیرس پر ہی تھی ۔
”آپ۔۔۔ آپ اس۔۔۔۔ وقت یہاں کیسے “
اذفرین نے گھبرا کر اردگرد دیکھا ۔ ذہن الجھ گیا تھا کیا وہ چوری اس سے ملنے یہاں آ پہنچا تھا پر کہاں سے آیا تھا وہ حیرت اور خوف کے ملے جلے اثرات آنکھوں میں سموۓ علیدان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” چھت سے آیا ہوں کمرے میں چلو“
علیدان نے آواز کو مدھم رکھتے ہوۓ جواب دیا اور خود اس کے پاس سے گزرتا کمرے میں آ کر بیڈ کے پاس کمرے کے وسط میں کھڑا ہوا ۔ وہ جھٹکا کھا کر پلٹی اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی علیدان کے پاس آٸ بال کھلے چھوڑ رکھے تھے جو کندھوں پر آبشار کی مانند گرے تھے ۔ لب خشک تھے جن کو شاٸد روتے ہوۓ کاٹ کاٹ کر سرخ کیا ہوا تھا ۔
” علیدان فوراً جاٸیں یہاں سے پلیز کیوں آۓ ہیں آپ یہاں ؟“
اذفرین کے چہرے پر اڑی ہواٸیاں اس کی پریشانی کا پتہ دے رہی تھیں ۔ خوف سے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔ جبکہ سامنے کھڑے علیدان پر تو جیسے کوٸ اثر نہیں تھا اس سب کا ۔
” تم نے اس دن جھوٹ بولا تھا مجھ سے اس کا ثبوت لے کر آیا ہوں “
علیدان نے لاپرواہی سے لب بھینچے کمرے کاجاٸزہ لیتے ہوۓ کہا ۔ اذفرین اس کی بات پر اور بوکھلا گٸ تھی ۔ کیا چیز تھا وہ اسے کوٸ پرواہ نہیں تھی اوزگل سے کۓ گۓ عہدو پیماں کی میں اگر نا آتی تب بھی تو وہ ہنسی خوشی کرتا نا اس سے شادی ۔
” کون سا جھوٹ کیا بات کر رہےہیں“
” میں نے کوٸ جھوٹ نہیں بولا آپ سے“
” آپ پلیز یہاں سے چلے جاٸیں “
اذفرین نے روہانسے لہجے میں کہتے ہوۓ التجا کی پر وہ اپنے موباٸل کو کھولے کھڑا تھا ۔ اور ہنوز پرسکون سا انداز تھا ۔
” وہ آپ سے بہت پیار کرتی ہے اس لیے مجھ سے بات کرتی رہی “
دانش کی ریکارڈ کی ہوٸ آواز کمرے میں گونجی اور اذفرین ایک دم ساکن ہوٸ ۔ تڑپ کر علیدان کی طرف دیکھا جو معنی خیز مسکراہٹ لبوں پر سجاۓ محبت پاش نظروں سے اسے دیکھنے میں محو تھا ۔
پوری ریکارڈنگ چلنے کے بعد وہ موباٸل کو بند کیے اب سینے پر ہاتھ باندھے کھڑا مسکرا رہا تھا فاتحانہ مسکراہٹ جیت دعاٶں کی قبولیت کی جیت اس کی محبت مل جانے کی جیت ۔ اور اذفرین اسی طرح ساکن کھڑی تھی ۔
”ہاں اب بتاٶ کیا تم نہیں کرتی مجھ سے محبت “
” تم کرتی ہو “
علیدان نے مسکراتے ہوۓ سوال کیا اور اپنے ہی سوال کا جواب خود ہی دیا اذفرین گڑبڑا گٸ ۔ نظریں چرا کر ارد گرد دیکھا ۔ اور پھر گردن کو اکڑایا
”نہیں۔۔۔۔وہ وقتی خمار تھا “
” محبت ہوتی تو اب تک میرے دل میں موجود ہوتی“
” میں نجف سے محبت کرتی ہوں “
” اور اس سے ہی میری شادی ہونے والی ہے “
اذفرین نے پیشانی پر بل ڈالے زبردستی لہجے میں سختی پیدا کی ۔ اس کا یوں دانش سے ثبوت لانا اور آ کر سامنے کھڑے ہو جانا سب کچھ اس کے وہم و گمان سے برعکس تھا ۔
” مل گیا نہ جواب؟“
”اب آپ جاٸیں یہاں سے پلیز “
اذفرین نے بازو کو لمبا کیا نظریں نیچے رکھتے ہوۓ روکھے سے لہجے میں کہا جبکہ دانت ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیے وہ علیدان کو یہ ظاہر کر رہی تھی کہ وہ اسے برادشت کیے ہوۓ ہے بس ۔
”اذفرین کیوں جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی ہو “
”تم کرتی ہو مجھ سے محبت اور بہت کرتی ہو “
علیدان نے آہستگی سے پریقین لہجے میں کہا اذفرین نے ناک پھلا کر اپنی طرف سے تو غصیلی نگاہ اس پر اٹھاٸ تھی پر واللہ۔۔۔۔۔ اس کی آنکھیں کیا کچھ نہیں تھا ان آنکھوں میں محبت کا اک سمندر تھا جو ٹھاٹھیں مار رہا تھا ایک نرم سی تپش تھی جو اس کے وجود کو اتنی دور سے ہی گرما رہی تھی وہ چپ ہو کر بھی چپ نہیں کھڑا تھا اس کی آنکھیں بول رہی تھیں محبت کی شدت کی دہاٸ دے رہی تھیں اذفرین کا نازک سا دل محبت سے بھری آنکھوں میں الجھ کر رہ گیا پیشانی پر پڑے شکن ایسے ڈھیلے پڑے یوں لگا جیسے دل کی دھڑکن کی رفتار تو سامنے کھڑا شخص اپنی آنکھوں سے قابو کۓ ہوۓ ہے ۔ اس سے پہلے کہ وہ ساحر طلسم پھونک کر اسے مجسم بنا دیتا جلدی سے اپنے دل کی حالت پر قابو پا کر پھر سے نظریں جھکا کر پیشانی پر بل ڈالے ۔
” کیا مسٸلہ ہے آپکو آپ کیوں زبردستی مجھ سے یہ اگلوانے پر تلے ہیں کہ مجھے آپ سے محبت ہے“
” مجھے آپ سے نہیں ہے محبت اور نہ کبھی تھی وہ صرف بیوقوفی تھی جو سرزد ہوٸ تھی مجھ سے “
اذفرین نے تلخی سے کہا پر دوسری طرف کوٸ اثر نہیں تھا ۔ اس تلخی کا اس بے رخی کا اس شکن آلودہ پیشانی کا ۔
”تو تمھارے کہنے کا مطلب ہے تم اب نہیں کرتی ہو مجھ سے محبت ہاں“
علیدان نے سنیجیدہ لہجے میں سوال کیا اذفرین نے بے رخی برتتے ہوۓ چہرے کا رخ موڑا ۔
”ہاں پہلے بھی جو کرتی تھی وہ محبت نہیں تھی “
اذفرین نے دو ٹوک لہجے میں جواب دیا جبکہ علیدان پھر سے اپنے موباٸل کو جیب سے نکال چکا تھا ۔ اسے اذفرین کی باتوں پر ایک فیصد بھی یقین نہیں تھا ۔
”اگر میں ثابت کر دوں کہ تم اب بھی مجھ سے محبت کرتی ہو تو ؟“
علیدان نے معنی خیز لہجے میں کہا اذفرین نے الجھ کر مصنوعی بے زاریت ظاہر کی ۔ وہ کیوں نہیں چلا جاتا یہاں سے اگر وہ کچھ دیر اور نا گیا تو میں رو دوں شاٸد اور ساری بے تابیاں اور جداٸ کے وہ لمحے بتا دوں اسے جو کاٹے اس بن میں نے
علیدان نے اپنے موباٸل کو اس کی طرف سیدھا کرتے ہوۓ موباٸل کے ایک طرف لگے کیمرے کا بٹن دبایا اور کیمر کے کلک کی آواز آتے ہی اذفرین کا چہرہ اس کے موباٸل سکرین میں قید ہو گیا ۔
آخر یہ کر کیا رہے ہیں اذفرین الجھ گٸ تھی علیدان نے موباٸل کو پرسکون انداز میں جیب میں رکھا اور سامنے کھڑی اذفرین کی طرف قدم بڑھاۓ ۔
”بولو کرتی ہو مجھ سے محبت ؟“
قدم آہستگی سے اذفرین کی طرف بڑھتے ہوۓ اس کے اور اپنے بیچ کے فاصلے کو ختم کر رہے تھے۔ کیا ۔۔۔ کیا کر رہے ہیں یہ علیدان کا اچانک یوں پاس آنا ناسمجھ تھا ۔
”نہیں کرتی“
اذفرین نے حیرت سے ناسمجھی میں اس کی طرف دیکھا اور سختی سے جواب دیا ۔ وہ لب بھینچ کر سر ہلا گیا ۔
” محبت کرتی ہو مجھ سے ؟“
وہ اب اور قریب آ رہا تھا گہری نظریں اذفرین کے گھبراۓ سے چہرے پر ٹکی تھیں تو لبوں پر شرارتی سی مسکان سجی تھی ۔ اس کو یوں آگے بڑھتا دیکھ کر اذفرین اب قدم قدم پیچھے جانے لگی تھی وہ یہ سب کر کیوں رہا تھا ذہن عجیب کشمکش کا شکار ہو گیا تھا تو دل کی رفتار بڑھنے لگی تھی یوں لگ رہا تھا دل پسلیوں کو توڑ کر باہر نکل آۓ گا ۔
” بولو کرتی ہو مجھ سے محبت؟“
وہ ہنوز اسی سوال کو دہراتا ہوا قریب آ رہا تھا اور اذفرین کا جواب اب بھی وہی تھا ۔ ریڑھ کی ہڈی میں عجیب سا کرنٹ اوپر سے نیچے سفر کرنے لگا تھا ۔ وہ دیوار کے ساتھ لگ چکی تھی ۔
علیدان نے اذفرین کے دونوں اطراف سے بازو سیدھے کر کے دیوار پر رکھے اسے مقید کیا وہ جیسے ڈھنے جیسے انداز میں سانس روک چکی تھی ۔ دل جھولا ڈالے زور زور سے اوپر نیچے جھولنے لگا ۔ پلکیں گالوں پر لرزنے لگی تھیں ۔ علیدان نے چہرہ اس کے چہرے کے قریب کیا ۔ گرم سی سانسیں اس کی چہرے پر پڑی تو اذفرین نے تڑپ کر آنکھوں کو بھینچ ڈالا ۔ علیدان کی شرٹ سے اٹھتی سوندھی سی مہک ناک کے نتھنوں سے گھس کر دل کو اتھل پتھل کر گٸ تھی۔
” بولو کرتی ہو مجھ سے محبت ؟“
خمار آلودہ سی سرگوشی تھی اذفرین کے سانس لینے کا دورانیہ بڑھ چک تھا ۔ کتنی دلکش لگ رہی تھی وہ یوں اس کی قربت کی تپش سے تڑپتی ہوٸ سارے جسم کا خون جیسے گالوں میں آ گیا تھا۔
”ن۔۔۔ہ۔۔۔یں نہیں “
بمشکل مدھم سی سرگوشی نما آواز ابھری ۔ دماغ مفلوج ہو چکا تھا اس وقت اگر کچھ تھا تو علیدان کی سانسوں کی گرمی سے پگھلتا ہوا دل تھا وہ جس کو دن رات خیالوں میں پیار کیا وہ آج سچ میں اس کے اتنا قریب تھا دماغ کیسے نا ہوش کھو دیتا دل کیسے نا جھولا ڈالتا سانس کیسے نا تھم جاتی ۔
ایسا لگ رہا تھا سر اس کے سینے سے پر ڈھلک جاۓ گا بازو خود بخود اس کی کمر کو بھینچ لیں گے اور ضبط کیے ہوۓ آنسو اس کی شرٹ بھیگو دیں گے ۔
اذفرین کی حالت پر اب ترس آنے لگا تھا دل تو تھا کہ اس کی غیر ہوتی حالت کو اپنے بازوٶں میں بھر کر تسکین دے دے پر نہیں ابھی نہیں اذفرین ۔ مسکراتے ہوۓ تھوڑا سا پیچھے ہوا اپنے موباٸل کو جیب سے نکالا اس کے چہرے کے قریب کیا اور اس کی پھر سے تصویر بناٸ ۔
وہ پیچھے ہوا تو اذفرین کا جیسے سانس بحال ہوا بھیگتی ہتھیلوں سے جلدی سے پیشانی پر آۓ پسینے کو صاف کیا جبکہ نظریں ابھی بھی جھکی تھیں ۔ پلکیں اب بھی ہلکی سی کپکپی کا شکار تھیں
علیدان نے پہلی تصویر اور اب کی تصویر کو جوڑ کر ایک تصویر بنایا اور موباٸل سکرین اذفرین کے سامنے کر دی ۔
”تم اب بھی مجھ سے محبت کرتی ہو شدید محبت جتنی میں کرتا ہوں اس سے بھی کہیں زیادہ میرے پاس آنے سے پہلے اور بعد کی تصویر دیکھو ذرا ، اپنی حالت دیکھو اب کیسے جھٹلاٶ گی اس بات کو کہ تمہیں مجھ سے محبت ہے “
علیدان نے موباٸل اس کی آنکھوں کے سامنے کیۓ معنی خیز انداز میں سوال کیا ۔ وہ حیرت سے تصویر میں اپنے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔
دل کیا آگے بڑھے لپٹے اس سے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے ہوۓ کہے ہاں ہاں کرتی ہوں بہت بہت کرتی ہوں نہیں رہ سکتی نہیں جی سکتی ان نو دنوں کو روز جیتی ہوں اور صبح اٹھ کر روز دلدل میں دھنسا کر خود کو مار دیتی ہوں اگلی رات پھر سے بس میں سوار ہو جاتی ہوں ۔
پر نہیں اذفرین خلیل خود غرض نہیں تھی ۔ کبھی بھی نہیں تھی تھوک نگل کر سر اوپر اٹھایا۔
”ہاں ۔۔۔۔ ہاں کرتی ہوں “
وہ پھٹ پڑی تھی آنکھیں کھولے علیدان پر چیخ پڑی تھی ۔ علیدان نے حیرت سے اس کے لرزتے وجود کو دیکھا ۔
” پر آپ نہیں کرتے محبت تو کیوں میرا سر کھا رہے ہیں یہاں کھڑے ہو کر میرے پیار کرنے سے یا نا کرنے سے کیا ہوگا “
وہ رو دی تھی آواز کو دھیما رکھے پر وہ اس پر غرا رہی تھی پیشانی پر بل تھے تو گال آنسوٶں سے تر تھے ۔
” کس نے کہا تمہیں پاگل لڑکی کہ میں نہیں کرتا محبت ، میں بھی تم سے محبت کرتا ہوں بہت محبت کرتا ہوں “
علیدان تڑپ کر آگے ہوا پر اذفرین نے لب بھینچ کر کچھ اس طرح سے ہاتھ کو درمیان میں حاٸل کیا وہ ٹھٹھک کر رُکا ۔ اذفرین کے چہرے پر عجیب سی سختی تھی ۔
”مجھے نہیں یقین کہ آپ کرتے ہیں مجھ سے پیار “
اذفرین نے روکھے سے لہجے میں کہتے ہوۓ بے رخی سے نظریں سامنے دیوار پر مرکوز کیں ۔ علیدان نے افسوس سے ہاتھ ہوا میں اٹھاۓ پھر کمر پر دھرے
”کیسے یقین دلاٶں بولو “
گہری سانس لی اور ملاٸم سے لہجے میں پوچھتا ہوا تھوڑا سا آگے بڑھا اذفرین نے بھیگی سی پلکیں اٹھاٸیں ۔
ضرب لگی دل پر زور کی ضرب پلکیں کیا اٹھی تھیں سرخ آنکھوں نے دل پر کاری ضرب لگا دی تھی وہ تڑپ گیا ۔
”اوزگل سے شادی کر کے “
آواز بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ۔ وہ جو آگے بڑھ کر اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں تھام لینے والے تھا ۔ اس کی بات پر آبرو چڑھاۓ ۔
”وٹ ۔۔۔۔۔تمھارا دماغ درست ہے تمہیں پیار کا یقین دلانے کے لیے میں اوزگل سے شادی کروں ؟ “
علیدان نے حیرت سے سوال کیا اور ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھا
”ہاں مجھے نہیں یقین کہ آپ پیار کرتے ہیں مجھ سے اگر یقین دلانا چاہتے ہیں تو اوزگل سے شادی کر لیں مجھے یقین آ جاۓ گا “
اذفرین نے سپاٹ لہجہ اپناتے ہوۓ کہا علیدان حیران سا کھڑا تھا اس کی عجیب سی فرماٸیش پر ۔ جبکہ وہ خود پر پوری طرح قابو پا چکی تھی ۔
” اب جاٸیں پلیز “
اذفرین نے بے رخی سے رخ موڑا ۔ پر وہ اسی طرح بے یقین سا کھڑا تھا ۔
” آپ نے تو جانا نہیں میں ہی جا رہی ہوں اس کمرے سے “
اذفرین نے سختی سے کہا اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گٸ اور پھر رکی یا پلٹ نہیں تھی بلکہ زینہ اترتی ماٸدہ بیگم کے کمرے کے پاس ہی آ کر رکی تھی۔
اور پھر نیچے بیٹھ کر ہاتھوں میں منہ دیے بے بسی سے رو دی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: