Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 4

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 4

–**–**–

سیڑھیاں پھلانگتی وہ سفید ٹاٸلز والے خوبصورت پورچ سے ہوتی ہوٸ سامنے ادیان کے کمرے کی طرف بڑھ رہی تھی جینز کے نیچے میرون رنگ کا چمڑے کا کھسہ پہن رکھا تھا جس میں سفید پاٶں اور دمک رہے تھے وہ ایسی ہی تھی جینز کے نیچے کھسہ پٹیالہ شلوار کے نیچے جوگرز شوخ چنچل سی ہنس مکھ سی اور ادیان بھی ایک ہفتہ پہلے تک بلکل ایسا ہی تھا پورے خاندان میں دونوں کراٸم پارٹنر کے نام سے مشہور تھے ۔
کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوٸ تو ادیان سٹڈی ٹیبل پر بیٹھا کچھ ٹاٸپ کر رہا تھا دروازہ کھلنے کی آواز پر جلدی سے لیپ ٹاپ بند کیا اور سامنے اوزگل کو دیکھ کر ماتھے پر بل ڈالتے ہوۓ سیدھا ہوا۔
” کم از کم ناک تو کیا کرو “
شکن آلود پیشانی کے ساتھ آنکھوں کو سکوڑ کر اوزگل کو گھورا ۔ اس کا اب یوں کمرے میں اس طرح چلے آنا عجیب ہی لگا تھا۔ پر اس پر تو جیسے کوٸ اثر نہیں تھا مسکراتی ہوٸ بلا تکلف آگے بڑھی ۔ آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں
” ادیان پہلے بھی تو ایسے ہی آتی تھی کمرے میں نٸ بات ہے کیا “
لاڈ سے کہتی آگے بڑھی اور بیڈ پر بیٹھی ۔ وہ ادیان کی خفگی کو ابھی بھی سنجیدگی سے نہیں لے رہی تھی ۔ شاٸد اس کی وجہ ادیان کا پہلی دفعہ اس سے یوں دوری بنا کر رکھنا تھا ۔ ادیان سے بلا تکلفی کی ایک وجہ دونوں کی عمر میں صرف ایک سال کا گیپ ہونا تھا ادیان اس سے ایک ساک بڑا تھا بس ۔
” پہلے کی بات اور تھی اوز “
ادیان نے ناگواری سے نظریں چراتے ہوۓ کہا ۔ پورے گھر میں صرف وہ اسے اوز کہتا تھا باقی سب گل کہتے تھے ادیان نے پاس پڑی کتاب کو اور ساتھ پڑی ڈاٸری کو اپنی طرف کھینچا ۔وہ جتنا اس سے دور جانے کی کوشش میں تھا وہ اتنا ہی سر پر سوار ہو رہی تھی اور اس کا یوں بار بار سامنے آ جانا تکلیف کا باعث بن رہا تھا ۔
” ادی مطلب سمجھی نہیں میں “
آہستگی سے کہتے ہوۓ اب وہ نا سمجھی کے سے انداز میں ادیان کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ پر وہ تو کچھ اسطرح سے کتاب پر جھکا کچھ لکھنے میں مصروف تھا جیسے وہ اس کے پاس ہی نہ کھڑی ہوٸ ۔ ادیان کی طرف سے کوٸ جواب نا آنے کی صورت میں وہ پریشان سی ہوتی اپنی جگہ سے اٹھی
” ادی مسٸلہ کیا ہے مجھے سے کوٸ غلطی ہوٸ ایسی کیوں ناراض ہو بھٸ“
اس کے قریب آ کر الجھے سے انداز میں کہا ۔ وہ اس سے کتنی ہی باتیں کرنا چاہتی تھی ہفتہ پہلے ہی تو سب بڑوں کے طے کیے رشتے نے اس کی دنیا بدل کر رکھ دی تھی اور اب کتنی ہی دل کی ایسی باتیں تھی جو وہ اپنے سب سے اچھے دوست سے کرنا چاہتی تھی پر وہ تھا کہ اس دن کے بعد سے اکھڑا اکھڑا سا تھا گھور کر ادیان کی طرف دیکھا اس کے بال سر جھکنے کی وجہ سے ماتھے پر آۓ تھے دونوں بھاٸیوں میں بہت مشابہت تھی بس ادیان کی آنکھیں چھوٹی تھیں ناک تو بلکل اس کے جیسا تھا اور کشادہ پیشانی اوزگل دھیرے سے مسکرا دی ادیان نے کا سر ہنوز ویسے ہی جھکا تھا ۔
” میں کیوں ناراض ہوں گا “
مصروف سے انداز میں کہا ۔ اوزگل نے غصے سے دیکھا ۔ حد تھی ویسے شام سے اسے منانے میں لگی تھی اور نواب کے نخرے تھے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
” ہممم “
اوزگل نے شرارت سے مسکراتے ہوۓ ادیان کے ہاتھ میں سے قلم چھینا ۔ وہ جو ضبط کے آخری مرحلے پر تھا ایک دم سے غصے میں بھرا اٹھا ۔
” جسٹ سٹاپ اٹ اوز “
اونچی آواز میں کہتے ہوۓ اوزگل کی طرف دیکھا اور بے دردی سے اس کے ہاتھ میں پکڑے قلم کو کھینچا ۔ ادیان کا لہجہ اتنا سخت تھا کہ وہ گڑ بڑا گٸ اور پھر ساکن ہوٸ تھی اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے تھے ۔ پھر رکی نہیں تھی تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے کمرے سے کیا میر دلاور ولاز سے بھی نکل گٸ تھی ۔
اور اس کی آنکھوں میں تیرتے آنسوٶں کہ نمی وہ اسکے دل پر چھوڑ گٸ تھی ۔جس دن اوزگل کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی خوشی ملی اسی دن تو ادیان دلاور کی زندگی کی سب سے بڑی خوشی اس سے چھن گٸ تھی ۔ اسے پتا تھا اب وہ اس کے آنے پر ہی دلاور ولاز میں قدم رکھے گی اچھا ہے مت آۓ ۔
ادیان نے گہری سانس لی اور کرسی پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھا ۔
*********
ٹارچ کی روشنی میں ان کو یوں چلتے یوۓ آدھا گھنٹہ ہو چلا تھا رات ہونے کی وجہ سے وہ اب بھاگ نہیں رہے تھے آہستہ آہستہ چل رہے تھے ۔
اس نے ایک ہاتھ تو پکڑ رکھا تھا پر پھر بھی داٸیں باٸیں سے خوف آ رہا تھا ۔ اور اب تو ٹانگیں کندھے سب جواب دینے لگے تھے بھوک سے بھی برا حال تھا ۔ ہمت جمع کی
” سنیں “
اذفرین نے گھٹی سی آواز میں اپنے ساتھ چلتے علیدان کو پکارا وہ جو بہت چوکنا ہو کر چل رہا تھا اس کے یوں خاموشی کو توڑنے پر چونک کر اس کی طرف دیکھا ۔ معلوم تھا یوں رات کو جنگل میں چلنا خطرے سے خالی نہیں تھا پر وہاں رکنا بھی مناسب نہیں تھا اس سے دوری بنانا ضروری تھا اور گنز ساتھ ہونے کی وجہ سے حوصلہ بڑھا ہوا تھا اذفرین کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھا وہ اب بلکل خاموش کھڑی تھی ۔ چودھویں رات کے ملگجے سے اندھیرے میں اس کا چہرہ نظر آ رہا تھا وہ اب کچھ نہیں کہہ رہی تھی البتہ اس کی گھٹی سی آواز سے وہ باخوبی اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ تھک گٸ ہے ۔
” ہممم تھک گٸ ہیں کیا ؟ “
علیدان نے اردگرد دیکھتے ہوۓ نرمی سے پوچھا ۔ اذفرین نے دھیرے سے سر کو ہلایا۔ تھکنے سے زیادہ اردگرد سے آتی خوفناک آوازیں پتوں کی سرسراہٹ بھیڑیوں کی آوازیں عجیب طرح سے خوفزدہ کر رہی تھیں ۔
” ٹھیک ہے پھر رک جاتے ہیں یہاں صبح ہونے تک “
علیدان نے فوراً درختوں کی طرف قدم بڑھاۓ اب وہ ٹارچ لاٸٹ ڈال کر درختوں کو جانچ رہا تھا ۔ لمبا قد کسرتی بدن مضبوط ڈیل ڈول گھنے بال وہ اپنی بہت ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ خوبرو بھی تھی۔ اس کو یوں درختوں کو کھوجتے دیکھ کر اذفرین پھر سے گھبرا گٸ ۔
” پھر درخت پر چڑھنا ہو گا کیا ؟“
بچارگی سے کہا ۔ علیدان جو اب ماتھے پر ہاتھ پھیرتا ہوا کچھ سوچنے میں مصروف تھا گردن گھما کر گھور کر اذفرین کی طرف دیکھا ۔
” جی نیچے بلکل سیف نہیں ہمارے پاس آگ جلانے کا کوٸ انتظام نہیں کوٸ بھی جنگلی جانور آ سکتا ہے “
دانت پیستے ہوۓ کہا وہ اب درخت کے تنے پر رسی ڈال رہا تھا ۔
”ٹھیک ہے پھر “
اس کے یوں ناگواری سے کہنے پر اذفرین نے آہستگی سے جواب دیا اور اس کے پاس آ کر کھڑی ہوٸ ۔ اس دفعہ تنا کچھ زیادہ ہی اونچا تھا ۔ جس کی وجہ سے اذفرین کو بھی رسی سے ہی اوپر جانا تھا ۔ علیدان نے اب رسی کے ایک سرے کو اذفرین کو پکڑایا اور دوسرے سرے کو ایسے کھینچا کہ وہ اوپر اٹھنے لگی اور پھر تنے کے قریب پہنچتے ہی وہ اسے ہاتھ ڈال کر اوپر چڑھ چکی تھی ۔ وہ خود اب رسی کو پکڑ کر اوپر چڑھ رہا تھا ۔ اوپر آ کر رسی کو بھی اوپر کھینچا بوتل سے پانی پیا اور بوتل اذفرین کی طرف بڑھاٸ ۔ تینوں گنز ایک طرف ٹہنی سے لٹکاٸیں اور تنے پر سیدھا لیٹ گیا جبکہ اذفرین ایک طرف ٹیک لگاۓ بیٹھی تھی ۔ لیٹتے ہی جیسے کمر کو سکون ملا تھا ۔ نہیں پتا تھا کس رخ کو جا رہے تھے وہ اور کیا وہ گاٶں اس رستے میں ہو گا بھی کہ نہیں باقی لوگوں کا کیا بنا ہو گا اور گھر والے ان تک خبر پہنچی ہو گی یا نہیں ان گنت خیالات تھے جو اس وقت علیدان کے دماغ میں ابھر رہے تھے ۔
اذفرین نے کن اکھیوں سے علیدان کی طرف دیکھا اس کی ٹانگیں اذفرین کی طرف تھیںں کتنی عجیب بات تھی وہ کتنے گھنٹوں سے ایک ساتھ تھے پر ایک دوسرے کا نام تک نہیں جانتے تھے ۔ اذفرین نے پانی کی بوتل کا ڈھکن بند کیا ۔
” آپکا نام کیا ہے ؟“
آہستہ سی آواز میں سوال پوچھا دوسری طرف بلکل خاموشی تھی پھر وہ اٹھ کر بیٹھا ۔ اتنے گھنٹوں کے بعد اب جا کر تھوڑا سکون ملا تھا یہی وجہ تھی وہ بھی نام پوچھ رہی تھی ۔
” علیدان دلاور “
سنجیدگی سے جواب دیا علیدان اذفرین نے زیر لب نام کو دھرایا کتنا پرفیکٹ میچ تھا اس کا نام اس کی شخصیت تھے وہ بہادر تھا ہمت والا تھا ۔
” اور آپکا نام “
بھاری سے سنجیدہ آواز میں پوچھا ۔ وہ جو اب سر جھکاۓ بیٹھی اس کے نام سے اس کی شخصیت کی عکاسی کر رہی تھی چونک کر دیکھا ۔
” میرا نام اذفرین سہیل ہے “
اذفرین نے مدھر سی آواز میں جواب دیا جس پر وہ دھیرے سے سر ہلا گیا ۔ پھر خاموشی تھی دونوں طرف جسے پھر سے اذفرین نے ہی توڑا ۔
” پاکستان سے ہیں ؟“
اذفرین نے اگلا سوال پوچھا ۔ وہ جو اب سوالات کا سلسلہ ختم سمجھ چکا تھا اگلے سوال پر پھر سے سیدھا ہوا۔ اور سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” میں بھی پاکستان سے ہی ہوں “
اذفرین کو عجیب سی خوشی ہوٸ تھی۔ انداز تھوڑا بچوں جیسا تھا جیسے وہ پاکستان نہیں اس کا کوٸ رشتہ دار نکل آیا ہو ۔
” آپ کو دیکھتے ہی لگا تھا آپ پاکستان سے ہوں گےکس شہر سے ہیں؟ “
علیدان نے بغور اذفرین کی طرف دیکھا۔ یہ تو کہہ رہی تھی میں تھک گٸ ہوں ۔ اب سوال پر سوال کر رہی ہے ۔
” اسلام آباد سے “
مختصر جواب دیا۔ اور اردگرد دیکھا ۔ وہ جوش میں تھوڑا اونچا بول رہی تھی ۔
” میں لاہور سے ہوں “
اپنا انٹرویو وہ خود ہی دیے جا رہی تھی علیدان نے سر ہلایا ۔
” یہاں کیسے مطلب سڈنی میں کیا کرتے ہیں ؟ “
اگلا سوال ۔ علیدان نے سیدھے رخ پیشانی میں بل ڈالے ارد گرد دیکھا ۔ کیا یہ ساری رات میرا انٹرویو لیتی رہے گی ایسے ۔
” میں کرٹن یونیورسٹی میں جیوگرافک سپیشلاٸزیشن کا سٹوڈنٹ ہوں اپنے پروجیکٹ کے سلسلے میں سڈنی آیا ہوں “
علیدان نے روانی میں کہا جس پر وہ اب سر ہلا رہی تھی ۔
” اوہ اسی لیے آپ جنگل کے بارے میں اتنا جانتے ہیں “
اذفرین نے اپنی بات کی تاٸید چاہی ۔ ہیں یہ کیا بات کی اس نے میں کوٸ والڈ لاٸف پڑھ رہا ہوں ۔ علیدان نے حیرت سے اذفرین کو دیکھا جو خود کو اب بہت سمجھدار تصور کر رہی تھی ۔
” جی کہہ سکتی ہیں آپ “
علیدان نے کندھے اچکاۓ ۔ گہری سانس لی مچھر کاٹ رہا تھا جس کے باعث وہ بار بار گردن کھجا رہا تھا ۔ حیرت سے اذفرین کی طرف دیکھا یقیناً اس کی گردن بالوں میں ڈھکی ہونے کی وجہ سے یہ بچی ہوٸ ہے جنگلی مچھروں کے وار سے ۔ مٹی سے اٹے بالوں سوجی آنکھوں والی یہ لڑکی اتنا بھی بول سکتی ہے اس کا اندازہ نہیں تھا اسے ۔
” سنیں “
اذفرین نے سہمی سی آواز میں پکارا ۔ کہیں یہ سو نا جاۓ سو گیا پہلے اور میں نہ سوٸ تو ڈر لگے گا مجھے ۔ پتہ نہیں کہاں ہیں ہم
” کیا ہم کھو گۓ ہیں جنگل میں “
اذفرین کی گھبراٸ سی آواز ابھری انداز ڈرا سا تھا ۔ عجیب سی گھٹن ہوٸ ایک دم سے دل کیا سب کچھ خواب ہو اور اب اس کی آنکھ کھل جاۓ اور وہ بستر پر ہو ۔
” ہو سکتا ہے “
علیدان نے بھنویں اچکاٸیں ۔ یہی بات تو بار بار اس کے ذہن کو الجھا رہی تھی جو اس نے کر دی تھی
” تو اب کیا ہو گا “
اذفرین نے روہانسی آواز میں کہا ۔علیدان نے گھبرا کر دیکھا اب پھر سے رونا نا شروع کر دے یہ ۔
”اللہ پر بھروسہ رکھیں آپ کچھ دیر سو جاٸیں “
علیدان نے فوراً مشورہ دیا ۔ وہ جب تک جاگتی رہے گی شاٸد یونہی سر کھاتی رہے گی ۔
” سوٸ تو گر جاٶں گی “
اذفرین نے نیچے دیکھتے ہوۓ کہا ۔ کافی اونچاٸ تھی اور سوتے ہوۓ کیا خبر نیچے جا گرے ۔
” نہیں گرتی میں باندھ رہا ہوں آپکو درخت کے ساتھ “
علیدان نے آگے ہو کر رسی کو تنے کے ساتھ گھمایا اور اذفرین کے پیٹ سے رسی کو باندھا اذفرین کے ہاتھ باہر نکال دیے تھے ۔ رسی باندھ کر پیچھے ہٹا وہ کسی گڑیا کی طرح دم سادھے بیٹھے تھی وہ اس کے قریب جھکا اسے باندھ رہا تھا ۔
” سو جاٸیں اب نہیں گرتی آپ “
علیدان نے گہری سانس لی اور اٹھ کر کھڑا ہوا۔ ایک تو لڑکیوں کے تھوڑا سا پاس جانے پر ایک ہی طرح کے خیالات کیوں آنے لگتے ہیں ۔ اذفرین کی یہ حالت اس کی سمجھ میں آ چکی تھی ۔
” اور آپ “
اذفرین نے گھبرا کر پوچھا ۔ وہ اٹھ کر کھڑا ہوا تھا مطلب وہ یہاں نہیں ہوگا اس کے پاس ایک دم سے دل گھبرا گیا ۔
” میں بھی تھوڑا آرام کروں گا یہ ساتھ والے تنے پر ہوں سو جاٸیں “
اذفرین کو تسلی دیتا وہ اب ساتھ والے تنے پر پھلانگ چکا تھا ۔ سیدھا تنے پر لیٹ کر ٹانگ کو ٹانگ پر چڑھایا ۔ درخت ہی درخت تھے عجیب سی آوازیں وحشت ناک بنا رہی تھیں ماحول کو ۔
” مت اٹھاٶ خود اٹھے گا “
” کچھ نہیں تھوڑا سا خون ہے رک جاۓ گا “
” علیدان مرد بن مرد “
” بیٹا یہ چڑیوں کا شکار کر کے تو کیا خود کو شکاری سمجھ بیٹھا ہے ہرن لے کر آنا کسی دن پھر تھپکی دوں گا“
میر دلاور کے مختلف فقروں کی بازگشت کانوں سے ٹکراٸ ۔ بابا کیا آپ جانتے تھے میری زندگی میں ایک دن یہ سب ہو گا ۔ آپ نے ہمیشہ ہمت دی مضبوط بنایا ۔ اور اسی ہمت نے مجھے حوصلہ دیا ایک لڑکی کی عزت اور اپنی جان بچا سکا ۔ زندگی میں پہلی بار اسے اپنے باپ کی کہی ہر بات ہر سختی مار درست لگ رہی تھی ۔ سب یاد آ رہے تھے ۔
*********
” ایز ونس نٸی ول سلپ ناٸ سال اونس المل این ور دیومارک “
” ہمیں سنوانک چاہیے نہیں تو اسی طرح ہم ایک ایک کر کے لوگوں کو مارتے رہیں گے “
ٹی وی پر سیاہ فام ڈاکو کی فوٹیج چل رہی تھی جنہوں نے تین آدمی مار کر درختوں سے الٹا لٹکا رکھے تھے اور وہ حکومت سے اپنے کسی آادمی کو چھوڑنے کا مطالبہ کر رہے تھے ۔ اس فوٹیج سے اب آسٹریلوی فوج تحقیق کر رہی تھی وہ اس وقت کہاں موجود ہیں سعد نے گھبرا کر ٹی وی بند کیا ۔اور آنکھوں پر ہاتھ رکھتے ہوۓ سر کو نیچے جھکا لیا ۔ اذفرین کی معصوم سی صورت آنکھوں کے سامنے تھی ۔
” سعد پریشان نہ ہوں آپ اللہ بہتر کرے گا “
فروا نے دھیرے سے سعد کے کندھے پر ہاتھ پھیرا ۔ جان پر بنی تھی سعد سے کتنی مخالفت مول لے کر اس نے اذفرین کو سڈنی بھیجا تھا ۔
” وہ میری بہن ہی نہیں میری بیٹی کی طرح ہے امی ابو کے بعد میری ذمہ داری ہے وہ آخرت میں ان کو کیا جواب دوں گا اگر اس کو کچھ ہو گیا اور مہرین اس کو کیا کہوں گا “
سعد نے گھبراۓ سے لہجے میں کہا اور پریشانی سے صوفے کی پشت سے سر ٹکا لیا ۔
” سعد یہ تو ایک حادثہ ہوا نہ اس میں آپ کا اور میرا تو کوٸ قصور نہیں “
فروا نے بچارگی سے کہا سعد نے ایک دم سیدھا ہو کر خونخوار نظروں سے اپنے سامنے بیٹھی فروا کو گھورا۔
” تم جاٶ یہاں سے پلیز “
ہاتھ کے اشارے سے اسے وہاں سے جانے کے لیے کہا وہ خاموشی سے اٹھ کر چل دی تھی ۔
********
آنکھ کھلی تو صبح ہو چکی تھی آنکھوں کو ملتے ساتھ والے تنے پر دیکھا وہاں علیدان موجود نہیں تھا جھک کر نیچے دیکھا وہ کہیں بھی نہیں تھا عجیب سا خوف اور وسوسے ذہن میں امڈنے لگے ۔
” سنیں “
رسی کو کھولنے کی کوشش کی پر پتا نہیں کتنی مضبوطی سے باندھی گٸ تھی ۔
” سنیں علیدان آپ کہاں ہاں “
روہانسی آواز میں پکارا ہر طرف خاموشی تھی نہ وہ تھا اور نہ گن تھیں ۔ اذفرین کی جان جیسے حلق میں آٸ تھی ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: