Morni Novel by Bella Bukhari – Episode 5

0
مورنی از بیلا بخاری – قسط نمبر 5

–**–**–

نہیں کبھی نہیں میں ایسا ہرگز نہیں کروں گی تم زلیل گھٹیا، کمینے انسان کبھی نہیں کروں گی میں ایسا
ہممممم اچھا کیا واقعی تم ایسا نہیں کرو گی ہاں
بولو ۔۔۔!!
ریڈ ہڈ پہنے اس خوفناک شکل والے نے اس معصوم، خوبصورت سی لڑکی سے کہا جو پنک فراک پہنے بلیک اوشن جیسی کالی سیاہ آنکھوں سے اس درندہ صفت شخص کو نہایت حقارت بھری نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آخری بار کہتا ہوں سوچ لو جو کہتا ہوں ویسا ہی کرو ورنہ دوسری صورت میں تم جانتی ہو میں تمہارے ساتھ جو کروں گا سو کروں گا لیکن تمہارے باپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؟؟؟
یہ کہتے ہی اس شخص نے اسکی طرف دیکھا
نن نہیں تم ایسا کچھ نہیں کرو گے میرے بابا کے ساتھ د دیکھو ہم نے تمہارا کیا بگاڑا ھے ہم تو غلطی سے اپنی دنیا سے یہاں آئے کیسے یہ تو ہم نہیں جانتے پر ادھر دیکھو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں میرے بابا کے ساتھ کچھ نہ کرنا
اس شخص نے بہت بے دردی سے اس لڑکی کے لمبے بھورے بالوں کو پکڑا
آہ
چھ چھوڑو ۔۔۔۔۔
تو پھر میری دنیا میں آو میرا ساتھ دو پھر ہم دونوں ملکر ان لوگوں پر حکومت کریں گے تم میری ملکہ بن جاو
تم اپنے حسن سے یہاں کے لوگوں پہ اپنا سحر پھونکنا اور میں اپنے جادو سے
تم نہیں جانتی یہاں کے لوگ حسن کے دیوانے ہیں اور نہ جانے کئی سالوں سے انھوں نے ایسا مکمل حسن نہیں دیکھا ہوگا ۔۔۔۔۔۔۔
یہ لوگ تمہارے اک حکم کے منتظر ہونگے اور تم جو کام کہو گی چاہے وہ اچھا ہو یا برا یہ سب کر گزریں گے _____
تو بتاو کروں گی ۔۔۔۔؟؟؟؟
مجھے سوچنے کے لئیے وقت دو ۔۔۔
وقت ہی تو نہیں ھے مورنی ۔۔۔
تمہارے پاس صرف آج رات کاوقت ھے اور مجھے ہاں میں جواب چاھیئے ۔۔۔۔
انکار کی صورت میں تم اپنے باباجان کو کھودوگی ۔۔۔۔
مورنی کی آنکھوں میں اپنی بے بسی پر آنسو آگئے تھے ۔
_____ ____ ______ ____ ____
کیا کرو ۔۔۔۔
وقت بہت کم ھے اور فیصلہ کرنا اتنا ہی مشکل ۔۔۔۔۔
جاہ بھائی ۔۔۔۔
ہاں اب وہی مجھے اس مصیبت سے نکال سکتے ہیں ۔۔۔
وہ جلدی سے جاہ کے گھر جاتی ھے مگر وہ وہاں نہیں ہوتا ۔۔۔۔
وہ اسکا بے چینی سے انتظار کر رہی تھی مگر اسکے بھائی کا کوئی پتا نہیں تھا ۔۔۔
شام تک وہ گھر ہی بیٹھی رہتی ھے ۔۔۔۔
دوسری طرف جاہ آقا کے پاس تھا ۔۔۔۔۔
آقا مجھے آپ سے بہت ضروری بات کرنی تھی ۔۔۔۔
اگر آپ کا حکم ہو تو ۔۔۔۔
جاہ تم میرے خاص بندے ہوں تمہیں کب سے اجازت کی ضرورت پڑ گئی ۔۔۔۔۔
وہ آقا آپ اپنا کوئی بھی فیصلہ کرنے سے پہلے اگر ایک بار مورنی سے مل لیتے ۔۔۔۔
ظل کو غصہ تو آتا مگر وہ ضبط کر جاتاھے ۔۔۔
جاہ آخر کیوں تم اس مورنی کا ساتھ دینا چاھتے ہو۔۔۔۔؟؟؟
جب کہ تم اچھی طرح سے جانتےہو اسکے آنے کی وجہ سے وادی کس حد تک برباد ہوگئی ھے مگر پھر بھی تم پتا نہیں کیوں اسکا ساتھ دے رہے ہو ۔۔۔۔
آقا ۔۔۔۔۔
بس ایک بار صرف میرے لئیے اس کی بات سن لیں ۔۔۔۔
کیا مطلب تم مل چکے ہوں اس سے ۔۔۔۔؟؟؟؟
اور مجھے بتانا بھی گوارا نا کیا ۔۔۔۔۔
وہ آقا میں آپ کو بتانا چاھتا تھا مگر آپ کچھ دنوں سے بہت مصروف تھے مگر پھر بھی میں شرمندہ ہوں ۔۔۔۔۔
ظل کو جب اپنی مصروفیات یاد آتی ہیں تو اسکا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ جاتاھے اسے اپنی پری پیکر کاسراپہ یاد آتاھے۔۔۔۔
ہہم ۔۔۔۔
کل تم اسے لے آنا میں اسکی بات صرف اور صرف تمہاری وجہ سے سنوں گا اور جاہ میری بات یاد رکھنا اگر مجھے اسکی بات پر تھوڑا سا بھی جھوٹ نظر آیا تو پھر اسے میں جو بھی سزا دوں گا تم کوئی دخل اندازی نہیں کرو گے ۔۔۔۔
جو حکم آپ کا آقا ۔۔۔۔
آپ کا بہت بہت شکریہ کہ آپ نے میری درخواست قبول کرلی ۔۔۔
پھر جاہ چلا جاتا ھے ۔۔
اس مورنی کا قصہ ختم ہوجائے پھر میں اس محل کی ہونے والی ملکہ کو ہمیشہ کے لئیے یہاں لے آو گا ۔۔۔۔۔
ظل اس پری پیکر کے بارے میں ہی سوچ رہاتھا اور وہ آج رات اس سے شادی کی بات کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا ۔۔۔
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
جاہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوتاھے ابناز کو گھر میں دیکھ کر بہت خوش ہوجاتا ھے ۔۔۔۔
گل میری پیاری بہن ۔۔۔۔
بھائی شکر ھے آپ آگئے میں صبح سے آپ کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
وہ میں آقا کے ساتھ تھاتو اس لئیے آج دیر ہوگئی ۔۔۔۔
تم بتاو کیا بات کرنی ھے ۔۔۔
ابھی رہنے دوں یہ بتاو تم نے کچھ کھایا بھی ھے یاں صبح سے بھوکی بیٹھی ہوں ۔۔۔؟؟؟
مورنی معصوم سی شکل بنا کر جاہ کی طرف دیکھتی ھے ۔۔۔
وہ بھائی آپ کے انتظار میں میں تو بھول گئی ۔۔۔۔
گل تم بھی نا حد کرتی ھوں
چلو بیٹھو میں ابھی تمہارے لئیے کچھ کھانے کے لئیے بناتا ہوں۔۔۔۔
بھائی آپ میرے لیے کھانابنائے گے کتنا مزا آئے گا۔۔۔۔
مورنی اسکے ساتھ کچن میں داخل ہوتی ھے ۔۔۔۔
جاہ اسکے چہرے پر خوشی دیکھ کر بہت پیار سے اپنی معصوم سی بہن کو دیکھتا ھے
باباجان بھی میرےلئیے اپنے ہاتھ سے کھانا بناتے تھے اپنے باباجان کو یاد کرتے ہی وہ رونا شروع ہوجاتی ھے ۔۔۔
گل ۔۔۔۔۔
ادھر دیکھو ۔۔۔۔
چلو رونا بند کرو ۔۔۔۔
بھائی مجھے باباجان کی بہت یاد آتی ھے۔۔۔۔
جاہ اسے اپنے پاس کرتاھے اوراسکے آنسو پونچھتا ھے ۔۔۔
تم رو کیوں رہئ ہوں ابھی تمہارا بھائی زندہ ھے اور میں نے وعدہ کیا تھا نا انہیں تمہارے پاس لے کر آو گا تمہیں اعتبار نہیں ھے مجھ پر ۔۔۔۔
مجھے خود سے بھی زیادہ یقین ھے آپ پر بھائی ۔۔۔۔
تو پھر رونا بند کرو ورنہ میں بھی رونا شروع کر دوگا ۔۔۔۔
ابناز جلدی سے چپ ہوتی ھے ۔۔۔
بھائی آپ جلدی کریں مجھے بہت بھوک لگ رہی ھے بس تھوڑی دیر اور صبر کر لو کھانا پکنے والا ھے ۔۔۔۔
پھر ابناز اپنے بھائی کے ساتھ کھانا کھاتی ھے ۔۔۔۔
چلو اب بتاو گل کیا بات تم نے بتانی تھی۔۔۔؟؟؟
بھائی وہ کلارا جادوگر نے مجھے صرف آج رات کا وقت دیا ھے اب بتائیں میں کیا کرو ۔۔۔۔
تم کسی بھی صورت اسکی بات نہیں مانو گی ۔۔۔۔
تمہیں پتا ھے اس نے گل کو زبردستی اپنا بنانا چاہا میری بہن بھی تمہاری طرح خوبصورت تھی اس نے اس جادوگر کی بات نہیں مانی تھی اور اپنی جان دے دی ۔۔۔۔
اسکی وجہ سے میں نے اپنی بہن کو کھو دیا اب پھر سے میں یہ دکھ برداشت نہیں کر پاو گا ۔۔۔۔
جاہ رو رہا تھا۔۔۔۔۔
بھائی آپ پریشان مت ہو اس جادوگر کا خاتمہ ہم مل کر کریں گے ۔۔۔۔
میں نے آقا سے بات کر لی ھے تم کل تیار رہنا آقا تمہاری بات سنے گے ۔۔۔۔
دیکھنا آقا بھی تمہاری مدد کریں گے میں بہت خوش ہوں گل تم بہت جلد آزاد ہوجاو گی ۔۔۔
مورنی آقا کے ذکر پر محض مسکراتی ھے کیونکہ جادوگر کے مطابق وہ جسے پسند کرتی تھی وہی تو آقا تھے ۔۔۔۔
اس وادی ظل کا جو کہ اس آقا کے نام سے جانی جاتی تھی
اب وہ دہری مشکل میں تھی ۔۔۔
بھائی مجھے بہت اہم کام کرنا ھے کل میں آجاوگی ۔۔۔
مگر گل رات ہورہی ھے تم آج یہی رہ جاو ۔۔۔۔۔
کل سے میں آپ کے پاس رہوگی بس صرف آج رات جانے دیں ۔
ٹھیک ھے گل اپنا خیال رکھنا
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
پری پیکر آج اتنی دیر لگا دی تم نے میں کب سے تمہارا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
تو آپ کو کس نے کہا انتظار کریں کیا میں نے کہا تھا ۔۔۔۔
ہاں ۔۔۔۔
شہزادے اب آپ جھوٹ بول رہے ہیں میں نے کب کہاتھا ۔۔۔
بتائیں ۔۔۔۔۔
کچھ باتیں کہی نہیں جاتی بلکہ محسوس کی جاتی ھیں خاموشی کی بھی تو اپنی زبان ہوتی ھے ۔۔۔۔
وہ بس مسکراتی ھے ۔۔۔۔
ابناز مجھے آپ سے بہت اہم بات کرنی ھے ۔۔۔۔
مجھے بھی آپ کو کچھ بتانا ھے
شہزادے آپ بتائیں میری بات اتنی اہم بھی نہیں ھے ۔۔۔۔
بولیں بھی ۔۔۔۔
میں آپ سے شادی کرنا چاھتا ہوں ۔۔۔۔؟؟؟؟
وہ ایک ہی سانس میں بولتا ھے
اور مورنی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
ابناز کو اس بات کی امید نہیں تھی وہ خود سکتے میں تھی ۔۔
کتنی دیر خاموشی چھا گئی تھی ۔۔۔۔
ظل بے تابی سے اسکے جواب کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔
کیا جب انہیں میری سچائی کا پتا چلے گا کیا تب بھی مجھ سے شادی کریں گے ۔۔۔
اب میں کیا کرو ۔۔۔۔
ایک طرف باباجان ہیں تو دوسری طرف میری محبت ۔۔۔
کلارا جادوگر تم نے مجھے کس مشکل میں پھنسا دیا ھے میں کیا کرو ۔۔۔۔
پری پیکر ۔۔۔۔
ابناز اسکی طرف دیکھتی ھے جو آنکھوں میں محبت کا جہاں آباد کیے ہوئے تھا ۔۔۔۔
شہزادے اگر آپ کو میرے بارے میں کوئی ایسی بات پتا چلے جو آپ کو پسند نا آئے کیا تب بھی آپ اسی طرح مجھ سے پیار کریں گے اور میری سچائی جاننے کے بعد بھی کیامجھ سے شادی کریں گے ۔۔۔۔؟؟؟
ابناز مجھے تمہارے ماضی سے کوئی سروکار نہیں تم میری محبت ہو اور ہمشیہ رہو گی ۔۔۔
ٹھیک ھے آپ کو میں کل جواب دوں گی ۔۔۔۔
پھر مجھے کل کا بے صبری سے انتظار ھے ۔۔۔۔
وہ ایک دوسرے کی فیملی کے بارے میں باتیں کرتے رہتے ہیں اور ساری رات باتیں کرتے ہوئے گزر جاتی ھے ۔۔۔
○○○○○○
بھائی چلیں ۔۔۔۔۔
ہاں گل چلو اور جو کچھ مجھے بتایا تھا وہی آقا کو بتانا ھے سمجھ آئی میری بات ۔۔۔۔
جی بھائی ۔۔۔۔
پھر وہ محل کی طرف روانہ ہوجاتے ہیں ۔۔۔۔
آج آپ کی محبت کا امتحان ھے دیکھتے ہیں شہزادے آپ کیا فیصلہ کریں گے ۔۔۔۔
گل تم یہاں انتظار کرو میں آقا کے پاس جارہا ہوں ۔۔۔۔
آقا ۔۔۔۔۔
ظل کتاب پڑھ رہاتھا تب ہی جاہ کمرے میں داخل ہوتاھے ۔۔۔
ہہم ۔۔۔۔
وہ میں مورنی کو لے آیا ہوں وہ آپ کا انتظار کر رہی ھے ۔۔۔۔
آپ چلیں ۔۔۔۔۔
گل آقا بس آنے والے ہیں ۔۔۔۔
تب ہی قدموں کی آوز آتی ھے
گل تم جب تک آقا سے بات کرو میں ایک کام کر کے ابھی آرہا ہوں ۔۔۔
مگر بھائی مجھے ڈر لگ رہا ہے
بہادر بنو گل بس کام ختم کرنے کے بعد تمہارے پاس ہوں گا ۔۔۔
___ ___ ___ ___ ___ ___ ___
ظل جیسے ہی نیچے پہنچتا ھے تب ابناز اپنا چہرہ کھڑکھی کی طرف کر لیتی ھے ۔۔۔۔
آپ کا نام ۔۔۔۔
جو بھی نام ہو۔۔۔۔۔
جاہ کے کہنے پر آپ کی بات سن رہا ہوں ۔۔۔۔
بولیں ۔۔۔۔۔
آقا مجھے آپ کی مدد کی بہت ضرورت ھے میرے باباجان اس جادوگر کے قبضے میں ہیں اور میں مجبوری میں یہ کام کر رہی ہوں ۔۔۔۔
ابناز کافئ حد تک اپنی آواز کو بدلتی ھے مگر اسکی بات سنتے ہوئے ظل کو پری پیکر کا گمان ہوتاھے ۔۔۔۔۔
تب ہی کوئی چیز گرتی ھے اور مورنی جیسے ہی رخ بدلتی ھے تو ظل اسے دیکھ کر دنگ رہ جاتا ھے ۔۔۔۔۔
پری پیکر ۔۔۔۔۔
ظل کو پہلی ملاقات سے لے کر اب تک تمام منظر یاد آرہے تھے اور اسکے ذہن میں صرف ایک بات آئی تھی دھوکہ ۔۔۔۔۔
وہ اسکے پاس جاتا ھے مورنی ۔۔۔۔
شہزادے ۔۔۔۔۔
خاموش بلکل خاموش وہ زور سے اسے دیوار کے ساتھ لگاتاھے
بہت خوب تو تم نے مجھے اپنے پیار کے جال میں پھنسایا ۔۔۔
کیوں آخر کیوں کیا تم نے ۔۔۔؟؟؟
جاہ نے جب تمہارے بارے میں بتایا تھا تب مجھے اس کی بات پر یقین آگیا تھا مگر اب مجھے تم پر یقین نہیں ھے تم واقعی میں معصوم بن کر لوگوں کو اپنے قابو میں کرتی ہوں
مگر ۔۔۔۔۔
اس بار الٹ ہوگا اب تم میری قید میں رہوں گی اور تمہارے ذریعے اس کلارا جادوگر کو ایسی عبرت ناک موت دوں گاکہ تمہاری روح تک کانپ جائے گی ۔۔۔
شہزادے ۔۔۔۔
میری بات توسنیں ۔۔۔۔
چپ گستاخ لڑکی ۔۔۔۔
آقا بولو ۔۔۔۔
سپاہیوں ۔۔۔۔۔
سیپاہوں ۔۔۔۔۔
ظل زور سے انہیں بلاتاھے
جی آقا ۔۔۔۔
اسے طے خانے میں ڈال دو اور اسے نا ہی کھانا دینا ھے اور نا ہی پانی کا ایک بھی قطرہ وہ ابناز کو زور سے دھکا دیتا ھے جس سے وہ گر جاتی ھے ۔۔۔۔
اور وہ سپاہی اسے گھسیٹتے ہوئے طے خانے کی طرف کے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اور ابناز ۔۔۔۔۔
To be continue…………
_____ _____ ______ ____
اب کیا ہوگا کیا مورنی ہمیشہ قید میں رہے گی ۔۔۔۔؟؟؟
یا آقا اسے معاف کرکے اپنی ذندگی میں شامل کر لیں گے ۔۔¿

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: