Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 1

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
M Shahbaz Aziz
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 1

–**–**–

یونیورسٹی کا پہلا دن اور وہ بھی اکیلے (کسی جانی پہچانی صورت یا دوست کے بغیر).. ابیہا کاظم کے ہاتھ پاؤں پھلانے کیلئیے محض یہ خیال ہی بہت کافی تھا گوکہ آپی نے اسکی کافی ہمت بندھائی تھی لیکن وہ ابیہا ہی کیا جو مجمع میں آکر جی بھر کے نہ گھبرائے. ابو اسے یونیورسٹی کے گیٹ پہ اتار کر چلے گئے تھے اور وہ لرزتے قدموں کے ساتھ اس گیٹ کو پار کر کے اندر بھی آچکی تھی. لیکن اب وہ مین ایڈمن بلاک کے ایک طرف سمٹی سمٹائی سی کھڑی بالکل کسی ایسے الو کیطرح چندھیائی ہوئی آنکھوں سے گردونواح کا جائزہ لے رہی تھی جسے اجالے میں لاکر بٹھا دیا ہو… سیاہ بڑی سی چادر میں لپٹی ہوئی وہ سانولی سلونی سی لڑکی کاندھے پہ سیاہ عام سا بیگ ڈالے بار بار چادر کا کونا پیشانی تک کھینچتے ہوئے پریشان سی صرف یہ سوچ رہی تھی کہ اسکا ڈیپارٹمنٹ کس طرف ہے. کچھ ہمت کرکے اس نے قدم آگے بڑھائے. کچھ دیر ادھر سے ادھر چکرانے کے بعد وہ پھر ایک جگہ رک گئی. اسے سمجھ نہ آرہی تھی کہ وہ کیا کرے. بےفکرے نوجوان لڑکے لڑکیاں ادھر سے ادھر چکراتے پھر رہے تھے لیکن کسی نے بھی رک کر اس پریشان سی لڑکی کی طرف توجہ نہ دی تھی.. قریب تھا کہ وہ مارے گھبراہٹ کے رو پڑتھی ایک نرم اور مہربان سی آواز اسکے قریب ہی ابھری تھی.
“مے آئی ہیلپ یو¿”
ابیہا نے اپنا جھکا ہوا سر اٹھایا. ایک الٹرا ماڈرن اور اسٹائلش سی بہت خوبصورت لڑکی اسکے سامنے کھڑی اس سے پوچھ رہی تھی. اسکے چہرے پہ نرم سی مسکراہٹ تھی.
“جی..” مری مری سی آواز ابیہا کے حلق سے نکلی.
“نیو کمر ہو¿” لڑکی نے پوچھا. ابیہا نے اثبات میں سر ہلایا.
“کس ڈیپارٹمنٹ کی ہو¿’
” جیوگرافی” ابیہا نے سر جھکاکر ایسے جواب دیا جیسے اپنے کسی جرم کا اعتراف کررہی ہو.
“آئی سی.. تو یہاں کیوں کھڑی ہو¿” لڑکی نے سر کو خفیف سی جنبش دے کرپوچھا.
“ڈڈ..ڈیپارٹمنٹ نہیں مل رہا.” ابیہا ہکلائی. لڑکی نے ایک نظر اسکے فق چہرے کیطرف دیکھا اور ایک نگاہ اسکے عقب میں بنے ڈیپارٹمنٹ پہ ڈالی جہاں واضح طور پر جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ لکھا ہوا نظر آرہا تھا.
“یہ تمہارے پیچھے ہی تو ہے جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ.” اس نے ہاتھ سے اشارہ کرکے کہا. ابیہا نے بے اختیار مڑ کر دیکھا اور بے طرح جھینپ گئی.
“بائے داوے میں روحینہ ہوں.کیمسٹری میں ماسٹرز کر رہی ہوں. سیکنڈ لاسٹ سمسٹر ہے میرا.” لڑکی نے اپنا نازک سا سپید ہاتھ اسکی جانب بڑھا کر اپنا تعارف کروایا تھا. ابیہا نے کچھ جھجھکتے ہوئے اس سے ہاتھ ملایا
“تمہارا نام کیا ہے¿” روحینہ نے پوچھا.
“ابیہا.” وہ جواباً مدھم لہجے میں بولی. خوبصورت اور با اعتماد روحینہ کے سامنے اسے اپنا آپ بہت بودا سا لگنے لگا تھا.
“نائس نیم.. اچھا ابیہا میرا ڈیپارٹمنٹ وہ سامنے ہے. تمہیں کوئی بھی پرابلم ہو تو تم مجھ سے کہہ سکتی ہو.” ہاتھ کے اشارے سے بڑے سے گراؤنڈ کے اس پار اشارہ کرتے ہوئے روحینہ نے پرخلوص انداز میں کہا تھا. ابیہا نے سر ہلا دیا.
“آؤ میں تمہیں تمہاری کلاس تک چھوڑ آؤں. ایکچوئیلی یونیورسٹی اتنی بڑی ہے کہ اکثر نیو کمرز فرسٹ ڈے بوکھلا جاتے ہیں.” وہ بالکل نارمل سے انداز میں کہتی اسکا ہاتھ تھام کر ڈیپارٹمنٹ کی جانب بڑھی تھی. ابیہا کی جھجھک کچھ کم ہونے لگی.
“میری ایک دو فرینڈز ہیں یہاں بھی.میں ان سے کہہ دونگی کہ تمہارا خیال رکھا کریں.” وہ اسے بتا رہی تھی. اسے اسکی کلاس تک چھوڑ کر وہ اسے پریشان نہ ہونے کی تاکید کرکے چلی گئی تھی. ابیہا لرزتے قدموں کےساتھ کلاس میں داخل ہوگئی. کلاس میں لڑکوں کی تعداد زیادہ تھی اور ان سب ہی نے ایک نظر اس پہ ڈالی تھی. سر تاپا سیاہ چادر میں لپٹی سانولی سی وہ لڑکی شکل سے ہی دبو نظر آرہی تھی. لڑکوں کو اسمیں کچھ خاص چارم نظر نہ آیا تھا. ابیہا پیچھے کے بینچز میں سے ایک پہ جاکر بیٹھ گئی.
————
“اوہ گاڈ ممی! میں آپکو بتا نہیں سکتی کہ وہ کتنی انڈر کانفیڈنٹ لڑکی تھی. بیچاری اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ مجھے ڈر تھا کہیں رو ہی نہ پڑے.” روحینہ کافی دیر سے شکیلہ بیگم کے کان کھا رہی تھی.
“تو بیٹا آپ اسکے ساتھ دوستی کرلیں اور اسے گائیڈ کرتی رہا کریں. آہستہ آہستہ وہ بھی یونیورسٹی میں ایڈجسٹ کر جائے گی” شکیلہ بیگم نے ایک فیشن میگزین کے اوراق پلٹتے ہوئے اپنے مخصوص مہذب لہجے میں جواب دیا تھا.
“ہاں ممی میں نے تو اس سے فرینڈ شپ کرنے کا پکا ارادہ کرلیا ہے. بہت ہی انووسنٹ اور کیوٹ سی ہے وہ. چھوٹی سی لگتی ہے بالکل کسی کالج گرل کیطرح.” روحینہ کے ذہن پہ آج صرف اور صرف ابیہا سوار تھی.
“کون چھوٹی سی لگتی ہے جناب” ایک شوخ اور دلکش مردانہ آواز پہ وہ دونوں ہی بے طرح چونک کر متوجہ ہوئیں.اور پھر روحینہ “ولی بھیا” کا نعرہ لگا کر اچھل پڑی. ولیدحسن آرمی کے فل یونیفارم میں ایک چھوٹا سا سفری بیگ کندھے سے لٹکائے کمرے میں داخل ہورہا تھا. اسکی شیو بڑھی ہوئی تھی اور چہرے پہ تھکن کے آثار تھے مگر سیاہ آنکھیں زندگی کی چمک سے بھرپور تھیں.
“واٹ آ سرپرائز..” روحینہ بھائی سے لپٹ گئی تھی.
“کیسی ہے میری گڑیا” ولید نے بہن کے سر پر پیار کرتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں پوچھا.
“ایک دم فٹ.” روحینہ اس سے الگ ہوتے ہوئے بولی.
“اسلام علیکم ممی.” ولید نے آگے بڑھ کر شکیلہ بیگم کے دونوں ہاتھ تھام کر عقیدت سے چوم کر آنکھوں سے لگائے تھے. یہ اسکی بچپن کی عادت تھی.
“وعلیکم اسلام” جیتے رہئیے.” شکیلہ بیگم نے اپنے فرمانبردار بیٹے کے سر پہ بوسہ دیا تھا.
“اف بھیا مجھے اتنی خوشی ہورہی ہے آپکو یہاں دیکھ کر کہ میں بیان نہیں کرسکتی.” روحینہ کی خوشی اسکے چہرے سے عیاں تھی. ولید مسکراتے ہوئے ماں کے برابر بیٹھ گیا.
“کتنے دنوں کیلئے آئے ہیں بیٹا¿” شکیلہ بیگم نے محبت سے اسکا چہرا ہاتھ سے چھو کر پوچھا.
“پورے ایک ماہ کیلئیے آیا ہوں ممی..” اسکے جواب پہ روحینہ تو اچھل ہی پڑی تھی.
“واؤ اٹ مینز کہ آپ سکندر بھیا کی شادی اٹینڈ کرکے جائینگے. کتنا مزہ آئے گا.” وہ ایکسائیٹڈ ہوکر بولی.
“بالکل خوب انجوائے کرینگے سب مل کر.” ولید نے اسکی ہاں میں ہاں ملائی.
“بالکل انجوائے کرنا. لیکن ابھی جائیے اور ملازم سے کہہ کر بھائی کا کمرہ درست کروائیں اور جاتے ہوئے ملازمہ سے چائے کیلئیے بھی کہتی ہوئی جائیں” شکیلہ بیگم کی ہدایت پہ وہ “جی اچھا” کہہ کر کمرے سے چلی گئی تھی.
“ممی.. آپکو بہت مس کرتا ہوں میں.” ولید نے انکی گود میں سر رکھ دیا.
“میں بھی آپکو بہت مس کرتی ہوں بیٹا لیکن پھر یہ سوچ کر میرے دل کو قرار آجاتا ہے کہ میرا بیٹا ملک کے دشمنوں کے خلاف برسرپیکار ہے. مجھے تو فخر کرنا چاہئیے کہ میں ایک بہادر فوجی کی ماں ہوں.” اسکے سیاہ بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے وہ مامتا سے پر لہجے میں کہہ رہی تھیں. ولید کو اپنی ماں کے عزم و ہمت پہ فخر محسوس ہوا. یہ انہی کی تربیت کا نتیجہ تھا کہ آج وہ تینوں بہن بھائی زندگی کے ہر میدان میں کامیابیاں سمیٹ رہے تھے.
“ممی مجھے لاہور ٹرانسفر کردیا گیا ہے. اب آپ میرے ساتھ چل کر رہیں وہاں مجھے فرسٹ کلاس گھر بھی ملے گا.” ولید نے انکو بتایا.
” نہیں بیٹا میں ادھر ہی ٹھیک ہوں. میرے جانے سے گھر کا سارا نظام الٹ پلٹ جاتا ہے.روحینہ اور سکندر کیلئیے مسئلہ بن جاتا ہے ”
“کیا ممی آپکو اپنے دو بچوں کا خیال ہے اور تیسرے کی کوئی فکر نہیں. میں اتنے عرصے سے آپ سب سے دور تنہا زندگی گزار رہا ہوں.” ولید کے شکوے پہ شکیلہ بیگم مسکرائیں.
“آپکی تنہائی حل سوچ لیا ہے میں نے.”
“اور وہ حل ضرور بھیا کی شادی ہے. ہے ناں ممی¿” روحینہ نے کمرے میں داخل ہوتےہوئے شوخ لہجے میں کہا تھا. شکیلہ بیگم کھل کر مسکرائی تھیں.
“بالکل سکندر کے بعد اب ولی کی ہی باری ہے” وہ بولیں.
“بھیا کوئی لڑکی پسند ہے تو ابھی بتا دیں بعد میں شکوہ مت کیجئیے گا کہ آپکی مرضی کا خیال نہیں کیا گیا.” روحینہ فلور کشن پہ بیٹھتے ہوئے بولی.
“ہاں بیٹا آپکی جو پسند ہے اسکا اظہار کر دیجئیے. زندگی تو آپ نے ہی گزارنی ہے.” شکیلہ بیگم ایک روشن خیال خاتون تھیں انھوں نے کبھی بھی اپنے بچوں کو کسی بات کیلئیے پریشرائز نہ کیا تھا.
“پسند تو کوئی نہیں ہے ممی. اگر کوئی پسند آئیگی تو سب سے پہلے آپکو ہی بتاؤنگا.” ولید نے سنجیدگی سے جواباً کہا.
“ویسے آپکو کس قسم کی لڑکیاں پسند ہیں ولی بھیا¿” روحینہ نے پراشتیاق لہجے میں پوچھا تھا.
“با حیا” ولید کا ایک حرفی جواب تھا.
اور جواب دیکر وہ اٹھ کر “میں فریش ہوکر آتا ہوں” کہہ کر کمرے سے چلا گیا تھا.
—————–
“کیسا رہا دن¿” وہ جیسے ہی یونیورسٹی سے گھر پہنچی نیہا نے دروازہ کھولتے ہی سوال داغا تھا. ابیہا تھکے تھکے انداز میں آنگن میں بچھی چارپائی پہ بیٹھ گئی.
“صیحیح تھا بس..”
“کوئی سہیلیاں بنیں¿” نیہا بھی اسکے برابر بیٹھ گئی تھی.
“اتنی جلدی بھلا دوستی کیسے ہوسکتی ہے آپی.” وہ چادر اتار کر طے کرنے لگی.
“دوستی تو ایک منٹ میں ہوجاتی ہے پاگل لڑکی.”
“تمہاری ہوجاتی ہوگی میری تو نہیں ہوتی. میری تو کلاس میں کسی سے سلام دعا بھی نہیں ہوئی آج.” چادر طے کرکے سائیڈ پہ رکھتے ہوئے اس نے جواب دیا.
“تم کیا چیز ہو آبی. اچھا یہ بتاؤ کلاس میں لڑکے زیادہ ہیں یا لڑکیاں¿” نیہا کا تجسس عروج پہ تھا اور کیوں نہ ہوتا ابیہا خاندان بھر کی پہلی لڑکی تھی جو یونیورسٹی میں داخل ہوئی تھی. ورنہ انکے خاندان کی کوئی بھی لڑکی میٹرک ایف اے سے آگے پڑھ نہ پاتی تھیں. یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ انکے خاندان میں تعلیم حاصل کرنے پہ زیادہ توجہ ہی نہ دی جاتی تھی. نیہا بھی ایف اے میں مر مر کے پاس ہوکر گھر بیٹھ گئی تھی. پھپھو کے سب سے آخری سپوت سے منسوب تھی اور پانچ ماہ بعد اسکی شادی ہونا قرار پائی تھی. انکا گھرانہ پردے کا پابند اور بہت حد تک تنگ نظر تھا. ایسے میں ابیہا کے تعلیم میں انٹرسٹ اور ایف ایس سی کے بعد بی ایس سی میں بھی شاندار رزلٹ نے ابو کے دل میں یہ خواہش جگا ڈالی تھی کہ وہ اپنی بیٹی کو اعلیٰ تعلیم دلوائیں گے. خاندان بھر سے مخالفت بھی کی گئی مگر وہ اپنے فیصلے سے نہ ہٹے تھے. اور ابیہا کو اسلام آباد کی ایک مشہور یونیورسٹی میں داخلہ دلواکرہی دم لیا تھا. اسکے شاندار مارکس اور بہترین ایڈمیشن ٹیسٹ کے باعث اسے میرٹ پہ داخلہ ملا تھا. ابیہا فطرتاً دبو اور شرمیلی تھی. وہ تو سکول کالج میں لڑکیوں کے سامنے بات کرتے ہوئے گھبرا جایا کرتی رھی کجا کہ یونیورسٹی میں کلاس بھی لڑکوں سے بھری پڑی تھی اور پڑھانے والے بھی سب مرد.. اسکا گھبرانا ایک نارمل سی بات تھی.
“لڑکے زیادہ ہیں .. اور آپی ٹیچرز بھی سب مرد ہیں.” اس نے جواباً بتایا.
“اور وہ سب لوگ بہت امیر امیر ہیں. یہ فر فر انگش بولنے والے. میں تو وہاں ہرطرح سے مس فٹ ہوں.” وہ ازحد مرعوب نظر آرہی تھی.
“ایک تو میں تمہاری اس احساس کمتری سے بہت تنگ ہوں بھئی. وہ سب انسان ہیں کوئی شیر چیتے نہیں کہ تمہیں چیر پھاڑ کر ڈکارلینگے.اور جہاں تک بات ہے امیر ہونے کی تو اللہ کا شکر ہے ہمیں کسی چیز کی کمی نہیں ہے الحمدللہ رزق کی فراوانی ہے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلانا پڑا. اور فر فر انگریزی بولنے کی کیا بات کرتی ہو تم آجکل تو ہر دوسرا بندہ انگریزی بولتا ہوا نظر آتا ہے. لہٰذا تم خدا کیلئیے ان فضول سوچوں کو اپنے ذہن میں جگہ مت دو” نیہا نے اچھی خاصی تقریر کر ڈالی تھی. وہ ہمیشہ ہی ابیہا کو زندگی کے مثبت پہلو دکھانے کی کوشش کرتی تھی. مگر ابیہا پہ کبھی اسکی تقریروں کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا.
“ارے آبی تو کب آئی¿” امی اندرونی کمرے سے برآمد ہوئی تھیں.
“ابھی آئی ہوں عامر کیساتھ” اس نے جواب دیا.
“عامر کہاں ہے¿” امی نے پوچھا
“پتہ نہیں مجھے چھوڑ کر کہیں نکل گیا ایک منٹ کیلئیے بھی نہیں رکا.” اس نے بتایا.
“ایک تو میں اس لڑکے سے بہت تنگ ہوں نجانے اسکا دل گھر میں کیوں نہیں لگتا. ہر وقت وہ اللہ ماری موٹر سائیکل لئیے آوارہ گردیاں کرتا رہتا ہے. جانیہا اپنے ابو کو فون کردے کہ دکان سے آتے ہوئے ایک کلو آلو لیتے ہوئے آئیں. اس موئے عامر نے تو اب پتہ نہیں کب شکل دکھانی ہے.” امی حسب عادت نان اسٹاپ بولتے ہوئے تخت پہ براجمان ہوگئیں. نیہا اٹھ کر ابو کو فون کرنے چلی گئی.
“تو کیوں بیٹھی ہے. جا جا کر کپڑے بدل اور کھانا کھا.” انھوں نے اسے گھرکا تو وہ ناچار اٹھ کر اپنے اور نیہا کے مشترکہ کمرے کیطرف بڑھ گئی.

“تم نے اچھا کیا ولی جو آگئے. یہاں تو سب خواتین اپنی شاپنگ میں اس قدر مگن رہتی ہیں کہ مجھ بیچارے کا کسی کو کوئی خیال ہی نہیں آتا. اب تم آگئے ہو تو میری شاپنگ بھی اچھی طرح سے ہوجائیگی.” رات کے کھانے پہ گھر کے سب افراد جمع تھے. سکندر کی اس بات پہ ولید سمیت سب مسکرائے تھے.
“کل سے ہی آپکی شاپنگ اسٹارٹ کرینگے بھائی جان فکر مت کیجئیے.” ولید اپنی پلیٹ میں چاول نکالتے ہوئے بولا.
“جی بالکل فکر مت کیجئیے دولہا صاحب آپکو اپنی شادی کے دن پرانے کپڑے نہیں پہننے پڑینگے.” روحینہ شرارت سے بولی.
“میں سوچ رہا ہوں کہ کل شزاء بھابھی سے ہی مل آؤں. کب سے ملاقات نہیں ہوئی ان سے.” ولید نے چند لمحوں بعد کہا.
“ہاں بیٹا ضرور جائیے شزاء بھی اکثر آپکا پوچھتی ہے.” شکیلہ بیگم نے بھی گفتگو میں حصہ لیا.
“میں بھی چلونگی ولی بھیا.” روحینہ بولی
“آپ بھی چلیں گے سکندر بھائی¿” ولید نے شرارت آمیز مسکراہٹ کے ساتھ سکندر کی طرف دیکھا.
“بالکل نہیں شادی میں صرف دو ہفتے رہ گئے ہیں اب سکندر کا روز روز وہاں جانا مناسب نہیں ہے.” سکندر کے کچھ بولنے سے قبل ہی شکیلہ بیگم بول اٹھی تھیں. سکندر اپنا سا منہ لے کر دہ گیا. جبکہ ولید اور روحینہ دبی دبی سی ہنسی ہنسنے لگے.
“فاٹا کے حالات کیسے ہیں اب¿” کچھ لمحوں کی خاموشی کے بعد سکندر نے ولید کو مخاطب کیا.
“بہتر ہیں لیکن مکمل قیام امن میں ابھی مزید کچھ وقت لگے گا. ان شاءاللہ جلد حالات بالکل نارمل ہوجائینگے.” ولید نے جواباً پر امید لہجے میں کہا.
“ملک میں قیام امن کیلئیے فوج کو کتنی قربانیاں دینی پڑتی ہیں.” روحینہ بولی.
“ہاں. کسی بھی عظیم مقصد کا حصول قربانیوں کے بغیر ممکن نہیں ہوتا روحی اور مسلمان تو شہادت کی موت کو زندگی پہ ترجیح دیتا ہے.” ولید کے لہجے میں تفاخر تھا.. مان تھا..
“پتہ ہے جب علی نے میرے سامنے سینے پہ گولی کھا کر میرے ہاتھوں میں جان دی تھی تب میں نے جانا تھا کہ شہادت کی موت کیا ہوتی ہے. اسکی دونوں ٹانگوں میں گولی لگی تھی اسکے سینے میں گولی پیوست تھی اسکی سانسیں اکھڑ رہی تھیں لیکن اس عالم میں بھی وہ مسکرا رہا تھا.اسکی زبان پہ کلمہ طیبہ جاری تھا.اس لمحے میرے دل میں شدت سے یہ خواہش جاگی تھی کہ کاش علی کی جگہ میں ہوتا. اور اسکے بعد اتنے عرصے سے دشمنوں کیخلاف لڑتے ہوئے ہر لمحہ میرے دل میں یہی آرزو رہی کہ میں بھی شہادت کا رتبہ حاصل کروں.”
علی ولید کا بچپن کا دوست تھا فوجی بننا دونوں کا جنون تھا دونوں نے اکٹھے ہی آرمی جوائن کی تھی اور تین سال قبل دونوں کو اکٹھے ہی وزیرستان بھیجا گیا تھا جہاں علی نے جام شہادت نوش کیا تھا. ولید جب بھی اسکا تذکرہ کرتا اسکی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پہ مسکراہٹ کی جھلک ہوتی.
“ہماری قربانیاں رائیگاں نہیں جائینگی مجھے یقین ہے کہ انشاءاللہ بہت جلد ہمارا ملک امن کا گہوارہ بن جائیگا.” ولید کے لہجے میں عزم تھا. سب نے دل ہی دل میں آمین کہا تھا.
“لاہور میں اپکی ایڈجسٹ منٹ آسانی سے ہوجائیگی ناں بھیا. وہاں تو کافی دوست ہیں آپکے.” روحینہ ہے پوچھا
“ہاں ایڈجسٹ منٹ تو ہو جائیگی لیکن میری دلی خواہش ہے کہ میں ان ایریاز میں پوسٹڈ رہوں جہاں پہ امن و امان کی صورتحال خراب ہے.” ولید نے کھانا ختم کرکے نیپکین سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا.
“بٹ آئی تھنک یو نیڈ آبریک.” سکندر نے کہا.
“آپ کیا جانیں بھائی جان اپنے وطن کیخاطر بے آرام زندگی گزارنے میں کتنا سکون ہے. سنسناتی گولیوں اور بموں کی گھن گھرج میں مجھے اپنا آپ بے حد تازہ دم محسوس ہوتا ہے.” ولید کی سیاہ آنکھیں چمک رہی تھیں.
“شادی کے بعد کیا کرینگے. ہمیں تو کئی کئی ماہ تک شکل نہیں دکھاتے مگر بیوی تو لڑائی جھگڑے کریگی.” روحینہ منہ بنا کر بولی.
“ایک فوجی کی بیوی کو عزم و حوصلے کی اعلیٰ مثال ہونا چاہئیے” ولید نے کہا.
“بیویاں یہ باتیں نہیں سمجھتیں بیٹا. انہیں فل اٹین شن چاہئیے ہوتی ہے.” سکندر نے لقمہ دیا.
“میں کسی سطحی سوچ رکھنے والی لڑکی سے شادی ہی نہیں کرونگا. میری شریک حیات وہ لڑکی بنے گی جس کے دل میں پاکستان کی محبت ہر محبت سے بڑھ کر ہو اور جس کا دل وطن عزیز کی خاطر جذبہ قربانی سے لبریز ہو.” ولید کے جواب پہ شکیلہ بیگم مسکرائیں.
“پھر تو بیٹا جی آپکیلئیے آرڈر پہ لڑکی تیار کروانی پڑے گی.” شکیلہ بیگم کی بات پہ سب ہی ہنس پڑے تھے.
——————
“ہائے ابیہا!” روحینہ اسے دور سے ہی دیکھ کر زور سے بولی تھی. اور وہ جو اپنے دھیان میں اپنے ڈیپارٹمنٹ کی طرف جارہی تھی چونک کر رک گئی اور ادھر ادھر دیکھنے لگی.
“ادھر ہوں میں لڑکی” روحینہ نے عقب سے اسکے شانے پہ ہاتھ مارا تو وہ بے اختیار مڑی.
“اسلام علیکم!” وہ کنفیوز سے انداز میں بولی.
“وعلیکم السلام! کیسی ہو¿” روحینہ بہت تیز تیز بولتی تھی. اور اسمیں بلا کا اعتماد تھا. ابیہا اس سے مرعوب تھی.
“جی ٹھیک ہوں. اپکا کیا حال ہے¿” ابیہا نے مدھم لہجے میں پوچھا
“ایکدم فٹ ہوں. اگر تم بزی نہیں ہو تو آؤ کچھ دیر کیفیٹیریا میں بیٹھتے ہیں.” روحینہ کا انداز دوستانہ تھا. ابیہا کو قدرے حوصلہ ہوا.ابھی اسکی کوئی کلاس بھی نہ تھی لہٰذا وہ اسکے ساتھ کیفٹیریا چلی آئی.صبح کے دس بجے کا عمل تھا. کیفٹیریا میں اکا دکا ہی میزیں آباد تھیں. وہ دونوں ایک دورافتادہ میز پہ آبیٹھی.
“کیا کھاؤگی¿” روحینہ نے اپنا بیگ میز پہ رکھتے ہوئے پوچھا.
“کچھ نہیں. میں ناشتہ کرکے آئی ہوں.” ابیہا نے جواب دیا
“وہ تو میں بھی کرکے آئی ہوں. مگر کیفٹیریا آکر کچھ نہ کھانا بڑا غیر قدرتی سا لگتا ہے. تم بیٹھو میں ابھی آئی.” وہ خوشگوار لہجے میں بول کر پلٹ کے کاؤنٹر کیطرف چلی گئی. ابیہا نے حسب عادت اپنی سیاہ چادر کا پلو پیشانی تک کھینچا اور گرد و نواح کا جائزہ لینے لگی. قدرے فاصلے پر ایک میز پہ ایک لڑکا لڑکی بیٹھے تھے. لڑکا بڑی لگاوٹ سے لڑکی کے منہ میں بریانی کا چمچ ڈال رہا تھا. اس نے اپنے دل میں استغفراللہ پڑھی اور نظریں جھکا کر میز کی سطح پہ جمادیں.
“صبح صبح ٹھنڈاٹھار مینگو شیک.” روحینہ نے ملک شیک کے دو گلاس میز پہ رکھے اور خود بھی سامنے والی کرسی گھسیٹ کر بیٹھ گئی.
“آپ نے بلاوجہ تکلف کیا” ابیہا نے کہا.
“کم آن یار دوستی میں فارمیلٹی نہیں ہوتی. ” روحینہ نے شیک کا سپ لیا. ابیہا دل ہی دل میں حیران تھی کہ کیسے مزے سے اس لڑکی نے اسے اپنی دوست ڈکلئیر کردیا تھا.
“تم کدھر رہتی ہو¿” روحینہ نے پوچھا
“پنڈی میں.’اس نے سرجھکا کر جواب دیا.
” گڈ. کتنے بہن بھائی ہیں تمہارے¿”
“تین. ایک بہن مجھ سے بڑی ہے پھر میں ہوں پھر چھوٹا بھائی.”
“اچھا ہم بھی تین بہن بھائی ہیں. لیکن میں اکلوتی اور سب سے چھوٹی ہوں. دونوں بھائی بڑے ہیں مجھ سے. ایک بھائی بزنس کرتے ہیں اور دوسرے آرمی میں کیپٹن ہیں.” روحینہ نے بتایا. ابیہا محض سر ہلا کر رہ گئی.
“تمہارے فادر کیا کرتے ہیں¿”
“انکی اپنی گارمنٹس شاپ ہے” ابیہا نے جواباً سر جھکا کر کہا. اس امیر اور طرحدار لڑکی کے سامنے اسے ابو کے کاروبار پہ شرمندگی ہورہی تھی.
“واہ پھر تو مجھے اپنے ابو کی شاپ سے ہی شاپنگ کروادوناں ڈسکاؤنٹ پہ. میرے بھائی جان کی شادی ہے کچھ دنوں بعد.” روحینہ شرارت آمیز لہجے میں بول رہی تھی. ابیہا نے ذرا غور سے اسکی طرف دیکھا. روحینہ کی آنکھوں میں اسے کہیں بھی طنز نظر نہ آیا تھا. اسکی شرمندگی ذرا کم ہوئی.
“لیڈیز گارمنٹس کی شاپ نہیں ہے انکی” اسکے ہونٹوں پہ خفیف سی مسکراہٹ دکھائی دی تھی. اور مسکراتے ہوئے اسکے دائیں گال میں بڑا گہرا بھنور پڑتا تھا.
“ارے تمہارا ڈمپل کتنا کیوٹ ہے.” روحینہ بے اختیار بولی. ابیہا جھینپ سی گئی. اسکے سادہ سے چہرے پہ حیا کا گلابی پن جھلکنے لگا.
“یو آر سو کیوٹ” روحینہ نے مسکرا کے کہا. ابیہا نے بے یقینی سے اسکی طرف دیکھا. اسکے پورے خاندان میں اسے کم شکل سمجھا جاتا تھا. کالج اسکول میں بھی کبھی کوئی تعریفی جملہ سننے کو نہ ملا تھا. اب سامنے بیٹھی سبز آنکھوں اور گولڈن براؤن بالوں والی بے حد حسین روحینہ کے منہ سے اپنے لئیے تعریفی کلمات سن کر اسکی حیرانی بجا تھی.
“میں تو ممی اور ولی بھیا کو بھی بتاتی ہوں کہ میری ایک بہت ہی کیوٹ سی فرینڈ بنی ہے. ممی کہہ رہی تھیں کہ کسی دن اپنی نئی دوست کو گھر لے کر آنا. تم چلنا ناں میرے ساتھ میرے گھر.” روحینہ سادہ سے پرخلوص انداز میں بات کر رہی تھی.
“ابو سے اجازت لینی پڑیگی. اصل میں ہماری فیملی تھوڑی سخت ہے. لڑکیوں کا کہیں بھی آناجانا پسند نہیں کیا جاتا.” ابیہا نے اسے بتایا.
“آئی سی.. چلو میرے بھائی کی شادی میں تو آؤگی ناں¿”
“ابو نے اجازت دی تو ضرور آؤنگی.”
“میں تمہارے ابو سے خود اجازت لے لونگی تمہارے گھر آکر. میں تو آسکتی ہوں ناں تمہارے گھر¿” روحینہ نے اپنی بڑی بڑی آنکھیں پھیلا کر پوچھا.
“جی ضرور. موسٹ ویلکم. جب آپکا دل چاہے آئیے گا.” ابیہا نے اسکے ہاتھ پہ ہاتھ رکھ کر خلوص سے پر لہجے میں کہا.
“سو سوئیٹ آف یو.” روحینہ نہال ہوگئی تھی.
ابیہا دل سے مسکرائی تھی.
—————–
“آبی امی کہہ رہی ہیں جلدی سے روٹی ڈال دو پھپھو لوگ کب سے آئے بیٹھے ہیں.” نیہا نے کمرے میں جھانک کر امی کا پیغام اس تک پہنچایا اور سرعت سے واپس بھی چلی گئی تھی. ابیہا نے کسلمندی سے اٹھ کر بال دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر باندھے اور پاؤں میں چپلیں ڈال کر دوپٹہ نماز کے انداز میں لپیٹتی ہوئی کمرے سے باہر آئی. رات کے آٹھ بجے کا عمل تھا وہ یونیورسٹی سے آکر جو سوئی تو اب جاکے آنکھ کھلی تھی. وہ صحن میں آئی جہاں تخت پہ دادو کے ساتھ پھپھو اور ابو براجمان تھے جبکہ سامنے بچھی کرسیوں میں سے ایک پہ زبیر بھائی مؤدب سے انداز میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور دوسری کرسی پہ امی بیٹھی ہوئی تھیں. پھپھو ہمیشی کیطرح زبیر بھائی کی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھیں.
“اسلام علیکم!” اس نے قدرے اونچی آواز میں سلام کیا تھا. وہ سبھی اسکی طرف متوجہ ہوئے.
“وعلیکم السلام! توفیق ہوگئی تجھے پھپھی کو سلام کرنے کی دو گھنٹے سے آئی بیٹھی ہوں تو نے جھانک کے نہ دیا.” پھپھو کی زبان سے مجال ہے جو کبھی کوئی میٹھی بات غلطی سے بھی نکلی ہو. اس نے چپ چاپ آگے بڑھ کر انکے آگے سر جھکا یا.
“جیتی رہو مگر یہ بالکل غلط طریقہ ہے کہ بڑی بہن صبح سے شام تک کچن میں سڑے اور تم خواب خرگوش کے مزے لوٹتی رہو” اسکے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے بھی انکا لہجہ نرم نہ ہوا تھا.
“آپا یونیورسٹی سے آکر تھک جاتی ہے اسی لئیے سوجاتی ہے.” ابو نے اسکی حمایت کرنی چاہی.
“ارے تو ضرورت ہی کیا تھی یونیورسٹی بھیجنے کی. چودہ جماعتیں پڑھ لی تھیں کافی تھیں.” پھپھو نے فوراً سے کہا. وہ چپ چاپ وہاں سے کھسک کر کچن میں آگئی. کچن کی ایک کھڑکی صحن کی جانب کھلتی تھی اسلئیے وہ وہاں ہونے والی گفتگو کا ایک ایک لفظ بآسانی سن سکتی تھی.
“آپا میری بچی پڑھائی میں بہت اچھی ہے.” ابو نے کہا.
“ارے اچھی ہے تو سولہ جماعتیں پڑھ کر کونسا عبدالقدیر خان بن جانا ہے اس نے. ہمارے خاندان میں کونسا لڑکیوں کو نوکری کرنی ہوتی ہے.” پھپھو کا لہجی تلخ تھا. ابیہا نے فریج سے گوندھا ہوا آٹا نکال کر کاؤنٹر پہ رکھا.
“آپا ساری بات نوکری کی نہیں ہوتی. میری خواہش لے کہ میری بچی اعلٰی تعلیمیافتہ ہو.” ابو ہمیشہ اسکا مقدمہ لڑتے تھے. اس نے چولہا جلا کر توا اس پہ رکھا اور پیڑے بنانے لگی.
“ہمارے گھر کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے. اور اس کاظم کی تو عقل ہی گھاس چرنے گئی ہوئی ہے ” دادو نے بھی گفتگو میں حصہ لیا تھا.
“سب آپکی ڈھیل کا نتیجہ ہے امی جی. جب آبی نے میٹرک کیا تھا اس وقت اسلم کے لڑکے کا رشتہ لائی تھی میں اسکیلئیے. تب شادی کردی ہوتی تو آج چار بچوں کی ماں ہوتی. گھر کی ذمے داری پڑتی تو ڈگریاں لینے کے سارے شوق ختم ہوجاتے.”
اسلم چاچا اسکے ابو کے کزن تھے انکا ہونہار سپوت ٹیکسی چلاتا تھا. خیر سے اب تو وہ شادی شدہ چار بچوں کا باپ تھا اسکے شاید فرشتوں کو بھی کبھی ابیہا سے شادی نی ہونے کا غم نہ ہوا ہو مگر یہ پھپھو تھیں جنکو آج تک یہ رشتی نہ ہونے کا قلق تھا.
“آپا اسلم کا لڑکا ابیہا سے عمر میں دس سال بڑا ہے اور تب تو ابیہا صرف سولہ سال کی تھی. آجکل اتنی کم عمری میں بچیاں بیاہنے کا کہاں رواج رہ گیا ہے” ابو کے لہجے میں ناگواری تھی.
“ہاں ہاں بھیا تم گھر بٹھائے بٹھائے بڑھیا کردینا اپنی لاڈلی کو اور ڈگریوں کا ہار بٹیا کے گلے میں ڈال دینا.” پھپھو کا یہ فیورٹ ٹاپک تھا. وہ جب جب آتیں ابو کو ابیہا کی تعلیم چھڑوا دینے پہ خوب زور دیتیں.
“اللہ نہ کری میری بچی گھر بیٹھے بیٹھے بوڑھی ہوجائے. آپا خدا کیلئیے ایدی باتیں تو منہ سے نہ نکالیں.” امی تو دہل گئیں تھیں. کچن میں ابیہا روٹیاں پکا پکا کر ہاٹ پاٹ میں رکھتی جارہی تھی اور ٹپا ٹپ آنسو اسکی آنکھوں سے بہتے جارہے تھے.
“ارے تو کچھ غلط تو نہیں کہہ رہی میں. آجکل تو ایک سے ایک حسین لڑکی رشتے کے انتظار میں گھر بیٹھی ہے تو پھر آبی جیسی عام شکل کی لڑکی کو کون پسند کریگا. ” پھپھو کا یہ تکیہ کلام تھا… ابیہا کی آنکھوں سے اور تیزی سے ساون بھادوں جاری ہوگیا تھا.
“سعیدہ صیحیح کہہ رہی ہے کاظم. کچھ عقل کو ہاتھ مار. ” دادو ہمیشہ پھپھو کی سائیڈ لیتی تھیں.
“میری آبی میں کوئی کمی نہیں ہے. اللہ نے اسکا نصیب بہت اچھا لکھا ہے انشاءاللہ.” ابو کا لہجہ پریقین تھا.
“اے بھیا ہم تو خیرخواہ ہیں آگے تمہاری مرضی. آخر کو اولاد تو تمہاری ہی ہے. خیر میں تو اپنی نیہا کے کپڑوں کا ناپ لینے آئی تھی کہاں ہے نیہا¿” پھپھو نے بات کا رخ بدل دیا تھان امی نے نیہا کو آواز دی اور وہ فوراً ہی اندرونی کمرے سے برآمد ہوئی تھی. اب صحن میں ہونے والی گفتگو کا مرکز نیہا اور زبیر کی متوقع شادی تھی. ابیہا نے روٹیاں پکا کر آٹا فریج میں رکھا اور ٹرالی میں کھانا سیٹ کرکے کچن سے نکل کر چھوٹے سے لاؤنج میں آئی. جہاں عامر صوفے پہ آڑا ترچھا لیٹا ٹی وی پہ ریسلنگ دیکھ رہا تھا.
“عامر کچن میں کھانے کی ٹرالی رکھی ہے وہ صحن میں دے آؤ.” اس نے عامر کو مخاطب کیا
“خود دے آؤ” عامر نے ہمیشہ کیطرح ٹکا سا جواب دیا تھا.
“دے آؤ ناں جاکر یہ ریسلنگ بھاگی نہیں جارہی کہیں.” اس نے غصہ دکھایا.
“تمہارے اپنے پیروں میں مہندی تو نہیں لگی ہوئی ناں. نہ ہی تم پھپھو سے پردہ کرتی ہو.” عامر اس سے چار سال چھوٹا تھا مگر اکثر ادے محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اسکی بڑی نہیں بلکہ چھوٹی بہن ہے. ابیہا نے دانت کچکچائے
“مرو تم بدتمیز..” وہ پاؤں پٹختی ہوئی کچن میں آئی تو ٹرالی ندارد تھی. اس نے کھڑکی سے صحن میں جھانکا تو نیہا پھپھو کو کھانا پیش کرتی نظر آئی. اس نے گہرا سانس بھرا اور اپنے کمرے میں آگئی. اسکا دل ہمیشہ کیطرح پھپھو کے جلد از جلد چلے جانے کی دعا مانگ رہا تھا.
——————–
“اکیلی کیوں بیٹھی ہو¿” روحینہ دھپ سے اسکے برابر آبیٹھی تھی. ابیہا نے چونک کر اسکی طرف دیکھا وہ اس وقت اپنے ڈیپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پہ بیٹھی ہوئی تھی.
“بس یونہی.” اس نے جواباً مدھم لہجے میں کہا. روحینہ نے بغور اسکے چہرے کیطرف دیکھا وہ اداس نظر آرہی تھی.
“کیا ہوا¿” اداس کیوں ہو¿” اس نے نرم لہجے میں پوچھا
“نہیں تو بس آج یونیورسٹی آنے کا دل نہیں چاہ رہا تھا.” اسنے کمزور لہجے میں جواب دیا.
“تو چلو کہیں گھومنے چلتے ہیں.” روحینہ نے جھٹ سے کہا.
“نہیں مجھے گھر سے پرمیشن نہیں ہے.”
“اوہ ہاں. اچھا چلس یہیں واک کرتے ہیں.” روحینہ کے کہنے پہ وہ اسکے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئی. وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہوئی سیڑھیاں اتر کر دائیں جانب مڑ گئیں.
تمہاری اسٹڈیز کیسی چل رہی ہیں¿” روحینہ نے اس سے پوچھا.
“بہت اچھی. جیوگرافی میرا فیورٹ سبجیکٹ ہے.” ابیہا نے مسکرا کے جواب دیا.
“ویری گڈ یار مجھے تو جیوگرافی ہمیشی سے ہی مشکل لگتی ہے.”
“گریجویشن میں میں نے اپنی کالج میں جیوگرافی میں ٹاپ کیا تھا.” ابیہا کے لہجے میں اعتماد تھا. روحینہ کو اچھا لگا.
“زبردست پھر تو تمہیں پاکستان کا جغرافیہ زبانی یاد ہوگا.”
“نہیں اب اتنی بھی لائق نہیں ہوں میں. بس جنرل نالج ہی ہے میرے پاس ”
“جنرل نالج تو میرے پاس بھی ہے. مثلاً پاکستان کا کل رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے. اسکے مشرق میں بھارت مغرب میں افغانستان جنوب مغرب میں ایران اور شمال مشرق میں چائنہ ہے.” روحینہ کسی رٹے رٹائے انداز مجں بولتی گئی. ابیہا ہنسنے لگی.
“بس بس. یہ تو کلاس تھری کے بچے کو بھی پتہ ہوتا ہے” وہ اپنی سیاہ چادر کا پلو پیشانی تک کھینچتے ہوئے بولی.
“جنرل ناجل تو یہی ہوتی ہے.”روحینہ نے شانے اچکائے.
وہ دونوں اب کیفٹیریا میں داخل ہورہی تھیں. یہاں اس وقت خوب چہل پہل تھی.
” نہیں جیوگرافی کے اسٹوڈنٹ کی جنرل نالج اس سے بہت زیادہ ہونی چاہئیے.” ابیہا نے کہا. روحینہ نے ایک دورافتادہ میز پہ قبضی جمایا.
“مثلاً¿”
وہ دونوں کرسیاں گھسیٹ کر آمنے سامنے بیٹھ گئیں.
“مثلاً. پاکستان کا 96.6% حصہ خشکی جبکہ 3.1% حصہ پانی پہ مشتمل ہے. پاکستان کی ساحلی پٹی 1,046 کلومیٹر طویل ہے. پاکستان کا بارڈر افغانستان کے ساتھ 2,252 کلومیٹر’ انڈیا کے ساتھ 2,912 کلو میٹر’ چائنہ کے ساتھ 585 کلومیٹر اور ایران کے ساتھ 909 کلو میٹر طویل ہے. اور…”
“بس بس بس… اتنا کچھ دماغ میں اسٹور کیسے کرتی ہو لڑکی” روحینہ نے ہاتھ اٹھا کر اسکی تیز تیز چلتی زبان کو روکا تھا.
“یہ تو جنرل نالج ہے.” ابیہا نے لاپروائی سے شانے اچکائے.
“امیزنگ.. آئم امپریسڈ” روحینہ نے توصیفی انداز میں کہا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

M Shahbaz Aziz

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

%d bloggers like this: