Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 5

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 5

–**–**–

کہاں چلے گۓ مجھے چھوڑ کر اذفرین نے سہم کر ادرگرد دیکھا اور رسی کھولنے کی کوشش کی پر پتہ نہیں کن فولادی ہاتھوں سے باندھ کر گیا تھا وہ اٸرن مین کہ رسی کھل ہی نہیں رہی تھی ۔ اذفرین کا چہرہ سرخ پڑنے لگا تھا ۔ رسی کو کھولنے پر لگاٸ گٸ طاقت اور خوف کی وجہ سے پورا وجود پسینے میں نہا گیا تھا ۔ ناخن ٹوٹ گیا تھا پر رسی بس ذرا سی ڈھیلی ہی ہو پاٸ تھی ۔
رسی کو پیٹ سے پکڑ کر ڈھیلا کرنے کی کوشش میں وہ اچانک درخت کے تنے سے پھسلی تھی اب اگر رسی کی گرفت نہ ہوتی تو وہ زمین بوس ہوتی ۔ لیکن لٹکنے کی حالت کچھ اسطرح سے تھی کہ ٹانگیں اوپر اور سر نیچے لٹک گیا تھا ۔ خوف کے مارے اور گرنے کے ڈر سے وہ بے تحاشہ چیخ رہی تھی ۔ وہ مجھے چھوڑ کر چل گیا ہے یقیناً اور میں ایسے ہی لٹکے لٹکے مر جاٶں گی ذہن میں امڈ آنے والے خیال کے زیر اثر وہ کانپ گٸ تھی ۔
” علیدان علیدان “
وہ چیخ رہی تھی ۔ پاس سے ہی کسی کے بھاگنے کی آواز آٸ۔ سب کچھ الٹا نظر آ رہا تھا ۔ وہ بھاگتا ہوا کہیں سے آیا تھا اور اب بلکل اس کے پاس افسوس سے سر پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔ اذفرین کو وہ الٹا نظر آ رہا تھا ۔
کیا الو قسم کی لڑکی ہے وہ جب صبح اٹھا تو وہ سو رہی تھی سوچا جب تک وہ اٹھتی ہے تو کچھ کھانے کا بندوبست ہی کر لیتا ہوں اسی سوچ کے زیر اثر وہ کچھ دور نکل گیا تھا پر اس کی چیخوں نے پاٶں کے نیچے سے زمین کو سرکا دیا وہ تیزی سے بھاگتا ہوا آیا اور سامنے کے منظر پر نظر پڑتے ہی افسوس کرنے کے بجاۓ کچھ نہیں رہ گیا تھا ۔
وہ تیزی سے درخت پر چڑھا. اور ہاتھ سے پکڑ کر اسے اوپر کیا ۔ اوپر آتے ہی وہ خفگی سے علیدان کی طرف دیکھتے ہوۓ اپنے بال اور شرٹ درست کر رہی تھی جبکہ وہ رسی کی گانٹھ کو کھولنے میں مصروف تھا ۔
” آپ سو رہی تھیں تو میں کچھ کھانے کے لیے لینے گیا تھا یہیں پاس میں پر یہاں ساری جڑی بوٹیاں ہیں صرف “
رسی کو تنے سے باندھ کر نیچے پھینکا اور سر ہلا کر اسے رسی سے اترنے کا اشارہ کیا ۔
کم از کم مجھے بتا کر چلا جاتا میں اٹھنے پر اتنا گھبراتی تو نہیں منہ سے تو اسے کچھ کہہ نہیں سکتی تھی اسی لیے بس خیالات میں ہی لتاڑ رہی تھی روہانسی صورت بناۓ نیچے اتری اور وہ اپنے مخصوص انداز میں چھلانگیں لگاتا نیچے اترا ۔
” چلیں آگے چلتے ہیں مجھے آواز آ رہی ہے پانی گرنے کی جیسے کوٸ آبشار ہو لگتا ہے پاس ہی کوٸ ندی ہے “
علیدان نے ساری چیزیں کندھے پر رکھتے ہوۓ اذفرین کو ایک طرف جانے کا اشارہ کیا ۔ بھوک سے اب تو برا حال ہو رہا تھا الٹا لٹکنے کی وجہ سے سارا خون ایک دفعہ سر میں اکٹھا ہوا تھا جس کی وجہ سے اب حالت اور خراب ہو رہی تھی کل دوپہر سے صرف پانی پی رہے تھے دونوں اور اب تو جیسے معدہ سکڑنے لگا تھا۔
” کیا کچھ بھی نہیں تھا کھانے کو “
اذفرین نے بچارگی سے چلتے ہوۓ علیدان کی طرف دیکھا ۔ آواز بھی جسمانی کمزوری کے باعث نقاہت کا شکار ہو چکی تھی ۔
” نہیں کچھ نہیں تھا جڑی بوٹیاں اور کچھ عجیب سے پھل تھے جن کو کھا نہیں سکتے کیا پتا زہریلے ہوں کیا زیادہ بھوک لگی ہے ؟“
علیدان نے اذفرین کی طرف غور سے دیکھتے ہوۓ کہا۔ وہ بچوں کی طرح سر ہلا کر رہ گٸ ۔ چہرہ بھوک کے باعث زرد پڑ رہا تھا ۔
” چلیں ہمت کریں کچھ دور تک چلیں پلیز “
علیدان نے سنجیدگی سے کہا اور آگے بڑھا
وہ سہی کہہ رہا تھا کچھ ہی دیر چلنے کے بعد وہ جہاں کھڑے تھے وہاں ایک اونچے پہاڑ سے آبشار گر رہی تھی اور نیچے بہت بڑی ندی بہہ رہی تھی ۔ جس میں شفاف پانی میں تیرتی مچھلیاں تک نظر آ رہی تھیں ندی کے آس پاس انگنت گھنے درخت تھے اور پاس کی زمین سبز گھاس سے ڈھکی تھی اتنا حسین منظر دیکھ کر پل بھر کو نظریں ہٹانا بھول چکی تھی وہ ۔
ندی سے ایک طرف بہت گہری کھاٸ تھی جہاں سے ندی کا پانی گہری کھاٸ میں گرتے ہوۓ بہت نیچے ایک اور ندی میں گر رہا تھا اس گہری کھاٸ سے چار موٹی رسیوں کا پل دوسری اطراف کے پہاڑ کے ساتھ مل رہا تھا۔ علیدان منہ دھونے اور بازو دھونے میں مصروف تھا ۔ اس نے بھی آگے بڑھ کر منہ پر پانی کے چھینٹے مارے پانی پیا اور کھڑی ہوٸ علیدان بوتل میں پانی بھر رہا تھا ۔ اور وہ پھر سے جھرنے سے گرتے پانی اور خوبصورت منظر کو دیکھنے لگی تھی ۔
” پہلے کچھ کھا لیتے ہیں پھر سوچتے ہیں آگے کا “
وہ منظر کی خوبصورتی میں کھوٸ ہوٸ تھی جب عقب سے علیدان کی آواز ابھری ۔ وہ جوگرز اتارے پینٹ کے پاٸنچے فولڈ کر رہا تھا ۔ کیا کرنے والا ہے یہ اذفرین نے بھنویں اچکا کر دیکھا وہ اب ایک نوکیلی لمبی سی لکڑی کو تھامے ندی میں اتر گیا ۔اور پانی میں اب بار بار لکڑی کو مار رہا تھا اور پھر کچھ دیر میں وہ ہاتھ میں دو درمیانے ساٸز کی مچھلیاں پکڑ کر ندی سے باہر آ رہا تھا ۔
اب وہ صاف سبز پتوں پر مچھلی کو رکھے اس کی جلد کو اتار کر اسی لکڑی سے مچھلی کا پیٹ چاک کر رہا تھا۔ مچھلی کے اندر سے گوشت کا ایک ٹکڑا نکال کر اس نے جلدی سے اپنے منہ میں رکھا انداز عجلت لیے ہوۓ تھا چاہے وہ جتنا بھی مضبوط آٸرن مین تھا پر تھا تو انسان ہی اسے بھی بھوک نے ویسے ہی نڈھال کر رکھ تھا جیسے اذفرین کو یہ اور بات ہے وہ بظاہر پرسکون نظر آ رہا تھا اس کی طرح نڈھال نہیں تھا ۔
” کھاٸیں “
” یہ یہ کیسے کھا سکتی ہوں ایسے میں ابکاٸ آ رہی مجھے “
اذفرین نے برا سا منہ بناتے ہوۓ کہا اور پھر جلدی سے ہتھیلی کو منہ کے آگے رکھا۔ وہ جو اب دوسری مچھلی کو الٹ پلٹ کر کے دیکھ رہا تھا آبرٶ چڑھاۓ ۔
” ایکسکیوزمی مس یہاں اب جنگل میں آپ کے لیے فاٸیو سٹار ہوٹل تو کوٸ کھولنے سے رہا صرف یہ سوچو زندہ کیسے رہنا آپکو یہاں چپ سے کھاٶ بیمار پڑیں گی یہیں پھینک کر آگے بڑھ جاٶں گا“
علیدان نے لکڑی کے نوکیلے سرے کو مچھلی کے پیٹ کے رخ رکھ کر ہاتھ سے زور لگایا ۔ تیوری چڑھا کر سامنے بیٹھی لڑکی کو گھورا ہر بات پر تماشہ لگا رہی تھی
مچھلی کی اوپری جلدکو جیسے ہی اتارا تو سرخ و سفید رنگ کا گوشت نمایاں ہوا۔ ایک پتے پر مچھلی رکھ کر اس نے اذفرین کے آگے کی اور خود وہ پھر سے اپنی والی مچھلی کھانے لگا تھا اس کو دیکھتے ہوۓ اذفرین نے ڈرتے ڈرتے مچھلی کے گوشت کا چھوٹا سا ٹکڑا اٹھایا ۔
” امی!!!!! جب یہ مچھلی بنایا کریں پلیز سارے برتن دو بار دھویا کریں کیا ہر جگہ سے بدبو آ رہی ہے “ بچوں کی طرح ہونٹ نکال کر پاس کھڑی عورت سے کہا ۔
” نہیں مجھے یہ سالن میں پسند نہیں اگر فراٸ کریں گی تو میں کھاٶں گی “
پاس پڑی پلیٹ کو دور کیا جس میں مچھلی کا سالن تھا ۔
اپنے ہی کہے گۓ لفظوں کی بازگشت ذہن میں گونجنے لگی تھی ۔ کتنے نخرے تھے اور آج گہری سانس لی ۔
جیسے ہی گوشت کا ٹکڑا منہ میں گیا دل بری طرح اچھلا تھا ۔ابکاٸ کی شکل میں منہ کے آگے ہاتھ کو رکھا ۔ علیدان نے گھور کردیکھا اور کھانے کیطرف اشارہ کیا ۔
دھلے چہرے کے ساتھ وہ اب نکھری نکھری سی اس خوبصورت منظر کا ایک حصہ لگ رہی تھی چہرے پر جگہ جگہ سرخ خراشیں تھیں وہ شاٸد درخت پر چڑھتے اور اترتے وقت لگی تھیں وہ بہت ہوش ربا حسن رکھتی تھی گہری سیاہ آنکھیں ان پر گھنی قدرتی اوپر کے رخ کو مڑی پلکیں تیکھی سی ناک بیضوی چہرہ بھرے سی لب جن کی تراش اتنی خوبصورت تھی کہ تمام شاعروں کی شاعری انہی لبوں پر کی ہوٸ لگ رہی تھی ۔ اس نے اس سے پہلے کبھی اتنی معصوم صورت والی لڑکی نہیں دیکھی تھی ۔
اس سارے لمحے میں وہ اب اس کو اتنے غور سے دیکھ رہا تھا ۔
علیدان کی مسلسل نگاہیں خود پر مزکور محسوس کرتے ہوۓ وہ جلدی جلدی کھانے میں مصروف ہو چکی تھی مبادہ وہ ڈانٹ دے۔
زبردستی ٹکڑے کو منہ میں رکھتے ہی جلدی سے پانی کی بوتل کو اٹھا کر منہ سے لگایا ۔ اور آنکھیں زور سے بند کیے گوشت کےٹکڑے کو نگلا ۔
” کیسی ہے مچھلی ؟“
علیدان نے کھاتے ہوۓ آنکھوں کو اوپر اٹھا کر سنجیدگی سے کہتے ہوۓ اس کی روہانسی صورت کی طرف دیکھا ۔ اس کی آنکھوں میں پانی تیر رہا تھا ۔
” بہت بہت گندی ہے “
بری طرح ابکاٸ کی شکل میں چہرہ بگاڑتے ہوۓ کہا ۔ اس کے ایسے انداز پر علیدان کا بے ساختہ قہقہ گونجا تھا ۔ وہ جو رونے کے قریب تھی اس کو پہلی دفعہ یوں ہنستا دیکھ کر مبہوت سی رہ گٸ وہ ہنستے ہوۓ بہت خوبصورت لگ رہا تھا اسے کے دانت بہت خوبصورت تھے ۔ بمشکل وہ اپنے قہقےپر قابو پا کر سیدھا ہوا ۔ اور وہ اس کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔تو جناب اٸرن مین ہنستے بھی ہیں ۔ وہ دھیرے سے مسکرا دی ۔
علیدان ہاتھ جھاڑتے ہوۓ اٹھا اور اب کمر پر ہاتھ رکھے کھاٸ کی طرف جا رہا تھا ۔ اور پھر آنکھوں کو سکوڑے پیشانی پر پرسوچ انداز میں بل ڈالے اس کی طرف آیا ۔
” دیکھو وہ پل “
بازو کو لمباٸ کے رخ تان کر پل کی طرف اشارہ کیا ۔اذفرین نے بازو کی سیدھ میں نظر گھماٸ ۔ چار رسیوں سے بنایا ہوا پل تھا نیچے دو رسیاں چلنے کے لیے اور اردگرد ایک ایک رسی پکڑ کر چلنے کے لیے تھی ۔ پل کو دیکھ کر ہی انسان خوف سے کانپنے لگے اذفرین نے جھرجھری لی ۔
” اب یہ مت کہنا آپ کہ ہمیں اس کے پار جانا ہے “
اذفرین نے خوف سے بھری آنکھوں کو اور کھولا اور سہمی سی آواز میں پوچھا ۔
” جی بلکل ہمں یہی کرنا ہے اس کے پار ہی جانا ہے اور اس کے بعد دوسری طرف سے اس پل کی رسیوں کو کھول دینا ہے تا کہ ہم اور سیو ہو سکیں “
” کیا “ اذفرین کی جان جیسے حلق میں آ گٸ کھاٸ اتنی گہری تھی کہ نظر بھر کر نیچے دیکھا بھی نہیں جا رہا تھا اور علیدان کہہ رہا تھا کہ انہیں اس پل سے پار جانا ہے ۔
” جی جوگرز اتار لیں کیونکہ ننگے پاٶں زیادہ بہتر رہے گا “ علیدان نے گہری نظروں سے پل کی طرف دیکھا رسیاں موٹی تھیں پر اتنی نہیں کہ جوگرز کے ساتھ ان پر چلا جاتا ۔ اذفرین ابھی بھی خوف کے زیر اثر ساکن سی بیٹھی تھی۔
” چلو اٹھو شاباش “
علیدان نے تیوری چڑھاۓ گھور کر دیکھا اور جب وہ نہ اٹھی تو زبردستی اس کا بازو پکڑ کر اٹھایا ۔
” دیکھو بس نیچے مت دیکھنا میں تمہیں خود سے باندھ رہا ہوں اور رسیوں کو ہاتھ سے مضبوطی سے تھامے رکھنا تم آگے چلو گی اور میں پیچھے “
اذفرین جوگرز اتار رہی تھی وہ اپنے جوگرز اتار کر ان کے تسمے آپس میں باندھ کر گلے سے لٹکا چکا تھا اذفرین نے اس کو دیکھتے ہوۓ اُ سی طرح کیا ۔ وہ اب اذفرین کی کمر سے رسی باندھ کر اس کا دوسرا اپنی کمر سے باندھ رہا تھا ۔
” چلیں ایک ایک رسی پر ایک ایک پاٶں رکھیں “ اذفرین کے پیچھے وہ چل رہا تھا اور آگے اذفرین چل رہی تھی۔ اذفرین بری طرح کانپ رہی تھی ۔
”میں پیچھے ہوں ڈریں مت بس رسیوں پر گرفت مضبوط رکھیں “
علیدان نے اس کے پیچھے کان کے قریب ہوتے ہوۓ نرمی سے کہا لیکن وہ تو جیسے خوف کی وجہ سے آنکھیں بھی نہ کھول پا رہی تھی ۔ ٹانگیں تھر تھر کانپنے لگی تھیں
” اذفرین پلیز ہمت کریں “
علیدان نے ضبط سے دانت پیسے اور اردگرد نظر دوڑاٸ وہ وقت ضاٸع کر رہی تھی ۔ پر آگے نہیں بڑھ رہی تھی۔
” کھولو رسی اور رہو یہیں میں جا رہا ہوں اکیلا“
علیدان نے ماتھے پر بل ڈالے اس کے بازو سے پکڑ کر ایک جھٹکے سے رخ اپنی طرف موڑا اور دھاڑتے ہوۓ کہا ۔ وہ علیدان کے اتنا اونچا بولنے پر گڑبڑا گٸ ۔ تڑپ کر اس پر نظر ڈالی وہ ماتھے پر بل ڈالے اب اس کی کمر کے گرد بندھی رسی کو کھول رہا تھا ۔
” نہ نہیں نہیں میں چلتی ہوں “ سہم کر کانپتی آواز میں کہا اور پھر ڈرتے ڈرتے رسی پر قدم رکھا ۔ رسی کا پل بری طرح ہل رہا تھا ۔
پر اس پر نہ چلنا اپنی جان سے ہاتھ دھونے کے مترادف تھا بس یہی وہ بات تھی جس نے ہمت دی تھی اور وہ پل کو پار کرنے میں کامیاب ہو گٸ تھی۔
پل کے دوسری طرف پہنچ کر وہ تو اپنے بار بار گالوں پر بہتے آنسو صاف کر رہی تھی جبکہ علیدان پل کو کھولنے میں مصروف تھا وہ کبھی گانٹھ پر فاٸر کر رہا تھا تو کبھی ہاتھوں سے پکڑکر کر کھول رہا تھا بہت کوشش کے بعد وہ پل کو کھولنے میں کامیاب ہوا تھا رسیوں سے بنا پل جھول کر گرا اور دوسری طرف چٹان سے جا ٹکرایا ۔
علیدان کا چہرے پر عجیب سا سکون تھا ۔
********
میر دلاور نے جھکا ہوا سر اوپر اٹھایا اور پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ اٹھ کر کھڑے ہوۓ ۔ زیب کی سسکیوں کی آواز وسیع عریض لاونج کی خاموشی میں ہولناک سا ارتعاش پیدا کر رہی تھی ۔ لاونج میں ایک طرف درخشاں زیب کو سنبھالے بیٹھی تھیں اور دوسری طرف میر دلاور کھڑے تھے ۔
” زیب آپ رونا بند کریں گی پلیز خود کو سنبھالیں “
میر لاور نے بارعب آواز میں روتی ہوٸ زیب سے کہا ۔ پر ان پر تو جیسے کوٸ اثر نہیں تھا علیدان کے دوست شہروز نے آج صبح ان کو علیدان کے آسٹریلیا بس میں یرغمال ہو جانے کے بارے میں آگاہی دی تھی۔ اور تب سے میر دلاور اور میر ابرار دونوں ولاز میں قبرستان جیسی خاموشی چھا گٸ تھی ۔
میر دلاور اب سامنے بیٹھی زیب کو بغور دیکھنے میں مصروف تھے جسے میر ابرار کی بیوہ درخشاں بار بار حوصلہ دے رہی تھیں دل تو ان کا بھی کسی نے مٹھی میں لے لیا تھا ابھی پچھلے ہفتے ہی تو میر دلاور نے ان کی اکلوتی بیٹی اوزگل کا رشتہ علیدان کے ساتھ طے کیا تھا جس پر وہ خوشی سے نہال تھیں اور آج یہ خبر سن کر تو جیسے روح فنا ہو رہی تھی ۔
ادیان لاونج میں داخل ہوا تو سب کی نظریں اس پر اٹھی تھیں اس کا حال بھی باقی افراد سے کچھ مختلف نہیں تھا سر جھکا ہوا تھا چہرہ تھکا سا پریشان حال تھا وہ میر دلاور کی آسٹریلیا کے آٸیر ٹکٹ کروانے گیا تھا۔
” بابا تین دن بعد کی فلاٸیٹ ملی ہے “
ادیان نے آہستگی سے کہتے ہوۓ ٹکٹ میر دلاور کی طرف بڑھاٸ ۔ جسے انھوں نے ہاتھ بڑھا کر پکڑا ۔ ادیان نے ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ کو بغور دیکھا ۔ آج پہلی دفعہ وہ اپنے باپ کو اتنا بے بس اور کمزور دیکھ رہا تھا ۔
” میں صبح سے کہہ رہی ہوں آپکو مجھے ساتھ لے کر جاٸیں “
زیب نے ہاتھوں کی پشت سے آنسو صاف کیے اور آنسوٶں میں ڈوبی بھاری سی آواز میں کہا ۔ اب سب دکھ بھرے انداز میں زیب کی طرف دیکھ رہے تھے وہ نڈھال ہو گٸ تھیں ۔
” ادیان اپنی ماں کو سنبھالو یار کچھ نہیں ہوگا اُسے وہ میرا بیٹا ہے “
میر دلاور نے زیب سے نظریں چراتے ہوۓ ادیان کو کہا ۔ ان سے زیب کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔ گو کہ وہ خود بھی اس خبر پر اندر سے بری طرح ہل کر رہ گۓ تھے ۔ پر زیب کے سامنے انہیں مضبوط بن کر رہنا تھا ۔ ادیان آہستگی سے چلتا ہوا میر دلاور کے قریب ہوا اور ان کے گلے لگ گیا۔ حوصلے کی ضرورت ان کو بھی تھی ۔ ان کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ ادیان کو بہت کچھ سمجھا چکی تھی ۔
*******
وہ مبہوت سی کھڑی ارد گرد دیکھ رہی تھی وہ کچھ دور چلنے کے بعد ایک اور بہتے جھرنے کے پاس پہنچے تھے یہاں بھی ایک ندی بہتی ہوٸ ایک طرف ابشار کی شکل میں گر رہی تھی ۔ اس نے جوگرز اتار رکھے تھے اور پاٶں ندی کے ٹھنڈے پانی میں رکھے کھڑی تھی جس جگہ وہ کھڑی تھی پانی ٹخنوں کو چھوتا ہوا پتھروں پر بہہ رہا تھا پانی شفاف تھا اور اندر موجود پتھر مختلف رنگوں کے تھے اس کے سفید پاٶں رنگ برنگے پتھروں پر رکھے عجیب دلکش سی تصویر لگ رہے تھے ۔ کچھ دیر یونہی اپنے پاٶں اور پتھروں کو دیکھنے کے بعد نظر اوپر اٹھاٸ ۔
علیدان کہاں گۓ ذہن میں آتے خیال کے باعث نظر ارد گرد گمھاٸ اور پھر وہ جھینپ گٸ وہ سامنے ندی میں تراکی کرنے میں مصروف تھا شرٹ اتار کر ایک طرف درخت سے لٹکا رکھی تھی ۔ اذفرین نے سرخ پڑتے چہرے سے نظروں کا زاویہ بدلہ ۔ پاٶں ندی سے باہر نکالے اور جوگرز پہنتی ایک طرف آٸ ۔ علیدان اب نہانے کے بعد شاٸد پھر سے مچھلی پکڑنے کی کوشش میں تھا ۔ پینٹ پانی میں نچڑ رہی تھی اور شرٹ سے بے نیاز وہ مصروف سی صورت بناۓ گیلے بالوں کو بار بار ماتھے پر سے اٹھاتا ندی کے شفاف پانی میں نظریں گاڑے مچھلیاں پکڑنے میں مصروف تھا ۔
افف یہاں کچھ اور کیوں نہیں ہے کھانے کو بچارگی سے اردگرد دیکھا جب کے دانت نچلے لب کو بے دردی سے کچل رہے تھے کچی مچھلی پھر سے کھانے کا سوچ کر ہی دل متلی کا شکار ہو رہا تھا۔ اچانک پاس پڑے پتھروں کو دیکھ کر ذہن میں ایک خیال کودا جس کے باعث لب مسکرا دیے ۔ چمکتی آنکھوں سے آگے بڑھی اور دو پتھروں کو اٹھا کر آپس میں ٹکراتے ہوۓ آگ جلانے کی سعی شروع کر دی ۔ بمشکل وہ ایک مچھلی کو پکڑ پایا تھا پر مچھلی اتنی بڑی تھی کہ اس سے اچھا خاصہ پیٹ بھر سکتا تھا مچھلی کو پکڑ کر جب وہ ندی سے باہر نکلا تو سامنے کا منظر دیکھ کر بے ساختہ امڈ آنے والی مسکراہٹ کو نہ روک سکا ۔
محترمہ دو پتھروں کو ایک دوسرے کے ساتھ ٹکرا رہی تھیں یعنی آگ جلاٸ جا رہی تھی وہ مسکراہٹ دباتے ہوۓ پاس آیا وہ کچھ سوکھی گھاس اور لکڑیوں کو اکٹھا کیے دو پتھر ہاتھ میں لیے بیٹھی تھی ۔
” بہت مشکل ہے ایسے یہ آپ کے بس کا کام نہیں “
علیدان نے مچھلی کو ایک طرف پتھر پر رکھا اور مسکراہٹ دباتے ہوۓ قریب ہی پیروں کے بل بیٹھا ۔ وہ جو سر جھکاۓ نچلے لب کو دانتوں میں دباۓ آگ جلانے کی بھرپور کوشش میں تھی چونک کر سر اوپر اٹھایا علیدان گیلی پینٹ اور بنا شرٹ کے اس کے سامنے بیٹھا تھا ۔ اذفرین نے فوراً نظریں جھکاٸیں۔
” مجھے کچی مچھلی نہیں کھانی “
نظریں جھکاۓ دھیمی سی آواز میں کہا جبکہ ہاتھ مسلسل آگ جلانے کی سعی میں مصروف تھے ۔
” اچھا تو ایسے آگ جل جاۓ گی کیا؟ “
علیدان نے لبوں پر ہاتھ دھرے مسکراہٹ چھپاٸ اور آبرٶ چڑھاۓ بڑے انداز میں سوال کیا ۔
” جل جاتی ہے فلموں میں دیکھا ہے اور پہلے لوگ ایسے ہی جلایا کرتے تھے “
اذفرین نے معصومیت سے کہتے ہوۓ جیسے اس کی معلومات میں اضافہ کیا ۔ وہ بے ساختہ بھرپور انداز میں مسکرا دیا سر کو زور زور سے اثبات میں ہلایا
” آپ کہہ تو ہینڈرڈ پرسینٹ درست رہی ہیں لیکن محترمہ آپ پتھر غلط استعمال کر رہی ہیں “
علیدان نے گہری سانس لی اس کے ہاتھوں میں پکڑے پتھروں کی طرف اشارہ کیا اور خود ارد گرد پڑے پتھروں پر نظر دوڑاٸ ۔
امممم “
بغور پتھروں پر جانچتی نظر ڈالی اور پھر ہاتھوں کے بل آگے ہوتے ہوۓ دو پتھروں کو چن کر مختلف جگہوں سے اٹھایا جبکہ اذفرین اب پتھروں کو ٹکرانا بند کیے اس کی حرکات نوٹ کر رہی تھی ۔
” پتھر کچھ اسطرح کے ہونے چاہیے سموتھ سے “
علیدان دو ہموار سے چمکتے پتھراٹھاۓ اب ان کو ہاتھ میں گھما رہا تھا پھر ان کو پوری قوت سے ایک دوسرے کے ساتھ مس کرتے ہوۓ ٹکرانا شروع کیا ۔ اذفرین دم سادھے بیٹھی تھی ۔ کوٸ پانچ سے چھ بار یہی عمل دھرانے کے بعد اچانک پتھروں سے ایک چنگہاری سی نمودار ہوٸ علیدان نے برق رفتاری سے پتھروں کو پاس پڑی گھاس کے قریب کیا ۔ گھاس نے فوراً آگ پکڑی۔ دھواں اٹھنے لگا تھا جسے اب علیدان نیچے ہوتے ہوۓ پھونک کی ہوا سے بڑھا رہا تھا ۔
” جل گٸ یہ تو جل گٸ سچ میں “
اذفرین چہکتے ہوۓ اٹھی تھی اس کی خوشی دیدنی تھی خوشی ایسی تھی کہ وہ بے ساختہ پاس بیٹھے علیدان کے گلے میں بازو ڈال کر جھول سی گٸ ۔ وہ جو آگ کو قاٸم رکھنے کے لیے پاس پڑی لکڑیوں کو اٹھا اٹھا کر اس میں ڈال رہا تھا اذفرین کے اچانک یوں بچوں کی طرح گلے میں بازو ڈالنے پر سٹپٹا سا گیا ۔ وہ بلکل بچوں جیسی تھی رونا بھی خالص تو خوشی بھی ایسی ہی تھی وہ خوشی سے سرشار ایسا کر تو چکی تھی پر اگلے ہی لمحے احساس ہوا وہ کر کیا گٸ ہے جھینپ کر جھجکتے ہوۓ پیچھے ہوٸ ۔
علیدان بس مسکرا کر رہ گیا ۔ وہ اب مچھلی کو لکڑی میں پھنساۓ آگ کے اندر پکا رہا تھا ۔ اذفرین اب شرمندہ سی بیٹھی تھی بار بار علیدان سے نظریں چرا رہی تھی۔
کتنی بیقوف ہوں میں کیا سوچے گا کہ میں کیسی لڑکی ہوں ذہن خود کو بری طرح لتاڑانے میں مصروف تھا۔ شرمندگی ایسی تھی کہ گردن اور نظریں اوپر نہیں اٹھ رہی تھی ۔ یہ حرکت وہ دوسری بار دہرا چکی تھی کرتی بھی تو کیا یہاں اس کے سوا کوٸ بھی نہیں تھا وہ کس سے غم اور خوشی بانٹتی ۔
علیدان نے مچھلی سے نظر ہٹا کر چور سی نظر اس پر ڈالی وہ شرمندگی میں گڑی بیٹھی تھی ۔
پاگل ہے بھلا اب اس میں اتنا شرمندہ ہونے کی کیا بات ہے ۔ علیدان نے سر کو مسکراتے ہوۓ جھٹکا ۔
” وہ سامنے سے بڑے بڑے پتے توڑ لاٸیں یہ تو کر سکتی ہیں نا آپ باقی سب کام تو میں نے کر دیے ہیں میڈیم کے لیے “
علیدان نے اس کی شرمندگی کم کرنے کی غرض سے نارمل سا انداز اپنایا ۔وہ گڑبڑا کر فوراً ایسے اٹھی جیسے ایسی ہی کسی بات کے انتظار میں تھی ۔
بڑے سے پتوں پر رکھ کر وہ ایک ساتھ مچھلی کو کھا رہے تھے ۔
” کتنی مزے کی لگ رہی ہے میں نے آج سے پہلے کبھی اتنی ٹیسٹی مچھلی نہیں کھاٸ “
اذفرین نے چہکتے ہوۓ کہا مچھلی اچھی خاصی پک چکی تھی جس کی وجہ سے ٹیسٹ بہت اچھا تھا ۔
” فریش ہے بلکل اور ہم بھوکے ہیں صبح سے اس لیے “
علیدان نے مسکرا کر گوشت کے ٹکڑے کو چباتے ہوۓ کہا ۔ پانی پینے کے بعد وہ ابھی منہ صاف کر رہی تھی جب علیدان شرٹ پہن کر قریب آ کر کھڑا ہوا ۔
” چلیں میڈیم اگر پیٹ پوجا ہو گٸ ہو تو آگے بڑھتے ہیں “
علیدان نے سنجیدگی سے کہا ۔ شام ہونے ہی والی تھی اور وہ پیٹ بھر کر کھا چکی تھی اور اب چلنے کا بلکل دل نہیں تھا ۔
” نہیں آج رات ادھر رک جاتے ہیں آگ بھی جل رہی ہے صبح نکلیں گے “
اذفرین نے التجاٸ انداز میں کہا ۔ علیدان کچھ دیر پرسوچ اندا ز میں اردگرد دیکھتا رہا پھر اثبات میں سر ہلا دیا ۔ اور اذفرین بھرپور انداز میں مسکرا دی ۔
******
” حکومت کے مزاکرات چل رہے ہیں پر یہ بندہ بہت اہم بندہ ہے ان لوگوں کا تو حکومت بھی کچھ اور ہی چکروں میں لگ رہی ہے باتوں پر ہی ٹرخاۓ جا رہی ہے لوگوں کو “
نجف نے پریشان سے لہجے میں کہا پاس بیٹھے سعد کا چہرہ زرد پڑ گیا ۔ ضبط کرتے ہوۓ اوپر آسمان کی طرف دیکھا۔ اذفرین کی معصوم صورت بار بار آنکھوں کے سامنے آ رہی تھی ۔ اگر اسے کچھ ہو گیا میں خود کو کبھی معاف نہیں کر سکوں گا ۔
” آج جو بندے مارے ان کا کچھ پتا چلا کون کون تھے “
فروا نے دھیمے سے لہجے میں نجف سے پوچھا ۔ سعد نے تڑپ کر فروا کی طرف دیکھا اور پھر نجف کی طرف ۔
” نہیں کچھ کچھ بھی نہیں پتا چل رہا ہے “
نجف نے دونوں ہاتھوں کو جوڑے پریشان سے انداز میں ہاتھوں کو منہ پر رکھا ۔
” افف میرے خدا کیسے کیسے پتے چلے ہماری بچی کا “
ماٸدہ بیگم نے دوپٹہ دعا کے انداز میں اوپر اٹھاتے ہوۓ روتی آواز میں کہا ۔
” سعد میرا خیال ہے آپی مہرین کو بتا دیں معملہ بہت سنجیدہ ہے “
فروا نے پریشان سے لہجے میں سعد کے کندھے ہر ہاتھ رکھا جو اب گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: