Morni Novel by Bella Bukhari – Episode 4

0
مورنی از بیلا بخاری – قسط نمبر 4

–**–**–

ابناز آج بہت خوش تھی جاہ کی صورت میں اسے بھائی کے ساتھ ساتھ ایک مددگار مل گیا تھا اسکی آجاتی سانس لیتی ہوئی امید کو نئی زندگی مل گئی تھی ۔۔۔
آج اتنے عرصے بعد وہ کھل کر مسکرائی تھی اسکی خوشی میں آج ندی کے پاس موجود ہر ایک چیز خوش تھی ۔۔۔
باباجان بس کچھ دن اور آپ اس کلارا جادوگر کے انتظار میں رہیں گے پھر میں آپ کو آزاد کروالوں گی ۔۔۔
مورنی نا چاھتے ہوئے بھی اس اجنبی شخص کے بارے میں سوچ رہی تھی اور گزرے ہوئے پل یاد کرکے مسکرا رہی تھی ۔۔۔
کیا وہ مجھ سے محبت کرنے لگا ھے ۔۔۔؟؟؟؟
میری سچائی جاننے کے بعد بھی کیا اس کی محبت باقی رہے گی ۔۔۔؟؟؟
کیا وہ بھی اس وادی کے باقی لوگوں کی طرح صرف میری خوبصورتی پر مر مٹا تھا ۔۔۔؟؟؟
یہ اور بھی بہت سارے سوال اس کے ذہن میں گردش کر رہے تھے ۔۔۔
ابناز بار بار ادھر ادھر دیکھ رہی تھی اسے بس انتظار تھا ۔۔۔
میں کیوں اسکا انتظار کرو میرا کیا لگتا ھے وہ کہ میں اسکے بارے میں سوچوں ۔۔۔
ابناز بھول جاو وہ کوئی بٹھکا ہوا مسافر تھا جو کچھ دن یہاں روکا اور پھر واپس چلا گیا ۔۔۔
ابھی وہ مزید کچھ کہتی کوئی بلکل اسکے پاس سے بولتا ہے ۔۔۔۔۔
اوہ تو میری پری پیکر کا نام “ابناز “ھے ۔۔۔۔
وہ جیسے ہی دیکھتی ھے تو وہ شہزادہ مطلب ابناز کا شہزادہ اسکے پاس بیٹھا تھا ۔۔۔
اف کیا اس نے میری ساری باتیں سن لیں وہ ابھی سوچ رہی تھی کہ وہ بولتاھے ۔۔۔
آج انتظار کرنا پڑا اس کے لئیے معذرت ۔۔۔۔
تو مجھے کیا تم ۔۔۔۔وہ اسے گھورتا ھے مطلب آپ دیر سے آئیں یا جلدی مجھے کیوں بتا رہے ہیں ۔۔۔
ابناز کے لہجے میں نا چاھتے ہوئے بھی ناراضگی تھی ۔۔۔
اس شخص کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ھے جبکہ مورنی کو اب غصہ آجاتا ھے وہ واپس جانے کے لئیے اٹھتی ھے ۔۔۔
مگر وہ اسے بازو سے پکڑتا ھے ۔۔۔
معذرت کی تو ھے تو کچھ دیر کے لئیے بیٹھ جاو ویسے بھی میں آج پریشان ہوں ۔۔۔
وہ اس سے دور ہوکر بیٹھ جاتی ھے ۔۔۔
شکریہ ۔۔۔
مجھے آج اپنے والدین کی بہت یاد آرہی ھے آج کے دن انکی وفات ہوئی تھی ۔۔۔
بتاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔۔
ابناز جلدی سے اسکے پاس جاتی ھے اور اسکے کاندھے پر ہاتھ رکھتی ھے ۔۔۔
شہزادے ۔۔۔۔۔
آپ کا دکھ میں سمجھ سکتی ہوں میں نے بھی اپنی امی کو کھویا ھے اور والدین کے کھونے کا دکھ بہت بڑا ہوتا ھے آپ صبر کیجیئے ۔۔۔۔
جب وہ رونا بند نہیں کرتا تو مورنی بھی رونا شروع کردیتی ھے ۔۔۔
پری پیکر ۔۔۔۔
یہ میں نے کیا کردیا تم رونا بند کرو وہ پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
دیکھو میں اب نہیں رو رہا وہ جلدی سے آنسو صاف کرتاھے مورنی اسکی بچوں والی حرکت پر روتے روتے ہنستی ھے اور وہ مدہوش سا اسکی ہنسی میں کھوجاتاھے اور دل میں اسکے ہمیشہ خوش رہنے کی دعا کرتاھے ۔۔۔
Poem
کیا کسی نے دیکھا ھے۔۔۔۔
خزاں کے موسم میں ۔۔۔۔
کھلتا ہوا گلاب ۔۔۔۔۔
کیا کسی نے دیکھا ھے ۔۔۔۔
گھپ اندھیری راتوں میں ۔۔۔
چودھویں کا چاند ۔۔۔۔
کیا کسی نے دیکھا ھے۔۔۔۔
ژالہ باری کے موسم میں ۔۔
گرمائش دیتا سورج ۔۔۔۔
کیا کسی نے دیکھا ھے ۔۔۔
صحرا میں ۔۔۔۔۔
بہتا ہوا سمندر۔۔۔۔۔
کیا کسی نے دیکھا ھے ۔۔۔
بادلوں کے بغیر ۔۔۔
برستی ہوئی بارشیں ۔۔۔
ہاں یہ سب نظارے محتاج تھے
بس۔۔۔۔۔۔
اسکی جھرنے جیسی ہنسی کے
پھر سب نامکن منظر ممکن ہوگئے ۔۔۔۔
گر میری آنکھوں سے دیکھوں گے ۔۔۔۔
جو فقط اسکی ہنستی ہوئی آنکھوں میں قید ہیں ۔۔۔۔۔
(ازخود بیلا بخاری )
وہ سرگوشی میں اس کے کانوں میں امرت گھول رہا تھا اور مورنی بھی اسکے اس خوبصورت اور منفرد اظہار پر بہت خوش اور سرشار تھی ۔
ابناز اپنا سر اسکے کاندھے پر رکھتی ھے اور کتنی دیر تک وہ باتیں کرتے ھیں ۔۔۔
ابناز کیا تم مجھے اپنی زندگی میں شامل ہونے کی اجازت دوگی۔۔۔؟؟؟؟
وہ بس اسکی آنکھوں میں دیکھتی رہتی ھے اور پھر اپنی نظریں جھکا دیتی ھے ۔۔
وہ اسے بہت ہی خوبصورت سا ہار پہناتا ھے
پھر وہ اسے کہتی ھے
مجھے اب جانا ہوگا وہ جلدی سے اٹھتی ھے
پھر کب ملوگی ۔۔۔۔؟؟؟؟
پتا نہیں اور پھر وہ چلی جاتی ہے ۔۔
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
مورنی آج میں بہت خوش ہوں بلآخر تم نے اس وادی کے آقا کو اپنے پیار کے چنگل میں پھنسا لیا ۔۔۔۔
مانگو ۔۔۔۔
آج جو بھی مانگو گی تمہیں ملے گا ۔۔۔۔۔
یہ کیا کہہ رہے ہو تم جادوگر ۔۔۔
کیا ۔۔۔؟؟؟؟
کس کے بارے میں بات کررہے تھے ۔۔۔؟
تم جس شخص سے ملکر آرہی ہوں وہئ تو حے اس وادی کا آقا ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔ظل ۔۔۔۔۔
کیا ۔۔۔۔۔؟؟؟
اسکا نام ظل ھے وہ آقا ھے اس “” وادی ظل “” کا
یہ سن کر وہ سکتے میں چلی جاتی ہے
آقا ۔۔۔۔
معاملہ بگھڑتا جارہا ہے وہ جادوگر اس مورنی کے ساتھ ملکر ہماری وادی کے تمام لوگوں کو اپنے قابو میں کررہا ھے ۔
سنا ھے وہ مورنی بے انتہا خوبصورت ھے اور یہی وجہ ھے جو بھی اسکے قریب جاتا ھے وہ اسکے سحر میں قید ہوجاتا ھے اور جادوگر کی غلامی قبول کرلیتا ھے۔
مگر آقا یہ بات بھی سنی ھے کہ وہ مورنی مجبوری میں یہ کام کررہی ھے ۔۔
نہیں ۔۔۔۔
جاہ ۔۔۔۔
مجھے تو یہ سب اس جادوگر کی سازش لگ رہی ھے اور یقینا اسکا اگلا حملہ ہمارے محل پر ہوگا اور وہ مجھے بھی اپنے جادو سے قید کرنا چاھتا ھے تو اس سے پہلے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو مجھے اس مورنی کو قید کرنا ہوگا تمارے مطابق وہ مجبور ھے تو فلحال اسکی مجبوری کا فائدہ اٹھانا ہوگا اور میرے لوگوں کو تکلیف دینے اور نقصان پہنچانے کے جرم میں اسے سخت سے سخت سزا دی جائے گی ۔
وہ مجبور ھے یا نہیں ؟؟
اس کا فیصلہ بعد میں کیا جائے گا ابھی آپ تیاری کرے میں خود اس مورنی کو ڈھونڈنے جاو گا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: