Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 6

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 6

–**–**–

صبح جب آنکھ کھلی تو ابھی ملگجا سا اندھیرا تھا ۔ اور علیدان بھی درخت سے ٹیک لگاۓ سو رہا تھا ۔ اذفرین نے بغور اسے دیکھا اور تسلی کی کہ وہ سو رہا ہے یا ویسے ہی آنکھیں مونے لیٹا ہے پر وہ بے سدھ گہری نیند میں تھا ۔
یہی اچھا موقع تھا پاس پڑی بوتل کو کندھے سے لٹکایا رسی کو اٹھا کر درخت کے تنے سے باندھا اور لٹک کر نیچے اتری ۔ اسطرح اترنے کا کام اب وہ اتنی بار کر چکی تھی کہ اب خود باآسانی اتر سکتی تھی ۔
بڑے سے درخت کو دیکھ کر اس کی طرف بڑھی درخت کی اٶٹ سے باہر آ کر چور سی نظر علیدان پر ڈالی شکر کا سانس لیتے ہوۓ سینے پر ہاتھ رکھا وہ اٹھا نہیں تھا ۔ ہلکی ہلکی روشنی پھیل گٸ تھی چڑیوں کی چہچانے کی آوازیں تھیں آبشار سے گرتے پانی کی آواز ندی کے اندر موجود بہتے پانی کی آواز اللہ کتنا حسین تھا سب ایک لمحے کو تو وہ سب کچھ بھول چکی تھی کہ وہ یہاں کیوں اور کیسے موجود ہے بس وہ تھی اور یہ خوبصورت قدرتی منظر انسانوں کی پہنچ سے دور صاف شفاف وہ گہرے گہرے سانس لیتے ہوۓ مسکرا رہی تھی
اور پھر بازو ہوا میں کھول کر وہ دھیرے سے گھوم رہی تھی ایسا لگ رہا تھا سارا منظر اس کے ساتھ رقص کر رہا ہو پر اچانک علیدان کی وہاں کی موجودگی کا خیال آتے ہی خجل سی ہوتی ہوٸ رکی وہ تو جیسے آج پرسکون تھا اسی لیے بھرپور نیند لے رہا تھا رسی کا پل کھول دینے کے بعد ان کا اس پار آنا نا ممکن ہو چکا تھا ۔
مسکرا کر گہری نظروں سے آٸرن مین کی طرف دیکھا ۔ سارے لمحے ذہن میں گھوم گۓ میٹھی سی لہر تھی جو دل میں اٹھی تھی لب دھیرے سے مسکرا دیے ۔ کیا سوچ رہی ہوں میں یہ اچانک ذہن کے سوال پر دل کو سنبھالا اور سر پر چپت لگاٸ ۔علیدان سے توجہ ہٹا کر پھر سے ندی کی طرف دیکھا ۔
وہ اٹھا نہیں ہے تو کیوں نا بال بھی دھو لوں اچانک ذہن میں خیال امڈ آنے پر اس نے ہاتھ بالوں میں پھیرا بال مٹی اور گھاس سے اٹے ہوۓ تھے خود سے عجیب سی گھن آٸ اس کے بال اتنے ریشمی تھے کہ کبھی اسے ہاتھ پھیرتے ہوۓ ایسے محسوس نہیں ہوا تھا جیسے آج ہو رہا تھا اور یہی وجہ تھی کہ وہاں سیاہ فام جب اسے گود میں اٹھاۓ ہوۓ تھا اسی وقت بالوں میں سے چھوٹا سا کلپ بالوں سے پھسل کر پتا نہیں کہاں گرا تھا۔
کیسے واش کروں بالوں کو تیراکی بھی تو نہیں آتی ۔ کمر پر ہاتھ رکھے پر سوچ انداز میں اردگرد دیکھا ۔
اور پھر بہتی آبشار پر نظر پڑتے ہی نظر تھم گٸ کچھ پتھر اوپر کو ابھرے ہوۓ تھے جن پر پاٶں رکھتی وہ آبشار کے ایک اطراف میں جا سکتی تھی ۔ اور وہاں کھڑے ہو کر با آسانی بالوں کو دھویا جا سکتا تھا ہمت جتانی ہی تھی جوگرز اتار کر ایک طرف رکھے اور آہستہ آہستہ پتھروں پر پاٶں رکھتی وہ آبشار کی طرف بڑھ رہی تھی پتھر پانی کے لگتار بہنے کی وجہ سے بہت ہی پھسلن زدہ ہو چکے تھے ایک پتھر شاٸد زیادہ پھسلن لیے ہوۓ تھا اذفرین نے جیسے ہی اس پر پاٶں رکھا وہ بری طرح ڈگمگا گٸ بہت کوشش کے باوجود توازن برقرار نہ رکھ سکی اور سیدھی پانی میں جا گری جہاں بہاٶ بھی تیز تھا ندی کے پانی میں گری بھی کچھ اسطرح کہ فوری سنبھل بھی نا سکی اور پانی کے ساتھ بہتی ہی چلی گٸ بڑی مشکل سے وہ ایک نوکیلے سے ابھرے پتھر کو پکڑنے میں کامیاب ہوٸ پر جیسے ہی نیچے نظر پڑی تو خوف سے آنکھیں اور دل پھٹنے کو آیا وہ ندی کے آخری دہانے پر پہنچی ہوٸ تھی جہاں سے ندی کا پانی آبشار کی صورت میں گہری کھاٸ میں گر رہا تھا اور نیچے ایک اور ندی تھی ۔ اور اس کی ٹانگیں اور جسم اب نیچے لٹک رہا تھا صرف ہاتھ ہی اس نوکیلے پتھر کو تھامے ہوۓ تھے ۔
” بچاٸیں پلیز بچاٸیں علیدان۔ن۔ن۔ن “
وہ چیخ رہی تھی بہتا پانی بری طرح آنکھوں اور منہ میں جا رہا تھا۔ ٹانگوں کو زور زور سے ہوا میں مار رہی تھی اور مسلسل علیدان کے نام کو پکار رہی تھی وہ بہتی ہوٸ کافی دور آ چکی تھی ۔ اس لیے آواز دینے میں پوری قوت لگا رہی تھی پر گرتے پانی کے شور میں آواز دب رہی تھی ۔
” علیدان کہاں ہے علیدان علیدان “
ہاتھ کی گرفت کم ہوتی جا رہی تھی اوہ میرے خدا وہ سو رہا ہے نہیں اٹھے گا ۔ دونوں ہاتھوں سے پتھر کو تھام کر اوپر ہونے کی کوشش کی ۔ پر پانی کا بہاٶ ایسا کرنا ناکام بنا رہا تھا۔ دل خوف سے کانپ رہا تھا لرزتے دل سے جھک کر ایک دفعہ پھر سے نیچے دیکھا اور پھر اور قوت سے چیخی اتنی ہولناک چیخ تھی کچھ دور پتھر پر بیٹھا عجیب سا پرندہ ڈر کر اڑا تھا ۔ اب نہیں بچ سکوں گی ۔ رونے جیسی صورت بنا کر آسمان کی طرف دیکھا بازو اب جواب دیتے جا رہے تھے اور ہاتھوں کی گرفت بس چھوٹنے ہی والی تھی ۔
جب اٹھا تو وہ کہیں نہیں تھی عجیب سا احساس ہوا رسی کو درخت سے بندھا دیکھا کر یہ اندازہ تو لگا چکا تھا کہ وہ خود اتر کر گٸ ہے کہیں پر وہ اتنی دور کیسے جا سکتی ہے ڈرپوک سی تو ہے ۔ پاگلوں کی طرح آوازیں دیتا وہ اسے اردگرد تلاش کر رہا تھا پر وہ کہیں نہیں تھی کہاں جا سکتی ہے کوٸ جنگلی جانور تو نہیں اٹھا کر لے گیا ذہن میں وسوسے جنم لینے لگے تھے ۔ عجیب طریقے سے دل پریشان ہوا تھا گو کہ وہ اس کی کچھ نہیں لگتی ساتھ بھی بس دو دن کا تھا پر اس وقت ایسا لگ رہا تھا وہ سب کچھ تھی اس کا تڑپ کر اسے پھر سے آوازیں دی پر کہیں سے کوٸ آواز نہیں آٸ ۔ پریشانی سے دونوں ہاتھوں سے سر کو تھاما اچانک نظر اس کے جوگرز پر پڑی جو ندی کے پاس اتارے ہوۓ تھے پھر تو وہ پاگلوں کی طرح ندی کی طرف بھاگا تھا ۔
” اذفرین اذفرین “
علیدان کی آواز کانوں میں پڑتے ہی جیسے جینے کی آس ملی تھی ۔ تڑپ کر ٹانگوں کو ہوا میں چلایا اور پتھر پر ہاتھوں کی گرفت مضبوط کی ۔
” علیدان مجھے بچا لیں میں گر رہی ہوں نیچے کھاٸ میں “
پوری قوت سے چیختے ہوۓ پکارا ۔ اور پھر بار بار اس کا نام لیا ۔ وہ تیرتا ہوا وہاں پہنچا تھا اور اب پتھر کو تھام کر اس کی طرف ہاتھ بڑھا رہا تھا ۔
” مضبوطی سے پکڑ کر رکھیں دوسرے ہاتھ سے پتھر کو ایک ہاتھ مجھے دیں “
وہ حواس باختہ سا لگ رہا تھا ۔اذفرین نے ایک ہاتھ سے پتھر پر گرفت مضبوط کی اور دوسرا ہاتھ علیدان کی طرف بڑھایا۔
علیدان نے زور لگا کر اسے اپنی طرف کھینچا اس کے جبڑے پوری قوت سے ایک دوسرے میں پیوست تھے اور دماغ اور بازو کی رگیں باہر کو ابھر رہی تھیں کیونکہ اس وقت وہ نہ صرف اذفرین کو اوپر کھینچ رہا تھا بلکہ اپنے پیروں کو بھی پتھر سے اڑا کر پانی کے بہاٶ میں بہنے سے روکے ہوۓ تھا اذفرین کے اوپر آتے ہی وہ اسے بغل میں لیے پانی کے بہاٶ کی مخالف سمت میں تیر رہا تھا اور اس میں بھی پوری طاقت لگانی پڑ رہی تھی جس کے باعث چہرہ سرخ ہو گیا تھا جبکہ وہ تو نیم بے ہوش سی لگ رہی تھی ۔ ندی سے باہر لا کر اسے کنارے پر لیٹایا ۔اور خود گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے پیٹ کو دونوں ہاتھوں کی مدد سے ہلکا ہلکا دبایا ۔ سانس پھولی ہوٸ تھی ۔ وہ ہوش میں نہیں آ رہی تھی جھجکتے ہوۓ اس کے چہرے پر جھکا اور ہاتھ کی مدد سے اس کے لبوں کو کھولتے ہوۓ اس کے سانسوں کو پاٸپ سے پانی کھینچنے کی مترادف اوپر کو کھینچا
وہ تھوڑا سا اوپر اٹھی اور کھانسی کے ساتھ ہی منہ سے پانی نکلا ۔ اور تیز سانس بھی ۔ علیدان جلدی سے سیدھا ہوا اذفرین کی آنکھیں کھلی تو وہ پانی میں نچڑتا اس کے اوپر جھکا تھا ۔
سارا منظر پھر سے آنکھوں میں گھوم گیا اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے تھے ۔ اور پھر وہ باقاعدہ رونا شروع ہو چکی تھی ۔ وہ جو اس کے ہوش پر آ جانے پر سکھ کا سانس لے رہا تھا اب اس کے ٹسوے بہانے پر جیسے ذہن پھٹنے لگا تھا پاگل لڑکی اگر میں کچھ دیر اور نہ پہنچ پاتا ایک دم سے اسے سامنے لیٹی لڑکی پر بری طرح غصہ آیا ۔
” چپ بلکل چپ اکیلی وہاں پہنچی کیسے تم ؟“
علیدان نے غراتے ہوۓ کہا پیشانی پر بے تحاشہ شکن تھے اور آنکھوں میں غصہ ۔ علیدان اچانک اتنے غصے سے گرجا کہ وہ رونا بھول کر اب حیران ہوتی اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” کچھ اندازہ بھی ہے میں کتنا پریشان ہو رہا تھا وہاں کب سے تلاش کر رہا تھا اور اگر کچھ دیر اور نہ آتا میں یہاں تو اندازہ بھی ہے کہاں ہوتی تم “
علیدان آپے سے باہر ہو چکا تھا اور اب تو وہ اتنے غصے میں تھا کہ آپ کو بھول کر اسے تم تم کہہ رہا تھا اور وہ دم سادھے اس کو دیکھ رہی تھی ۔ آہستہ سے اٹھ کر بیٹھی ٹانگوں کو سمیٹ کر گھٹنوں پر سر رکھا ۔ میں کونسا جان بوجھ کر گری تھی سہم کر غصے سے بھرے علیدان کی طرف دیکھا جسکا چہرہ سرخ ہو رہا تھا اور پیشانی پر بل پڑے تھے ۔ بالوں شرٹ اور پینٹ سے پانی نچڑ رہا تھا ۔
” تم ۔۔۔۔تم اگر ساتھ نہ ہوتی کب سے نکل بھی گیا ہوتا میں یہاں سے تمھاری وجہ سے پھنسا ہوا ہوں کبھی تم تھک جاتی ہو کبھی تمہیں پکا کر کھانا ہوتا کبھی کچھ کبھی کچھ عزاب میں پھنس گیا ہوں “
وہ انگلی کا اشارہ اس کے سر کی طرف کرتے ہوۓ طیش میں بولے جا رہا تھا اور شاٸد آج سارا غبارا نکال رہا تھا پچھلے دو دن کا ۔
اتنی مصیبت سمجھ رہا ہے یہ مجھے اور میں اسے یہاں اپنا سب کچھ سمجھ رہی ہوں دل عجیب سی گھٹن کا شکار ہوا۔
” آدھے گھنٹے سے تلاش کر رہا ہوں تمہیں پاگل سمجھ رکھا ہے بہت عقل مند سمجھتی ہو خود کو کیوں اکیلی یہاں تک آٸ “
علیدان کا غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔ وہ چیخ رہا تھا اس کے سر پر کھڑا ۔ خود تو مرد ذات ہے دھڑلے سے میرے سامنے شرٹ کھول کر نہا لیتا ہے جو دل میں آتا ہے کرتا ہے میں لڑکی ہوں کیا اتنی سی بات اس کے ذہن میں نہیں آ رہی میرے خود کے ذاتی مسٸلے نہیں ہو سکتے کیا ۔ اذفرین نے دانت پیستے ہوۓ سوچا ۔ اور اس کا یوں ڈانٹے جانا اب برداشت سے باہر ہو چلا تھا ایسا بھی کیا کر دیا تھا
ایک دم جھٹکے سے کھڑی ہوٸ پیشانی پر شکن اب علیدان سے بھی گہرے تھے ۔
” مجھے واش روم جانا تھا اس لیے نہیں بتایا نہیں اٹھایا آپکو “
اذفرین نے اونچی آواز میں چیخ کر کہا جس بات کو وہ اس پر ظاہر بھی نہیں کرنا چاہتی تھی اب چیخ کر علان کر رہی تھی اس کے سامنے وہ جو کچھ اور ڈانٹنے کے لیے بولنے ہی والا تھا ایک دم سے چپ ہوا ۔
” میں کوٸ خود کو عقل مند نہیں سمجھتی اور آپ کو نہیں کہا تھا میں نے مجھے بچاٸیں آپ خود کودے تھے جب وہ بھیڑیے مجھے اٹھا کر لے جا رہے تھے “
اب غصہ نکلانے کی باری اس کی تھی دانت پیستے ہوۓ وہ علیدان سے بھی اونچا چیخ رہی تھی ۔ علیدان اب بس گھور ہی رہا تھا پر وہ تو جیسے پھٹ پڑی تھی ۔
” اگر اتنا ہی بوجھ ہوں تو کیوں لیے لیے گھوم رہیں ہیں جاٸیں آپ اکیلے جو ہونا ہوا میرے ساتھ ہو جاۓ گا موت آنی ہے نہ ایک دن تو یہیں سہی ویسے بھی میرے غم میں مبتلا ہونے کے لیے میرا کوٸ نہیں اس دنیا میں “
اذفرین نے آنسوٶں کے زیر اثر بھاری ہوتی آواز میں کہا غصے سے ہاتھ کی پشت سے گال رگڑے اور ایک طرف چل دی ۔جبکہ وہ وہیں کھڑا تھا ۔ بالوں کو ہاتھ سے پیچھے کیا لب بھینچے اس کی طرف دیکھا جو اب پیر پٹختی ایک طرف جا کر اپنی شرٹ کو اور پینٹ کو ہاتھوں کی مدد سے نچوڑ رہی تھی ۔
سمجھتی کیا ہے خود کو اتنی مدد کی اور اگر تھوڑا سا ڈانٹ دیا تو چار سنا دی مجھے احسان فراموش کہیں کی علیدان نے جھٹکے سے شرٹ اتاری اور ہاتھوں سے نچوڑ کر ایک طرف درخت پر ڈال دی ۔ کن اکھیوں سے ناک پھلا کر اذفرین کی طرف دیکھا ۔ دماغ دیکھو میڈیم کا اور میں ہلکان ہوا جا رہا تھا اس کے لیے ۔ سر کو طنزیہ انداز میں ہوا میں مارا
وہ اب پتھروں پر ایک طرف منہ بسورے بیٹھی تھی جبکہ علیدان نے چار مچھلیاں پکڑ کر آگ میں پکاٸیں اور پھر انہیں بڑے بڑے پتوں میں رکھ کر ٹہنیوں کی مدد سے باندھ لیا ۔ جن پتھروں سے آگ جلاٸ تھی انہیں بھی پانی کی بوتل کے سامنے والی جیب میں رکھا تینوں گنز کو اٹھایا اور ساری چیزیں سمیٹ کر کندھے سے لٹکا کر وہ اب اذفرین کے پاس آیا تھا۔ جو منہ پھلاۓ سامنے ندی میں پاس پڑے چھوٹے چھوٹے پتھر اٹھا اٹھا کر پھینک رہی تھی ۔ نظریں سامنے کسی غیر مرٸ نقطے پر جما رکھیں تھیں ۔ بال اب سوکھ کر چمک رہے تھے اور ہوا سے اڑ اڑ کر ریشم کے دھاگوں کی طرح اس کے گداز گالوں سے ٹکرا رہے تھے چہرہ نکھرا سا دمک رہا تھا پر آنکھیں سوجی ہوٸ تھیں شاٸد پانی کے لگاتار ان پر پڑنے اور رونے کی وجہ سے وہ روٹھے سے انداز میں بیٹھی اب اس سے بری طرح بے نیازی برت رہی تھی ۔ اس کی ساری باتیں بار بار ذہن کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھیں ۔ کتنا دکھ ہوا تھا دل کو یہ سب سن کر کہ وہ پچھتا رہا تھا اس کو بچا کر اور اب اس سے تنگ بھی آ چکا تھا ۔
” چلو “
علیدان نے روکھے سے لہجے میں کہا چہرہ سپاٹ تھا ۔ اذفرین ایسے بیٹھی تھی جیسے کچھ سنا نہیں بس پتھر اٹھا اٹھا کر ندی میں پھینک رہی تھی ۔
علیدان نے بغور دیکھا اب ایسا بھی کیا کہہ دیا میں نے ڈر گیا تھا اسے کچھ ہو نہ گیا ہو اب دل کی اس عجیب سی بات کو تو اس پر آشکار نہیں کر سکتا کہ وہ کتنا گھبرا گیا تھا آبرٶ چڑھا کر اس کے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور پھر گہری سانس خارج کی ۔
” چلو اب زیادہ نخرے مت کرو “
اذفرین کا ہاتھ پکڑ کر اس کو زبردستی اٹھانے کی سعی کی ۔ اب کی بار لہجہ نرم تھا۔
” ہاتھ چھوڑیں میرا میں خود چلی جاٶں گی یہاں سے آگے کوٸ احسان نہیں چایے آپ کا ۔“
اذفرین نے اس کے ہاتھ کو زور سے جھٹکا اور چہرے کا رخ موڑ لیا ۔ کیا سمجھتا ہے جب چاہا بری طرح انسلٹ کر دی اور اب آ کر حق کس بات کا جتا رہا ہے اذفرین کے دل کو جیسے کسی نے مٹھی میں لیا کیا سمجھتا ہے اکیلی ہوں کمزور ہوں تو اس فولاد کی محتاج ہوں اللہ ہے میرے ساتھ تھوک نگل کر آنسوٶں کے گلے میں اٹکے گولے کو نگلا
علیدان نے گھور کر دیکھا اب یہ نخرے کس بات کے ہیں پیشانی پر بل ڈالے اور پھر غصے سے آگے چل پڑا ۔
کچھ دیر علیدان کی پشت کو گھورتے رہنے کے بعد منہ بسور کر اٹھی کچھ دیر انتظار کیا کہ وہ رکے گا پیچھے مڑ کر دیکھا پر اس نے تو ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا دل میں عجیب سا خوف آیا اور اس کے پیچھے چل دی۔ وہ تو تیز تیز چلنا شروع ہو چکا تھا۔ اذفرین نے بھی تیز تیز قدم اٹھاۓ اور اس کے ساتھ قدم ملاۓ انداز خفا سا تھا ۔ حالت دوسری طرف بھی کچھ ایسی ہی تھی ۔
*********
” اوز “
ادیان نے دروازے کھولتے ہی ایک ہاتھ سوٸچ بورڈ پر رکھا اور خفیف سی آواز میں اوز گل کو پکارا۔ لاٸٹ کے جلتے ہی کمرہ روشنی میں نہا گیا اوزگل سامنے بیڈ پر نیم دراز تھی ادیان کو دیکھ کر جلدی سے آنکھوں کے بھیگے کونوں کو ہاتھ کی پشت سے رگڑ ڈالا ۔ وہ چت لیٹی تھی اور آنکھیں چھت پر غیر مرٸ نقطے پر جمی تھیں ۔
ادیان چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا اب بیڈ کے بلکل پاس آ چکا تھا ۔ گہری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا رو رو کر آنکھیں سوزش لیے ہوۓ تھیں چہرہ زرد ہو رہا تھا ۔ بھاٸ سے اتنی محبت کرتی ہے یہ دل میں ٹیس اٹھی ۔
کتنا دردناک لمحہ تھا وہ اپنی چاہت اپنی محبت کو کسی اور کے لیے یوں بے حال ہوتے ہوۓ دیکھ رہا تھا اور وہ کوٸ اور اس کا اپنا سکا بھاٸ تھا جس سے وہ خود بھی بے انتہا محبت کرتا تھا ۔
” اوز اٹھو نیچے چلو کھانا کھاٶ “
ملاٸم سے لہجے میں کہتا تھوڑا سا اس پر جھکا۔اوز گل ویسے ہی ساکن سی گم سم سی لیٹی تھی ۔ کچھ دیر دونوں نفوس کے درمیان یونہی خاموشی رہی ۔
” مجھے بھوک نہیں ہے “
اوزگل کی آہستہ سی آواز نے خاموشی کو ختم کیا ۔ ادیان نے کمر پر ہاتھ رکھے کچھ دیر پرسوچ انداز میں اسے دیکھا اور پھر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھا ۔ کمر کا رخ تھوڑا سا موڑ کر چہرہ اس کی طرف گھمایا جو مسلسل چھت کو گھور رہی تھی ۔
” دیکھو ہم سب پہلے سے ہی بہت پریشان ہیں تمہیں دیکھ کر اور ہو رہے ہیں “
ادیان نے نرمی سے سمجھایا ۔ وہ کل سے کچھ نہیں کھا رہی تھی یوں ہی کمرے میں بند تھی درخشاں بیگم نے آج ادیان سے گزارش کی کہ وہ صرف تمھاری بات مانتی ہے اسے آ کر سنبھالو اور اس کی اسطرح کی حالت سن کر وہ اس سے دوری برتنے کے سارے ارادے بالاۓ طاق رکھے اس کے پاس بیٹھا تھا ۔
”مجھے نہیں ہے بھوک اور تم جاٶ یہاں سے پلیز “
اوز گل نے خفگی سے کہا اور کروٹ لیتے ہوۓ بازو کو آنکھوں پر دھر لیا انداز اس سے بھی خفگی برتنے والا تھا وجہ شاٸد اس رات کی ڈانٹ تھی ۔
” نہیں میں نہیں جاٶں گا اٹھو چچی کا خیال کرو کچھ بہت پریشان ہیں وہ “
ادیان نے اس کے بازو کو آنکھوں پر سے ہٹایا اور تھوڑی سختی برتی ۔ سختی کرنے کا اتنا ااثر ہوا تھا کہ وہ اٹھ کر بیٹھ چکی تھی۔ ادیان کی طرف دیکھا وہ بھی کم پریشان نہیں تھا علیدان سے وہ بھی بے پناہ محبت کرتا تھا ۔
” ادی۔۔۔۔ “
اوز گل نے آہستگی سے ادیان کو پکارا جبکہ نظریں ہاتھوں پر جمی تھیں وہ اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو دیکھ رہی تھی ۔
” ہاں بولو ؟ “
ادیان نے دل کی حالت کو سنبھالا جو اس کے یوں بے حال ہونے پر خود بے حال ہوا جا رہا تھا۔ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوۓ بھی دل اس کے لیے ہمک رہا تھا ۔ جب سے ہوش سنبھالہ تھا تب سے اسے چاہا تھا اور کچی عمر کی محبت کی جڑیں تو روح تک رساٸ پا چکی ہوتی ہیں ان کو اکھیڑنے میں صدیاں بیت جاتی ہیں یہاں تو ابھی دو ہفتے ہی گزرے تھے ۔
” علی ٹھیک ہو گا نہ ؟ “
اوزگل نے آنسوٶں کو ضبط کرتی ہوٸ گھٹی سی آواز میں پوچھا وہ بچپن سے ہی علیدان کو علی اور اسے ادی کہتی تھی ۔
” کچھ نہیں ہو گا بھاٸ کو بہت جلد وہ ہم سب کے ساتھ ہوں گے ان شا اللہ دیکھنا تم “
ادیان نے تسلی آمیز لہجے میں کہا اور اس کے چہرے کو تھورڈی سے پکڑتے ہوۓ اوپر کیا اس کی نظروں کا تصادم ہوتے ہی دل کی حالت پر قابو پاتے ہوۓ مسکرا کر دیکھا ۔
” اگر انہیں کچھ ہوا تو میں میں کیا کروں گی ؟ “
لب رونے کے انداز میں باہر نکالے نم آنکھوں سے وہ سوال کر رہی تھی اس سے جسے اس کی آنکھ میں ایک آنسو بھی ازیت میں مبتلہ کر دیتا تھا اور اب تو وہ کل سے تکیہ بھگو رہی تھی۔
” اوز اللہ نہ کرے ایسا کچھ بھی ہو “
تڑپ کر اس کی بات کی نفی کی اور سر کو بھی نفی میں ہلایا ۔ وہ پھر سےرو رہی تھی ۔ اور روتے روتے سر ادیان کے کندھے پر ٹکا دیا۔ اس کی آنکھوں سے نکلتا گرم گرم سیال کندھے کو بھگو رہا تھا ۔
” دیکھو چچی ٹھیک نہیں رہتی اور تمھاری وجہ سے اور پریشان ہو رہی ہیں پلیز ان کا کچھ خیال کرو اٹھو شاباش “
ادیان تڑپ کر اس سے دور ہوا اور کھڑے ہوتے ہوۓ کہا۔ وہ تو اسے دوست مانتی تھی بہت اچھا دوست اس کے دل میں چھپی محبت سے یکسر بے خبر ۔
” ہممم تم چلو میں آ رہی ہوں نیچے “
اوزگل نے آنسو صاف کیے اور آہستگی سے کہتی ہوٸ بیڈ سے نیچے اتری ۔ ادیان نے چہرے پر موجود کرب کو چھپایا اور مسکرا دیا ۔
” گڈ گرل نیچے ویٹ کر رہا ہوں تمھارا “
ادیان نے اس کے گال کو تھپکا اور پھر داخلی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔
***********
” بھوک نہیں ہے مجھے “
اذفرین نے خفگی سے کہتے ہوۓ چہرے کے رخ کو موڑ لیا وہ مسلسل دو گھنٹے چلے تھے اور اب ایک درخت کے سایہ میں بیٹھے تھے دوپہر میں گرمی اور حبس کے بڑھنے کی وجہ سے اب چلنا دشوار ہو گیا تھا اور آج پچھلے دو دن کی نسبت حبس اور گھٹن زیادہ تھی ۔
علیدان نے پتوں میں پیک شدہ مچھلی نکال کر اس کی طرف بڑھاٸ ۔ اتنی گرمی میں وہ مسلسل دو دن سے مچھلی کھا رہے تھے اور اب تو دل بھی اکتانے لگا تھا ۔ اور علیدان سے تو وہ اب بات تک نہیں کرنا چاہتی تھی۔
” نہیں کھانی ٹھیک ہے مرضی آپکی “
علیدان نے کندھے اچکاۓ اور خود بے نیازی سے کھانے میں مصروف ہوا اذفرین نے گھور کر دیکھا کتنا کٹھور تھا وہ بھوک تو اسے بھی لگی تھی دو گھنٹے چلنا آسان نہیں تھا اور اس کے بعد کچھ کھانے کو ملے گا کہ نہیں اس کی بھی کوٸ ضمانت نہیں تھی اسی لیے اکڑ کو بالاۓ طاق رکھا اور پاس پڑی مچھلی کو اٹھا کر کھانے لگی ۔ علیدان نے کن اکھیوں سے دیکھا اور پھر سنجیدگی سے کھانے میں مگن ہوا ۔ نخرے کسے دککھا رہی ہے مجھے جس نے آج تک کسی کے نخرے نہیں برداشت کیے علیدان نے ناک پھلایا
” سنیں کچھ پتا بھی ہے کہاں جا رہے ہیں کب ختم ہو گا یہ سب میں تنگ آ گٸ ہوں اس سب سے تھک گٸ ہوں مجھے گھر جانا ہے اپنے “
گھٹی سی آواز میں کہتے آنسوٶں کے بے اختیار امڈ آنے پر قابو پاتے ہوۓ علیدان کی طرف دیکھا انداز ایسا تھا جیسے سارا قصور علیدان کا ہو
علیدان پانی کی بوتل کو منہ سے لگاۓ پانی پینے میں مصروف تھا ۔ بوتل کو ہٹا کر ڈھکن لگایا بھنویں سکیڑ کر اسے گھورا ۔
” تو میں کیا کروں تمھارے سامنے ہے سب کچھ میرے ہاتھ میں کیا ہے اور میں کوٸ ٹارزن تھوڑی نہ ہوں چل رہے ہیں ایک سیدھ میں کہیں تو پہنچیں گے “
علیدان کا لہجہ بہت روکھاٸ لیے ہوۓ تھا اذفرین نے معصوم سی صورت بناۓ اُسے دیکھا وہ کتنا سخت دل تھا کوٸ احساس نہیں تھا ۔ کتنا غلط سوچتی رہی اس کے بارے میں کہ وہ اتنا خیال کرتا ہے اس کا ۔
وہ انہی سوچوں میں گم چپ چاپ بیٹھی تھی جب یکایک بادل گرجے اور موسلا دھار بارش شروع ہوٸ ۔ بارش کی رفتار اتنی تیز تھی کہ جس درخت کے نیچے وہ بیٹھے تھے دفعتاً پانی جمع ہونے لگا تھا ۔
” افف یہ بارش کہاں سے ہونے لگی “
علیدان تیزی سے اٹھا اور درخت کے تنے کی طرف دیکھا ۔ پھر اذفرین کی طرف دیکھا وہ بھی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوٸ تھی ۔
” رکو یہاں آٶ “
اذفرین کو اشارہ کیا وہ تیزی سے پاس آٸ اس کے پاس آتے ہی اسے کمر سے پکڑکر اوپر چڑھایا اور پھر خود بھی سارا سامان سمیٹ کر اوپر چڑھا۔ بارش اتنی تیز تھی کہ درخت گھنے ہونے کے باوجود وہ بھیگ رہے تھے ۔
بارش تھی کہ رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی بادل اتنے زیادہ گہرے تھے کے دوپہر میں بھی اندھیرا ہو گیا تھا اتنے دن سے جو حبس نما گرمی تھی اس کا زور ٹوٹا تھا شاٸد بارش کے ساتھ طوفانی ہوا چل رہی تھی ۔ اذفرین نے ٹانگیں سمیٹ کے چہرے کو اس پر ٹکایا اور تنے سے ٹیک لگاٸ ۔ اچانک وہ تڑپ کر اپنی جگہ سے آگے ہوٸ درد ناک سی چیخ گلے سے نمودار ہوٸ ۔
” کیا ہوا آپکو ؟ “
علیدان نے جلدی سے ٹارچ جلاٸ جو ہاتھ میں ہی لیے بیٹھا تھا ۔ اس کی چیخ دل دہلا دینے والی تھی ۔
” کسی چیز نے کاٹا ہے مجھے “
وہ کندھے کو مسلتے ہوۓ آگے ہوٸ چہرے پر تکلیف کے آثار تھے ۔ وہ جو آگے ہوٸ اور گردن کا رخ موڑ کر پیچھے دیکھا جہاں پر اُسی وقت علیدان ٹارچ لاٸٹ کی روشنی ڈالے ہوۓ تھا اور ساکن بیٹھا تھا سبز رنگ کا پتلا سا پر بے انتہا لمبا سانپ درخت کے تنے سے لپٹا آدھا جسم ہوا میں کیے لہرا رہا تھا ۔
” سانپ سانپ تھا علیدان وہاں مجھے سانپ نے کاٹ لیا ہے “
اذفرین نے گھٹی سی آواز میں لڑکھڑاتے سے لہجے میں کہا اس کی آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھلی تھیں جبکہ علیدان نے برق رفتاری سے پاس پڑی بندوق اٹھا کر سانپ کا نشانہ داغا سانپ پھٹنے جیسی صورت میں فاٸر سے نیچے گرا درخت کے تنے پر دور دور اس کے خون کے نشان اور ٹکڑے گرے علیدان اب تیزی سے اذفرین کے پاس کھسکا جو اپنی شرٹ کو کندھے سے پیچھے کیے سانپ کے کاٹنے کی جگہ دیکھ رہی تھی سانپ نے بلکل کندھے کے اوپر ڈسا تھا وہاں سرخ رنگ کے دو دھبے نمودار تھے اذفرین کا چہرہ ایک دم سے زرد پڑا اس کا شرٹ کو پکڑا ہاتھ ڈھیلا ہوا اور اس سے پہلے کے وہ درخت سے نیچے گرتی علیدان اسے باہوں میں تھام چکا تھا ۔
” لسن لسن ریلیکس اذفرین کچھ نہیں ہو گا “
اذفرین کا سر گود میں رکھے اس کے گال تھپتھپاۓ پر وہ تو ہوش میں نہیں تھی ۔ علیدان نے پریشان صورت بناۓ بندوق کو ایک طرف رکھا
” اذفرین اذفرین “
زور زور سے اس کے گال کو تھپکا ۔
********
” سمجھ نہیں آ رہی حکومت مان کیوں نہیں رہی ان کے مطالبات “
میر دلاور نے کمرے میں چکر لگاتے ہوۓ پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ پھیرا ۔ ان کی آج رات کی فلاٸٹ تھی اور اس وقت پاکستان کے ایک مایا ناز لیڈر کے آفس میں موجود تھے ۔
” کچھ لوگ تو کہہ رہے ہیں سونگوانگ فوج کے ہاتھوں ہلاک ہو گیا ہے اب اگر یہ بات ان لوگوں کو بتاتے ہیں تو وہ ایک ہی دفعہ میں باقی سب لوگوں کو مار دیں گے “
سامنے بیٹھے شخص نے افسوس بھرے لہجے میں کہا جس پر میر دلاور نے تڑپ کر دیکھا ۔ دھواں سا آنکھوں اور دل میں بھرنے لگا تھا ۔
” اسی لیے آسٹریلیا کی حکومت آپریشن کا سوچ رہی ہے ٹریس آٶٹ تو کر لیا ہے کہ کس جگہ ان کو یرغمال بنا کر رکھا گیا ہے “
سفدر عزیز نے گہری سانس لی اور کرسی کی پشت سے سر ٹکایا ۔ میر دلاور ڈھنے کے سے انداز میں پاس پڑی کرسی پر بیٹھے ۔ ٹانگوں سے جان نکل رہی تھی جوان اولاد کی محبت کیا چیز ہوتی ہے آج سمجھ آ رہی تھی ۔
” بس اللہ سے دعا کریں دلاور صاحب “
سفدر نے دھیمے سے لہجے میں تسلی دی ۔ اور پاس پڑے فون کو اٹھا کر کان سے لگایا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: