Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 26

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 26

–**–**–

”میں بہت خوش ہوں “
علیدان کی بھاری سی آواز مگر ملاٸم سے لہجے میں کی گٸ سرگوشی تھی جو کانوں میں رس گھول گٸ ۔ سانسوں کی گرمی تھی جو چہرے پر پڑ کر دل گدگدا رہی تھی ۔ وہ سر اس کی مانگ سے ٹکاۓ دلفریب سرگوشی کر گیا ۔
وہ جو دل کی دنیا پر حکومت کرتا تھا ۔ وہ جو روح میں سکون بن کر بستا تھا ۔ وہ جو اب اس سفاک دنیا میں اس کا واحد اپنا تھا ۔ وہ جو بے لوث چاہت لٹاتا تھا ۔ وہ جو جانے انجانے ہر جگہ اس کا محافظ بن جاتا تھا ۔ وہ جو اب اس کا محرم تھا اس کا سب کچھ تھا ۔ اس کے قریب تھا ۔
”کیا میں اس خاموشی کا مطلب یہ سمجھوں کہ میں ہی خوش ہوں صرف ؟“
علیدان کی پھر سے ابھرتی خفگی بھری سرگوشی نے اس کی سوچوں کے جشن میں خلل ڈالا تو احساس ہوا وہ اپنی خوشی کا اظہار کر رہا تھا ۔ اور اس اظہار کے جواب میں جوابی اظہار کا طلبگار تھا ۔ خوش ۔۔۔۔ وہ خوش تھی یہ تو ابھی دل نا جان سکا تھا پر ایک بہت ہی پیارا سا دلفریب احساس تھا جو آہستہ آہستہ ذہنی تناٶ کا تھپک رہا تھا اور محبت کا جزبہ ہر خوف ہر پریشانی آنے والے ہر طوفان پر غالب آ گیا تھا ۔
اذفرین نے پلکیں جھکا کر لبوں پر اپنی کیفیت کے اظہار کے لیے مسکراہٹ سجاٸ ۔ علیدان نے آنکھیں جھکا کر اس کے لبوں پرمزین دل لبھاتی مسکراہٹ کو دیکھا دل میں سکون سا اتر گیا سر جو اس کی مانگ سے ٹکا تھا دھیرے سے اس کو اٹھایا چہرہ سیدھا ہوا تو نکاح کے پاک بندھن کی پہلی مہر اس کی مانگ پر ثبت کردی تو اذفرین پورے بدن میں سراٸیت کر جانے والے ارتھ کے باعث کانپ گٸ ۔
”سوری۔۔۔ سوری ۔۔ “
علیدان نے گھبراۓ سے لہجے میں کہا اس کی کپکپکی کو محسوس کیے ندامت سے چہرہ پیچھے کیا ۔ پریشانی سے اذفرین کے چہرے کی طرف دیکھا جس پر اتنی سی قربت نے ہواٸیاں اڑا دی تھیں اور جسم لرز گیا تھا ۔
علیدان کے شرمندہ ہو کر یوں پیچھے ہٹ جانے پر خود پر ہی غصہ آیا تھا۔ اس لمس میں کتنا احترام پوشیدہ تھا کتنی اپناٸیت تھی ۔ اسکا حق تھا یہ جس پر اسے نادم کر بیٹھی ۔ آہستگی سے تھوڑا سا جھک کر پورے حق سے سر قریب بیٹھے علیدان کے سینے سے ٹکا دیا ۔ وہ جو اذفرین کے یوں کانپ جانے پر نادم سا تھا اس کے یوں حق سے سر کو ٹکا دینے پر بے ساختہ مسکرا دیا ۔
آہستگی سے اس کے مخملی ہاتھ کی انگلیوں کو اپنے ہاتھ کی انگلیوں میں پھنساۓ آنکھیں موند لیں ۔ اذفرین نے شرماۓ سے انداز میں گال کو سینے سے لگایا تو کانوں میں پڑتی علیدان کی دل دھڑکنے کی آواز پر لب مسکا دیے وہ آج اتنا قریب تھا کہ کان اس کی دھڑکن کو سن رہے تھے ۔
اور پھر کچھ بھی تو یاد نا رہا کوٸ غم کوٸ دکھ کوٸ پریشانی کچھ بھی نہیں ۔ احساس تھا تو صرف اس کی پاکیزہ سی قربت کا ۔ دونوں خاموش تھے ۔ ایسا سکون کتنے عرصے بعد میسر آیا تھا اس کو۔۔۔۔ کوٸ اپنا تھا جو یوں حق سے ساتھ لگاۓ ہوۓ تھا اس کا بہت اپنا جس نے کہا تھا غم تمھارے سارے آج سے میرے تم تو بس آج سے ڈمب ٹرمینل ہو تمھارا سرور تو میں ہوں پروسسنگ چھوڑ دو بس ۔
علیدان نے مسکرا کر نظر جھکا ٸ اس کے شرماۓ سے پرسکون چہرے کو دیکھا اور پھر اس کے اس محبت بھرے انداز پر بے آواز ہنسی میں دانت لبوں کی اٶٹ سے جھلکے ۔
وہ جس نے دل کے بند قفل توڑ ڈالے تھے ۔ وہ جو پہلی واحد لڑکی تھی جس نے اتنے سالوں کا غرور توڑ ڈالا تھا ۔ وہ جس کے لیے دربدر بھٹکا تھا ۔ وہ جس کو پانے کی خواہش میں رو دیا تھا ۔ اللہ نے اسے آج اس کا بنا دیا تھا ۔ ساری دعاٸیں ساری التجاٸیں عرشِ بریں پر پہنچ کر قبول ہوٸ تھیں ہاں اس بزرگ نے ٹھیک کہا تھا اس سے مانگو سلیقے سے مانگو وہ دے گا ۔ شاٸد وہ اتنی نایاب ہو خدا کے نزدیک کہ وہ چاہتا ہو تم اسے گڑگڑا کر مانگو اور جب وہ مل جاۓ تو اس کی قدر کرو ۔
اور وہ آج اس کو مل گٸ تھی ۔ اس کے ہو کر اس کے سینے پر حق سے سر ٹکاۓ پر سکون بیٹھی تھی ۔ وہ اپنے دل اور دماغ کی مشترکہ سوچوں کے ساتھ جشن منانے میں محو تھا۔
لبوں پر سجی مسکان جیت کی تھی سچی لگن اور محبت کی تھی اور سب سے بڑھ کر اتنی دیر کی جداٸ کے بعد اس انوکھے سے ملن کی تھی۔۔۔
فجر کی اذان کی آواز پر علیدان نے تھوڑا سا گردن کا رخ موڑے موباٸل پر وقت دیکھا جب اچانک اذفرین کا سر ایک طرف کو ڈھلکتا محسوس ہوا ۔ پتا ہی نا چلا کتنا وقت وہ یوں بے آواز دلوں کو تسکین بخشتے رہے ۔
وہ سو چکی تھی غالباً ۔ علیدان محبت سے مسکا دیا ۔ جلدی سے اس کے ڈھلکتے سر کو سنبھالا اور دھیرے سے اسے دوسرے رخ بیڈ پر تکیے پر رکھا اس کی ٹانگیں اٹھا کر بیڈ پر رکھیں اور آہستگی سے کمبل اوڑھا دیا ۔ وہ تو یوں سو رہی تھی جیسے برسوں سے رتجگوں پر تھی ۔ کچھ دیر یوں ہی بیڈ کے پاس کھڑے اس کو تکتے رہنے کے بعد وہ گہری پرسکون سانس خارج کرتا ہوا مڑا
کمرے کا دروازہ آہستہ سے بند کرتا باہر آیا ۔ ارد گرد دیکھتے ہوۓ قدم زینے کی طرف بڑھا دیے ۔
***********
ماٸدہ بیگم کا ہاتھ تھامے آہستہ سے چلتے ہوۓ وہ ان کو لے کر لاٶنج میں آ رہی تھی۔ ماٸدہ بیگم صبح اٹھتی تھیں تو گھٹنے کے درد کے باعث پاٶں گھنٹہ دو گھنٹہ بلکل ہی چلنے پھرنے سے جواب دے جاتے تھے اور اذفرین کو انھیں سہارا دے کر باہر لانا پڑتا تھا ۔
جارج کو اٹھا کر برش کروانے کے بعد وہ نیچے آ گٸ تھی ساری رات تو جاگتی رہی تھی کچھ گھنٹے ہی سو سکی تھی۔ فجر کی نماز قضا ہو جانے کا الگ افسوس تھا دل میں سوچا تھا اس وقت تو روتی ہی رہی جب علیدان شکرانے کے نوافل ادا کر رہا تھا چلو فجر کی نماز کے ساتھ ہی شکرانے کے نوافل ادا کروں گی ۔ پر اب دل بار بار یوں بے سدھ ہو کر سونے پر افسوس کر رہا تھا ۔ پر کہیں ایک میٹھی سی لہر دوڑ جاتی تھی جو لبوں پر مسکان کا موجب بن جاتی تھی کہ وہ اس کے سینے سر ٹکاۓ ہی سو گٸ ۔
برسوں بعد تو ایسی نیند آٸ تھی جیسی ابو سے کہانی سنتے ہوۓ آ جایا کرتی تھی جب وہ پانچ سال کی تھی ان کے سینے پر سر رکھے کہانی سنتے سنتے سو جایا کرتی تھی رات ویسا ہی احساس کیوں تھا ۔ ویسی ہی بے لوث محبت اور چاہت جیسا احساس۔۔۔۔
ماٸدہ بیگم کے ساتھ چلتے ہوۓ جب لاٶنج میں آٸ تو ٹھٹھک کر رک گٸ ۔ علیدان جارج کے سامنے گھٹنے کے بل بیٹھا اسے دونوں بازٶں سے تھامے باتیں کرتا ہوا مسکرا رہا تھا ۔ ٹریک سوٹ میں ملبوس نکھرا سا ہشاش بشاش چہرہ لیے۔ علیدان کو یوں دیکھ کر دل کی دھڑکن تو تیز ہوٸ ہی تھی عجیب طرح کا ایک اور انوکھا سا احساس بھی تھی بہت نایاب بہت پیارا سا احساس وہ جو سامنے کھڑا تھا اب اس کا شریک حیات تھا ابدی دنیا تک ۔
علیدان جو جارج سے باتیں کرنے میں مصروف تھا جیسے ہی اذفرین اور ماٸدہ بیگم لاٶنج میں داخل ہوٸیں ایک بھرپور نظر اذفرین پر ڈالتا اٹھ کر کھڑا ہوا ۔ رات والے ہی جوڑے میں وہ بوجھل سی آنکھیں لۓ دل کی تسکین بخش رہی تھی ۔
”اسلام علیکم آنٹی کیسی ہیں آپ “
اذفرین پر سے نظر ہٹاۓ جلدی سے مٶدب انداز میں آگے بڑھ کر ماٸدہ بیگم کے پاس ہوا ۔ لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی ۔ وہ اب لاٶنج میں لگے صوفے پر بیٹھ چکی تھیں۔
”وعلیکم سلام ۔۔۔ بلکل ٹھیک بیٹا آپ سناٶ ؟“
ماٸدہ بیگم نے خوشگوار حیرت سے سوالیہ نظریں ڈالے علیدان کی طرف دیکھا اور شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرا ۔ ماٸدہ بیگم کی نظروں میں جھلکتا سوال بھانپ کر علیدان جلدی سے جارج کی طرف مڑا ۔
”جارج جاگنگ پر نہیں آ رہا تھا ایک ہفتے سے تو سوچا پوچھ لوں خیریت ہے میرا مسلز مین کیوں نہیں آ رہا ؟ “
علیدان نے جارج کی طرف مسکرا کر دیکھتے ہوۓ یہاں صبح صبح آ دھمکنے کا جھوٹا جواز گھڑا ۔ جس پر ماٸدہ بیگم محبت سے جارج کی طرف دیکھ کر مسکرا دیں ۔
”مام آپ کی طیبعت کیسی ہے آج ؟ آج چلیں گا نہ دیکھیں آٸرن مین آج خود آ گۓ ہیں ؟ “
جارج نے نظریں گھما کر التجا ٸ لہجے میں اذفرین کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا تو وہ گڑبڑا گٸ ۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ بولتی ماٸدہ بیگم بول اٹھیں
”کیوں فری کیا ہوا طبیعت کو بھٸ ؟ لے کر جاٶ نا جارج کو پارک آج “
ماٸدہ بیگم نے محبت لٹاتی نظریں جارج پر جماتے ہوۓ اذفرین کو کہا ۔ وہ اب خوشی سے سر کو ہلا رہا تھا ۔ علیدان نے کن اکھیوں سے اذفرین کی طرف دیکھا دفعتاً اذفرین کی پلکیں اٹھیں تو نظروں کا تصادم پورے جسم میں سوٸیاں چھبو گیا ۔ علیدان کی آنکھوں میں بھری شریر سی محبت رات ہو جانے والے حسین سے خطا کی خماری بے تابی کیا کچھ نہیں تھا ۔
”اذفرین ۔۔۔ “
ماٸدہ بیگم کی آواز پر جیسے وہ ہوش میں آٸ ۔ خجل ہو کر نظریں جھکاٸیں وہ ان کے پیچھے صوفے کی پشت کو پکڑے کھڑی تھی اس لیے وہ اس کے چہرے کے بدلتے رنگ نہیں دیکھ سکتی تھیں۔
”جی ۔۔۔ “
جلدی سے پوری طرح ان کی طرف متوجہ ہوٸ۔ اذفرین کے اس انداز پر علیدان نے بمشکل اپنی ہنسی روکی ۔
”حسیب تو ملک سے باہر ہے تم علیدان سے پوچھ لو اگر وقت ہے تو چلے جاۓ تمھارے ساتھ جارج کے ایڈمیشن کے سلسلے میں “
ماٸدہ بیگم نے پرسوچ انداز میں کہتے ہوۓ رخ علیدان کی طرف کیا ۔ جیسے اس سے تاٸید چاہ رہی ہوں اپنی بات کی ۔ اور وہاں تو جیسے کوٸ دھمال ڈالنے لگا تھا ڈھول پر ۔ وہ ایسا تو نہ تھا جیسا وہ اب تھا صبح اٹھتے ہی اس کا چہرہ دیکھ لینے کو دل مچلنے کیوں لگا تھا اس کی آواز سننے کو کان ترسنے کیوں لگے تھے ایک بے کلی تھی جو کھینچ لاٸ تھی اور کتنی خوبصورتی سے جھوٹ بول گیا تھا کہ وہ جارج کے لیے آیا ہے ۔
” بیٹا وقت ہے آپ کے پاس تو یہ چھوٹا سا کام کردیں اذفرین کے ساتھ جارج کے ایڈمیشن کے لیےجانا ہے حسیب کو پتا نہیں اور کتنے دن لگیں گے “
ماٸدہ بیگم نے شاٸستگی سے کہتے ہوۓ درخواست کی تو علیدان نے جلدی سے سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” جی جی کیوں نہیں وقت نکال لوں گا میں آپ بتا دیں کس دن جانا ہے “
علیدان نے اذفرین کی طرف دیکھتے ہوۓ سوال کیا ۔ انداز ایسا تھا جیسے پہلی بار وہ اذفرین کو مخاطب کیے ہوۓ ہے اذفرین نے منہ کھول کر سوچنے کے انداز میں ذہن پر زور دیا ۔ دل ہی اتنی زور سے دھڑک رہا تھا کیا کرتی سمجھ میں ہی نہیں آ رہا تھا وہ کیا پوچھ رہا ہے اسے کیا جواب دینا ہے ۔ بمشکل اپنی حالت پر قابو پایا۔
”جس دن بھی آپ کے پاس وقت ہو “
دھیمی سی مدھر آواز ابھری ۔ علیدان نے محبت سے دیکھا ۔ وقت ہی وقت آپ کے لیے سرکار ۔۔۔۔ نظروں نے جواب دیا لب تو خاموش تھے ۔ وہ شاٸد نظروں کا جواب سمجھ گٸ تھی اس لیے بلش ہو کر نظریں جھکا گٸ ۔ علیدان نے رخ جارج کی طرف موڑا
”چلو جارج پھر میں ویٹ کر رہا ہوں پارک میں جلدی آنا ہاں “
جارج کے سر پر چپت لگا کر معنی خیز جملہ اچھالا اذفرین جھینپ کر اردگرد دیکھنے لگی جبکہ بے اختیار ہی لبوں پر دلکش سی مسکراہٹ امڈ آٸ تھی ۔
”اوکے آنٹی اللہ حافظ “
علیدان نے مسکرا کر ماٸدہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا وہ بھی جواب میں مسکرا دی تھیں نظر بھر کر ایک دفعہ پھر اذفرین کو دیکھا اور قدم بہادر ولاز کے گیٹ کی طرف بڑھا دیے ۔ جبکہ وہ اب اسے دور تک جاتا دیکھ کر دل کو تسکین بخش رہی تھی ۔ ایسا لگنے لگا تھا جیسے ایک رات ہی میں کسی نے زمین سے اٹھا کر بخت کے تخت پر بیٹھا دیا ہو ۔
*************
دروازہ کھلنے کی آواز پر صندل نے چہرے کا رخ دروازے کی طرف کیا ۔ اوزگل دروازے میں کھڑی تھی سپاٹ چہرہ سرخ سوجی آنکھیں ۔ صندل کی نظر اس پر لمحہ بھر کو تھم گٸ تھی ۔ وہ ساکن سی نظریں صندل پر جماۓ کسی طوفان سے پہلے کی خاموشی کی علامت بنی کھڑی تھی ۔ وہ آج تین دن بعد کمرے سے باہر نکلی تھی ۔ دل اور دماغ کی جنگ ہنوز جاری تھی نا کوٸ جیتا تھا اور نا کوٸ ہارا تھا ابھی ۔
صندل نے جلدی سی نظریں چراٸیں اور بیڈ پر اس کی جگہ بنانے کو پاٶں کمبل سمیت ایک طرف کیے ۔
”آٶ گل رک کیوں گٸ ہو ؟“
صندل نے مسکراتے ہوۓ دروازے پر ساکت کھڑی اوزگل کی طرف دیکھتے بظاہر نارمل لہجہ اپنایا ۔ وہ عجیب طرح سے صندل کو دیکھ رہی تھی ۔ ہنوز اسی حالت میں آہستہ آہستہ چلتی ہوٸ آگے آٸ اور صندل کے قریب بیڈ پر بیٹھ گٸ ۔وہ سر جھکاۓ بیڈ کی چادر کے پھول پر انگلیاں پھیر رہی تھی ۔ دونوں طرف خاموشی تھی ۔
”صندل یہ مت کہنا کہ تم کچھ نہیں جانتی تھی “
اوزگل کی دھیمی سی بھیگی آواز نے خاموشی کو ختم کیا ۔ صندل نے گڑبڑا کر اس کی طرف دیکھا ۔ اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔
”کیا ۔۔۔ کیا جانتی تھی میں ؟“
صندل نے جانتے ہوۓ بھی انجان بن کر سوال کیا تو اوزگل نے سرد سی آنکھیں اس کی آنکھوں میں گاڑ دیں ۔
” یہی کہ ایمیلز مجھے ادی بھیجتا تھا علی نہیں “
اوزگل کا لہجہ سپاٹ تھا پر درد بھرا سا ۔ صندل نے فوراً نظروں کا زاویہ بدلہ ۔
”بولو کچھ “
صندل کے خاموش رہنے پر اوزگل نے سختی سے کہا ۔ صندل نے ندامت چہرے پر سجاۓ سر جھکا دیا
”میں تو اور بھی بہت کچھ جانتی ہوں“
صندل کی آواز بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ پر اب اوزگل کی پیشانی پر تجسس کی لکیریں تھیں ۔
”کیا ۔۔۔۔؟“
سوال کیا اور اس کے چہرے پر نظریں گاڑیں جیسے یہیں سے جواب پڑھ لے گی ۔ وہ ہنوز نظریں جھکاۓ ہوٸ تھی ۔
” یہ کہ ادیان بھاٸ بھی تمہیں ہی چاہتے ہیں اور یقین سا ہے کہ علیدان بھاٸ سے کہیں زیادہ چاہتے ہیں “
وہ بول تو رہی تھی پر نظریں نہیں اٹھا رہی تھی ۔ بات ہی ایسی تھی نظر اٹھا بھی نہیں سکتی تھی ۔ اور واقعی ہی بات ایسی ہی نکلی سامنے بیٹھی اوزگل مجسم کا روپ دھار چکی تھی ۔
اوز وہ ایمیلز میں ہی بھیجتا تھا منگنی سے پہلے بھی اور بعد میں بھی علیدان بھاٸ کو ان کے بارے میں کوٸ علم نہیں ہے ۔ اوزگل کے ذہن میں دیواروں سے ادیان کے الفاظ ٹکرا رہے تھے ۔ جھکڑ سے چلنے لگے تھے ان میں ایمیلز کے اور چیٹ کے الفاظ اڑنے لگے تھے ۔
**********
کار سکول کے آگے کھڑی تھی جارج کا آج سکول میں پہلا دن تھا تو اذفرین علیدان کے ساتھ ہی اسے چھوڑنے آٸ تھی ۔ اور اب واپس آ کر کار میں بیٹھے تھے دونوں ۔ نکاح کو آج تیسرا دن تھا ۔ بس صبح پارک میں ملاقات ہو جاتی تھی۔ اذفرین بس آنے والے وقت کا ہی رونا روتی رہی دو دن اور علیدان اس کے ڈر کو ختم کرنے کی ممکن کوشش کر رہا تھا۔
اسے بھی بیت احتیاط کرنی پڑ رہی تھی کیونکہ اب میر دلاور اور زیب بیگم اس کے یوں بہادر ولاز جانے کو نوٹس کر سکتے تھے۔
”یہ رکھو اذفرین “
علیدان نے کار میں بیٹھتے ہی ایک طرف رکھے موباٸل فون کو اٹھا کر اذفرین کی طرف بڑھایا اذفرین نے موباٸل کی طرف دیکھا اور پھر زور سے نفی میں سر ہلایا ۔ اس نے اس حادثے کے بعد سے کبھی موباٸل استعمال نہیں کیا تھا ۔ پر علیدان کے دو دن بہت مشکل سے گزرے تھے ۔ یہی وجہ تھی وہ اب فون دے رہا تھا ۔ کیونکہ اب وہ بار بار یوں بہادر ولاز تو نہیں آ سکتا تھا ۔
”علیدان نہیں لے سکتی یہ میں کیا کہوں گی آنٹی سے ؟“
اذفرین نے سہمے سے لہجے میں کہا اور نفی میں سر ہلایا ۔علیدان نے بغور اسے دیکھا اور پھر گہری سانس لی ۔ سہی کہہ رہی تھی وہ اتنا مہنگا فون وہ کیا کہتی کس نے دیا ہے ۔
لب بھینچے پر سوچ انداز میں سٹیرنگ کی طرف دیکھا پھر موباٸل واپس دراز میں رکھ دیا ۔
”ٹھیک ہے رات کو فون کروں گا “
علیدان نے پرسکون لہجے میں کہا تو وہ حیرت سے پھر سے علیدان کی طرف دیکھنے لگی ۔ کیا ہے ان کو بات نہیں سمجھ آٸ کیا ۔ وہ اب اذفرین کو ٹیکسی میں بیٹھا کر یہاں سے سیدھا آفس جانے والا تھا ۔
” آپ کو کہا بھی ہے پھر بھی آپ ۔۔۔۔۔“
اذفرین نے بچارگی سے دیکھا ۔ علیدان نے پرسکون انداز میں کار کو سٹارٹ کیا ۔ جبکہ اذفرین ابھی بھی مسلسل علیدان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
”پروسسنگ چھوڑ دو تم مسز۔ز۔ز۔ز۔ز “
علیدان نے مصنوعی گھور کر دیکھا تو وہ بس دیکھتی رہ گٸ۔ جب کہ وہ اب آرام سے کار چلا تھا ۔ پھر کچھ دور اسے ٹیکسی میں بیٹھا کر روانہ کرنے بعد وہ خود آفس کے لیے نکل گیا تھا ۔
********
”تم۔۔۔۔ “
ادیان جھٹکا کھا کر اپنی جگہ سے اٹھا ۔ اوزگل ناک پھلاۓ اس کے کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی ۔
”بات کرنی ہے تم سے مجھے “
اوزگل کا لہجہ سپاٹ تھا وہ بہت عجیب محسوس کر رہی تھی کل سے جب سے صندل نے یہ بتایا تھا کہ ادیان اس سے محبت کرتا ہے اور اب سے نہیں دو سال سے کرتا ہے ۔
”اوزگل پلیز مجھے معاف کر دو “
ادیان نے گردن جھکا کر نادم سا چہرہ نیچے گرا لیا ۔ اوزگل نے ناگواری سے ناک چڑھایا بہت بہت غصہ تھا اسے ادیان پر وہ اسے اپنا سب سے پیارا دوست مانتی تھی ۔
”تم مجھ سے سچ میں محبت کرتے ہو ؟“
روکھے سے لہجے میں سوال کیا ۔ ادیان نے جھکا سر نہیں اٹھایا تھا البتہ آنکھیں زور سے میچ لی تھیں ۔ اوہ کتنا تکلیف دے لمحہ تھا یہ کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ اچانک ہو جانے والی محبت یہ دن بھی دکھاۓ گی وہ سامنے کھڑی ہو گی محبت کا اظہار مانگے گی اور افسوس کرنے کے سوا اس محبت پر اور کچھ نا ہو گا اس کے پاس ۔ ادیان کا دل کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا ۔
”بہت کرتا ہوں “
بہت مدھم آواز تھی جو اوزگل کو بمشکل سناٸ دی تھی ۔ اور پھر ایک زور کا تھپڑ ادیان کے گال پر پڑا تھا ۔ سر ہلکی سی جنبش لے کر پھر اسی جگہ پر آ گیا تھا
وہ تو جیسے اس تھپڑ کو کم سمجھ رہا تھا ویسے ہی کھڑا رہا سر جھکاۓ گردن گراۓ ۔ اور مارو اوزگل اور مارو دل چیخ رہا تھا۔۔
”تو وہ جو ساری باتیں تم مجھے لکھتے تھے وہ تمھارے دل کی محسوسات تھیں بولو ؟“
اوزگل کا اگلا سوال گونجا تو ۔ ادیان نے پھر سے آنکھوں کو بھینچ ڈالا وہ کھڑی تھی جواب کی منتظر پر جواب دینے والا کیا جواب دیتا خاموشی ہی جواب تھی۔
اوزگل کچھ دیر کھڑی رہی پھر پیشانی پر بل ڈالے ناک پھلاۓ باہر نکل گٸ ۔
**********
”اسلام علیکم آنٹی “
علیدان کی آواز پر اذفرین کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ہاتھ میں پکڑا ٹی وی ریموٹ بھی کانپ گیا وہ پھر سے آ گیا تھا ۔ اذفرین شام کے سات بجے ٹی وی کے سامنے بیٹھی تھی کچھ دوری پر ماٸدہ بیگم بیٹھی تھیں۔ جارج کتابوں پر جھکا تھا ۔ علیدان کی آواز پر ماٸدہ بیگم بھرپور طریقے سے مسکراتی ہوٸ چہرے کا رخ موڑے اب علیدان کی طرف دیکھ رہی تھیں ۔
” وعلیکم سلام آٶ بیٹا “
ماٸدہ بیگم نے خوشگوار لہجے میں کہا ۔ علیدان ہاتھ میں گفٹ بیگ پکڑے آیا اور کوٹ کو درست کرتا ہوا صوفے پر براجمان ہوا ۔ وہ شاٸد آفس سے سیدھا ادھر آیا تھا ۔ اذفرین بار بار چور نظر اس پر ڈال رہی تھی ۔
” آنٹی دراصل کچھ دن پہلے دبٸ گیا تھا وہاں سے ایک دوست کی فیمیلی کے لیے گفٹس لیے تھے آیا تو پتا چلا وہ باہر شفٹ ہو گۓ ہیں جارج کا اور آپکا کا خیال آیا تو آپ لوگوں کے لیے لے آیا “
علیدان نے مسکراتے ہوۓ ایسے مٶدب لہجے میں عزر پیش کیا کہ اذفرین کا منہ حیرت سے کھلا پھر جلدی سے منہ بند کیا مبادہ ماٸدہ بیگم اس کو دیکھ لیں ۔
”ارے بیٹا کیا ضرورت تھی “
ماٸدہ بیگم نے لجاجت سے کہا اور اذفرین کی طرف تاٸیدی نظر ڈالی۔ اذفرین نے گڑبڑا کر سر کو زور زور سے ہلایا ۔
”نہیں آنٹی اب تو رشتہ داری ہو گٸ ہے ایسے کیسے آپکو لینا پڑے گا “
علیدان نے معنی خیز انداز میں کہا اذفرین نے پوری آنکھیں کھولیں ۔۔۔کہ کیا کہہ گۓ ہیں ۔ پر ماٸدہ بیگم نے شاٸد الفاظ پر زور نہیں دیا تھا وہ بس مسکرا رہی تھیں سر جھکا کر ۔ علیدان نے موقع دیکھ کر آنکھ کا کونا شرارت سے دبایا وہ اچھل ہی تو پڑی تھی بمشکل حالت کو سنبھالا ۔ ماٸدہ بیگم نے سر اوپر اٹھایا اور جارج جلدی سے کتابیں چھوڑ کر وہاں آ گیا۔
”یہ جارج کے لیے “
علیدان نے ایک پیک ڈبہ جارج کی طرف بڑھایا جو وہ جوش میں آ کر علیدان کے ہاتھ سے پکڑ چکا تھا ۔ پھر بھاگ کر اذفرین کی گود میں بیٹھ گیا ۔
”آنٹی یہ آپکے لیے “
علیدان نے ایک گفٹ ماٸدہ بیگم کی طرف بڑھایا۔ ماٸدہ بیگم نے مسکراتے ہوۓ پکڑا ۔ اب علیدان تیسرا گفٹ یعنی وہی صبح والا فون نکال رہا تھا ۔
”اور یہ آپ کےلیے “
آخری گفٹ اذفرین کی طرف بڑھایا ۔ اذفرین نے دھڑکتے دل کے ساتھ آگے ہو کر فون علیدان کے ہاتھ سے لیا جو اب پیک تھا ۔ اذفرین کو فون پکڑاتے ہی وہ جلدی سے اپنی جگہ سے اٹھا ۔
”میں چلتا ہوں اب دراصل یہ گاڑی میں پڑے تھے سوچا پکڑاتا جاٶں “
علیدان جلدی سے اٹھا ۔ ماٸدہ بیگم نے فوراً سے ہاتھ ہوا میں معلق کیے روکا ۔
”بیٹھو بیٹا کھانا کھا کر جانا ایسے کیسے “
انہوں نے زور دیتے ہوۓ کہا ۔ اور اذفرین کو آنکھوں میں اشارہ کیا ۔ اذفرین جلدی سے صوفے سے اٹھی تھی ۔
”نہیں آنٹی پھر کبھی سہی مما ویٹ کر رہی ہیں شاٸد جانا ہے کہیں میرے ساتھ میں چلتا ہوں “
علیدان نے مسکرا کر اجازت لی اور پھر ایک بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ اذفرین کو نظر بھر کر دیکھا اور باہر نکل گیا ۔ اور وہ لب کو دانتوں میں دباۓ فون کو دیکھ رہی تھی۔
*******
”ہیلو “
فون کان کو لگاۓ آہستگی سے کہا ۔ دل تو فون کے بجنے پر ہی رفتار پکڑ چکا تھا دھڑکنے کی اب تو علیدان کی آواز کانوں میں پڑ گٸ تھی۔ گال گلابی ہو گۓ تھے ۔
”ٹیرس پر آٶ “
علیدان نے ہیلو کے فوراً بعد کہا ۔ حکم صادر ہوا تو قدم بنا سوچے ٹیرس کی طرف چلنے لگے ۔ فون کان کو لگاۓ ٹیرس پر پہنچی تو وہ سامنے کھڑا تھا ایک ہاتھ سے فون کان کو لگاۓ دوسرے ہاتھ کو ناٸٹ ٹرایوزر کی جیب میں ڈالے لبوں پر جاندار مسکراہٹ سجاۓ اس کو پیار سے دیکھتے ہوۓ ۔ بال کچھ پیشانی پر بکھرے تھے ۔ آنکھیں شرارت اور محبت کا امتزاج لیے ہوۓ تھیں ۔
”کیسی ہو ؟“
ملاٸم سے لہجے میں سوال کیا ۔ نظریں سامنے اذفرین پر جمی تھیں ۔ سیاہ رنگ کے جوڑے میں دمکتا سا چندن روپ لیے ۔ شرماٸ سی لجاٸ سی ۔ علیدان کے ایسے دیکھنے کی تاب نا لاتے ہوۓ نظریں پیروں پر جماٸیں ۔
”ویسی ہی جیسی دو گھنٹے پہلے چھوڑ کر گۓ تھے آپ “
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ آہستگی سے جواب دیا ۔ اور پھر پلکیں اٹھاۓ سامنے دیکھا وہ ٹیرس کے جنگلے کو تھامے مسکرا رہا تھا ۔
”نہیں ہر چند منٹس بعد پوچھا کروں گا کیسی ہو دو گھنٹے تو بہت لمبا وقت ہے “
علیدان نے شریر سے لہجے میں کہا ۔ لبوں کو آپس میں جوڑے چاند کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو دیکھو ۔ اذفرین نے فوراً گردن گھماٸ اور چاند کو دیکھا ۔
”اچھا جی ۔۔۔ اب میں جاٶں اندر سردی لگ رہی ہے “
اذفرین نے بازو کو سہلاتے ہوۓ کہا۔ ڈر تو یہ تھا یوں اشارے کرتے کوٸ دیکھ نا لے ۔ ابھی تو دھماکے ہونے تھے ۔ نکاح تو کر بیٹھے تھے ۔ پر آنے والے وقت کی سوچ دل دہلا رہی تھی ۔
” نہیں ایسے ہی کھڑی رہو “
علیدان نے مصنوعی رعب سے کہا ۔ اذفرین کے منہ کھول کر حیران ہونے پر علیدان نے قہقہ لگایا ۔
”فوراً اندر جاٶ سردی نہیں لگنی چاہیے “
علیدان نے ہاتھ سے اشارہ کیا وہ مسکراتے ہوٸ فون کان کو لگاۓ کمرے میں آٸ ۔
”ویڈیو کال پر آٶ “
اگلا حکم صادر ہوا ۔ اذفرین نے فوراً گھوم کر خود کو سنگہار میز کے آٸینے میں دیکھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: