Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 7

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 7

–**–**–

بار بار اس کے گال تھپکنے پر بھی وہ ہوش میں نہیں آ رہی تھی علیدان نے تیزی سے درخت سے نیچے لٹکتی لمبی لمبی رسی نما شاخیں کھینچیں اور سانپ کے ڈسنے کی جگہ سے آگے اور پیچے باندھ دیا ایک رسی کو کندھے اور جوڑ پر اور دوسری کو بلکل نیچے بازو پر باندھا دونوں طرف سے زہریلے خون کے بہاٶ کو روکنا تھا سانپ نے بلکل کندھے پر ڈسا تھا اس کی شرٹ کو کندھے سے ہٹا کر زخم پر ہونٹ رکھ کر دانتوں کی مدد سے جلد کو اوپر اٹھاتے ہوۓ زخم پر سے خون کو چوسنا شروع کیا وہ بار بار خون کو سک کرنے کے بعد نیچے پھینک رہا تھا ۔ کافی دیر یہی عمل دہرانے کے بعد اس نے تھک کر اذفرین کو تنے پر سیدھا لیٹا دیا ۔ اور خود پاس پڑی بوتل سے پانی کے ساتھ کلی کی پر دل اس بری طرح خراب ہوا تھا کہ وہ سینےکو مسلتا ہوا جلدی سے درخت سے نیچے اترا بارش اب قدرے کم ہو چکی تھی کچھ دوری پر جا کر اس نے بری طرح قے کی تھی اور یہ قے اس وقت فاٸدہ مند ثابت ہوٸ تھی ۔ طبیعت کچھ بہتر محسوس ہونے پر وہ پھر سے بے سدھ پڑی اذفرین کے پاس آیا ۔
” اذفرین پلیز اٹھو اذفرین “
آہستگی سے اس کے گال تھپتھپاۓ پر وہ بے سدھ تھی پل بھر میں سفید چہرہ زردی ماٸل ہو گیا تھا سیاہ گھنی مڑی پلکیں بھیگی ہوٸ تھیں ۔ کیا ہو گیا ہے اس کو اٹھ کیوں نہیں رہی ۔پریشانی سے دل بیٹھا جا رہا تھا سانپ کی کونسی قسم تھی نہیں جانتا تھا کچھ سانپ تو اتنے زہریلے ہوتے ہیں کہ فوراً انسان جان کی بازی ہار جاتا ہے ۔ دل میں ابھرتے خیال سے بےچین ہو کر اذفرین کے بے جان سے وجود کی طرف دیکھا ۔
وہ بار بار کبھی اس کی نبض چیک کر رہا تھا اور کبھی ناک کے نتھنوں کے پاس ہاتھ لا کر اس کی سانس محسوس کر رہا تھا وہ بےہوش تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے اگر اُس کو کچھ ہو گیا تو سب کچھ ختم ہو جاۓ گا ۔ کبھی اس کا پریشان سا چہرہ آنکھوں میں لہرا رہا تھا اور کبھی آگ کے عکس کو آنکھوں میں سموۓ وہ چہکتی ہوٸ اس کے گلے میں جھولتی نظر آ رہی تھی ۔ انہیں سوچوں میں گم اذفرین کا سر اپنے گھٹنے پر رکھے کب شام سے رات ہوٸ اور وہ درخت کے تنے سے سر ٹکاۓ کس وقت سویا خبر نہیں ہوٸ
” امی مجھے مت چھوڑ کر جاٸیں پلیز امی واپس آ جاٸیں “
خفیف سی سرگوشی نما آواز تھی جو کان میں پڑتے اس کی آنکھ کھلی اذفرین کے ہونٹ دھیرے دھیرے ہل رہے تھے وہ سسک بھی رہی تھی نیم بے ہوشی کے حالت میں بڑبڑا رہی تھی ۔ علیدان خوشی سے دفعتاً سیدھا ہوا ۔
” اذفرین آنکھیں کھولو تم ٹھیک ہو نا ؟“
آہستگی سے اسے پکارتے ہوۓ اس کے چہرے پر جھکا وہ آنکھیں موندے لیٹی بڑبڑا رہی تھی اس کے گال تھپتھپانے کی غرض سے ہاتھ رکھا تو اُس کا جسم تپ رہا تھا اٰسے بہت تیز بخار تھا چہرہ رات سے بھی زیادہ زردی ماٸل تھا ۔ جلدی سے اُس کی شرٹ کو کندھے سے ہٹاتے ہوۓ زخم دیکھا وہاں سے جگہ گہرے نیلے رنگ کی ہو رہی تھی ۔
رات جو نشان سرخ رنگ کے تھے اب سیاہ ہو رہے تھے اور ان کے گرد علیدان کے دانتوں کا داٸرہ بنا ہوا تھا جلدی سے اس کی گردن اور بازو کو دیکھا پر وہاں کی جلد کا رنگ ٹھیک تھا مطلب کل فوری اسے باندھ دینے کی وجہ سے زہر آگے اور پیچھے جسم میں نہیں گیا تھا۔
اپنی شرٹ کو اتار کر پاس پڑی پانی کی بوتل سے پانی لے کر گیلا کیا اور نچوڑ کر فولڈ کیا پھر اس کے سر پر رکھا اب یہ عمل وہ بار بار دھرا رہا تھا لیکن ابھی یہ سب کافی نہیں تھا ۔ اس کے زخم سے مزید خون بہنا ضروری تھا ۔ جس کے لیے زخم کو گہرا کرنا تھا ۔ اب زخم گہرا کرنے کے لیے کسی نوکیلی چیز کی ضرورت تھی ۔
نچلے لب کو دانت میں دباۓ پیشانی پر دھیرے سے ہاتھ پھیرتے ہوۓ بغور پاس پڑی ہر چیز کو دیکھا کیا کروں اچانک کہاں سے ایسی کوٸ چیز لاٶں لکڑی نہیں نہیں اس کا ذرہ جلد میں رہ سکتا ہے ذہن میں آتے خیال پر بے ساختہ گردن کو نفی میں ہلایا
ارد گرد نظر کو پھر سے گھمایا نظر پاس پڑی گن پر رکی تھی پرسوچ انداز میں آنکھوں کو سکوڑے گن کو غور سے دیکھا ایک گن کو اگر توڑ دوں تو شاٸد کچھ ایسی نوکیلی چیز مل جاۓ اسی خیال کے زیر اثر وہ لپک کر گن لے کر نیچے اترا ۔
پاس پڑے پتھر مار مار کر گن کو توڑنے کی کوشش شروع کی جیسے ہی وہ پتھر اٹھا کر گن پر مار رہا تھا تو آس پاس کے درخت میں اچھل کود ہو رہی تھی اور پتے ہل رہے تھے گھبرا کر ارد گرد دیکھا کمر پر ہاتھ رکھے بغور درختوں کو دیکھا پھر سے پتھر اٹھا کر مارا اور نظر درخت پر رکھی درخت پر بہت سے بندر موجود تھے ۔ بندر کو دیکھ کر دل کو تسلی ہوٸ کہ کوٸ خطرناک جانور نہیں ہے اور پھر سے پتھر کو گن پر مارا گن اب ٹوٹ چکی تھی اور پرزہ پرزہ ہو گٸ تھی اس کے ٹرگر کے خول کے نیچے سے گول سی پتری نکلی جو ایک طرف سے نوکیلی تھی ۔ اس پتری کو اٹھا کر وہ پھر سے اذفرین کے پاس آیا جو اسی طرح بے سدھ پڑی تھی ۔ پتری کو پانی سے دھویا اذفرین کے پاس ہوا اس کے سر کو اٹھا کر اپنے گھٹنے پر رکھا ڈسے ہوۓ نشان پر ٹرگر کی پتری کو رکھ کر زور سے دبایا وہ نیم بے ہوشی میں ہی تڑپ گٸ تھی لیکن زخم گہرا ہوتے ہی خون رسنے لگا وہ اب تڑپنے کے انداز میں ہل رہی تھی شاٸد زخم کی تکلیف برداشت سے باہر تھی علیدان نے اسے مضبوطی سے تھاما مبادہ وہ یوں ہلتے ہوۓ درخت سے نیچے جا گرے خون اب اس کی گردن سے بہتا ہوا اس کی شرٹ میں جزب ہو رہا تھا ۔ اذفرین کو درخت سے باندھ کر نیچے اترا
پتھروں کی مدد سے پھر سے آگ جلاٸ جو بہت زیادہ کوشش کے بعد جلنے میں کامیاب ہوٸ درختوں پر بندر آگ کو دیکھتے ہی اب دوسرے درختوں پر لٹک لٹک کر جا رہے تھے ۔ علیدان اب بغور ان کی حرکات دیکھ رہا تھا اگر یہاں بندر موجود ہیں تو مطلب یہاں پھل موجود ہیں اچانک ذہن میں آتے خیال کے زیر اثر وہ سر اوپر اٹھاۓ درختوں کا جاٸزہ لیتے ہوۓ آگے بڑھا ۔ بندر اسے دیکھ کر ڈرتے ہوۓ ایک درخت سے دوسرے پر جا رہے تھے کچھ دور جانے پر ہی ایک ایسا درخت مل گیا تھا جس پر گولاٸ کی شکل میں آم سے ملتے جلتے رس بھرے سے پھل لٹک رہے تھے کچھ بندر جو اس درخت پر موجود تھے ان پھلوں کو توڑ توڑ کر کھانے میں مصروف تھے ۔ نیچے بھی جگہ جگہ ادھ کھاۓ پھل پھینکے ہوۓ تھے جن پر بڑے چھوٹے مختلف اقسام کیڑے رینگ رہے تھے ۔
اپنی شرٹ اتاری اور اس کے بازو باندھ کر اس میں بہت سارے پھل بھر لیے ۔ واپس آیا تو اذفرین ابھی بھی ویسے ہی بے سدھ پڑی تھی اور وہ اب گن کے مزید پرزے اٹھا اٹھا کر دیکھ رہا تھا ایک پتری بلکل سیدھی تھی جس سے پھل کاٹا جا سکتا تھا ۔
شام کے ساۓ پھیلنے لگے تھے جلتی آگ سے بہت فاٸدہ ہوا تھا جس درخت کے تنے پر وہ موجود تھے وہاں سے سارے بندر دوسرے درختوں پر منتقل ہو چکے تھے ۔
وہ اب اذفرین کی مخالف سمت میں بازوٶں کو فولڈ کیے سر کے نیچے رکھے چت لیٹا تھا۔ ذہن میں میر دلاور کی آواز گونجی اور سارا منظر آنکھوں کے آگے گھوم گیا
” آپ مان لیں اس کی بات اسے شوق ہے یہ سب پڑھنے کا “ زیب میر دلاور کے آگے کھڑی التجاٸ انداز میں کہہ رہی تھیں اور وہ خود کچھ ہی دوری پر سینے پر ہاتھ باندھے سر جھکاۓ کھڑا تھا۔
” کچھ ڈھنگ کا پڑھ لے زیب بیگم “ میر دلاور نے گھور کر علیدان کی طرف دیکھا ۔
” جانیں دیں پڑھنے دیں اس کا شوق ہے میر صاحب “ زیب بیگم نے ایک نظر بچارگی سے دیکھتے علیدان پر ڈالی اور پھر سے میر دلاور کی طرف دیکھا ۔
” جاۓ کس نے روکا ہے پر یہ یاد رکھے میری خوشی اس میں شامل نہیں ” میر دلاور نے چہرے کا رخ موڑا
” بابا ہمیشہ سے آپ کی بات مانی ہے صرف یہ پہلی خواہش ہے میری اس کے بعد جو آپ کہیں گے اس پر سر تسلیم خم ہو گا کبھی انکار نہیں کروں گا ۔
وہ اپنے خیالوں میں گم تھا جب اذفرین کی تکلیف سے کراہنے کی آواز آٸ وہ جلدی سے سیدھا ہوا تو وہ کندھے پر ہاتھ رکھے اٹھنے کی کوشش میں تھی چہرے پر ناک اور ماتھا تکلیف کی وجہ سے شکن آلودہ تھا آنکھیں بند سی تھیں خشک ہوتے ہونٹوں پر بار بار زبان پھیر رہی تھی مطلب اسے پیاس لگی تھی۔
” لیٹی رہو ابھی “
علیدان نے پانی کی بوتل کا ڈھکن کھولتے ہوۓ اس کو پھر سے لیٹے رہنے کا اشارہ کیا ۔ قریب آ کر پانی کی بوتل کو اس کے منہ سے لگایا پانی اس کے منہ سے نیچے گر رہا تھا مطلب وہ ابھی بھی نقاہت اور ہلکی ہلکی غنودگی کا شکار تھی ۔ پانی پلانے کے بعد دھیرے سے اس کے سر کو پھر سے نیچے رکھا ۔ وہ مسلسل آنکھیں کھولنے کی سعی کر رہی تھی ۔
” مجھے۔۔۔ سانپ۔۔۔ نے کاٹا تھا “
خفیف سی تکلیف زدہ آواز ابھری وہ بار بار آنکھیں کھول اور بند کر رہی تھی ۔ سر بری طرح بھاری ہو رہا تھا کندھے میں بے تحاشہ تکلیف تھی حلق کڑوا ہو رہا تھا سارا منظر آنکھوں میں گھوم گیا اس نے درخت کے تنے سے ٹیک لگاٸ تھی اور اچانک ایسا محسوس ہوا تھا جیسے دو گرم سلاخیں کسی نے کندھے میں گھسا دی ہوں کندھے میں پھر سے ویسی ہی تکلیف کا احساس ہوا تھا ۔ اس کے چہرے کے بدلتے زاویے دیکھ کر علیدان اب اس کے قریب ہوا ۔
” ہاں سانپ نے ہی کاٹا تھا “
نرم سے لہجے میں کہتا ہوا وہ قریب ہوا لبوں پر جاندار مسکراہٹ تھی ۔ اس وقت اس کے ہوش میں آ جانے سے بڑی کوٸ خوشی نہیں تھی ۔
” میں۔۔۔ بچ ۔۔۔کیسے گٸ ؟“
نقاہت سی کانپتی آواز میں پوچھا وہ اب علیدان کے چہرے کی طرف دیکھ رہی تھی ۔ بکھرے بال بڑھی ہوٸ شیو اور تھکی تھکی سی بڑی آنکھیں لیے وہ مسکرا رہا تھا ۔
”اچھا تو کیا مر جانا چاہیے تھا تمہیں “
علیدان نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ بغور اس کے شفاف چہرے کی طرف دیکھا حسن اور معصومیت کا امتزاج تھی وہ شفاف چمکتی سی آنکھیں مدھر میٹھی سی آواز جس کو سننے کے لیے وہ کل دوپہر سے ترس گیا تھا اور اب وہ آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔ وہ بے ہوش ہوٸ تو احساس ہوا کہ ویران جنگل کیسے کاٹ کھانے کو دوڑ رہا تھا ۔ اگر وہ یہاں اس کے ساتھ نہ ہوتی تو شاٸد وہ پریشان ہو ہو کر تھک جاتا ۔ نرم سی نگاہ اس پر ڈالی۔
” ہاں مر جاتے ہیں لوگ سانپ کے ڈسنے سے “
علیدان نے مدھم سی آواز میں کہتے ہوۓ مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں اب بھی کبھی بند ہو رہی تھیں کبھی کھُل رہی تھیں ۔ شریر سی مسکراہٹ نے لبوں کا حصار کیا ۔
” تم نے تو بھرپور کوشش کی تھی لیکن بدقسمتی سے سانپ اتنا زہریلا نہیں تھا “
علیدان کا لہجہ شریر سا تھا اذفرین نے چونک کر علیدان کی طرف دیکھا تو وہ ہنس رہا تھا ۔ کتنا سنگ دل ہے آرام سے ہنس رہا ہے میں اتنی تکلیف میں ہوں کندھے پر اکڑاہٹ سی محسوس ہو رہی تھی دھیرے سے کندھے پر سے شرٹ کو ہٹا کر دیکھا آنکھیں خوف کے زیر اثر پھیل گٸ تھیں ۔ سانپ کے ڈسنے کے بعد جب اس نے دیکھا تھا تو باریک سے دو سرخ دھبے تھے اور اب کندھا خون سا لت پت تھا گہرا نیلا ہوا رہا تھا اور سانپ کے ڈسنے کے نشان کے گرد کسی انسانی دانتوں کا داٸرہ بھی تھا جو نیلا ہو رہا تھا ۔
” ڈرو مت یہ بڑے والے دانتوں کے نشان میرے ہیں “
علیدان نے شرارت سے مسکراہٹ دباٸ دفعتاً علیدان کی طرف دیکھا ایک دم سے جھینپ گٸ جلدی سے شرٹ کو کندھے پر درست کیا ۔ اس کے جھینپ کر شرمندہ سے چہرے کو دیکھ کر علیدان کو اندازہ ہوا وہ کیا کہہ گیا ۔
” کچھ کھاٶ گی پھل تلاش کر کے لایا ہوں “
اس کی اور اپنی شرمندگی ختم کرنے کے لیے جلدی سے بات کا رخ تبدیل کیا اور نیچے پھلوں کے ڈھیر کی طرف اشارہ کیا پھر چھلانگ لگا کر نیچے اترا اور دو پھل لے کر اوپر آیا ۔ وہ تو ایسے اٹھ کر سیدھی ہو بیٹھی جیسی ترسی ہوٸ تھی معدہ سکڑا پڑا تھا پھل دیکھتے ہی جیسے جان میں جان آٸ ترس گٸ تھی مچھلی کے علاوہ کچھ کھانے کے لیے تیزی سے آگے بڑھی اور اور علیدان کے ہاتھ سے پھل لے کر کھانے لگی تھی۔ عجیب سے شکل کا آم تھا پر بے حد میٹھا تھا اذفرین کے کھانے کا انداز عجلت لیے ہوا تھا ۔
” دن ضاٸع کر چکے ہیں ہم یہاں آگے نہیں بڑھے “
علیدان نے بھی پھل کے کش کو ہاتھ میں پکڑی سیدھی سٹیل کی پتری سے کاٹ کر منہ میں رکھتے ہوۓ کہا
” کیا میں دوپہر سے بے ہوش رہی“
آہستگی سے نظریں اٹھا کر پوچھا ۔ جب وہ لوگ یہاں آۓ تھے تب دوپہر تھی اور اب رات ہو رہی تھی ایسا لگا جیسے وہ کچھ گھنٹے ہی بے ہوش رہی تھی ۔
” ہاں کل دوپہر سے “
علیدان نے کل پر زور دیا اذفرین کا پھل کو منہ تک لے کر جاتا ہوا ہاتھ یکایک ہوا میں معلق رہ گیا ۔ حیرت سے علیدان کی طرف دیکھا جو سنجیدگی سے پھل کھانے میں مصروف تھا ۔
” کل دوپہر سے ۔۔۔۔“
آواز کہیں بہت دور سے آتی ہوٸ محسوس ہوٸ ۔ کیا وہ اتنی دیر سے بے ہوش رہی تھی حیرت ہو رہی تھی ۔
” جی اب بخار کم ہوا ہے آپکا پر ابھی ایک رات اور ریسٹ کریں اب صبح نکلیں گے “
علیدان نے بچا ہوا پھل بازو کو لمبا کرتے ہوۓ دور پھینکا اور نظریں اب دور اچھل کر گرتے پھل کے ٹکڑے پر ٹکی تھیں ۔ وہ کبھی اسے تم کہہ رہا تھا کبھی آپ اذفرین نے چور سی نظر اس پر ڈالی اندھیرا بڑھ گیا تھا گردن گھما کر اذفرین کی طرف دیکھا تو یوں ہی منجمند بیٹھی تھی ۔ ٹارچ لاٸٹ جلاٸ اس کے پاس رکھی ۔
علیدان درخت سے نیچے اتر کر جلتی آگ کے پاس بیٹھا اور اسی پتری نما سلاخ کو گرم کرنا شروع کیا ۔پھر اس گرم پتری کو ہاتھ میں پکڑے وہ پھر سے درخت پر اس کے پاس آیا ۔ غور سے اس کی طرف دیکھا جو بار بار لبوں کو فولڈ کر رہی تھی شاٸد جیسے جیسے ہوش بحال ہو رہا تھا تکلیف زیادہ محسوس ہو رہی تھی ۔
” اچھا اب ایک کام کرنا ہے مجھے سیدھی ہو کر بیٹھو اور آنکھیں بند کر لو“
علیدان نے اذفرین کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوۓ کہا ۔ جو ٹیک لگاۓ لیٹنے کے سے انداز میں بیٹھی تھی ۔
” کیا کرنا ہے “
علیدان کا ہاتھ پکڑ کر سیدھے ہوتے ہوۓ سوالیہ انداز میں اس کے ہاتھ میں پکڑی گرم پتری کی طرف دیکھا۔
” چپ انکھیں بند کر لو مت کھولنا اور یہ شرٹ دانتوں میں دباٶ “
گھٹنوں کے بل آگے ہوتے ہوۓ آہستگی سے کہا اور اپنی فولڈ شرٹ اس کے منہ کے اندر رکھی ۔ وہ حیرت سے علیدان کو دیکھ رہی تھی وہ کیا کرنے والا تھا لیکن اس کا انداز حکمانہ تھا اذفرین نے حیرت سے اپنے سامنے بیٹھے اس بڑی بڑی آنکھوں والے آٸرن مین کو دیکھا جو تین دن سے اسے سنبھال رہا تھا جان پر کھیل کر اسے بچا رہا تھا تھوڑی دیر پہلے اسے سنگ دل سمجھنے کی سوچ کو رد کرتی وہ اب اس کے احسانات یاد کر رہی تھی جو ایک کے بعد ایک وہ اس پر کرتا ہی جا رہا تھا کیا تھی وہ اس کی کچھ بھی نہیں اور نہ ہی کو مفاد دے رہی تھی الٹا اسے تنگ کر رکھا تھا اس جنگل میں پر پھر بھی وہ یوں خیال کر رہا تھا اور اس کے اپنے بہن بھاٸ جو اس کے ماں جاۓ تھے دونوں اپنے اپنے مفاد کی خاطر اسے انسان کے بجاۓ شٹل کاک بناۓ ہوۓ تھے
” شرٹ ہٹاٶ کندھے سے “
علیدان نے پتری کو سیدھا کرتے ہوۓ آہستگی سے اس کے کان کے قریب ہو کر کہا ۔ اذفرین نے کانپتے ہاتھوں سے شرٹ کو کندھے پر سے ہٹایا ۔ علیدان نے قریب ہو کر گرم سلاخ کو اس کے زخم پر رکھا اور جلدی سے اسے اپنے بازو میں بھر کر اسے اچھلنے سے روکا وہ تڑپ گٸ تھی اور اتنا زیادہ اچھلی تھی کہ اگر وہ تھام نا لیتا تو یقیناً وہ نیچے گر جاتی ۔
آنکھیں بند تھیں اور علیدان کے گرم پتری رکھتے ہی جیسے آنکھیں پھٹنے جیسے انداز میں کھلی تھیں اتنی تکلیف تھی کہ اگر علیدان کی شرٹ منہ میں نہ ہوتی تو شاٸد اس کی فلک شگاف چیخ ابھرتی ۔ وہ ابھی بھی جلے کی تکلیف سے مسلسل تڑپ رہی تھی ۔
علیدان نے اور مضبوطی سے اسے اپنا ساتھ بھینچا ۔ پتری نما سلاخ کو نیچے پھینک کر دوسرے بازوکو بھی اس کے گرد گھما کر تڑپتے وجود کو اپنے ساتھ لگایا۔
” بس بس ہو گیا “
اذفرین کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔ جبکہ اپنے بازو اس کے گرد حاٸل کیے وہ اسے اپنے ساتھ لگاۓ ہوۓ تھا ۔
”امممم ۔۔۔۔اممممم۔۔۔۔“ اذفرین کی چیخیں گھٹ گٸ تھیں منہ میں کپڑا تھا جس کے باعث اس کے رونے کی اسطرح آواز ابھر رہی تھی ۔
آہستہ آہستہ اس کے وجود کی کپ کپاہٹ قدرے کم ہوٸ تھی ۔اب وہ پرسکون ہوٸ تھی پر سسک رہی تھی علیدان کی مضبوط گرفت سکون دینے لگی تھی دل عجیب سے انداز سے دھڑکا وہ اس کے اتنا قریب تھا کا کہ اس کے دل کے دھڑکنے کی آواز باآسانی سن سکتی تھی ۔ تکلیف کو بھولے اب عجیب سا احساس ہو رہا تھا ۔ پر وہ تو شاٸد ساتھ لگا کر بھول گیا تھا ۔
اذفرین کے تھوڑا سا کسمسانے سے علیدان کو احساس ہوا کہ اسے یوں ہی باہوں میں لیے بہت دیر ہو چکی ہے آہستگی سے اسے خود سے الگ کیا اور نظریں چراٸیں وہ اب اس کی شرٹ کو منہ سے نکال کر نظریں جھکاۓ ہوٸ تھی ۔ آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں گال آنسوٶں سے تر تھے ۔
” یہ کیوں کیا ؟“
تکلیف کی وجہ سے کانپتی سی آواز میں کہا ۔ علیدان اب درخت کے تنے پر ہاتھ رکھے پیچھے ہوا ۔ انداز خجل سا تھا ۔ ہاتھ بڑھا کر اپنی شرٹ اس کے ہاتھ سے لی ۔
” زیادہ سوال نہیں جان بوجھ کر جلایا ہے زخم بھرنے میں آسانی ہو گی جراثیم نہیں جاٸیں گے شرٹ ہٹا کے رکھو یہاں سے “
نظریں چراتے ہوۓ کہا اور فوراً اس کے شرٹ کے کندھے کو درست کرتے ہاتھوں کو پکڑ کر روک دیا ۔
” نہیں ایسے ۔۔۔۔“
اذفرین نے جھجکتے ہوۓ گھٹی سی آواز میں شرٹ کو پھر سے درست کیا ۔ علیدان نے چور سی نظر اس پر ڈالی وہ بار بار بالوں کو کانوں کے پیچھے اڑا رہی تھی اور خجل سے انداز میں ارد گرد دیکھ رہی تھی ۔
” کل سے ایسے ہی ہے “
علیدان نے آگے ہو کر اس کے کندھے سے شرٹ کو نیچے کرتے ہوۓ آہستگی سے کہا اور فوراً چھلانگ لگاتا ہوا نیچے اترا ۔ اذفرین کا چہرہ ایک دم سے دل کی دھڑکن تیز ہونے کے آثار لیے گلابی ہو گیا پر وہ اب شرٹ پہن کر کچھ دور جا کر اس کی طرف پشت موڑے بیٹھا تھا
سہی نہیں کیا میں نے کیا سوچ رہی ہو گی علیدان نے گردن کو داٸیں باٸیں جھٹکا رگوں کی چٹخنے کی آواز ابھری عجیب سی شرمندگی تھی جس کی وجہ سے اب وہ اوپر نہیں جا رہا تھا اور پھر تب ہی اوپر آیا جب وہ پھر سے سو چکی تھی ۔
************
”اور تم مجھے اب بتا رہے ہو سعد “
مہرین نے چیخنے کے انداز میں کہا ۔ سعد کان فون کو لگاۓ بیٹھا تھا اور مہرین کو آج چار دن بعد وہ اس افتاد کے بارے میں اگاہی دے رہا تھا ۔ آسٹریلوی فوج کل سے آپریشن میں لگی تھی وہ لوگ بھی کم نہیں تھے اور ان کے پاس بہت اسلحہ موجود تھا ۔
” میں بہت پریشان ہوں مہرین “
گھٹی سی آواز میں کہا ۔ لہجہ شرمندگی اور دکھ میں ڈوبا ہوا تھا۔
” اب پریشان ہونے کا کیا فاٸدہ بولو، تم مجھ سے چھپا کر اسے آسٹریلیا لے گۓ اور وہاں اپنے سسرال چھوڑ دیا اسے،میں پوچھتی ہوں تم نے شادی سے پہلے کیوں بھیجا اسے وہاں، تمھاری بیوی کو کیا تکلیف تھی “
مہرین نے غصے سے کہا ۔ سعد کی پیشانی پر بل پڑنے لگے تھے
” اس کی جاب ہو گٸ تھی وہاں اور ویسے بھی کچھ ماہ بعد وہی اس کا اصل گھر بھی ہے “
سعد نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔ مہرین نے طنزیہ انداز میں سر ہوا میں مارا
” اصل گھر ایسے ہوتے ہیں اسے معصوم کو اکیلی کو بھیج دیا “
مہرین نے دانت پیستے ہوۓ کہا ۔
” آرام سے تم زیادہ باتیں مت کرو مجھ پر تم جو کر رہی تھی اس کے ساتھ وہ بھی اچھے سے جانتا ہوں میں ،اپنے معذور دیور کے ساتھ شادی کروا رہی تھی اس کی “
اب سعد کا لہجہ بھی حقارت لیے ہوۓ تھا ۔
” بہت خوش تھی وہ اس رشتے سے ،کم از کم میرے پاس تھی وہ اور کوٸ معزور نہیں دیور میرا“
مہرین اب تیز تیز بول رہی تھی
” ہاں ہاں جانتا ہوں جسمانی سے زیادہ ذہنی مریض ہے وہ “
سعد نے ناک چڑھا کر کہا۔
” بازل اب تک سیدھے منہ مجھ سے بات نہیں کرتے “
مہرین نے لفظ چبا چبا کر ادا کیے
” سنو بازل کو ابھی کچھ مت بتانا اس کی بکواس سننے کے بلکل موڈ میں نہیں ہو تمھارا شوہر ہے اس لیے سیدھی سیدھی سنا بھی نہیں پاتا “
سعد نے غصے سے کہا
” شرم کرو کچھ اور میری بہن مجھے چاہیے ہر حال میں جو کرنا ہے کرو “
مہرین نے غصے سے کہا اور فون بند کر دیا جبکہ سعد اب فون کو گھور رہا تھا ۔
********
چلتے چلتے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ آنکھیں آسمان کی طرف اٹھاۓ تکلیف سے لبوں کو بھینچے کھڑی تھی ۔ چہرہ زرد تھا تو آنکھوں کے گرد گہرے ہوتے حلقے اس کی کمزوری کا واضح ثبوت
”نہیں چلا جا رہا ۔۔۔مجھ سے “
علیدان کو اپنی طرف دیکھتا پا کر اذفرین نے کانپتی سی آواز میں کہا ۔ علیدان اب اس کے پاس آ چکا تھا ۔
” چکر آ رہے ہیں اور نیند بھی “
اذفرین نے گہری سانس خارج کرتے ہوۓ پھولی ہوٸ سانسوں کو بحال کرنے کی ناکام کوشش کی ۔ اس کے چہرے سے اس کی تکلیف واضح تھی ۔ وہ صبح ہوتے ہی چل پڑے تھے اور ابھی انہیں چلتے ہوۓ آدھا گھنٹہ بھی نہیں گزرا تھا کہ اذفرین بری طرح نڈھال لگ رہی تھی ۔
” سنو ابھی دن میں چلیں گے تو ہی رات کہیں رک سکیں گے “
علیدان نے ایک نظر اس پر ڈالی اور پھر راستے پر عجیب تھا یہاں سب کچھ سروقد درخت تھے جو زیادہ گھنے بھی نہیں تھے ۔ ارد گرد پہاڑ اور غاریں سی تھیں ۔ علیدان کو اس جگہ سے عجیب سی وحشت سی محسوس ہوٸ یہاں رک بھی نہیں سکتے تھے کیونکہ یہاں ایسے درخت نہیں تھے جن کے تنے پر وہ بیٹھ سکیں ۔
” میں نہیں چل سکتی اور ہمت نہیں ہے مجھ میں “
اذفرین نے روہانسی صورت بناۓ التجاٸ نظروں سے علیدان کی طرف دیکھا ۔ علیدان نے پرسوچ انداز میں اردگرد دیکھا ۔ نہیں یہاں رکنا مناسب نہیں تھا وہ ذہن کی بات تسلیم کرتے ہوۓ اب بغور اذفرین کی طرف دیکھ رہا تھا ۔ کتنی کمزور لگ رہی تھی اور بہت بری طرح تھکی ہوٸ تھی دل نے اس کی تکلیف کو محسوس کیا تھا ۔
” ایک منٹ “ دو گنز اور پانی کی بوتل ایک کندھے پر منتقل کی اور ایک گھٹنا ٹکاتے ہوۓ نیچے بیٹھا ۔اذفرین اب آنکھوں کو بار بار بند کر رہی تھی آ نکھوں کے سامنے رنگے برنگے سے دھبے ناچ رہے تھے ۔
” آٶ یہاں پیچھے میرے ۔۔۔“
علیدان نے اپنی پشت کی طرف اشارہ کرتے ہوۓ کہا ۔ اذفرین نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا۔
” اذفرین آٶ وقت ضاٸع مت کرو “
علیدان نے دانت پیستے ہوۓ غصے سے کہا جس پر وہ تیزی سے آگے بڑھی اور پیچھے سے اس کی گردن کے گرد بازو حاٸل کٸے انداز جھجک لیے ہوۓ تھا ۔
”امممم۔۔۔“
علیدان پورا زور لگا کر اٹھا تھا اور اس کی ٹانگوں کو اپنے بازو میں لیتے ہوۓ وہ اسے اپنی پشت پر سوار کر چکا تھا ۔ اور اب چلنا شروع ہو چکا تھا ۔
جیسے ہی اس نے بازو حاٸل کیے تو احساس ہوا اسے پھر سے تیز بخار ہو رہا تھا ۔ اس کے جسم کی تپش وہ با آسانی اپنی پشت پر محسوس کر رہا تھا ۔
” سو جاٶ ایسے ہی ننید پوری ہو گی تو ٹھیک ہو جاٶ گی “
علیدان نے ملاٸم سے لہجے میں گردن کو ہلکا سا خم دیتے ہوۓ کہا اذفرین نے دھیرے سے اس کی گردن سے نیچے اس کی پشت سے سر ٹکا کر آنکھیں موند لی تھیں اس کا لہجہ اپناٸیت اور لمس ایسا سکون بخش رہا تھا جو زندگی میں کہیں نہیں ملا تھا ۔ وہ زور لگا کر چل رہا تھا اذفرین کا سر ہل رہا تھا پر نقاہت اس قدر تھی کہ وہ غنودگی میں جانے لگی تھی ۔
اپنے گلے پر اذفرین کی باہوں کی گرفت کم محسوس ہوتے ہی علیدان کو اندازہ ہو چکا تھا وہ سو چکی ہے ۔ سانپ کے زہر کا اثر تھا جس کی وجہ سے اُسے بار بار نیند آ رہی تھی ۔
ایک دم سے اردگرد درختوں کی تعداد بڑھنے لگی تھی ۔ وہ دور دور تک نظر دوڑاتا اردگرد دیکھتے ہوۓ جا رہا تھا جب اچانک دور سے بھاگتے ہوۓ ریچھ پر نظر پڑی وہ سیاہ رنگ کا بہت بڑا ریچھ تھا ۔ اور وہ ان کی طرف ہی آ رہا تھا ۔ اچانک ذہن بھک سے اڑا تھا ۔ ریچھ کا یوں ان کی طرف آنا پاٶں کے نیچے سے زمین سرکا دینے کے مترادف تھا ۔
” اذفرین “
علیدان نے جلدی سے اذفرین کو نیچے اتارا وہ ایک طرف لڑھک سی گٸ ۔ اس سے پہلے کے علیدان کندھے سے بندوق اتار کر سیدھی کرتا ریچھ اس پر جھپٹ پڑا ۔ اذفرین اپنے سر پر ہاتھ رکھے ہل رہی تھی آنکھیں کھل نہیں رہی تھیں
ریچھ کے دفعتاً حملے کی وجہ سے علیدان کے ہاتھ میں آٸ بندوق ہاتھ سے چھوٹ کر دور جا گری ۔ ریچھ بری طرح علیدان کو جھنجوڑ رہا تھا دوسری بندوق ابھی بھی کندھے سے لٹک رہی تھی ۔ پر ریچھ اتنی مہلت نہیں دے رہا تھا کہ وہ بندوق کو سیدھا کرتا وہ عجیب خوفناک سی آواز نکال رہا تھا اور اپنے نوکیلے پنجے بار بار علیدان کے سینے ،کمر اور مختلف جگہ پر گاڑ گاڑ کر کھینچ رہا تھا علیدان کے حلق سے بلکنے جیسی آوازیں نکل رہی تھیں ریچھ کے ناخن خنجر کی طرح جلد میں پیوست ہو رہے تھے ۔
اذفرین نے بمشکل اپنی آنکھیں کھولیں ۔ اور سامنے کا منظر دیکھ کر تو جیسے جان حلق میں آٸ تڑپ کر اٹھی ۔
” علیدان ۔۔۔۔“
چیخ کر اسے پکارا ریچھ اور علیدان بری طرح ایک دوسرے کے ساتھ گتھم گتھا تھے ریچھ اٹھا اٹھا کر علیدان کو نیچے پٹخ رہا تھا دوسری بندوق بھی اب اس کے کندھے سے اتر کر ایک طرف گری پڑی تھی علیدان کی شرٹ جگہ جگہ سے پھٹی ہوٸ تھی اور خون میں لت پتھ تھی ۔ ریچھ اس بری طرح اسے مار رہا تھا جیسے کوٸ بلی چوہے کو کھانے سے پہلے مارتی ہے ۔ بحال سا ہوتے ہوۓ اذفرین کی طرف دیکھا
” اوہ میرے خدا۔۔“
اذفرین نے دونوں ہاتھ منہ پر رکھے جلدی سے ارد گرد دیکھا اور پاس پڑی بندوق اٹھا کر آگے بڑھی ۔
” علیدان۔۔۔۔ “
چیخ کر علیدان کو پکارا ریچھ اب علیدان کے سینے پر پاٶں رکھے وزن ڈال رہا تھا ۔ ریچھ کے منہ سے عجیب سا پانی رس رہا تھا ۔
” اذفرین پاس مت آنا پاس مت آنا جسٹ شوٹ ہم “
علیدان نے گھٹی سی آواز میں کہا اور ہاتھ کے اشارے سے اذفرین کو پاس آنے سے روکا ۔ اسے پتا تھا اگر وہ آگے بڑھی تو وہ جھپٹ پڑے گا اذفرین پر ۔
” مجھے نہیں چلانی آتی “
اذفرین نے روتے ہوۓ کہا ۔ ہاتھ کانپ رہے تھے ۔
” ٹرگر دبانا ہے زور سے صرف اس کے اوپر نشانہ داغ کر شوٹ ہم یاررررر“
ریچھ اب عجیب سی آوازیں نکال رہا تھا اور بار بار پاوں اٹھا کر علیدان کے اوپر رکھ رہا تھا ۔
” اذ۔فر۔ین۔۔۔۔شوٹ ڈیمڈ “
علیدان نے غصے سے گھٹی سی آواز میں کہا اذفرین نے زور سے ٹرگر دبایا گولی سیدھی ہوا کو چیرتی ریچھ کے سر میں لگی تھی اذفرین ٹرگر کے جھٹکے سے پیچھے گری۔
ریچھ سیدھا علیدان کے اوپر گرا تھا ۔ جسے بمشکل علیدان نے خود پر سے باٸیں طرف لڑھکانے کے انداز میں پھینکا ۔
اور پھر دور سے اذفرین بھاگتی ہوٸ آتی نظر آٸ اور منظر ایسا دھندلیا کے اندھیرا چھا گیا ۔
وہ بھاگتی ہوٸ پاس آٸ اور گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اس کے طرف دیکھا وہ آنکھیں موند چکا تھا ۔ چہرہ جسم ٹانگیں ہر جگہ سے خون رس رہا تھا ۔
” علیدان ۔۔۔۔علیدان پلیز آنکھیں کھلیں “
اذفرین بوکھلا گٸ تھی علیدان کے سینے پر ہاتھ رکھے تو ہاتھ خون سے رنگ گۓ تھے ۔ گھبرا کر علیدان کے چہرے کی طرف دیکھا ۔
” آں۔ں۔ں۔ں۔ “
وہ سر کو اوپر اٹھا کر اونچا اونچا رو دی تھی ۔ وہ اٹھ کیوں نہیں رہاتھا ہاتھ کانپنے لگے تھے ۔ پھر سے بے سدھ پڑے علیدان کو جھنجوڑا۔
” علیدان مجھے ڈر لگ رہا ہے پلیز آنکھیں کھولیں “
وہ بری طرح رو رہی تھی آواز بھی ہچکیوں میں بندھ گٸ تھی دل پھٹنے کو تھا جلدی سے بوکھلا کر ارد گرد دیکھا ۔ کچھ دور ہی پانی کی بوتل مٹی میں اٹی پڑی تھی پاگلوں کی طرح بھاگتی ہوٸ بوتل کو اٹھا کر لاٸ ۔ کانپتے ہاتھوں سے بوتل سے پانی کے چھینٹے اس کے چہرے پر مارے ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: