Morni Novel by Bella Bukhari – Episode 2

0
مورنی از بیلا بخاری – قسط نمبر 2

–**–**–

آقا ۔۔۔۔۔
آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔؟؟؟
کچھ نہیں ۔۔۔۔
چلو ۔۔۔۔
پھر وہ لڑکا مورنی کے بارے میں سوچتے ہوئے وہاں سے چلا جاتا ھے ۔۔۔۔
پھر وہ اگلی رات ٹھیک اسی وقت ندی کے پاس جاتا ھے مگر وہ خوبصورت لڑکی اسے وہاں نہیں ملتی ۔۔۔
مگر وہ ہمت نہیں ہارتا اور ہر رات اسی جگہ اس آس پر جاتا ھے کہ آج اسکا چہرہ دیکھنے کو ملے ۔۔۔۔
دن بعدن اسکی بے قراری میں اضافہ ہوتا جارہا تھا اور وہ ایک پل بھی مورنی کی یاد سے غافل نہ ہوا تھا ۔۔۔۔
ہر رات کی طرح وہ آج بھی اسکا انتظار کررہا تھا تب ہی وہ پری پیکر اسے دور سے نظر آتی ہوئی دکھائی دیتی ھے اور وہ جلدی سے چھپ جاتا ھے تاکہ جی بھر کر اسکا دیدار کرسکے ۔۔
مورنی اداس سی اسی جگہ پر جاکہ بیٹھتی ھے جہاں پر وہ پچھلے ایک سال سے اندھیری راتوں میں ڈیرہ ڈالتی تھی ۔۔
وہ خاموشی سے بیٹھ جاتی ھے اور وہ بھی جی بھر کر اسکو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس مورنی کو پھر سے اپنے باباجان کی یاد آرہئ تھی کیونکہ انکے سوا اسکی زندگی میں اور کوئی بھی رشتہ باقی نہ تھا اسکی امی کی وفات کے بعد اسکے باباجان نے ہی تو اسکو سنبھالا تھا مگر آج وہ بھی اس سے دور تھے ۔۔۔
باباجان ۔۔۔۔۔
وہ سرگوشی میں انہیں پکارتی ھے ۔۔
اور اسکی آنکھوں سے آنسو لڑیوں کی صورت میں بہہ رہے تھے اور بس یہی پہ اس شخص کا ضبط جواب دے جاتا ھے اور وہ بھاگ کر اسکے پاس جاتا ھے اور پھر اسے گلے لگاتا ھے ۔۔۔
مورنی جو اپنے غم میں نڈھال تھی اسے تو بس کسی ایسے انسان کی تلاش تھی جسے وہ اپنا غم بانٹ سکے بس یہی وہ لمحہ تھا وہ اسکی پناہوں میں اپنا دکھ بھولنا چاھتی تھی ۔
وہ بس روتی رہتی ھے اور وہ اسکے آنسو اپنے سینے میں جذب کرتا رہتا ھے ۔۔۔۔۔۔
وہ نرمی سے اسکے آنسو صاف کرتا ھے اور اسکے ماتھے پر محبت بھرا لمس چھوڑتا ھے ۔۔۔
اور پھر سے اسے گلے لگاتا ھے ۔۔
مگر یہ پل تو مختصر دورانیے کے تھے جیسے ہی مورنی کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ھے وہ شرمندہ ہوکر اس سے دور ہوتی ھے مگر مقابل ایسا نہیں چاھتا تھا اس لیئے وہ اسے کے گرد اپنی باہوں کا گھیرا مزید تنگ کر دیتا ھے ۔۔۔۔
چھ ۔۔چھوڑو مجھے ۔۔۔۔۔
کون ہو تم ۔۔۔۔؟؟؟؟
شش ۔۔۔۔۔۔
ابھی نہیں ابھی میں نے تمہیں اچھی طرح سے محسوس نہیں کیا ۔۔۔۔ تمہیں اندازہ ھے میں کتنی راتوں سے تمہارا انتظار کر رہا تھا مگر تم نہیں آئی ۔۔۔۔
آج مجھے ملی ہو اور ابھی سے دور جارہی ہوں ۔۔۔۔
اس رات تم خود تو چلی گئی مگر مجھے اپنا انتظار سونپ گئی ۔۔۔۔
وہ تو اسکی آواز میں کھو گئی تھی اور اسکا حکم ایسے مان رہی تھی جیسے وہ برسوں سے اسے جانتی ہوں ۔۔۔۔
تم رو کیوں رہئ تھی ۔۔۔۔؟،،،
کس نے تمہیں تکلیف دینے کی جرات کی ۔۔۔۔؟؟؟
وہ اسکی نم آنکھوں میں دیکھتا ھے اور اسکے بولنے کا انتظار کررہا تھا ۔۔۔۔
بولو ۔۔۔۔
کیوں تم ۔۔۔۔۔۔ابھی اس نے اتنا ہی کہا تھا کہ وہ لڑکا مورنی سے کہتا ھے
تم نہیں آپ ۔۔۔۔۔آپ کہو مجھے ۔۔۔۔آپ
وہ اس پر گرفت سخت کرتا ھے
کیوں بتاو ۔۔۔۔
اور چھوڑو مجھے وہ اپنا پورا زور لگا کر اسے پرے دھکیلتی ھے ۔۔۔۔
میں کیوں رو رہی تھی ۔۔۔؟
کس نے مجھے تکلیف دی ۔۔۔؟،
یہ سب جان کر تم کیا کر لو گے کوئی بھی کچھ نہیں کرسکتا ۔۔۔
تو پھر کسی کو بھی بتانے کا کیا فائدہ ۔۔۔۔
اور وہ ندی کے پاس بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔
وہ بھی اسکے پاس بیٹھ جاتا ھے ۔۔۔۔۔
تم کیوں میرے پیچھے پڑ گئے ہو سکون سے چند پل ملے تھے وہ بھی تم نے خراب کر دیے ۔۔۔۔
کیا ایسے کیا دیکھ رہے ہو ۔۔۔۔
جاو یہاں سے ۔۔۔
اسکی دوسری بار گستاخی پر وہ اس کے بازو سے پکڑ کر کھینچتا ھے ۔۔۔۔
آپ کو ایک بار بات سمجھ میں نہیں آتی کیا ۔۔۔۔۔
تم نہیں ۔۔۔۔آپ بولو
اس بار اسکے لہجے میں غصہ ہوتا ھے جس سے وہ ڈر جاتی ھے اور پھر سے رونا شروع کردیتی ھے ۔۔۔۔
پری پیکر ۔۔۔۔۔۔
اچھا اب غصہ نہیں کرو گا اب تو رونا بند کرو ۔۔۔۔
وہ روتے روتے اسے کی طرف دیکھتی ھے اور بس دیکھتی رہتی ھے ۔۔۔
ابناز یہ تو وہی بلکل خوابوں کے شہزادے جیسا جیسے دادی کہانیوں میں بتاتی تھی ۔۔یہ تو بلکل ویسا حسین شہزادہ ھے ۔۔۔۔
آپ نے بتایا نہیں ۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟؟
اپنا نام ۔۔۔۔۔
وہ اسکا انتظار کررہا تھا کہ نام بتائے مگر وہ اپنا نام نہیں بتاتی اور اسے دور ہوجاتی ھے
ٹھیک ھے نا بتاو ۔۔۔۔
مگر کیا کل آو گی تم ۔۔۔۔
مجھے نہیں پتا ۔۔۔۔
ہہم لیکن مجھے پتا ھے تم کل آو گی اور میں تمہارا انتظار کرو گا وہ اسکی بات سن کر اسے دیکھتی اور پھر سے غائب ہوجاتی ھے ۔۔۔
پھر سے چلی گئی ۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک اسے سوچتا رہتا ھے اور پھر واپس چلا جاتا ھے ۔
 
مورنی پھر سے اپنے کام پر لگ جاتی ھے ۔۔۔
اب کی بار اسکا رخ آقا کے محل کے اہم لوگوں کو اپنے سحر میں جکڑنا تھا ۔۔۔۔
اسے دور سے ایک شخص آتا ہوا نظر آتا ھے وہ اپنے اصلی روپ میں ہی اسکے سامنے آتی ھے کیونکہ مورنی کی صورت میں وہ اسے اسکے ہاتھ میں موجود انگوٹھی کی وجہ سے قابو نا کرسکتی تھی ۔۔۔
آقا کا وہ خاص ملازم تھا ۔۔۔۔
اسے دیکھ ہی اسے اندازہ ہو جاتا ھے کہ یہ وہی لڑکی ھے جسنے ان کی وادی کے آدھے لوگوں کو اس ظالم جادوگر “کلارا ” کے حوالے کردیا ھے
اس لئیے جاہ اسے نظر انداز کرکے چلنا شروع کر دیتا ھے ۔۔۔
یہ کیسا انسان ھے جس نے میرے حسن کو نظر انداز کر دیا
خیر ابناز بھی اسکے ساتھ چلنا شروع کر دیتی ھے ۔۔۔۔
کافی دیر تک وہ چلتے رہتے ہیں
جاہ بالآخر رک جاتا ھے ۔۔۔
اور اسکی طرف دیکھتا ھے ۔۔۔
جی محترمہ ۔۔۔۔
کیا میں جان سکتا ہوں آپ کیوں میرے پیچھے آرہی ہیں ۔۔۔؟،؟
وہ ۔۔۔۔۔
ابناز کو کچھ سمجھ نہیں آتا کہ کیا کہے ۔۔۔۔۔
جاہ پھر سے چلنا شروع کر دیتا ھے ۔۔۔۔
وہ مجھے آپ کے آقا کا محل دیکھنا تھا کیا آپ مجھے لے جائے گے دیکھانے کے لئیے ۔۔۔؟؟؟؟
جاہ مڑ کر اسکی طرف دیکھتا ھے اور اسے دیکھ کر اسے اپنی بہن کی یاد آتی ھے جسے وہ جادوگر کی وجہ سے کھو چکا تھا ۔۔۔۔
وہ اسکی طرف جاتا ھے اور اسکے سر پر ہاتھ رکھتا ھے ۔۔۔۔
ابناز کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں ۔۔۔۔
آپ رو کیوں رہی ہیں آپ پریشان نا ہوں میں آپ کو محل دیکھاو گا پلیز گل میری بہن رونا بند کرو ۔۔۔۔
اوو ۔۔۔
معاف کیجیئے گا آپ کو دیکھ کر اپنی بہن کی یاد آگئی ۔۔۔۔
ابناز اسے مسکرا کر دیکھتی ھے
بھائی ۔۔۔۔۔
آپ میرے بھائی بنے گے ۔۔۔؟؟؟
جاہ ہاں میں سر ہلاتا ھے ۔۔۔
مورنی بہت خوش ہوجاتی ھے لیکن وہ اپنے اصل روپ میں زیادہ دیر نہیں رہ سکتی تھی اور وہ جاہ کے سامنے ہی مورنی میں بدل جاتی ھے ۔۔۔
جاہ کی آنکھوں میں آنسو آجاتے ہیں کیونکہ اسے دیکھ کر یقین ہوجاتا ھے کہ وہ واقعی میں کلارا کے جادو کے قید میں تھی ۔۔۔
ابناز بھی رو رہی تھی
جاہ اسکے قریب جاتا ھے
گل میری بہن تمہارا بھائی آ گیا ھے میں تمہاری مدد کرو گا تم جلد اسکی قید سے آزاد ہوجاوگی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: