Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 8

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 8

–**–**–

علیدان کے منہ پر پانی کے چھینٹے مارنے سے اس کی پلکوں میں ہلکی سی جنبش پیدا ہوٸ تو اذفرین کا اٹکا سانس بھی بحال ہوا ڈھنے کے سے انداز میں گھٹنے ٹیک کر اس کے سر کے پاس بیٹھی ۔اور بالوں میں ہاتھ پھیرا ۔ اب علیدان کی پیشانی پر شکن ابھر رہے تھے ۔ اس کے بال چہرہ پلکیں سب کچھ خون اور مٹی سے اٹا تھا ۔
” آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ “
علیدان نے آنکھیں کھولنے کی کوشش کی تکلیف سے اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں ۔وہ لبوں کو بھینچے تکلیف برداشت کر رہا تھا ۔
” علیدان ۔۔۔۔“
اذفرین نے تھوڑا سا جھکتے ہوۓ رونے جیسی آواز میں اسے پکارا ۔علیدان نے بمشکل آنکھیں کھولی تھیں۔ اذفرین کا بےحال سا چہرہ خود پر جھکا دیکھا اس کے بال بکھرے ہوۓ تھے گال آنسوٶں سے تر تھے ہاتھ خون سے اور مٹی سے لت پتھ تھے اس پر سے نظر ہٹا کر دھیرے سے گردن موڑی کچھ دوری پر ہی ریچھ بے سدھ پڑا تھا ۔ اور اس کے سر سے خون بہہ کر زمین پر اکٹھا ہو رہا تھا ۔
” امممممم۔۔۔“
علیدان نے اٹھنے کی کوشش کی پر جیسے ہی گردن اوپر اٹھاٸ تکلیف کی شدت بڑھی تھی پھر سے سر زمین پر پٹخا ۔ جسم کا رواں رواں تکلیف میں مبتلہ تھا اذفرین نے گھبرا کر اس کی طرف دیکھا ۔ اذفرین کے ہوا میں اٹھے ہاتھ کانپ رہے تھے وہ زندگی میں پہلی دفعہ کسی کو اس طرح خون آلودہ دیکھ رہی تھی ۔
” علیدان لیٹے رہیں اٹھیں مت “
اس کے سینے پر اپنا کانپتا سا ہاتھ رکھا پر وہ تو جیسے اسے سن ہی نہیں رہا تھا پہلے کروٹ لی پھر کہنی کے بل اٹھنے کی کوشش کی ۔ وہ اتنی تکلیف میں تھا کہ آنکھوں سے آنسو بہہ کر اب مٹی سے اٹے چہرے پر لکیریں بنا رہے تھے ۔ اور اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں جو اس کی تکلیف کو برداشت کرنے کا واضح ثبوت تھیں ۔ اس کی حالت اذفرین سے دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔
” نہیں نہیں کریں مت اٹھیں خون زیادہ بہہ رہا ہے “
اذفرین نے کانپتی آواز میں کہا جبکہ نظریں خوف سے اس کے سینے سے نیچے گہرے گھاٶ سے رستے خون پر ٹکی تھیں ۔ وہ جیسے ہی اوپر اٹھ رہا تھا مٹی سے بھری شرٹ پر خون اوپر کو ابھرنے کی شکل میں بہنا شروع ہو جاتا ۔
” دیکھو یہاں سے نکلنا ہے نہیں تو کچھ دیر میں ہی میرے خون کی بو سے کوٸ اور جانور بھی آ سکتا ہے یہاں“
وہ اب پوری کوشش سے اٹھ کر کھڑا ہو چکا تھا ۔ ایک ٹانگ میں بہت تکلیف تھی جس کہ باعث وہ اٹھ نہیں پا رہی تھی ۔ ٹانگ کے گھٹنے پر ہاتھ رکھ کر اس کی تکلیف کو کم کرتے ہوۓ اٹھنے کی کوشش کی پر حلق سے بھاری سی چیخ نکلی۔
” آپ نہیں چل پاٸیں گے علیدان “
اذفرین نے تڑپ کر اس کی طرف دیکھا جو شکل کے مختلف زاویے بدلتا تکلیف کو برداشت کر رہا تھا ۔جلدی سے پانی کی بوتل کو اٹھا کر کندھے سے لٹکایا اور پیشانی پر علیدان کی تکلیف کو محسوس کرنے کی وجہ سے بل نمودار ہوۓ ۔
علیدان نے سر جھکا کر خود پر نظر ڈالی سینے سے نیچے پیٹ سے اور باٸیں ٹانگ سے خون زیادہ بہہ رہا تھا
” کچھ نہیں معمولی سا زخم ہے خود ہی بھر جاۓ گا “
میر دلاور کی بازگشت کانوں میں گونجی علیدان نے گہری سانس لی ناک کے پاس موجود مٹی نتھنوں سے نکلتی ہوا سے اوپر اٹھی ۔ پیٹ کے بہتے خون پر ہاتھ رکھا ۔
” دلاور حد کرتے ہیں آپ دیکھیں تو اٹھ کر وہ رو رہا ہے “ زیب پریشان ہو کر آگے بڑھی ۔ چار سالہ علیدان پورچ میں ساٸیکل کے نیچے دبا ہوا تھا اور گھٹنے سے خون رس رہا تھا جسے دیکھ دیکھ کر وہ رو رہا تھا ۔
” کوٸ ضرورت نہیں پیار کرنے کی اور اسے خود سے اٹھانے کی علیدان اٹھو بیٹا کچھ نہیں ہوا “ میر دلاور نے اخبار کو فولڈ کیا کرسی سے بے چین ہو کر اٹھتی زیب کا ہاتھ پکڑ کر اسے روکا اور چار سالہ علیدان کو رعب سے کہا ۔
” علیدان ہمت کرو “
میر دلاور کی آواز ذہن میں گونجی علیدان نے زور لگایا اور جسم کو اوپر اٹھایا تکلیف کے باعث رگیں پھولنے لگی تھیں منہ کھل گیا تھا مٹی سے اٹی آنکھیں سکڑ رہی تھیں پیشانی کے بل بڑھ رہے تھے ۔
” علیدان شاباش اٹھو روتے رہو گے کوٸ اٹھانے نہیں آۓ گا“
” گٹ اپ ماٸ سن “
علیدان کے ذہن میں گونجتی آوازیں ہمت پیدا کر رہی تھیں ۔ دانتوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے تھوڑا سا اوپر ہوا اور پھر ایک جھٹکے سے اٹھا وہ لڑکھڑا گیا تھا اٹھ کر کھڑا تو ہو چکا تھا پر خود سے چلنا بہت مشکل تھا باٸیں ٹانگ پر وزن نہیں آ رہا تھا ۔ ایک نظر اذفرین کی طرف دیکھا جو بے حال سی کھڑی لگاتار رو رہی تھی ۔
” یہاں رکنا بہت خطرناک ہے۔۔۔۔ یہاں درخت عجیب ۔۔۔ہیں جہاں چڑھ نہیں سکتے ہیں ہم ، سنو پاس آٶ۔۔۔ سہارا۔۔۔۔ دو “
تکلیف سے آواز کا ربط بار بار ٹوٹ رہا تھا التجاٸ انداز میں اذفرین کی طرف دیکھا وہ اب دونوں مٹی سے اٹی گنز اٹھا کر کندھے پر لٹکا چکی تھی ۔ تیزی سے علیدان کی طرف بڑھی جو ایک ٹانگ کو سہارا دیتے ہوۓ بمشکل کھڑا تھا ۔ اذفرین نے آگے بڑھ کر اس کے بازو کو اٹھا کر اپنی گردن کے گرد گھمایا ۔ علیدان نے جیسے ہی اس کے کندھے پر وزن ڈالا اس کے کندھے پر موجود زخم میں تکلیف کی لہر اٹھی جسے بمشکل وہ برداشت کر پاٸ علیدان جیسے جیسے چل رہا تھا ٹانگ میں تکلیف کی شدت میں اضافہ ہو رہا تھا ۔
اذفرین اس کی ہمت دیکھ کر حیران ہو رہی تھی خون اب اتنا بہہ رہا تھا جو اس کے جسم پر موجود خشک مٹی کو گیلا کرتا جا رہا تھا ۔
” ام۔م۔م۔م۔۔۔۔ ام۔۔م۔م۔م۔م“
وہ بار بار تکلیف کو برداشت کرنے کی غرض سے لبوں کو بھینچے مختلف آوازیں نکال رہا تھا اور اسکی ہر کراہ پر اذفرین کے آنکھوں سے بہتے آنسوٶں کی رفتار میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اذفرین کے رونے سے ان کے چلنے کی رفتار کم ہو رہی تھی کیونکہ وہ بار بار ہاتھ سے آنسو صاف کر رہی تھی ۔
” اذ۔فر۔۔ین ۔۔پلیز ۔۔۔رونا بند کرو “
تکلیف کے باعث بمشکل وہ بول پا رہا تھا ۔ علیدان مسلسل ارد گرد کوٸ ایسا درخت تلاش کر رہا تھا جس پر وہ رک سکیں پر ایسا کچھ بھی نہیں تھا ۔ اب تکلیف برداشت سے باہر ہو رہی تھی وہ زیادہ سے زیادہ وزن اذفرین پر ڈالتا جا رہا تھا جس سے اس کے کندھے کی تکلیف بڑھ رہی تھی ۔
اللہ ہماری مدد کر اذفرین نے آسمان کی طرف دیکھا ۔ وہ اتنا آہستہ چل پا رہے تھے کہ رات سے پہلے وہ جنگل کے اس عجیب سے حصے سے باہر نہیں نکل سکتے تھے ۔
ابھی وہ چل کر کچھ دور ہی پہنچے تھے جہاں علیدان کی نظر اونچے سے سفید رنگ کے ٹرباٸین پر پڑی ۔ ٹرباٸین ہوا سے گھوم رہا تھا تین تکون نما بڑے بڑے پر ہوا میں گھوم رہے تھے ۔
” سنو وہاں کچھ ہے یقیناً ٹرباٸین لگا ہے کوٸ ہٹ یا کچھ اور ادھر چلو “
علیدان نے رک کر ٹرباٸین کی طرف اشارہ کیا اذفرین نے اس کے ہاتھ کے اشارے پر نظروں کو گھمایا جنگل میں لوگ اپنے شکار کے لیے آتے ہیں تو اس کے لیے وہ گھر یا ہٹ بناتے ہیں تو وہ اس ٹرباٸین کی مدد سے وہ گھر کو بجلی فراہم کرتے ہیں تو یقینی بات تھا یہ ٹرباٸین یہاں بلاوجہ موجود نہیں تھا ۔ اذفرین نے پر امید انداز میں علیدان کی طرف دیکھا اور پھر جلدی سے ٹرباٸین کی طرف رخ موڑا
ٹرباٸین کی سمت میں چلتے ہوۓ وہ لوگ ابھی کچھ دور ہی پہنچے تھے جب ٹرباٸین سے کچھ دوری پر ہی لکڑی سے بنا ہوا ایک ہٹ نما گھر نظر آیا جس کو درخت کے موٹے تنوں کی مدد سے زمین سے اونچا رکھ کر بنایا ہوا تھا ۔ لکڑی کے چار زینوں کو چڑھ کر لکڑی سے بنا ہوا برآمدہ نماجگہ تھی جسے چاروں اطراف سے لکڑی کے جنگلے سے ڈھکا ہوا تھا ۔ لکڑی کا ہی دروازہ تھا برآمدہ میں جگہ جگہ چھت سے نیچے پودوں کے گملے لٹک رہے تھے ۔ دروازے سے کچھ دوری پر کھڑکی تھی جس میں شیشے نسب تھے ۔ علیدان کو سہارا دے کر وہ بمشکل لکڑی کے زینے چڑھ کر لکڑی کے ڈیک پر پہنچے تھے
علیدان نے اذفرین کے کندھے پر سے بازو گھما کر خود کو الگ کیا اور وہیں لکڑی کے ڈیک پر پلر کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گیا زخمی ٹانگ نچلے زینے پر تھی اور وہ آخری زینے پر ڈھنے کے سے انداز میں بیٹھ گیا جبکہ اذفرین اب دروازہ بجا رہی تھی ۔
” کوٸ ہے ؟ پلیز دروازہ کھولیں ہمیں مدد چاہیے “
اذفرین نے لکڑی کا بنا ہوا داخلی دروازہ بجاتے ہوۓ کہا وہ یہ عمل تین بار دہرا چکی تھی لیکن اندر بلکل خاموشی تھی تھوڑا سا آگے بڑھ کر کھڑی کے شیشے سے جھانکنے کی کوشش کی سفید رنگ کے جالی کے پردے کے پیچھے سے ہلکا ہلکا نظر آ رہا تھا ایک بیڈ تھا اور ساتھ دو کرسیاں اور شاٸد ایک الماری ہر چیز پر سفید رنگ کی چادریں تانی ہوٸ تھیں جگہ جگہ بڑے بڑے جالے لٹک رہے تھے چادروں پر مٹی کی تہہ جمی ہوٸ تھی اس کا مطلب یہی تھا کہ اس وقت یہاں کوٸ نہیں تھا ۔ پیچھے مڑ کر علیدان کی طرف دیکھا تو وہ زمین پر ڈھیر تھا ۔
” علیدان۔۔۔ “
جلدی سے اس کے قریب جا کر اس کو کندھے سے ہلایا پر وہ بے ہوش تھا ۔ پریشانی سے اردگرد دیکھا اور پھر جلدی سے زینے اتر کر سامنے پڑے پتھر کو اٹھا کر اوپر آٸ ۔ اور کھڑکی کے شیشے میں مارا ۔ شیشہ چھناکے سے ٹوٹا ۔ کچھ نوکیلے شیشے ابھی بھی کھڑکی کے فریم میں کھڑے تھے جن کو گن کے پچھلے حصے کو مارتے ہوۓ وہ توڑ رہی تھی ۔
شیشہ توڑنے کے بعد اس نے ہاتھ اندر ڈال کر کھڑکی کو بمشکل کھولا ۔پر اس کے بعد بھی اس کے اندر موجود لکڑی کے لمباٸ کے رخ سلاخیں موجود تھیں بے چین ہو کر ارد گرد دیکھا لکڑی کے ڈیک سے نیچے اترتے ہی کیاری میں کلہاڑی اور کچھ باغبانی کی چیزیں موجود تھیں بھاگتی ہوٸ نیچے اتری اور کلہاڑی نما کھرپے کو اٹھا کر اوپر اٸ کھڑکی کی لکڑی سے بنی سلاخوں پر ضرب لگانا شروع کی پانچ یا چھ ضرب لگانے کے بعد ایک سلاخ ٹوٹ چکی تھی کندھے کی تکلیف پسینہ آنے کی وجہ سے بڑھتی جا رہی تھی اب اتنا راستہ بن چکا تھا کہ وہ باآسانی اندر اتر سکتی تھی ۔ جلدی سے کھڑکی کے اندر اتری ۔
جہاں وہ اتری تھی یہ بیڈ روم تھا جس میں ایک بیڈ تھا اور شاٸد دو کرسیاں ایک الماری تھی ۔وہ ایک سرسری سی نظر ڈال کر کمرے کے دروازے سے باہر نکلی تو سامنے چھوٹا سا لاونج تھا جس کے اندر ایک طرف کچن نما شیلف لگی تھی اور ایک طرف ایک الماری میں بہت سی بوتلیں پڑی تھیں جو غالبًا شراب کی تھیں کچھ ضرورت کے برتن بھی موجود تھے ۔ کچن کی شیلف سے کچھ دوری میں تین کرسیوں اور ایک گول میز والا ڈاٸنگ ٹیبل تھا ایک الماری دیوار میں نسب تھی جس میں کتابیں سجی تھیں ۔ ایک طرف روم فریج کھڑا تھا اذفرین نے آگے بڑھ کر داخلی دروازہ کھولا داخلی دروازے کھلتے ہی سامنے سیڑھیوں پر علیدان بے سدھ پڑا تھا ۔
جلدی سے علیدان کو بازوٶں سے گھسیٹا سانس پھولنے لگی تھی کندھے کی تکلیف مزید بڑھ گٸ تھی جسے وہ بار بار گہری سانس خارج کرتے ہوۓ کم کرنے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔
بمشکل اسے گھسیٹ کر داخلی دروازے سے اندر لانے میں کامیاب ہوٸ ۔ شام کے ملگجا سا اندھیرا پھیل رہا تھا جس کی وجہ سے اب گھر میں زیادہ اندھیرا ہو رہا تھا ۔
کسی لیمپ کی تلاش میں اردگرد نظر دوڑاٸ پر سوٸچ بورڈ پر نظر پڑتے ہی لپک کر سارے بٹن دباۓ گھر روشنی میں نہا گیا اور چھت پر لگا پنکھا بھی گھومنے لگا تھا پنکھا گھومنے سے عجیب سی آواز کا شور گونج اٹھا اور پنکھے کے پروں پر موجود مٹی اڑنے لگی پر پسینے میں شرابور جسم کو جیسے سکون ملا تھا ۔
تیزی سے آگے بڑھ کر کچن کی شیلف کے نیچے کے سارے کیبنیٹ کھولے اور وہ سہی سوچ رہی تھی سرخ رنگ کے جمع کے نشان والا ایک بڑا سا باکس موجود تھا ۔ فرسٹ ایڈ باکس کو باہر نکال کر کھولا اس میں پاٶڈین پین کلر پٹی روٸ قینچی ہر چیز موجود تھی گولیوں کے کچھ پتے خالی تھے ۔
جلدی سے فرسٹ ایڈ باکس کو شیلف پر رکھا بھاگتی ہوٸ کمرے میں گٸ اور بیڈ پر موجود سفید چادر کو احتیاط سے اتار تاکہ مٹی بیڈ پر نا گرے سفید چادر اتراتے ہی بھاگ کر علیدان کی طرف گٸ جلد از جلد علیدان کے بہتے خون کو روکنا تھا ۔اور اس سب میں وہ اپنی تکلیف کو فراموش کیے ہوۓ تھی نہیں جانتی تھی اتنی ہمت کس بات کی تھی پر اسے علیدان کو بچانا تھا ۔
اب اسی طرح اسے گھسیٹتی ہوٸ کمرے میں تو وہ لے آٸ تھی پر اب کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی اُسے بیڈ پر کیسے لیٹاٶں لب کچلتے ہوۓ ارد گرد دیکھا ۔ پر کچھ بھی سجھاٸ نہیں دیا ۔ بات پھر ہمت پر آ کر ختم ہوٸ ۔
علیدان کو گھسیٹ کر بیڈ کے قریب لاٸ اب اس کے بازو میں اپنے بازٶں میں ڈال کر اسے اٹھایا تین دفعہ وہ اسے اوپر اٹھانے میں ناکام پر چوتھی دفعہ پوری ہمت سے اسے کے سر کو بیڈ پر رکھا اور پھر جلدی سے ٹانگوں کو پکڑ کر ان کو اوپر رکھا آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا سانس بری طرح پھول چکا تھا کندھے میں سے تکلیف کی لہریں اب سر کی طرف جا رہی تھیں وہ بے انتہا وزنی تھا ۔ کچھ دیر اسی طرح کھڑے ہو کر سانس کو بحال کیا پھر فرسٹ ایڈ باکس لے کر کمرے میں آٸ اس کے کپڑے ریچھ کے ناخن مارنے کی وجہ سے جگہ جگہ سے چیتھڑے بن چکے تھے ۔ اتارنے کے ارادے کو ترک کیا اور قینچی کی مدد سے اس کی زخمی ٹانگ والی طرف سے پینٹ کو کاٹنا شروع کیا ۔
*******
“ my son is not in them officer”
” ان میں میرا بیٹا نہیں ہے افیسر “
میر دلاور نے بوکھلا کر پاس کھڑے پولیس آفیسر سے کہا ۔ آسٹریلیوی فوج آپریشن کامیاب کر چکی تھی اور یرغمال بناۓ گۓ لوگوں کو اب ان کے اپنے لینے آۓ ہوۓ تو وہ لوگ ایمبولینس سے نکل کر اپنے اپنے پیاروں کے گلے لگ رہے تھے ۔ میر دلاور پاگلوں کی طرح آنے والے تمام لوگوں میں علیدان کو تلاش کر رہے تھے پر ان میں کہیں بھی انہیں اپنے علیدان کا چہرہ نظر نہیں آ رہا تھا۔
” hay!!! Please tell me where is my son? “
” ہے !!مہربانی کر کے مجھے بتاٸیں میرا بیٹا کہاں ہے؟ “
پولیس آفیسر کے پاس جا کر چیخنے جیسے انداز میں پوچھا ۔ اتنا رش تھا شور تھا کوٸ بات نہیں سن رہا تھا ۔ میر دلاور کے چہرے پر ہواٸیاں اڑی ہوٸ تھیں بہت سے لوگ اپنے اپنے پیاروں کی لاشوں پر ماتم کر رہے تھے عورتیں بچے رو رہے تھے ۔
“Listen please. Listen to me. He was a tall blonde boy. He was there with you guys on the bus.”
” سنیں سنیں پلیز میری بات سنیں وہ لمبے قد کا گورا سا لڑکا وہ بھی تھا آپ لوگوں کے ساتھ بس میں وہ کہاں ہے “
میر دلاور نے سامنے سے سر جھکاۓ آتے ایک آدمی کو روکا اس کا شاٸد کوٸ اپنا نہیں آیا تھا ۔میر دلاور نے اسے پکڑ کر جھنجوڑ ڈالا ۔ وہ آدمی اب ذہن پر زور ڈال رہا تھا اور بغور میر دلاور کو اوپر سے نیچے دیکھ رہا تھا ۔
“He was killed on the first day to save his wife . They were carrying his wife”.
” وہ پہلے دن ہی اپنی بیوی کو بچانے کی خاطر اس کے ساتھ مارا گیا وہ لوگ اس کی بیوی کو اٹھا کر لے جا رہے تھے “
آدمی نے گھٹی سی آواز میں جواب دیا اور میر دلاور کے کندھے پر دلاسے کے انداز میں ہاتھ رکھا ۔
” واٸف اس کی تو کوٸ واٸف نہیں تھی “
میر دلاور اب پھر سے اس آدمی کے کندھے کو ہلا رہے تھے پر وہ کندھے اچکا کر آگے بڑھ گیا ۔ تبھی اشرف بھاگتا ہوا ان کے پاس آیا ۔
” میں نے پتہ کیا ہے خبر اچھی نہیں میر صاحب ایک لڑکی کو اٹھا کر لے جارہے تھے وہ لوگ علیدان نے اسے بچانے کی خاطر ان لوگوں کو للکارہ اور ان لوگوں نے ۔۔۔۔۔۔“
اشرف نے نظریں جھکا دیں اور فقرہ ادھورا چھوڑا میر دلاور کا چہرے کر رنگ فق ہوا ۔ اس سے پہلے کہ وہ ایک طرف ڈھے جاتے اشرف نے بڑھ کر ان کو تھاما
” میر صاحب سنبھالیں خود کو میر صاحب “
وہ ان کو باہوں میں سنبھالے ہو ۓ کہہ رہا تھا ۔
***********
عجیب سی آوز مسلسل ذہن سے ٹکرا رہی تھی کیں۔۔ کیں۔۔۔ جیسی کسی مشین کے چلنے کی آواز تھی ہوش میں آنے پر بند آنکھوں سے کانوں میں پڑتی یہ آواز تھی ۔ پیشانی پر شکن پڑے اور پھر پلکیں لرز کر آنکھوں کے پوٹے اکٹھے ہوۓ تھے ۔
دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو اوپر پنکھا چل رہا تھا جو پہلے دھندلہ تھا پھر آہستہ سے واضح ہوا کمرے میں جلتے بلب نے کمرہ روشن کر رکھا تھا ۔ پنکھا بہت آہستہ رفتار میں عجیب سی آواز نکالتا ہوا چل رہا تھا ۔
وہ بیڈ پر چت لیٹا تھا سر کے نیچے تکیہ تھا جسم پر مختلف جگہ پر پٹی کی ہوٸ تھی جن پر سے سرخ رنگ کے خون کے دھبے واضح تھے ۔ پینٹ کی دونوں ٹانگیں اوپر تک کاٹی ہوٸ تھیں اور ٹانگوں پر بھی پٹی تھی شرٹ جسم پر نہیں تھی اور پیٹ پر بھی مختلف جگہ پر بینڈیج تھی ۔
آہستگی سے گردن کو گھما کر دیکھا تو وہ اس کے سینے کے بلکل پاس باٸیں طرف کرسی پر بیٹھی سر کو بیڈ پر ٹکاۓ ہوۓ گہری نیند سو رہی تھی بالوں کی کچھ لٹیں پنکھے کی ہوا سے اڑ رہی تھیں ۔
گردن گھما کر داٸیں طرف دیکھا جالی کے ہلتے پردے سے باہر رات کا اندھیرا پھیلا ہوا تھا اور سامنے ٹرباٸین ہوا میں گھوم رہا تھا کھڑکی کا ایک طرف کا شیشہ ٹوٹا ہوا تھا ۔ بیڈ کے ایک طرف کھڑی الماری چادر سے ڈھکی تھی ہر طرف جالے تھے ۔
سر کو اوپر اٹھا کر اٹھنے کو کوشش کی تو جیسے سارے جسم میں سوٸیاں چبھ گٸ ہوں ۔ آنکھوں کے آگے اندھیرا سا لہرا گیا ۔
” آہ۔ہ۔ہ۔ہ۔ہ۔“
بےساختہ تکلیف کے اثر سے نکلنے والی چیخ پر قابو نا پاسکا چیخ کو سنتے ہی وہ تھوڑا سا کسمساٸ اور پھر جھٹکے سے سر اٹھایا ۔ علیدان نے بغور جاٸزہ لیا گردن پر گالوں پر ہاتھوں پر جگہ جگہ مٹی اور خون لگا تھا یقیناً وہ خون اسکا تھا ۔
علیدان سے نظروں کا تصادم ہوا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیا ۔ وہ ٹھیک تھا ہوش میں آ گیا تھا اذفرین نے منہ پر ہاتھ رکھے اور پھر آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔
کیا تھی سامنے بیٹھی یہ معصوم سی لڑکی کبھی تو اتنی ڈرپوک کہ درخت نہیں چڑھ پاتی اور کبھی اتنی مضبوط کے کھڑکیاں توڑ کر انجانے گھر میں گھس جاتی ہے اور مجھے اٹھا کر بیڈ پر لیٹا دیتی ہے ۔ علیدان نے حیرت سے اُسے دیکھا اب وہ اپنے مخصوص انداز میں بار بار ہاتھ کی پشت سے آنسو گالوں پر سے رگڑ رہی تھی اور ہاتھوں کا خون اب گالوں کو رنگ رہا تھا ۔
وہ اس وقت مٹی خون میں اٹی بکھرے الجھے بالوں سوجی آنکھوں کے ساتھ بھی دنیا کی حسین ترین لڑکی لگ رہی تھی ۔ دل عجیب سے انداز میں دھڑکنے لگا ۔ کتنا عجیب ساتھ تھا اور کتنا انوکھا احساس تھا جو اس وقت دل محسوس کر رہا تھا اس انجان لڑکی کے لیے ۔ علیدان دلاور آج سے پہلے اس احساس سے آشنا نہیں ہوا تھا ۔
”تم کسی کے زندہ بچ جانے پر اتنا روتی ہو تو مرنے پر کتنا روتی ہو گی “
علیدان نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ ملاٸم مگر خفیف سے لہجے میں کہا ۔ وہ جو رو رہی تھی ایک پل کے لیے تھم سی گٸ کیا کہوں اسے کہ کیوں رو رہی ہوں اس کے لیے ابھی تو خود بھی نہیں جانتی کہ کیا ہو گیا ہے مجھے کیوں دل عجیب سے احساس سے روشناس ہو رہا ہے وہ کیوں اپنا سا لگنے لگا ہے ایسا اپنا جس کے بنا جینے کا تصور محال لگنے لگا ہے ۔
” زخم کیسا ہے تمھارا اب “
علیدان نے گہری نظروں سے دیکھتے ہوۓ آہستگی سے پوچھا ۔ اور کہنی کے بل پھر سے اٹھنے کی ناکام کوشش کی ۔ پر تکلیف چہرے پر زردی اور شکن کی شکل میں نمودار ہوٸ اذفرین تڑپ کر کرسی پر سے اٹھی ۔
” ٹھیک ہے میں ٹھیک ہوں لیٹے رہیں “
اذفرین نے اس کے اوپر جھکتے ہوۓ کندھے کو تھاما ۔ علیدان نے خود پر جھکے اس کے چہرے پر گہری نظر ڈالی بالوں کی کتنی ہی لیٹیں علیدان کے چہرے سے ٹکرا گٸیں
علیدان کی نظریں عجیب طرز لیے ہوۓ تھیں وہ جھینپ گٸ ۔ دل کے دھڑکنے کی رفتار بڑھ گٸ تھی ۔ وہ جس نظر سے دیکھ رہا تھا اب سے پہلے نہیں دیکھا تھا ایسے بڑی بڑی آنکھیں خوابناک تھیں پر ان میں عجیب سی چمک تھی میٹھی سی لہر ریڑھ کی ہڈی میں سراٸیت کرنے لگی ۔
” وہاں کچھ لگایا “
علیدان نے اس کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ سرگوشی کے انداز میں پوچھا اور آنکھوں سے اشارہ اذفرین کے کندھے کی طرف کیا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: