Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 3

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 3

–**–**–

” رات کا اندھیرا ہونے سے پہلے ہمیں کسی محفوظ جگہ پر چھپ کر بیٹھنا ہو گا “
علیدان نے پھولی سانسوں کے ساتھ کہا ۔ اور اذفرین کو کندھے پر سے نیچے اتارا وہ جلدی سے نظریں چراتی اپنی شرٹ درست کر رہی تھی گہری سانس لی جب تک اس کے کندھے پر تھی یوں لگ رہا تھا ابھی گر جاۓ گی ۔ ایک نظر اوپر اٹھا کر سامنے کھڑے اس اجنبی کی طرف دیکھا اسے ابھی بھی سانس چڑھا تھا کمر پر ہاتھ دھرے سر کو اوپر اٹھاۓ وہ اب مصروف سے انداز میں ارد گرد درختوں کو دیکھ رہا تھا بڑی بڑی آنکھیں اب تھکاوٹ کے باعث بوجھل سی ہو کر اس گہری ہوتی شام کا حصہ لگ رہی تھیں۔
” یہ درخت ٹھیک ہے “
علیدان نے ایک گھنے سے پتوں سے ڈھکے درخت کی طرف اشارہ کیا ۔ جس کی شاخیں لمباٸ کے رخ نیچے لٹک کر اس کے تنوں کو ڈھک رہی تھیں اور نیچے والا تنا اتنا اونچا نہیں تھا کہ چڑھنا ناممکن ہو۔ علیدان اب کھوجتی سی نظروں سے درخت کو دیکھتا اس کے پاس کھڑا تھا ۔
افف میں کیسے چڑھوں گی اس پر اذفرین نے تھوک نگلتے ہوۓ درخت کی طرف دیکھا وہ تو کبھی زندگی میں درخت پر نہیں چڑھی تھی ۔ درخت کے اوپر چڑھنے کا سوچ کر ہی روح فنا ہونے لگی تھی ۔
” مجھے نہیں آتا چڑھنا “
اذفرین نے سہمی سی آواز میں کہا صورت بھی گھبراٸ سی تھی ۔ وہ جو درخت کی اونچاٸ کا اندازہ لگانے میں مصروف تھا چونک کر اذفرین کی طرف دیکھا ۔چلو جی اب اس کو درخت پر بھی نہیں چڑھنا آتا ۔ علیدان نے بھنویں اوپر چڑھاٸیں وہ بچوں کی طرح روہانسی صورت بناۓ اب درخت کی طرف دیکھ رہی تھی معصوم سا چہرہ جگہ جگہ سے سرخ ہو رہا تھا اسے جب کندھے پر اٹھاۓ بھاگ رہا تھا تو مختلف شاخیں اور پتے اس کے چہرے اور بالوں سے ٹکرا رہے تھے بکھرے بالوں میں ابھی بھی جگہ جگہ گھاس پھوس اٹکی ہوٸ تھی ۔ یار کیا کروں اس لڑکی کا اس کو تو بچا کر میں خود عزاب میں پھنس گیا ہوں ۔ علیدان نے منہ کھول کر تھکے سے انداز میں ارد گرد دیکھا ۔ پر اب گلے پڑا ڈھول بجانا ہی تھا ۔
” میرے کندھے پر چڑھیں “
علیدان ایک دم سے نیچے ہو کر ایک ٹانگ کو فولڈ کرتے ہوۓ نیچے بیٹھا ۔ اور اپنے داٸیں کندھے پر ہاتھ سے اشارہ کیا ۔ وہ ہونق بنی کھڑی تھی ۔ اب اس کے اوپر چڑھوں افف اذفرین نے تھوک نگلا سامنے بیٹھے شخص کے ضبط سے بند کیے ہوۓ جبڑے اس کے اندر کے غصے کو صاف واضح کر رہے تھے جو اسے سنبھال سنبھال کر اُسے چڑھ رہا تھا ۔
” نہ نہیں میں یہاں نیچے ہی رہوں گی“
اذفرین نے گھبرا کر کہا ۔ درخت پر سے گر جانے کا خوف آیا اور اس کے کندھے پر کیسے چڑھ سکتی تھی وہ ۔ علیدان نے اب کی بار کھا جانے والے انداز میں گھور کر دیکھا ۔ اندھیرا زیادہ گہرا ہوتا جا رہا تھا اور اس لڑکی کے نخرے ختم نہیں ہو رہے تھے ۔
” نیچے سیف نہیں آپ کیوں نہیں سمجھ رہی یہ بات “
غصے سے کہا اذفرین اس کی با رعب آواز پر فوراً گھبرا کر آگے ہوٸ ۔ اور الجھے سے انداز میں اس کے پاس آ کر کھڑی ہوٸ ۔ افف کتنی بھاری آواز تھی اس سارے عرصے میں وہ پہلی دفعہ اسے جھاڑ رہا تھا ۔
” میرے کندھے پرے چڑھیں اور پھر درخت کے اس تنے کو پکڑ یں اس سے اوپر آپکو بتاتا ہوں کیسے چڑھنا “
علیدان نے ڈپٹنے کے سے انداز میں کہا اور اپنے دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو آپس میں پھنسا کر اپنے گھٹنے پر رکھا تاکہ اس کے وزن کو برداشت کر سکے ۔اذفرین نے گھبراتے ہوۓ اس کے گھٹنے پر پاٶں رکھا اور پھر کندھے پر پاٶں رکھ کر تنے کو ہاتھ ڈالا جیسے ہی تنے کو ہاتھ ڈال کر وہ لٹکی وہ جلدی سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور اسے کمر سے پکڑ کر اوپر کیا
کمر پر اس کے ہاتھوں کی گرفت محسوس ہوٸ لمحہ بھر کو عجیب سی شرمندگی کا سا احساس ہوا اچانک وارد ہو جانے والی افتاد کیا کیا کروا رہی تھی آج اس سے وہ اب اسے اوپر ہو کر تنے پر چڑھنے میں مدد کر رہا تھا ۔اور واقعی اس کی مدد سے وہ ہمت جتا کر اب تنے پر بیٹھ چکی تھی۔
وہ خود بڑی مہارت سے پاٶں درخت میس پھنساتا تنے پر پہنچ چکا تھا ۔ اب اسی طرح اس نے اذفرین کو دو تنے اور اوپر چڑھا دیا تھا ۔
” آٸیں یہاں آپ بیٹھیں مجھے اور اوپر جانا ہے “
علیدان نے درخت سے ٹیک لگانے والی جگہ کی طرف اشارہ کیا۔ اذفرین تنے پر آہستگی سے قدم اٹھاتی وہاں تک پہنچی اور دونوں اطراف میں ٹانگیں لٹکا کر وہ اب درخت کے ساتھ ٹیک لگا چکی تھی ایک نظر نیچے دیکھا تو جیسے خوف آ گیا ۔ جھرجھری لی ۔
” مم مجھے ڈر لگ رہا ہے میں گر جاٶں گی “
گھٹی سی آواز میں کہا اور خوف سے علیدان کی طرف دیکھا۔ چلو ایک تو میڈیم کے نخرے ختم نہیں ہو رہے یہاں اس کو بیڈ لگا کر دوں میں اب علیدان نے چڑ کر سوچا ۔
” نہیں گرتی آپ بہت بڑا تنا ہے ہاں کچھ کیڑے مکوڑے چڑھیں گے گھبرانا نہیں جلدی سے پکڑ کر نیچے پھینکنا ہے انہیں “
علیدان نے ضبط سے آواز کی سختی کو کم کرتے ہوۓ کہا وہ پہلے سے ہی اتنا گھبراٸ ہوٸ تھی اوپر سے پانی نہیں ملا تھا ایسا نہ ہو رو دے اسی بات کے پیش نظر وہ سختی برتنے سے گریز کر رہا تھا۔ لڑکیوں کے رونے سے وہ ویسے بھی گھبرا جاتا تھا وہ ایک دفعہ رونا شروع ہو جاٸیں تو سوں سوں بند نہیں ہوتی ان کی ۔
” سنیں اور کیا سانپ بھی ہوتے ہیں درختوں پر؟“
اذفرین نے سہم کے ارد گرد دیکھا ۔ چلو جی علیدان نے افسوس سے گردن گھماٸ ۔ وہ جو اوپر والے تنے تک پہنچنے کے لیے درخت میں پاٶں پھنساۓ ہوۓ تھا اس کی بات پر تھما
” ہاں ہو سکتے ہیں “
دانت پیستے ہوۓ جواب دیا اور پھر سر کو ہوا میں مار کر اوپر کی طرف دیکھا اذفرین کی شکل پر اب خوف کے آثار اور بڑھ گۓ تھے ۔ سانپ کا تو سوچ کر ہی وہ رات کو سو نہیں پاتی تھی اور یہاں تو افف زور سے آنکھیں بند کیں ۔
” گھبراٸیں نہیں مجھے دیکھنا ہے اور اوپر جا کر کہ وہ لوگ آ رہے یا نہیں “
مصروف سے لہجےمیں اسے تسلی دیتا اب وہ اوپر جا رہا تھا ۔اذفرین کے دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایک تنے سے دوسرے تنے پر چڑھتا آنکھوں سے اوجھل ہو چکا تھا ۔
وہ آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی تھی اندھیرا اب اور بڑھ گیا تھا ۔ارد گرد سے عجیب سی آوازیں آنے لگی تھیں پتوں میں بھی سرسراہٹ تھی دل اور وجود کانپنے لگا تھا ۔ اسے اکیلے اسی طرح بیٹھے دس سے پندرہ منٹ گزر چکے تھے گہرے ہوتے اندھیرے کے باوجود وہ بار بار اوپر دیکھ رہی تھی ہلکی سی روشنی باقی تھی ۔ ایک دم سے پتوں کی سرسراہٹ زیادہ ہونے پر جان جیسے حلق میں اٹک گٸ تھی ۔ کہاں چلا گیا مجھے چھوڑ کر
” سنیں “
قریب سے اس لڑکے کی آواز ابھرنے پر اذفرین نے جلدی سے دل پر ہاتھ رکھ کر سکھ کا سانس لیا۔ اندھیرا مزید ہونے کی وجہ سے وہ اب بہت کم نظر آ رہا تھا ۔
” جی “
اذفرین نے آہستہ سی آواز میں کہا۔ اس کے آ جانے پر دل کی کپکپاہٹ فوراً بند ہوٸ تھی۔ ایک عجیب سے ساتھ کا احساس تھا ۔ شاٸد یہ تسلی بخش احساس اس کی اب تک کی اتنی بہادری دیکھ کر ہوا تھا ۔ وہ جو کوٸ بھی تھا بلا کا ذہین اور مضبوط اور بہادر انسان تھا اس نے اپنی پوری زندگی میں اس جیسا بہادر انسان اپنی آنکھوں سے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ وہ اب اذفرین کے بلکل سامنے آ کر بیٹھ چکا تھا ۔
” وہ پہنچنے والے ہیں پانچ سے چھ لوگ ہیں ٹارچ کی روشنیوں سے اندازہ لگایا ہے میں نے ابھی کچھ دوری پر ہیں مجھے انھیں ختم کرنے جانا ہے آپ یہیں بٹھیں اگر میں واپس نا آیا تو سمجھیۓ گا انہوں نے مجھے مار دیا “
علیدان نے عجلت میں آواز کو دھیما رکھتے ہوۓ کہا وہ گھبرایا سا لگ رہا تھا اور سانس بھی بے تحاشہ پھولی ہوٸ تھی خبر سننے کے بعد اذفرین کی حالت اب اس سے بھی بدتر ہو چکی تھی وہ گلے سے ایک راٸیفل اتار کر اس کے ہاتھ میں پکڑا رہا تھا جبکے وہ تو ساکن حواس باختہ بیٹھی ہوٸ تھی ۔ اس کے راٸفل اتار کر پکڑانے پر جیسے جھٹکے سے ہوش میں آٸ ۔
” نہ نہیں پلیز پلیز مت جاٸیں “
اذفرین بری طرح گھبرا کر بولی پورا وجود لرز گیا تھا اتنے بڑے سنسان جنگل میں اس کے سوا تھا کون ۔ وہ بری طرح رو دی ۔ پورا وجود خوف سے کانپنے لگا تھا پسینہ سر سے کی کنپٹی سے بہتا اب گالوں تک پہنچ گیا تھا ۔ علیدان اس کے اس طرح رونے پر گھبرا گیا وہ تو بہت ڈرپوک قسم کی لڑکی تھی ۔
” سنیں سنیں پلیز رونا بند کریں “
علیدان نے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔اور تسلی آمیز لہجے میں کہا ۔ پر اس پر تو جیسے کسی بات کا کوٸ اثر ہی نہیں تھا وہ کانپ رہی تھی اور منہ سے عجیب سی آواز نکل رہی تھی جیسے کوٸ بچہ خوف سے روتا ہو ۔
” اگر میں واپس نہ آیا تو آپ کو یہاں کے ایک رہاٸیشی قبیلے تک پہنچنا ہے وہ جنگل میں ہی ہے مجھے پورا یقین ہے وہ آپ کو پناہ دیں گے اور آپ کے گھر تک پہنچانے میں مدد کریں گے “
علیدان اب آہستہ آواز میں سمجھا رہا تھا پر وہ تو مسلسل رو ہی رہی تھی بس سن اور سمجھ نہیں رہی تھی ۔
”پلیز مجھے یہاں اکیلا مت چھوڑ کر جاٸیں پلیز پلیز “
اس سے پہلے کے وہ مڑ کر درخت پر سے اترتا اذفرین نے بچوں کی طرح اس کے بازو کو دبوچا ۔ علیدان نے الجھ کر بازو کو جھٹکے سے چھڑوایا ۔ وہ اسے بھی کمزور کر رہی تھی جبکہ وہ یہ موقع گنوانا نہیں چاہتا تھا ان آدمیوں کے یہاں پہنچنے سے پہلے کسی محفوظ جگہ پر چھپ کر انہیں مارنا تھا اور یہاں ان کی اندھا دھند فاٸرنگ سے اسے بھی نقصان ہو سکتا تھا ۔
” پاگل مت بنو بیٹھو آرام سے اور اگر میں نہ آ سکا “
غصے سے کہتے ہوۓ وہ ابھی اپنی بات مکمل نہیں کر پایا تھا کہ اذفرین نے کھسک کے قریب ہو کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور اس کا کانپتا ہاتھ علیدان کے کے الفاظ کا گلا گھونٹ چکا تھا ۔
” ایسا کیوں کہہ رہے ہیں آپ ؟ “
اذفرین بری طرح ڈر گٸ تھی ۔ علیدان نے آہستگی سے اس کے ہاتھ کو ہٹایا۔ اس پر ترس آنے لگا تھا پر وہ یہاں اس کو گلے لگا کر بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔
” کیونکہ کچھ بھی پوسیبل ہے “
دھیرے سے اسکے دوسرے ہاتھ سے بازو چھڑوایا اور اندازے سے ایک تنا نیچے اترا ۔ وہ ابھی بھی رو رہی تھی ۔
” اچھا میں جا رہا ہوں صبح کو اترنا اور پھر وہ گاٶں تلاش کرنا اب مجھے یہ پتا ہے کے یہ سڈنی کا وہی جنگل ہےفی امان اللہ “
اذفرین نیچے جھکی دیکھ رہی تھی جب اس کی آواز ابھری اور پھر وہ وہاں سے جا چکا تھا ۔ اور وہ ریں ریں کرتی آیت الکرسی کا ورد کرنے لگی تھی ۔ سر کو تنے سے ٹکا کر آنکھیں موند لیں ۔
***********
” تاٸ امی کیا بنا رہی ہیں “
زیب نے عقب سے اوزگل کی آتی آواز پر مسکرا کر گردن گھماٸ وہ اپنے مخصوص ہشاش بشاش سے انداز میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔ میرون فراک میں کھلتی سی رنگت بڑی بڑی سیاہ چمکتی آنکھیں لیے
” ارے تم کب آٸ “
پاس پڑے کپڑے سے ہاتھ پونچھتی وہ سیدھی ہوٸیں ۔ اوزگل اب چہکتی ہوٸ آگے ہو کر چولہے پر رکھے سالن میں جھانک رہی تھی ۔ وہ گھر میں آۓ اور اتنی خاموشی ایسا کبھی نہیں ہوا تھا ۔
” تاٸ امی شام سے آٸ ہوٸ ہوں صندل کے ساتھ تھی “
تھوڑا سا پیچھے ہو کر مسکرا کر کہا اور پاس پڑے کیبنٹ کو کھول کر کوکیز سے بھرا باکس نکالا۔
” کیوں ادیان بھی تو گھر تھا آج “
زیب نے مسکرا کر حیران ہوتے ہوۓ کہا ادیان کے ہوتے ہوۓ وہ صندل کے ساتھ تھی یہ بات حیرت میں ہی مبتلہ کر رہی تھی ۔ وہ دنوں بچپن سے ایک دوسرے کے گہرے دوست تھے ۔ اور ہر وقت ایک دوسرے کے ساتھ نظر آتے تھے ۔
” پتا نہیں کیوں کھڑوس بنا ہوا بات نہیں کر رہا بہت دن سے “
اوزگل نے ناک چڑھا کر کہا خفگی سے بچوں کی طرح منہ پھلایا ۔ اس کے اس انداز پر زیب قہقہ لگا گٸ تھیں ۔ جبکہ وہ اب بسکٹ کھا رہی تھی اور ساتھ ساتھ کچن شیلف پر ہاتھ ٹکاۓ کمر کو دھیرے دھیرے جھلا رہی تھی ۔
” ایک ہی دیور ہے تمھارا اب نخرے بھی نہ کرے “
زیب شرارت سے کہتی پھر سے سالن کی طرف متوجہ ہو چکی تھیں۔ زیب کی اس بات پر پیچھے کھڑی اوزگل شرما ہی تو گٸ تھی گال گلابی ہو گۓ تھے اور لبوں پر مسکراہٹ بکھر گٸ تھی۔ دل تیز تیز دھڑکنے لگا تھا وہ نہیں تھا پر اس کا ذکر ہی تھا جس کی خاطر وہ بھاگی بھاگی ایک دیوار کے پار اس گھر میں آ جاتی تھی ۔
” تاٸ امی “
شرماۓ سے انداز میں مصنوعی خفگی سے زیب کی طرف دیکھا جو اس کے اس طرح شرما جانے پر محزوز ہوتی دل و جان سے مسکرا رہی تھیں۔ جبکہ وہ اب مسکراہٹ چھپاتی کچن سے باہر جا رہی تھی۔
” جا کہاں رہی ہو؟ کھانا کھا کر جانا “
زیب نے پیچھے سے آواز لگاٸ ۔جس پر وہ پلٹی نہیں تھی ۔
” نہیں جا نہیں رہی وہی اپنے ایک عدد دیور کو دیکھنے جا رہی ہوں “
لجاۓ سے لہجے میں کہتی وہ اب لاونج میں سے گولاٸ کی صورت میں چڑھتے زینے کی طرف جا رہی تھی جبکہ زیب اب بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ دھیرے سے سر ہلاتی پھر سے سالن پر جھک چکی تھیں ۔
*********
ماٸد نے ہاتھ پر ٹکاۓ سر کو اٹھایا پریشان سی صورت کے ساتھ سامنے بیٹھے نجف کی طرف دیکھا ۔ جو بار بار سامنے لگے ٹی وی پر مختلف چینل بدل رہا تھا ۔ جہاں جگہ جگہ بس کے لاپتہ ہونے کی خبر چل رہی تھی ۔
” سعد کی بھی کال آ رہی ہے بار بار“
ماٸدہ بیگم نے پریشان سے انداز میں تھکے سے لہجے کے ساتھ کہا ۔ نجف نے ٹی وی کی آواز آہستہ کی اور ماٸدہ بیگم کی طرف متوجہ ہوا ۔
” امی بتا دیں ان کو معاملہ بہت سنجیدہ ہے بس کا کوٸ پتا نہیں چل رہا ابھی تک “
روکھے سے انداز میں کہا جبکہ ماٸدہ بیگم کا اس بات پر چہرہ اور پھیکا پڑ چکا تھا ۔ خشک ہوتے منہ کو ہاتھ سے صاف کیا زبان بار بار اوپر تلوے سے چپک رہی تھی ۔
” فروا کو بتا دیا ہے میں نے وہ خود بتا دے گی میری ہمت نہیں ہو رہی بھٸ “
ہاتھ کو ہوا میں اٹھا کر کہتی وہ صوفے کی پشت کے ساتھ سر ٹکا گٸ تھیں ۔ نجف نے پھر سے نظریں ٹی وی پر جما دی تھیں ۔ اس کی پیشانی پر بھی پریشانی کی لکیریں تھیں ۔
” بہت بڑی مشکل ہو گٸ نجف سعد سوال کرے گا کہ کیوں اکیلے بھیجا تھا فری کو جاب پر “
تھوڑی دیر بعد ماٸدہ کی پریشان کن آواز پھر سے ابھری نجف نے ناگواری سے چہرے کا رخ ان کی طرف موڑا ۔
” امی یہ کوٸ بات ہے اب بھلا کہہ دیں گے مجھے ضروری کام تھا بس ہو گٸ غلطی “
نجف نے الجھے سے لہجے میں کہا اور ماتھے پر ہاتھ پھیرا ۔
” نجف میرا دل بہت گھبرا رہا ہے سعد پتا نہیں کیا سوچے گا “
ماٸدہ بیگم نے دل پر ہاتھ دھرے پھرسے اپنی پریشانی کا اظہار کیا ۔ بار بار مختلف خیالات ذہن میں ابھر رہے تھے ۔
” امی وہ کچھ نہیں سوچے گا آپ بس کریں اور یہ ہم نے نہیں قسمت نے کیا ہے اور “
نجف بات کرتے کرتے رک گیا تھا ماٸدہ بیگم نے پیشانی پر بل ڈالے گھور کر دیکھا ۔
” اور کیا بولو “
دانت پیس کر اسے بات مکمل کرنے کا کہا ۔ نجف نے گہری سانس لی اور نظریں چراٸیں ۔
” پتا نہیں وہ زندہ “
آہستہ سی آواز میں کہا ۔ ابھی بات مکمل نہیں کی تھی کہ ماٸدہ بیگم نے تنک کر بات کو کاٹا ۔
” بکواس مت کرو اللہ نہ کرے ایسا کچھ بھی ہو “
ان کے چہرے پر ایک دم سے خوف پھیل گیا تھا ۔ پریشان ہو کر انہوں نے ماتھے پر سے پسینے کو صاف کیا ۔ ان کے پاس پڑے موباٸل پر ہوتی رنگ ٹون کی آواز پر دنوں نے بیک وقت موباٸل کی طرف دیکھا ۔
” فروا کی کال “
ماٸدہ بیگم نے سہمی سی آواز میں کہا اور فون کو ہاتھ میں پکڑکر اوپر اٹھایا۔ نجف نے ٹی وی بند کیا ۔
” بات کریں “
آہستہ سی آواز میں کہتے ہوۓ اس نے فون کی طرف اشارہ کیا ۔ ماٸدہ بیگم نے پریشان اور شرمندہ سی صورت بناۓ فون کان کو لگایا ۔
” ہیلو “
تھکی سی آواز میں کہا ان کے بولنے کی دیر تھی کہ دوسری طرف سے فروا کی بے چین سی آواز ابھری ۔
” امی میں اور سعد کل آ رہے ہیں ملبرین سے سڈنی “
وہ ایک ہی سانس میں تیزی سے بولی ۔ ماٸدہ نے ڈر کر نجف کی طرف دیکھا ۔ پر خاموش رہیں ۔
” سنیں وہ کہہ رہے تھے پاکستان بازل کو اس کی خبر نہیں ہونی چاہیے ابھی “
فروا پریشان سے لہجے میں اذفرین کے بہنوٸ کا نام لے رہی تھی جو اس کی بڑی بہن مہرین کا شوہر تھا ۔ ان کی بھرپور مخالفت مول لے کر تو اذفرین پاکستان سے یہاں آٸ تھی ۔
” اچھا بیٹا تم ٹھیک ہو نہ سعد نے تمہیں تو کچھ نہیں کہا “
ماٸدہ بیگم نے پریشان سے لہجے میں فروا سے دریافت کیا ۔
” امی وہ بہت پریشان ہیں آخر کو چھوٹی بہن ہے ان کی اور یہ نجف اس کو نہیں پتا تھا وہ تو پاکستان میں کبھی اکیلی یوں نہیں گھومی تھی اس نے سڈنی جیسے شہر میں اسے اکیلے بھیج دیا “
فروا غصے میں بول رہی تھی ماٸدہ نے خفگی بھری نظروں سے نجف کی طرف دیکھا تو وہ سر کو ہوا میں مارتا زور سے ریموٹ پٹخ کر باہر نکل چکا تھا ۔
” مانا کہ ابھی شادی نہیں ہوٸ اس کی فری سے پر میری نند ہی سمجھ کر خیال کر لیتا اب یہ بات سعد کو پتا چلے گی میری کتنی کی عزت رہ جاۓ گی ان کے سامنے بولیں آپ “
فروا تیز تیز بول رہی تھی لہجہ غصہ اور پریشانی لیے ہوا تھا ۔ ماٸدہ بیگم کچھ بول نا سکیں بچارگی سے سامنے بند دروازے کی طرف دیکھا ۔
” اب وہ بازل اور مہرین جان کھا جاٸیں گے ان کو خبر ہوٸ تو کہ ہم جب پاکستان میں شادی کروا رہے تھے اذفرین کی تو کیا ضرورت تھی یہاں آسٹریلیا بلوانے کی “
فروا مسلسل ماٸدہ پر غصہ اتار رہی تھی اور ان کا چہرہ اور زرد پڑتا جا رہا تھا۔ اذفرین کی معصومیت اور فروا کے گھر بچانے کے لالچ میں وہ بہت بڑی پریشانی مول لے چکی تھیں ۔
” اس کے ہاتھوں تو میں بہت تنگ ہوں نہیں مان رہا فری سے شادی کے لیے ابھی بھی “
ماٸدہ بیگم نے گھٹی سی آواز میں کہا ۔نجف اگر ان کا اکلوتا بیٹا تھا تو فروا اکلوتی بیٹی جسے شادی کے چار سال بعد بھی اولاد نہیں ہوٸ تھی اور جب ڈاکٹر نے اس کے بانجھ ہونے کی خبر دی تب سے دونوں ماں بیٹی کو سعد کی دوسری شادی کو خوف ستانے لگا تھا اسی لیے چکر چلا کر وہ اذفرین کا رشتہ زبردستی نجف سے کر رہی تھیں ۔
” پاگل ہے کیا یہ امی میرا گھر خراب کرنے پر تلا ہوا ہے اور سعد نے لا کر میرے سر پر سوار کر دینی ہے وہ “
فروا اب غصے میں چیخ رہی تھی ۔ اذفرین کو پاکستان سے سیدھا سڈنی بھیجنے کا سارا چکر بھی فروا نے ہی چلایا تھا کہ جہاں کچھ مہینوں بعد اسے رہنا ہے وہاں اگر رہ لے گی تو کوٸ بات نہیں اور وجہ اپنی ماں کا اکیلا ہونا اور اس کی اچھی جاب کو بنایا تھا۔
” اچھا تم آٶ گی تو سمجھا لینا خود “
ماٸدہ بیگم نے تھکی سی آواز میں کہا اور پریشانی سے سر صوفے کی پشت سے ٹکا دیا ۔ سعد تو ویسے بھی غصے کا تیز تھا ۔
**********
وہ لوگ اب قریب پہنچ چکے تھے پانچ آدمی تھی علیدان نے آنکھوں کو سکوڑ کر ان کی تعداد کو گنا ہر سیاہ فام کے ہاتھ میں ٹارچ لاٸٹ تھی علیدان نے جھاڑیوں کی اٶٹ میں چھپ کر نشانہ سب سے پیچھے والے پر داغا بے آواز فاٸر پر وہ ایک دم سے زمین بوس ہوا جیسے ہی وہ نیچے گرا گرنے کی آواز پر باقی چاروں چوکنے ہوۓ ۔ وہ ابھی اپنی راٸیفل کو سیٹ کر ہی رہے تھے کہ علیدان نے ایک پتھر اٹھا کر مخالف سمت میں پھینکا پتوں کی سر سراہٹ پر چاروں آدمی رخ موڑ کر اب اس طرف فاٸرنگ کرنے لگے تھے ۔
یہی وہ موقع تھاعلیدان نے چاروں کی پشت پر فاٸر چلا دیے تھے ۔ اب پانچوں ڈھیر تھے ۔ وہ دھیرے سے چلتا ہوا ان کے پاس آیا ۔ ایک تھوڑا سا ہل رہا تھا جس کے سر پر وہ پھر سے فاٸر چلا چکا تھا ۔ بچپن سے شکار کھیلنے کا فاٸدہ آج وہ با خوبی اٹھا رہا تھا ۔
وہ اب سامان سمیٹ رہا تھا ان کی ٹارچ لاٸٹ اٹھاٸیں پانی کی مشک نما بوتل گلے میں لٹکاٸ ۔ اور رسی کو کندھے پر لٹکایا اور کچھ نہیں تھا ان کے پاس ۔
ٹارچ لاٸٹ جلاٸ اور واپسی کی طرف دوڑ لگا دی ۔
وہ جو سر کو درخت سے ٹکاۓ آیت الکرسی کا ورد کرتی خوف سے بے ہوش ہونے کے عنقریب تھی دور سے ٹارچ لاٸٹ کی روشنی دیکھ کر کانپ اٹھی جلدی سے تنے سے نیچے لٹکتی ٹانگوں کو سمیٹا اور چھوٸ موٸ سی ہو کر کانپنے لگی ۔ افف میرے اللہ مجھے موت آ جاۓ میرے اللہ دل کانپنے لگا تھا ۔
زندگی نے اتنے دکھ دیے تھے اور اس دکھ کی کمی تھی جو اب اس کے ساتھ ہو رہا تھا ۔ وہ ان وحشیوں کے ہاتھوں نوچے جانے کے ڈر سے موت آجانے کی دعا مانگنے لگی تھی ۔
جیسے ہی ٹارچ لاٸٹ کی روشنی درخت کے پاس ہوٸ اور براہراست اس پر پڑی وہ آنکھیں بند کیے زور زور سے چیخنے لگی تھی کوٸ تیزی سے درخت پر چڑھ رہا تھا ۔
” چیخو مت میں ہوں “
علیدان نے تنے پر خود کو ٹکاتے ہی اس کے منہ ہر ہاتھ رکھا وہ بری طرح کانپ رہی تھی چہرہ آنسوٶں سے تر تھا منہ سے پانی نکل رہا تھا گردن پسینے میں بھیگی ہوٸ تھی ۔علیدان نے ٹارچ لاٸٹ چلاٸ اذفرین تڑپ کر اس سے چمٹی تھی اس کے سینے سے لگی وہ کانپ رہی تھی اور اونچا اونچا رو رہی تھی ۔ وہ لوٹ آیا تھا اسے خوشی ہوٸ تھی یا کیا وہ نہیں جانتی تھی پر اس کو سامنےدیکھ کر وہ بے ساختہ اس کے سینے سے جا لگی تھی وہ کچھ نہیں تھا اس کا پر اس لمحے وہ اس کا سب کچھ تھا۔
” ریلکس ریلکس “
علیدان نے آہستگی سے اس کے کمر پر بکھرے بالوں پر ہاتھ پھیرا ۔ وہ یونہی ساتھ لگی کانپ رہی تھی ۔ اس کے یوں اچانک ردعمل پر وہ سٹپٹا گیا تھا پر وہ اس وقت ہوش میں نہیں تھی اسے گۓ تقریبا دو گھنٹے سے اوپر ہو چلے تھے اور اس سارے وقت میں وہ یہاں تن تنہا بیٹھی تھی عورت ذات تھی اتنا خوفزدہ ہو جانا اچھنبے کی بات نہیں تھی
آہستہ آہستہ اس کی کپکپاہٹ میں کمی آٸ تھی ۔ اور پھر وہ پرسکون ہو گٸ تھی ۔ پر علیدان سے الگ نہیں ہوٸ تھی ۔
افف یہ کیا کیا میں نے ہوش میں آتے ہی جیسے اپنی اس بے باک حرکت کا احساس ہوا آہستگی سے علیدان سے الگ ہوٸ انداز شرمندہ سا تھا ۔
” سوری “
مدھم سی آواز میں کہا اور تھوڑا سا پیچھے سرکتے ہوۓ درمیان کے فاصلے کو بڑھایا ۔ سر جھکا کر چہرے پر آتے بالوں کو سمیٹ کر کان کے پیچھے آڑیا ۔
” اٹس اوکے دیکھو میں ٹارچ لے آیا ہوں ہمیں ابھی نکلنا ہو گا یہاں سے آپ کی تھکاوٹ اتری “
نرم سے لہجے میں کہا ۔ اس کی طرف پانی کی بوتل کو بڑھایا وہ پاگلوں کی طرح پانی پی رہی تھی پانی منہ سےباہر نکل رہا تھا علیدان بغور اس کے انداز کو دیکھ رہا تھا پتا نہیں کتنی نازک مزاج ہوں گی محترمہ اور اب علیدان نے گہری سانس لی علیدان کے اس طرح دیکھنے پر وہ نظریں جھکا گٸ ۔
علیدان نے تنے کے ساتھ رسی کو مضبوطی سے باندھ کر نیچے لٹکایا ۔
” اترو اس کو پکڑ کر “
رسی کی مضبوطی جانچنے کے بعد اذفرین کی طرف دیکھ کر کہا۔ اذفرین نے ڈرتے ڈرتے رسی کو تھاما اور اس سے لٹکی ۔
” ہاں نیچے سرکتی جاٶ اب آہستہ آہستہ “
تنے پر بیٹھے علیدان نے تھوڑا سا نیچے جھکتے ہوۓ کہا ۔ وہ جب نیچے اتر کر کھڑی ہوٸ تو وہ جلدی سے رسی کو تنے سے کھول کر خود بڑی مہارت سے نیچے اترا ۔
” چلو “
ہاتھ جھاڑ کر پاس کھڑی اذفرین سے کہا اور نیچے پڑی رسی کو فولڈ کر کے کندھے پر لٹکایا ۔ اور آگے بڑھا پھر کچھ سوچ کر پیچھے مڑا اور اذفرین کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔ اذفرین نے حیرت سے بڑھے ہاتھ کو دیکھا اور تھام لیا ۔
اس کا ہاتھ تھامتے ہی عجیب سے تحافظ کا احساس ہوا ۔ جس کو ابھی وہ کوٸ نام نہیں دے سکتی تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: