Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 27

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 27

–**–**–

”ابھی ٹیرس پر بھی دیکھ ہی چکا ہوں پیاری ہی لگ رہی ہو ۔ “
علیدان کے شریر سے کہے جملے پر وہ حیران سی ہوٸ ۔ اسے کیسے علم ہوا کہ میں خود کو آٸینے میں دیکھ رہی ہے اس کی نظر سے ۔ حیرت سے منہ وا ہوا تھا پر لبوں پر شریر سے مسکان در آٸ دل گدگدا سا گیا تھا ۔
”چلو کال بند کر رہا ہوں ویڈیو کال کرتا ہوں “
اتنا کہتے ہی کال بند ہو چکی تھی اذفرین نے ابھی کان سے فون نیچے ہی کیا ۔ویڈیو کال کی رنگ ٹون علیدان کے نام سے جگمگانے لگی ۔ دل عجیب طرح سے دھڑکا ۔ پیار سے اس کے نام کو دیکھا جو تین دن پہلے اس کے نام سے جڑ چکا تھا ۔
ایک ہاتھ سے بال درست کرتے چہرے کی خوشی کو تھوڑا سا چھپاتے ہوۓ کال اٹھاٸ ۔
علیدان نے کال ایٹینڈ ہوتے ہی بے تاب سی نظر اس پر ڈالی وہ لبوں پر امڈ آنے والی دلفریب مسکراہٹ کو بار بار چھپا رہی تھی۔ کتنا دلکش تھا یہ انداز اس کا یوں پلکیں لرزاتی شرماٸ سی دل کے دھڑکنے کی رفتار کو بڑھا گٸ تھی۔ یہ رنگ و روپ ، یہ معصومیت یہ حسن یہ مبہم سی مسکان سب اس کے لیے تھے ۔
”ویڈیو کال پر اس لیے نہیں بلایا کہ تم پلکیں ہی اوپر نہ اٹھاٶ ایسا لگ رہا جیسے کوٸ تصویر دیکھ رہا ہوں “
علیدان نے کان کھجاتے ہوۓ مسکراہٹ دباٸ ۔ حالت تو خود کی بھی غیر ہونے لگی تھی حق کا رشتہ بھی عجیب ہوتا ہے بے تابیوں کو کم کرنے کے بجاۓ بڑھا دیتا ہے یہی حال تھا اس کا جب تک اس کی نہیں تھی اور بات تھی اب اس کی تھی ہر طرح سے تو بے چینی اور بے تابیاں بڑھ گٸ تھیں ۔
علیدان ابھی بھی ٹیرس پر ہی کھڑا تھا۔ اس لیے اس کی طرف کی ویڈیو اندھیرے میں ڈوبی سی تھی۔ اذفرین نے دھیرے سے پلکوں کی جھالر کو اٹھاۓ ہاتھ میں پکڑے موباٸل سکرین کی طرف دیکھا علیدان اب کمرے کی طرف جا رہا تھا ۔
”اپنا کمرہ دیکھو گی ؟“
علیدان نے ہنستے ہوۓ اس کی جھجک ختم کرنے کے لیے پوچھا ۔ اذفرین نے خوشگوار انداز میں سر کو جنبش دی ۔ علیدان موباٸل کا کیمرہ دوسری طرف گھما چکا تھا ۔ کافی بڑا کمرہ تھا وہ ٹیرس کے دروازے میں کھڑا تھا اس لیے پورے کمرے کا منظر موباٸل سکرین پر باخوبی نظر آ رہا تھا۔ کمرہ روشن تھا
ہلکے نیلے رنگ کی دیواریں تھیں جن میں ایک طرف کی دیوار لمباٸ کے رخ سفید دھاریوں والی تھی۔ نفیس سادہ سا ہلکے بھورے رنگ کا فرنیچر اور دھاری والی دیوار پر لگی عجیب طرز کی کلاسک پینٹینگز اس کے اعلیٰ ذوق کا پتا دے رہی تھیں ۔ وہ اب آہستہ آہستہ چلتا ہوا کمرہ دکھا رہا تھا ۔
بیڈ پر بھی سفید اور نیلے ملاپ کی چادر کمرے کی دیوراوں کے ہم رنگ ہو کر خوبصورتی میں اضافہ کر رہی تھی ٹیرس میں کھلتے دروازے کے بلکل ساتھ داٸیں طرف بڑی سی کھڑکی کے آگے مخملی سفید پردے تھے جن پر نیلے رنگ کی دھاریاں تھیں ۔ ایک طرف کتابوں کا رینک تھا جن میں بہت سی کتابیں ترتیب سے رکھی ہوٸ تھیں اور ایک طرف جدید طرز کا سٹڈی میز جس پر لیپ ٹاپ اور سٹڈی لیمپ موجود تھا ۔ بیڈ کے اطراف میں لگے چھوٹے میزوں پر نفیس لیمپ موجود تھے ۔
کمرے کے ایک طرف ڈریسنگ روم تھا جہاں چھت سے لے کر زمین تک لکڑی کی الماری دیوار میں نسب تھی ۔ کیمرہ اب نیچے کیا تو کمرے کی سفید شفاف ٹاٸلز پر جناب اس وقت ننگے پاٶں کھڑے تھے ۔ اذفرین کے لبوں پر مسکراہٹ ابھر گٸ ۔
”کیسا ہے ؟“
وہ کھوٸ کھوٸ سے کمرے کو دیکھ رہی تھی جب اچانک کیمرہ علیدان نے اپنی طرف موڑا ۔ سمٹ کر اس کی طرف دیکھا ۔ اس کی آنکھوں کی چمک اور لبوں پر مزین دلکش سی مسکراہٹ اس کمرے سے اس کا اچانک سے بن جانے والا تعلق باور کروا رہی تھیں ۔
”بہت پیارا ہے “
مدھر سی مدھم آواز ابھری ۔ وہ گلابی تپتے گالوں اور اس کے یوں گہری نگاہوں سے دیکھنے کی وجہ سے بمشکل بول پا رہی تھی ایسے جیسے وہ اس وقت اس کمرے میں اس کے سامنے موجود ہو ۔ اسکے ایسے انداز پر علیدان نے خفیف سا قہقہ لگایا ۔
”کچھ نہیں پسند ہو گا تو اپنی پسند سے تبدیل کر لینا تمھارا ہی کمرہ ہے “
علیدان نے شرارت سے دیکھتے ہوۓ کہا تو وہ جھینپ گٸ ۔
وہ اب بڑے آرام سے بیڈ پر لیٹ کر موباٸل کو اوپر کیے بات کر رہا تھا ۔ سر تکیے پر دھرا تھا جس کی وجہ سے پیشانی پر آۓ بال اب پیچھے کو گر گۓ تھے ۔
”تم کیا ساری رات ایسے کھڑی رہی ہو گی جا کر بیڈ پر لیٹ کر بات کرو “
علیدان کی بات پر گڑ بڑا کر ارد گرد دیکھا ۔ دل اس کی ساری رات والی بات پر اٹک گیا ۔ ساری رات کیسے بات کر سکتی تھی یوں ۔ دل کی دنیا تو ویسے ہی اتھل پتھل ہوٸ پڑی تھی ۔ اب کیا ساری رات ان نظروں سے دیکھ کر جان لینے کا ارادہ تھا محترم کا ۔
”کیا ساری رات بات کرنی ہے آپکو ؟ “
گھٹی سی آواز میں تھوک نگل کر کہا ۔ انداز تھوڑا حیرت لیے ہوۓ تھا۔ دوسری طرف علیدان اپنے مخصوص انداز میں آبرو چڑھاۓ ۔
”ہاں تو کیوں نیند آ رہی ہے کیا ؟“
ملاٸم سے لہجے میں اس کی حالت سے محذوز ہوتے ہوۓ پوچھا ۔ دلچسپی سے اس کے یوں شرمانے گھبرانے کو دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا ۔
”جی آ رہی ہے “
اذفرین نے نظریں چراتے ہوۓ جھوٹ بول کر جان چھڑانی چاہی ۔ ایسے دیکھنے سے ایک پل کے لیے بھی آنکھیں اٹھ نہیں پا رہی تھیں ۔
”تو ایک کام کرو خود لیٹ جا ٶ اور سامنے موباٸل کو اس طرح سے سیٹ کرو کہ تمھارا چہرہ دیکھ سکوں پھر بھلے سو جانا “
علیدان نے مصنوعی سنجیدگی سجا کر کہا ۔ اذفرین نے حیرت سے دیکھا ۔ وہ سوچ رہی تھی ابھی کہیں گے ٹھیک ہے سو جاٶ کل بات کریں گے پر یہاں تو اور پھنس کر رہ گٸ تھی ۔ وہ بھر پور طریقے سے تنگ کرنے کے موڈ میں تھا ۔
” علیدان یہ کیا بات ہوٸ “
خفگی سے کہا ۔ پر وہاں کوٸ اثر نہیں تھا چہرہ ویسے ہی سنجیدہ تھا اور مخمور آنکھیں منتظر تھیں۔ انداز ایسا تھا جیسے اس کی حالت پر کوٸ ترس نہیں جناب کو ۔
”یہی بات ہوٸ نا کرو ایسا شاباش میں پھر سے کال کرتا ہوں تب تک “
علیدان نے حکم دیا اور پھر کال بند کر دی ۔ا ذفرین نے حیرت سے اردگرد دیکھا ۔ یہ عجیب دھونس ہوٸ اب۔ پر حکم تھا کہ ٹالا نہیں گیا ۔
پھر بیڈ پر ایک تکیے کے ساتھ موباٸل کو چہرے کے سامنے ٹکا کر وہ کروٹ لیے لیٹ چکی تھی ابھی تکیے پر سر رکھا ہی تھا جب پھر سے کال آنے لگی ۔ ہاتھ بڑھا کر کال کا بٹن دبایا تو وہ بھی اسی انداز میں موباٸل سیٹ کیے کروٹ پر لیٹا تھا ۔ ایک ہاتھ چہرے کے نیچے رکھے ۔ محبت بھری دلکش سی مسکراہٹ دونوں طرف بکھر گٸ ۔ اذفرین کبھی پلکیں اٹھا کر دیکھتی اور پھر مسکراتے ہوۓ جھکا دیتی ۔
ابھی بات کیوں نہیں کر رہے ۔ تکیے پر رکھے ہاتھ سے دھیرے سے تکیے کے کونے کو پکڑا ۔ اور نظریں اٹھاٸیں وہاں وہ محبت بھری نظروں سے دیکھنے میں مصروف تھا ایک پل کو ایسا لگا جیسے وہ یہیں ساتھ لیٹا ہو ۔ اندر سب کچھ سمٹ سا گیا ۔
” بابا آسٹریلیا جانے نہیں دے رہے میں بھرپور کوشش کر رہا ہوں “
علیدان نے سنجیدہ سے لہجے میں کہتے ہوۓ خاموشی کو توڑا ۔ وہ اذفرین سے سعد کا نمبر اور گھر کا پتہ لے چکا تھا پر بات فون پر کرنے والی ہرگز نہیں تھی ۔ اس لیے وہ کوشش کر رہا تھا کہ وہ آسٹریلیا جاۓ ۔اور سعد کو اعتماد لے پر اس وقت گھر میں بہت سرد مہری چل رہی تھی ۔ میر دلاور نے اس سے بول چال بند کر رکھی تھی ۔
”مجھے بہت ڈر لگتا ہے سب کیسے ٹھیک ہو گا “
اذفرین کے گلابی گال ایک پل میں ہی زرد پڑے تھے ۔ علیدان کی محبت کچھ پل کے سب کچھ پسِ پشت ڈال تو دیتی تھی پر اچانک یاد آ جانے پر سب کچھ خوف کے سایے پھیلانے لگتا تھا ۔عیلدان نے اس کے چہرے پر پھیلتے اندھیرے کو دیکھا تو اپنی غلطی کا احساس ہوا اسکو یوں پریشان ہی تو دیکھا نہیں جاتا تھا اس سے ۔
”ہو جاۓ گا تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے بلکل آج کے بعد کبھی ایسا اداس چہرہ نا دیکھوں میں “
علیدان کے رعب دار لہجے میں کہے گۓ حکم پر جیسے اندر تک سکون اتر گیا تھا ۔ مسکرا کر علیدان کی طرف دیکھا ۔
” سنو “
علیدان نے آنکھ کے اوپر انگلی پھیرتے ہوۓ مصنوعی پریشانی چہرے پر طاری کی جبکہ لبوں میں چھپی مسکراہٹ شرارت کا پتہ دے رہی تھی ۔
”جی “
علیدان کے یوں بھیگے سے لہجے میں پکارنے پر دل کی ٹرین پھر سے پٹڑی پر چڑھ گٸ تھی ۔
”کندھے کا زخم ٹھیک ہے اب ؟ “
محبت سے پوچھا ۔ اذفرین نے بغور علیدان کے انداز کو بھانپا آنکھوں کی شرارت چہرے کی سنجیدگی کا ساتھ بلکل نہیں دے رہی تھی ۔
”جی ٹھیک ہے بلکل “
اذفرین نے آہستگی سے جواب دیا ۔ہیتھیلی علیدان کے اس طرح دیکھنے پر بھیگنے لگی تھیں ۔
”دکھاٶ تو پھر ، مجھے یقین نہیں تمھاری بات کا “
علیدان کی بے خود سی آواز پر اذفرین کے دل نے جگہ چھوڑ کر ڈبکیاں لگانا شروع کر دی تھیں ۔ پلکیں من من بھاری ہو گٸ تھیں تو کان کی لو تک گرم ہونے لگی ۔
”سو جاٸیں اب صبح جاگنگ کے لیے جانا ہے آپکو “
جلدی سے بات بدلی اور لہجہ اسطرح نارمل کیا جیسے کچھ سنا ہی نا ہو کیا کہا۔ پر چہرے کے رنگ اور پلکوں کے لرزنے سے اندر کی حالت چھپی ہوٸ نہیں تھی ۔
”خبردار جو کال بند کی “
علیدان نے خفگی سے اس کے کال بند کرتے ہاتھوں کو دیکھ کر کہا ۔ اذفرین نے جھجک کر پلکیں اوپر اٹھاٸیں تو مخمور نگاہیں جذبات کی رو میں بہہ چکی تھیں ۔
” علیدان یہ کیا بات ہوٸ “
گھبراٸ سی آواز میں بمشکل کہا ۔ دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو رہی تھی ۔
”یہی بات ہوٸ جو کہہ رہا ہوں وہ کرو ، زخم دکھاٶ “
وہاں تو وہ ڈھیٹ ہو چلا تھا ۔ اذفرین نے خفگی سے گھورا ۔ اور اس کی آنکھوں کی تاب نا لاتے ہوۓ فوراً کال بند کر دی ۔ دونوں طرف کروٹ سیدھی ہو گٸ تھی ۔ دونوں کی آنکھیں اب چھت ہر جمی تھیں ۔ دونوں طرف ہی لبوں پر نرم سی دلکش مسکراہٹ تھی ۔ اور سانسیں تیز چل رہی تھیں ۔
دیکھ کر تم کو یقیں ہوتا ہے
کوٸ اتنا بھی حسیں ہوتا ہے
دیکھ پاتے ہیں کہاں ہم تم کو
دل کہیں ہوش کہیں ہوتا ہے
جب سامنے تم آ جاتے ہو۔۔۔
نا جانٸیے کا ہو جاتا ہے
کچھ مل جاتا ہے کچھ کھو جاتا ہے
نا جانٸیے کیا ہو جاتا ہے
***********
علیدان کے قدم صندل کے کمرے کے باہر تھم گۓ تھے ۔ کمرے کے دروازے سے باہر سناٸ دینے والی سرگوشی تھی ہی ایسی کہ کسی کے بھی قدم جم جاتے ۔
علیدان صندل کی چوٹ کا پوچھنے کے لیے اس کے کمرے کی طرف آیا تھا جب دروازے کھولنے سے پہلے ہی اندر سے صندل اور ادیان کی باتوں کی آواز نے قدموں کو تھمنے پر مجبور کر دیا تھا ۔ وہ اب خاموشی سے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے کھڑا تھا ۔
”بھاٸ شکر کریں آپکو تھپڑ مارا علیدان بھاٸ کو کچھ نہیں پتا چلا “
صندل نے ادیان کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا۔ وہ پریشان حال سا صندل کے سامنے کھڑا اوزگل کے ردعمل کے بارے میں بتا رہا تھا ۔ دو دن سے دل پر ایک بوجھ سا بن گیا تھا ۔
”میں کیا کروں مجھے شرمندگی ہوتی ہے وہ کیا سوچتی ہو گی کہ اس سے محبت کرنے والا ، اس کو ایمیلز بھیجنے ولا میں ہوں علیدان بھاٸ نہیں “
ادیان نے سر جھکاۓ کہا اور پھر بے چینی سے ارد گرد دیکھا ۔ سامنے کھڑی صندل اس کی تکلیف کو باخوبی سمجھ سکتی تھی ۔ ایک وہی تو تھی اس کی غمگسار ۔
”صندل وہ بہت ٹوٹ گٸ ہے پھر سے ٹوٹ گٸ ہے ، اور مجھ سے یوں اسے ٹوٹا بکھرا ہوا نہیں دیکھا جاتا جو بھی ہے میں اس سے محبت کرنا نہیں چھوڑ پا رہا “
آواز میں دکھ بھی تھا پر محبت اور چاہت کا کرب شامل تھا ۔
مجبوری اور بے بسی اس کے لہجے سے جھلک رہی تھی ۔
”ادیان بھاٸ آپ اب پریشان ہونا چھوڑ دیں ان کے لیے پلیز ، دیکھۓ گا علیدان بھاٸ سے شادی ہونے کے بعد وہ بلکل ٹھیک ہو جاۓ گی “
صندل نے منت سماجت کے انداز میں کہا ۔ باہر کھڑا علیدان حیران تھا ۔ وہ تو کل رات ہی سوتے ہوۓ سوچ رہا تھا کہ اسے اب اوزگل سے بات کرنی ہے ۔ پر یہاں تو سب کچھ بدل گیا تھا ۔ اسے اب کچھ اور سوچنا تھا ۔ اوزگل سے بات کرنا ضروری ہو گیا تھا پر ابھی بھی ایک کشمکش تھی جس کے لیے ہمت بن بن کر ٹوٹ جاتی تھی کہ اوزگل اس سے محبت کرتی ہے اور وہ بکھر جاۓ گی ۔
علیدان نے گہری سانس لی اور بوجھل سے قدم واپسی کے لیے بڑھاۓ ۔
************
ڈوبتے سورج کی شربتی سی روشنی کمرے کی کھڑکی سے چھن کر کمرے کے سفید فرش پر لکریں بنا رہی تھی ۔ جیسے جیسے شام ہو رہی تھی خنکی بڑھ رہی تھی اوزگل بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی سامنے لیپ ٹاپ کی سکرین پر نظریں جماۓ ہوٸ تھی ۔ آنکھوں میں عجیب سی اداسی کا بسیرا تھا ۔ ہلکی سی نم آنکھیں جہاں لفظوں کے عکس اس نمی میں تیرنے لگے تھے ۔
جو ہے قبلہ گاہِ نگا ہ و دل ، اسی سنگِ در کی تلاش ہے
جو ترے حضور جھکا رہے، مجھے ایسے سر کی تلاش ہے
اسی کشمکش میں ہے زندگی ، اسی رد و کد میں ہے آدمی
کبھی دردِ دل کی ہے آرزو، کبھی چارہ گر کی تلاش ہے
ترے حسن سےجو طلوع ہو، ترے نور سے جو شروع ہو
مجھے ایسی ضو کی ہے جستجو، مجھے اس سحر کی تلاش ہے
یہ ہوائے شام و سحر کہین ہمیں اور سمت نہ لے اڑے
تری رہگزر کی ہیں خاک ہم ، تری رہگزر کی تلاش ہے
جو حسیں بھی پردہ نشیں بھی ہو، مری آرزو کا امیں بھی ہو
مجھےڈھونڈنا ہے کہیں بھی ہو، مجھے اس کے در کی تلاش ہے
جسے دیکھنے کی طلب رہی ، کبھی میری جس نے خبر نہ لی
مرے دل کا چین تو ہے وہی، اسی بے خبر کی تلاش ہے
کہیں اور اپنا گزر نہیں ، کہیں اور جائیں نصیر کیوں
وہی ایک در ہے نگاہ میں ، اسی ایک در کی تلاش ہے
لیپ ٹاپ سکرین پر نگاہیں بار بار ادیان کی سال پہلے بھیجی گٸ نظم پر مرکوز تھیں ۔ وہ یہ نظم پڑھ ہی کہاں رہی تھی ، وہ بیٹھا سنا رہا تھا سامنے ، مسکرا رہا تھا ، زخمی سی مسکراہٹ دل کی تکلیف کو ظاہر کرتی مسکراہٹ ۔
تو ادیان تم تھے وہ جو مجھ سے محبت کرتے تھے ۔ میرے دل میں محبت کا بیج بونے والے ، مجھے اس انوکھے سے احساس سے روشناس کروانے والے ، میری کتابوں میں چوری چھپے پھول رکھ دینے والے اور میں نے بنا جانے بنا پہچانے خود سے ہی یہ سوچ لیا کہ وہ علیدان ہے ۔
مجھے علیدان سے تو شاٸد کبھی محبت تھی ہی نہیں ۔۔۔ مجھے تو ان ایمیلز بھیجنے والے ، کتابوں میں چوری چھپے پھول رکھ دینے والے سے محبت ہوٸ تھی ۔ تمھاری طرف پہلا خیال گیا ہی نہیں کبھی ، تم تو ہر وقت لڑتے جھگڑتے بچوں کی طرح دوستوں کی طرح تھے جان ہی نا سکی کہ یہ جذبات تمھارے ہیں میرے لیے ۔
پر اب جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے عجیب سی بے کلی ہے ۔ دن رات تمھاری باتوں کو تمھارے چہرے کے عکس سے پڑھتی رہتی ہوں ۔ وہ سارے لفظ جو علیدان کو خیالوں میں لا لا کر پڑھا کرتی تھی اب اگر کوشش بھی کروں وہ نہیں آتا تخیل میں بناتی ہوں۔۔۔۔۔ بہت بار اسے بناتی ہوں۔۔۔۔۔ بنا کر سامنے بیٹھاتی ہوں ، پر جیسے ہی سوچنے کا سلسلہ شروع کرتی ہوں وہاں چھن سے تم چلے آتے ہو ۔
وہ بے ربط سوچے ہی جا رہی تھی اور یہ حال پچھلے تین ہفتوں سے تھا اس کا ۔ اس کے گال پر تو بے اختیار خود سے ہو جانے والی محبت طمانچہ رسید کر آٸ تھی پر خود سی نظریں نہیں ملا پا رہی تھی سوتی تھی تو خوابوں میں ادیان تھا ۔ اٹھتی تھی باہر نکلتی تھی وہ کہیں ٹکرا جاتا تھا ۔ نظریں جھکا کر ایسے بھاگ جاتا جیسے وہ اتنی مقدس ہو کہ اس کے سامنے سے بھی گزر جانے سے کوٸ گناہ سرزرد ہو جاۓ گا ۔
اللہ نے عجیب ہی مخلوق بنایا ہے عورت کو پیار کی بھوکی توجہ کی بھوکی بس فقط یہی تو چاہیے ہوتا اسے ۔ اس کا بھی کچھ یہی حال تھا آجکل جب سے پتا چلا کہ سب ادیان کر رہا تھا ذہن پتا نہیں کیوں ہر بات مثبت لینے لگا تھا ۔ ہر لمحہ ہر پل یاد آنے لگا تھا ادیان ہی تو تھا اس کے ساتھ ہر پرانی یاد میں ۔
اس کی ہر خوشی ہر غم میں اس کے قہقوں پر رقص کنعاں اور اس کے آنسوٶں پر ماتم کنعاں صرف ایک ہی شخص کو پایا اس نے اپنے ارد گرد بے لوث محبتیں لٹاتے دیکھا ۔
وہ ادیان دلاور تھا ہمیشہ ادیان دلاور ۔۔۔ علیدان دلاور تو کبھی نہیں تھا کہیں بھی ، کبھی بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ دور دور تک یاد نہیں پڑتا علیدان نے کبھی اس سے ڈھنگ سے بات بھی کی ہو ۔ اچانک موباٸل پر رنگ بجنے پر وہ جیسے خیالوں سے باہر آٸ سنبل کی کال تھی ۔
اوہ میرے خدا میں یہ کیا سوچے جا رہی تھی ۔ عجیب سا احساس ہو شادی علیدان سے ہونے والی تھی اور وہ یوں اب جا کر ادیان سے محبت کے بارے میں سوچنے لگی تھی ۔ جلدی سے سر کو جھٹکا پر دل تو وہیں جم کر کھڑا تھا ٹس سے مس نہ ہوا ۔ پہلے مسکرایا اور پھر قہقے لگانے لگا زور زور کے قہقے بہت زور زور کے اور وہ سر جھکاۓ کھڑی تھی بے بس لاچار ۔۔۔۔
*********
”رونا بند کرو اذفرین “
علیدان یہ فقرہ اب تیسری بار دھرا رہا تھا ۔ وہ آفس میں بیٹھا تھا اور کرسی سے پشت ٹکاۓ دھیرے دھیرے جھول رہا تھا ۔ لبوں پر اس کی اس پریشانی پر بھی مسکراہٹ تھی ۔ جب سے نکاح ہوا تھا وہ بہت سی باتوں پر حق جتانے لگی تھی ۔
دس منٹ سے مسلسل فون کان کو لگاۓ وہ اذفرین کی سسکیاں سن رہا تھا ۔ کل رات شادی کی تاریخ طے ہو چکی تھی ۔ اس کا رو رو کر برا حال تھا ۔جبکہ علیدان پر سکون تھا ۔
شادی کو اب دو ماہ ہی تو رہ گۓ تھے شادی کی تیاریاں شروع ہو چکی تھیں ۔ وہ رات بھر بھی یوں ہی روتی رہی تھی ۔
گو کہ نجف کی طرف سے ابھی کوٸ جواب نہیں آیا تھا کہ وہ پہنچ پاۓ گا کہ نہیں پر ماٸدہ بیگم پر یقین تھیں کہ وہ آ جاۓ گا اس لیے تین جوڑوں کی شادی کے دن رکھ دیے گۓ تھے ۔
”علیدان کچھ بھی ٹھیک نہیں ہو رہا “
پھر سے ہچکی بندھ گٸ ۔ بیڈ کی چادر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ آنسوٶں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑا ۔
وہ کیوں اتنا پرسکون تھا ۔ نکاح کو ہوۓ ایک ماہ کا وقت پر لگا کر اُڑ گیا تھا ۔ علیدان کی محبت کی سرشاری میں وقت گزرنے کا پتا ہی نہیں چلا ۔ پر آج جب شادی کی تاریخ طے ہوٸ تھی تو وہ پھر سے خوف کے حصار میں آ چکی تھی ۔
سعد بھاٸ بھی چھٹی کے لیے اپلاٸ کر چکے تھے ۔ اذفرین کو تو سوچ سوچ کر سانس خشک ہو رہا تھا ۔
” میں تمہیں بتا تو چکا ہوں کہ کچھ بھی نہیں ہو گا میں سب سیٹ کر دوں گا “
علیدان کی پرسکون سی آواز فون میں سے ابھری ۔ جس پر وہ چڑ گٸ ۔ روہانسی صورت بناۓ لبوں کو کچلا ۔
”تاریخ رکھ دی ہے شادی کی اور آپ کہہ رہے ہیں کچھ نہیں ہوا مجھے تو لگتا ہے آپ گل سے بھی شادی کر لیں گے “
اذفرین نے روتے ہوۓ مگر غصے کی حالت میں کہا پر دوسری طرف تو اس بات پر وہ قہقہ لگا گیا تھا ۔ اس کا یوں حسد کرنا اندر تک سکون اتار گیا تھا
”تو تم ، خود بھی تو یہی کہتی تھی پہلے کہ میں شادی کر لوں اوزگل سے اب کیا مسٸلہ ہے “
علیدان نے شریر لہجے کو چھپاتے ہوۓ بظاہر سنجیدہ لہجے میں پوچھا ۔علیدان کے بات پر تو جیسے اس کے آنسوٶں کو بریک لگ گٸ ۔ وہ تو اب بھی ہنس رہا تھا ۔
اذفرین نے فون کو بند کیے زور سے بیڈ پر پٹخ دیا ۔ فون اچھلتا ہوا ایک طرف جا گرا ۔ اب اس پر بار بار بل بج رہی تھی ۔ پر وہ فون نا اٹھانے کا تہیہ کر چکی تھی ۔
**********
کمرے کی کھڑکی کے پردے پیچھے کرتے اوزگل کے ہاتھ رک گۓ تھے ۔ نظریں بے اختیار تھم گٸ تھیں ۔ دل کے دھڑکنے کا انداز بدلہ تھا
ادیان لان میں جارج کے ساتھ بیڈ منٹن کھیل رہا تھا ۔ بال بکھرے ہوۓ تھے ۔ ہلکی سی شیو بڑھا رکھی تھیں ۔ وہ آج کتنے دن بعد اسے دیکھ رہی تھی ۔ اس کا ہر انداز دل کو بھانے لگا تھا ۔ وہ جارج کی کسی بات پر ہنس پڑا تھا ۔
کتنے مضبوط ہوتے ہیں یہ لڑکے جتنا بھی ٹوٹ جاٸیں بکھر جاٸیں اپنے اندر کے حالات دوسروں پر ظاہر نہیں ہونے دیتے اور ایک ہم لڑکیاں ہیں ۔ جو بکھر جاٸیں تو انگ انگ چیخ چیخ کر داستاں سنانے لگتا ہے ۔ آنکھیں یک ٹک اسے دیکھ رہی تھیں ۔ اور دماغ سوچوں میں الجھا ہوا تھا ۔
کل شادی کی تاریخ رکھ دی گٸ تھی ۔ پر اس کے اندر سورج طلوع ہو چکا تھا ۔ ایسی سرمٸ اداسی میں ڈوبی شام ہوٸ تھی جس کی کوٸ سحر نہیں ہوتی ۔
سنبل تو اسے بار بار کہہ چکی تھی کہ وہ علیدان سے بات کرے اسے کہہ دے کہ وہ اس سے محبت نہیں کرتی وہ ادیان سے محبت کرنے لگی ہے اور ادیان اس سے محبت کرتا ہے اسے جیسا ہمسفر چاہیے وہ ادیان ہے وہ نہیں پر ہمت نہیں ہوتی تھی ۔ سارا سارا دن وہ کمرے میں بند رہتی تھی ۔ الجھی رہتی تھی۔
دل تھا کہ جو کہتا تھا جاۓ اور ادیان کو جھنجوڑ کر کہہ دے وہ اس سے محبت کرنے لگی ہے ۔۔۔ نہیں نہیں بلکہ وہ تو کرتی ہی اس سے تھی محبت پر کیسے کہے اور باقی سب کیا سوچیں گے
افف خدایا کیا ہو گیا ہے مجھے اپنی سوچوں پر سر پکڑے وہ جلدی سے پردے کو چھوڑ کر ایک طرف آ کر بیڈ پر ڈھنے کے انداز میں بیٹھ گٸ ۔ سوچوں پر اختیار کیوں نہیں رہا تھا ۔
*********
جارج کو سلانے کے بعد وہ گردن کے پیچھے ہاتھ رکھے اُسے دباتے ہوۓ اپنے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی ۔ علیدان سے ناراضگی میں اپنے ہی اعصاب شل کیے ہوۓ تھی۔ وہ آج صبح سے اوزگل والی بات کے بعد سے علیدان کا فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔
ابھی اپنے کمرے کے پاس ہی پہنچی تھی کہ پیچھے سے کسی کے قدموں کی آواز پر بدک کر مڑی علیدان کو دیکھ کر بمشکل چیخ پر قابو پایا جو بے ساختہ نکلنے والی تھی ۔
وہ پرسکون سے انداز میں کھڑا تھا ۔ اذفرین نے سینے پر ہاتھ رکھے سانس کو بحال کیا اور بھنوں کے درمیان پیشانی پر خفگی کے شکن نمایاں کۓ ۔
”علیدان جاٸیں پلیز آپ نے کہا تھا میں اب کبھی ایسے نہیں آٶں گا “
خفگی کے ساتھ ساتھ گھبراہٹ بھی شامل تھی ۔ نکاح کے بعد وہ یوں پہلی دفعہ علیدان سے خفا ہوٸ تھی ۔ بات ہی ایسی تھی وہ کیوں بات کو لٹکاۓ ہوۓ تھا اس کی سمجھ سے باہر تھا۔
”فون نہیں اٹھاٶ گی تو کیا کروں بولو “
علیدان نے اس کی خفگی اور گھبراہٹ کو یکسر نظر انداز کیا اور قدم کمرے کی طرف بڑھا دیے ۔ اذفرین نے چور سی نظر ارد گرد ڈالی اور پیچھے ہی کمرے کا رخ کیا ۔
”فون کیوں نہیں اٹھا رہی “
محبت سے اذفرین کی خفا سی صورت دیکھی ۔ وہ کمرے میں آکر پیشانی پر بل ڈالے چہرے کا رخ موڑے کھڑی تھی ۔
” آپ کو یاد نہیں کیا کہا آج صبح آپ نے “
اذفرین نے خفگی سے جواب دیا ۔ نظریں کھڑکی پر لگے پردوں کے بلوں پر ٹکاۓ ہوٸ تھی ۔
” تو ایسا بھی کیا کہہ دیا تھا دیکھو نہ ایک شادی تم سے کروں گا اپنی مرضی سے ، ایک شادی گھر والوں کی مرضی سے کرنی پڑے گی “
مصنوعی سنجیدگی کی انتہا کو چھوتے ہوۓ ایسے کہا کہ اذفرین کے چہرے کی ہواٸیاں اڑ گٸیں ۔ وہ جو صبح والی بات کو فقط ایک مزاق سمجھے نخرے دکھا رہی تھی وہ مزاق نہیں نکلی تھی دل ایک دم ڈوب ہی گیا تھا ۔ کانوں کو اس کی بات پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔
آنکھوں سے بھل بھل آنسو ٹپک پڑے ۔ وہ جو اس کے فون نا اٹھانے پر اسے تنگ کرنے کا پرگروام بنا کر آیا تھا اذفرین کے یوں رونے پر بوکھلا کر آگے بڑھا ۔
”مزاق کر رہا ہوں پاگل ۔۔۔۔ “
اس کے رونے کا انداز ہی ایسا تھا کہ بے ساختہ وہ اسے باہوں کے حصار میں لے چکا تھا ۔ تھورڈی محبت سے اس کے جھکے سر پر ٹکا دی ۔ پر وہاں تو جیسے کوٸ اثر ہی نہیں تھا ۔ وہ ہنوز اس کے سینے میں چہرہ چھپاۓ روۓ جا رہی تھی ۔
بھلا کوٸ ایسا بھی جان لیوا مزاق کرتا ہے کیا ۔ پتا نہیں کیسا احساس تھا پر اس شخص کو وہ کسی سے بانٹنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی اب اس کی شرٹ کو آنسوٶں سے بھگوتی وہ پورے حق سے اس کے سینے سے لگی کھڑی تھی ۔
”تم صرف تم ۔۔ نہ تم سے پہلے کوٸ تھی اور نہ تمھارے بعد کوٸ ہو گی ۔ جنت میں میری زوجین کے لگاۓ گے تخت پر ملکہ بن کر صرف تم ہی بیٹھی ہو گی “
علیدان اب تھوڑا سا چہرہ جھکاۓ اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا ۔ اذفرین کا رونا اب ہلکی ہلکی سسکیوں میں بدل چکا تھا ۔ گرم سی سرگوشی دل کی دھڑکنوں کو بے ترتیب کر رہی تھی تو اس کی محبت کی چاشنی میں ڈوبی آواز اور قربت روح کو سکون بخش رہی تھی ۔
وہ اب مکمل پرسکون ہو گٸ تھی پر چہرہ ہنوز چھپاۓ ہوۓ تھی ۔ علیدان کے چہرے پر پھر سے شریر سی مسکراہٹ امڈ آٸ ۔
” ہاں یہاں تو دل پر پتھر رکھ کر صرف ایک تمہیں برداشت کروں گا پر وہاں پھر ستر حوریں تمہیں برداشت کرنی ہوں گی “
شریر سے لہجے میں کی گٸ سرگوشی پر اذفرین نے ایک جھٹکے سے سر اٹھایا تھا اور پھر مکوں کی بارش تھی جو علیدان کے سینے پر ہو رہی تھی ۔
”ارے ارے ۔۔۔ بس بس یار عجیب بیوی ہو حوریں بھی برداشت نہیں “
علیدان نے بمشکل اس کی کلاٸیاں تھام کر اسے روکا ۔ آنکھیں بھیگی ہوٸ تھیں اور چہرہ خفا سا تھا ۔ پر لب اب مسکرا رہے تھے ۔ ایسے جیسے بارش کے بعد ہلکی ہلکی باد نسیم ہو ۔
”ادیان اوزگل سے محبت کرتا ہے “
آہستگی سے کہے فقرے پر اذفرین نے حیرت سے آنکھیں پھیلاٸیں۔ علیدان نے دھیرے سے لب بھینچے سر کو اثبات میں ہلا کر اس کی حیرت کا جواب دیا ۔
”پر اس سے کیا ہو گا گل تو شاٸد ۔۔۔۔“
اذفرین نے بھیگی سی آواز پر کہا ۔ اور دل اوزگل کے لیے پھر سے اداس ہوا ۔ اس کی اس بات پر علیدان بھی سوچ میں پڑ گیا تھا ۔ دھیرے سے اس کی کلاٸیوں پر گرفت ختم کی ۔
”اچھا میں جاتا ہوں فون اٹھاٶ اب “
ہلکے سے مسکرا جر اس کے گال تھپتھپاۓ اور قدم پیچھے لیے ۔اذفرین کی بات پر ساری شوخی ہوا ہو چکی تھی ۔ بوجھل سے قدم اٹھاتا وہ کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔
اور وہ اداس پریشان حال وہیس کھڑی تھی ۔
**********
”چلی جاٶ نا فری تم بھی دیکھ لینا کچھ اپنے لٸے “
ماٸدہ بیگم نے اذفرین کی طرف دیکھتے ہوۓ مسکرا کر کہا صندل نے تاٸیدی انداز میں زور زور سے سر ہلایا ،
سامنے بیٹھی صندل بضد تھی کہ اذفرین اس کے اور اوزگل کے ساتھ براٸیڈل ڈریس پسند کرنے کے لیے چلے جبکہ وہ تو عجیب کشمکش میں مبتلا ہو چکی تھی ۔
”آنٹی وہ میں۔۔۔۔ “
اذفرین کو سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا بہانہ بناۓ ۔
اذفرین کے یوں جھجکنے پر صندل نے بچوں کی طرح خفا ہو کر اذفرین کی طرف دیکھا اور پھر رخ حسیب کی طرف موڑا ۔
”حسیب دیکھیں نا میں اپنی بھابھی صاحبہ کو لے آٸ ہوں آپ بھی اپنی بھابھی صاحبہ کو راضی کریں بس “
صندل نے لاڈ سے حسیب سے کہتے ہوۓ اوزگل کی طرف دیکھا۔ اوزگل نے اداس سے آنکھیں اٹھاٸیں اور زبردستی کی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ ۔
وہ بھی کہاں آنا چاہ رہی تھی صندل سے صاف کہہ دیا کہ تمہیں جو بھی پسند آۓ وہ میرے لیے کر دینا آرڈر ۔ کچھ بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا جو بھی ہو رہا تھا ۔
” کیوں نہیں ۔۔۔ جارج چلو بھٸ اپنی مام کو تیار کرو بلکہ تم بھی چلو ساتھ “
حسیب نے گود میں بیٹھے جارج کا کندھا تھپک کر اسے اذفرین کی طرف بھیجا ۔ اذفرین جارج کے یوں بھاگ کر آ کر ساتھ لگنے اور معصومیت سے دیکھنے پر گڑ بڑا سی گٸ ۔
”ٹھیک ہے میں آتی ہوں بیٹھیں آپ لوگ“
خجل سے انداز میں کانوں کے پیچھے بالوں کو آڑاتی وہ وہاں سے تیز تیز قدم اٹھاتی اوپر کمرے میں آٸ اور لبوں کو بے چینی سے کچلتے ہوۓ علیدان کو فون ملایا ۔ علیدان کے فون اٹھاتے ہی عجلت میں کہا ۔
”ہیلو علیدان “
آواز میں پریشانی جھلک رہی تھی جو علیدان سے چھپی نا رہ سکی ۔ وہ اس وقت کار میں بیٹھا تھا اذفرین کی پریشان حال آواز پر بھنویں سکڑ گٸیں ۔ ہاتھوں کی گرفت بھی سٹیرنگ پر ڈھیلی پڑ گٸ تھی ۔
” اوہو ۔۔ کیا ہوا اتنی پریشان کیوں ہو ؟“
تجسس سے پوچھا ۔ دوسری طرف تو وہ جیسے تیار ہی بیٹھی تھی ۔ ابھی رات والی پریشانی ختم نہیں ہوٸ تھی کہ صبح ایک اور آفت آ گٸ تھی ۔
”علیدان صندل اور گل آٸ بیٹھی ہیں وہ لہنگا آرڈر کرنے جا رہی ہیں حسیب کے ساتھ ، مجھے بھی بھیج رہی ہیں آنٹی کہ اپنا بھی پسند کر لو “
حواس باختہ سا انداز تھا سانس بھی چڑھا ہوا تھا ۔ علیدان نے اس کی بات پر سکھ کا سانس لیا وہ تو ڈر گیا تھا پتا نہیں کیا ہو گیا ہے ایسا کہ وہ گھبراٸ ہوٸ ہے ۔
”ہاں تو کرو نا جاٶ نا ان کے ساتھ ، رخصتی تو تمھاری بھی ہے نہ “
علیدان نے نرمی سے نارمل لہجے میں کہا جبکہ اس کی بات پر اذفرین نے خفا سی صورت بناٸ ۔
” علیدان مزاق کے موڈ میں نہیں ہوں ، بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے “
پریشانی سے کہا ۔ اور انگلیوں کی پوروں کو جوڑے نگاہیں ہاتھوں پر مرکوز کٸے دل برداشتہ لہجہ اپنایا
”کوٸ ضرورت نہیں ہے گھبرانے کی بلکہ میں بھی آ رہا ہوں وہاں تمھارے براٸیڈل ڈریس کی پے منٹ میں کروں گا تم جو بھی پسند کرو گی “
علیدان نے دو ٹوک لہجے میں کہا ۔ پیشانی پر پر سوچ لکریں تھیں ۔ اذفرین نے پریشانی اور حیرت کے ملے جلے اثرات کے زیر اثر منہ کھولا ۔
”پر وہ کیسے ؟“
حیرانگی سے سوال کیا ۔ جبکہ دوسری طرف تو مکمل سکون تھا ۔
”وہ سوچنا تمھارا کام نہیں ، چلو جاٶ ان کے ساتھ “
علیدان نے پچکارتے ہوۓ کہا تو اذفرین گہری سانس خارج کرتی ہوٸ سر کو اثبات میں ہلانے لگی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: