Morni Novel by Bella Bukhari – Episode 1

0
مورنی از بیلا بخاری – قسط نمبر 1

–**–**–

مجھے معاف کردیں بابا جان یہ سب کچھ میری ضد کی وجہ سے ہوا ھے آپ کے بتائے گئے اصولوں کے خلاف میں اس جادوگر کی مدد کررہی ہوں
وہ انتہائی ظالم ھے پورا ایک سال ہوگیا ھے میں اسکے حکم پر ان تمام معصوم لوگوں کو اسکی غلامی میں پیش کررہی ہوں ۔
پورا ایک سال ہوگیا ھے اسنے مجھے آپ سے ملنا تو دور آپ کی ایک جھلک بھی نہیں دیکھنے دی اور اسکے جادو کی وجہ سے اب میں دن کے وقت ایک عام لڑکی ہوتی ہوتی ہوں اور رات کے وقت مورنی بن جاتی ہوں یہ سزا مجھے اس وادی کے آقا کو اپنے قابو میں نہ کرنے کی وجہ سے ملی ھے ۔
میں بے بس ہوں اب اگر بھاگنا بھئ چاہوں تو نہیں بھاگ سکتی وہ جادوگر صرف اندھیری راتوں میں مجھے باہر نکلنے کی اجازت دیتا ھے ۔
اس وادی میں مورنی کی سسکیاں گونج رہی تھی
اور آس پاس موجود ہر چیز اس مورنی کی سسکیوں کی وجہ سے دردناک منظر پیش کررہی تھی ۔
 
وہ ابھی اپنے غم میں نڈھال تھی کہ اسے کسی کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی ھے وہ جلدی سے خنجر کو ہاتھ میں لیتی ھے ۔۔
آہستہ آہستہ قدموں کی آہٹ قریب ہوتی جارہی تھی وہ ڈری ہوئی تھی جیسے ہی وہ اسکی طرف ہاتھ بڑھاتا ھے مورنی خنجر سے اس پہ وار کرتی ھے مگر شاید وہ شخص بھی چوکنا تھا وہ اسکے ہاتھ سے خنجر کو چھین لیتا ھے۔
مورنی اسکی قید میں پھڑ پھڑا رہی تھی ۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔۔۔؟؟؟
وہ خوبصورت نوخیز لڑکا اس مورنی سے پوچھتا ہے ۔۔
پر وہ خاموش کھڑی تھی ۔
میں نے پوچھا کون ہو تم اور رات کے اس پہر اکیلی کیا کر رہی ہوں ۔۔۔؟؟؟
وہ کوئی جواب نہیں دیتی ۔۔۔
ٹھیک ھے تم ایسے نہیں بولوں گی تو ایسے ہی سہی ۔۔۔
وہ نوجوان اسکی گردن پر خنجر کا دباو بڑھاتا ھے ۔۔۔۔
بولو ۔۔۔۔۔
مگر وہ خاموش رہتی ھے
وہ مزید دباو بڑھاتا ھے ۔۔۔
آہ ہ
بتاتی ہوں اسے پیچھے کرو
وہ اسکی خوبصورت سی سرگوشی میں کھو سا جاتا ھے اور وہ اسی بات کا فائدہ اٹھاتی ہے اور اسے پرے دھکیلتی ھے ۔۔۔
آپ ۔۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اسکی طرف دیکھتی ھے وہ ہپناٹائز ہوجاتی ھے
کوئی اتنا خوبصورت بھی ہوسکتا ھے ۔۔۔۔
اسے دیکھ کر مورنی کے ذہن میں پہلی بات یہی آتی ھے ۔۔۔
سامنے والے شخص کا بھی یہی حال تھا وہ بھی اسکے حسن کے سحر میں کھو چکا تھا۔۔۔۔
وہ بے خودی میں اسکی طرف بڑھتا ھے اور اسکے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیتا ھے یہی وہ پل تھے جس میں دونوں ایک دوسرے کی محبت میں قید ہوگئے تھے ۔
مورنی کے چہرے پر تکلیف کے آثار نمایاں ہورہے تھے کیونکہ صبح ہونے میں بس تھوڑا سا وقت رہ گیا تھا اور اسکا جسم مورنی کی صورت میں آہستہ آہستہ بدلنا شروع ہوگیا تھا ۔۔۔۔۔۔
کیونکہ اس پر جادوگر کے جادو کا اثر ہورہا تھا وہ پلک جھپکنے میں ہی غائب ہوجاتی ھے ۔۔۔۔۔۔
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
بابا جان ۔۔۔۔۔۔
وہ بھاگ کر ان سے لپٹ جاتی ھے آج پورے ایک سال کے بعد وہ ان سے مل رہی تھی ۔۔۔
وہ بھی اپنی بیٹی کو دیوانہ وار دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
ابناز ۔۔۔۔
میری جان ۔۔۔
میری پیاری سی بیٹی ۔۔۔۔
تم ٹھیک تو ہونا ۔۔۔۔؟؟؟؟
میں ٹھیک ہوں بابا جان
اس ظالم انسان نے آپ کی کیا حالت کردی ھے ۔۔۔؟؟؟؟
آپ مجھے بہت کمزور لگ رہے ہیں وہ بہت پیار سے انکا چہرہ چھو رہی تھی ۔۔
ابناز تم بتاو تم نے اسکی بات تو نہیں مانی نا۔۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ شرمندہ ہوکر نظریں جھکا دیتی ھے ۔۔۔۔۔
بولو بیٹا ۔۔۔؟
پر وہ شرمندگی سے نظریں جھکائے بیٹھی ہوتی ھے
یہ کیا کر دیا تم نے ابناز ۔۔۔۔
مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی ۔۔۔۔
میں نے اس جادوگر کی قید میں اس امید پر تھا کہ تم اسکا ساتھ نہیں دوگی اور اس وادی کے آقا سے مدد مانگو گی مگر ۔۔۔۔۔۔
تم نے اسکی بات مان کر میرا مان توڑ دیا ۔۔۔۔
وہ بس آنسو بہائے جارہی تھی ۔۔۔
تم نے اپنی پاورز کا استعمال کیوں نہیں کیا ۔۔۔۔
بولو ۔۔۔۔
ابناز ۔۔۔۔۔
وہ کوئی جواب نہیں دیتی کیونکہ بتانے کے لیئے کچھ نا تھا ۔
میں مجبور تھی بابا جان ۔۔۔۔
آپ کو نہیں پتا میں نے پورا سال کتنی اذیت میں گزارا ھے
میں جو ایک پل بھی آپ کے بغیر نہیں گزار سکتی تھی ایک سال پورا ایک سال کیسے گزارا ھے اس کا آپ کو اندازہ ھے ۔۔۔۔؟؟؟
ابناز میری جان ۔۔۔۔
اپنے باباجان کو معاف کردو وہ اسے گلے لگا کر رو رہے تھے تب ہی ابناز کی درد بھری چیخ نکلتی ھے اور وہ جھٹکے سے ان سے دور ہوتی ھے اور پھر وہ خوبصورت سی مورنی میں تبدیل ہوجاتی ھے ۔۔۔
اسکے باباجان بس حیران ہوکر اسکا نیا روپ دیکھ رہے تھے ۔۔
تب ہی کسی کا خوفناک قہقہ گونجتا ھے ۔۔۔۔۔
یہ تم نے کیا بنا دیا ھے میری بیٹی کو ۔۔۔۔۔
وہ اسکا گریبان پکڑتے ہے ۔
اگر تمہاری بیٹی سیدھے طریقے سے میری بات مان لیتی تو مجھے ایسا نہ کرنا پڑتا مگر وہ بھی تمہاری طرح ضدی تھی تو اسکی سزا ملی ھے ۔۔۔۔
ویسے دیکھو کتنی خوبصورت لگ رہی ھے نا جو بھی اسکے قریب آتا ھے وہ اسکے سحر میں قید ہوجاتا ھے ۔۔۔۔۔
تم ۔۔۔۔۔
باپ سے اب تو ملاقات ہوگئی ھے اب اس آقاکو جلدی سے قابو کرو ورنہ آج کے بعد اپنے باپ کا چہرہ کبھی نہیں دیکھ پاو گی ۔۔۔۔
اس ظالم جادوگر کی بات سن کر اسکی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں اور وہ آخری بار اپنے باباجان کو دیکھتی ھے اور پھر غائب ہوجاتی ھے ۔۔۔
_____ ________ _______
وہ جو اسکے سحر میں کھویا ہواتھا کسی کے بلانے پر ہوش میں آتا ھے ۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: