Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Episode 9

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – قسط نمبر 9

–**–**–

” جی لگایا ہے “
اذفرین نے اس کی خود پر گڑی نظروں سے نظریں چرا کر مدھم سے لہجے میں کہا ۔ اسکی نرم سی نظریں دل کو گداگدا رہی تھیں خود کی حالتِ غیر سے الجھتے ہوۓ بلاجواز علیدان کے سر کے نیچے رکھے تکیے کو درست کیا ۔ علیدان کی پیشانی کے داٸیں طرف نیل کا نشان تھا اور نچلے لب کے بلکل نیچے گھاٶ تھا وہ ریچھ کے حملے کے دوران چہرے کو دونوں بازو آگے کیے ڈھکتا رہا تھا جس کے باعث چہرے کی حالت باقی جسم کے حالت سے بہتر تھی اذفرین نے ڈریسنگ سے پہلے اس کے سارے جسم اور منہ کو گیلی روٸ سے صاف کیا تھا یہی وجہ تھی چہرہ اب صاف تھا اذفرین نےاس پر جھکے چہرے کو اوپر کرنے کی غرض سے پیچھے ہونا چاہا۔
”دکھاٶ تو مجھے “
علیدان نے ملاٸم سے لہجے میں کہتے ہوۓ اس کی کلاٸ تھام کر پیچھے ہونے سے روک دیا ۔ وہ سٹپٹا ہی تو گٸ ۔علیدان کی آواز میں دنیا جہان کی اپناٸیت تھی ۔ اس کے انداز پر دل نے جیسے جھولا لگا کر اوپر نیچے جھولنا شروع کر دیا ۔ وہ کلاٸ کو تھامے ہوۓ تھا اور نظریں ہنوز اذفرین کے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔
” نہیں لگایا یاد نہیں رہا “
مدھر سی سرگوشی میں سچ کہتے ہوۓ کلاٸ کو چھڑوانے کی خاطر اسے خم دیا پر ناکام سعی کیا پتا تھا وہ کہے گا دکھاٶ اسی لیے جھوٹ بول گٸ تھی ۔
عجیب سا سحر تھا جو اس کی قربت میں وہ محسوس کر رہا تھاروٸ جیسی نرم سی کلاٸ ہاتھ میں گھومی تو طلسم ٹوٹا اذفرین کی پلکوں کی جھالر گالوں پر کپکپانے لگی تو احساس ہوا وہ اسے پریشان کیے ہوۓ ہے ۔ وہ اتنا پاس تھی کہ دل کے وہ جزبات جن سے ابھی وہ خود بھی پوری طرح آگاہ نہیں ہوا تھا ان میں بہہ کر اس کی کلاٸ تھام بیٹھا تھا ۔ دھیرے سے گرفت کو ختم کیا اور زبردستی کی خجل سی مسکراہٹ چہرے پر سجاٸ وہ بکھرے بالوں کو کانوں کے پیچھے آڑستی پلکیں لرزاتی پیچھے ہوٸ ۔
” چلو لگاٶ وہی مرہم جو میرے زخموں پر لگایا ہے “
علیدان نے دل کی بے ترتیب دھڑکنوں پر قابو پا کر حکمانہ انداز اپنایا ۔ اذفرین نے نظریں جھکاۓ ہی سر کو اثبات میں ہلایا ۔
” لگاتی ہوں “
لرزتی سی آواز میں کہتی تیزی سے دھڑکنوں کی رفتار کو قابو کرتی کمرے کے داخلی دروازے کی طرف لپکی ۔
” سنو کیا میڈیسن بھی ہے فرسٹ ایڈ باکس میں؟ “
عقب سے آتی علیدان کی آواز پر قدم تھمے پر وہ پلٹی نہیں عجیب سا چور تھا دل میں کہ وہ لجاٸ سی صورت سے پہچان لے کہ اس کا کلاٸ تھامنا رویں رویں میں سوٸیاں چبھو گیا ہے ۔
” جی ہے پر ۔۔۔ ایکسپاٸر ہے شاٸد میڈیسن، نہیں کھانی چاہیے“
آہستگی سے کہتے ہوۓ رک کر اس کے جواب کا انتظار کیا ۔ پر اسکی طرف سے خاموشی کو محسوس کرتی جلدی سے باہر نکلی سینے پر ہاتھ رکھے تیز تیز سانس لیتے ہوۓ دھڑکنوں کو بحال کیا لاونج کے اطراف میں بناۓ گۓ چھوٹے سے بیت الخلا میں لگے آٸینے میں خود کو دیکھا تو دھک رہ گٸ خون آلودہ چہرہ مٹی سے آٹے بال اففف ایسی لگ رہی ہوں میں اس وقت دل کا دھڑکنا فوراً بند ہوا ۔ وہ جو اس کی نظروں کی تپش کو اس کے دل میں ابھرتے جزبات سمجھ کر سحر زدہ تھی اپنے ہی خیال کو جھانپڑ ریسد کیا ۔ افف بھوت لگ رہی ہوں پوری دل میں ہنس رہا ہو گا یہ سوچ کر ہی دل میں دھواں سا بھرنے لگا ۔
جلدی سے باہر نکلی کچن میں لگے چھوٹے سے سنک کی نل کو چلایا کچھ دیر خالی ہوا جیسی آواز کے بعد پانی آنے لگا پر رفتار بہت کم تھی شام کو جس وقت علیدان کے لیے پانی لیا تھا اس وقت رفتار ٹھیک تھی پانی کی پر اب کم تھی جلدی سے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے نل کو بند کیا اور پھر سے جا کر بیت الخلا میں لگے شیشے میں چہرے کو دیکھا خون صاف ہو چکا تھا اب اور مٹی بھی اتر گٸ تھی ۔ ناک پر بس ایک جگہ جما ہوا خون چپکا تھا جلدی سے گیلے ہاتھوں سے ناک رگڑ ڈالی۔ فرسٹ ایڈ باکس میں سے پاٶڈین کے بچے کچھے لکیوڈ کو کندھے پر انڈیلا جیسے ہی قطرے کندھے پر گرے لب بے ساختہ فولڈ ہوۓ اور آنکھیں سکڑ کر پیشانی پر بل نمودار کر گٸیں سانس کو خارج کرتے ہوۓ تکلیف کو کم کیا ۔
کمرے کے پیچھے ہاتھ باندھے شرمندگی سے نظریں چراتی واپس کمرے میں آٸ تو وہ بیٹھا بیڈ سے ٹیک لگاۓ اپنے زخموں کا جاٸزہ لینے میں مصروف تھا پیشانی پر بل ڈالے اور منہ کو تکلیف کے انداز میں کھولے دانتوں کو ایک دوسرے میں پیوست کیے اپنی ٹانگ پر موجود گہرے گھاٶ کی پٹی کو کھول کر بیٹھا زخم کو بغور دیکھ رہا تھا ۔ کافی گہرا گھاٶ تھا ٹانگ کی جلد کٹ کر نیچے موجود گوشت واضح تھا اسی طرح کا ایک گہرا گھاٶ سینے سے تھوڑا نیچے تھا باقی گھاٶ قدرے کم تھے پر جسم پر نیل بے تحاشہ تھے ۔
سر اٹھا کر ایک نظر اذفرین پر ڈالی نکھرہ سا چہرہ لیے وہ اس کے زخم کی تکلیف کو چہرے پر سجاۓ پریشان حال سی کھڑی تھی ۔ علیدان نے اُسی پٹی کو پھر سے زخم پر گھمانا شروع کیا تو وہ جلدی سے پاس آ کر اس کی مدد کرنے لگی ۔ پٹی کو درست کرنے کے بعد وہ لب بھینچے پھر سے لیٹا تو اذفرین بھی بیڈ کے پاس رکھی کرسی پر براجمان ہوٸ ۔
” یہاں کیوں بیٹھ رہی ہو سو جاٶ اب میں ٹھیک ہوں “
علیدان نے اسے پھر سے کرسی پر بیٹھے دیکھ آہستگی سے کہا ۔ اذفرین نے جھینپ کر نظر اٹھاٸ دھڑکن پھر سے تیز ہوٸ
”مہ میں یہیں سو جاتی ہوں آپ آرام کریں “
خجل ہوتے ہوۓ کہا اور کرسی کی پشت سے سر ٹکایا۔ علیدان نے بغور اس کے چہرے کا جاٸزہ لیا وہ بیڈ پر آنے سے کیوں گھبرا رہی ہے ۔ نظریں بھی چرا رہی تھی ۔
”کیا ایک بیڈ نے مجھ پر سے بھروسہ ختم کر دیا “
معنی خیز لہجے میں پوچھا ۔ اس کے اس انداز پراذفرین گڑبڑا گٸ۔ چونک کر اس کی طرف دیکھا وہ آبرٶ چڑھاۓ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔
” نہیں نہیں ایسی تو کوٸ بات نہیں “
جلدی سے وضاحت دی شرمندہ سی ہوٸ پر وہ ابھی بھی گہری نظروں سے اس کا چہرہ جانچ رہا تھا ۔ کلاٸ تھام کر غلط کیا میں نے علیدان نے خودساختہ سوال کیا جس پر ذہن نے اپنی غلطی کو تسلیم کیا ۔
” تو پھر ؟“
علیدان نے بھنوٶں کو اوپر چڑھاۓ گھٹی سی آواز میں سوال کیا ۔ اذفرین نے بچارگی سے دیکھا کوٸ جواز نہیں تھا اس کے پاس کیا بتاتی کہ خود ہی اس کے لیے محسوسات بدل بیٹھی ہے چار دن میں خود پر غصہ آیا ۔ درخت پر بھی تو ایک تنے پر اس کے ساتھ ہی تھی چار دن سے وہ سہی تو کہہ رہا ہے اتنے دن سے اتنا تحفظ بھرا ساتھ دیا اس نے ۔
” لیٹو ادھر آ کر اور سو جاٶ “
علیدان نے حکمانہ لہجے میں کہتے ہوۓ گردن کو خم دے کر بیڈ کی داٸیں طرف موجود جگہ کہ طرف اشارہ کیا وہ فوراً حکم کی تعمیل میں سر جھکاۓ اٹھی اور اس کی طرف پشت موڑے سمٹ کر لیٹ گٸ ۔ تکیے کے کونے کو زور سے ہاتھ کے ساتھ بھینچ ڈالا الجھ کر رہ گٸ تھی اپنے دل کے ہاتھوں
ایسا بی ہیو کیوں کر رہی ہے سارا قصور میرا ہے اس کو یوں دیکھوں گا تو وہ انسکیور فیل کرے گی نہ خود کو، علیدان نے خود کو لتاڑا اور گہری سانس لی ۔
******
فروا نے گھبرا کر سعد کے جھکے سر کو دیکھا اور پھر ہاتھوں کو مڑوڑتی کمرے میں داخل ہوٸ اور اس کے قریب آٸ وہ بیڈ پر نیچے ٹانگیں لٹکاۓ پیشانی کو ہاتھوں پر ٹکاۓ بے آواز رو رہا تھا۔ اذفرین کی موت نے دل دہلا دیا تھا اور سعد کی تو کل سے بہت بری حالت تھی ۔ وہ لوگ ابھی بھی سڈنی میں ہی تھے ۔
”سعد پلیز حوصلہ کریں “
فروا نے لڑکھڑاتی آواز میں کہتے ہوۓ سعد کے کندھے پر ہاتھ رکھا ہاتھ کے دباٶ کو بڑھا کر دلاسہ دیا ۔پر وہ تو جیسے سن ہی نہیں رہا تھا صبح کے چار بج رہے تھے اور وہ شام سے یوں ہی اسی حالت میں بیٹھا تھا ۔ فروا اس کا کندھا تھامے بے حال سی کھڑی تھی جب سعد کے موباٸل فون کی رنگ ٹون بجی فروا نے گردن گھما کر سعد کے پیچھے پڑے موباٸل پر نظر ڈالی ۔ وہ سر کو اوپر اٹھاۓ اب آنکھیں صاف کر رہا تھا ۔ فون پر مہرین کا نام جگمگا رہا تھا ۔
”کس کی ہے کال ؟“
رونے کی وجہ سے بھاری ہوتی ہوٸ آواز میں پوچھا۔ فروا جھک کر فون اٹھا چکی تھی ۔
” مہرین آپی ہیں “
فروا نے سرگوشی میں جواب دیا اور فون سعد کے آگے کیا ۔ سعد گھبرا کر نظریں چرا گیا ۔ وہ دوپہر سے کال کر رہی تھی جسے وہ نہیں اٹھا رہا تھا۔
” سعد ان کو بتانا ہو گا پلیز یہ کوٸ چھوٹی بات نہیں جو ہم مہرین آپی سے چھپاٸیں “ فروا نے آہستگی سے کہتے ہوۓ فون والے ہاتھ کو سعد کی آنکھوں کے سامنے کیا ۔
” مجھ میں ہمت نہیں ہے تم بتاٶ اسے پلیز “
سعد نے التجاٸ نظر فروا پر ڈالی اور تھوک نگلا مہرین کو اذفرین کے گزر جانے کی خبر دینے کی ہمت نہیں تھی اس میں ۔
” اوکے میں کرتی ہوں بات آپ پلیز خود کو سنبھالیں “
فروا تسلی آمیز لہجے میں کہتی فون کو کان سے لگاۓ باہر نکلی ۔ سعد بازو پھلاۓ بیڈ پر ڈھے سا گیا ۔
ایک ایک ذمہ داری دے کر گۓ تھے دونوں مجھے اور
میں نے اپنی زندگی کی مصروفیات کو ترجیح دی سعد کا دل پھٹ رہا تھا بار بار اپنی کوتاہیاں یاد آ رہی تھیں کہ ماں باپ کے گزر جانے کے بعد اذفرین شادی سے پہلے تک اس کی ذمہ داری تھی خود کو کوسنے کے علاوہ اب کوٸ چارہ نہیں تھا ۔
وہ مہرین سے ایک سال چھوٹا تھا پر اذفرین سے چار سال بڑا تھا ۔ ماں باپ گزر جانے کے بعد اس کی شادی کو ایک سال ہی گزرا تھا جب نجف نے اسے اور فروا کو آسٹریلیا بلوالیا تھا اور وہ اذفرین کو مہرین کے حوالے کرتا خود یہاں آ گیا تھا اذفرین اس وقت میٹرک کی طلبہ تھی ۔
پھر چار سال بعد فروا کی خواہش پر واپسی کی کیونکہ وہ نجف سے اذفرین کا رشتہ کرنا چاہتی تھی پاکستان جا کر دیکھا تو مہرین اپنے ایک ٹانگ سے معزور دیور کے ساتھ اذفرین کی نسبت طے کر چکی تھی باسط اذفرین سے عمر میں بھی بہت بڑا تھا ۔ مہرین اور اس کے شوہر بازل سے لڑ لڑا کر وہ زبردستی اذفرین کو آسٹریلیا لے آیا تھا پر فروا نے سڈنی میں ایک سٹور میں ورکر کی ملازمت پر رکھوا کر اذفرین کو سڈنی اپنی امی کے گھر بھیج دیا اور سعد سے کہا کہ ایک دو ماہ میں شادی بھی ہو جاۓ گی تو ابھی سے وہیں رہ لے گی تو کیا فرق پڑتا ہے سعد کو یہ بات تھوڑی معیوب ضرور لگی تھی پر فروا کے بہت سمجھانے پر چپ ہو گیا پر مہرین کو اس بات کی آگاہی نہیں دی تھی یہی وجہ تھی اب وہ مہرین سے گھبرا رہا تھا ۔
******
” کیا کر رہی ہو؟“
علیدان کی عقب سے آتی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ کمرے کے داخلی دروازے کو تھامے کھڑا تھا وہ پیٹ کے زخم پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا اذفرین کچھ کھانے کی تلاش میں تھی کل دوپہر سے کچھ نہیں کھایا تھا دونوں نے اور آج تو آنتیں سکڑنے لگی تھیں اسی لیے وہ صبح اٹھتے ہی منہ ہاتھ اور بال دھو کر پورے گھر میں کچھ کھانے کو تلاش کر رہی تھی ۔ اپنی مٹی سے اور گندگی سے بھری شرٹ اتار کر الماری سے برآمد ہونے والی ہلکے گلابی اور سفیر رنگ کی افقی لاٸنوں والی شرٹ زیب تن کیے ہوۓ تھی ۔ جو اس کو اتنی کھلی تھی کے گلے سے پکڑ کر بار بار وہ اس کے کندھے کو درست کر رہی تھی ۔ وہ یقیناً کسی صحت مند آدمی یا عورت کی تھی ۔
کچن کے سنک سے آتے پانی سے وہ منہ ہاتھ اور بال دھو چکی تھی اور اب وہاں سے قطرہ قطرہ پانی ٹپک رہا رھا تھا جس کے نیچے اس نے ایک عدد ساس پین رکھا ہوا تھا فریج میں کچھ ٹن پیک فوڈ پڑے تھے لیکن وہ سب ایکسپاٸرڈ ہو چکے تھے اذفرین نے پھر بھی ان کو کھول لیا تھا پر ان میں سے بدبو کے ایسے بھبھکے اٹھے کہ ان کو باہر پھینکنا ہی پڑا ۔
اور اب وہ کچن کے سارے کیبن کھول کر بیٹھی تھی جس میں سے پاستہ کی تین پیکٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکی تھی ۔ وہ پیکٹ ہی ہاتھ میں پکڑے ان کو الٹ پلٹ کرتے ہوۓ ان کی ایسپاٸیرڈ تاریخ دیکھ رہی تھی جب پیچھے سے علیدان کی آواز آٸ جو شاٸد کچھ دیر پہلے ہی اٹھا تھا ۔
علیدان کی آنکھ کھلی تو وہ ساتھ نہیں لیٹی تھی کمرے سے باہر کچھ کھٹ پٹ کی آوازوں کے ساتھ پانی کے قطرے گرنے کی آواز بھی آ رہی تھی بہت ہمت جتا کر وہ ٹانگ گھسیٹتا یہاں تک پہنچا تھا ۔ دیکھا تو لاونج سے ملحقہ کچن کے چھوٹے سے سنک میں ایک ساس پین میں پانی کے قطرے گر رہے تھے اور وخود کچن کے سارے کیبنیٹ کھولے ہاتھ میں دو پیکٹ لیے بیٹھی تھی بال گیلے تھے چہرہ صاف شفاف تھا اور ہلکے گلابی اور سفید رنگ کی شرٹ زیب تن کیے وہ دلکشی کی تمام حدیں پار کر رہی تھی۔
اذفرین کے لیے محسوسات تو دل کل سے ہی لے بیٹھا تھا اور اب اس کے حسن پر ششد رہ گیا۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ دل کے بند دروازے پر داڑاریں پڑ رہی تھیں ۔ اور اب بھی اس کو یوں گیلے بالوں اور نکھرے چہرے کے ساتھ دیکھ کر دل کا کچھ ایسا ہی حال ہوا تھا ۔ وہ کوٸ دل پھینک لڑکا نہیں تھا اور یہ بات آج تک اس کے لیے غرور کا باعث تھی کالج سے لے کر یونیورسٹی تک بہت سی لڑکیوں کو خود کے لیے آہیں بھرتا دیکھا پر کبھی کوٸ دل پر لگے قفل کھولنے میں کامیاب نہیں ہو سکی تھی پر یہ انجان لڑکی آج علیدان کے غرور کو پاش پاش کر چکی تھی ۔
” آپ اٹھ کر کیوں آۓ لیٹیں جا کر “
اذفرین نے اسے یوں تکلیف سے لب بھنیچے کھڑے دیکھا تو جلدی سے ہاتھ جھاڑتے ہوۓ اٹھی ۔ اب وہ لکڑی کے فرش پر اپنے خون کی اور مٹی کی لکیریں دیکھ رہا تھا یقیناً کل وہ اسے گھسیٹ گھسیٹ کر کمرے تک لے کر گٸ ہو گی۔ محبت پاش اور مشکور نظروں سے سامنے کھڑی لڑکی کی طرف دیکھا جو بظاہر ہی نازک سی نظر آتی تھی ۔
” ٹھیک ہوں میں معمولی زخم تھے “
علیدان نے تکلیف کے زیر اثر ناک کو اوپر چڑھاتے ہوۓ کہا جبکہ لب مسکرا رہے تھے۔ آنکھیں چمک رہی تھیں ۔ چہرہ تکلیف سے زرد تھا فقط پیشانی کے داٸیں طرف بنا چھوٹا سا گھامڑ نیلا ہو رہا تھا ۔
”معمولی تو نہیں بہت گہرے گھاٶ ہیں “
اذفرین نے اس کی بات کو رد کیا اور اب وہ بلکل اس کے سامنے کھڑی تھی تاکہ اسے سہار دے کر واپس بیڈ پر لیٹا سکے ۔
” خلوص سے لگایا گیا مرہم گہرے گھاٶ کو بھی معمولی بنا دیتا ہے “ علیدان نے گہری نظریں اس کے چہرے پر ٹکا کر معنی خیز جملہ اچھالا
اذفرین نے چونک کر اس کی آنکھوں میں دیکھا ۔ اور پھر گہری دل میں اترتی آنکھوں کی تاب نہ لاتے ہوۓ فوراً نظریں چراٸیں ۔ نظر جھکی تو اس کی ٹانگ پر پڑی جس کی پٹی تازہ خون سے رنگ رہی تھی
” جھوٹ کہہ رہے ہیں بلکل خون رسنا شروع ہو چکا ہے ٹانگ سے “ اذفرین نے پیشانی پر بل ڈالے خفگی سے کہا جس پر علیدان نے فوراً نیچے ٹانگ کی طرف دیکھا شاٸد زور لگا کر چلنے کی وجہ سے زخم سے دوبارہ خون نکلنا شروع ہو چکا تھا ۔
” چلیں لیٹیں وہاں لیٹیں “
اذفرین پیشانی پر بل ڈالے پریشان سے لہجے میں کہتی قریب ہوٸ اور اس کو سہارا دیا وہ اب ایک ٹانگ کو گھسیٹتا ہوا اس کی گردن کے گرد بازو حاٸل کیے بیڈ تک آیا۔
” دیکھ رہی تھی کچھ کھانے کے لیے مل جاۓ اگر“
علیدان کے سر کے نیچے تکیہ درست کرتے ہوۓ کہا ۔ جبکہ وہ لب بھینچے ناک چڑھاۓ تکلیف کو برداشت کر رہا تھا ۔
“ سب گلا سڑا پڑا ہے بس تین پاستہ کے پیکٹ ہیں ایکسپاٸر ہیں پر تین ماہ پہلے کی ایکسپاٸرڈ تاریخ ہے “ پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ سوالیہ نظروں سے علیدان کی طرف دیکھا کہ کیا کرے ۔ علیدان نے پرسوچ نظر اس پر ڈالی اور پھر گہری سانس لی
” بنا لو ایکساپٸر ہی ہے زہریلے تو نہیں زندہ رہنا ضروری ہے “
علیدان نے ٹانگ کو پکڑ کر درست کرتے ہوۓ گھٹی سی آواز میں کہا ۔ وہ دھیرے سے سر ہلاتی باہر آٸ جس کسی کا بھی یہ ہنٹنگ ہٹ تھا وہ یہاں اپنی سہولت کی ہر چیز لایا ہوا تھا الیکٹرک چولہا تھا روم فریج تھا کتابیں تھیں اذفرین نے کچن کے سنک میں قطرہ قطرہ گرتے پانی کی طرف دیکھا ساس پین آدھے سے زیادہ بھر چکا تھا ۔ پانی کو الیکٹرک چولہے پر رکھے اب وہ اس کے مختلف بٹنوں کو دبا دبا کر دیکھ رہی تھی کہ کیسے چلے گا۔
********
” میرا بیٹا ان میں نہیں ہے دیکھیں مجھے جنگل میں سرچ آپریشن کروانا ہے “
میر دلاور نے اپنے سامنے کھڑے آسٹریلوی پولیس آفیسر سے التجا کی ۔ وہ کچھ دیر قبل مردہ خانہ سے باہر آۓ تھے یہ سڈنی کا سرکاری ہسپتال تھا جہاں کے مردہ خانے میں ان تمام لوگوں کی لاشیں رکھی گٸ تھیں جو جنگل کے سانحہ میں جاں بحق ہوۓ تھے اب ان کے ورثہ ان کی لاشیں وہاں سے لے جا رہے تھے میر دلاور بھی دل مضبوط کیے آۓ تھے پر ان میں علیدان نہیں تھا ۔
اور یہ دیکھ کر جیسے ان کے بے جان وجود میں جیسے کسی نے روح پھونک دی تھی دل کو گمان ہونے لگے تھا کہ ان کا بیٹا زندہ ہے ۔
” میر صاحب یہ اتنا آسان نہیں ہے سرچ آپریشن کی اجازت ملنا ہی بہت مشکل ہے “
آفیسر نے مایوس لہجے میں کہتے ہوۓ سامنے بے حال سے کھڑے میر دلاور کی طرف دیکھا ۔ میر دلاور نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا ۔
” نہیں نہیں آپ نہیں جانتے میرے بیٹے کو میں جانتا ہوں اسے جتنا پیسہ لگتا ہے لگواٸیں جہاں سے اجازت لینی ہے لیں میرا بیٹا زندہ ہے مجھے یقین ہے “ میر دلاور بے بسی سے ہاتھ جوڑے کھڑا تھا ۔
اور سامنے کھڑا آفیسر اب گہری سوچ میں تھا ۔
*********
” ام م م م ۔۔۔“ کراہنے کی عجیب سی آتی آواز پر آنکھ کھلی تو علیدان کمرے میں موجود الماری کے پاس کھڑا سینے کے نیچے والے زخم کے گرد پٹی کو باندھ رہا تھا ۔
دو دن سے وہ وہی خون آلودہ پٹی روٸ بدل بدل کر اسے باندھ رہی تھی اور آج وہ خود پٹی کر رہا تھا وہ بہت مضبوطی سے پیٹ کے گرد کمر سے گھماتا ہوا پٹی کر رہا تھا ۔ ایسی ہی مضوبط پٹی وہ ٹانگ پر شاٸد پہلے ہی کر چکا تھا کیونکہ وہاں وہ الماری سے نکالی ہوٸ پینٹ کو زیب تن کیے ہوۓ تھا پینٹ اسے بہت کھلی تھی جسے وہ بیلٹ کی مدد سے کمر پر ٹکاۓ ہوۓ تھا ۔ اذفرین جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر اس کے پاس آٸ ۔ انہیں اب یہاں تیسرے دن کی صبح تھی ۔ علیدان نے دو دن کا زیادہ وقت سو کر گزرارا تھا کیونکہ زخموں کی وجہ سے وہ دو دن تک تیز بخار میں مبتلہ رہا تھا ۔
”میں کر دیتی ہوں “
اذفرین نے قریب آ کر اس کے ہاتھ سے پٹی تھامی علیدان نے بنا کسی مزاحمت بازو اوپر کر لیے کیونکہ خود سے پٹی کرنا تکلیف دہ عمل تھا ۔ اذفرین اب پٹی کو پیٹ کے گرد گھما رہی تھی ۔
”شرٹ پہن لوں پھر نکلتے ہیں یہاں سے“
علیدان نے آہستگی سے کہا اور ہاتھ نیچےکیے وہ پٹی کر چکی تھی ۔ اور اب اس کے پیچھے کھڑی تھی ۔
“علیدان آپ کے زخم “
اذفرین نے پریشان سے لہجے میں کہتے ہوۓ ۔ اس کی پیٹھ پر موجود گھاٶ کی طرف دیکھا پہلے سے تو بہت بہتر تھا پر ابھی بھی مکمل طور پر خشک نہیں تھا ۔
”نہیں بس اور نہیں رکنا یہاں اور آج تو کھانے کو بھی کچھ نہیں پانی بھی ختم ہے اب “ علیدان نے دو ٹوک لہجے میں کہا پتہ نہیں کیوں اُسے اس کی چھٹی حس آگاہی دے رہی تھی کہ قریب ہی کوٸ رہاٸشی علاقہ ہو گا جہاں پہنچ کر انہیں نہ صرف پناہ ملے گی بلکہ وہ واپس بھی جا سکیں گے ۔
اذفرین گھوم کر اس کے سامنے آٸ اس کی شیو بہت بڑھ چکی تھی آنکھوں کے گرد حلقے تھے اور ابھی بھی تکلیف میں تھا پر وہ سہی کہہ رہا تھا یہاں مزید رکنا خود کو اور کمزوری کا شکار کرنا تھا۔
وہ اب سفید رنگ کی کھلی سی ڈریس شرٹ پہن رہا تھا اذفرین جلدی سے چیزیں سمیٹنے لگی گنز پانی کی بوتل فرسٹ ایڈ باکس سے لی گٸ کچھ ضروری چیزیں ایک عدد چھری پانی کا گلاس پلیٹ اس نے خالص عورتوں والے کام کیا تھا ایک چھوٹے سے تھیلے میں ضرورت کی سب چیزیں اکٹھی کر لی تھیں ۔
چیزیں سمیٹ کر جیسے ہی واپس مڑی تو بے ساختہ منہ پر ہاتھ رکھے کھلکھلا کر ہنس دی ۔ علیدان نے چونک کر اوپر دیکھا وہ ڈریس شرٹ کے بٹن لگا رہا تھا ۔ وہ اس سارے عرصے میں پہلی بار ہنس رہی تھی اور وہ اس کی ہنسی کے جلترنگ اور چہرے کے خدوخال کو دیکھ کر مبہوت سا رہ گیا ۔
وہ ہنستے ہوۓ بہت دل موہ لینے کے حد تک خوبصورت لگ رہی تھی ۔ ہنستے ہنستے اذفرین کی آنکھوں کے کونے نم ہو گۓ ۔علیدان کھلی سی ڈریس شرٹ میں مزاحقہ خیز لگ رہا تھا ۔ جس کو دیکھتے ہی اذفرین بے ساختہ امڈ آنے والی ہنسی پر قابو نہ پا سکی
” کیا ہوا ہنس کیوں رہی ہو ؟“
علیدان نے ایک آبرٶ چڑھاۓ سوال کیا ۔ وہ ہنستے ہوۓ ایسے لوٹ پوٹ سی ہوٸ تھی کے اس کی شرٹ کے دونوں اطراف کے کندھے ڈھلک گۓ تھے ۔
”خود کو دیکھیں تو کیا لگ رہے ہیں “ وہ مسلسل ہنس رہی تھی ۔ اور لطف اندوز ہو رہی تھی ۔
” اچھا میں کیا لگ رہا ہوں، خود کو تو دیکھو ایک نظر “
علیدان نے شریر سے لہجے میں کہتے ہوۓ گہری نظروں سے دیکھا اذفرین نے نیچے نظر کی تو پھر سر اٹھا نا سکی اب جاندار قہقہ اس کا گونج رہا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: