Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 29

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 29

–**–**–

نجف کی کنپٹی کی رگیں تن گٸ تھیں ۔ تھپڑ کے درد سے زیادہ اسے اپنی یوں تذلیل کے احساس نے پاگل کر دیا تھا ۔ پتا نہیں کیوں اسے اذفرین کا چہرہ کبھی ایمیلی کا چہرہ لگ رہا تھا اور کبھی اذفرین کا چہرہ لگ رہا تھا ۔ لبوں کو سختی سے ایک دوسرے کے ساتھ پیوست کیے ، اذفرین کی دونوں کلاٸیوں پر گرفت مضبوط کیے اس کے بازو اوپر کرنے کی کوشش میں وہ اپنی پوری قوت لگا رہا تھا ۔
” چھو ڑیں مجھے آپ ہوش میں نہیں ہیں چھوڑیں۔ں۔ں۔ں ۔ں “
اذفرین پوری قوت سے چیخی تھی نجف کا بھاری بھرکم وجود اور شیطانی قوت کی گرفت اس کے نازک سے وجود کی ہر سعی کو ناکام بنا رہا تھی ، اپنی نازک سی کلاٸیوں کو مڑوڑ کر اس کی گرفت کو ختم کرنے کی سعی میں اذفرین کا چہرہ سرخ پڑ گیا آنکھوں کی پتلیوں میں آنسو کی تہہ ابھرنے لگی تھی ۔
نجف میں تو جیسے شیطان سما گیا تھا اس کے بازو وہ بیڈ پر اوپر کے رخ اس طرح سیدھے کر چکا تھا کہ بمشکل وہ کلاٸیوں کی گرفت سے اوپر اپنے ہاتھ کی انگلیاں ہلا پا رہی تھی ۔ ہاتھ سے کچھ دوری پر ہی تکیے کے اوپر پڑے موباٸل کی سکرین پر مدھم سی روشنی بار بار جل بجھ رہی تھی۔
” دیکھ رہا ہوں اس دن سے میں ۔۔۔ میری۔۔۔ میرری ۔۔۔ طرف دیکھتی تک نہیں۔۔ تم۔۔۔ بھی ایمیلی ہو چھوڑ دو گی مجھے پر آج میں ساری اکڑ ختم ۔۔۔ کر دوں گا “
نجف اب اپنے چہرے کو قریب کۓ نفرت آمیز لہجے میں بے ربط لفظ ادا کر رہا تھا ۔اذفرین لگاتار ہتھیلوں کو ہلاتے ہوۓ اسکی کلاٸیوں پر سے گرفت ختم کرنے کی سعی میں تھی ۔ تکیے کے پاس پڑے موباٸل پر پھر سے بل بج رہی تھی علیدان کا نام جگمگا رہا تھا ۔ ہاتھوں کے بار بار ہلنے کی بدولت موباٸل سرکتا ہوا تکیے سے نیچے گر کر اذفرین کے ہاتھ کے پاس آ گیا تھا ۔
اذفرین کی مسلسل ہلتے ہاتھوں کی وجہ سے انگلیوں کی جنبش موباٸل سکرین پر موجود سبز نشان کو چھو گٸ تھیں ۔
چھوڑیں مجھے آنٹی ۔۔۔۔۔ آنٹی ۔۔۔۔ “
نجف کی بے باک گرفت کی وجہ سے اس کے حلق سے خوف نما چیختی آوازیں برآمد ہو رہی تھیں ۔ سمجھ سے باہر تھا کیا کرے پر اس وقت اذفرین کی تھوڑا سا بھی خوف اور ڈھیل اسے اور موقع دے سکتی تھی ۔
پتا تھا یہاں اب مدد کے لیے کوٸ نہیں آنے والا آنٹی سو رہی ہوں گی ۔ علیدان سمجھ رہا ہو گا میں سو گٸ ہوں اس لیے فون نہیں اٹھا پاٸ اور وہ نجف کی وجہ سے آج یہاں آۓ گا بھی نہیں ۔ آنسو اب آنکھ کے کونوں سے نکل کر گالوں پر لکیر بنانے لگے تھے
”کچھ نہیں ہو گا آرام سے لیٹی رہو ۔۔۔ میں کہہ رہا ہوں نا کچھ نہیں ہو گا بس چپ اب “
اذفرین کی اوپر کو اٹھنے کی کوشش کو سختی سے ناکام بناتا وہ خمار آلودہ لہجے میں بول رہا تھا ۔ اس کے منہ سے اٹھتی بدبو اور گھن زدہ جنبش خوف کے اثر کو بڑھاوا دے رہی تھی ۔ اذفرین کے منہ سے مسلسل چیخیں نکل رہی تھیں لیکن کوٸ سننے والا نہیں تھا ۔
”نہیں ۔۔۔ چیخو مت دیکھو ہونے والا سہی ۔۔۔پر شوہر ہوں تمھارا ، نہیں خاموش رہو بس “
ٹوٹی پھوٹی بے ربط آواز میں کہتا وہ جھکتا جا رہا تھا ۔
اس کے چہرے کو پاس آتا دیکھ کر اذفرین کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھل گٸ تھیں۔
”اگر اس لڑکی نے بٸیر سے بچایا تھا آٸرن مین کو تو وہ کون تھی وہ ونڈر ویمن ہو گی ہے نا ؟ “
جارج کی بازگشت کانوں میں گونج رہی تھی ۔ دانش نے اس کی کلاٸ تھام رکھی تھی اور کار میں بیٹھنے کو کہہ رہا تھا ۔ اذفرین کی ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی سنسناہٹ ہوٸ ۔
” اذفرین فاٸر ڈیمڈ ۔۔۔۔۔ “
علیدان خون میں ڈوبا درد سے چیخ رہا تھا ریچھ اسے نوچ رہا تھا ۔ ذہن میں کتنے ہی لمحے ایک فلم کی طرح چلنے لگے تھے ۔
نجف اب ڈھلکتی آنکھیں لیے جھک رہا تھا ۔ وہ ریچھ تھا ۔۔۔۔ وہ سانپ بن گیا تھا سبز رنگ کا سانپ اس کی گردن کے اس حصے کی طرف بڑھ رہا تھا جہاں وہ پہلے بھی ڈس چکا تھا۔ نجف دلدل بن گیا تھا ۔ وہ دلدل سے نکلنے کے لیے ہاتھ پاٶں ہلانے کی کوشش کر رہی تھی ۔ علیدان کا وجود ہر لمحے سے مٹ رہا تھا ۔ وہ اکیلی تھی ہر ۔۔ہر۔۔۔۔ہر جگہ پر
نجف جیسے ہی اوپر جھکا اذفرین نے پوری ہمت سے گردن کو اٹھا کر اپنے دانت اس کی گال پر گاڑ کر اپنی پوری قوت دانتوں پر لگا دی ۔وہ نہیں جانتی تھی اتنی طاقت اس میں کہاں سے آٸ تھی پر اس کے دانت آنکھ سے کچھ دوری پر ہی نجف کے گال کی جلد میں پیوست ہو گۓ تھے ۔
نجف بلبلا اٹھا جیسے ہی وہ تکلیف کی وجہ سے تڑپ کر تھوڑا سا ڈھیلا پڑا اذفرین نے اگلا وار پوری قوت سے اپنی داٸیں ٹانگ کو اٹھا کر اس کے پیٹ پر مار کر کیا ۔ پھر تو اس کی رہی سہی جان پر بھی بن پڑی ۔
” آہ ۔۔۔ آہ ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔“
وہ تکلیف کے اثر سے چیخ پڑا اذفرین کو مکمل طور پر چھوڑ کر ایک دم سے ایک طرف ڈھ گیا ۔ اذفرین برق رفتاری سے بیڈ پر سے اٹھی وہ لوٹ پوٹ ہو کر اب خود کو سنبھال کر اٹھ رہا تھا ۔
” یو ۔۔۔ بِچ ۔۔۔۔ ابھی بتاتا ہوں تمہیں “
تکلیف کے اثر سے اس کی آواز بھی کانپ رہی تھی ۔ اذفرین نے تیزی سے دوپٹہ کھینچ کر دروازے کی طرف دوڑ لگاٸ ۔
**********
” ادی کیا کہتی صندل ؟ “
اوزگل نے پریشان سے لہجے میں پوچھتے ہوۓ سامنے کھڑے ادیان کی طرف دیکھا ۔ وہ جیبوں میں ہاتھ ڈالے سر جھکاۓ اپنے پیروں پر نظریں جماۓ ہوا مایوس سا کھڑا تھا ۔ صندل سامنے جھولے پر بیٹھی تھی ۔ مضطرب چہرہ ادیان کی مایوسی دیکھ کر اور روہنسا ہو چلا تھا ۔
ادیان کچھ دیر پہلے ہی صندل سے ساری بات کرنے کے بعد اب چھت پر آیا تھا ۔ وہ دونوں بہت دن سے یوں چھت پر بیٹھ کر ڈھیروں باتیں کرتے تھے ۔ محبت میں پڑ جانے والی گتھیاں بیٹھ کر سلجھاتے تھے اور کبھی مایوس ہو کر آنسو بہانے لگتے تھے ۔
نۓ نۓ اظہار نے دونوں طرف محبت کو عروج دے رکھا تھا کہ کچھ دکھاٸ نہیں پڑتا تھا ، ایک دوسرے کے سوا ۔ ایک طرف اگر دونوں ایک دوسرے کے اظہار اور بے پناہ محبت سے سرشار تھے تو دوسری طرف آج شادی کی تاریخ پیچھے ہونے پر دل برداشتہ ہو گۓ تھے ۔
” وہ کہہ رہی ہے علیدان بھاٸ سے بات کرتے ہیں ہم دونوں “
ادیان نے سر اٹھا کر اس کے پریشان سے چہرے کی طرف دیکھا اور جیبوں سے ہاتھ نکال کر بوجھل سے قدم اٹھاتا اس کے ساتھ آ کر جھولے پر بیٹھ گیا ۔
” پلیز ادی کچھ کرو ۔۔۔۔ “
اوزگل چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لیۓ بے اختیار رو دی تھی ۔ ادیان کی جگہ اب علیدان کو دینا سوہان روح تھا اس کے لیے ۔ محبت کے بڑھتے طوفان نے دل کے اندر دبی خود غرضی کو ہوا دے دی تھی ۔
دل اب کسی صورت علیدان کو قبول کرنے کو تیار نہیں تھا ۔ پر میر دلاور کا رعب ، گھر کی عزت اور علیدان کا مان سب کچھ مجبور کۓ ہوۓ تھا۔ دونوں کے پاس گھٹ گھٹ کے رونے کے علاوہ کوٸ چارہ نہیں تھا ۔
ادیان نے نرمی سے اس کے ہاتھوں کو تھام کر چہرے پر سے ہٹایا ۔ آنکھوں سے آنسو بہہ کر گالوں کو بھگوۓ ہوۓ تھے ۔ چھت پر روشن لاٸٹس میں وہ اس کا چہرہ باخوبی دیکھ پا رہا تھا ۔ اس کی یہ حالت دل کو مٹھی میں لے کر دبوچ رہی تھی ۔
” اوز رو نہیں پلیز میں بھی بہت پیار کرتا ہوں تم سے بہت زیادہ پر کیا ہے نا کہ بھاٸ ۔۔۔“
ادیان اس کے دونوں ہاتھوں کو تھامے شاٸستگی سے اپنی بات سمجھا رہا تھا کہ سامنے چھت کے دروازے پر حواس باختہ سے علیدان کو دیکھ کر دونوں جھٹکا کھا کر جھولے پر سے اٹھے تھے ۔ دل اور آنکھیں دونوں پھٹنے پر آ گٸ تھیں ۔ علیدان کا سانس بری طرح پھولا ہوا تھا اگر وہ یوں حیرت اور خوف سے علیدان کی طرف دیکھ رہے تھے تو ادھر علیدان کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہوا تھا ایک پل کے لیے ۔
”بھاٸ “
ادیان کی گھٹی سی آواز نکلی جو بمشکل ساتھ کھڑی اوزگل ہی سن سکی ادیان کا دل کیا اسے آسمان نگل لے یا زمین پھٹ کر اپنے اندر کہیں سمو لے ، سر جھکایا کہ اب علیدان اس کی طرف آۓ گا ۔
پر یہ کیا ۔۔۔۔۔علیدان ایک سرسری سی پریشان نظر ان پر ڈالے ، بنا رکے بھاگتا ہوا بہادر والاز کے دروازے کی طرف بڑھ رہا تھا ۔
وہ اذفرین کو لگاتار فون کر رہا تھا اس کے کمرے کی جلتی روشنی بے چین کر رہی تھی اگر اس کی آنکھ لگ بھی گٸ ہو گی تو شاٸد کھل جاۓ اسی خیال سے وہ مسلسل اذفرین کو کال کرتا جا رہا تھا پر پانچویں دفعہ کی کال پر فون اٹھانے کے بعد اذفرین کی چیخوں اور نجف کی آواز نے پیروں کے نیچے سے زمین کو کھسکا دیا ۔ ایک سکینڈ کے بارویں حصے میں اس کا ماتھا ٹھنکا اور وہ بے سروپا موباٸل کو پھینک کر بھاگا تھا ۔
علیدان نے جلدی سے بہادر ولاز کے دروازے کو مطلوبہ چابی سے کھولا اور دروازے کھولتے ہی اندھا دھند زینے کی طرف بھاگا ۔
” ایک منٹ بھاٸ یہاں کہاں جا رہے ہیں “
ادیان نے تجسس اور حیرت سے جھکا سر اٹھا کر آنکھیں پھیلاۓ ساتھ کھڑی اوزگل کو دیکھا اس کی حالت بھی یہی تھی ۔ ادیان اوزگل کو وہیں چھوڑ کر تیز تیز قدم اٹھاتا بہادر ولاز کے دروازے کی طرف بڑھ گیا ۔
نجف کے بیڈ پر سے اٹھنے سے پہلے وہ کمرے کا دروازہ کھول کر باہر کی طرف دوڑی تھی ابھی نیچے اترتی سیڑھیوں کے پاس پہنچی تھی کہ بری طرح پھولی سانسوں سے بھاگ کر سامنے سے آتے علیدان پر نظر پڑتے ہی تڑپ کر اس کے سینے سے جا لگی ۔
” علیدان ۔۔۔۔ “
وہ بلک بلک کر رو رہی تھی جسم کانپ رہا تھا بال بکھرے ہوۓ تھے آنکھیں سرخ اور گال آنسوٶں سے تر تھے ۔نجف جو گال اور ٹانگ کی مارنے کی تکلیف کو برداشت کرتا غصے سے اس کے پیچھے کمرے سے باہر نکلا تھا سامنے یوں علیدان کو دیکھ کر ٹھٹک کر وہیں رکا۔
وہ خود کو بار بار آنکھیں جھپک کر سر کو جھٹک جھٹک کر سامنے کے منظر کو سچا ہونے کی تصدیق کروا رہا تھا ۔ اسے یوں سامنے علیدان کے سینے سے لگی اذفرین کو دیکھ کر بے پناہ حیرت ہو رہی تھی ۔
علیدان نے سامنے کھڑے نجف پر قہر آلودہ نظر ڈالی ۔ نجف کی حالت نے دماغ میں ہتھوڑے چلا دیے تھے سینے سے لگی اذفرین کو ایک طرف کرتا تیزی سے اس کی طرف بڑھا ۔
نجف ابھی بھی حیرت میں ڈوبا کھڑا تھا جب اچانک علیدان اس پر جھپٹ پڑا ۔ اس کے اچانک یوں مکوں اور ٹانگوں کی برسات پر وہ بد حواسی کا شکار ہو گیا ۔ دماغ تو ابھی اس کی موجودگی پر حیران تھا کہ اب اس کے یوں تابڑ توڑ حملے نے ہوش ہی اڑا دیے ۔
”کیوں مار رہا ہے مجھے ابے تو کہاں سے آیا میرے گھر ہے کون ؟ “
نجف نے گرتے پڑتے خود کو سنبھال کر چیختے ہوا پوچھا پر وہاں تو کوٸ اثر ہی نہیں تھا جواب کے بجاۓ نجف کے ناک پر ایسا مکا پڑا کہ وہ لڑھک کر پہلی سیڑھی پر کھڑی اذفرین کے پیروں میں گرا ۔
ادیان کے بھاگتے قدم اذفرین کے پاس آ کر رکے تھے ۔ اور پھر حیرت در حیرت کا سفر اس کی آنکھوں کا حجم بڑھا رہا تھا ۔ اسی طرح کی حالت میں مبتلا اوزگل بھی اب وہاں آ چکی تھی ۔
نجف کے اونچا اونچا چیخنے اور اذفرین کے رونے کی آواز سن کر ماٸدہ بیگم بھی نیند سے بوجھل آنکھیں لیے کمرے سے باہر آٸ تھیں۔ اور گردن اونچا کر کے سامنے دیکھا ۔
اور سامنے کا منظر دیکھ کر وہ بھی ادیان اور اوزگل کی طرح جامد رہ گٸیں ۔ علیدان بری طرح نجف کو مار رہا تھا نجف کے ناک سے خون نکل رہا تھا گال پر دانتوں کے نشان تھے ۔ وہ اب سیڑھیوں پر لڑھکتا نیچے گر رہا تھا اور علیدان سپاٹ سرخ چہرہ لۓ پیچھے اتر رہا تھا ۔
نجف نے بمشکل خود کو گرنے سے بچایا اور باقی کی سیڑھیاں اتر کر بھاگتا ہوا ششد حیران سی شکل بناٸ ماٸدہ بیگم کے پاس پہنچا ۔
” امی۔ی۔ی۔ی کون ۔۔۔ ہے ۔۔۔ کہاں سے آیا یہ ؟“
نجف نے دہاڑتے ہوۓ ماٸدہ بیگم سے پوچھا اور اوپر اذفرین کے پاس کھڑے ادیان اور اوزگل کو دیکھ کر آنکھیں مزید سکوڑیں جبکہ منہ اور کھل گیا ۔
علیدان نے ماٸدہ بیگم کی طرف دیکھا جو ابھی بھی ناسمجھی کی حالت میں کھڑی تھیں ۔ سب سب کھل گیا تھا اذفرین نے ہاتھ کی پشت سے گال رگڑے تیزی سے سیڑھیاں اترتی آ کر علیدان کے پیچھے کھڑی ہوٸ ۔
علیدان نے ایک خونخوار نگاہ ، مار سے بے حال ہوۓ نجف پر ڈالی اور اذفرین کا ہاتھ تھاما۔
” چلو اذفرین “
سپاٹ لہجے میں کہتا ہوا ابھی وہ ایک قدم ہی آگے بڑھا تھا جب ماٸدہ بیگم نے چیخ کر پیچھے سے آواز دی ۔
”رکو تم اس وقت کیا کر رہے ہو یہاں اور کہاں لے کر جا رہے ہو فری کو ؟ “
ماٸدہ بیگم کی آواز ضبط کی وجہ سے کانپ رہی تھی ۔ وہ کبھی آنسوٶں سے تر چہرہ لیے علیدان کے ساتھ لگی کھڑی اذفرین کو دیکھ رہی تھیں تو کبھی خون آلودہ چہرہ لیے نشے میں ڈوبے نڈھال سے نجف کو دیکھ رہی تھیں ۔ آنکھیں پھٹی تھیں عقل دنگ تھی آخر کو یہ سارا ماجرا کیا تھا ۔
”مما یہ ۔۔۔ کیسے ہے رات کے اس وقت گھر میں یہ کیا چل رہا ہے سب کوٸ بتاۓ گا مجھے ؟ “
نجف نے چیخ کر ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوۓ ماٸدہ بیگم سے پوچھا۔ اور پھر بپھر کر اذفرین اور علیدان کی طرف بڑھا ۔
” چھوڑو ۔۔۔ اس کا ہاتھ یہ میری ہونے والی بیوی ہے میں کچھ بھی کروں اس کے ساتھ تم کون ہوتے ہو اور یہاں کیا کر رہے ہو دفعہ ہو جاٶ میرے گھر سے “
نجف چیختا ہوا آگے بڑھا اور اذفرین کا بازو پکڑنے کو ہاتھ آگے بڑھایا جسے علیدان نے پکڑ کر ہوا میں ہی معلق رہنے پر مجبور کر دیا ۔ جبڑے بھینچ کر نجف کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
” تمھاری ہونے والی تھی ۔۔۔ میری بیوی ہے “
غرا کر کہا اور پوری قوت سے نجف کے ہاتھ کو نیچے کی طرف اس طرح جھٹکا کہ وہ ہل کر رہ گیا ۔ وہاں موجود تمام نفوس کے منہ ایک ساتھ کھلے تھے آنکھیں حیرت سے مزید کھل گٸ تھیں ۔
”اذفرین ایک ماہ سے میرے نکاح میں ہے میں لے کر جا رہا ہوں اپنی بیوی کو میں کوٸ آگے بڑھا ہاتھ توڑ دوں گا اس کا “
علیدان نے اونچی آواز میں ماٸدہ بیگم کی طرف دیکھتے ہوۓ کہا ۔ ادیان جیسے ایک دم سے ہوش میں آیا تھا بھاگتا ہوا چھت کے دروازے کی طرف لپکا ۔ نجف حیرت اور پریشانی کے ملے جلے اثرات لیے ابھی بھی ساکن کھڑا تھا ۔ اس کی بات ہی ایسی تھی ۔
” چلو اذفرین “
علیدان نے مڑ کر اذفرین کے ہاتھ کو جھٹکا دیا اور وہ مجسمے کی طرح ساتھ چل دی ۔ علیدان اذفرین کا ہاتھ تھامے اب سیڑھیاں چڑھ رہا تھا جہاں اوزگل پھٹی آنکھوں سمیت کھڑی تھی ۔ جیسے ہی علیدان اور اذفرین پاس سے گزرے وہ بھی حیران پریشان سی ان دونوں کے پیچھے چل دی ۔
*******
دلاور ولاز کی چھت کا دروازہ کھول کر سیڑھیاں اترتے علیدان ، اذفرین اور اوزگل کے قدم ٹھٹک کر تھمے تھے سیڑھیوں سے نیچے لاٶنج میں میر دلاور ، زیب بیگم ، صندل اور ادیان کھڑے تھے انداز ایسا تھا کہ اگر وہ ابھی نہ پہنچتے تو وہ سب چھت کے رستے سے بہادر ولاز میں آنے والے تھے جہاں کچھ دیر پہلے ایک طوفان برپا تھا ۔ چند سکینڈ کے لیے عجیب جان لیوا سی خاموشی چھاٸ سب کے سانس خشک ہو چلے تھے ۔
” میں پوچھ سکتا ہوں کیا ؟ یہ کیا تماشہ ہے “
میر دلاور کی گرج دار آواز نے چھاۓ ہوۓ سکوت کو توڑا تو اذفرین نے سہم کر آنکھیں بند کیں ۔ علیدان کے ہاتھوں میں اس کا ہاتھ سمٹ گیا تھا۔ تو آج آ ہی گیا وہ دن ۔۔۔افرین کا دل خوف سے لرز گیا ۔
میر دلاور غصے میں بھرے پیشانی پر شکن ڈالے اب سامنے خاموش کھڑے علیدان کو گھور رہے تھے ۔ ضبط کا یہ عالم تھا کہ ماتھے کی اوپری رگ تک ابھری ہوٸ تھی اور سفید چہرہ سرخ پڑ گیا تھا ۔
علیدان نے اذفرین کے ہاتھ پر گرفت مضبوط کی اور سیڑھیاں اتر کر میر دلاور کے بلکل سامنے آ کر کھڑا ہوا گردن جھکی ہوٸ تھی ۔ میر دلاور بلکل خاموش کھڑے تھے لیکن ان کی سانسوں کی رفتار ان کے اندر کے ابال کا پتا دے رہی تھی ۔
”بابا اذفرین میرے نکاح میں ہے “
علیدان کے آہستگی سے کہے گۓ الفاظ تھے جس پر سب کی آنکھیں باہر کو آٸ تھیں میر دلاور کی پیشانی پر موجود شکن میں مزید اضافہ ہوا ۔ اور پھر ایک زور دار تھپڑ تھا جو علیدان کے گال پر پڑا ۔
اذفرین کا پورا جسم کانپ گیا ۔ باقی سب کا حال بھی کچھ اسطرح ہی تھا علیدان کے چہرے کا رخ ایک طرف کو ہوا ۔
” شرم نہیں آٸ تمہیں یوں چھپ کر نکاح کرتے ہوۓ ؟ تمہیں میں نے اور تمھاری مما نے صاف صاف منع کیا تھا ، بات سمجھ کیوں نہیں آٸ تھی ؟ “
میر دلاور دہاڑ رہے تھے اور ان کی آواز کی گرج اور رعب سے سب کی گردنیں جھک گٸ تھیں ۔
”ساری عزت اتنے سالوں کی محنت خاک میں ملا کر آج کھڑے ہو میرے سامنے “
میر دلاور نے حقارت سے کہتے ہوۓ علیدان کو اوپر سے نیچے دیکھا ۔ علیدان کا سر تھا کہ اٹھ نہیں رہا تھا ۔
” لے جاٶ اس لڑکی کو اسی وقت طلاق دو اور واپس چھوڑ کر آٶ ان کے گھر “
میر دلاور نے غصے سے ہاتھ لمبا کیۓ بہادر ولاز کی طرف اشارہ کیا ۔ اب کی بار علیدان کا سر جھکا نہیں رہا تھا ۔
” نہیں میں ایسا کچھ نہیں کروں گا بابا “
علیدان نے دو ٹوک لہجے میں مگر آواز کو حد درجے مٶدب رکھتے ہوۓ جواب دیا ۔ میر دلاور نے آنکھوں کو سکوڑ کر گھورا ۔
” میری بات سننا ہو گی آپکو ، آپکو پتا ہے یہ لڑکی کون ہے ، اگر یہ لڑکی نا ہوتی تو میں آج آپ سب کے سامنے زندہ سلامت نا کھڑا ہوتا “
علیدان نے اذفرین کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ سب کی طرف بغور دیکھا آواز میں ٹھہراٶ تھا ارادے کی پختگی تھی ۔
” یہ تھی وہ جس نے مجھے جنگل میں موت کے منہ سے بچایا ، یہی تھی وہ دوسرا حوصلہ بابا جس کا بتاتے ہوۓ میں رک گیا تھا اس دن ہوٹل میں“
علیدان نے پر سکون لہجے میں اذفرین کی وکالت کی اذفرین کی گال پر پھر سے آنسو بہنے لگے ۔ وہ ڈٹ گیا تھا سب کے سامنے اس کے لیے ، وہ کتنی خوش قسمت تھی ۔
” میں آپ سب سے بہت محبت کرتا ہوں پر میں بے بس ہوں میں اس لڑکی سے بھی شدید محبت کرتا ہوں میں اسے کسی قیمت پر نہیں چھوڑ سکتا “
علیدان نے پر عزم لہجے میں کہتے ہوۓ اذفرین کے ہاتھ پر گرفت کو مضبوط کیا ۔ اذفرین نے زور سے آنکھیں بند کیں تو ٹھہرے آنسو بھی گال پر لڑھک گۓ
”اب رہی بات میرے نکاح کرنے کی تو بابا ۔۔۔ میرے پاس اور کوٸ راستہ نہیں تھا آپ لوگوں پر اور اس پر اپنی سچی محبت ثابت کرنے کا “
علیدان نے بات مکمل کرنے کے بعد ہونق بنی کھڑی زیب کی طرف دیکھا ۔ میر دلاور جو ضبط کی آخری سیڑھی پر تھے ایک دم سے چیخے ۔
” بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔ محبت محبت لگا رکھی ہے ، تمھارے نام سے جڑی یہ بچی اسکا کیا قصور ہے بولو “
میر دلاور نے اشارہ اوزگل کی طرف کیا ۔ اوزگل نے سہم کر علیدان کی طرف دیکھا اب کی بار ادیان کی گردن جھک گٸ تھی ۔ اوزگل نے گڑبڑا کر صندل کی طرف دیکھا ۔
”وہ مجھ سے محبت نہیں کرتی ہے “
علیدان نے ترکی با ترکی جواب دیا تو میر دلاور کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں چونک کر سر جھکاۓ کھڑی اوزگل کی طرف دیکھا ۔
” کیا ۔۔۔۔۔؟ “
میر دلاور نے حیرت سے سوال کیا ۔ علیدان نے ایک نظر کچھ دور کھڑے ادیان کی طرف دیکھا ۔ اور پھر گہری سانس خارج کیا ۔
” ہاں وہ مجھ سے نہیں ادیان سے محبت کرتی ہے ، یہ ایک اور ظلم آپ ڈھانے والے تھے اس سے میری شادی کروا کر ، میں نے اسے ہمیشہ صندل کی طرح چھوٹی بہن سمجھا ، آپ نے پکڑ کر مجھ سے بنا پوچھے اس سے بنا پوچھے ہمارا رشتہ طے کر دیا “
علیدان آواز کو آہستہ رکھے ہوۓ تھا لیکن پر شکوہ لہجہ صاف عیاں تھا ۔ میر دلاور نے بے یقینی سے مٹھیاں بند کیں۔ ان کا غرور ان کا بیٹا آج ان کے سامنے تنا کھڑا تھا ۔
” واٹ ربش۔ش۔ش۔ش “
اونچی آواز کی گرج تھی ۔ میر دلاور نے غصے سے ادیان اور پھر اوزگل کے جھکے سر کو گھورا یہ سب کیا تھا ان کی سمجھ سے یکسر باہر تھا ۔
”گل کیا یہ ٹھیک کہہ رہا ہے ؟ “
میر دلاور کی آواز میں اتنی سختی تھی کہ اوزگل کا باقاعدہ پورا وجود ہل گیا ۔ مضطرب نظریں ارد گرد گھماٸیں اور مدد طلب نظروں سے صندل کی طرف دیکھا ۔ پھر ہمت جمع کیۓ سر کو جھکا کر خاموشی کو توڑا
” جی ۔۔۔۔ تا بابا “
ندامت میں ڈوبے لہجے میں وہ علیدان کی بات کی تصدیق کیے سر کو اور جھکا گٸ ۔ صندل نے اوزگل کی حالت دیکھی تو جلدی سے تھوک نگل کر آگے بڑھی ۔
” بابا علیدان بھاٸ ٹھیک کہہ رہے ہیں ، گل اور ادیان ایک دوسرے کو چاہتے ہیں ، بس آپ کے ڈر سے ۔۔۔۔“
صندل نے تیزی سے آگے بڑھ کر ادیان اور اوزگل کے حق میں آواز اٹھاٸ تو زیب بیگم جو کب سے چپ کھڑی تھیں تنک کر آگے ہوٸیں اور صندل کی بات کاٹ دی ۔
”گل ہی نہیں اس تماشے سے تمھاری بھی شادی کو خاطرہ ہے “
زیب بیگم کا لہجہ کاٹ دار تھا ۔ وہ صندل کو گھور رہی تھیں ۔ جو یوں وکالت کرنے آگے ہو کر بابا کے اعتاب کا نشانہ بننے کے لیے خود کو پیش کر رہی تھی ۔
”حسیب کی ہونے والی بھابھی کو بھگا لایا ہے تو کیا وہ لوگ اب اس گھر میں رشتہ کریں گے بھلا “
زیب بیگم نے طنزیہ لہجہ اپنایا ۔ صندل نے افسوس سے سر کو ہلا کر ان کی بات کی تردید کی ۔
” مما اگر وہ رشتہ نہیں کریں گے اور حسیب راضی ہوا اس بات پر تو یقین جانیں ، مجھے خوشی ہو گی میری شادی وہاں نہیں ہو رہی “
صندل نے پرسکون لہجے میں کہتے ہوۓ تن کر زیب بیگم کی طرف دیکھا اور پھر پرسوچ نگاہوں سے دیکھتے میر دلاور کے پاس ہوٸ ۔
”بابا حسیب اگر مجھ سے محبت کرتا ہوا تو کبھی اس بات کی وجہ سے مجھے نہیں چھوڑے گا ، اگر چھوڑے گا تو مجھے بھی ایسے شخص سے شادی نہیں کرنی جو مجھ سے محبت نہیں کرتا “
صندل نے سینے پر ہاتھ باندھے اپنی بات مکمل کی ۔ میر دلاور مضطرب چہرے کے ساتھ پیچھے مڑے اور پاس پڑے صوفے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھتے ہی سر کو دونوں ہاتھوں میں تھام لیا ۔ علیدان نے اذفرین کے ہاتھ کو چھوڑا اور تیزی سے آگے بڑھ کر نیچے بیٹھ کر میر دلاور کے گھٹنے تھام لیے ۔
وہ ہنوز سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے گردن کو جھکاۓ بیٹھے تھے ۔
”بابا بچپن سے میں نے دیکھا میں گر جاتا تھا ، آپ کہتے تھے نہیں اٹھانا خود اٹھو ، مجھے کوٸ مسٸلہ ہوتا تھا ، آپ کہتے تھے خود حل کرو “
میر دلاور نے بے رخی سے چہرے کو موڑا تو علیدان اور تڑپ گیا ۔ اب سب دم سادھے علیدان کی طرف دیکھ رہے تھے ۔
” ایسا کھانا ہے ، ایسا پینا ہے ، ایسا پڑھنا ہے ، آپ نے ہمیشہ ہی ایسا کیا میرے ساتھ ، میں چپ رہا ہمیشہ بابا جو کہا وہ کیا “
علیدان نے بے چارگی سے ان کے رخ موڑے چہرے کی طرف دیکھا ۔وہ بول رہا تھا اور میر دلاور کا دل پسیج رہا تھا ۔ وہ حرف با حرف سچ بول رہا تھا ۔
”پر آج مجھے آپ کا ساتھ چاہیے بابا ، اذفرین میری خوشی ہے ، میری واحد چاہت“
اذفرین کے گلے میں آنسو اٹک گۓ تھے ۔ اپنے ہاتھوں کو آپس میں جوڑ کر خود کو خود کا سہارا دیا ۔
” مجھے میری چاہت کے حصول کے لیے آپکو میرے ساتھ کھڑے دیکھنا ہے ، کیا آپ یہ کریں گے میرے لیے ؟ “
علیدان نے التجا کی اور ان کے گھٹنوں پر رکھے اپنے ہاتھوں کے دباٶ میں اضافہ کیا ۔ میر دلاور کی رگوں کا تناٶ کم ہوا تھا ۔ چہرے پر اب پہلے جیسی سختی نہیں رہی تھی ۔
”اگر آپ سوچیں دل سے تو میں نے آپ کا سر جھکایا نہیں ہے بابا ، اذفرین ایک یتیم بے سہارا ، شادی شدہ بہن بھاٸیوں کے ہاتھ کھلونا بنی ہوٸ ایک مظلوم لڑکی ہے ، اس کے سر پر دست شفقت رکھ کر آپ کا سر جھکے گا نہیں فخر سے بلند ہو گا “
علیدان دھیرے سے پرسکون لہجے میں اپنی بات ان کو سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا جب ایک جھٹکے سے میر دلاور اپنی جگہ سے اٹھے اور رخ دوسری طرف موڑا ۔
” بابا ۔۔۔ “
علیدان نے پیچھے سے انہیں ایسے پکارا کہ میر دلاور کے قدم تھم گۓ ۔ پھر وہ آہستگی سے مڑے اور کچھ قدم آگے بڑھ کر اذفرین کے بلکل سامنے آ کھڑے ہوۓ ۔ اذفرین کی جھکی پلکیں لرزنے لگی تھیں ۔ میر دلاور نے ہاتھ اوپر اٹھایا اور پھر آہستگی سے اذفرین کے جھکے سر پر اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔
”صندل اسے لے کر جاٶ کمرے میں رات بہت ہو گٸ ہے آرام کرے “
شفقت بھرے لہجے میں کہا تو علیدان نے تیزی سے آگے بڑھ کر میر دلاور کے گرد اپنے بازو حاٸل کیے ان کے سینے سے سر ٹکا دیا ۔ زیب بیگم کے علاوہ سب نم آنکھوں سمیت مسکرا دیے تھے۔
”بابا ۔۔۔۔۔۔ “
علیدان نے پرجوش ہو کر بازوٶں کی گرفت میر دلاور کے گرد مضبوط کی ۔ میر دلاور نے مسکراتے ہوۓ اپنے بازو علیدان کے گرد گھما دیے ۔
*************
علیدان صندل کے کمرے کا دروازہ کھولتا اندر داخل ہوا تو صندل نے گردن گھما کر اس کی طرف دیکھا ۔ اذفرین گھٹنوں میں منہ دیے رو رہی تھی ۔ صندل اس کے پاس بیٹھی اس کی پشت سہلا رہی تھی ۔ جیسے ہی علیدان آگے بڑھا ، صندل اپنے موباٸل پر بجتی بل کو دیکھ کر بیڈ سے اٹھی ۔
”بھاٸ رٶۓ جا رہی ہے چپ نہیں ہو رہی چپ کرواٸیں اپنی بیوی کو “
صندل نے علیدان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوۓ کہا اور فون کو کان سے لگاۓ کمرے سے باہر نکل گٸ رات کے دو بج رہے تھے وہ زیب بیگم اور میر دلاور کے کمرے سے ابھی اٹھ کر آیا تھا ۔
بڑی مشکل سے وہ زیب بیگم کو سمجھا کر ان کو سونے کا کہہ کر اب اذفرین کو دیکھنے آیا تھا۔ صندل شاٸد حسیب سے بات کرنے کی غرض سے کمرے سے باہر چلی گٸ تھی ۔
علیدان آہستگی سے بیڈ پر بیٹھا ۔ اذفرین ہنوز گھٹنوں میں منہ دیے سسک رہی تھی ۔
”اذفرین “
علیدان نے چہرے کو قریب کیے محبت سے پکارا اذفرین نے تڑپ کر چہرہ اوپر اٹھایا اسکا رو رو کر برا حال تھا ۔ آنکھیں ناک سرخ ہو رہے تھے ۔ گال بھیگے ہوۓ تھے ۔
”علیدان ۔۔۔ سعد بھاٸ “
آنسوٶں میں رندھی بھاری سی آواز میں بمشکل الفاظ ادا کیے ۔ علیدان نے گہری سانس لی اور کھسک کر اور قریب ہو ۔
”کچھ نہیں ہو گا ، سعد بھاٸ تمھارے بھاٸ ہیں دشمن نہیں “
محبت سے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ تسلی دی ۔ اذفرین نے نفی میں دھیرے سے سر ہلایا ۔
”علیدان آپ نہیں جانتے حسیب نے اور ہی کہانی ڈال دی ہو گی سعد بھاٸ کے سامنے وہ ٹوٹ جاٸیں گے “
اذفرین نے سر کو افسوس سے ہوا میں مارتے ہوۓ اپنی پریشانی بتاٸ اسے سعد کے اعتماد کے ٹوٹنے کا دکھ تھا ، علیدان نے پیشانی پر بل ڈالے ۔
”تو ۔۔۔ اس سے کیا ہو گا ، کیوں ڈر رہی ہو ، ان سب باتوں کی وجہ سے ہی میں نے زبردستی تم سے نکاح کیا تھا ، مجھے پتا تھا تم ہر ہر لمحے پر کمزور پڑ کر میرا ہاتھ جھٹکو گی “
علیدان اب تھوڑا سختی سے کہہ رہا تھا ۔ اذفرین کے آنسو تھم گۓ تھے ۔ وہ سہی کہہ رہا تھا اگر آج نکاح نا ہوا ہوتا تو شاٸد وہ اس سب سے دل برداشتہ ہو کر خود ہی واپس نجف کے پاس چلی جاتی ۔
”تم میری بیوی ہو جس طرح آج بابا کے سامنے ڈھال بنا اس طرح ہر شخص کے سامنے بن جاٶں گا ، سمجھی تم ، تم سے نکاح کے بعد سے ایک چیز مانگی صرف کہ تم سوچو گی نہیں اور اب آنسو نہیں بہاٶ گی “
علیدان کا چہرہ سپاٹ تھا وہ خفا سا لگ رہا تھا ۔ اذفرین کو اس کی باتوں سے جیسے حوصلہ ہوا ۔ سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” آنسو صاف کرو اور سو جاٶ سب ٹھیک ہو جاۓ گا “
علیدان نے محبت سے اس کی گال پر بہتے آنسوٶں کو دیکھ کر آواز میں نرمی پیدا کی تو وہ فوراً بچوں کی طرح ہاتھ کی پشت سے گال صاف کرنے لگی ۔
”یہاں نیند آ جاۓ گی یا اپنے کمرے میں لے چلوں “
علیدان نے مسکراتے ہوۓ شریر لہجے میں سرگوشی کی تو وہ بے ساختہ مسکراتے ہوۓ سمٹ گٸ ۔ علیدان نے دلچسپی سے اس کے چہرے پر طاری ہوتے سکون کو دیکھا ۔
” شکر ہے مسکراٸ تو “
علیدان نے ہلکا سا قہقہ لگایا اور آہستگی سے اس کے گال کے ایک طرف بہتے آنسو کو انگوٹھے سے صاف کیا ۔ ہاتھ ابھی بھی اس کے نرم سے گال کو دھیرے سے سہلا رہا تھا ۔
” آٸ لو یو “
علیدان نے لہجے میں جزبات کی گرماہٹ لیے کہا ۔ اذفرین کی پلکیں کپکپا گٸیں اور لب مسکرا دیے ۔ علیدان نے چہرہ اسکی گال کے ساتھ لگا کر کان کے قریب ہونٹ کیے
”جواب بھی ہوتا ہے اسکا ؟“
گرم سی مدھم سرگوشی کان کی لو جلاتی تن بدن کے سارے تار چھیڑ گٸ ۔ اذفرین کا چہرہ پل بھر میں ہی گلال ہو ا۔
” ٹو “
آہستگی سے بمشکل آواز کو حلق سے برآمد کیا ۔ علیدان نے پیچھے ہوتے ہوۓ خفگی سے گھورا ۔
” پورا بولو بھٸ یہ ٹو شو کیا ہوتا ہے “
علیدان کی خفت بھری آواز پر اذفرین نے مسکراتے ہوۓ پلکیں اوپر اٹھاٸیں ۔ کتنا پیارا تھا سامنے بیٹھا یہ شخص۔ مصنوعی خفگی سجاۓ اذفرین کے دل میں اتر رہا تھا ۔
” ابھی نہیں “
ناک کو چڑھاتے ہوۓ نخرے سے کہا ۔ علیدان اس کی ادا پر بے ساختہ ہنس دیا۔ کتنی دلکش لگی تھی وہ یوں ناک چڑھا کر نخرہ دکھاتی ہوٸ ۔
” پھر کب ؟ “
علیدان نے بھنویں اچکا کر پوچھا ۔ چہرہ پھر سے بے تابی سے اس کے چہرے کے قریب کیا ۔
” آپ کے کمرے میں جب آٶں گی تب “
اذفرین نے نظریں چرا کر شرارت سے جواب دیا ۔ اور ہاتھ سینے پر رکھتے ہوۓ اسے دور کیا ۔
” ہاۓ ۔۔۔ بس رہ گۓ ہیں چند دن پھر یہ آنسو انگلی کی پور سے نہیں چنوں گا “
علیدان کے لہجے میں اس کے سارے جزبات جھلک رہے تھے ۔
اذفرین سے اب اس کے بھیگے لہجے اور مخمور آنکھوں کی تاب لانا مشکل ہو رہا تھا ۔
” جاٸیں نا صندل آ جاۓ گی “
خفت سے کہتے ہوۓ ہلکا سا دھکا دیا اور پلکیں اوپر اٹھا کر آنکھوں میں دیکھا۔ علیدان پرسکون انداز میں مسکرا دیا اور پھر اشارے سے اسے رونے سے منع کرتا بیڈ سے اٹھا ۔ بار بار اسے پیچھے مڑ کر دیکھتا باہر نکل گیا ۔
اس کے جاتے ہی پریشانی کی لکریں پھر سے چہرے پر امڈنے لگی تھیں ۔ کیا کرتی وہ ایسی ہی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: