Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 30

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 30

–**–**–

حسیب کمرے کا دروازہ آہستگی سے بند کرتے ہوۓ پلٹا تو صوفیہ بیگم ناک منہ پھلاۓ خالد صاحب کے بغل میں کھڑی تھیں ۔
نجف اور ماٸدہ بیگم بہادر ولاز چھوڑ کر صبح ہی ان کے گھر آ پہنچے تھے ۔ اور اب ایک طوفان تھا جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ گو کہ اسے صندل رات ہی ساری بات سے آگاہی دے چکی تھی اس لیے وہ سارا معاملہ جانتا تھا کہ کیا ہوا تھا سب ، صوفیہ بیگم کے بدلتے تیور دیکھ کر وہ ان دونوں کو ماٸدہ بیگم اور نجف سے الگ کرتا ہوا دوسرے کمرے میں لے آیا تھا۔
”اب تمہیں کیا ہو گیا ہے جو تم ان کے بیچ میں سے اٹھا کر ہمیں یہاں لے آۓ ہو ؟“
صوفیہ بیگم نے پیشانی پر شکن نمودار کیے تلخ لہجے میں پوچھا ۔ بہن اور بھانجے کی یہ تذلیل ان کے اندر بھی آگ بڑھکاۓ ہوۓ تھی ۔
”مما میں صندل سے ہی شادی کروں گا آپ اس سب میں میرا رشتہ خراب نہیں کریں گی ، ہماری شادی خالہ کے یہاں آنے سے پہلے کی طے تھی “
حسیب نے سر جھکاتے ہوۓ دو ٹوک بات کی ۔ باہر ماٸدہ بیگم اور نجف کے بڑھکانے پر اسے اپنا رشتہ خطرے میں نظر آ رہا تھا جس کی وجہ سے وہ صوفیہ بیگم اور خالد صاحب کو لے کر الگ کمرے میں آ گیا تھا ۔
” تمھارا دماغ ٹھیک ہے اس کے بھاٸ نے اتنا بڑا گناہ کیا ہے اور تم کہہ رہے ہو میں ان کے گھر رشتہ جوڑ لوں ، اپنی بہن کے سامنے نادم ہو جاٶں کہ جس گھر نے ان کی عزت کو رول دیا میں نے وہیں رشتہ جوڑ لیا “
صوفیہ بیگم تنک کر گویا ہوٸیں لہجے میں حد درجہ ناگواری سموۓ وہ سرخ چہرے کے ساتھ کھڑی تھیں ۔ مطلب وہ دل میں تہیہ کر چکی تھیں کہ وہ اب حسیب کا رشتہ بھی وہاں ختم کر دیں گی ۔
”مما عجیب بات کرتی ہیں آپ میری نظر میں یہ کوٸ گناہ نہیں تھا وہ علیدان بھاٸ کو پہلے سے جانتی تھیں ، وہ دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں “
حسیب نے پیشانی کو مسلتے ہوۓ ان کی بے تکی بات کی تردید کی پر وہاں تو جیسے ان کی بہن ان کو مکمل طور پر بھر چکی تھیں
”تو جانتی تھی ، لیکن کیا اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ وہ اب کسی اور کے نام سے منسوب ہے ، شرم نہیں آٸ اسے اس طرح چھپ چھپا کر نکاح کرتے ہوۓ اور وہ صندل کا بھاٸ ، اچھا ہے شادی سے پہلے ان لوگوں کی حقیقت کھل کر سامنے آ گٸ ، ویسے نہیں ہیں وہ لوگ جیسے ہم سمجھتے رہے ان کو “
صوفیہ بیگم نے تیوری چڑھاۓ ہتک آمیز لہجہ اپنایا ۔ حسیب نے خنک سانس بھری اور پھر سینے پر بازو باندھے غیر مرٸ نقطے پر نگاہیں منجمند کیں ۔
”تو کیا نجف بھاٸ کو شرم آٸ ، شادی سے پہلے ہی ۔۔۔“
بات کو نا مکمل چھوڑا ، اسکے لہجے میں تلخی بھرا طنز تھا جس پر صوفیہ بیگم کے جبڑے یکایک باہر کو ابھرے
”اچھا بس بس ۔۔۔“
صوفیہ بیگم نے ہاتھ کو ہوا میں معلق کیے اپنے ارادے کی پختگی سامنے کھڑے حسیب پر ظاہر کی ۔ حسیب نے ان سے مایوسی سمیٹ کر رخ ابھی تک ہمہ تن گوش کھڑے خالد صاحب کی طرف کیا ۔
”بابا مما کی لاجک میری سمجھ سے باہر ہے ، میں صرف اور صرف صندل سے شادی کروں گا ، میں ان کے گھر جا رہا ہوں کیا آپ میرے ساتھ چلیں گے ؟ “
حسیب نے وثوق سے اپنی بات ان کے سامنے رکھی جس پر اب صوفیہ بیگم منہ کھولے کبھی حسیب کو تو کبھی خالد عامر کو دیکھ رہی تھی ۔ خالد صاحب نے کھسیانی سی نظر صوفیہ بیگم پر ڈالی جو یونہی تیوری چڑھاۓ کھڑی تھیں ۔
” اگر آپ بھی نہیں چلیں گے تو یہ جان لیں میں صندل کے علاوہ کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا “
حسیب نے پھر سے اپنا تیر اچھالا تھا جو اس دفعہ سیدھا نشانے پر لگا تھا ۔ خالد صاحب نے صوفیہ بیگم پر سے نظریں ہٹا کر حسیب کی طرف دیکھا اور پھر آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ دیا۔
”چلو میں جا رہا ہوں تمھارے ساتھ “
حسیب نے ان کی بات پر فوراً ان کو بغل گیر کیا ۔ صوفیہ بیگم بس حیرت سے کھڑی ہی رہ گٸیں
*************
سر جھکاۓ جھجکتے ہوۓ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتی وہ کھانے کے میز تک آٸ تھی ۔ دلاور ولاز کے سبھی مکیں رات کے کھانے کے لیے میز پر موجود تھے ۔ میز کھانوں سے لدی ہوٸ تھی آج میر دلاور نے خاص اہتمام کا حکم دیا تھا ۔
وہ سر جھکاۓ ہوٸ تھی سب کے چہروں پر بکھری دلکش مسکراہٹ سے یکسر بے خبر ، صندل اسے میر دلاور کے حکم پر کمرے سے باہر لاٸ تھی وہ کل رات سے صندل کے کمرے میں بند تھی ۔
کچھ دیر پہلے حسیب اور خالد صاحب کے جانے کے بعد ماحول میں موجود باقی تلخی بھی دم توڑ چکی تھی ۔ جس کی وجہ سے زیب بیگم کے ساتھ ساتھ سب لوگ ہلکے پھلکے ہو چکے تھے اور قسمت کے لکھے کو دل سے قبول کر چکے تھے ۔
یہی وجہ تھی جب میر دلاور نے اذفرین کے کھانے کو اوپر کمرے میں جاتے دیکھا تو فوراً واصف کو ایسا کرنے سے منع کیا اور صندل کو اذفرین کو نیچے لانے کا حکم صادر کیا ۔
اذفرین کو آتا دیکھ کر میر دلاور نے سر اوپر اٹھایا ۔ اذفرین اب کھانے کے میز کے بلکل پاس آ کر کھڑی تھی۔ سر ہنوز جھکا ہوا تھا ۔
”بیٹے آپ اس گھر کی بڑی بہو ہیں ، یہاں سب کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھانا کھاٸیں گی آپ “
میر دلاور نے کھانے کی میز کی کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ ملاٸم لہجے میں کہا ۔ علیدان پیشانی پر پرشوق افقی لکیریں ڈالے اس سارے لمحے سے محذوز ہو رہا تھا ۔ سارے خواب ایک خوشگوار حقیقت میں تبدیل ہو چکے تھے ۔
”جی ۔۔“
بڑی مدھم سی آواز تھی جس پر تمام نفوس مسکرا دیے تھے ۔ اذفرین نے دھیرے سے پاس پڑی کرسی کو تھام کر پیچھے کیا اور علیدان کی شوخ نگاہوں کی تپش کو محسوس کرتے ہوۓ دھڑکتے دل کے ساتھ اس کے بلکل سامنے کھانے کے میز پر براجمان ہوٸ
اوزگل اور صندل اس کے سامنے کھانا لگا رہی تھیں ۔ سب لوگوں کی محبت نے بے چین سے روح اور تھکے ہوۓ اعصابوں کو تسکین دی تھی ۔
کھانا ختم ہونے کے بعد وہ صندل اور اوزگل کے ہمراہ جانے کے لیے اٹھی تو زیب بیگم کے مخاطب کرنے پر قدم تھم گۓ ۔
”اذفرین میرے ساتھ چلو “
وہ شاٸستگی سے اسے اپنے ساتھ چلنے کا کہتی ہوٸیں آگے چل دیں ۔ اذفرین نے صندل اور اوزگل کی طرف دیکھا جو مسکراتے ہوۓ اسے جانے کا اشارہ کر رہی تھیں ۔ اذفرین نے زیب بیگم کی پیروی میں قدم بڑھا دیے ۔
زیب بیگم اسے اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے آٸ تھیں ۔ وہ جا کر سامنے لگے صوفے پر بیٹھیں اور اذفرین کو بھی پاس آ کر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔ اذفرین سر جھکاۓ ان کے سامنے آ کر صوفے پر براجمان ہوٸ ۔ زیب بیگم نے گود میں دھرے اس کے دونوں ہاتھوں کو محبت سے اپنے ہاتھوں میں تھاما ۔ اور اس کے جھکے سر کو بغور دیکھا بلاشبہ ان کے بیٹے کی پسند بہت اچھی تھی ۔
” مجھے معاف کر دو بیٹا ۔۔۔“
نادم سی آواز ابھری تو اذفرین نے چونک کر ان پر نگاہ ڈالی وہ شرمندہ سی بیٹھی تھیں ۔ پر کیوں وہ کیوں شرمندہ ہو رہی تھیں ۔ اسے یہ سب ایک خواب سا لگنے لگا تھا ۔
” صندل کی وجہ سے میں خود غرض ہو گٸ تھی اور تمہیں اس دن علیدان سے دور رہنے کا کہہ بیٹھی ، اپنے بیٹے کا اور تمھارا ساتھ نہیں دیا “
وہ سر جھکاۓ اپنی غلطی تسلیم کر رہی تھیں ۔ جو ایک اولاد کے لیے دوسری اولاد کی خوشیاں تیاغنے کی تھی ۔ اذفرین کو ان کا یوں نادم ہو جانا تکلیف دے رہا تھا ۔
” آنٹی آپ ٹھیک تھیں اپنی جگہ مجھے شرمندہ مت کریں “
محبت سے ان کے ہاتھ پر اپنے ہاتھ کو رکھا ، زیب بیگم نے لب بھینچ کر اس کی طرف دیکھا جو اپنی بڑی بڑی آنکھوں میں احترام اور محبت سموۓ بیٹھی تھی ۔
” نہیں میں ٹھیک نہیں تھی بیٹا ، علیدان اور تمھاری محبت کے بارے میں بہت پہلے سے جانتی تھی پر مجھے لگتا تھا یہ سب ایک وقتی سحر ہے جو جلد ہی ختم ہو جاۓ گی “
زیب بیگم نے نفی میں سر ہلاتے ہوۓ اپنے ہاتھ سے اس کا چہرہ تھام کر کہا ۔ اذفرین نے مسکرا کر ان کی بات کی تاٸید کی
” پر میں غلط تھی ۔۔۔۔“
وہ مسکرا رہی تھیں ۔ اور اذفرین پر سکون ہو رہی تھی ۔ اسے وہ سب رشتے ملنے والے تھے جنہیں وہ بہت پہلے کھو چکی تھی ۔ اپنوں کی سفاکی پر یہ ساری محبتیں مرہم ثابت ہو رہی تھیں ۔
” میرے دل میں اب تمہیں لے کر کوٸ ایسی بات نہیں تم بھی اپنا دل صاف رکھو گی اب “
زیب بیگم نے سر کو ہلاتے ہوۓ اذفرین سے بھی اپنی بات کی تاٸید چاہی ۔ اذفرین نے خوشی کے بے ساختہ امڈ آنے والے آنسو چھپاتے ہوۓ سر کو اثبات میں ہلایا تو انہوں نے آگے بڑھ کر اسے اپنے ساتھ لگا لیا ۔
وہ یونہی زیب بیگم کے ساتھ لگی ہوٸ تھی جب دروازہ ہلکی سی دستک کے بعد کھلا ۔ زیب بیگم کے ساتھ ہی اذفرین نے بھی پیچھے مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا ۔
”کیا میں اندر آ سکتا ہوں ؟ “
شوخ سے لہجے میں کہتا علیدان اندر داخل ہو چکا تھا ۔ لبوں پر فاتحانہ مسکان تھی تو آنکھیں سرشاری سے اذفرین کو تک رہی تھیں ۔
” آٶ ۔۔۔ آٶ ۔۔۔۔ “
زیب بیگم نے خوشگوار لہجے میں اسے اندر آنے کو کہا تو وہ مسکراتا ہوا آ کر زیب بیگم کے پیچھے ان کے کندھے پر سر رکھے ان کی کمر کے گرد بازو حاٸل کیے لاڈ سے بیٹھ گیا جبکہ نظریں اذفرین پر جمی تھیں ۔ جو اب شرما کر پلکیں گراۓ ہوٸ تھی ۔
” اذفرین یہ ہیں میری مما اور مما یہ ہے میری ۔۔۔“
علیدان نے شرارت سے کہتے ہوۓ فقرہ ادھورا چھوڑا تو اذفرین نے جھینپ کر سر کو مزید جھکا دیا جبکہ زیب بیگم اب اس کے سر پر چپت لگاتے ہوۓ ہنس رہی تھیں ۔
” صرف تمھاری مما نہیں ہوں اب سے اذفرین کی بھی ہوں “
زیب بیگم نے علیدان کے سر پر ہاتھ رکھے محبت سے سامنے بیٹھی اذفرین کی طرف دیکھا ۔
” واہ واہ ۔۔۔ کیا جادو کر دیا ایک دن میں ہی “
علیدان نے شوخ سے لہجے میں کہتے ہوۓ زیب بیگم کو ہلایا ۔وہ ان کے گرد بازو حاٸل کۓ ان کو جھولا رہا تھا اور محبت سے لبریز نگاہیں سامنے بیٹھی اذفرین پر ٹکی تھیں ۔
” ہے ہی اتنی پیاری جادو کیا کرے گی “
زیب بیگم نے محبت سے سامنے بیٹھی اذفرین کے چہرے کو ہاتھ کے ساتھ سہلایا ۔ اذفرین نے چور سی نظر علیدان پر ڈالی جو موقع پا کر شرارت سے آنکھ کا کونا دباۓ اس کو دھڑکا گیا تھا ۔
*************
دلاور ولاز میں داخل ہوتے ہی سعد حیرت سے اردگرد دیکھ رہا تھا ۔ یہ گھر یہ شان و شوکت کسی گرے پڑے خاندان کی تو ہر گز نہیں ہو سکتی تھی۔ جس طرح کا خاکہ ماٸدہ بیگم اور نجف کھینچ چکے تھے ۔
وہ آج صبح ہی آسٹریلیا سے پاکستان پہنچے تھے ۔ تین دن پہلے نجف اور ماٸدہ بیگم کی خبر نے اسے اندر تک ہلا کر رکھ دیا تھا ۔ اذفرین نے چھپ کر کسی لڑکے سے نکاح کر لیا ہے اور اس کے ساتھ گھر سے بھاگ گٸ ہے ۔ خبر تھی یا اس کی عزت کا جنازہ
اور اب راستے میں فروا نے اس پر یہ حقیقت آشکار کی تھی کہ یہ وہی لڑکا تھا جس کے ساتھ اذفرین جنگل میں تھی ۔ فروا سے بھی آنکھ ملانے کے قابل نہیں رہا تھا وہ ۔ دل پر پتھر رکھے فروا کے کے کہنے پر وہ آج یہاں اذفرین کو آٸینہ دکھانے آیا تھا جس نے اسے کہیں کا نہیں چھوڑا تھا ۔
گارڈ انہیں پورچ سے لاٶنج کے داخلی دروازے تک لایا تھا اور وہاں موجود ملازمہ اب ان کو ایک وسیع عریض مہمان خانے میں چھوڑ کر اذفرین کو بلانے گٸ تھی ۔
بیش قیمت آراٸیش کی چیزوں سے سجا خوبصورت مہمان خانہ سعد کے ساتھ ساتھ فروا کو بھی حیرت میں مبتلا کر چکا تھا ۔فروا تیکھی نگاہوں سے اردگرد جاٸزہ لے رہی تھی تو سعد الجھا سا کھڑا تھا۔
اذفرین اور علیدان جیسے ہی ڈراٸینگ روم میں آۓ سامنے آگ بگولا ہوۓ کھڑی فروا تیر کی سی تیزی سے اس تک پہنچ کر اب تن کر اس کے سامنے کھڑی تھی جبکہ سعد اذفرین کے ساتھ داخل ہونے والے نفس کی شخصیت کو دیکھ کر حیران تھا ۔
اذفرین کے ساتھ داخل ہونے والا وہ لڑکا اپنے حلیے سے کہیں سے بھی کسی لڑکی کو بھگا کر نکاح کرنے والا اور ورغلانے والا نہیں لگ رہا تھا ۔ وہ الجھ گیا تھا ۔ سامنے کھڑا خوبرو لڑکا نجف سے کتنے درجے بہتر تھا ۔
”یہی بس رہ گیا تھا نا بولو ؟ “
فروا کا لب و لہجہ اس کے چہرے کی تلخی سے کم نہ تھا ۔ اذفرین اس کے یوں دہاڑنے پر ہلکا سا لرز گٸ تھی ۔ سعد وہیں علیدان کو یک ٹک گھورتا ہوا کھڑا تھا ۔ اذفرین نے فروا سے بےنیازی برتتے ہوۓ چور سی نظر کچھ دور کھڑے سعد پر ڈالی۔
” کہیں کا نہیں چھوڑا تم نے ہمیں “
فروا چیخ رہی تھی ۔ اذفرین اس کے پاس سے گزرتی آگے بڑھی ۔ قدم سعد کی طرف تھے ۔ آنکھیں نم تھیں تو دل عجیب طرح سے لرز رہا تھا ۔
” بھاٸ ۔۔۔۔“
ندامت اور کرب میں لپٹی آواز تھی جو سعد کے کانوں میں پڑتے ہی سعد نے علیدان پد سے نظر ہٹا کر اذفرین کی طرف دیکھا ۔وہی معصومیت ، وہی سادہ لوحی ، وہی آنکھوں کی پاکیزگی وہ تو کہیں سے ایسی لڑکی نہیں لگ رہی تھی جو کسی کے نام پر منسوب ہوتے ہوۓ بھی چھپ کر نکاح کرنے کی ہمت کرتی ۔ ایکدم سے جیسے سعد کے اعصاب تن گۓ تھے ۔
”چلو میرے ساتھ “
سعد نے آگے بڑھتے ہوۓ اذفرین کے ہاتھ کو جھٹکا دیا ۔ آواز میں سوچوں کے بلکل برعکس رعب اور دبدبا تھا۔ علیدان گڑ بڑا کر آگے بڑھا ۔ حسیب اسے سعد اور فروا کے آنے کی خبر دے چکا تھا یہی وجہ تھی وہ آفس سے فوراً گھر پہنچا تھا ۔
” یہ اپنے شوہر کے گھر میں ہے سعد بھاٸ ، آپ کیسے لے جا سکتے ہیں اسے ؟ “
آواز کو دھیما رکھے وہ حد درجہ تحمل سے کہتا ہوا اب سعد کے بلکل سامنے اذفرین کے بغل میں کھڑا تھا ۔ پتا تھا اذفرین سب کچھ ہینڈل نہیں کر پاۓ گی اور ایسا نا ہو کہ سعد اسے زبردستی اپنے ساتھ لے جاۓ ۔
سعد نے ضبط کرتے ہوۓ علیدان کو دیکھا ۔ تھوڑی دیر پہلے کے متاثر کن اثرات پر غصہ حاوی ہو چکا تھا ۔
” جسٹ شٹ اپ ، میں جانتا ہوں میری بہن بہت بھولی ہے اس کو صرف تم نے ورغلایا ہے “
سعد نے انگلی کو علیدان کی آنکھوں کے سامنے اکڑاتے ہوۓ متنبہ کیا ۔ علیدان استہزایہ مسکرایا اور ایک نظر اذفرین پر ڈالی
” بھولی تو یہ واقعی بہت ہے سعد بھاٸ جو اتنے سال اپنی مرضی اپنی خوشی کا گالا گھونٹے کبھی کہیں کبھی کہیں بھٹک رہی تھی “
علیدان نے سعد کی کھڑی انگلی پر نظریں جماۓ سپاٹ لہجے میں کہا تو سعد کی پیشانی پر موجود ناگواری کے شکن اور نمایاں ہوۓ ۔
” کیا مطلب ہے تمھارا ؟ “
لہجہ کاٹ دار تھا ۔ علیدان کا یوں آٸینہ دکھانا بے چین کر گیا تھا ۔
”مطلب یہ کہ آپ نے کبھی اس سے پوچھا ؟ ، وہ کیا چاہتی ہے کیا نہیں ، بنا کسی رشتے آپ نے اپنی بیوی کے بھاٸ کے گھر اسے بھیج دیا “
علیدان نے لگی لپٹی کے بنا سیدھی بات منہ پر ماری تو ساتھ کھڑی فروا کا منہ کھل گیا ۔ دانتوں کو آپس میں جوڑتے جواب دینے کو آگے ہوٸ علیدان نے فوارً چہرے کا رخ فروا کی طرف کیا اور بولنے سے روک دیا
” اور معاف کریے گا بھابھی آپ اسے تو کہہ رہی ہیں کہ اس نے آپکو کہیں کا نہیں چھوڑا ، اگر اس دن وہ آپ کے بھاٸ کے حوس کا نشانہ بن جاتی تو کیا وہ کہیں کی رہتی “
علیدان کے لہجے میں اب سختی در آٸ تھی ۔ علیدان کی بات پر سعد نے چونک کر اذفرین کی طرف دیکھا جس سے یہ باخوبی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ نجف اسے جھوٹی داستان سنا چکا ہے ۔ اور اپنے کیے پر پردہ ڈال چکا ہے ۔
”جی پوچھیں اس سے کھڑی ہے آپ کے سامنے آپ کی چھوٹی بہن ہے سعد بھاٸ ، کوٸ لاوارث تو نہیں کہ نجف جیسا انسان شراب کے نشے میں دھت ہو کر نکاح سے پہلے ہی اسے تعلق قاٸم کرنے پر مجبور کرتا پھرے “
علیدان نے ہاتھ کا اشارہ پاس کھڑی اذفرین کی طرف کرتے ہوۓ سعد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ۔ سعد کی نظریں اذفرین پر تھیں جو ہمت جتانے میں کوشاں تھی ۔
ہاں اسے اب علیدان کا ہاتھ نہیں جھٹکنا تھا یہ اس کی لڑاٸ تھی ۔ اسے آگے آنا تھا اور بتانا تھا وہ سب جو اس کے دل میں دفن تھا ۔
”سعد بھاٸ میں ۔۔۔۔ میں نجف سے شادی نہیں کرنا چاہتی تھی “
اذفرین نے نظریں جھکاۓ گھٹی سی آواز میں بات شروع کی تو فروا کے تو تن بدن میں آگ لگی تنک کر آگے ہوٸ ۔ وہ تو علیدان کی باتوں کو برداشت کیے ہوۓ تھی پر اس کی بارعب شخصیت کے آگے منہ نہیں کھول پاٸ پر اذفرین کے بولتے ہی اس پر حق سمجھ کر لپکی تھی ۔
”تو بی بی تمہیں کسی نے فورس بھی نہیں کیا تھا اس سب کے لیے تم خود راضی ہوٸ تھی ، اتنے دن میرے بھاٸ کے گھر عیش کرتی رہی اور ۔۔۔۔ “
فروا نے ناگواری سے ہاتھ اٹھاۓ نفرت آمیز لہجے میں جتایا ۔ لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجاۓ وہ پھر اذفرین کو دبانے اور شرمسار کرنے کے لیے تیار تھی ۔
اذفرین نے مٹھیاں بھینچیں تھیں ۔ اب وہ بھاٸ کے رحم و کرم پر نہیں تھی ، اس بھاٸ کے ، جو بیوی کا زر خرید غلام بن کر اپنے سارے فراٸض پس پشت ڈالے ہوۓ تھا ۔ اذفرین کا چہرہ ضبط کی عکاسی کرتے ہوۓ سرخ ہوا ۔
”ہاں ہوٸ تھی راضی ۔۔۔“
چیخ کر فروا کی بات کا ترکی با ترکی جواب دیا تو فروا اس کے انداز پر ٹھٹک کر رکی ۔ اذفرین آنکھیں پھاڑے فروا کو گھور رہی تھی ۔
”ہوٸ تھی میں راضی ، اس بھری دنیا میں کوٸ نہیں تھا میرا اپنا ، بہن کے پاس جاتی تو وہ اپنے ذہنی مریض دیور سے شادی کروا کر احسان کا نام دیتی تو بھاٸ کے پاس آتی تھی تو وہ اپنے سالے کے احسانات کے نیچے دبا ہوا تھا “
اذفرین پھٹ پڑی تھی فروا نے آج سے پہلے اذفرین کا یہ باہمت روپ کبھی نا دیکھا تھا اس لیے اس کا یوں یک ٹک اسے دیکھنا حیرانگی کی بات نہیں تھی۔ لگ بھگ فروا جیسا ہی حال سعد کا تھا ۔ پر علیدان پرسکون سا ہو کر سینے پر ہاتھ باندھ چکا تھا
”آپکو پتا ہے مجھے کس نے احساس دلایا کہ میں بھی ایک انسان ہوں ، میں صرف یتیم ہوٸ ہوں مری نہیں ہوں ، میری بھی کوٸ اہمیت ہے ، میرے لیے بھی کوٸ جان کی باز لگا سکتا ہے ، مجھے بچانے کے لیے خود کو خطرے میں ڈال سکتا ہے “
اذفرین اب دانت پیسے کبھی فروا کو دیکھ رہی تھی تو کبھی سعد کی طرف ۔ سعد اب دم سادھے اسے سن رہا تھا جو آج بول پڑی تھی وہ بڑی ہو گٸ تھی ۔ با ہمت تھی ۔ سہمی ہوٸ نہیں تھی ایسا ہی تو دیکھنا چاہتا تھا وہ اس کو
” یہ ہے دنیا میں وہ واحد میرا جس کی محبت میرے لیے بے لوث ہے ، جو اپنوں کے احسانوں کو پس پشت ڈال کر مجھے اپناۓ ہوۓ ہے ، میرے آنسو پونچھنے والا میرے رونے پر تڑپ جانے والا “
اذفرین نے نظر اٹھا کر فخر سے علیدان کی طرف دیکھا ۔ اذفرین اب سعد کے بلکل سامنے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑی تھی ۔
”بابا کے بعد جس اپناٸیت کا احساس مجھے آپ سے ہونا چاہیے تھا سعد بھاٸ ، افسوس ہے مجھے کہ وہ کبھی مجھے آپ سے نہیں ملا ، پتا ہے آپکو وہ احساس کس نے دیا مجھے میرے شوہر نے “
اذفرین سرد سے لہجے میں کہتے ہوۓ سعد کی روح تک کو جھنجوڑ گٸ تھی ۔ اذفرین اب پھر فروا کی طرف پلٹی تھی ۔
” آپکے شریف النفس بھاٸ کو جب لگا کہ میری ضرورت ہے تو آگے آیا اور شادی کے لیے تیار ہو گیا ، آپکو ڈر تھا اولاد نہیں ہے تو بھاٸ کو مجبور کر دوں اس کو اپنے بھاٸ سے بیاہ کر “
فروا نے اس کی باتیں سن کر حیرت سے منہ کھولے سعد کی طرف دیکھا پر سعد پہلے ہی نظریں چراۓ سر جھکاۓ کھڑا تھا ۔
” آپ کیا سمجھتی تھیں مجھے کچھ نہیں پتا مجھے سب پتا تھا ، پر میں صرف آپ کے لیے آپ کی عزت کے لیے آپ کے ہر حکم پر سر تسلیم خم کرتی رہی “
فروا نے سر جھکاۓ نظریں چراٸیں ۔ اذفرین اب سعد کے سامنے کھڑی تھی۔
” سعد بھاٸ میں شرمسار ہوں اپنے کیۓ پر اور تیار ہوں اپنی سزا کے لیے ، آپ اور آپی مجھ سے ہر طرح کا تعلق ختم کر دیں گے جانتی ہوں “
اذفرین کے لہجے سے تلخی اب غاٸب تھی۔ وہ تھک گٸ تھی احساسات پال پال کر خود کو کھو چکی تھی سفاک رشتوں کے احساسوں کو سنبھال سنبھال کر
” پر بھاٸ یہ تعلق تو بہت سالوں سے ہوتے ہوۓ بھی میں اس سے محروم ہی تھی ، بس میرا خدا مجھے اس کے لیے معاف کر دے جو میں نے کیا تھا ، یہ میرے شوہر کا گھر ہے میرا گھر ہے میں یہاں سے کہیں نہیں جاٶں گی ، اللہ حافظ “
اذفرین تیزی سے رخ موڑے آگے بڑھی پر سعد کی آواز پر قدم رک گۓ تھے۔
” اذفرین تمھاری شادی تک میری رہاٸش کہاں ہو گی ؟ “
سعد کی بات پر حیرت سے غور کرتی وہ پیچھے پلٹی تو سعد نم آنکھوں کے ساتھ مسکرا رہا تھا ۔ آنکھیں کھل گٸ تھیں ۔آٸینہ اس کو دکھانے آیا تھا پر نظر تو اپنا بھیانک روپ آ گیا تھا ۔ شرم کے گڑھے میں اسے گاڑنے آیا تھا شرم کے گڑے میں تو خود دھنس کر رہ گیا تھا ۔
” بھاٸ ۔۔۔“
اذفرین نے بمشکل بھیگے سے لہجے میں الفاظ ادا کیے اور پھر سعد کے بازو پھیلانے پر وہ تیزی سے اپنا اور سعد کا فاصلہ ختم کرتی سعد کے سینے سے جا لگی ۔ سعد بار بار اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ بوسے دے رہا تھا ۔ علیدان اب مسرور سا ان کو دیکھ رہا تھا ۔
” سعد۔۔۔ “
فروا کی حیرت میں ڈوبی آواز پر سعد نے سامنے کھڑی فروا کو دیکھا ۔ جو سعد کے یوں اچانک سے سب بھلا کر اذفرین کو گلے لگا لینے پر ششد کھڑی تھی ۔
” پرسوں میری بہن کی رخصتی ہے ، امید کرتا ہوں تم میرے ساتھ شرکت کرو گی“
رعب دار لہجے میں حکم دیا نجف اسے بتا چکا تھا کہ حسیب کی شادی سے ایک دن پہلے اذفرین کی شادی ہے ، مسکرا کر علیدان کی طرف بازو کیا جو پاس آ کر اب سعد کے دوسرے بازو سے ان کے گلے لگ چکا تھا اور فروا حیرت میں ڈوبی کھڑی رہ گٸ ۔
***********
نجف دروازے کو کھول کر اندر داخل ہوا اور غصے میں بھرا تیز تیز چلتا سنگہار میز کے سامنے کھڑی فروا کے پاس آیا ۔ وہ ذرق برق لباس میں ملبوس کانوں میں جھمکے ڈال رہی تھی ۔
” تم جاٶ گی شادی پر ؟ ، میری انسلٹ ہے یہ “
نجف نے دانت پیس کر پوچھا وہ اب فروا کے سر پر کھڑا تھا چہرہ غصے سے لال بھبوکا ہو رہا تھا ۔ آج علیدان اور اذفرین کی مہندی تھی۔ اور فروا اس کے لیے ہی تیار ہو رہی تھی۔
” تو میں کیا کروں میرے شوہر کا حکم ہے تمھاری خاطر اپنا گھر خراب کر لوں کیا ؟ ، اور ویسے بھی وہ اب پاکستان رہنے کا فیصلہ کر چکا ہے “
فروا نے سنگہار میز پر ہاتھ دھرے غصے سے اس کی طرف دیکھا ۔ سعد کا مزاج یکسر بدل چکا تھا ۔ علیدان اسے اپنے بزنس میں شامل ہونے کے دعوت دے چکا تھا ۔ وہ اس دن سے وہیں اذفرین کے ہمراہ بہادر ولاز میں رہاٸیش پذیر تھا ۔
مہرین بھی اپنے بچوں سمیت وہاں پہنچ چکی تھی اب اذفرین کی رخصتی بہادر ولاز سے دلاور ولاز میں ہونی تھی ۔
بس فروا یہاں اپنی خالہ کی طرف تھی ۔ کیونکہ علیدان کے ولیمے کے روز حسیب کی بارات کی تقریب رکھی گٸ تھی ۔
”کیا ۔۔۔۔“
نجف نے حیرت سے آنکھیں پھیلا کر منہ کھولا ۔
”ہاں اذفرین کے سسرال والے اتنے دولت مند ہیں ، علیدان سعد کو پاکستان میں رہ کر بزنس کرنے کا مشورہ دے چکا ہے “
فروا نے ناگواری سے اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنا دوپٹہ درست کیا ۔ سعد کے بدلتے ہی وہ تو جیسے بھیگی بلی بن گٸ تھی ۔ اذفرین سے اپنی ساری کوتاہیوں کی معافی مانگی ۔
وہی اذفرین جسے وہ ایک پل کے لیے اپنے گھر میں برداشت نہیں کرتی تھی ۔ اس کا رشتہ آج اس کے ہاتھ میں تھا ۔
” تو تم اب یہاں رہو گی سعد کے ساتھ ؟ “
نجف نے انگلی سے زمین کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ غصے سے سوال کیا ۔ اسے تو ماٸدہ بیگم کی پریشانی لاحق ہوٸ تھی سوچا تھا اب شادی تو ہو نہیں سکی تو اب ماٸدہ بیگم کو فروا کے حوالے کرے گا پر یہاں تو سب کچھ اس کی سوچ کے بالا تر تھا ۔
” ہاں اور تم فکر نا کرو ، امی کو ساتھ رکھنے کا میں کہہ چکی ہوں سعد سے ، سعد مان گۓ ہیں “
فروا نے ہاتھ کو اٹھاتے ہوۓ اسے جتایا تھا ۔ نجف نے کچھ بولنے کے کیے لب کھولے پر کمرے میں آتی صوفیہ بیگم کو دیکھ کر چپ ہو گیا وہ بھی ذرق برق لباس میں ملبوس تھیں ۔
” فروا تم تیار ہو چلیں ؟ “
فروا کی طرف دیکھتے ہوۓ انہوں نے سوال کیا تو فروا مسکراتی ہوٸ چند قدم آگے بڑھی ۔ چند سال پہلے اس نے ماٸدہ بیگم اور فروا کو خود غرضی دکھاٸ تھی آج یہ سب شاٸد اسی کا نتیجہ تھا
” جی آنٹی چلیں ، امی تیار ہو گٸ ہیں کیا ؟ “
وہ اب اپنے بیگ کو اٹھاۓ مصروف سے انداز میں پوچھ رہی تھی جس پر نجف تنک کر گویا ہوا ۔
” کیا کہا تم نے ؟ ، امی بھی جا رہی ہیں کیا ؟“
نجف کا حلق تک کڑوا ہوا ۔ مطلب اس کی ذلت اور رسواٸ کی کسی کو کوٸ پرواہ نہیں تھی ۔
” ہاں جا رہی ہیں سعد سے معافی مانگ چکی ہیں اب اذفرین سے مانگنی ہے “
فروا نے تیزی سے روکھے سے لہجے میں جواب دیا اور صوفیہ بیگم کے پیچھے ہی کمرے سے باہر نکل گٸ ۔ نجف ہکا بکا سا وہیں کھڑا ان کو جاتے دیکھ رہا تھا ۔
**********
”گجرے ۔۔۔“
ادیان نے سنگہار میز سے کمر ٹکاۓ گجرے اوزگل کی طرف بڑھاۓ جب کے نظریں اس کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔ وہ صندل اور اذفرین کی مہندی کے لیے پورے اہتمام سے تیار ہوٸ تھی ۔ اور اب سنگہار میز کے سامنے کھڑی اپنا جاٸزہ لے رہی تھی ۔
” تھنکیو “
گلال ہوتے ہوۓ ادیان کے ہاتھ سے گجرے تھامے ۔ اس کے یوں دیکھنے سے دل دھڑکنے لگا تھا ۔ سب کچھ خود بخود سمٹ کر قدموں میں آ گیا تھا ۔ سامنے کھڑا شخص ہمیشہ سے اس کا تھا اور اس کو مل گیا تھا ۔
”ایسے کیا دیکھ رہے ہو ؟ “
اوزگل نے مصنوعی خفت سے پوچھا ۔ ادیان مسکراہٹ دبا گیا پھر سیدھا ہوتے ہوۓ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔
”پڑ گئی دُور سے تھی جی میں دھڑک تو لیکن
ہم نے دیکھا اُسے رکھ کر دلِ بیتاب پہ ہاتھ “
ادیان نے محبت بھرے لہجے میں شعر پڑھا تو اوزگل اس کے لہجے کی مٹھاس میں گھل کر پلکیں جھکا گٸ ۔
” سوچ رہا ہوں شادی کے لیے اب پورا ایک سال انتظار کرنا ہو گا “
شریر سے لہجے میں کہا تو اوزگل جھینپ گٸ ۔ جلدی سے اپنے ہاتھ چھڑا کر دروازے کی طرف بھاگی ۔ اور وہ سنگہار میز سے ہاتھ ٹکاۓ بھرپور طریقے سے ہنس دیا
**********
بہادر ولاز اور دلاور ولاز کی مشترکہ چھت آج برقی قمقوں اور ہر طرز کے پھولوں سے سجی ہوٸ تھی ۔ جھولے کو پھولوں سے سجایا گیا تھا جو آبشار کے ایک طرف رکھا ہوا تھا ۔
پیلے رنگ کے لمبے گھٹنوں تک آتے فراک میں وہ کندن کے زیور سے مزین خوبصورتی کی انتہاٶں کو چھو رہی تھی ۔ پرسکون سی مسکان تھی جو لبوں پر گھر کۓ ہوۓ تھی ۔
موسیقی کے جلترنگ اردگرد قہقوں کی گونج اور لوگوں کے چہکنے کی آوازیں سب کی محبتیں لٹاتی نظریں اسے اندر تک سرشار کیے ہوۓ تھیں ۔
وہ یونہی مسکراتی ہوٸ ارد گرد دیکھ رہی تھی جب علیدان سامنے سے آتا ہوا نظر آیا ۔ ہلکے سبز رنگ کے پوتھ کے کرتے کو زیب تن کیے آستینوں کو تھوڑا سا فولڈ کیے وہ کچھ لوگوں کو اب کوٸ ہدایات دے رہا تھا ۔
وہ مصروف تھا صندل کی بھی مہندی تھی اس لیے تقریب کے انتظامات کو بھی دیکھ رہا تھا ۔ اذفرین کو یوں اپنی طرف دیکھتے پا کر کان کھجاتے ہوۓ چور سی نظر اس پر ڈالی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: