Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 24

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 24

–**–**–

میر ٹیکسٹاٸل کے شاندار آفس میں وہ میز پر پڑی فاٸل پر جھکا تھا ۔ کوٹ اتار کر ایک طرف ہینگ کیا ہوا تھا ۔ خود مسٹرڈ شرٹ پر میرون ٹاٸ لگاۓ بال سلیقے سے بناۓ بظاہر مصروف بیٹھا تھا ۔
۔ رات ساری رات اذفرین کی باتوں کے بارے میں سوچ سوچ کر نیند نہیں آٸ تھی سر بھاری ہو رہا تھا وہ اسی وجہ سے آج آفس بہت دیر سے پہنچا تھا ۔ ابھی بھی بنا مقصد فاٸل کو سٹڈی کر رہا تھا جبکہ ذہن تو انگنت خیالوں میں جکڑا ہوا تھا۔
موباٸل پر مسیج بیپ کی آواز پر علیدان نے کرسی کو گھماتے ہوۓ نظر میز پر پڑے موباٸل سکرین پر ڈالی گل کے نام کو دیکھ کر حیرت ہوٸ آج سے پہلے کبھی اس کے نمبر سے پیغام نہیں آیا تھا ۔
یہ حیرت اور تجسس ہی تھا جس کی وجہ سے اس نے سامنے پڑی فاٸل سے فوری نظر ہٹا کر فوراً موباٸل اٹھایا
پیغام کو کھول کر موباٸل سکرین کو نظروں کے سامنے کیا جبکہ کرسی دھیرے دھیرے جھول رہی تھی ۔
”مجھے آپ سے بات کرنی ہے “
گل کا پیغام بہت مختصر تھا ۔ علیدان نے تھورڈی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ آنکھوں کو سکیڑ کر پیغام کو دیکھا ۔ کتنی عجیب بات تھی وہ رات بھر یہی سوچتے ہوۓ گزار چکا تھا کہ اسے کیسے اوزگل سے اپنے اور اذفرین کے لیے بات کرنی ہے اس سے پہلے کہ وہ اس سے بات کرتا اس کا خود پیغام آ چکا تھا ۔
”ہاں ٹھیک ہے مجھے بھی تم سے بہت ضروری بات کرنی ہے گھر آتا ہوں آج شام جلدی تم چھ بجے چھت پر آ جانا “
واپسی پیغام وہ بہت سوچ سمجھ کر ٹاٸپ کر چکا تھا ۔ وہ اوزگل سے تفصیلی بات کرنا چاہتا تھا اور اس کے لیے پرسکون جگہ کا ہونا بہت ضروری تھا یہی وجہ تھی وہ اس سے شام کو چھت پر آنے کا کہہ چکا تھا ۔
موباٸل کو ایک طرف رکھے دونوں ہاتھوں کو آپس میں جوڑے ہونٹوں پر پرسوچ انداز میں رکھا۔ اوزگل کو مجھ سے کیا بات کرنی ہو گی۔ اسے کیسے بتاٶں گا میں یہ سب وہ اچھی ہے سمجھ جاۓ گی ساری بات میں اسے جنگل کے سب واقعات بتاٶں گا کہ کیوں مجھے ایسا لگتا ہے کہ اذفرین ہی وہ واحد لڑکی ہے جو میری شریک حیات بن سکتی ہے ۔
نظریں سامنے غیر مرٸ نقطے پر جماۓ وہ اپنی سوچوں میں گم بیٹھا تھا ۔
**********
”کیا کہہ رہی ہو یہ ۔۔۔“
ادیان کی پریشان کن آواز فون میں سے ابھری ۔ صندل فون کان سے لگاۓ حواس باختہ بیٹھی تھی ۔ جو بھی ادیان کو بتایا تھا ادیان کی بے یقینی غلط نہیں تھی ۔
”جو بھی کہہ رہی ہوں بلکل ٹھیک کہہ رہی ہوں وہ اتنی خوش ہے کہ پوچھو مت علیدان بھاٸ نے اسے خود چھت پر بلایا ہے “
صندل نے پریشان لہجے میں کہا ۔ وہ اوزگل کے کمرے میں گٸ تو وہ سنگہار میز کے سامنے بیٹھی تیار ہو رہی تھی ۔ اس کے پوچھنے پر اس نے خوش ہوتے ہوۓ ساری بابت کہہ ڈالی کہ علیدان نے چھت پر اس کو بلایا ہے وہ اس سے کوٸ بات کرنا چاہتا ہے ۔
اوزگل کی بات سن کر صندل کو ادیان کی فکر پڑ گٸ تھی ۔ اگر اوزگل نے ایمیل کے مطعلق کوٸ بھی بات کی تو پتہ نہیں کیا ہو جاۓ گا ۔
” آپ کو میں کہتی تھی بھاٸ کہ مت کرو یہ سب جو آپ کرتے پھر رہے ہو غلط ہے یہ سب اب آپ کو کیا لگتا ہے کہ وہ علٕیدان بھاٸ سے چیٹ کے حوالے سے کوٸ بات نہیں کرے گی ؟“
صندل کے لہجے میں پریشانی کے ساتھ ساتھ سختی بھی موجود تھی ۔ اور اس کی اس بات نے دوسری طرف اور پریشانی بڑھا دی تھی ۔
”یار ڈانٹنا بند کرو میں بس نکل رہا ہوں تم ملاقات روکو کسی طرح سے بھاٸ اور اوز کی “
ادیان کی آواز خوف اور پریشانی لیے ہوۓ تھی ۔ صندل نے گہری سانس لی ۔
” تم جلدی پہنچو تمہیں علیدان بھاٸ کا پتا ہے وہ جھاڑ کر بھی رکھ دیتے ہیں بعض اوقات میں جتنی مدد کر سکتی تھی تمھاری میں نے کر دی ہے “
صندل نے پیشانی پر بل ڈالے اس کی ہر طرح کی مدد سے انکار کر دیا تھا ۔ وہ اس سے زیادہ مدد کر بھی کیا سکتی تھی اگر کرتی بھی تو اوزگل اس کو عجیب بھی سمجھ سکتی تھی کہ وہ یوں اس کے اور علیدان کی ملاقات پر ردعمل کیوں ظاہر کر رہی تھی ۔
” میں اب فون رکھ رہی ہوں “
غصے سے کہتے ہوۓ فون بند کیا اور گھڑی کی طرف دیکھا شام کے ساڑھے پانچ ہو رہے تھے ۔
اے اللہ تو سب کچھ سنبھال سکتا ہے کچھ برا نہ ہو بس نہ تو ادیان کا مقصد برا تھا اور نہ ہی اوزگل کی غلطی ہے اس میں ۔
وہ دعا مانگ رہی تھی ۔اور ادیان کی مدد لے کے لیے دعا ہی مانگ سکتی تھی وہ ۔
***********
جھولے پر بیٹھی وہ مسکرا رہی تھی سب کچھ اتنا اچھا لگ رہا تھا آج علیدان اس سے بات کرنے جا رہا تھا ۔ اب تو شادی کو بھی چند ماہ رہ گۓ تھے وہ انہی خیالوں میں محو دھیرے سے جھولا ہلا رہی تھی جب چھت کے دروازے پر آ کر علیدان کھڑا ہوا ۔ آفس والے کپڑے پہن رکھے تھے پر کوٹ اور ٹاٸ شاٸد وہ نیچے ہی رکھ آیا تھا ۔
وہ چھ بجنے سے پہلے ہی چھت پر آ چکی تھی ۔ آتے ہی بڑے حق سے علیدان کو پیغام بھی بھیج دیا کہ وہ چھت پر موجود ہے اس کا انتظار ہے بس ۔ اور ابھی کچھ دیر ہی گزری تھی جب علیدان اوپر آیا۔
اوزگل نے محبت بھری بھرپور نظر علیدان پر ڈالی پر عجیب سا احساس ہوا وہ الجھا سا بکھرا سا تھا چہرہ مضطرب تھا ۔ پہلی ملاقات جیسی خوشی اس کے چہرے پر کہیں نہیں تھی ۔ ویسی خوشی جیسی اس کے انگ انگ سے پھوٹ رہی تھی ۔
علیدان نے پر سوچ نگاہوں سے اوزگل کی طرف دیکھا اوزگل سامنے اس کی سوچ سے بھی زیادہ خوش بیٹھی تھی ۔ اس کی تیاری اس کی مسکراہٹ اس کا دیکھنا سب اس کے دلی جذبات کی عکاسی کر رہا تھا ۔ اوہ خدایا یہ کیسی آزماٸش تھی گل اس سے محبت کرتی تھی شاٸد ۔
جو بھی تھا لیکن دلوں کا ٹوٹنا تو طے تھا ایسے ایک اوزگل کا دل ٹوٹتا تھا ویسے دو دل ٹوٹتے تھے ۔ وہ پر سوچ انداز میں لفظوں کو ترتیب دیتا آگے بڑھ رہا تھا ۔ اس کو دیکھ کر اوزگل اب جھولے پر سے اٹھ کر کھڑی ہو چکی تھی ۔ لبوں پر میٹھی سی مسکراہٹ سجاۓ وہ لجاٸ سی تھی۔
” بیٹھو کھڑی کیوں ہو گٸ ہو “
علیدان نے جیب سے ہاتھ نکال کر پھر سے جھولے کی طرف اشارہ کیا آواز دھیمی تھی ۔ اوزگل ایک نظر ڈالنے کے بعد سر جھکا چکی تھی ۔
” جی ۔۔۔“
اوزگل آہستگی سے کہتی ہوٸ واپس جھولے پر براجمان ہوٸ ۔ علیدان بھی ایک طرف سر جھکا کر بیٹھ چکا تھا ۔ دونوں خاموش بیٹھے تھے اوزگل تو شرما رہی تھی پر علیدان پریشان حال بیٹھا تھا اس سے بات کرنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔
”گل مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں تم سے کس طرح بات شروع کروں “
علیدان نے کہنیوں کو گھٹنوں پر ٹکاۓ ہاتھوں کو ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیے سر جھکا کر کہا ۔ وہ کچھ دیر خاموشی کے بعد بات شروع کر پایا تھا ۔
اوزگل سر جھکاۓ دھیرے سے مسکراٸ تھی ۔ وہ ہم تن گوش تھی۔ علیدان کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔
” بھاٸ ۔۔۔۔“
ادیان کی حواس باختہ آواز پر دونوں نے ایک ساتھ سر اوپر اٹھایا تھا وہ چھت کے دروازے کے بیچ پریشان حال سا کھڑا تھا سانس بری طرح چڑھا ہوا تھا ۔ ایک ہاتھ سے دروازہ تھام رکھا تھا اور دوسرا ہاتھ دل پر رکھے وہ سانس بحال کر رہا تھا ۔
” کیا ہوا ادیان خیریت ۔۔۔“
علیدان نے اس کے یوں پکارنے پر بھنویں اچکا کر پریشانی سے سوال کیا ۔
” بھاٸ ۔۔ بھاٸ وہ صندل نیچے گر گٸ ہے پاٶں پر چوٹ آٸ تھی شاٸد ، رو رہی ہے دیکھیں ذرا کیا ہو گیا ہے مما بلا رہی ہیں آپکو “
ادیان نے خجل ہوتے ہوۓ جھوٹ بولا صندل اس جھوٹ میں پورا ساتھ دے رہی تھی ۔ وہ نیچے جھوٹی چوٹ کا بہانہ کیے واویلا مچاۓ ہوٸ تھی۔
” کیا ہوا اسے؟ “
علیدان ایک دم سے پریشان ہو کر اٹھا اوزگل بھی پریشان سا چہرہ لیے ساتھ ہی اٹھی تھی ۔
”بھاٸ دیکھیں ذرا جا کر مما کہہ رہی ہیں گاڑی نکالیں “
ادیان نے چور سی نظر اوزگل پر ڈالی شکر ہے وہ سہی ٹاٸم پر پہنچ گیا تھا۔ دونوں کے رویے سے لگ رہا تھا بات ابھی شروع ہی ہوٸ تھی ۔
”اچھا ۔۔ گل میں پھر بات کرتا ہوں تم سے “
علیدان نے عجلت میں کہا اور تیز تیز قدم دروازے کی طرف بڑھاۓ اوزگل اس کے پیچھے تھی ۔ اس سے پہلے کے وہ علیدان کے پیچھے ہی چھت کا زینہ نیچے اتر جاتی ادیان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
وہ اس اچانک حملے پر بوکھلا سی گٸ بمشکل ادیان سے ٹکراتے ہوۓ بچی حیرت سے سوالیہ نظریں ادیان پر اٹھیں جو رونے جیسی صورت بناۓ اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ علیدان نیچے جا چکا تھا ۔
” اوز ۔۔۔ مجھے معاف کر دو “
اس سے پہلے کہ اوزگل کچھ پوچھتی ادیان کی التجا نے اسے اور حیرت میں مبتلا کر دیا ۔
” اوز میں ۔۔۔ میں نے بہت غلط کیا بہت زیادہ “
ادیان نے سر جھکاۓ سر کو نفی میں ہلاتے رندھی سی آواز میں کہا ۔ جبکہ وہ اُسی طرح ناسمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی وہ کیا کہہ رہا تھا کیوں کہہ رہا تھا سب کچھ سمجھ سے باہر تھا ۔
” ہوا کیا ہے ادیان کس بات کی معافی مانگ رہے ہو تم ؟ “
اوزگل نے پیشانی پر تجسس کی لکیریں ڈالے سوال کیا ۔ ادیان نے ندامت سے جھکا سر اٹھایا ۔ آنکھیں بھی ندامت لیے ہوٸ تھیں ۔
”اوز ۔۔۔ وہ جو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایمیلز تمہیں آتی تھیں منگنی سے پہلے بھی اور اب بھی وہ۔۔۔۔۔۔ علیدان بھاٸ نہیں میں بھیجتا تھا “
ایک بمب ہی تھا جو اوزگل کے سر پر وہ کھڑا پھوڑ رہا تھا ۔ اوزگل تو جیسے سکتے میں آ گٸ تھی ۔ وہ جو غور سے اس کی بات سننے میں محو تھی اس بات پر تھم گٸ تھی ۔
” ہاں اوز ۔۔۔علیدان بھاٸ ان ایمیلز اور چیٹ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔۔۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں “
ادیان پھر سے سر جھکا چکا تھا ۔ پر سامنے کھڑے نفس کو تو گہری کھاٸ میں دھکیل چکا تھا ۔ کیا کہہ رہا تھا وہ سارے خواب سب کچھ چکنا چور ہو گیا تھا ۔ اتنا بڑا دھوکا دل کیا زمین پھٹے اور وہ اس میں سما جاۓ ۔
”اوز ۔۔۔ مجھے معاف کر دو پلیز میں ۔۔۔ میں تمہھیں خوش دیکھنا چاہتا تھا بہت خوش بس اسی وجہ سے علیدان بھاٸ بن کر تم سے بات کرتا رہا “
وہ بولے جا رہا تھا پر اوزگل تو جیسے ریت کے ٹیلے کی طرح ڈھنے لگی تھی ۔ دل کیا اپنے سامنے کھڑے ادیان کا منہ تھپڑوں سے لال کر دے ۔
” اوز ۔۔۔۔۔ علیدان بھاٸ سے اس بات کا ذکر مت کرنا کبھی بھی میں نہیں چاہتا کہ تم دونوں کے رشتے میں کوٸ بھی بدمزگی پیدا ہو “
ادیان نے شرمندہ سی آواز میں کہا اور سر اوپر اٹھایا اوزگل کا چہرہ سرخ تھا ۔ تزلیل کا احساس تھا ۔ مغرب کی اذان کی آواز پر وہ جیسے سکتے سے واپس آٸ ایک خونخوار نظر سامنے کھڑے ادیان پر ڈالی ادیان نے فوراً نظریں جھکاٸیں ۔
دل پھٹ رہا تھا ساری کی ہوٸ باتیں سب احساس سب کچھ زمین بوس تھا ۔
تیزی سے زینے کی طرف بھاگی ۔ ادیان یوں ہی کھڑا تھا بے حال مجرموں کی طرح ۔۔۔
************
” علیدان مجھے بات کرنی ہے تم سے “
زیب بیگم نے صندل کے کمرے سے علیدان کے ساتھ باہر نکلتے ہوۓ علیدان کی طرف دیکھ کر کہا ۔ صندل کو معمولی چوٹ آٸ تھی ڈاکٹر نے پٹی کر دی تھی علیدان اور زیب بیگم اب اسے کمرے میں لیٹا کر باہر نکلے تھے ۔
” جی کیا بات ہے ؟“
علیدان نے سوالیہ نظر اٹھاۓ مودب لہجہ اپنایا ۔ وہ غور سے جانچتی نظروں سے علیدان کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔ کیا اذفرین نے علیدان سے اب تک کوٸ بات کی ہو گی یا نہیں ۔
” میرے کمرے میں چلو “
زیب بیگم آہستگی سے کہتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھیں تو علیدان بھی ساتھ ہو لیا ۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی انہوں نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ بات شروع کی
” علیدان میں نے اذفرین سے بات کی ہے بیٹا ۔۔۔۔۔وہ تو تم سے محبت نہیں کرتی “
زیب بیگم نے محبت سے علیدان کے کندھے پر ہاتھ پھیرا اور اپنی طرف سے علیدان کی بہت بڑی غلط فہمی دور کی ۔ علیدان نے چونک کر ان کی طرف دیکھا اور پھر کچھ سوچ کر گہری سانس لی ۔
تو اس دن اذفرین کی فرماٸش کے پیچھے یہ کہانی تھی کڑیاں مل گٸ تھیں ۔ علیدان نے بس خاموشی سے ان کی طرف دیکھا دل جان گیا تھا یہ سارا معاملا اب اسطرح سلجھنے والا نہیں تھا ۔
زیب بیگم پتا نہیں کیا کیا نصحتیں کر رہی تھیں کیا کیا واسطے دے رہی تھیں ، پر وہ ٹھان چکا تھا اسے کیا کرنا ہے ۔
*********
جارج کو سلا کر وہ تھکے سے انداز میں آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی کمرے میں آٸ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوٸ بمشکل خود کو سنبھالا علیدان بڑے آرام سے کمرے میں موجود رینک میں رکھی کتابیں دیکھ رہا تھا ۔
اس کو یوں آج پانچ دن بعد پھر سے کمرے میں دیکھ کر دل حلق میں آ گیا تھا ۔ اذفرین نے فوراً دل کی حالت کو سنبھال کر چہرے پر سختی کو سجایا ۔ کیوں بار بار میرے سامنے آ کر مجھے اور تکلیف دے رہے ہیں ۔ اللہ کیا چاہتا ہے تو ۔۔۔
علیدان نے قدموں کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا وہ سامنے کھڑی تھی چہرے پر مصنوعی سختی سجاۓ غصے سے اسے گھورتی ہوٸ علیدان بے ساختہ مسکرا دیا ۔
وہ بہت کمزور اور پژمردہ دکھاٸ دے رہی تھی ۔ علیدان کے دل میں اس کی اس حالت کو دیکھ کر تکلیف ہوٸ ۔ وہ اس کو اور اپنے آپکو تکلیف دیے ہوۓ تھی ۔
” علیدان یہ ۔۔۔ یہ کیسا مزاق ہے میں نے اس دن آپ کو اپنا جواب دے دیا تھا پھر آج کیوں آۓ آپ یہاں پھر سے “
اذفرین نے دانت پیستے ہوۓ ناک پھلا کر کہا وہ چند قدم آگے آ چکی تھی ۔علیدان کی مسکراہٹ آج عجیب سی تھی جسے سمجھنے سے قاصر تھی ۔
” نہیں۔۔۔۔ میں نے بہت سوچا تمھاری بات پر یقین مانو تین دن سے سوچ ہی رہا تھا “
علیدان نے کان کھجاتے ہوۓ سنجیدہ لہجے میں جواب دیا ۔ جبکہ وہ مسکراہٹ دبا رہا تھا مطلب یہ سنجیدگی مصنوعی تھی ۔ اذفرین پارک میں آنا چھوڑ چکی تھی فون وہ استعمال نہیں کرتی تھی علیدان سے بات کے سارے رابطے ختم کر چکی تھی بچا تھا تو صرف یہ ایک راستہ ۔ جو اب وہ دوسری دفعہ اپنا چکا تھا ۔
”پر ایک بات میری سمجھ سے باہر ہے وہ یہ ۔۔۔۔ کہ محبت تم سے کروں اور ثابت کرنے کے لیے شادی اوزگل سے کروں عجیب بات نہیں ہے کیا یہ ؟ “
علیدان نے مصنوعی حیرت چہرے پر سجاۓ کہا ۔ اذفرین نے سینے پر ہاتھ باندھے چہرے کا رخ دوسری طرف موڑا مبادہ وہ اسے کمزور کر دے ۔
” کچھ عجیب نہیں ہے ۔۔۔ بس مجھے یقین کے لیے یہی ثبوت چاہیے “
اذفرین کا لہجہ دو ٹوک تھا وہ اب علیدان کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔ علیدان کو جب سے پتہ چلا تھا وہ یہ سب زیب بیگم کے اسرار پر کر رہی ہے دل نے ٹھان لیا تھا وہ اب اور کسی کے بارے میں نہیں سوچے گا محبت کی انتہا انسان کو خود غرض بنا دیتی ہے اور بعض اوقات یہی خود غرضی جو صرف لوگوں کو وقتی خود غرضی لگ رہی ہوتی ہے آنے والی بہت سی زندگیوں کو تباہی سے بچا لیتی ہے ۔
” پر مجھے تو یہ ہر گز منظور نہیں ہے ، میرے مطابق جس سے محبت کی جاۓ ثابت کرنے کو اس سے ہی نکاح کیا جاتا ہے “
علیدان نے کندھے اچکاۓ اور اس کی بات کی نفی کی اس کے انداز میں ڈھٹاٸ تھی ۔ سکون سے دو تین قدم آگے بڑھاۓ ۔
” نہیں بلکل نہیں مجھے ایسا ثبوت نہیں چاہیے علیدان پلیز کیوں سب کی زندگیاں مشکل میں ڈال رہے ہیں آپ جاٸیں یہاں سے میں پہلے ہی بہت دکھ اٹھا چکی ہوں اور نہیں اٹھانا چاہتی “
اذفرین نے ہاتھ جوڑ کر التجا کی آواز آنسوٶں کا گولا گلے میں اٹکنے کی وجہ سے بھاری ہو گٸ تھی ۔
” یہی ۔۔۔۔۔ سارے دکھ درد ختم کرنا چاہتا ہوں میں سب سنبھال لوں گا تم بس سعد بھاٸ کا نمبر یا آسٹریلیا کا پتہ دو مجھے “
علیدان نے ملاٸم سے لہجے میں سمجھانے جیسا انداز اپنایا۔
” نہ۔۔۔نہیں بلکل نہیں ۔۔۔ اس سے میری زندگی اور مشکل ہو جاۓ گی پہلے ہی میں بہت بدنام ہوں “
اذفرین نے روہانسے لہجے میں کہا آواز غم و غصے سے کانپ رہی تھی ۔
” اذفرین مجھے ایسا نہیں لگتا میں جب سعد بھاٸ سے بات کروں گا وہ یقیناً خوش ہوں گے کون سا بھاٸ ہے جو یہ چاہتا ہو اس کی بہن کی شادی ایک چار سال کے بچے کے باپ سے ہو “
علیدان اب بازو ہوا میں اٹھاتا ہوا اسے اپنی بات سمجھا رہا تھا ۔ اسے اب کسی کی کوٸ پرواہ نہیں تھی وہ میر دلاور کا بھی سامنا کرنے ان سے بات کرنے کے بارے میں سوچ چکا تھا ۔
” نہیں آپ کچھ نہیں جانتے آپ پلیز اپنی اس سو کالڈ محبت کو لے کر جاٸیں یہاں سے اگر نہیں جاٸیں گے تو میں بلاتی ہوں ابھی گارڈ کو نیچے سے “
اذفرین نے سخت لہجے میں کہا اور قدم ٹیرس کی طرف بڑھاۓ ۔ پر علیدان ہنوز ویسے ہی کھڑا تھا جانتا تھا وہ ایسا کچھ بھی نہیں کرے گی ۔ اذفرین نے زور سے پاٶں پٹخا ۔
وہ جتنا بھی چھپا لے وہ اس کے دل کے اندر موجود بے پناہ محبت کو بھانپ گیا تھا ۔
” ٹھیک ہے پھر میں ہی چلی جاتی ہوں اس دن کی طرح“
اذفرین نے قدم آگے بڑھاۓ ۔ لہجہ سخت تھا چہرہ سپاٹ
”رکو جا رہا ہوں “
علیدان نے ہاتھ کا اشارہ کیا اور خاموشی سے قدم آگے بڑھاۓ وہ سر جھکاۓ ہوۓ تھا ۔
” اب کبھی نہیں آٶں گا ریکوسیٹ کرنے “
علیدان نے اسی طرح سر جھکا ۓ مدھم سی آواز میں کہا ۔ اور پھر تیز تیز قدم اٹھاتا آگے بڑھا ۔ اذفرین نے جلدی سے کمرے کو بند کیا اور دروازے کے ساتھ سر ٹکا کر آسمان کی طرف دیکھا ۔
************
”رکو کیا کر رہے ہو“
علیدان نے کچن میں موجود واصف کی طرف دیکھ کر کہا ۔ وہ چولہے کے آگے کھڑا تھا ۔
”سر گارڈ کی چاۓ بنا رہا ہوں “
واصف نے مودب لہجے میں کہا ۔ علیدان پر سوچ لہجے میں ارد گرد دیکھتا ہوا قریب آیا ۔
” ہممم ایسا کرو مجھے کافی بنا دو پہلے “
علیدان نے گردن پر تھکاوٹ کے انداز میں ہاتھ رکھتے ہوۓ کہا وہ اب چولہے کے پاس کھڑا تھا ۔
” جی سر “
واصف نے گردن کو ہلایا اور چولہے کو چھوڑ کر آگے بڑھا وہ جیسے ہی چولہے سے دور ہوا علیدان نے تین ٹیبلیٹ چاۓ میں پھینک دیں ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: