Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 2

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 2

–**–**–

“ہیلو روحی!” دو لڑکوں اور ایک لڑکی پہ مشتمل ایک گروپ نے دور سے ہی ہانک لگائی تھی.
“ہائے گائیز!” روحینہ نے انکی طرف دیکھ کر ہاتھ ہلایا تھا. وہ تینوں ادھر ہی چلے آئے. ابیہا کے چہرے پہ گھبراہٹ کے آثار ابھرے.
“کہاں ہو میڈم ہم کب سے تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں.” ایک لڑکے نے آتے ہی کہا تھا.
“یہیں تھی ابیہا کے ساتھ. یہ میری نئی فرینڈ ہے ابیہا. جیوگرافی ڈیپارٹمنٹ سے اور ابیہا یہ میری کلاس میٹ ماریہ یہ عمر اور یہ ذیشان” روحینہ نے ان تینوں کا تعارف کروایا تھا. ان تینوں نے یک زبان ہوکر “ہائے ابیہا” بولا تھا. وہ محض سرہلا کر رہ گئی.
“ہم لوگ پزاہٹ جارہے ہیں. تم لوگ چلوگی¿” ذیشان نامی لڑکے نے روحینہ سے دریافت کیا تھا.
“نہیں یار مجھے تو ابھی کچھ دیر تک ولی بھیا لینے آجائینگے” روحینہ نے ابیہا کے چہرے پہ پھیلتی ناگواری کو محسوس کرلیا تھا.
“کیوں تمہاری اپنی گاڑی کہاں ہے” عمر نے پوچھا
“یار گاڑی خراب ہے میری. ولی بھیا ہی پک اینڈ ڈراپ دے رہے ہیں آجکل.” اس نے جواباً کہا.
“ہائے پھر تومیں بھی رک جاتی ہوں. اپنے ہینڈسم سے بھیا سے کہنا مجھے بھی ڈراپ کردے.” ماریہ نے فدا ہونے والے انداز میں کہا تھا. وہ سب ہنسنے لگے. جبکہ ابیہا کو اسکا بو جھجھک انداز نہ بھایا تھا.
“میرے ولی بھیا بے حد شریف النفس انسان ہیں بی بی اور انھیں بے باک لڑکیاں بالکل اچھی لگتی نہیں لگتیں.” روحینہ نے دوبدو کہا.
“ارے تو میں کل سے برقعہ پہننا شروع کردونگی. بس تم مجھے اپنی بھابھی بنالو.” ماریہ اب ڈھٹائی سے ہنس رہی تھی. ابیہا نے اتنے چیپ مذاق پہ دل ہی دل میں لاحول ولا قوۃ پڑھا.
“چلتی پھرتی نظر آؤ. میرے بھیا کیلئیے تو کوئی جنت کی حور آئے گی.” روحینہ کے پر مذاق لہجے میں بھی اپنے بھائی کیلئیے فخر اور مان تھا.
“ویری فنی.. چلو لڑکوں یہاں اپنی دال نہیں گلنے والی.” ماریہ نے منہ بنا کر کہا. انکے جانے کے بعد روحینہ نے اپنے بیگ سے اپنا سیل فون نکالا جو وائبریٹ کررہا تھا. اس نے موبائل کان سے لگایا.
“ہیلو.. جی.. اچھا آتی ہوں..” کہہ کر اسنے کال بند کی.
“یار ولی بھیا اور ممی مجھے لینے آگئے ہیں.” اس نے موبائل بیگ میں رکھتے ہوئے ابیہا کو بتایا.
“ہوں. میرا بھائی بھی آنے والا ہوگا.” ابیہا نے اپنی کلائی پہ بندھی گھڑی کیطرف دیکھتے ہوئے کہا تھا.
“چلو پھر ساتھ ہی چلتے ہیں.” روحینہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو وہ بھی اپنا بیگ کاندھے پہ ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی وہ دونوں ساتھ ساتھ چلتی ہوئی پارکنگ ایریا تک آئیں.
“آؤ تمہیں ممی سے ملواؤں.” روحینہ نے اس سے کہا تھا.
“نہیں.” اس نے نفی میں سر ہلایا.
“ارے آؤ ناں ممی تمہیں کھا نہیں جائینگی.” وہ اسے کھینچتی ہوئی گیٹ سے باہر لائی اور ایک سیاہ رنگ کی مرسڈیز کے پاس جارکی. روحینہ نے گاڑی کے تاریک شیشوں میں سے ایک پہ دستک دی.
“اتنی دیر روحی.” گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوتے ہی ایک دلکش مردانہ آواز ابیہا کی سماعتوں سے ٹکرائی. وہ روحینہ کے عقب میں تھی.
“ہاں بس ہم باتیں کررہے تھے. ممی آئیں آپکو ابیہا سے ملواؤں.” اس نے پچھلی سیٹ پہ بیٹھی شکیلہ بیگم سے کہا.
شکیلہ بیگم اپنی طرف کا دروازہ کھول کر باہر آئیں. ہلکے آسمانی رنگ کے سادہ سے ڈیزائنر وئیر شلوار قمیض دوپٹہ شانوں پہ پھیلائے آنکھوں پہ سن گلاسز کانوں میں ننھے ننھے ڈائمنڈز گلے میں سونے کی چین جسمیں لگا ہیرا جگر جگر کر رہا تھا.ڈائی شدہ بالوں کا جوڑا بنائے ایک ہاتھ میں آئی فون پکڑے شکیلہ بیگم کی شخصیت سے امارت جھلکتی تھی. ابیہا جھجھک گئی.
“اسلام علیکم!” وہ بمشکل بولی. شکیلہ بیگم نے مسکرا کر اس معصوم سی لڑکی کیطرف دیکھا.
“وعلیکم السلام بیٹا. کیسی ہو آپ. روحینہ آپکا بہت ذکر کرتی ہے.” انھوں نے پرشفقت انداز میں اسکا گال چھوا تھا. ابیہا کا چہرا گلابی ہوگیا.
“ممی یہ میری سب سے پیاری سہیلی ہے.” روحینہ نے اسکا ہاتھ دبا کر ایکسائٹد انداز میں کہا. ابیہا ہلکا سا مسکرائی مگر اس مسکراہٹ میں بھی کم اعتمادی کی جھلک تھی.
“ارے یہ ولی بھائی اندر بیٹھے ہیں.” روحینہ گاڑی کی طرف بڑھی اور جھک کر اندر جھانکا.” ولی بھیا میری بیسٹ فرینڈ کھڑی ہے اور آپ ادھر بیٹھے ہیں آخر کو کرٹسی بھی کوئی چیز ہوتی ہے.” اس نے اسٹیرنگ کے سامنے اکتائے ہوئے انداز میں بیٹھے ولید کو لتاڑا.
“تو کیا گارڈ آف آنر پیش کروں تمہاری بیسٹ فرینڈ کو¿” ولید نے دبی ہوئی آواز میں پوچھا جواباً روحینہ نے اسے گھور کے دیکھا تو وہ اوکے کہتے ہوئے گاڑی سے باہر آگیا. شکیلہ بیگم ابیہا سے باتیں کررہی تھیں وہ بھی ہولے ہولے کچھ کہہ رہی تھی ولید شکیلہ بیگم کے ساتھ ہی آکھڑا ہوا.
“ابیہا یہ میرے ولید بھیا ہے. اور بھیا یہ میری بیسٹ فرینڈ ابیہا ” روحینہ نے تعارف کروایا. ابیہا نے نظریں اٹھا کر سامنے کھڑے ولید کو دیکھا. سیاہ پینٹ شرٹ میں وہ دراز قد اور انتہائی ہینڈسم انسان تھا. ابیہا نے بے اختیار نظریں جھکا لیں.
“ہائے ابیہا کیسی ہیں آپ¿” ولید نے ایک فارمل سی مسکراہٹ کے ساتھ پوچھا.
“جی الحمدللہ” ابیہا نے اپنی چادر کا کونا پیشانی تک کھینچتے ہوئے جواب دیا. اسکی آواز کپکپا رہی تھین ولید حسن کی نظریں ایک لحظہ کو اسکے چہرے پہ رکی تھیں. سیاہ چادر کے ہالے میں وہ سادہ سا چہرا اس قدر پاکیزگی لئے ہوئے تھا کہ اسکی نظریں خودبخود جھک گئیں.
“چلیں ممی.” ولید نے شکیلہ بیگم سے پوچھا.
“ہاں. اور ابیہا بیٹے آپ جمعے کو ہمارے گھر قرآن خوانی میں ضرور آئیے گا.” شکیلہ بیگم نے اسے تاکید کی تھی.
“جی.” اس نے نظریں جھکائے مدھم لہجے میں کہا تھا. ولید کی موجودگی اسے کنفیوز کررہی تھی. اور ولید اسکے گھبرانے پہ دل ہی دل میں حیران ہورہا تھا. کیا یونیورسٹی میں پڑھنے والی کوئی لڑکی بھی اتنی شرمیلی اور کم اعتماد ہوسکتی تھی.
“ہر صورت میں آنا ہے تم نے.” روحینہ نے دھونس جمانے کے سے انداز میں کہا تھا. ابیہا نے نظریں اٹھائیں عامر کی بائیک سامنے سے آتی دکھائی دی تو اسکی جان میں جان آئی.
“میرا بھائی آگیا.” وہ جلدی سے بولی اسکے چہرے پہ ایکدم سے تازگی کی لہریں دوڑنے لگیں. ولید نے بغور اسکے بدلتے تاثرات کو دیکھا تھا.
” اوکے یار اللہ حافظ.”روحینہ نے اسکا دایاں گال چوم کر کہا. ابیہا گلابی پڑتے چہرے کے ساتھ شکیلہ بیگم کیطرف مڑی.”اللہ حافظ آنٹی.”اسنے مدھم لہجے میں کہا.
“اللہ حافظ بیٹا جیتی رہئے ” شکیلہ بیگم نے اسکے سر پہ ہاتھ پھیر کر پر شفقت لہجے میں کہا تھا. عامر اب بائیک روکے اسکی تلاش میں ادھر ادھر نظریں دوڑا رہا تھا.وہ ولید کو اللہ حافظ کہے بغیر تیز قدموں ست چلتی اس کیطرف چلی گئی تھی. وہ تینوں گاڑی میں بیٹھے اور ولید نے گاڑی اسٹارٹ کی. اسکی نظریں بلاارادہ ہی سامنے کھڑی ابیہا پہ تھیں جو اپنی لمبی سی چادر سمیٹ کر بائیک پہ بیٹھ گئی تھی. ایک ہاتھ اپنے بھائی کے شانے پہ رکھے دوسرے سے ٹھوڑی کے پاس سے چادر کا کونا تھامے ہوئے تھی تاکہ ہوا سے چادر سر سے نہ اترے. ولید حسن نے گاڑی زن سے آگے بڑھا دی.
——————–
“ابوجی مجھے آپ سے ایک بات پوچھنی ہے” رات کے کھانے کے بعد جیسے ہی اسے ابو صحن میں تخت پہ تنہا بیٹھے نظر آئے وہ انکے پاس چلی آئی.
“پوچھو بیٹا.” ابو نے پرشفقت انداز میں پوچھا.
“وہ ابو میری ایک دوست ہیں یونیورسٹی میں روحینہ’ انکے گھر میں جمعے کو قرآن خوانی ہے تو انھوں نے مجھے آنے کا کہا ہے ” اس نے رک رک کر مدھم آواز میں اپنا مدعا بیان کیا تھا.
“بیٹا تمہیں پتہ ہے کہ تمہاری دادو کو لڑکیوں کا کسی انجان گھر میں جانا پسند نہیں کرتیں. اور سچ پوچھیں تو مجھے خود بھی پسند نہیں ہے. دوستیوں کو یونیورسٹی تک ہی محدود رکھئیے. آپکو پتہ ہے کہ میں نے خاندان بھر کی مخالفت مول لے کر آپکو یونیورسٹی میں داخل کروایا ہے.” ابو نے سنجیدہ لہجے میں تفصیل سے بات کی تھی. وہ سر ہلا کر چپ چاپ اپنے کمرے میں چلی آئی. جہاں نیہا اسکے لیپ ٹاپ پہ کوئی فلم دیکھ رہی تھی. یہ لیپ ٹاپ ابو نے اسکی اسٹڈیز کیلئیے لیکر دیا تھا اور انٹرنیٹ بھی اسکی پڑھائی کیلئیے ہی لگوایا تھا. وہ اپنے بستر پہ بیٹھ گئی.
“تمہیں کیا ہوا¿” نیہا نے کانوں سے ہینڈ فری اتار کر اسکے لٹکے ہوئے چہرے کا بغور معائنہ کیا.
“کچھ نہیں.” اس نے مرے مرے انداز میں جواب دیا.
“ہاں میں بھول گئی تھی کہ تمہاری شکل ہی ایسی ہے” نیہا نے پرمذاق انداز میں کہہ کر پھر سے ہینڈ فری کانوں میں لگالئیے. وہ برا سا منہ بنائے بستر سے لیٹ گئی.
“کچھ پھوٹو بھی.” نیہا نے چند لمحوں بعد پھر اسے پکارا.
“ابو نے مجھے روحینہ کے گھر قرآن خوانی پہ جانے سے منع کردیا ہے.” اس نے اسے بتایا.
“میں نے تمہیں پہلے ہی کہا تھا کہ وہ منع کردینگے.” اس نے جواباً سنجیدہ لہجے میں کہا.
“ہوں.. مگر اس میں کیا حرج ہے آخر.” وہ بجھی بجھی سے نظر آرہی تھی.
“حرج کیوں نہیں ہے. ہمارے گھر کا ایسا ماحول ہی نہیں ہے. کبھی خاندان کی کوئی لڑکی سہیلیوں کے گھر نہیں گئی. زبیر تو اس بات پہ ہی سخت خفا ہیں کہ انکی سالی لڑکوں کے ساتھ پڑھتی ہے. اور پھپھو بھی خلاف ہیں یونیورسٹی کے. لہٰذا تم اتنی آزادی کو ہی غنیمت سمجھو.” نیہا نے لیکچر جھاڑا تھا.
“تم تو ہر وقت گھر پہ ہی رہتی ہو آپی پھر زبیر بھائی کو کیا ہے. میرے سے انہیں کیا لینا دینا.” وہ کوفت بھرے انداز میں بولی.
“کیوں لینا دینا نہیں ہے. تم انکی فرسٹ کزن ہو سالی بھی ہو انکا حق ہے کہ وہ تمہارے متعلق فکر مند ہوں. کچھ زیادہ ہی ایڈوانس سوچ نہیں ہوتی جارہی تمہاری دن بہ دن. خاندان سے الگ نہیں ہو تم.” نیہا کو اسکے متعلق ہر دوسرے دن کوئی نیا خدشہ لاحق ہوجاتا تھا اور وہ کچھ نہ بولتی تھی. وہ جانتی تھی کہ نیہا کی زندگی کا زیادہ تر انحصار اسکے اپنے لگائے گئے اندازوں پہ ہوتا ہے اسکی محدود سی زندگی میں زبیر اور خاندان کے مسائل کے علاوہ کچھ نہیں تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھی جو اپنی عقل پہ خود ہی نازاں ہوتے ہیں. ابیہا جواب دیئے بناء کروٹ بدل کر لیٹ گئی.
——————-
“ارے کب سے فون بج رہا ہے سب بہرے ہوگئے ہو کیا¿” دادو کی غصیلی چنگھاڑ پہ ابیہا نے رجسٹر رکھ کر لاؤنج کیطرف دوڑ لگائی اور فون کا ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا.
“ہیلو.” وہ ماؤتھ پیس میں بولی.
ہیلو! مجھے ابیہا کاظم سے بات کرنی ہے.” دوسری جانب سے ایک جانی پہچانی زنانہ آواز سنائی دی.
“جی میں بات کر رہی ہوں … آپ کون¿” سامنے بیٹھی دادو کی گھورتی ہوئی نظروں سے گھبراتے ہوئے وہ محتاط انداز میں بول رہی تھی.
“ارے ابیہا میں روحینہ بول رہی ہوں. کیسی ہو تم¿” دوسری جانب سے کھلکھلا کر کہا گیا.
“اوہ روحینہ آپ..میں ٹھیک ہوں.. آپ کیسی ہیں¿” ابیہا کی اٹکی ہوئی سانس بحال ہوئی.
“ایک دم فرسٹ کلاس. اچھا سنو جلدی سے اپنا ہاؤس نمبر بتاؤ میں تمہارے گھر آرہی ہوں” روحینہ کی بات سن کر اسکی تو صیحیح معنوں میں سٹی گم ہو گئی تھی.
“آ…آپ میرے گھر آرہی ہیں…”
“ہاں یار تمہارا گھر ڈھونڈ رہی ہوں جلدی سے بتاؤ مارکیٹ سے کہاں ٹرن کروں¿”
“کس کا فون ہے¿” امی نے کچن سے باہر آتے ہوئے پوچھا.
“میری دوست کا فون ہے امی وہ ہمارے گھر آنا چاہ رہی ہیں” اس نے ریسیور کے ماؤتھ پیس پہ ہاتھ رکھ کرکہا.
“کون سی دوست¿” دادو کی سماعت اس عمر میں بھی قابل رشک تھی.
“یونیورسٹی کی دوست ہیں دادو وہ ہاؤس نمبر ہوچھ رہی ہیں.” اس نے دادو کوبتایا. نیہا بھی کچن سے لاؤنج میں آئی.
“کونسی دوست¿ روحینہ?” اسنے ابیہا سے پوچھا.
“ہاں وہ مارکیٹ میں کھڑی ہیں ہاؤس نمبر پوچھ رہی ہیں.” اس نے پریشان لہجے میں نیہا کوبتایا.
“اوہ میں عامر کو بھیجتی ہوں ہاؤس نمبر سے تو ان گلیوں میں کسی کو قیامت تک بھی گھر نہیں مل سکتا.” نیہا کہہ کر عامر کو پکارتی ہوئی صحن میں نکل گئی.
“ہیلو روحینہ آپ مارکیٹ سے لیفٹ ہو کر مسجد کے پاس رکیں میں اپنے بھائی کو بھیجتی ہوں.” اس نے ریسیور کان سے لگا کر جلدی جلدی کہا.
“اوکے. یہاں سے لیفٹ کرلیں” روحینہ کی آواز سنائی دی غالباً ڈرائیور کو ہدایت دیکر اسنے ابیہا کو اپنی گاڑی کا موڈل اور رنگ بتا کر کال بند کردی. ابیہا ریسیور رکھ کر صحن میں آئی جہاں نیہا عامر کو صورتحال سے آگاہ کر رہی تھی. ابیہا نے عامر کو روحینہ کی گاڑی کا رنگ اور ماڈل بتا کر روانہ کیااور خود جلدی سے ڈرائنگ روم میں آئی. عامر کو رات میں ڈرائنگ روم میں سونے کا بہت شوق تھا اور وہ وہاں پہ روز صبح وہ ابتری پھیلا کر نکلتا تھا جیسے مانو جنگ ہوئی ہو. اس نے پھرتی سے پھیلاوا سمیٹا اور ڈرائنگ روم سے باہر نکلی. صحن کے تخت پہ اب امی اور دادو براجمان تھیں. نیہا اندرونی کمرے سے برآمد ہوئی.
“اب یہ نئے ڈرامے شروع ہوگئے ہیں اس گھر میں.” دادو سخت کبیدہ خاطر نظر آرہی تھیں.
“امی جی اب دروازے پہ آئے ہوئے مہمان کو واپس تو نہیں کیا جاسکتا” امی نے بھی ناگوار لہجے میں جواب دیا.
“آبی کولڈ ڈرنک تو پڑی ہوئی ہے ساتھ کیا منگوانا ہے¿” نیہا نے ابیہا کو مخاطب کیا.
“اور کیا منگوانا ہے بن بلائے مہمانوں کی اس سے زیادہ کیا خاطر کی جاسکتی ہے.” امی نے اکتاہٹ سے پر لہجے میں کہا.
“امی کھانے کا ٹائم ہے ویسے تو.” ابیہا بولی.
“ہاں ہاں اب کھانے کھلاؤ ان اللہ ماری سہیلیوں کو. باوا تمہارے کی ملیں چلتی ہیں ناں.” دادو فوراً ہاتھ نچا کر بولی تھیں.
“کھانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے بس کولڈ ڈرنک کافی ہے.” امی نے قطیعت سے کہا تو اسنے مدد طلب نظروں سے نیہا کی جانب دیکھا.
“ہاں صیحیح ہے تمہاری دوست بھی تو بن بتائے آرہی ہے اب ہم کوئی لینڈ لارڈ تو نہیں ہیں اور ویسے بھی وہ تمہاری دوست ہے تم سے ملنے آرہی ہے.” نیہا نے بھی ہمیشہ کیطرح فوراً سے امی اور دادو کی ہاں میں ہاں ملائی تھی. اسی لمحے داخلی گیٹ سے عامر دوڑتا ہوا اندر آیا. “آبی آبی تمہاری دوست آگئی ہے.” اس نے ایکسائیٹمنٹ سے کہا.”انکی گاڑی اتنی شاندار ہے کہ کیا بتاؤں اور امی انکا ڈرائیور بھی اتنا ہینڈسم ہے کہ ہمارے تو سارے کزنز میں سے بھی کوئی اتنا ہینڈسم نہیں زبیر بھائی بھی اسکے سامنے بودے سے ہی لگیں گے.” عامر کی بات پہ نیہا کا منہ بن گیا تھا. “بکواس مت کرو تم” وہ ہاتھ نچا کر بولی. “سچ کہہ رہا ہوں. تم خود جا کر دیکھ لو بیشک” وہ مزے سے بولا اسی لمحے روحینہ اندر داخل ہوئی ابیہا تیزی سے اسکی طرف بڑھی. “اسلام علیکم ابیہا! کیسی ہو تم” روحینہ نے اس سے گلے ملتے ہوئے خوشگوار لہجے میں پوچھا. صحن میں موجود سبھی نفوس کی نظریں روحینہ کی طرف اٹھ کر پلٹنا بھول گئی تھیں. وہ تھی ہی ایسی خوبصورت اور اوپر سے اسکا امارت جھلکاتا وجود اسکے کپڑے اسکا ہر ہر انداز مڈل کلاس گھرانے کے لوگوں کیلئیے چونکا دینے والا تھا.
“میں بالکل ٹھیک ہوں آپکو گھر ڈھونڈنے میں کوئی پرابلم تونہیں ہوئی¿” اس نے پوچھا.
“نو یار بالکل بھی نہیں.” روحینہ بولتی ہوئی اسکے ساتھ چلتی صحن کیطرف بڑھی.”آج سنڈے تھا تو سوچا تم سے ہی مل آؤں اور سکندر بھائی کی شادی میں انوائیٹ بھی کرلوں. وہ مدھم لہجے میں اس سے کہہ رہی تھی.
“بہت اچھا کیا آپ نے مجھے بہت اچھا لگا آپکا آنا.” ابیہا نے کہا.
“اسلام علیکم! ” روحینہ نے صحن میں بیٹھے نفوس کو سلام کیا. وہ سب تو ابھی تک اسکے دیدار سے ہی فارغ نہ ہوئے تھے. اسکے سلام کرنے پہ چونکے.
“یہ میری امی ہیں یہ دادو اور یہ آپی.” ابیہا نے جلدی جلدی سب کا تعارف کروایا. روحینہ نے سب کیساتھ رسمی جملوں کا تبادلہ کیا اور تخت پہ دادو کے برابر ہی بیٹھ گئی. وہاں موجود سب نفوس روحینہ کی شخصیت سے اتنے مرعوب ہوگئے تھے کہ بوکھلاہٹ اور گھبراہٹ کا ایکساتھ حملہ ہوگیا تھا ان پر. روحینہ نے اپنے لیئرز میں کٹے لمبے سیدھے بالوں کو سمیٹ کر دائیں شانے پہ ڈالا اور نزاکت سے ٹانگ پہ ٹانگ رکھ کر سب کی طرف اچٹتی سی نظر ڈالی. اسی لمحے گیٹ پہ مدھم سی دستک ہوئی. عامر دروزے کیطرف جھپٹا اور ابیہا نے جلدی سے آواز لگائی. “عامر روحینہ کے ڈرائیور کو باہر والے دروازے سے ہی ڈرائنگ روم.. ” اسکا جملہ منہ میں ہی رہ گیا تھا کیونکہ دروازے سے اندر داخل ہونے والا وہ انتہائی ہینڈسم انسان ڈرائیور نہیں بلکہ ولید حسن تھا. روحینہ ہنسنے لگی. جبکہ ولید کے چہرے سے بھی صاف ظاہر ہورہا تھا کہ وہ ابیہا کے نادر کلمات سن چکا ہے ابیہا کا شرمندگی کے مارے برا حال ہوگیا.
“میرے بھائی کو ڈرائیور تو مت کہو یار.” وہ مزے سے بولی تھی جبکہ ولید اب اندر آ چکا تھا. وہاں موجود سبھی لوگوں کی نظروں میں اسکیلئیے ستائش ابھری تھی.
“یہ میرے بھائی ہیں آنٹی. آئیں ولی بھیا.” روحینہ نے اٹھتے ہوئے کہا ولید پروقار چال چلتا صحن میں آیا. نیہا نے جلدی سے سر دوپٹے سے ڈھانپا. ولید خوش اخلاقی سے دادو اور امی سے مل رہا تھا. “عامر! بھائی کو ڈرائنگ روم میں بٹھاؤ بیٹا” امی کی ہدایت پہ عامر بھی مؤدب سے انداز میں آگے بڑھا اور اسے ساتھ لئے ڈرائنگ روم کیطرف چلا گیا.
“آؤ بیٹا اندر چل کر بیٹھتے ہیں.” امی نے روحینہ سے کہا وہ سب چھوٹے سے ٹی وی لاؤنج میں آبیٹھے. “آئم سوری میرا خیال تھا آپ ڈرائیور کے ساتھ آئی ہیں.” ابیہا نے روحینہ کے ساتھ بیٹھتے ہوئے آہستہ آواز میں کہا تھا.
“اٹس اوکے یار.” روحینہ نے لاپرواہی سے کہا.
“اور آنٹی آپکی طبیعت کیسی ہے¿” روحینہ نے دادو سے پوچھا.
“بس اللہ کا شکر ہے بیٹا.” دادو نے شیریں لہجے میں جواب دیا.
“یہ کچھ تحفے ہیں آپ سب کیلئیے.” روحینہ نے اپنے ہاتھ میں پکڑا ایک شاپنگ بیگ اٹھ کر دادو کو دیا.
“ارے اس تکلف کی کیا ضرورت تھی بیٹا.” امی نے کہا. دادو بھی نہال سی نظر آنے لگی تھیں.
“نہیں آنٹی اسمیں تکلف کی کیا بات ہے ابیہا میری بہترین دوست ہے اور اسکے گھر پہلی بار خالی ہاتھ آنا مجھے مناسب نہیں لگ رہا تھا ” روحینہ نے سبھاؤ سے کہا.
“یہ تو تمہاری محبت ہے بیٹا ورنہ آجکل کے دور میں یہ وضعداری کہاں رہ گئی ہے لوگوں میں.” دادو نے محبت سے کہا تھا.
“آنٹی دوستی کا رشتہ میرے لئے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے.” اس نے جواب دیا.
“ٹھیک کہتی ہو بیٹی. ارے جا نیہا جلدی سے کچھ کھانے کو لا” دادو نے نیہا کو گھرکا تو وہ اٹھ کر کچن میں چلی گئی.
“نہیں پلیز کوئی تکلف مت کیجئیے گا. میں صرف اپنے بھائی کی شادی کا کارڈ دینے آئی ہوں” اس نے اپنے بیگ میں سے خوبصورت سا ویڈنگ کارڈ نکال کر ابیہا کی طرف بڑھایا.”آپ سب ضرور آئیے گا اور آنٹی جمعے کو میرے گھر میں قرآن خوانی ہے تو پلیز ابیہا کو ضروربھیجئیے گا.”اس نے اٹھ کر کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا.
“ارے ہاں ہاں ضرور آئیگی.” دادو نے شدومد سے کہا تھا.
“کچھ دیر تو بیٹھیں ناں روحینہ.” ابیہا نے اسکے ساتھ ہی اٹھتے ہوٰئے کہا.
“پھر کبھی یار ابھی ولی بھیا کو کچھ ضروری کام ہیں وہ لیٹ ہورہے ہیں.” اسنے سہولت سے انکار کیا. اسی لمحے نیہا کچن سے کولڈ ڈرنک کا گلاس لئے ہوئے برآمد ہوئی تھی.
“کیا کرتا ہے بھائی تمہارا¿” دادو کو تجسس ہوا تھا.
“آرمی میں کیپٹن ہیں آنٹی.” روحینہ نے جواب دیا. نیہا نے آگے بڑھ کر کولڈ ڈرنک اسکی طرف بڑھائی تو وہ ہلکا سا مسکرا کر گلاس تھامتے ہوئے بیٹھ گئی.
“کتنے بہن بھائی ہیں تمہارے¿” دادو نے پوچھا
“تین. میں سب سے چھوٹی ہوں مجھ سے بڑے دو بھائی ہیں.” روحینہ نے اپنے سیل پہ ٹائپنگ کرتے ہوئے جواب دیا تھا.
نیہا نے کولڈ ڈرنک کا دوسرا گلاس عامر کو بلوا کر ڈرائنگ روم روانہ کردیا.
” ابو کیا کرتے ہیں تمہارے¿” دادو کے سوالات کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا.
“انکی ڈیتھ ہوچکی ہے کافی سال پہلے” اس نے کولڈ ڈرنک کا سپ لیکر کہا.
“کہاں رہتی ہو¿”اب کی بار امی نے پوچھا تھا.
“ایف ٹین میں رہتی ہوں .” روحینہ نے جلدی جلدی کولڈڈرنک ختم کرکے گلاس ٹیبل پہ رکھا. جبکہ اسکے جواب پہ ابیہا کے سوا سب سخت مرعوب نظر آنے لگے تھے. روحینہ اپنا اسٹائلش سا بیگ کاندھے پہ ڈالتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی.
“بیٹا کھانا کھاکر جانا” امی بولیں.
“نہیں آنٹی میرے بھائی کو کچھ کام ہیں وہ بار بار کالز کر رہے ہیں میں چلتی ہوں.” اس نے کہتے ہوئے ابیہا کو گلے لگا کر ایکبار پھر جمعے کو آنے کی تاکید کی اور پھر باقی سب سے ملنے لگی ابیہا کے علاوہ سبھی اسجے ساتھ کمرے سے باہر چلے گئے تھے. ابیہا اسلئیے باہر نہ گئی تھی کیونکہ وہ ولید سے کترا رہی تھی. کچھ دیر بعد سب گھر والے روحینہ کو رخصت کر کے اندر آگئے تھے اور اسکے دئے ہوئے گفٹس دیکھتے ہوئے سب کی زبانوں پہ روحینہ کے اخلاق ولید کی شاندار پرسنالٹی اور انکی عالیشان گاڑی کی شان میں قصیدے جاری تھے.
———————-
“کیا آئٹم ہیں تمہاری نئی دوست کے گھر والے بھی. سارے کے سارے ہی اٹھ کر تمہیں باہر گاڑی تک چھوڑنے آگئے. ” واپسی پہ ولید کی ہنسی بند نہ ہورہی تھی.
“پرخلوص اور سادہ لوگ ہیں بھیا. اور یوں کسی کے خلوص کا مذاق نہیں اڑاتے.” روحینہ نے بھائی کو تنبیہہ کی.
“اچھا وہ تمہاری دوست کہاں تھی جس نے مجھے ڈرائیور ہی بنا دیا تھا.” ولید کافی محظوظ انداز میں پوچھ رہا تھا.
“وہ نہیں آئی کیونکہ وہ بہت شرمیلی سی ہے” اس نے جواب دیا.”اور اسے غلط فہمی ہوئی تھی. وہ سمجھی شاید میں ڈرائیور کیساتھ آئی ہوں.”
“آئی سہ ویسے کافی ڈفرنٹ سے لگتی ہے وہ گھر کے عام حلئیے میں” ولید نے سنجیدہ لہجے میں کہا تھا.
“ہاں واقعی میں بھی یہی سوچ رہی تھی کہ وہ عام حلئیے میں بناء لمبی سی چادر کے کافی کیوٹ اور ڈفرنٹ سی لگتی ہے ” روحینہ نے بھی تائیدی انداز میں سر ہلایا.
“ویسے اگر جو کہیں سکندر بھائی کی شادی میں بھی یہ پورا لشکر چلا آیا تو وہاں موجود مہمانوں کیلئیے اچھی خاصی انٹرٹینمنٹ کا سامان ہوجائیگا.” ولید نے گاڑی سگنل پر روکتے ہوئے شرارت بھرے انداز میں کہا تھا.
“ولی بھیا” روحینہ نے شاکی نظروں سے اسے گھورا
“اوکے اوکے سوری” ولید نے کانوں کو ہاتھ لگائے. “ویسے یہ مڈل کلاس لوگوں کی زندگی بہت مزے کی ہوتی ہے روحی.” اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد کہا.”یہ لوگ چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو دل سی محسوس کرتے ہیں. کھل کر نفرت کرتے ہیں اور سچے دل سے محبت. کبھی کبھی مجھے ان لوگوں کی لائف بہت فیسی نیٹ کرتی ہے. چھوٹے سے گھروں میں ایک دوسرے سے کتنے قریب رہتے ہیں یہ لوگ. ہم بڑے بڑے گھروں میں رہنے والے تو ایک دوسرے کی شکلیں دیکھنے کو بھی ترس جاتے ہیں” ولید سنجیدگی سے بول رہا تھا. روحینہ نے قائل ہوجانے والے انداز میں سر ہلایا

“بہت امارت اور بہت غربت زندگی کا اصل حسن غارت کردیتے ہیں”
“ہاں بالکل ولی بھیا. بہت غربت جہالت کو جنم دیتی ہے اور بہت امارت بےحسی کو.” روحینہ نے جواباً کہا.
“بالکل اور روحی بےحد امارت بھی جہالت کو ہی جنم دیتی ہے کیونکہ بے حسی بھی ایک طرح کی جہالت ہی ہے.”
“آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں بھیا. آج ابیہا کے گھر جاکر مجھے احساس ہوا کہ انکی فیملی بانڈنگ بہت مضبوط ہے. سب ایک دوسرے کی لائف میں دخیل ہیں. مگر مجھے یہ سب اچھا لگا.” روحینہ بولی.
“بس پھر تم اپنی دوست سے کہو کہ تمہارے لئیے اپنے خاندان سے ہی کوئی لڑکا ڈھونڈ دے.” ولید نے شرارت آمیز انداز میں کہا تھا. جواباً روحینہ نے اسکے شانے پہ دھپ لگائی تھی. وہ ہنستا رہا.
—————–
سارا دن روحینہ اور اسکے لائے گئے تحفوں کی شان میں قصیدے سن سن کر وہ تنگ آگئی تھی. رات کو ابو آئے تو انکے سامنے بھی روحینہ نامہ شروع ہوگیا تھا. اسکے لائے گئے تحفے دیکھ کر ابو بھی کافی متاثر ہوئے تھے. پھر دادو نے روحینہ کے خلوص کی ایک اور نشانی کے طور پر شادی کا کارڈ بھی ابو کو دکھایا. اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتا دیا کہ وہ ابیہا کو شادی اور قرآن خوانی میں جانے کی اجازت دے چکی ہیں.ابو نے کچھ نہ کہا. دادو کا فیصلہ گھر میں اٹل سمجھا جاتا تھا.
پھر جمعے کا دن آن پہنچا. روحینہ یونیورسٹی نہ آئی تھی. ابیہا کی بھی صرف ایک ہی کلاس تھی سو وہ 11بجے گھر آگئی تھی. روحینہ نے فون کرکے اسے یاد دہانی کروائی کہ آج اسے قرآن خوانی میں ضرور آنا ہے. اسنے ابو کی مصروفیت کا بہانہ بنایا مگر روحینہ نے ڈرائیور بھیجنے کا عندیہ دیکر اسکے بہانے کو ریجیکٹ کردیا. دادو نے بھی اجازت دیدی تھی. سو وہ ناچار کمرے میں آکر تیار ہونے لگی. اسنے گلابی رنگ کا سادہ سا لمبا فراک پہنا جسکی آستینیں چوڑی دار تھیں. اس نے اپنے لمبے بال سلجھا کر سوکھنے کیلئیے کھلے چھوڑ دئیے.اسی وقت نیہا کمرے میں داخل ہوئی.
“وہ گرین والا فراک پہنتی ناں. یہ تو اتنا سمپل ہے.” وہ کمر پہ ہاتھ رکھے اسکا سرتاپا جائزہ لیتے ہوئے بولی.
“شادی میں نہیں جارہی قرآن خوانی میں جارہی ہوں” ابیہا نے جواباً ناک چڑھا کر کہا تھا.
“ارے تو وہ دوست تمہاری اتنی امیر ہے. وہاں جاکر دیکھنا لڑکیاں کتنا بن سنور کر آئی ہونگی.” نیہا کہتے ہوئی بستر پہ پاؤں پسار کر لیٹ گئی.
“میں ایسے ہی ٹھیک ہوں. اور تم نہیں چلوگی¿” ابیہا کو وہاں اکیلے جاتے ہوئے گھبراہٹ محسوس ہورہی تھی.
“نہیں بھئی میں کوئی نہیں جارہی. زبیر کو پتہ چلا تو سخت خفا ہو جائینگے.” نیہا نے کورا جواب دیا.
“اپی پلیز چلو ناں” وہ لجاجت سے بولی
“جی نہیں اور پلیز تھوڑا سا میک اپ کرلو بالکل پھیکا شلجم لگ رہی ہو.” نیہا نے تکیے کے نیچے سے اپنا عام سا نوکیا کا موبائل نکالتے ہوئے کہا تھا. یہ موبائل اسے زبیر نے منگنی کےبعد گفٹ کیا تھا.
ابیہا پلٹ کر آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی. اسکا ذاتی خیال تھا کہ اسکی سانولی رنگت پہ ہلکے رنگ سجتے ہیں مگر نیہا کے کمنٹ نے اسکا سارا اعتماد ختم کردیا تھا. اسنے مایوسی سے پلٹ کر نیہا کیطرف دیکھا. رنگت تو اسکی بھی سانولی ہی تھی.مگر نقوش کافی دلکش تھے. بڑی بڑی سیاہ آنکھیں ستواں ناک اور تراشیدہ لب. وہ عام سے حلئے میں بھی کافی جاذب توجہ نظر آتی تھی اور جب کبھی کسی تقریب میں تھوڑا سا بھی بن سنور کے جاتی تو سارے خاندان میں اسکی واہ واہ ہوجاتی تھی. خاندان بھر سے اسکے کئی رشتے آئے تھے مگر پھپھو نے پہلے ہی اسے زبیر کے ساتھ منسوب کروالیا تھا. اسکے مقابلے میں ابیہا کو سارے خاندان میں سے کبھی کسی نے قابل توجہ نہ سمجھا تھا ہر لڑکے کی ماں کو اپنے بیٹے کیلئے آسمان سے اتری حور چاہئیے تھی.
“کیا ہوا¿” نیہا نے اسکی نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے موبائل سے نظریں ہٹا کر اسکی طرف دیکھا.
“کچھ نہیں.” وہ منہ لٹکا کے بولی
“کاجل ہی لگا لو یار” نیہا نے پھر مشورہ دیا اور اس نے اس مشورے پہ عمل کرتے ہوئے اپنی عام سی لائٹ براؤن آنکھوں میں کاجل لگایا. ہونٹوں پہ ہلکا سا گلابی لپ گلوز لگا کر وہ آئینے کے سامنے سے ہٹ آئی اور بیڈ سے بڑا سا گلابی دوپٹہ اٹھا کر کاندھے پہ ڈالا. لمبے بال ابھی گیلے تھے سو انھیں کھلا ہی چھوڑدیا تھا.
“باجی تمہاری دوست آگئی ہے.” عامرنے بھاگتے ہوئے آکر اطلاع دی تھی. وہ جلدی سے کمرے سے باہر نکلی. جہاں لاؤنج میں روحینہ امی اور دادو سے باتیں کر رہی تھی. اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑی ہوئی. ابیہا نے دوپٹہ سر پہ لپیٹا اور وہ دونوں سب کو خداحافظ کہہ کر گھر سے باہر نکل آئیں.
—————-
گاڑی اسلام آباد کی خوبصورت سڑکوں سے ہوتی ہوئی سیکٹر ایف ٹین میں داخل ہوگئی تھی. یہ سیکٹر اسلام آباد کے پوش ترین علاقوں مین شمار ہوتا ہے. یہاں پر مارگلہ کی خوبصورت سرسبز پہاڑیاں بہت قریب نظر آتی ہیں. خوبصورت کشادہ گلیاں اور سڑکیں بڑے بڑے عالیشان بنگلے اور ہر بنگلے کے پورچ میں کھڑی بڑی بڑی گاڑیاں… ہر طرف سکوت اور خاموشی کا راج… اسلام آباد شہر کی یہ ایک نمایاں بات ہے کہ یہاں کے لوگوں کا آپس میں interaction نہ ہونے کے برابر ہوتا. اگر ایک گھر میں فوتیدگی بھی ہوجائے تو برابر والے گھر کے مکینوں کو تب تک علم نہیں ہوتا جب تک باقاعدہ اطلاع نہ دیدی جائے. شہر اقتدار میں دھرنوں اور جلسوں کا دور دورہ ہو یا کوئی تہوار.. یہاں کے سکوت میں فرق نہیں آتا. ایک بےحسی سی اس شہر کی فضا پہ ہر لمحہ طاری رہتی ہے. شاید یہ اس شہر کی آب و ہوا کا ہی اثر ہے کہ یہاں موجود پارلیمنٹ ہاؤس میں بیٹھنے والے پارلیمان کے دل بھی جذبات و احساسات سے عاری ہیں.
گاڑی ایک عالیشان بنگلے کے سامنے رکی جسکا سفید رنگ کا بڑا سا گیٹ بند تھا. ڈرائیور نے ہارن بجایا اور فوراً سے پیشتر چوکیدار نے گیٹ کھول دیا تھا. گاڑی گھر کے وسیع پورچ میں رکی جہاں پہلے سے ایک کرولا اور ایک جیپ کھڑی تھی. وہ دونوں گاڑی سے اتریں.ابیہا کی کم اعتمادی بڑھنے لگی تھی.
“آؤ” روحینہ نے کہہ کر قدم آگے بڑھائے وہ اسکے پیچھے چلنے لگی. وہ پورچ سے نکل کر مین ڈور تک آئیں. نیہا نے اپنے بیگ سے چابی نکال کر لکڑی کا منقش دروازہ کھولا اور وہ دونوں اندر داخل ہوئیں. وہ گھر باہر سے جتنا عالیشان تھا اندر سے اس سے بھی زیادہ خوبصورت تھا. وہ دونوں راہداری سے گزر رہی تھیں جسکا فرش لش لش کرتے سفید ماربل کا تھا. دیواروں پہ مختلف پینٹنگز آویزاں تھیں. وہ دونوں راہداری سے گزر کے دائیں طرف کے ایک کمرے میں داخل ہوئیں جو غالباً ٹی وی لاؤنج تھا. اے سی کہ ہلکی سی کولنگ اور ایک سوفٹ سی خوشبو کمرے کی فضا میں چکراتی پھر رہی تھی. روحینہ اسے یہاں بیٹھنے کا کہہ کر کمرے سے چلی گئی. وہ ایک نرم سے صوفے پہ بیٹھ گئی. اور اردگرد نگاہ دوڑائی. یہ ایک بہت کشادہ اور خوبصورتی سے سجایا گیا ٹی وی لاؤنج تھا. سامنے والی دیوار پہ بڑی سی ایل ای ڈی لگی ہوئی تھی جس پہ بے آواز کوئی نیوز چینل چل رہا تھا. بائیں طرف کی دیوار کیساتھ ایک بڑا سا ایکوایریم رکھا ہواتھا جس میں رنگ برنگی مچھلیاں تیر رہی تھیں. کمرے میں ایک بڑے صوفے ایک کاؤچ ایک ٹو سیٹر صوفے کچھ فلور کشنز کے باوجود بھی کافی کشادگی تھی. ایک جانب کی دیوار پہ بڑا سا فوٹو فریم لگا ہوا تھا جس میں روحینہ اور اسکی پوری فیملی کا گروپ فوٹو تھا. غرضیکہ یہ ایک ایسا ٹی وی لاؤنج تھا جو وہ آج تک صرف ڈراموں اور فلموں میں دیکھتی آئی تھی. ابیہا کی آنکھوں میں ستائش تھی.
سارے گھر میں شدید سناٹے کا راج تھا کون کہہ سکتا تھا کہ یہاں ایک چھوٹی سی ایک گیٹ ٹو گیدر ہونیوالی ہو. ابیہا ذرا ریلیکس سی ہو کے بیٹھ گئی اور سر سے دوپٹہ ہٹا کر اپنے بال آگے ڈالے. لمبے بال ابھی تک ہلکی نمی لئے ہوئے تھے. وہ اپنے بیگ میں کیچر تلاش کرنے لگی. اسی لمحے ولید عجلت میں اندر آیا تھا اور پھر اسے دیکھ کر ٹھٹھک کر رک گیا. ابیہا بھی بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی تھی.
“آپ… ہائے کیسی ہیں.¿” ولید نے جلدی سے اپنی بوکھلاہٹ پہ قابو پا لیا تھا. اسکی نظریں بےساختہ ہی اسکے لمبے بالوں پہ پھسل رہی تھیں. گھنے سیاہ بال گھٹنوں سے کچھ اوپر تک تھے. ولید کی آنکھوں میں ستائش ابھری.
“جی میں ٹھیک ہو.” وہ اسکی نظروں کا ارتکاز محسوس کرکے جلدی سے بال پیچھے کرکے سر پہ دوپٹہ لیتے ہوئے بولی
“گڈ بیٹھ جائیں کھڑی کیوں ہیں¿” ولید نے نرم لہجے میں کہا تو وہ اسی بوکھلائے ہوئے انداز میں بیٹھ گئی.ولید چلتا ہوا اسکے مقابل کاؤچ پہ بیٹھ گیا.
“آپ روحینہ کیساتھ آئی ہیں¿” ولید نے پوچھا.
“جی. ”
“کہاں ہے وہ¿”
“کسی کام سے گئی ہیں.” وہ سر جھکائے مدھم آواز میں بول رہی تھی. سانولی رنگت میں گلابی پن کی آمیزش اسکے سادہ سے چہرے کو بہت پاکیزگی عطاکر رہی تھی.
“اچھا انتظامات دیکھنے گئی ہوگی. ایکچوئیلی ابھی کوئی مہمان نہیں آئے. عورتوں کی محفل ہے اینڈ یو نو عورتیں تیاری میں کتنا وقت سرف کرتی ہیں.” وہ ہلکے پھلکے انداز میں کہہ رہا تھام ابیہا نے محض سر ہلا دیا. وہ اسکے سامنے بہت کنفیوڏن محسوس کر رہی تھی.
“آپ بی ایس کر رہی ہیں¿” ولید نے پوچھا. روحینہ اسے کئی بار بتا چکی تھی کہ وہ ماسٹرزکے فرسٹ سمسٹر میں ہے مگر عدم توجہ سے سننے کے باعث اسے صرف فرسٹ سمسٹر ہی یاد رہ گیا تھا اور اب اسے دیکھ کر وہ اسے ماسٹرز کی اسٹوڈنٹ تو ہرگز نہ لگی تھی.
“نہیں میں ایم ایس سی کر رہی ہوں”
آہم.. کس سبجیکٹ میں¿” ولید نے اپنے سر کو ہلکی سی جنبش دیکر پوچھا.
“جیوگرافی.”
“گڈ ویسے آپ ماسٹرز کی اسٹوڈنٹ نہیں لگتی. کافی چھوٹی لگتی ہو آپ.” ولید خود کو کہنے سے روک نہیں پایا تھا. ابیہا نے ہونٹ بھینچ کر سر ہلایا اور ایسا کرنے سے اسکے دائیں گال کا ڈمپل نمایاں ہوگیا تھا. ولید کی نظریں ایک لحظہ کو اس بھنور میں الجھی تھیں اور دوسری ہی جانب وہ بھنور غائب ہوگیا تھا.
“ارے ولی بھیا کب آئے آپ¿” روحینہ اندر داخل ہوئی تھی.
“بس تھوڑی دیر پہلے آیا ہوں. تمہاری دوست اکیلی بیٹھی ہوئی تھی اسلئیے انکو کمپنی دے رہا تھا. حالانکہ انکے چہرے سے صاف ظاہر ہے کہ انہیں اس ڈرائیور کی کمپنی بالکل پسند نہیں آئی. لیکن کرٹسی بھی تو کوئی چیز ہوتی ہے ناں” اس نےاٹھ کھڑے ہوتے ہوئے متبسم لہجے میں کہا تو روحینہ ہنسنے لگی. جبکہ ابیہا نے سر اٹھا کر اسکی طرف دیکھا. نیلی جینز کی پینٹ پہ بے داغ سفید ڈریس شرٹ پہنے وہ بالکل فوجیوں کے انداز میں تن کر کھڑا چمکتی سیاہ آنکھوں اور مسکراتے لبوں کیساتھ اسے ہی دیکھ رہا تھا. ایک لحظہ کو دونوں کی نظریں ملیں اور اگلے ہی لمحے ان چمکتی آنکھوں کی چمک کی تاب نہ لاتے ہوئے ابیہا نے نظریں جھکا لیں.
“میری فرینڈ کو تنگ مت کریں. ممی کہہ رہی ہیں جاکر علیشا اور پھپھو کو لے کر آئیں انکا ڈرائیور چھٹی پہ ہے اور زعیم بھائی آؤٹ آف سٹی ہیں” روحینہ نے ابیہا کے برابر بیٹھتے ہوئے ولید تک شکیلہ بیگم کا پیغام پہنچایا.
“کیونکہ انکا ڈرائیور چھٹی پہ ہے اسلئیے میں ڈرائیور بن جاؤں. یہ اچھی بات ہے.. میں چھٹیاں گزارنے آیا ہوں لڑکی ڈرائیوری کرنے نہیں.” وہ جواباً ماتھے پہ بل ڈال کر بولا.
“یہ تقریر آپ ممی کے سامنے کریں تو مانونگی” روحینہ مزے سے بولی.
“جارہا ہوں بھئی. کیا زمانہ آگیا ہے. اتنے ہینڈسم فوجی کو ڈرائیور ہی سمجھ لیا ہے لوگوں نے.” وہ بڑبڑاتے ہوئے کمرے سے چلا گیا. تو روحینہ ہنسنے لگی. جبکہ وہ اپنی جگہ چور سی بن گئی تھی وہ جانتی تھی وہ اسے ہی سنا کر گیا ہے.
کچھ دیر بعد روحینہ اسے ہال کمرے میں لے آئی جہاں فرش پہ نرم قالین تھا اور اس نرم قالین پہ سفید چادریں بچھائی گئیں تھیں. مہمان خواتین آنے لگی تھیں. زیادہ تر رشتے دار ہی جمع تھے روحینہ نے کافی لوگوں سے اسکا تعارف کروایا پھر اسے ایک طرف بیٹھ جانے کا اشارہ کرکے مہمانوں کیساتھ مصروف ہوگئی. کمرے میں ایک جانب بزرگ خواتین کیلئے صوفے لگوائے گئے تھے. سارے کمرے کی فضا میں اگر بتیوں کی مہک رچی ہوئی تھی. وہاں موجود سب لڑکیاں الٹرا ماڈرن تھیں اس محفل کے مطابق ہلکا ہلکا میک اپ کئے اور جدید تراش خراش کے لباس زیب تن کئے وہ سب لڑکیاں اپر کلاس کی منہ بولتی تصویریں تھیں ابیہا کا سادگی لئے وجود تو ان کے آگے باکل ماند پڑ گیا تھا. نماز عصر تک قرآن پڑھا جاتا رہا اسکے بعد دعا کروائی گئ. اور ملازمین مہمانوں کو مٹھائی پیش کرنے لگے. ابیہا نے روحینہ سے نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا وہ اسے لئے اوپری منزل پہ اپنے کمرے میں لے آئی اور تھوڑی دیر بعد آنے کا کہہ کر چلی گئی. ابیہا نے اطمینان سے اپنے بال سلجھا کر چوٹی گوندھی پھر وضو کرکے نماز پڑھی. ابھی وہ جائے نماز سمیٹ ہی رہی تھی کہ کمرے کا دروازہ کھلا اور آنیوالے نے روحی کے نام کا نعرہ بھی لگایا تھا ابیہا مڑی. بے تکلفی سے اندر آتا ولید خجل سا ہوتاوہیں رک گیا.
“آئم سوری مجھے نہیں پتہ تھا کہ ادھر آپ ہیں.” وہ وضاحتی انداز میں کہتا واپس جانے کو پلٹا.
“سنیں” وہ بے اختیار بولی. وہ رک کر پلٹا
“جی”
“وہ… آئم سوری میں نے جان بوجھ کر آپکو ڈرائیور نہیں کہا تھا.” وہ سر جھکا کر ندامت بھرے لہجے میں بولی تھی ولید نے قدرے حیرت سے اسکی طرف دیکھا. گلابی فراک میں نماز کے انداز میں دوپٹہ لپیٹے اپنی مخروطی انگلیاں مروڑتی ہوئی اس سانولی سی لڑکی کے چہرے پہ پاکیزگی اور معصومیت پھیلی ہوئی تھی. اور اس پاکیزگی نے اس عام سے چہرے کو بہت خاص بنا دیا تھا.
“اٹس اوکے مس. مجھے بالکل برا نہیں لگا تھا آپکے کمنٹ کا.” وہ کھلے دل سے بولا.
“مجھے لگا آپکو برا لگا تھا.” اس نے ایک لحظہ کو اپنی جھکی پلکیں اٹھائی تھیں. کاجل سےبھری لائٹ براؤن آنکھوں میں صرف حیا کی داستان رقم تھی.
“ناٹ ایٹ آل مس مجھے بالکل برا نہیں لگا تھا. ان فیکٹ میں نے تو کافی انجوائے کیا تھا آپکی بات کو” ولید نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا. تبھی روحینہ بمعہ ایک عدد ملازمہ کے اندر داخل ہوئی. ملازمہ نے ہاتھوں پہ کھانے کی ٹرے سنبھال رکھی تھی.
“روحی میرا لیپ ٹاپ کہاں ہے¿” ولید نے چھوٹتے ہی پوچھا تھا.
“ممی کے روم میں ہے. جمیلہ ہمیں چائے بھی یہیں دے جانا.”, روحینہ ولید کو جواب دیکر ملازمہ سے بولی. ملازمہ سر ہلا کر کمرے سے چلی گئی.
” ممی بلا رہی ہیں آپکو.” روحینہ نے جوتے اتار کر بیڈ پہ بیٹھتے ہوئے کہا تو وہ ایک اچٹتی سے نظر ابیہا پہ ڈال کو چلا گیا. “چلو یار کھانا کھائیں قسم سے بھوک کے مارے برا حال ہے.”, روحینہ بیڈ پہ پالتی مار کر بیٹھ گئی. “یہ ٹرے ادھر ہی لے آؤبیڈ پہ بیٹھ کر کھانا کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے” وہ اپنے کھلے بال سمیٹ کر کیچر لگاتے ہوئے بولی. ابیہا نے کمرے کا دروازہ بند کیا اور کھانے کی ٹرے لئے بیڈ پہ آبیٹھی کھانے کے دوران وہ دونوں باتیں کرتی رہیں چائے بھی ملازمہ انہیں کمرے میں ہی پہنچا گئی تھی. مغرب کی نماز دونوں نے ساتھ پڑھی اور پھر نچلے پورشن میں چلی آئیں. مہمان ایک ایک کرکے جارہے تھے. سب کو رخصت کرکے روحینہ کو ابیہا کے جانے کا خیال آیا.
“ممی ڈرائیور پھپھو کو چھوڑنے چلا گیا کیا¿” اسنے شکیلہ بیگم سے پوچھا.
“ہاں”
“اوہ ممی اب ابیہا کو کون ڈراپ کریگا.”
ڈرائیور کا ویٹ کر لیجئیے بیٹا.”
“ممی بہت دیر ہوگئی ہے اسکی دادو نے بولا تھا مغرب تک گھر آجائے وہ. آئی تھنک میں خود ڈراپ کر آتی ہوں اسے”
“نہیں بیٹا شزاء کی ممی کا فون آیا تھا وہ کچھ دیر تک آرہی ہیں ٹیلر کے پاس جانا ہے پھر.” ممی نے اطلاع دی.
“پھر اب کیا کروں”
“ولی سے کہہ دیں وہ اپنے کمرے میں ہی ہے” شکیلہ بیگم نے کہا تو وہ تقریباً بھاگتی ہوئی زینے طے کرکے ولید کے کمرے میں آئی. وہ لیپ ٹاپ سینے پہ رکھے کاؤچ پہ نیم دراز تھا.
“ولی بھیا ابیہا کو گھر چھوڑ آئیں ڈرائیور پھپھو کو چھوڑنے چلا گیا ہے.” اس نے تیز تیز کہا
“تو ڈرائیور آدھے گھنٹے تک آجائیگا.” ولید کی نظریں لیپ ٹاپ پہ مرکوز تھیں.
“آدھے گھنٹے تک وہ بیہوش ہو جائیگی ٹینشن سے. پلیز ولی بھیا اٹھ جائیں اسکے گھر کا ماحول بہت سٹرکٹ ہے اگر زیادہ لیٹ ہوگئی تو پھر اسے کبھی بھی کہیں جانے کی اجازت نہیں ملیگی” روحینہ نے لجاجت آمیز لہجے میں کہا. تو وہ جھنجھلا کر اٹھ بیٹھا اور لیپ ٹاپ سائیڈ پہ رکھا.
“آرہا ہوں. مجھے تو کیپٹن ولید سے ڈرائیور ولید بنا کر رکھ دیا ہے تم لوگوں نے” وہ بڑبڑاتا ہوا اٹھا اور پیروں میں چپلیں اڑس کر کمرے سے نکل گیا. روحینہ اسکے پیچھے پیچھے باہر نکلی. “میں باہر گاڑی میں ویٹ کر رہا ہوں جلدی آؤ” وہ اسے وارن کرتا ہوا سیڑھیاں پھلانگ کر سیدھا مین ڈور سے باہر نکل گیا. روحینہ ابیہا کو لئیے باہر آئی. وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھا ہوا تھا.. اکتایا ہوا.
“اوکے یار تم جاؤ”
“آ..آپ نہیں چلیں گی.” ابیہا کا رنگ فق ہوگیا.
“یار میری ہونیوالی بھابی کی والدہ محترمہ آنیوالی ہیں ہم نے ٹیلر کیطرف بھی جانا ہے سو پلیز سوری تم چلی جاؤ ولید بھائی کیساتھ” روحینہ معذرت خواہانہ لہجے میں بولی تھی. ولید نے اکتائے ہوئے انداز میں گاڑی کے ہارن پہ ہاتھ رکھا تو روحینہ نے فرنٹ ڈور کھول کر اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا وہ لرزتے قدموں کیساتھ گاڑی میں بیٹھ گئی.
“بائے” روحینہ نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا. ولید نے زن سے گاڑی آگے بڑھا دی.
گاڑی میں اے سی کی کولنگ تھی اور ولید کے ملبوس سے اٹھتی سوفٹ سی مہک…
ابیہا انگلیاں مروڑتے ہوئے ونڈ شیلڈ پہ نظریں جمائے بالکل ساکت بیٹھی تھی. اسکے ذہن میں بس ایک ہی خیال تھا کہ اگر کسی نے اسکو تنہا گاڑی میں ولید کیساتھ دیکھ لیا تو..
“بات سنیں” وہ اچانک بولی
“جی سنائیں”
“مجھے مارکیٹ کے پاس اتار دیجئیے گا.”
“کیوں آپکا گھر تو وہاں سے کافی دور ہے”
“جی لیکن میرے محلے میں اگر کسی نے مجھے آپکے ساتھ اکیلے گاڑی میں دیکھ لیا تو بہت باتیں بنیں گی.”
“ہوں..” ولید نے ہنکارا بھر کر گاڑی سڑک کنارے روک دی. اور گاڑی کے اندر روشنی کردی.ابیہا نے گردن موڑ کر حیرت سے اسکی طرف دیکھا.
“اترئیے ” وہ لب بھینچ کر بولا.ابیہا کو اپنے کانوں پہ یقین نہ آیا. وہ اس سنسان سڑک پر اسے گاڑی سے اتر جانے کا کہہ رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: