Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 25

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 25

–**–**–

واصف اب علیدان کے لیے کافی تیار کر رہا تھا وہ اب چولہے سے دور کچن میں لگے چھوٹے سے کھانے کے میز پر مگن سے انداز میں بیٹھ کر موباٸل دیکھنے لگا تھا ۔ رات کے دس بج رہے تھے ۔
دلاور ولاز میں آج معمول سے برعکس خاموشی کا راج تھا۔اوزگل دو دن سے طبیعت کی خرابی کا بہانہ کیے اپنے ساتھ ہو جانے والے اس عجیب و غریب کھیل پر نالاں کمرے میں بند تھی ۔ صندل کے پاٶں پر چوٹ نہ ہونے کے باوجود وہ دکھاوے کے طور پر کمرے میں بند تھی ۔ ادیان ندامت میں ڈوبا بہت کم کمرے سے باہر نکل رہا تھا ۔ اور میر دلاور کی علیدان سے بہت بری جھڑپ ہوٸ تھی وجہ علیدان کا اوزگل سے شادی سے انکار اور اذفرین سے شادی کی خواہش تھی ۔ اس لیے میر دلاور اور زیب بیگم اس سے باقاعدہ ناراضگی کا اظہار کرتے ہوۓ بات چیت بند کیے ہوۓ تھے ۔
واصف اب کافی کا مگ علیدان کے سامنے رکھ چکا تھا ۔ علیدان کافی کی جھاگ پر نظریں مرکوز کیے بیٹھا تھا۔ اس نے زندگی میں ہر ہر قدم اپنے باپ کی مرضی پر اٹھایا تھا ۔ وہ ان کا بڑا بیٹا تھا اور ان کی ہر طرح کی سختی کا سامنا اس نے ہی کیا تھا
ایک اگر پڑھنے کے لیے وہ اپنی خواہش پر آسٹریلیا گیا ہی تھا وہ بھی اس حادثے کی وجہ سے ادھوری چھوڑ دی تھی اس نے اور اب یہ اس کی زندگی کا بہت اہم فیصلہ تھا جس میں وہ ایک ایسی لڑکی کو اپنی زندگی میں لانا چاہتا تھا جسے دل نے نہیں روح نے چاہا تھا دن رات اس کو یاد کیا اسے مانگا تھا ۔ اور یہاں وہ اپنے والد کی یتیم بھتیجی کی محبت پر اوزگل کو ساری عمر کے لیے زبردستی اپنی زندگی میں شامل کرنے پر تیار نہیں تھا ۔
علیدان دلاور اپنی پوری زندگی میں دوسری دفعہ یوں صرف اور صرف اپنے لیے خود غرض ہو تھا۔ اور آج بھی وہ ہر طرف سے مایوس ہونے کے بعد اپنی خود غرضی کی انتہا کو چھونے والا تھا ۔
واصف دو کپوں میں چاۓ انڈیل رہا تھا ۔ ایک کپ بہادر ولاز کے گارڈ کا تھا اور ایک کپ دلاور ولاز کے گارڈ کا تھا ۔ علیدان نے کافی کا سپ لیتے ہوۓ کن اکھیوں سے واصف کے ہاتھ میں پکڑی ٹرے پر دھرے کپوں پر ڈالی ۔
****************
”اوز ۔۔۔۔ اوز۔۔۔۔ پلیز دروازہ کھولو “
ادیان نے دروازے پر ہلکی سی دستک دینے کے بعد دروازے سے سر ٹکا کر التجا کی ۔ اوز دو دن سے کمرے سے باہر نہیں آ رہی تھی اور اس کا دل بند ہو رہا تھا ۔ فون وہ اٹھا نہیں رہی تھی پیغام کا جواب نہیں دے رہی تھی ۔ تھک ہار کر وہ یوں اس کے کمرے کے سامنے کھڑا اس سے التجا کر رہا تھا ۔ کتنی تکلیف تھی کہ جس سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ محبت کرتا تھا اسے ہی اتنی تکلیف میں مبتلا کر چکا تھا ۔
اوزگل اوندھے منہ تھورڈی کے نیچے دونوں ہاتھ دھرے وہ بھیگی پلکیں اور نم کونوں والی آنکھیں لیے بیڈ لیٹی تھی ہاتھ آنسوٶں سے تر تھے ۔ کتنی معمولی بات تھی تمھارے لیے یہ ادیان لیکن میرے لیے کچھ بھی معمولی نہیں تھا ۔ تم نے کتنے آرام سے کہہ دیا کہ وہ ایمیلز ہمیشہ سے تم نے بھیجی ہیں علیدان کو تو ان کا علم بھی نہیں ۔ میں نے انہی ایمیلز سے ہی تو محبت کرنا سیکھا تھا ۔ مجھے علیدان کے وجود کی کمی تک محسوس نہیں ہونے دیتی تھیں وہ محبت بھری باتیں ۔
میں نے ایمیلز کے چیٹ کے ہر ہر لفظ پر علیدان کو سوچا ہر لفظ کو سو سو مرتبہ پڑھا مجھے ان ایمیلز کی اس چیٹ کی اتنی عادت ہو گٸ کہ اب جب وہ نہیں آتی تھیں میرا سانس رکنے لگتی تھی میں سارا سارا دن بوکھلاٸ بوکھلاٸ پھیرتی تھی ۔
میں الجھ کر رہ گٸ ہوں دو دن سے دل تو چاہا کہ تمھارا گریبان پکڑ کر جھنجوڑ ڈالوں ۔ پوچھوں تم سے کیوں کھیلا میرے جذبات سے کیوں کیا تم نے ایسا پر نہیں کر سکی ایسا نا جانے کیوں ۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہا مجھے علیدان سے محبت ہے یا ان ایمیلز بھیجنے والے سے ۔
اوزگل پھر سے پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھی ۔ دروازے پر کھڑے ادیان کی التجاٸیں ابھی بھی دروازے کے پار سے سناٸ دے رہی تھیں ۔ وہ وقفے وقفے سے ہلکی ہلکی دستک بھی دے رہا تھا ۔پر وہ کسی سے بات کرنا نہیں چاہتی تھی ۔
”اوز۔۔۔۔ پلیز ایک دفعہ دروازہ کھولو “
ادیان نے پھر سے ندامت بھرے لہجے میں درخواست کی پر دوسری طرف ہنوز خاموشی تھی ۔
”تم یہاں کھڑے کیا کر رہے ہو ؟“
علیدان کی عقب سے آتی آواز پر ادیان ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔ ادیان ہڈ پہنے سر کو ٹوپی سے ڈھکے مشکوک سے حلیے میں کھڑا تھا ۔
”بھاٸ ویسے ہی اوز کا لیپ ٹاپ چاہیے تھا وہ شاٸد سو گٸ ہے “
ادیان نے بمشکل اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پا کر جواب دیا ۔ اور حیرت سے علیدان کی طرف دیکھا جس کا انداز عجلت لیے ہوۓ تھا ۔
”اچھا تو پھر جاٶ اپنے کمرے میں رات کے بارہ بج رہے ہیں “
علیدان نے سخت لہجہ اپناتے ہوۓ ڈپٹا ۔ ادیان فوارً گردن کو سہلاتا چور سی نظر علیدان پر ڈالتا وہاں سے چل دیا ۔
ادیان کے جاتے ہی وہ اردگرد تسلی سے نظر ڈالتا ہوا آگے بڑھا اور چھت کا زینہ چڑھ گیا ۔
***********
کمرے کا لاک کھل رہا تھا اذفرین بیڈ پر لیٹی کتاب پڑھ رہی تھی ۔ چونک کر کتاب کو چہرے کے آگے سے ہٹا یا اور دروازے کی طرف دیکھا اس سے پہلے کہ لپک کر بیڈ سے اترتی اور دروازے کی طرف بڑھتی دروازہ کھل چکا تھا ۔ اور ذہن میں جس کے بارے میں سب سے پہلا خیال آیا تھا وہی سامنے کھڑا تھا ۔
سیاہ رنگ کی ہڈ پہنے ہڈی کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اس کی ٹوپی سے چہرے کو ڈھکے بڑے حق سے کھڑا تھا ۔ اذفرین نے دانت پیسے پیشانی پر ناگواری کے بل ڈالے اور جھٹکے سے اپنے اوپر اوڑھے کمبل کو دور کرتی ہوٸ اٹھی ۔
”علیدان کیوں میری جان کے دشمن بنے ہوۓ ہیں آپ “
اذفرین سختی سے کہتے ہوٸ اب سامنے آ چکی تھی۔ پر وہ سر سے ٹوپی اتارے سنجیدگی سے اذفرین کی طرف دیکھنے میں مصروف تھا شیو بڑھی ہوٸ تھی اور آنکھیں دو راتوں کے رتجگے کی مسافت طے کیے بوجھل سی تھکی سی تھیں پر محبت کی تپش میں کوٸ کمی نہیں تھی ۔
پیج رنگ کے قمیض ٹرایوزر میں اذفرین غصے سے سرخ چہرہ لیے اس کے سامنے تنی کھڑی تھی ۔ علیدان کی نظروں سے تصادم ہوا تو دل نے نیچے غوطہ لگایا اذفرین نے گڑبڑا کر اس کے چہرے سے نظریں ہٹاٸیں کیونکہ دل اس کی آنکھوں میں موجود بے پناہ محبت کی تاب نا لاتے ہوۓ زبردستی کے چڑھاۓ گۓ سختی کے خول میں داڑاریں پیدا کرنے لگتا تھا ۔
”چلو وقت نہیں ہے ہمارے پاس۔۔۔ “
علیدان نے رعب سے حکم دیا تھا ۔ جس پر اذفرین نے حیرت سے منہ کھولا۔ پھر سے اس کی طرف دیکھا جو حد درجہ سنجیدہ کھڑا تھا ۔
”کیا۔۔۔ کہاں چلنا ہے۔۔؟ مہ۔۔مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ “
اذفرین نے لہجے کو اور زیادہ سخت کیا اور پیشانی پر شکن بڑھاۓ پر جناب پر تو کوٸ اثر نہیں تھا اس سب کا پرسکون انداز میں اپنے موباٸل کو نکال کر وقت دیکھا بارہ بج کر پندرہ منٹ ۔۔۔۔ بھنویں سکیڑ کر اذفرین کی طرف دیکھا
”تم سے پوچھ نہیں رہا کہہ رہا ہوں دوپٹہ کہاں ہے تمھارا ؟“
علیدان نے ایک نظر اسے دیکھا پھر تھوڑا آگے ہو کر مصروف سے انداز میں بیڈ پر نظر دوڑاٸ گہرے جامنی رنگ کا شفون دوپٹہ جس پر جگہ جگہ چھوٹے چھوٹے پیچ رنگ کے پھول تھے تکیے کے پاس آڑا ترچھا پڑا تھا علیدان آگے بڑھا اور تھوڑا سا جھکتے ہوۓ بیڈ پر سے دوپٹہ اٹھایا جبکہ وہ ہونق بنی علیدان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ آخر وہ کہاں جانے کی بات کر رہا تھا اور کیوں کر رہا تھا ۔
علیدان نے دوپٹہ لا کر اس کی طرف بڑھایا اور اب اس کے ننگے پاٶں دیکھ کر زمین پر جوتے کی تلاش میں نظریں دوڑا رہا تھا ۔ انداز ہنوز پرسکون سا تھا پر تھوڑی عجلت لیے ہوۓ تھا ۔
”علیدان۔۔۔۔ علیدان کیا ہے یہ سب کچھ بتاٸیں گے مجھے ۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہا “
اذفرین نے رخ بدل کر بیڈ کے ایک طرف سے جھک کر سلیپر اٹھاتے علیدان کی طرف دیکھا ۔ وہ خاموشی سے سلیپر اٹھا کر پاس آیا اور جھک کر سلیپر اس کے پاٶں کے پاس رکھ دیے ۔
” کس مضمون میں ماسٹرز کر رہی تھی تم اب ملبرین میں؟ “
سوال کے جواب کے بجاۓ بے تکا سوال داغے اب وہ اس کے جواب کا منتظر تھا ۔ اذفرین نے اس کے بے تکے سے سوال پر آبرٶ چڑھاۓ
”کمپیوٹر ۔۔۔۔“
اذفرین نے ناسمجھی سے اس کی طرف دیکھتے ہوۓ آہستہ سی آواز میں جواب دیا ۔ جس پر وہ پرسوچ انداز میں سر ہلا گیا ۔
”ہممم تو یہ سمجھ لو تم اب سے ایک ڈمب ٹرمینل ہو پروسسنگ کا سارا کام میرا ہے اس لیے ذہن پر زیادہ زور مت دو سلیپرز پہنو جلدی “
علیدان نے دھیمی سی آواز میں چہرہ قریب لا کر اس کے گال کو تھپکا تھا جو ہونق بنی بس اس کی عجیب و غریب باتیں سن رہی تھی صرف سمجھ اب بھی کچھ نہیں آ رہا تھا ۔
” علیدان مجھے کہیں نہیں جانا آپ کے ساتھ “
اذفرین نے حتمی لہجہ اپنایا اور گھور کر علیدان کی طرف دیکھا ۔ اتنا تو وہ سمجھ چکی تھی وہ اسے کہیں لے کر جا رہا تھا پر کہاں اور کیوں ذہن میں خوف سر اٹھانے لگا تھا ۔
”ٹھیک ہے پھر تم یہ چاہتی ہو کہ میں گود میں اٹھا کر لے جاٶں تمہیں۔۔۔؟ تم جانتی ہو وہ میرے لیے مشکل نہیں ہے “
علیدان نے لبوں کو باہر نکالے ایسے کندھے اچکاۓ جیسے ابھی اسے اٹھا کر کندھے پر ڈال لے گا ۔ تھوڑا سا قریب ہوا تو اذفرین دبک کر پیچھے ہوٸ ۔
” مہ۔۔۔میں ۔۔۔ہر گز نہیں جاٶں گی میں ابھی گارڈ کو بلاتی ہوں “
اذفرین غصے میں بھری بوکھلاٸ سی آگے بڑھی ۔ دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا تھوڑا سا آگے بڑھی پھر پیچھے مڑ کر دیکھا ۔ پر وہاں کوٸ اثر نہیں تھا ۔ جانتی تھی اسے کوٸ ڈر نہیں ہے کیونکہ وہ چاہ کر بھی شور نہیں مچا سکتی ۔
علیدان نے افسوس سے سر ہلایا اور تیز تیز قدم اٹھاتا اس کے پاس آیا زبردستی اذفرین کو پکڑ کر بیڈ پر بیٹھاۓ اب وہ اس کے پاٶں میں سلیپر پہنا رہا تھا ۔ علیدان کے پاٶں کو چھوتے ہی جیسے بجلی کوند گٸ تھی جھینپ کر پاٶں پیچھے کھینچنے چاہے پر علیدان نے نظر اٹھا کر ایسے گھورا کہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گیا
سفید گداز سے خوبصورت پاٶں مضبوط ہاتھوں میں تھامے سرخ رنگ کے قینچی سلیپر باری باری اس کے پاٶں میں اڑاۓ ۔ کیا تھا وہ ایک پل میں یوں جیسے اس پر حکومت کرتا ہو۔ اگلے ہی پل یوں کہ اس کے پاٶں میں جوتا بھی پہنا دے ۔ کھوۓ سے انداز میں علیدان کے جھکے سر کو دیکھا اور سب وار دیا ۔
علیدان نے بازو سے کھینچ کر اسے بیڈ سے اٹھایا اس کے بازو تھامے آگے بڑھا اب وہ اسی طرح اذفرین کا بازو تھامے کمرے سے باہر آ گیا تھا جبکہ وہ کلاٸ کو مڑوڑتی چہرے کے زاویے بدلتی خود کو چھڑوانے کی ناکام سعی کر رہی تھی ۔
گاڑی وہ پہلے ہی بہادر والاز کے سامنے کھڑی کر چکا تھا دونوں گارڈز چاۓ پینے کے بعد سے خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے تھے ۔ علیدان اسی طرح اذفرین کو بازو سے کھینچتا اب بہادر ولاز کے پورچ تک آ گیا تھا ۔
ایک ہاتھ سے گیٹ کھول کر باہر آیا اور آہستہ سے دروازے کو بند کر دیا باہر سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ گاڑی گیٹ کے بلکل آگے کھڑی تھی ۔ گاڑی کادروازہ کھول کر اذفرین کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جو بار بار علیدان کو روہانسے انداز میں یہ سب کرنے سے منع کرتے ہوۓ سر کو نفی میں ہلا رہی تھی ۔
” تنگ نہ کرو وقت نہیں ہے بیٹھو چپ چاپ ۔۔۔“
علیدان نے دانت پیس کر اس کے کان کے قریب سرگوشی کی اور اردگرد جانچتی سی نگاہ دوڑاٸ اذفرین نے نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ رونی صورت سے کار کے دروازے کو پکڑ کر ڈھنے کے سے انداز میں خود کو سیٹ پر گرایا ۔ کیا تھا دل جو اس کے غلط حکم کو بھی ٹال نہیں پایا تھا اسے خود کے یوں کمزور پڑ جانے اور ہتھیار پھینک دینے پر افسوس تھا ۔ پر بے بس تھی وہ دل تھا کہ تخت پر براجمان دماغ کو سزاۓ موت سنا چکا تھا ۔
جیسے ہی اذفرین کار میں بیٹھی وہ خود گھوم کر دوسری طرف سے ڈراٸیونگ سیٹ پر آیا ۔ ایک اچٹتی سی نظر پریشان حال بیٹھی اذفرین پر ڈالی اور کار سٹارٹ کر دی ۔
***********
گاڑی میں وہ علیدان کو بلاتی رہی پر وہ اتنی تیز ڈراٸیو کر رہا تھا کہ اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دیا ۔ گاڑی کے رکتے ہی وہ اب باہر نکل کر گھوم کر اذفرین کی طرف کا دروازہ کھولے ہوۓ تھا ۔
” یہ کہاں آۓ ہیں ہم “
اذفرین نے گھر کے گیٹ کو بغور دیکھتے ہوۓ کہا ۔تقریبا آدھے گھنٹے کی ڈراٸیو کے بعد وہ کسی گھر کے آگے کھڑے تھے ۔ علیدان نے کوٸ جواب نہیں دیا اور فون کان کو لگاۓ وہ اب دھیمے سے لہجے میں کسی سے بات کر رہا تھا ۔ جیسے ہی اس نے فون بند کیا تو کچھ سکینڈ کے بعد ہی صفدر دروازہ کھولے کھڑا تھا ۔
اذفرین نے چونک کر علیدان کی طرف دیکھا ۔ نظروں میں عجیب سی کشمکش تھی ۔ صفدر کو وہ پہچان گٸ تھی ۔ صفدر نے بڑی عزت سے مسکراتے ہوۓ اذفرین کو سلام کیا تھا ۔
” دوست ہے میرا چلو اندر “
علیدان نے اذفرین کے کان کے قریب ملاٸم سے لہجے میں کہا اور قدم آگے بڑھا دیے ۔ اذفرین نے خاموشی سے پیروی کی ۔ جیسے ہی وہ اندر داخل ہوٸ تو تیس بتیس سال کی لڑکی اس کی طرف مسکراتی ہوٸ بڑھی وہ غالباً صفدر کی بیوی تھی۔
”اذفرین اس طرف کمرے میں آ جاٶ “
نرمی سے وہ اذفرین کا نام لیتے ہوۓ اسے اپنے ساتھ سامنے کمرے میں لے گٸ ۔ صاف ستھرا کمرہ بلکل خاموش تھا وہاں پہلے سے کوٸ موجود نہیں تھا ۔ اس لڑکی نے سامنے بیڈ کی طرف اشارہ کیا بیٹھنے کا ۔ بیڈ پر ابھی وہ الجھی سی بیٹھی ہی تھی جب علیدان کمرے میں آیا ۔
علیدان کو دیکھتے ہی وہ لڑکی مسکراتی ہوٸ باہر نکل گٸ ۔ اذفرین فوراً بیڈ سے اٹھ کر علیدان کے پاس آٸ تھی ۔ انداز بھرپور گھبراہٹ لیے ہوۓ تھا ۔
” علیدان اب تو کچھ بتا دیں پلیز یہ سب کیا ہے کیوں اسطرح زبردستی لاۓ ہیں مجھے“
اذفرین نے پریشان سے لہجے میں سوال کیا ۔ سوال کر۔۔ کر کے تھک چکی تھی وہ ۔ پر وہ تو جیسے جواب نا دینے کا ٹھان چکا تھا ۔
” نکاح ہے ہمارا کچھ دیر میں اس کے بعد واپس گھر “
علیدان نے ایک نظر شرماۓ سے انداز میں پاٶں پر ڈالی اور پھر مسکراہٹ دبا کر سامنے کھڑی اذفرین کی طرف دیکھا علیدان کی آنکھیں حصول کی خوشی میں چمک رہی تھیں ۔ اذفرین نے گڑبڑا کر دیکھا شک تو پہلے بھی تھا پر اب تو جان پر بن گٸ تھی ۔ وہ نکاح کرنا چاہتا تھا سب سے چھپ کر بنا بتاۓ یعنی بات اور بگڑ سکتی تھی۔
” آپ زبردستی مجھ سے نکاح نہیں کر سکتے آپ کو اوزگل سے شادی کرنی ہے بس “
اذفرین نے لہجے میں سختی لاتے ہوۓ کہا۔ اور خفگی سے آگے بڑھی جیسے ابھی یہاں سے چلی جاۓ گی ۔
” رکو ۔۔۔۔ اگر تم یہ سمجھتی ہو تم شادی نہیں کرو گی تو میں اوزگل سے شادی کر لوں گا تو یہ تمھاری بھول ہے میں کسی سے شادی نہیں کروں گا تمھارے علاوہ ساری زندگی یونہی رہوں گا میں نے سب کو بتا دیا ہے سب کو مما بابا سب کو “
علیدان نے اذفرین کا بازو تھامے اسے روکا اور دوٹوک لہجہ اپنایا آواز دھیمی ہی تھی وہ نہیں چاہتا یہ سب بحث باہر کسی کو سناٸ دے ۔ باہر اس کے چند دوست گواہان کے طور پر موجود تھے اور نکاح خواں بھی پہنچ چکا تھا ۔
”علیدان مت کریں ایسے سب۔۔۔ سب بگڑ جاۓ گا “
اذفرین نے اب کی بار سختی چھوڑ کر رونے جیسی آواز میں التجا کی ۔ کیونکہ علیدان کی آنکھوں میں عزم وہ دیکھ سکتی تھی ۔ وہ بے خوف تھا آنے والے ہر طوفان سے ایسے جیسے وہ لڑ جاۓ گا سب سے پر اس کا ساتھ ہو تو ۔
”مجھ پر بھروسہ ہے نہ ؟۔۔۔۔“
علیدان نے تھوڑا جھک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ بھروسہ لفظ بہت چھوٹا تھا وہ سب کچھ ہار چکی تھی سامنے کھڑے اس شخص پر وہ ابھی جانتا ہی کہاں تھا وہ ، کتنی محبت کرتی ہے اس سے ۔ وہ کونسا لمحہ وہ کونسا پل ہو گا جب اس نے علیدان کو یاد نا کیا ہو۔
”ہے ۔۔۔پر۔۔۔۔“
اذفرین نے الجھتے ہوۓ بولنا شروع ہی کیا تھا جب علیدان نے بات کاٹ دی ۔
”پر ۔۔۔ کیوں ۔۔۔۔ کیسے۔۔۔۔ یہ سب چھوڑ دو میں سب سنبھال لوں گا تم بس اس وقت نکاح کرو مجھ سے ، پلیز پیچھے مت ہٹو مجھے ساتھ چاہیے تمھارا سب ٹھیک ہو جاۓ گا اللہ پر بھروسہ رکھو جس نے ملن کی آس کو آس نہیں رہنے دیا “
علیدان نے ہنوز اسی لہجے میں جواب دیا اذفرین اب بھی خوف کے زیر اثر بوکھلاٸ سی کھڑی تھی ۔
” میں سوچ چکا ہوں ہر پہلو سے اس کے علاوہ اور کوٸ راستہ نہیں ، نکاح خواں آ رہے ہیں اندر تمہیں بس ہاں کہنا ہے زیادہ سوچو مت “
علیدان نے دھیمے سی آواز میں کہا اور خاموشی سے باہر نکل گیا۔ اور وہ آسمان کی طرف دیکھ کر رہ گٸ پر پتہ نہیں کیوں دل بغاوت کرنے لگا تھا ۔ اور پھر پتا نہیں کیسا یقین تھا اور کیسا طلسم وہ اذفرین خلیل سے اذفرین علیدان بن چکی تھی ۔
********
کار پوری رفتار سے سڑک پر چل رہی تھی لیکن جیسے ہی وہ سوساٸٹی میں داخل ہوۓ علیدان نے کار آہستہ کر دی تھی۔ ایک نظر ساتھ بیٹھی اذفرین پر ڈالی جو آنکھیں ناک ہونٹ سب رو رو کر سرخ کیے ہوٸ تھی ۔
”اب رونا بس کرو اذفرین رخصتی نہیں ہو رہی ابھی “
علیدان نے مسکراہٹ دباۓ ساتھ بیٹھی اذفرین کو ٹشو پکڑیا لہجہ شرارت لیے ہوۓ تھا ۔
علیدان کے انگ انگ سے خوشی پھوٹ رہی تھی اسے کسی بات کی کوٸ پرواہ نہیں تھی ، جیسے بار بار مسکراتے ہوۓ اذفرین کو مزے سے دیکھ رہا تھا جو اب مکمل طور پر اس کی ہو کر اس کے ساتھ بیٹھی تھی ۔
گاڑی رکی تو اذفرین کا خوف پھر سے امڈ آیا نچلا لب کچلتے چور سی نظر گارڈ پر ڈالی ۔۔دو گھنٹے بعد وہ پھر سے بہادر ولاز کے سامنے کھڑے تھے گارڈ گہری نیند سو رہا تھا ۔علیدان نے اتر کا بہادر ولاز کا گیٹ کھولا اور اذفرین کو باہر آنے کا اشارہ کیا ۔ وہ جلدی سے کار کا دروازہ کھول کر باہر آٸ اور تیز تیز قدم اٹھاتی اندر آٸ ۔ علیدان اب اس کے پیچھے چل رہا تھا ۔
کمرے میں پہنچ کر وہ بیڈ پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھ کر چہرہ ہاتھوں میں چھپاۓ پھر سے رونے کا شغل فرمانے لگی تھی ۔ علیدان آرام سے واش روم میں گھس گیا تھا باہر آیا تو وضو کیے ہوۓ تھا ۔
”جاۓ نماز دو مجھے “
شرٹ کے بازو نیچے کرتے ہوۓ آہستہ سی آواز میں کہا ۔ پر وہ ویسے ہی بیٹھی تھی ۔
”مسز جاۓ نماز دیں مجھے کہاں ہے “
علیدان نے اب کی بار آواز تھوڑی سی اونچی کی اذفرین نے دھیرے سے چہرہ اوپر کیے پاس میز کی طرف اشارہ کیا ۔ علیدان نے جاۓ نماز اٹھا کر ایک طرف کمرے میں بچھایا اور پرسکون انداز میں تہجد اور شکرانے کے نوافل ادا کیے۔ جبکہ وہ آنے والے طوفان کا سوچ سوچ کر روۓ جا رہی تھی ۔
علیدان نے سلام پھیرا اس کی طرف پھر سے دیکھا جاۓ نماز کو فولڈ کر کے ایک طرف رکھا گہری سانس لی اور چھوٹے چوٹے قدم اٹھاتا اس کے قریب ہی آ کر بیڈ پر بیٹھ گیا ۔ کچھ دیر اسے یونہی دیکھنے کے بعد خاموشی ختم کو توڑا ۔
”اتنا تو لڑکیاں اپنی رخصتی پر روتی ہیں اس کا مطلب ہے تم چاہ رہی ہو ابھی رخصت ہو جاٶ کوٸ مشکل بات نہیں چھت سے ہو کر میرے کمرے میں ہی جانا ہے “
علیدان نے مسکراہٹ چھپاتے ہوۓ چہرہ اس کے کان قریب کیۓ شریر سے لہجے میں سرگوشی کی تو وہ جو رو رہی تھی اس بات پر جھینپ گٸ ۔ پر آنسو نہیں تھمے تھے ۔ علیدان نے پہلو بدل کر رخ پورا اس کی طرف موڑا ۔
”بس نا اب بس ۔۔۔۔ “
علیدان نے دھیرے سے اذفرین کی گود میں دھرے اس کے ہاتھ تھامے تو وہ تھم گٸ ۔ مضبوط ہاتھوں کی گرفت میں کتنا سکون اپناٸیت اور محبت تھی علیدان نے آہستگی سے اس کا چہرہ اوپر اٹھایا تو اذفرین نے جلدی سی آنکھیں موند لیں ۔
وہ دھیرے سے کانپتی ہوٸ لجاۓ سے انداز میں دل میں اتر رہی تھی ۔ رو رو کر چہرے کا حال برا تھا ۔ بالوں کی کتنی ہی لٹیں چہرے پر چپک گٸ تھیں ۔
”سارے غم آج سے میرے تم بیگم بن گٸ ہو اب بے غم ہو جاٶ سب مجھ پر چھوڑ دو “
علیدان نے دھیرے سے گالوں پر بہتے آنسو اپنی انگلی کی پور میں چنے تو وہ آہستگی سے مسکرا دی تھی ۔ علیدان نے آہستگی سے اس کے جھکے سر کے ساتھ اپنا سر جوڑ دیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: