Morni Novel by Bella Bukhari – Episode 3

0
مورنی از بیلا بخاری – قسط نمبر 3

–**–**–

جاہ ۔۔۔۔۔
اسکے پاس بیٹھ کر رو رہا تھا ۔
وہ بھی دکھی ہوکر اسے دیکھ رہی تھی تب اسے جادوگر کلارا آس پاس محسوس ہوتا ھے اور وہ جلدی سے غائب ہوجاتی ھے کیونکہ وہ اپنے بھائی کو کسی مشکل میں نہیں ڈال سکتی تھی ۔۔۔۔
وہ جادوگر کلارا کے پاس جاتی ھے ۔۔۔۔۔
شاباش میری مورنی ۔۔۔۔
آقا کے خاص ملازم کو بلآخر تم نے اپنے قابو میں کر لیا ۔۔۔۔
ہونہہ ۔۔۔۔۔
کلارا ۔۔۔۔
تم آخر مجھے میرا کام سکون سے کیوں نہیں کرنے دیتے ۔
تمہیں مجھ پر اعتبار کرنا پڑے گا اگر ایسے ہی تم میرا پیچھا کرتے رہے تو میں تمہارا کام نہیں کرسکوں گی ۔
جب تمہیں یقین ہی نہیں تو میری طرف سے انکار ھے ۔
رکو ۔۔۔۔۔
اعتبار تو مجھے خود پر بھی نہیں مگر کیونکہ تم میرا ہر حکم مان رہی ہوں تو میں کوشش کروگا ۔۔۔۔
کلارا ۔۔۔۔
کوشش نہیں ابھی فیصلہ کرو کیونکہ میں تنگ آگئی ہوں ۔۔۔
ٹھیک ھے میری ہونے والی ملکہ اتنا تو تمہارے لیئے کرسکتا ہوں ۔
وعدہ اب تمہارا پیچھا نہیں کرو گا ۔۔۔
ٹھیک ھے وہ تو وقت بتائے گا اگر کہیں بھی مجھے محسوس ہوا تو مجھ سے کوئی امید نا رکھنا ۔۔۔۔
ہاں کچھ دن میں اس روپ میں نہیں رہوں گی اس لیئے اس مورنی والے روپ سے مجھے نجات دوں تاکہ میں محل میں جاکر اپنا کام صحیح طرح کرسکوں ۔۔۔۔
پھر وہ چلی جاتی ہے ۔۔۔
اگر مجبوری نا ہوتی تو تمہیں بتاتا مورنی کہ مجھے دھمکی دینے والوں کا کیا انجام ہوتا ھے بس ایک بار میرا کام ہوجائے پھر تمہیں ایسی سزا دوں گا ساری زندگی یاد رکھو گی اور اسکی خوفناک ہنسی گونجتی ھے ۔۔۔۔
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
جاہ ابھی اس جگہ پر بیٹھا تھا
وہ بھی واپس اسی جگہ آجاتی ھے ۔۔۔
بھائی ۔۔۔۔۔
گل میری بہن تم کہاں چلی گئی تھی ۔۔۔۔
وہ جادوگر آپ کو قید کرنے کے لیئے آرہا تھا تو میں اسے روکنے کے لئیے گئی تھی ۔
ہہم ۔۔۔
بھائی کیا آپ مجھے محل دیکھائے گے ۔۔۔۔
آخر تم محل کیوں جانا چاھتی ہوں ۔۔۔؟؟؟؟
بابا جان نے کہا تھا آقا سے مدد مانگو تو میں ایک بار ان سے ملنا چاھتی ہوں ۔۔۔
ہہم ابھی تو وقت نہیں ھے تم ابھی میرے ساتھ چلو تمہیں محل دیکھاتا ہوں آقا سے پہلے میں بات کرو گا پھر جب میں کہو تم مل لینا ۔۔۔۔
ٹھیک ھے بھائی ۔۔۔
پھر وہ اس محل میں جاتے ہیں ۔
بھائی یہ کتنا خوبصورت ھے
سرمئی رنگ کا بنا ہوا محل اس وادی کا عظیم شاہکار تھا ۔۔۔
چاروں طرف سبزہ رنگ برنگے پھول اس محل کو اور زیادہ حسین بنا دیا تھا ۔۔۔
وہ ہر ایک چیز کو دیکھ کر خوش ہورہی تھی اور جاہ اسکو دیکھ کر خوش ہورہا تھا ۔۔۔۔وہ بلکل اسکی بہن کی طرح لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
تتلیاں ۔۔۔۔
وہ بھی اتنی ساری وہ انکی طرف جاتی ھے تاکہ انہیں پکڑ سکے ۔۔۔۔۔
پھولوں پر بیٹھی ہوئی تتلیوں میں سے ایک تتلی اسکے ہاتھ پر بیٹھتی ھے ۔۔۔
بھائی دیکھیں کتنی خوبصورت ھے ناں یہ تتلی۔۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔
جاہ مسکرا کر جواب دیتا ھے اور وہ رات تک محل میں گھومتی رہتی ھے ۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔
آپ نے اپنا نام نہیں بتایا ۔۔۔۔
جاہ ۔۔۔۔
نام ہے میرا ۔۔۔۔
بہت اچھا نام ھے ۔۔۔
میرا نام ابناز ھے ۔۔۔۔
ہہم مگر میں تمہیں گل بلاو گا اگر تمہیں اعتراض نا ہوتو ۔۔۔
ٹھیک ہے جو نام آپ کو پسند ھے وہی نام ہوگا میرا جاہ بھائی ۔۔۔
چلو اب ہمیں جانا ہوگا آقا کسی بھی وقت آتے ہونگے ۔۔۔۔
میرا دل نہیں چاہ رہا ۔۔۔۔
گل پھر تمہیں لے آوگا لیکن ابھی چلو۔۔۔۔۔۔
وہ اسے لےکر چلا جاتا ھے ۔۔۔
بھائی آپ جائے میں ندی کے پاس جارہی ہوں ۔۔۔
نہیں تم اکیلی مت جاو ۔۔۔۔
ابناز کو اسکافکر کرنا اچھا لگ رہا تھا اسکا بھائی اسکے باباجان کی طرح اسکے لیئے فکر مند تھا ۔۔۔۔
آپ پریشان مت ہو بھائی میں اپنی حفاظت کرسکتی ہوں ۔۔
چلو پھر مجھے بھی آقا کے پاس جانا ھے ۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: