Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 28

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 28

–**–**–

اذفرین فون کان کو لگاۓ کمرے کے دروازے کو آہستگی سے بند کرتی پلٹی تھی اور پھر بیڈ کے ساتھ ٹیک لگاۓ بیٹھی ۔ جارج کو سلانے کے بعد واپس آٸ تو موباٸل بج رہا تھا ۔ اور اب دوسری طرف سے علیدان کی پوچھی گٸ بات پر دھیرے سے مسکراٸ ۔
”ہاں بہت پسند آیا تھا وہ پر علیدان وہ بہت مہنگا تھا “
الجھے سے لہجے میں جواب دیا پریشانی سے بھنویں سکڑ گٸ تھیں ۔ علیدان ان کے پیچھے ہی صندل سے پوچھ کر ڈیزانر کے پاس پہنچ چکا تھا ۔
وہاں اذفرین کی نظر بار بار ڈیپ سرخ اور گرے ملاپ کے بیش قیمت لہنگے پر اٹھ رہی تھی ۔ اس کی پسندیدگی کی یہ نظر علیدان با خوبی بھانپ چکا تھا ۔ بظاہر تو وہ پوری شاپنگ کے دوران اذفرین سے بے نیازی برتتا رہا پر وہ اس کی نظروں کے تعاقب میں آٸ ہر چیز کو ذہن میں نقش کر رہا تھا ۔
اور اب اذفرین کو یہی بتا رہا تھا کہ ان کے جانے کے بعد پھر سے ڈیزانر کے پاس گیا تھا اور اذفرین کے لہنگے کا آرڈر اس ڈیپ ریڈ اور گرے رنگ کے لہنگے میں تبدیل کروا دیا ہے ، ایڈوانس قیمت بھی ادا کر دی تھی ۔
”تمہیں پسند تھا بس ٹھیک ہے بل وغیرہ میں نے لے لیے ہیں حسیب سے تو بعد میں پوری پے منٹ میں کر دوں گا “
علیدان نے نارمل سے لہجے میں جواب دیا ۔ تکیے پر سر رکھے آہستگی سے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرے وہ حسیب سے سارے بل لے چکا تھا کہ ایک ساتھ ہی کہ لہنگے تیار ہونے کے بعد وہ اذفرین سے پیسے لے کر پورے بل کی اداٸیگی کر دے گا ۔
اذفرین نے لب بھینچ کر سر ہلا یا ایسے جیسے وہ اس کو دیکھ رہا ہو۔ کتنا پیارا سا احساس تھا ۔ برسوں خواہشوں کو مار مار کر جینا پڑا تھا اور اب کوٸ ایسا تھا جو اس کی نظروں کے زاویے سے ہی اس کی پسندیدگی اور خواہش کو جانچ لیتا تھا ۔ وہ مسکرا رہی تھی ۔
سوچتے سوچتے اچانک ذہن اوزگل کی طرف گیا تو لبوں پر بکھری مسکان فوراً روٹھ کر پیشانی پر پریشانی کے شکن نمودار کر گٸ ۔
”آپ اوز کے ساتھ کس دن بات کریں گے “
پیشانی پر الجھی سی لکریں ڈالتے ہوۓ دھیمی سی آواز میں پوچھا ۔ آج اوزگل کا یوں گم سم سا بیٹھے رہنا عجیب سا لگ رہا تھا ۔ وہ اور اس کا اداس چہرہ دل میں ٹیس اٹھا رہا تھا ۔ یقیناً وہ علیدان کی توجہ کی طلبگار ہو گی ، جس کے نا ملنے پر یوں اداس تھی ۔ اور ادیان والا سارا قصہ بھی علیدان اسے بتاچکا تھا ۔
جو بھی تھا اس کے دل ٹوٹنے کا دکھ دل کو پریشان کیے ہوۓ تھا ۔ وہ اور علیدان ہر روز رات کو یہی باتیں کرتے سو جاتے تھے ۔ علیدان کو تھا کہ وہ کچھ ایسا کرے کہ بس اوزگل کا دل نا ٹوٹے ۔ اور اوزگل بات سمجھ جاۓ کے وہ بہت مجبور ہے اس نے بہت کوشش کی تھی شروع سے کہ بات اتنی آگے نا بڑھے پر کل کل کرتے یہ دن آ گیا تھا
” میں ۔۔۔چاہتا تو یہ تھا کہ پہلے سعد بھاٸ سے بات ہو جاتی پتہ نہیں گل کا ریکشن کیا ہوگا ، اس سب کو لے کر اور گھر میں ایک طوفان آۓ گا پھر صندل اور حسیب کا بھی سوچتا ہوں پہلے حسیب کو اعتماد میں لوں ، ابھی کوٸ سرا ہاتھ نہیں لگ رہا “
علیدان نے پریشان سے لہجے میں جواب دیا ۔ وہ خود الجھا ہوا تھا ۔ بالوں کو ہاتھوں سے جکڑا ۔ گہری آنکھیں چھت پر مرکوز تھیں جو حل تلاش کر رہی تھیں ۔
” تو۔۔۔۔“
اذفرین نے الجھے سے انداز میں بات آگے بڑھاٸ ۔ وہ علیدان سے زیادہ الجھی ہوٸ اور بے حال تھی ۔ علیدان کی زبردستی پر دل و جان سے نکاح پر مان تو گٸ تھی پر آگے اب کچھ بھی سجھاٸ دینا علیدان کو بھی کیوں بند ہو گیا تھا ۔ اذفرین بے دردی سے نچلے لب کو کچل رہی تھی ۔
”تو یہ کہ اب کروں گا موقع کی تلاش میں ہوں جیسے ہی ملا بس انہی دو تین دن میں اوزگل سے تو بات کر ہی لوں گا اور ادیان سے شادی کروا دوں گی اس کی “
علیدان نے پرسوچ انداز میں جواب دیا ۔ اذفرین نے بچارگی سے سر کو گھمایا ۔ اچانک کمرے میں پڑی بل ٹون کی آواز گونجنے پر حیرت سے بیڈ کے ایک طرفہ چھوٹے میز پر پڑی بل کو دیکھا جو ماٸدہ بیگم کے کمرے میں پڑی بل سے ملحقہ تھی وہ اذفرین کو بلانے کے لیے یہی بجاتی تھیں ۔
”علیدان لگتا ہے آنٹی بلا رہی ہیں مجھے نیچے میں آتی ہوں “
اذفرین نے بل کی آواز پر پریشان سے لہجے میں بتایا ۔ پہلے کبھی یوں ہوا نہیں تھا کہ آنٹی رات کو یوں اسے اپنے کمرے میں بلاٸیں ۔
اذفرین نے عجلت میں فون بند کیا بیڈ پر پڑے دوپٹے کو اچھال کر کندھے پر لیتی تیزی سے کمرے سے باہر نکل کر نیچے ماٸدہ بیگم کے کمرے میں آٸ ۔
دروازہ کھولا تو سامنے بیڈ پر ماٸدہ بیگم پریشان سی صورت بناۓ آنکھوں میں آنسو لیے بیٹھی تھیں ۔ اذفرین ان کو اس حالت میں دیکھ کر الجھی سی آگے بڑھی ۔
”آنٹی کیا ہوا اس طرح کیوں رو رہی ہیں “
پریشان سے حیرت میں ڈوبے لہجے میں کہتی وہ ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گٸ ۔ دل انجان سی پریشانی پر دھڑکنے لگا تھا ۔ وہ کیوں اس طرح بیٹھی تھیں گود میں فون دھرا تھا جن پر ان کا ہلکا سا جھری دار ہاتھ کپکپا رہا تھا ۔
” ایمیلی کیس جیت گٸ ہے جارج کی کسٹڈی کے لیے ، جارج کو بھیجنا ہے اب آسٹریلیا واپس ، ابھی نجف کا فون آیا ہے “
ماٸدہ بیگم نے بھیگے سے لہجے اور کانپتی آواز میں بتا کر اس کی حیرت کو ختم کیا ۔ وہ ضبط کے آخری دہانے پر تھیں شاٸد ، بات ختم ہوتے ہی گال پر آنسو لڑھک گۓ ۔
” کیا ۔۔۔۔“
اذفرین کو بھی حیرت کے ساتھ ساتھ دکھ کا جھٹکا لگا ۔ جارج سے محبت کا ایسا رشتہ بن گیا تھا کہ اس بات سے دل عجیب سے دکھ اور اداسی میں گھر گیا۔
” ہاں دوسرے شوہر سے بھی علیحدگی اختیار کر لی ہے اس کلموہی نے اس لے جارج کی کسٹڈی اسے مل گٸ ہے ، نجف سے زیادہ انکم ہے اس کی اور نیشنلٹی بھی ہے پاس ، اس کے حق میں فیصلہ دے دیا ہے عدالت نے “
ماٸدہ بیگم نے آنسوٶں سے بھاری ہوتی آواز میں بمشکل اپنی بات مکمل کی جبکہ اذفرین دم سادھے ان کو سن رہی تھی ۔
جارج سے ماٸدہ بیگم بے پناہ محبت کرتی تھیں ۔
وہ تو اسی کیس کے نتیجے کے انتظار میں تھیں کہ نجف کے حق میں فیصلہ ہو جاۓ گا تو وہ اپنے پوتے کا اسلامی نام اپنی پسند سے رکھیں گی ۔ پر یہاں تو سب کچھ الٹ ہو گیا تھا ۔
” نجف بہت زیادہ اپ سیٹ ہے پاکستان آ رہا ہے اگلے ہفتے ، جارج کی پیکنگ کر دینا ساری پرسوں کی سیٹس ہو گٸ ہیں حسیب لے کر جاۓ گا اسے “
ماٸدہ بیگم نے بمشکل اپنے آنسوٶں پر قابو پاتے ہوۓ اپنی بات مکمل کی تھی ۔ پر آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔ اذفرین ان کی حالت دیکھ کر جلدی سے ان کے گلے لگی تھی ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی تھیں ۔
ان کا یوں رونا اور جارج سے جداٸ کا دکھ اس کی آنکھوں میں بھی موجود آنسوٶں کی رفتار کو بڑھا چکا تھا ۔ کچھ دیر یوں ہی ان کے ساتھ لگ کے رونے کے بعد جب وہ چپ ہوٸیں تو اذفرین آہستگی سے ان سے الگ ہوٸ ۔
” اٹھو ہمارے بس میں کچھ بھی نہیں رہا “
ماٸدہ بیگم نے آنسو صاف کیے بھاری سی آواز میں اس کو اور خود کو حوصلہ دیا تھا ۔ اذفرین کچھ دیر بیٹھی ان کو یونہی دیکھتی رہی پھر ان کے ہاتھ تھپکتی دھیرے سے اٹھ کر کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ قدم جارج کے کمرے کی طرف اٹھ رہے تھے ۔
وہ معصوم سویا ہوا تھا ۔ اپنی قسمت کے فیصلے سے بلکل بے خبر اذفرین نے اس کے سر پر نرمی سے ہاتھ پھیرا تو ملاٸم سے بال اوپر کو اٹھ کر پھر سے پیشانی پر گر گۓ تھے ۔
جارج کو یوں دیکھتے دیکھتے خبر ہی نا ہوٸ کب وہ اس کے پاس سر رکھے گہری نیند میں چلی گٸ ۔
*************
کار سست روی سے سڑک پر چل رہی تھی ۔ ادیان بمشکل خود کو سنبھالے دم سادھے کار چلا رہا تھا وجہ ساتھ والی سیٹ پر بیٹھی اوزگل تھی ۔ وہ سنبل کے گھر گٸ تھی جہاں سے واپسی پر میر دلاور نے علیدان کو اسے لانے کا حکم دیا تھا اور علیدان یہ کام آگے اس کے کندھوں پر منتقل کر چکا تھا ۔
دنوں طرف ایک جیسا ہی حال تھا اوزگل بھی بار بار ہاتھوں کو انگلیوں کو آپس میں پھنسا کر لب کچل رہی تھی ۔ اس دن کے بعد آج تو دنوں ایک دوسرے کے ساتھ یوں بیٹھے تھے ۔
سنبل نے اوزگل کی اچھی خاصی برین واشنگ کی تھی کہ وہ اپنے لیے سٹینڈ لے اگر وہ ادیان سے محبت کرتی ہے تو بات کرے گھر میں کسی سے پر وہ کسی سے بات کرنے کے بجاۓ ادیان سے بات کرنے کی ہمت بندھانے لگی تھی ۔ کیونکہ پورے گھر میں ایک واحد وہ ہی تو تھا جس سے اسے بات کرنے پر سوچنا نہیں پڑتا تھا ۔
چور سی نظر ساتھ بیٹھے ادیان پر ڈالی وہ سنجیدگی کی انتہاٶں کا چھوتا کار ڈراٸیو کرنے میں مصروف تھے ۔ اذفرین نے سانس اندر کھینچ کر خود کو حوصلہ دیا ۔
” ادی مجھے بات کرنی ہے تم سے “
سر جھکا کر مدھم سی آواز میں ادیان کو مخاطب کیا ۔ وہ اس طرح اوزگل کے اچانک بات کرنے پر گڑ بڑا سا گیا ۔ چونک کر اس کے چہرے کے تاثرات کو جانچا ۔ انداز ایسا تھا جیسے یقین نا ہو کہ اس نے بات کی ہے اس کے ساتھ ۔
”ہاں کچھ بات کرنی ہے کسی پرسکون جگہ پر لے چلو “
اوزگل نے ہاتھوں پر سے نظر ہٹا کر اس کے آنکھوں سے پوچھے گۓ سوال کا جواب دیا ادیان اب خاموشی سے نظر جھکاۓ ارد گرد دیکھ رہا تھا ۔ پھر کار کو ایک قریبی ہوٹل کے سامنے روک دیا ۔
وہ کار سے اترا تو اوزگل خاموشی سے اتر کر اس کے ہمراہ ہو گٸ ۔ ہوٹل کا ماحول واقعی بہت پرسکون تھا مدھم سی موسیقی کی آواز اور اس وقت بہت کم لوگ وہاں موجود تھے ۔ ادیان نے لب بھینچ کر اوزگل کی طرف دیکھا اور ہاتھ سے ایک طرف لگی میز کی طرف اشاراہ کیا ۔
ہوٹل میں ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے تو ادیان پریشانی سے نظریں چرا رہا تھا ۔ دل میں عجیب سے وہم آ رہے تھے اوز کو کیا بات کرنی ہو گی مجھ سے
” مجھ سے محبت کب ہوٸ تھی ؟ “
اوزگل کے عجیب سے سوال پر ادیان نے چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ وہ کیسا سوال کر رہی تھی ۔ لگتا تھا اس کی سزا ابھی ختم نہیں ہوٸ تھی ۔
” اوز۔۔۔ یہ سب باتیں ۔۔۔“
گھٹی سی شرمندہ آوز میں بات شروع ہی کی تھی کہ اوزگل نے تنک کر اس کی بات کاٹ دی ۔ عجیب سی ہمت آ گٸ تھی اوزگل میں شاٸد اس کی وجہ سامنے اپنے عشق میں ڈوبے انسان پر یقین کی تھی یا پھر خود اس کی محبت میں گرفتار ہونے کی تھی ۔
ادیان ہنوز خاموش الجھا سا بیٹھا اب اسے دیکھ رہا تھا ۔ دل اس کے یوں بات کاٹنے پر اور ڈر گیا تھا ۔
”میں نے پوچھا ہے مجھ سے محبت کب ہوٸ تھی ؟ “
اوزگل نے اب کی بار ادیان کی آنکھوں میں دیکھا تھا ۔ دونوں طرف دل کی دھڑکن تیز ہو چکی تھی ۔ نظروں کا تصادم ہی ایسا تھا ۔ ادیان اس کی نظروں میں موجود عجیب سے رنگ کو دیکھ کر ہل گیا ۔ بمشکل بولنے کی خاطر لب وا کۓ
”پتا نہیں چلا اوز ، شاٸد ہمیشہ سے تھی ، جب تمہیں پہلی ایمیل سنڈ کی تھی اس سے پہلے خود سے لڑتے ایک سال ہو چکا تھا مجھے “
ادیان نے بات کرتے ہوۓ نظریں جھکا دی تھیں ۔ اس کی آواز سامنے بیٹھی اوزگل کے اندر سکون اتار رہی تھی ۔ کتنا انوکھا احساس ہوتا ہے نا جب کوٸ انسان آپ سے محبت کا اظہار کر دے ایسی شدید محبت جو آپ کی روح سے ہو ایسا ہی کچھ احساس اس وقت اوزگل کو ہو رہا تھا ۔ سامنے بیٹھا یہ پیارا سا انسان اس سے سچی محبت کرتا تھا ۔
”پر اب یقین جانو ۔۔ “
ادیان نے اچانک اوپر دیکھا تو اوزگل کے لبوں پر موجود معنی خیز مبہم سی مسکراہٹ دیکھ کر ساکن ہو کر بات کو ادھورا چھوڑ دیا ۔
”مطلب اب نہیں کرتے تم مجھ سے محبت ؟ “
اوزگل نے مسکراہٹ کو گہرا کۓ سوال کیا تو وہ الجھ سا گیا ۔ ناسمجھی سے اوزگل کی طرف دیکھا ۔ وہ ایسے کیوں دیکھ رہی تھی لبوں پر موجود مسکراہٹ کا کیا مطلب تھا وہ الجھا سا حیران سا بیٹھا تھا ۔
”دیکھو مجھ سے جھوٹ مت بولنا “
اوزگل نے پھر سے سرگوشی کی ۔ اب کی بار لہجہ محبت سے لبریز تھی ۔ وہ حیران و پریشان دنگ بیٹھا تھا ۔
” کرتا ہوں پر۔۔۔ “
آہستگی سے کہا ۔پر وہاں تو اوزگل کے گال گلال ہو چلے تھے ۔ حیرانگی کے سمندر میں غرق اس کی طرف دیکھا ۔
”میں بھی تم سے ہی محبت کرتی ہوں “
اوزگل نے بے تابی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اپنی محبت کا اظہار کیا ، ادیان کو تو جیسے کسی نے سکتے میں دھکیل دیا تھا ۔
”کیا۔۔۔۔ “
ادیان کی آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ ۔ اوزگل نے دلکش مسکراہٹ سجاۓ پلکیں گراٸیں ۔
”ہاں ہمیشہ سے تم سے ہی تھی مجھے محبت ، ان لفظوں سے تھی جو میرے لیے تھے صرف میرے لیے “
وہ اب یونہی شرماٸ سی لجاٸ سی بولے جا رہی تھی اور سامنے بیٹھے ادیان کی حیرت میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا ۔
”علیدان سے صرف ذہن کو لگاٶ تھا وہ بھی غلط فہمی کی وجہ سے ، دل کو تو ہمیشہ سے ان لفظوں کو لکھنے والے سے تھی محبت “
وہ کیا بول رہی تھی کانوں کو خود پر یقین نہیں تھا ۔ کیسے کرتا یقین کہاں تھا خود کی قسمت پر اتنا بھروسہ اور نا اپنی لگن پر یقین تھا ۔
”ایسے کیوں بیٹھے ہو کچھ تو بولو میں سچ کہہ رہی ہوں یقین کرو “
اوزگل نے بے چین سی صورت بناۓ سوال کیا ۔ وہ اب بھی سپاٹ چہرے سے اسے یک ٹک تکے جا رہا تھا ۔ دل کو اس کی بات پر یقین آیا تو دماغ نے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا ۔
”اوز ۔۔۔ پر “
پھیکی سی آواز نکلی اور دونوں کی آنکھیں ملتے ہی دل بنا بولے ایک دوسرے سے باتیں کرنے لگے ۔
”ادیان پلیز تم بات کرو تا بابا سے تاٸ امی سے کسی سے بھی مجھے علیدان سے نہیں کرنی شادی “
اوزگل کی آواز گلے میں پھنستے گولے کے باعث بھاری سی ہوٸ تو ادیان نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا ۔
”مجھے سمجھ نہیں آ رہا میں کیا کروں اس لمحے پر اوز ، علیدان بھاٸ ۔۔۔“
ادیان نے بے چارگی سے کہا اور بے بس انداز میں اس کی طرف دیکھا کتنی عجیب بات تھی سامنے بیٹھی اس کی محبت اگر اس کے بھاٸ کی محبت نا ہوتی تو شاٸد وہ آج اس کے یوں اظہار پر اس شخص سے لڑ کر بھی اسے چھین کر لے آتا پر قسمت نے کتنا ستم کیا تھا اس پر اس کا رقیب اس کا اپنا بھاٸ تھا ۔
”میں کچھ نہیں جانتی “
اوزگل نے روہانسے لہجے میں کہا اور پرشکوہ نگاہ ایسی ڈالی کے ادیان سوچ میں پڑ گیا۔ ایک طرف محبت تھی تو دوسری طرف بڑا بھاٸ ۔
”اچھا پریشان نا ہو میں ۔۔۔میں کچھ سوچتا ہوں صندل سے بات کرتا ہوں “
ادیان نے اس کے یوں رونے پر بے چینی سے کہا ۔ وہ اب باقاعدہ بچوں کی طرح رونے لگی تھی ۔ اظہار کے بعد سب کچھ کتنا ہلکا پھلکا لگنے لگا تھا ایسا لگا جیسے سارا بوجھ ادیان نے اپنے کندھوں پر لے لیا ہو ۔
”رونا بند کرو ، یہ نہیں دیکھ سکتا میں ان آنکھوں میں “
آہستگی سے گھمبیر لہجے میں کہا تو اوزگل دھیرے سے محبت بھری مسکان لبوں پر سجا گٸ ۔
***********
جارج الجھا سا اذفرین کے پاس کھڑا اس کو بغور دیکھ رہا تھا ۔ اذفرین بار بار آنسو پونچھتے ہوۓ اس کے بیگ میں کپڑے رکھ رہی تھی ۔ جارج سے جداٸ تو طے تھی پھر بھی دل اس کے یوں چلے جانے پر پھٹ رہا تھا ۔
”مام کیوں پیکنگ کر رہی ہیں ؟ “
وہ اب یہ سوال تیسری دفعہ پوچھ رہا تھا ۔ اذفرین نے بیگ کی زپ بند کی اور غور سے اس کے چہرے کو دیکھا جہاں معصومیت کے ساتھ اس پیکنگ کی وجہ جان لینے کی بے چینی تھی۔
اذفرین نے بیگ کو ایک طرف کرتے ہوۓ جگہ بناٸ اور بیڈ پر بیٹھ کر اس کے دونوں بازٶں کو تھام کر اپنے قریب کیا ۔ وہ اسی طرح اذفرین پر نظریں گاڑے سوالیہ انداز میں دیکھ رہا تھا ۔ اذفرین کے چہرے پر موجود دکھ اور اداسی اس کے ننھے سے ذہن کو الجھاۓ ہوٸ تھی ۔
”مما یاد آتی ہیں آپکو ؟ “
اذفرین نے پیار سے اس کی گال پر ہاتھ رکھ کر اپنا چہرہ قریب کرتے ہوۓ مدھم سی آواز میں پوچھا ۔ جارج کے چہرے پر ایک دم سے ایک رنگ لہرا گیا تھا۔ کتنی عجیب بات تھی جس ماں کے نقش کو اس کے ذہن سے مٹانے کی سال بھر کوشش کی تھی آج اُسی ماں کو وہ یاد کرنے کا کہہ رہی تھی ۔
”پہلے بہت آتی تھیں ، اب کبھی کبھی آتی ہیں “
جارج نے معصومیت سے جواب دیا اس کی آنکھوں میں موجود الجھن بڑھ چکی تھی ۔ ماں باپ کے الگ ہونے کے بعد ٹوٹے ہوۓ بچے عام بچوں سے زیادہ حساس ہوتے ہیں ۔ جارج بھی بلکل ایسا تھا وہ اذفرین کے چہرے پر موجود اداسی کی وجہ جاننا چاہتا تھا ۔
”تو مما سے ملنے کو دل کرتا ہے نہ آپکا ؟ “
اذفرین نے زبردستی کی مسکراہٹ لبوں پر سجا کر اگلا سوال داغا تو جارج سوچ میں پڑ گیا ۔ اس کی ننھی سی پیشانی پر شکن نمودار ہوۓ ۔
کتنی ظالم ہوتی ہے ایسی ماں پہلے خود ہی اسے چھوڑ کر چل دی اس کے ننھے سے ذہن سے اس کی محبت اور یادوں کو باقی لوگوں نے کھرچ دیا تو وہ واپس آ گٸ ۔ اسے جارج کا دکھ اپنے اندر محسوس ہو رہا تھا ۔
کہیں نا کہیں اسے جارج خود جیسا لگ رہا تھا ایک کھلونا ۔ جسے جب دل چاہا پھینک دیا جب دل چاہا حق جتانا شروع کر دیا ۔
جارج نے دھیرے سے سر کو اثبات میں ہلایا وہ ابھی بھی نا سمجھی کی کفیت میں کھڑا تھا ۔ پر تین سال کا تھا وہ جب اس کی ماں اس کو چھوڑ کر گٸ تھی اس لیے وہ بھولا نہیں تھا اپنی ماں کو ۔
”گڈ تو ایسا ہے کہ حسیب انکل کے ساتھ آپ مما سے ملنے جا رہے ہو آسٹریلیا “
اذفرین نے زبردستی کی مسکراہٹ کے ساتھ اس کے کندھوں کو پرجوش انداز میں ہلا کر اسے خوش کرنے کی ناکام کوشش کی پر وہاں کچھ بھی نہیں تھا وہ حیران سا کھڑا تھا ۔ خوشی کی ہلکی سی جھلک بھی نا تھی اس کے چہرے پر ۔
”آپ بھی ساتھ چلیں گی نا آسٹریلیا ؟“
اس کے اگلے سوال پر جیسے اذفرین کا ضبط ختم ہونے پر آیا جلدی سے اسے کھینچ کر خود کے ساتھ بھینچ ڈالا ۔ کچھ لمحے یوں ہی گزر گۓ ۔ بمشکل خود پر قابو پایا چوری سے آنسو صاف کیے اور آہستگی سے اس سے علیحدہ ہوٸ ۔
”میں بعد میں آٶں گی “
مسکرا کر نم آنکھوں سے اس کے گال کو تھپکا ۔ پر وہاں ابھی بھی الجھن تھی بے یقینی تھی ۔ اذفرین نے اس سے نظریں چراٸیں ۔
”پرامس ؟ “
جارج نے میٹھی سی آواز میں پوچھا ۔ اذفرین نے چونک کر اسے دیکھا ۔ وہ یک ٹک اسے دیکھے جا رہا تھا ۔ کوٸ بھی جواب دیے بنا اذفرین لب بھینچے سر کو ہلا گٸ اور اسے پھر سے خود کے ساتھ لگا لیا ۔
************
چولہے پر رکھی چاۓ پک رہی تھی ۔ پتی اچھل اچھل کر اوپر کو پہاڑ میں سے نکلتے لاوے جیسی شکل بنا رہی تھی ۔ اذفرین چاۓ کے ابال پر نظریں گاڑے اداس سی کھڑی تھی ۔ جارج کو گۓ ایک ہفتہ ہو چلا تھا ۔
اچانک پیچھے سے نجف کی آواز سناٸ دی تو وہ خیالات سے باہر آٸ ۔ وہ دو دن سے پاکستان آیا ہوا تھا ۔ سارا سارا دن کمرے میں بند رہتا تھا ۔ماٸدہ بیگم الگ پریشان سی روتی رہتی تھیں ۔ آج تیسرے دن وہ کمرے سے باہر نظر آ رہا تھا ۔
” سنو “
نجف کی بھاری سی آواز کے تعاقب میں اس نے چونک کر پیچھے مڑ کر دیکھا وہ پیشانی پر ہاتھ رکھے سر کو ہلکے ہلکے دبا رہا تھا ۔ شیو بڑھا رکھی تھی چہرہ پریشان حال تھا ۔ وہ کیس پر بہت پیسہ لگانے کے بعد بھی کیس ہار چکا تھا ۔ غم اور پریشانی سے چور کمزور اور نڈھال لگ رہا تھا ۔
”جی “
اذفرین نے آہستگی سے پوچھا اور بغور نجف کی طرف دیکھا ایسا کونسا کام تھا جو اسے کچن تک لے آیا تھا
” ایک کپ چاۓ کے ساتھ سر درد کی گولی بھی میرے کمرے لے آنا “
نجف نے آہستگی سے کہا ۔ اور پلٹ گیا ۔ اذفرین کو کچھ دیر پہلے ہی ماٸدہ بیگم نے چاۓ کا کہا تھا ۔ اور اب وہ کچن میں سر درد کی گولی کا کہہ کر چلا گیا تھا ۔
اذفرین نے چاۓ کو کپوں میں ڈالا اس کے باقی کے لوزامات کھانے کی میز پر سجاۓ ۔ ایک طرف رکھے باکس میں سے سر درد کی گولی بھی ساتھ رکھی اور کھانے کی ٹرالی کو گھسیٹتی ہو پہلے ماٸدہ بیگم کے کمرے میں آٸ ان کو چاۓ دینے کے بعد نجف کے موجودہ کمرے کی طرف چل دی ۔ وہ ماٸدہ بیگم کے کمرے سے کچھ دوری پر موجود کمرے میں رہ رہا تھا دو دن سے ۔
ٹرالی کو کمرے کے آگے روکنے کے بعد دروازے پر آہستگی سے دستک دی ۔ اور پھر جوابی انتظار کۓ بنا ہی دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ تو ٹھٹک کر نا صرف رکی بلکہ گندی سی بدبو کے بھبھکے کے ناک کے نتھنوں میں گھسنے کی وجہ سے جلدی سے ہاتھ کی پشت کو ناک کے آگے دھرا ۔
نجف سامنے بے حال سا بیٹھا ۔ بیڈ سے کچھ دوری پر لگے صوفے پر وہ بیٹھا تھا اور سامنے پڑی بوتل اور گلاس کو دیکھ کر اذفرین کا چہرہ زرد پڑ گیا ۔
نجف کی جیسے ہی اس پر نظر پڑی وہ بد حواس سا آگے بڑھا اپنی طرف سے وہ دروازے کو لاک کیے بیٹھا تھا پر شاٸد دروازہ لاک نہیں ہواتھا جو اذفرین اس وقت یوں آنکھیں پھاڑے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔
”نجف یہ ۔۔۔“
وہ ہونق بنی بمشکل صرف اتنا ہی کہہ پاٸ ۔ نجف اب بوکھلاہٹ میں اٹھ کر پاس آ چکا تھا ۔ فوراً انگلی کو اپنے منہ پر دھرا ، اس کی آنکھیں نشے سے عجیب طرح سے ڈھلی ہوٸ تھیں ۔
”ش۔شش۔۔ش۔ چپ چپ ف۔ری امی کو۔۔۔مت “
وہ بات بھی مکمل نہیں کر پا رہا تھا ۔ اذفرین نے برا سا چہرہ بنا کر بوتل کو گھورا ۔ بدبو ابکاٸ کا موجب بن رہی تھی ۔
” لیکن نجف یہ سب “
اذفرین خوف کے زیر اثر آنکھیں پھیلا کر کہا پر بات مکمل کۓ بنا ہی رک گٸ وہ کون ہوتی تھی اس کو یوں سمجھانے والی ۔
اچھا تو وہ آج باہر اسی چکر میں گیا تھا ۔ اس کے پینے کے انداز سے وہ باخوبی یہ اندازہ لگا چکی تھی وہ یہ سب پہلی دفعہ نہیں کر رہا تھا۔ وہ یقیناً آسٹریلیا میں بھی یہ سب کچھ کرتا رہا ہو گا ۔
اسی سوچ کی وجہ سے اعصاب تن رہے تھے ۔ پر دل شکر ادا کر رہا تھا کہ وہ علیدان کے نکاح میں تھی اس گناہ گار شخص سے اس کا کوٸ تعلق نہیں تھا ۔
یار بہت ۔۔۔ ب۔ہت۔۔۔ تکلیف میں ہوں مجھے چھ۔۔چھوڑ گٸ “
نجف اس کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ کر روہانسی آواز میں بے ربط بول رہا تھا ۔ اذفرین نے نفرت بھری نظر نجف پر ڈالی ۔
”پھ۔پھر بچہ بھی ۔۔۔ لے ۔۔۔ کیا ۔۔۔۔کچھ نہیں کیا تھا میں نے اس کے ۔۔۔لیے “
وہ ہوش میں نہیں تھا الفاظ نامکمل ادا ہو رہے تھے ۔ اذفرین نے چاۓ کے کپ اور سردرد کی گولی کو تیزی سے بیڈ کے اطراف پر لگے میز پر رکھا اور ٹرالی کو دھیکلتی ہوٸ آگے بڑھی ۔ اس کا اب یہاں مزید رکنا محال ہو رہا تھا ابھی وہ دروازے کے قریب ہی پہنچی تھی جب اچانک نجف نے اس کے بازو کو دبوچا وہ بدک کر رکی ۔
”امی کو مت بتانا ف۔۔ری۔۔۔“
وہ دھیرے سے انگلی کو نفی میں ہلا تے ہوۓ کہا رہا تھا ۔ اذفرین نے پیشانی پر بل ڈالے زور سے بازو اس کی گرفت سے چھڑوایا اور تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر نکل گٸ پیشانی پر بل تھے اور سانس خوف سے تیز تیز چل رہی تھی ۔
********
علیدان نے بے چینی سے ٹاٸ کو داٸیں باٸیں گھمایا ۔ سامنے بیٹھے نجف کی بار بار اذفرین پر اٹھتی نگاہ سیدھی اس کے دل میں چبھ رہی تھی ۔ بس نہیں چل رہا تھا اٹھے اور نجف کی آنکھوں پر پٹی باندھ دے یا اذفرین کو لے کر یہاں سے بھاگ جاۓ ۔
ان کے گھر میں آج حسیب اور اس کی ساری فیمیلی کو دعوت دی گٸ تھی ۔ جس میں نجف ، ماٸدہ اور اذفرین بھی شامل تھے ۔ نجف کو پاکستان آۓ پانچ دن ہو چکے تھے ۔ کھانے کے بعد اب دلاور ولاز کے وسیع لاٶنج میں سب بیٹھے گپوں میں مصروف تھے ۔
اذفرین گہرے سبز رنگ کے لباس کو زیب تن کۓ دل موہ لینے کی حد تک حسین لگ رہی تھی سنہری رنگ کی چھوٹی سی جھمکیاں کانوں میں لٹکاۓ اور ہلکا سا جازب نظر میک اپ کۓ وہ اتنا تیار صرف علیدان کے لیے ہو کر آ ٸ تھی پر یہاں اس کی اس تیاری کو نجف اپنے لیے سمجھتا ہوا اسے بار بار بے تاب نگاہوں سے دیکھ کر آنکھیں سیک رہا تھا ۔
آج سے پہلے اذفرین کو اس نظر سے دیکھا نہیں تھا یا پھر وہ ایسے تیار نہیں ہوٸ تھی ۔ اذفرین انتہاٸ حسین لڑکیوں میں شمار ہوتی تھی نجف کا دل آج ہمک ہمک کر اس بات کی تصدیق کر رہا تھا ۔
دل مچلے جا رہا تھا اور نظر بے سبب بار بار اذفرین پر اٹھ رہی تھی وہ شرماٸ سی نظریں جھکاۓ بیٹھی نجف کو ہواٶں میں اڑا رہی تھی کہ وہ اس کی ہونے والی بیوی ہے ۔
گود میں دھرے موباٸل پر بجتی پیغام کی بیپ پر اذفرین نے الٹا موباٸل سیدھا کیا ۔ علیدان کا نام جگمگا رہا تھا ۔ ارد گرد چور سی نظر ڈالتے ہوۓ پیغام کو کھولا ۔ اس کے داٸیں طرف اوزگل بیٹھی تھی ۔ اس سے چھپاتے ہوۓ موباٸل کو نیچے کۓ پیغام کو کھولا
” اٹھو اور جاٶ یہاں سے فوراً “
علیدان کے پیغام پر حیرت سے نظر اٹھا کر چور سی نظر علیدان پر ڈالی جو سرخ چہرہ لیے ضبط کی آخری سیڑھی پر بیٹھ تھا ۔ لب بھینچے ہوۓ تھے اور پیشانی پر شکن بھی موجود تھے ۔
”علیدان ایسے سب میں سے اٹھ کر کیسے جاٶں۔۔ کیا ہوا ہے ؟ “
اذفرین نے پریشان سی صورت بناۓ پیغام ٹاٸپ کیا ۔ اور پھر جلدی سے سنڈ کیا ۔ الجھی سی نگاہ پھر علیدان پر ڈالی گہرے گرے رنگ کے کوٹ پینٹ میں ملبوس وہ کچھ دیر پہلے ہی آفس سے واپس آیا تھا ۔
”میں کچھ نہیں جانتا وہ بار بار تمہاری طرف دیکھ رہا ہے خون کھول رہا میرا “
کچھ دیر کے انتظار کے بعد ہی علیدان کا جوابی پیغام سکرین پر تھا ۔ اذفرین نے گھبرا کر نجف کی طرف دیکھا تو وہ واقعی ہی گہری مسکراہٹ چہرے پر سجاۓ اسے دیکھ رہا تھا ۔ اذفرین کا دل ڈوب گیا نجف کی ایسی نظریں آج سے پہلے اس نے نہیں دیکھی تھیں ۔
”آپ اگنور کریں نا “
تھوک نگل کر جوابی پیغام بھیجا ۔ اور ارد گرد زبردستی کی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ، بڑے سب کسی بات پر قہقہ لگا رہا تھے ۔
”نہیں کر سکتا میرا دماغ خراب ہو رہا ہے جاٶ یہاں سے اوپر جاٶ صندل کے کمرے میں “
علیدان کے غصے میں بھیجے گۓ جوابی پیغام پر وہ لرز ہی تو گٸ ، فوراً وہاں سے اٹھی اور پھر اوزگل کو اشارے سے بلاتی ایک طرف چل دی ۔
اذفرین کے جانے کے بعد علیدان نے کوٹ کو پرسکون انداز میں درست کیا اور گھور کر نجف کو دیکھا جو اب جاتی ہوٸ اذفرین کو دیکھ رہا تھا ۔ دل چاہ آج اذفرین کو گھر نا جانے دے ۔ عجیب طرح کی وحشت سی ہونے لگی تھی ۔
” شادی پھر سب کی جلدی رکھ دیتے ہیں تیاری تو مکمکل ہی ہے کیا خیال ہے آپکا دلاور صاحب “
حسیب کے والد خالد صاحب کی بات پر دھیان جاتے ہی جیسے علیدان نے چونک کر سب کی طرف دیکھا ۔ شادی کی تاریخ دو ماہ بعد کی پہلے بھی صرف نجف کی وجہ سے رکھی گٸ تھی اب اس کے یوں اچانک آ جانے پر حسیب کے والد شادی جلدی کرنے کا کہہ رہے تھے ۔
”مجھے کوٸ اعتراض نہیں ابھی کارڈ وغیرہ نہیں پبلش ہوۓ تھے تو خیر ہے ڈیٹ آگے یا پیچھے ہو “
میر دلاور نے شاٸستگی سے جواب دیا ۔ سب بڑے اب سر ہلا ہلا کر بات کی تاٸید کر رہے تھے ۔ علیدان کا سانس اٹک گیا تھا
”تو ٹھیک ہے پھر اس ماہ کی ہی چھبیس تاریخ رکھ لیتے ہیں “
عامر صاحب نے بات مکمل کرنے کے بعد سب کی طرف تاٸیدی نظر گھماٸ ۔ اور پھر مسکراتے ہوۓ نجف کی طرف دیکھا
”کیوں بیٹا نجف آپکو کوٸ اعتراض تو نہیں “
عامر صاحب کے اچانک پوچھے گۓ سوال پر نجف بڑے انداز سے مسکرا دیا۔ علیدان کے تن بدن میں آگ لگ گٸ تھی ۔
” نہیں کوٸ اعتراض نہیں جیسے آپکی مرضی خالو “
بڑے مٶدب لہجے میں کہتے ہوۓ وہ اب سر جھکاۓ ہوا تھا ۔ علیدان کا وہاں بیٹھنا اب مشکل ہو رہا تھا ۔ بے چین سا ہو کر ایکسکیوزمی کہتا ہوا وہاں سے اٹھ کر باہر نکل گیا ۔ جبکہ میر دلاور اب اس کی پشت کو تیکھی نگاہوں سے گھور رہے تھے ۔
**********
دروازے پر دستک ہونے پر اذفرین نے کمبل کو ایک ہاتھ سے اٹھاتے ہوۓ خود پر سے اتارا وہ بیڈ پر لیٹی علیدان کی کال کا انتظار کر رہی تھی ۔
پر جناب کو تو پتہ نہیں آج کس بات کا غصہ تھا ۔ دلاور ولاز سے واپس آۓ تین گھنٹے ہو چلے تھے اب رات کے بارہ بج رہے تھے ۔ پر وہ کال نہیں کر رہا تھا ۔ اسے کیا پتا تھا کہ اس کی یہ تیاری علیدان کو خوش کرنے کے بجاۓ اسے غصہ دلا دے گی ۔
پتا نہیں کیوں دروازے کی دستک پر اچانک پہلا خیال علیدان کی طرف گیا سانس خشک ہوٸ وہ کیوں آج آ گۓ ۔ اب نجف بھی ہے گھر میں تو کوٸ بات نا بن جاۓ اسی خیال کے آتے ہی وہ تیزی سے آگے بڑھی اور جلدی سے بنا پوچھے دروازہ کھول دیا ۔ پر سامنے بے حال سے کھڑے نجف کو دیکھ کر ٹھٹک گٸ ۔
وہ نشے میں دھت ادھ کھلی آنکھیں اور عجیب سی مسکراہٹ لۓ کھڑا تھا ۔ اذفرین کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسک گٸ ۔ بمشکل خوف کو چھپا کر چہرے پر سختی سجاٸ آنکھیں سکیڑ کر نجف کو گھورا ۔ دروازہ بند کر نہیں سکتی تھی وہ اب دروازے پر ہاتھ رکھے ہوۓ تھا ۔
” آپ کو کچھ چاہیے کیا ؟ “
لہجہ کھردرا سا رکھے آنکھیں سکوڑے سپاٹ چہرے سے سوال پوچھا ۔ نجف بے تکلفی سے مسکراتا ہوا کمرے میں آ چکا تھا ۔ اذفرین نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔
”نہ۔۔۔نہیں کچھ نہیں چاہیے ۔۔۔۔بس کچھ۔۔۔ دیر۔۔۔۔۔ ادھر تمھارے پاس بیٹھ جاٶں “
نجف دروازے کے بلکل سامنے اس کے رستے میں حاٸل کھڑا مدہوش سی آواز میں کہہ رہا تھا ۔ اذفرین نے نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور پیشانی پر بل ڈالتے ہوۓ آگے ہوٸ ۔
” نجف رات بہت ہو گٸ ہے آپ ۔۔۔آپ اپنے کمرے میں جاٸیں پلیز “
دروازے کی طرف بازو لمبا کۓ اشارہ کیا چہرے پر ناگواری تھی ۔ نجف اس کی بات پر عجیب طرح سے ہنسا اور پھر دروازے کو پاٶں مارتا ہوا آگے بڑھا ۔ دروازہ دھماکے سے بند ہوا ۔ اذفرین نے پھٹی سی نظروں سے پہلے دروازے کو پھر نجف کی طرف دیکھا ۔
” یار عجیب باتیں کر رہی ہو۔۔۔ دس بارہ دن۔۔۔ تو رہ گۓ ہیں ہماری شادی کو “
وہ مدھوش سا بمشکل فقرہ پورا کر رہا تھا ۔ پر اب اس کی آنکھوں میں موجود عجیب سی بے باکی اذفرین کے رونگٹے کھڑے کر چکی تھی ۔
”تو ۔۔ ابھی آپ جاٸیں پلیز اپنے کمرے میں “
اذفرین نے سخت لہجے میں آواز اونچی کی کہ شاٸد وہ ڈر جاۓ ۔ پر وہ تو آگے بڑھ رہا تھا ۔ اس کی آنکھوں میں کوٸ خوف نہیں تھا ۔ وہ تو شیر تھا کہ وہ اس وقت مکمکل طور پر اس کے رحم و کرم پر ہے ۔
”نہیں آج یہیں تمھارے پاس بیٹھوں گا ساری رات ۔۔ تم بس یہ بتا دو ۔۔۔۔تم تو نہیں۔۔۔ کرو گی نا ایمیلی کیا طرح مجھ سے “
نجف نے اذفرین کے قریب آ کر اس کے چہرے پر نظریں گاڑتے ہوۓ پوچھا ۔ اذفرین نے ناگواری سے اس کے سینے پر ہاتھ دھرے اسے دور کیا ۔ اذفرین کا رنگ و روپ تو آج ویسے ہی اس کے سر پر سوار تھا اور اب پینے کے بعد شیطان پوری طرح سے ذہن کو جکڑ چکا تھا سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ختم تھی ۔ عجیب سا ہیجان بدن میں سراٸیت کر رہا تھا ۔
”نہ۔۔۔نجف پیچھے رہ کر بات کریں اور نکلیں یہاں سے “
اذفرین غصے سے کہتی ہوٸ اس کے بغل سے گزرنے لگی جب نجف نے سختی سے بازو دبوچ کر اتنی زور کا جھٹکا دیا کہ وہ بری طرح اس سے ٹکرا گٸ ۔ سر اس کے سینے سے اتنی زور سے ٹکرایا کہ گھوم گیا ۔ اذفرین خوف سے کانپ گٸ ۔ اس کی گرفت عجیب طرح کی سختی لیے ہوۓ تھی ۔
” گھبرا کیوں رہی ہو اتنا۔۔۔۔ بس سکون چاہتا ہوں ۔۔۔تھوڑا سا بہت ٹوٹا ہوا ہوں “
اذفرین کا بازو دوبوچے وہ حواسوں کو خیر باد کہے اسکے چہرے کے قریب اپنا چہرہ کیۓ بول رہا تھا ۔ اس کی گرفت کی شیطانی طاقت اس کے منہ سے اٹھتے بدبو کے بھبکے اس کے ارادوں کا پتا دے رہے تھے ۔
اذفرین نے زور سے جھٹکا دے کر بازو چھڑوانا چاہا پر بے سدھ تھا سب ، نظر چرا کر بیڈ پر ڈالی موباٸل بیڈ پر تکیے کے پاس پڑا تھا جس پر اب روشنی جل اور بجھ رہی تھی مطلب علیدان کا فون آ رہا تھا ۔ فون ساٸیلنٹ موڈ پر ہونے کی وجہ سے نجف کا دھیان اس طرف نہیں گیا ۔
”نجف پلیز ۔۔۔۔ آپ جاٸیں اپنے کمرے میں “
اذفرین نے پوری قوت سے اسے دھکا دے کر اتنی اونچی آواز میں کہا کہ وہ لڑکھڑا گیا ۔ اس سے پہلے کہ وہ بھاگتی دروازے کی طرف وہ فوراً وحشی جانور کی طرح اذفرین پر لپکا ۔ اذفرین کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ ایک جست میں ہی بیڈ پر گری نجف ایک پل کی دیر کۓ بنا اسے دبوچ چکا تھا ۔
”کیا ہے۔۔۔ کس بات پر اکڑ رہی ہو ہاں ۔۔۔شادی ہو رہی ہے نا دس دن بعد تو کیا ہے اس میں “
نجف کی باتیں اور اس کی گرفت نے اذفرین کی روح تک جھنجوڑ دی ۔ اس کی اس بات پر بے ساختہ اسکا ہاتھ اٹھا تھا اور نجف کے گال پر زور دار آواز سے پڑا تھا ۔
”تھپڑ کیوں مارا مجھے ۔۔۔ تم کیا سمجھتی ہو خود کو “
نجف نے کی آنکھیں غصے سے سرخ ہو چکی تھیں ۔ ناک کے نتھنے پھول گۓ تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: