Mohay Piya Milan ki Ass Novel By Huma Waqas – Last Episode 31

0
موہے پیا ملن کی آس از ہما وقاص – آخری قسط نمبر 31

–**–**–

اذفرین نے جھینپ کر نظریں چراٸیں ۔ اوزگل اور ادیان اب صندل کو پھولوں اور کلیوں کی بنی ہوٸ چادر کے چھاٶں میں لا رہے تھے ۔ وہ ہلکے سبز اور جامنی رنگ کے کلیوں والے فراک میں خوب جچ رہی تھی ۔ ماتھے پر اذفرین کی ہی طرح کندن جڑی ماتھا پٹی تھی ۔
ایک جھولے پر صندل اور حسیب کو بٹھایا گیا تھا اور ایک جھولے پر وہ علیدان کے ساتھ بیٹھی تھی ۔ ہر طرف مسکراہٹوں اور قہقوں کا راج تھا ۔
سعد کے بعد اذفرین نے امبرین کو بھی کہاں بخشا تھا اس سے بھی سارے گلے شکوے کر ڈالے ۔ بعض اوقات اپنوں کو ان کی کوتاہیاں اور بے اعتناٸیاں یاد کروانے کا مطلب ان کو نادم کرنا ہر گز نہیں ہوتا بلکہ ان کو احساس دلانا ہوتا کہ ہر رشتہ لین دین کا محتاج ہوتا ہے ۔
کسی بھی رشتے کو پنپنے کے لیے سنگت کی ضرورت ہوتی ہے اور سنگت میں دنوں طرف سے ایک جیسا احساس ہونا ضروری ہوتا ہے ورنہ سنگت کی ڈور ٹوٹنے سے خونی رشتے بھی سرخ سے سفید پڑ جایا کرتے ہیں ۔
رسم شروع ہو چکی تھی ۔ لوگ اب باری باری جھولے پر ساتھ آ کر بیٹھ رہے تھے اور حنا کو ان کے ہتھیلیوں پر پڑے پان پتوں پر رکھتے ہوۓ رسومات پوری کر رہے تھے ۔
اذفرین پرسکون مسکان لبوں پر سجاۓ کبھی سامنے چہکتے خوش چہروں کو دیکھ رہی تھی اور کبھی علیدان کو جو اس کے بلکل بغل میں کسی فاتح کی طرح بیٹھا تھا۔ اس کی مسکراہٹ اسکی آنکھوں کی چمک اذفرین کی روح کو اندر تک سرشار کر تھی ۔
سعد سامنے میر دلاور کے بغل میں بیٹھا کسی بات پر ہنس رہا تھا ۔ فروا اور مہرین ہر کام میں پیش پیش تھیں ۔
اور پھر کہیں سامنے خلا میں اس کے امی ابو کھڑے مسکرا رہے تھے ۔ ان کے چہرے خوش تھے کیونکہ ساتھ بیٹھا یہ شخص اس کی زندگی میں ایک خوشگوار پھوار کی طرح تھا جس نے زیست کی بنجر زمین کو سیراب کر دیا تھا ۔
”کیا دیکھ رہی ہو ؟ “
علیدان نے اسے یوں یک ٹک خود پر نظریں جماۓ دیکھا تو قریب ہوتے ہوۓ سرگوشی کی وہ دھیرے سے مسکرا کر سر جھکا گٸ پھر ہتھیلی کے اوپر سجے پان پتے پر پڑی حنا پر نظریں جماۓ گویا ہوٸ ۔
”اپنی قسمت پر رشک کر رہی ہوں، دیکھ کہاں رہی ہوں “
مدھر سی لہجے میں دیا گیا اس کا جواب اس کے قلبی طمانت کی عکاسی کر رہا تھا ۔
علیدان نے محبت سے اس کی طرف دیکھا جو اب نگاہیں اٹھاۓ ہوٸ تھی ۔ کندن جڑے ماتھا پٹی اور اس کے نیچے گھنی پلکوں کی اٶٹ سے جھلکتی ہوش ربا آنکھیں عجیب سی چمک لیے ہوٸ تھیں ۔
”اچھا قسمت پر رشک تو مجھے ہو نا چاہیے نا ، جس کو مانگا جسے چاہا اسے پا لیا “
اذفرین کی آنکھوں میں جھانکتے ہوۓ محبت سے لبریز الفاظ ادا کیے ۔ اور پھر نگاہیں آنکھوں سے سفر کرتی اس کے ہونٹوں پر امڈ آنے والی پرسکون مسکان پر ٹھہر گٸیں ۔
”تو میں نے بھی تو جسے چاہا ، جسے مانگا ، اسے پایا ہے “
وہ آج ترکی با ترکی اظہار کر رہی تھی ۔ وہ بدلی بدلی اس کو مطمیٸن کر گٸ تھی ۔
سامنے اب ادیان اور کچھ اور کزن کوٸ بھنگڑا ڈال رہے تھے اور سب لوگ ان پر پرشوق نگاہیں جماۓ ، تالیاں پیٹ رہے تھے ۔
”میں نے تو آپ سے اور بہت کچھ پایا ہے ، ہمت ، بہادری اور اچھا گماں “
اذفرین نے گہری ہوتی مسکان کے ساتھ کہا تو علیدان نے ناسمجھی میں ہنس کر اس کی طرف دیکھا
”اچھا گماں ۔۔۔؟“
آنکھوں میں سوال لیے وہ پیشانی پر افقی لکیریں ابھارے دیکھ رہا تھا۔ اذفرین اس کے یوں حیران ہونے پر ہنس دی ۔پھر ہلکی سی سانس کو باہر انڈیلتی گویا ہوٸ
”ہاں اچھا گماں ، جنگل میں ان لوگوں سے بچ کر بھاگنے سے لے کر نکاح کی رات تک آپ کے اللہ سے اچھے گماں کو کبھی ڈگمگاتے نہیں دیکھا میں نے “
وہ آج بہت پر اعتماد لگ رہی تھی ، ڈری سہمی ہر مصیبت پر آنسو بہانے والی اذفرین کہیں غاٸب تھی ۔
”میں نے بھی بہت کچھ سیکھا ہے تم سے “
علیدان نے اُسی طرح بغور اسے دیکھتے ہوۓ پورے جذب سے کہا تو وہ اب جواب کی منتظر نظر آٸ ، بنا بولے آنکھوں سے سوال کیا ۔۔۔ کیا سیکھا آپ نے مجھ سے ؟
” محبت کرنا ، احساس کرنا اور ۔۔۔ “
علیدان آخری لفظ پر شرارت سے مسکرایا اذفرین نے تجسس بھری نگاہیں علیدان پر مرکوز کیں ۔ خوشی کی چھب لیے بڑی بڑی آنکھیں علیدان کے چہرے کو جانچ رہی تھیں
”اور ۔۔؟؟ “
علیدان کی شرارت کو بھانپتے ہوۓ آبرٶ اچکاۓ سوال کیا ۔ جس پر وہ بھرپور انداز میں ہنستے ہوۓ قریب ہوا ۔ شوخ سا انداز کچھ دیر پہلے کے اعتماد کا گلا گھونٹ رہا تھا ۔
”اور بات بہ بات رونے لگ جانا ۔۔۔ “
علیدان نے شریر سے لہجے میں جملا اچھلا جو اذفرین کے چہرے پر مصنوعی خفت کا سبب بن گیا ۔ اس کا یہ خفگی سے پھولا منہ علیدان کی شوخی کو ہوا دے رہا تھا ۔
”اچھا تو رونا سیکھا ہے آپ نے مجھ سے آپ تو کبھی نہیں رونے نہیں بیٹھے کسی بھی بات پر “
اذفرین نے خفت سے سوال کیا تو وہ بمشکل اپنی ہنسی روک کر سنجیدہ ہوا ۔ چہرہ پھر اس کی طرف موڑا
” اب کل سے آپ کا رونا ختم ہے میرا ہی تو سٹارٹ ہونے والا ہے “
مصنوعی سنجیدگی سے کہے گۓ جملے کا ساتھ شوخ آنکھیں ہر گز نہیں دے رہی تھیں ۔اذفرین نے آنکھیں سکوڑ کر خفگی سے منہ کھولا ۔
”بتاٶں آپکو ؟“
چھوٹی سی ناک بھی پھول گٸ تھی ۔ بے ساختہ بولنے کے لیے لب کھولے
”کل ۔۔۔۔کل بتانا ہاں ، کہا تو ہے کل سے میرا رونا دھونا سٹارٹ ہے “
علیدان نے ہنستے ہوۓ ایسے کہا جیسے وہ اس بات پر اسے مارنے والی ہو ۔ اب کی بار وہ بھی ہنس دی تھی ۔ ادیان کے ساتھ اب دوسرے لڑکے علیدان کو بھنگڑے کے لیے زبردستی اٹھا رہے تھے ۔ اور وہ نہیں نہیں کرتا سب کو گھور رہا تھا ۔
***********
سفید اور ہلکے گلابی رنگ کے پھولوں سے سجی مسہری اور اس کے مرکز میں وہ لہنگا پھیلا کر سر جھکاۓ بیٹھی کسی اور ہی دنیا کا منظر پیش کر رہی تھی ۔
سیاہ رنگ کی شیروانی میں ملبوس وہ مبہوت سا آگے بڑھا اور مہسری کی جھولتی لڑیوں کو ایک ہاتھ سے دور کر کے راستہ بناتا بلکل اذفرین کے سامنے بیڈ پر براجمان ہوا۔
پوری تقریب میں تو چاہ کر بھی اسے نظر بھر کر نہیں دیکھ سکا تھا اسی لیے اب آنکھیں دیدار سے سیر ہو رہی تھیں ۔ وہ جو پہلے ہی پلکیں گرا چکی تھی اب اس کے یوں بس خاموشی سے دیکھنے پر پلکیں لرزانے لگی تھی ۔
”زیادہ شعر و شاعری تو آتی نہیں پر آج ایک گانا گونج رہا ذہن میں بار بار “
نرمی سے اذفرین کے گود میں دھرے مہندی کے نقش و نگار والے ہاتھ کو اپنے ہاتھ میں لیا ۔ گہرے سرخ رنگ کے بھاری بھرکم لہنگے میں وہ روایتی دلہنوں کی سجاوٹ لیے اس کے حواسوں پر طلسم پھونک رہی تھی ۔
وہ اور صندل بلکل روایتی طرز پر تیار ہوٸ تھیں ماتھے پر بڑا سا ٹیکا اور ناک میں راجھستانی چوڑی دار نتھ جازب نظر سنگہار ایسا تھا کہ کوٸ بھی دیکھے بے ساختہ سراہا دے ۔
علیدان کی بات پر اذفرین نے نظریں اوپر اٹھاٸیں ۔ محفلوں میں ہلچل مچا دینے ولا آج اس کے سامنے حجلہ عروسی کا حق دار بنا بیٹھا تھا ۔
”کون سا گا کر سناٸیں “
اذفرین نے مسکراہٹ دباتے ہوۓ شوخ سے لہجے میں کہا تو علیدان نے بے ساختہ گردن کو پرسوچ سے انداز میں کھجایا ۔ فرماٸش آٸ تھی پر جس شوخی سے آٸ تھی انکار ممکن نا تھا ۔
”گا کر۔۔۔ “
مسکرایا پھر سیدھا ہوتے ہوۓ کھسک کے کر اس کے اور قریب ہوا ۔ نظریں اس کے چہرے پر جماۓ پورے دل سے گانے کے سُر ملاۓ
” ایسا دیکھا نہیں خوبصورت کوٸ ۔۔ چہرہ جیسے ہے کھلتا ہوا کنول ، چہرہ مہتاب سا ، چہرہ جیسے ہی کسی شاعر کی غزل ۔۔۔ اذفریں اذفریں ۔۔۔ اذفریں “
علیدان مہبوت سا ہنستے ہوۓ اس کے چہرے پر نظریں جماۓ گا رہا تھا اور وہ گانے کی تبدیلی پر ہنس ہنس کر بے حال تھی ۔
” اذفرین نہیں ، آفرین ہے ۔۔۔“
ہنسی کو بریک لگاۓ لاڈ سے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر درستگی کرنی چاہی تو علیدان نے فوراً نفی میں سر ہلایا
” نہیں اذفرین ہے اب سے “
محبت سے اس کے ہاتھوں پر گرفت کا دباٶ بڑھایا جس پر اسکی آنکھیں جھکنے پر مجبور ہوٸیں ۔ علیدان نے ہاتھوں کو چھوڑا اور تھوڑا سا آگے ہوتے ہوۓ ۔ بیڈ کے اطراف میں لگے ڈرا کو کھولا پھر ایک مخملی ڈبیا کو ہاتھ میں پکڑے سیدھا ہوا۔
ڈبی کو کھول کر باریک سی سنہری سونے کی مالا کو ہاتھوں کی انگلیوں میں پھنسا کر اٹھایا ۔
چین ہاتھوں میں جھولی تو نیچے چھوٹا سا ملحقہ ہیرا پوری آب و تاب سے جگمانے لگا ۔ اذفرین نے ہیرے پر سے نگاہیں اٹھاۓ اس کے چہرے کی طرف دیکھا جس کا ساتھ ہر قیمتی تحفے سے زیادہ عزیز تھا ۔
”مۓ آٸ ۔۔۔“
چاشنی میں گھلا لہجہ تھا ۔ گلے کی نازک سے مالا کے دنوں اطراف کو ہاتھوں میں تھامے علیدان آگے ہوا ۔ اذفرین نے پلکیں گرا کر اقرار کیا تو مالا کو اس کی گردن کے گرد گھما کر بند کرنے لگا ۔ شیراونی سے اٹھتی مہک نے سانس اندر انڈیلنے پر مجبور کیا
مالا کا لاک بند کرنے کے بعد پیچھے ہوا تو وہ آنکھوں میں بے پناہ خوشی سماۓ گردن پر چکمتے ہیرے پر ہاتھ پھیرتے ہوۓ مسکراٸ ۔
”بہت خوبصورت ہے ۔۔۔ آپکے لیے بھی کچھ ہے “
نظریں ملاۓ محبت سے کہا ۔ اور تکیے کے نیچے سے مخمل کی ڈبیا نکالی علیدان نے خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوتے ہوۓ ڈبی تھام کر تجسس سے کھولی اور پھر اس میں پڑے سوکھے گلاب پر نظر پڑتے ہی مسکان گہری ہوٸ ۔
”یہ وہی پھول ہے ؟“
خوشگوار لہجے میں ہنستے ہوۓ پوچھا تو وہ لبوں کو ملاۓ سر کو اثبات میں ہلا گٸ ۔ اس کو خوش دیکھ کر سانس اٹکا پھر بحال ہوا
”پتا ہے کیا تمھارے پاس کم از کم یہ ایک پھول تو تھا نا جب میں یاد آتا ہوں گا تم اس کو دیکھتی ہو گی چھو لیتی ہوگی ، مگر میرے پاس تمھاری یادوں کے سوا کچھ نہیں تھی “
علیدان نے پھول کو تکتے پرسوچ لہجے میں کہا ۔اذفرین نے محبت سے ایک نظر پھول پر اور پھر علیدان کی طرف ڈالی جو اب مخمل کی ڈبی کو احتیاط سے بند کر رہا تھا ۔
”کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے کہ اگر ہم وہیں واپسی پر مل جاتے تو شاٸد میں اپنی زندگی میں ایک بہت اہم بات کی اہمیت نا جان پاتا “
علیدان اب مسکراتے ہوۓ اسے دیکھ رہا تھا جو اس کو مسرور سی سن رہی تھی ۔ کمرے میں ہر سو پھیلا سکون گلاب اور کلون کی بھینی بھینی سی خوشبو اور اس منظر کا سب سے حسین حصہ وہ شخص تھا جو بول رہا تھا اور وہ سن رہی تھی ۔
”کیا بات ؟ “
اذفرین نے نظروں سے صدقہ اتارتے ہوۓ پوچھا ۔ تو وہ کھو سا گیا ۔ پھر مسکرا کر سیدھا ہوا
”وہ یہ کہ جستجو اور سچی لگن کسی چیز کے حصول کے لیے کافی نہیں ہوتی “
پاس ہوتے ہوۓ اس کی ماتھے پر دمکتے ماتھا ٹکا کو ہاتھوں سے درست کیا ٹکے کے نیچے لگے باریک سے موتی ماتھے پر ٹپٹپا گۓ ۔ پلکوں کی جھالر سو من بھاری ہوٸ پر اس کی آواز کانوں میں رس گھول رہی تھی ۔
”اس جستجو اور سچی لگن کو اگر اکیلے تھام کر تم آگے بڑھنا چاہو گے تو بری طرح ٹوٹ جاٶ گے جب تک ایک تیسری کڑی ساتھ نا ملے گی “
پیار سے اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا تو اذفرین نظریں جھکا کر اپنے حنا سے بھرے ہاتھوں کو اس کے ہاتھوں میں دیکھنے لگی ۔ اور پھر نظر اٹھا کر آنکھوں میں دیکھا جہاں بے پناہ چاہت کا سمندر ٹھاٹھیں مار رہا تھا ۔
”کون سی تیسری کڑی ۔۔۔“
شاٸستگی اور بھول پن سے سوال کیا ۔ جس پر وہ دلچسپی سے جواب دینے پر آمادہ ہوا ۔
” دعا ۔۔۔۔ التجا ۔۔۔۔ مانگنا ۔۔۔ انسانوں سے نہیں صرف اس ذات سے جو آپ کے دل میں یہ جستجو یہ سچی لگن پیدا کرتا ہے “
علیدان اس کو وہ ساری بات سمجھا رہا تھا جو اس نے نا صرف سنی تھی بلکہ سچ ہوتے دیکھی تھی ۔ سہی ہی تو کہہ رہا تھا وہ ، اکثر پوری لگن اور جستجو سے تلاش کی ہوٸ چیز تب تک نہیں ملتی جب تک دل سے یہ نہیں نکلتا ۔۔۔ اے اللہ مل جاۓ نا ۔۔۔
”جستجو اور لگن تمھارے ملن کے لیے بہت تھی مجھے پر جب تک خدا سے مانگا نہیں تھا ، میں مایوسی کے دلدل میں غرق ہوتا گیا ، اور جب ان دو کے ساتھ تیسری اور اہم کڑی ملی تو تم خود بخود چل کر میرے پاس آ گٸ “
محبت سے اس کے ہاتھ کو اپنے لبوں سے لگایا ۔ تو چہرے پر حیا رنگ لہراتے ہی پلکیں پھر سے جھکیں ۔
”میرا دعا پر ، اللہ سے مانگنے پر یقین پختہ ہو گیا ، تم میری زندگی کا وہ اہم حصہ ہو جس کے ملن کے حصول نے مجھے میرے اللہ کے قریب کر دیا “
وہ اب اس کے چہرے کو اپنی دونوں ہتھیلوں میں تھامے ہوۓ تھا ۔ اذفرین کی آنکھوں میں پھر سے نمی اتر رہی تھی ۔ علیدان نے ہتھیلوں کے حصار میں لیا چہرہ اوپر اٹھایا تو بے ساختہ اٹھتی اس کی نگاہوں میں چمکتا پانی چھپا نہیں رہ سکا ۔
” رونے لگی ہو ؟ “
علیدان نے خفگی سے گھورا ۔ اور پھر اس کا چہرہ چھوڑ کر اپنا چہرہ قریب کیا ۔
”رونا نہیں ہے اب سے رولانا ہے صرف “
آہستگی سے اس کے کان کے پاس سرگوشی کی تو وہ نم آنکھوں سمیت مسکرا دی ۔ اس کو مسکراتا دیکھ کر وہ ہنستے ہوۓ پیچھے ہوا ۔
” چلو ملن کا سفر پورا کریں “
شریر سے لہجے میں کہتے ہوۓ علیدان نے ہاتھ سے کان کے جھمکے کو ہلایا جبکہ لب اسی طرز کی مسکراہٹ کو چھپانے کی ناکام کوشش کر رہے تھے ۔
” ملن کا سفر ۔۔۔ “
اذفرین نے الجھ کر پوچھا سفید پتلیوں میں ناسمجھی جھلکی تو علیدان جھینپ کر سیدھا ہوا پھر ارد گرد دیکھتے ہوۓ ہلکا سا قہقہ لگایا ۔ گالوں کے انیس پٹھے کھنچے وہ اس کی مصومیت پر ہنس رہا تھا ۔
”ہاں ملن کا سفر ، تین سٹیجز ہیں اس کی بھی “
مصنوعی سنجیدگی سے اسکے معصوم سے چہرے پر نگاہیں جماۓ کہا جو غور سے سن رہی تھی ۔ علیدان کی لاجکس بھی اسی کی طرح نرالی تھیں ۔
” پہلی سٹیج دلوں کا ملن جو ان نو دنوں میں ہوا جنگل میں “
علیدان نے آہستگی سے اس کے ناک کو چھوا تو چٹکی میں اٹکی چوڑی نتھ نیچے ڈھلک گٸ ۔ اذفرین نے ہاتھ اوپر اٹھاۓ جنہیں دھیرے سے نیچے کرتا ہوا اب وہ نتھ کا بالوں سے ملحقہ حصہ الگ کر رہا تھا ۔ جب کے لب اس کے کانوں کے قریب سرگوشی کر رہے تھے ۔
” پھر روحوں کا ملن جو اس ایک سال میں ہوا “
علیدان نے ناک سے اتاری چوڑی کو پیار سے ہتھیلی پر رکھ کر بیڈ کے ساٸیڈ میز پر رکھا ۔ بالوں سے پن نکلاتے ہوۓ جھمکا بھی کھل گیا تھا ۔ اذفرین نے کانوں کے جھمکے پر ہاتھ رکھے تو وہ سیدھا ہوا نفی میں سر ہلاتے ہوۓ اس کے ہاتھوں کو نیچے کیا ۔
”مۓ آٸ ۔۔۔۔۔“
آواز جتنی آہستہ ہو رہی تھی اتنی بھاری ، جھمکے کو محبت سے ہاتھوں میں تھامے خمار آلودہ سرگوشی کی جس پر وہ بس پلکیں کپکپا کر اقرار کر سکی ۔
**********
وہ سڈنی یونورسٹی کے وسیع عریض گیٹ سے باہر نکلی تو علیدان کو روز کی طرح کار سے کچھ ہی دوری پر منتظر پا کر مسکراہٹ بکھر گٸ ۔ اذفرین کو دیکھتے ہی علیدان نے آنکھوں پر سیاہ چشمہ ٹکایا اور قدم کار کی طرف بڑھا دیے۔
وہ اپنا پروجیکٹ تو مکمل کر چکا تھا اب صرف اذفرین کی تعلیم پورا ہونے تک یہاں سڈنی میں ہی ایک کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا ۔
میر دلاور نے خود اپنی خوشی سے علیدان کو اجازت دی تھی کہ وہ جاۓ اور اپنا ہر خواب پورا کرے جو وہ چاہتا ہے وہ پڑھے ۔ ان کو سڈنی آۓ پانچ ماہ کا عرصہ ہو چکا تھا جس میں وہ اپنا ادھورا پروجیکٹ پورا کر چکا تھا ۔
وہ کار کا دروازہ کھول رہا تھا جب اذفرین نے چہکتے ہوۓ فرماٸش کی ۔ بلیک فلیپر جینز پر سفید ٹی شرٹ پہنے بالوں کو کھلا چھوڑے پر اعتماد سی اذفرین آج سے کچھ سال پہلے والی اذفرین سے یکسر مختلف تھی ۔
”علیدان آج بس سے چلتے ہیں “
وہ بچوں کے طرح بس سٹینڈ کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں کچھ دیر پہلے ہی بس آ کر سٹینڈ پر لگی تھی ۔ علیدان نے تیوری چڑھاۓ گردن کو اس کی نظروں کے تعاقب میں خم دیا ۔ مسافر نیلے رنگ کی ڈبل ڈیکر بس میں سوار ہو رہے تھے ۔
” ہیں یہ کیا بات ہوٸ “
علیدان نے تیزی سے چشمہ اتارا حیرت سے اس کی عجیب سی فرماٸش پر اسے دیکھا ۔ وہ اپنی ساری اٶٹ پٹانگ خواہشیں جو بچپن میں پوری نہیں کر پاٸ تھی شادی کے ان سات ماہ میں اس کے ساتھ پورا کر چکی تھی۔
”چلیں نا ، ویسے ہی بس سے چلیں نا “
اذفرین نے بچوں کی طرح پر جوش ہوتے ہوۓ ضد کی علیدان نے افسوس سے سر ہلایا ۔ آج پھر پاگل پن کا دورہ پڑ چکا تھا زوجہ محترمہ کو ۔
”توبہ کرو مجھے تو اس حادثے کے بعد سے بس فوبیا ہو گیا ہے “
علیدان نے ہنستے ہوۓ کانوں کو ہاتھ لگاۓ تو وہ کمر پر ہاتھ دھرے خفگی سے گھورنے لگی ۔ پر وہ سر جھکاۓ مسلسل نفی میں گردن ہلا رہا تھا ۔ پتہ تھا اس کی طرف دیکھا تو اس کے معصوم سے چہرے پر التجا دیکھ کر رک نہیں پاۓ گا ۔
گاڑی ہوتے ہوۓ بھی بس سے چلیں عجیب منطق تھی اس کی ۔
”ارے بھٸ مذاق مت کریں چلیں نا ، بس نکل جاۓ گی “
اذفرین نے علیدان کا بازو کھینچتے ہوۓ ضد کی تو وہ چارو ناچار گاڑی کی چابی جیب میں رکھ کر سیدھا ہوا ۔
”آہ۔۔۔۔ چلیں جی “
ہاتھ کے اشارے سے اسے قدم بڑھانے کا کہتے ہوۓ خود ساتھ قدم ملا دیے ۔ ڈبل ڈیکر بس میں سوار ہوتے ہی وہ ساری سیٹس چھوڑتی ہوٸ اسی سیٹ پر آ کر رکی ۔ جس پر حادثے کے دوران وہ دونوں بیٹھے تھے ۔
”اس طرف “
باٸیں طرف اشارہ کیا اور خود آگے ہوتے ہوٸ کھڑکی کے طرف بیٹھ گٸ ۔ چہرے پر عجیب سی خوشی تھی ۔
” وہی ساری فیلنگز دے رہی ہو بھٸ خیر ہے “
علیدان نے جیبوں سے ہاتھ نکالے اور ڈرانے جیسے لہجے میں اسے کہا تو وہ کندھے پر ہلکی سی چپت لگاتی بازو سے سر ٹکا گٸ
”مجھے کوٸ ڈر نہیں آپ ساتھ ہیں “
اپنے بازو کو محبت سے علیدان کے بازو کے گرد حاٸل کیا ۔ ان کے بلکل ساتھ ایک پانچ سالہ بچی اور ایک چار سال کا بچہ بیٹھا تھا ۔
”ہم۔م۔م۔ جنگل میں ہنی مون یاد ہے کتنا تنگ کیا تھا ؟ “
علیدان نے جتاتے ہوۓ بازو کو جھٹکا دیا تو اس کا سر اوپر اٹھا ۔ اور پھر وہ لاڈ سے منہ بناتی سیدھی ہوٸ ۔
”کوٸ تنگ ونگ نہیں کیا تھا ، آپ ہر چیز میں سہولت گھسیڑ رہے تھے ، مجھے سب ویسا ہی چاہیے تھا “
اذفرین نے خلا میں نظریں گھماۓ کھوۓ سے لہجے میں کہا ۔ علیدان بے ساختہ ہنس دیا ۔ جنگل میں سپیشل ہٹ ریزرو کروا کر وہ اذفرین کی شدید خواہش پر ہی پورے نو دن کا ہارر ہنی مون منا کر آۓ تھے ۔ گو کہ جنگل وہ ولا جنگل نہیں تھا پر اذفرین نے اس سے وہ سارے کارنامے کرواۓ تھے ۔ درختوں پر چڑھنا ۔ اسے گود میں اٹھانا ، ندی میں نہانا ، پھل توڑ کر لانا
”واہ واہ ۔۔۔ ویسا کی کچھ لگتی جب لاٸٹر تھا سب تھا پھر بھی پتھروں سے آگ جلانے کی فرماٸش ، کیا کہنے آپ کے “
علیدان نے مصنوعی خفگی سے گھورا پر وہ تو سامنے بیٹھی بچی کو دیکھ رہی تھی جو اپنے بھاٸ کو کہانی سنا رہی تھی ۔
”پھر ونڈر ویمن فاٸر کرتی ہے اور بٸیر مر جاتا ہے “
بچی نے پرجوش انداز میں ہاتھوں کو حرکت دیتے ہوۓ کہا تو پاس بیٹھے بچے کا منہ کھلا
”آٸرن مین بچا کہ نہیں “
وہ تجسس میں پوچھ رہا تھا ۔اذفرین کی آنکھیں پھیل رہی تھیں یہ کہانی تو صرف اس نے جارج کو سناٸ تھی ۔ ایک سنسناہٹ تھی جو پورے بدن میں دوڑ گٸ تھی ۔
” لسن ۔۔ کہاں سے سنی ، مطلب کس نے سناٸ یہ کہانی آپکو ؟ “
بے چینی سے آگے ہوتے ہوۓ بچی سے پوچھا ۔ جو کچھ دیر خاموشی سے اس کو دیکھتی رہی پھر خاموشی کو ختم کیا
”میرے کلاس فیلو جارج نے “
بچی نے کندھے اچکاتے ہوۓ جواب دیا تو اذفرین کا چہرہ خوشی کے ہر رنگ سے نہا گیا ۔
**********
”مام ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔“
جارج سکول کے گیٹ کے سامنے اس کو دیکھ کر بھاگتا ہوا آیا تھا ۔ وہ واقعی اس کو نہیں بھولا تھا جو یوں اس کو دیکھتے ہی ایک نظر میں پہچان کر اس کی طرف بھاگا تھا ۔
ایمیلی اس کے پیچھے اس کا بیگ تھامے حیرت سے چلتی ہوٸ آ رہی تھی ۔ جارج اذفرین کی ٹانگوں سے چپک گیا تھا اذفرین نے جھک کر اسے اپنے سینے سے لگا کر بھینچ ڈالا ۔ وہ چہک رہا تھا ۔
” مجھے معلوم تھا ، میں نے مما کو بولا تھا مام مجھے ملنے آٸیں گی “
اسکی باریک سی آواز میں جوش تھا خوشی تھی ۔اذفرین اسے گود میں اٹھاۓ سیدھی ہوٸ تو ایمیلی نے مسکراتے ہوۓ ہاتھ آگے بڑھایا ۔
” ہیلو ۔۔۔۔ اذفرین ۔۔۔ ؟ “
وہ مسکرا رہی تھی ۔ اذفرین نے بھی مسکراتے ہوۓ اس کے ہاتھ کو تھاما ۔ علیدان جو کار میں فون سن رہا تھا باہر آیا ۔ جارج کی نظر علیدان پر پڑی تو خوشی کی انتہا نہیں رہی
”مما یہ ہے وہ آٸرن مین ،“
جارج خوشی سے چیخا اور اذفرین کی گود سے اترتا علیدان کی پھیلی باہوں میں سمٹ گیا ۔ ایمیلی نے سوالیہ سی نظروں سے علیدان کی طرف دیکھا ۔
”ماٸ ہیزبینڈ “
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ اس کی الجھن کو دور کیا ۔ ایمیلی جارج کو خوش دیکھ کر مسرور سی ہوٸ
” بہت خوشی ہوٸ مل کر جارج اکثر بہت سے باتیں کرتا ہے پاکستان وزٹ کی “
ایمیلی شاٸستگی سے کہتی ہوٸ اسے بغور دیکھ رہی تھی ۔ اذفرین نے بس مسکرانے پر اکتفا کیا ۔
”پتا چلا تھا مجھے کہ نجف سے تمھاری شادی نہیں ہوٸ ہے “
آہستگی سے کہتی ہوٸ ۔ وہ اب سر جھکا گٸ تھی ۔
” ہو بھی نہیں سکتی تھی “
اذفرین نے مسکراتے ہوۓ کہا ۔ ایمیلی نے بھی مسکراتے ہوۓ سر اوپر اٹھایا ۔
” کیونکہ تم اس کو پیار کرتی تھی راٸٹ ؟ “
ایمیلی نے سر کی جنبش سے علیدان کی طرف اشارہ کیا جو اب جارج کو اپنے مسلز دکھا رہا تھا ۔
” نہیں ۔۔۔ کیونکہ نجف صرف آپ سے پیار کرتا ہے “
اذفرین نے فوراً جواب دیا اور پھر اسے حیران کھڑا چھوڑ کر علیدان اور جارج کی طرف بڑھ گٸ ۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: