Fizza Batool Urdu Novels

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool – Episode 3

Muhabbat Aisa Dariya Hai Novel By Fizza Batool
Written by Peerzada M Mohin
محبت ایسا دریا ہے از فضہ بتول – قسط نمبر 3

–**–**–

“جی…” وہ بمشکل بولی.
“گاڑی سے اتریئے.” وہ سابقہ لہجے میں ہی بولا تھا.
ابیہا نے مڑ کر دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھا. اسکی آنکھوں میں آنسو امڈ آئے تھے.
“سنیئے.” ولید کے پکارنے پہ اسنے پلٹ کے اسکی طرف دیکھا. کاجل سےبھری آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے.
“اتر کر پچھلی سیٹ پہ بیٹھ جائیے تاکہ دیکھنے والوں کو یہ لگے کہ میں ڈرائیور ہوں… آپ کا..” وہ سنجیدہ انداز میں بولا تھا. ابیہا کی پلکوں سے آنسو ٹوٹنے کو بے تاب تھے.
“آئم سوری پلیز روئیے گا مت. مجھے روتی ہوئی لڑکیوں کو چپ کروانے کا بالکل تجربہ نہیں ہے.” اس نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا تھا مگر سیاہ آنکھیں مسکرا رہی تھیں. ابیہا چپ چاپ اتر کر پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئی. ولید نے گاڑی کے اندر کی روشنی گل کی اور گاڑی سنسان سڑک پہ فراٹے بھرنے لگی. وہ اپنے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں رگڑنے لگی. اور عقب نما آئینے سے گاہے بگاہے اس پہ نظر ڈالتے ہوئے ولید کے دل میں بے ساختہ یہ امنگ جاگی تھی کہ یہ سفر کبھی ختم نہ ہو…
ابیہا کے گھر کے سامنے گاڑی روک کر اسنے پیچھے پلٹ کر دیکھا اور بولا.” ایک منٹ ابھی اتریئے گا مت.”وہ کہہ کر اپنی طرف کا دروازہ کھول کر نیچے اترا اور گھوم کر پچھلی نشست کے دروازے کے پاس آکر دروازہ کھول کر مؤدب سا کھڑا ہوگیا. وہ کچھ حیران ہوتی گاڑی سے اتری.
“ڈرائیور اپنی مالکن کیلئیے گاڑی کا دروازہ بھی خود کھولتے ہیں. اور اس وقت میں آپکا ڈرائیور ہوں.” وہ مدھم مگر متبسم لہجے میں بولا تھا. ابیہا نے اسکی طرف دیکھا. ایک بے ساختہ سی مسکراہٹ اسکے چہرے کو دمکا گئی.. گال کا بھنور گہرا ہوگیا تھا..
“تھینک یو” وہ مترنم لہجے میں کہہ کر اپنے گھر کے گیٹ کیطرف بڑھ گئی. وہ ڈرائیونگ سیٹ پہ آبیٹھا اور جب وہ گھر کے اندر چلی گئی تو اس نے بھی گاڑی آگے بڑھا دی. واپسی کے سفر میں کسی کے ہونے کا جاندار سا احساس اسکے ساتھ ساتھ تھا.
———————
سکندر کی شادی کے فنکشنز شروع ہوگئے تھے سرِ شام ہی گھر برقی قمقموں سے جگمگا اٹھتا. اور وہ سب کزنز جمع ہوکر خوب ہلا گلا کرتے. آج بھی وہ سب بڑے کمرے میں جمع ڈھولک پہ خوب بے سرے راگ الاپ رہے تھے. ولید ایک جانب صوفے پہ نیم دراز اپنے موبائل میں مصروف تھا.
“ارے ولی تم ادھر کیوں بیٹھے ہو. یہاں آؤ ناں ہم اتنا انجوائے کر رہے ہیں” اسکی تایازاد شائستہ آپی نے اسے مخاطب کیا تھا.
“میں یہیں ٹھیک ہوں آپی آپ لوگ انجوائے کریں ” وہ مسکرا کر بولا.
“یہ تم موبائل میں اتنے مگن کیوں ہو. آخر چکر کیا ہے¿” علیشا نے اسے گھورا تھا. باقی سب بھی مکمل طور پہ اسکی طرف متوجہ ہوگئے. ولید نے موبائل کی اسکرین آف کی اور اٹھ بیٹھا.
“فیسبک یوز کررہا تھا لڑکی شک نہیں” اس نے بھی جواباً آنکھیں نکالیں.
“ارے تو explanation کیوں دے رہے ہیں کپتان صاحب ” عامر نے تان اڑائی تھی سبھی ہنسنے لگے.
“وضاحت نہیں دے رہا میں لیکن مجھے یہ بھی گوارا نہیں کہ لوگ مجھ پہ شک کریں” وہ لفظ ‘لوگ” پہ زور دے کر شرارت آمیز لہجے میں بولا تھا
“ارے واہ اب میں لوگ ہوگئی.. میں… تمہاری پھپھو کی بیٹی… توبہ توبہ دنیا کی بے مروتی عروج پہ ہے” علیشا نے مصنوعی واویلا کیا تھا.
“خواتین و حضرات ایک بریکنگ نیوز مجھ سے سنئیے” روحینہ نے اعلان کرنیوالے انداز میں کہا. سب اسکی طرف متوجہ ہوگئے.
“ممی نے کہا ہے کہ سکندر بھائی کی شادی کے بعد ولی بھیا کی شادی ہوگی.” اسکے اعلان پہ سب نے خوب ہوٹنگ کی تھی. ولید نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں.
“کوئی لڑکی پسند ہے ولی¿” علیشا نے اس سے پوچھا. ولید نے اسکی طرف دیکھا وہ ایک الٹرا ماڈرن طرحدار اور بہت خوبصورت لڑکی تھی.
“بتادو بتادو…” سب نے شور مچایا. ولید مسکرانے لگا. ذہن کے پردے پہ چھم سے گلابی فراک میں ملبوس وہ سادہ سی معصوم سی لڑکی ابھر آئی تھی.
“اوہو… یہ مسکراہٹ.” آئمہ نے اسکی مسکراہٹ پہ چوٹ کی.
“بتا بھی دیجیئے کپتان صاحب.. ایسی بھی کیا پردہ داری” عمر نے بھی ٹکڑا جوڑا. سب ہنسنے لگے. ولید جھنجھلا کے اٹھ کھڑا ہوا.”کوئی ایسی بات نہیں ہے بلاوجہ میرا سر مت کھاؤ تم سب.”
“میدان چھوڑ کر بھاگ رہے ہیں آپ کپتان صاحب.” عظیم نے جتانے والے انداز میں کہا ولید نے وہاں سے واک آؤٹ کرنے میں ہی عافیت سمجھی تھی.
وہ لاؤنج میں چلا آیا اور ٹی-وی آن کرکے کاؤچ پہ نیم دراز ہوگیا. دفعتاً لینڈ لائن فون کی گھنٹی زور و شور سے بجنے لگی. ولید نے چند ثانیے انتظار کیا کہ شاید کوئی ملازم آکر فون سن لے مگر بے سود. ناچار خود ہی اٹھنا پڑا. ٹی-وی کی آواز کم کرکے اس نے فون کا ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا.
“ہیلو”
“ہیلو! روحینہ سے بات ہو سکتی ہے¿” دوسری جانب سے مدھر سی زنانہ آواز سنائی دی تھی. ولید سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں اس آواز کو پہچان گیا تھا.
“جی ہوسکتی ہے.. آپ کون¿” اس نے اپنے اندازے کو کنفرم کرنا چاہا.
“جی میں انکی دوست ابیہا بول رہی ہوں”
“اوہ ابیہا.. کیسی ہیں آپ. میں ولید بول رہا ہوں… آپکا پرسوں والا ڈرائیور.” وہ اپنے اندازے کی درستگی پہ کھل کر مسکرایا تھا.
“جی الحمدللّہ. آپ روحینہ کو بلا دیجئیے.”
“آپ نے اسکا سیل نمبر ٹرائی کیا¿”
“جی وہ اٹینڈ نہیں کر رہیں. آپ پلیز انکو بلا دیجئیے.”
“اچھا لیکن روحینہ تو ابھی کزنز کیساتھ ڈھولکی بجانے میں مصروف ہے. اگر کوئی ضروری میسیج ہے تو آپ مجھے بتا دیں.” وہ جان بوجھ کر گفتگو کو طول دے رہا تھا.
“آپ ان سے کہہ دیجئیے گا کہ فری ہوکر مجھے کال کرلیں” وہ کال بند کر نے کو تیار تھی.
“اچھا سنیئے میں بلوادیتا ہوں روحینہ کو.” ولید نے کچن سے نکلتی ملازمہ کو دیکھ کر جلدی سے کہا اور ریسیور کان سے ہٹا کر ملازمہ کو روحینہ کو بلانے کی ہدایت دیکر پھر سے ریسیور کان سے لگایا.
“روحینہ ابھی آجاتی ہے. آپ کل مہندی کے فنکشن میں آئینگی¿” اس نے ہلکے پھلکے انداز میں پوچھا تھا. یوں جیسے ابیہا تو اسکی ہی سہیلی رہی ہو.
“جی.. پتہ نہیں”
“کیوں پتہ نہیں¿” اسکو اس سے بات کرنے میں لطف آرہا تھا.
“مجھےشاید ابو نائٹ فنکشن میں جانے کی اجازت نہ دیں.”
“مگر یہ فنکشن تو ہمارے اپنے فارم ہاؤس میں ہے. آپ چاہیں تو اپنی فیملی کو بھی لے آئیے گا.”
“جی. روحینہ کب آئینگی¿”
“آتی ہے… بلکہ آگئی.” اسنے روحینہ کو آتے دیکھ کر کہا.
“کس کا فون ہے¿” روحینہ نے پوچھا.
“ابیہا کا. یہ لو” ولید نے ریسیور اسے تھمایا اور خود پھر سے کاؤچ پہ جا بیٹھا. اور ٹی-وی پہ نظریں جمادیں لیکن اسکا دھیان روحینہ کیطرف تھا جو ریسیور کان سے لگائے غور سے ابیہا کی کوئی بات سن رہی تھی.
“ہاں.. اچھا.. مگر یار یہ تو کوئی بات نہ ہوئی…کم آن…میں دونگی ناں.. اچھا.. بس اتنی سی بات .. یار میں نےپہلے جو بولا تھا تو تم کیوں پریشان ہورہی ہو میری میموری لاسٹ نہیں ہوگئی جو بھول جاؤنگی…. ہاں تو پھر… اوکے.. ڈونٹ وری.. اوکے بائے.” روحینہ نےبات مکمل کرکے ریسیور کریڈل پہ رکھ دیا.
“یہ ابیہا بھی ناں ایک چیز ہے..ذرا ذرا سی باتوں پہ پریشان ہوجاتی ہے.” وہ بڑبڑائی.
“کیوں کیا ہوا¿” ولید نےبظاہر لا پر واہی سے پوچھا.
“یار ولی بھیا کل فنکشن کے حوالے سے پریشان تھی کہ کیسے آئیگی. اسکے ابو کی طبیعت کچھ خراب ہے اور چھوٹے بھائی کو رات میں اسکے ابو بائیک نہیں چلانے دیتے. میں نے اسے کہا بھی ہوا تھا کہ پک اینڈ ڈراپ کی ٹینشن نہ لے مگر اسکو پریشان ہونےکا شوق ہے.” وہ بولتی ہوئی صوفے پہ آبیٹھی.
“کل اسے کون پک اینڈ ڈراپ دیگا. ڈرائیور تو پھپھو کی فیملی کےساتھ انگیجڈ ہے.” ولید نے اسے اطلاع دی.
“اوہ..میں تو بھول ہی گئی تھی..”
“آپ دونوں ادھر کیوں بیٹھے ہیں وہاں سب پوچھ رہے ہیں” شکیلہ بیگم کہتی ہوئی لاؤنج میں داخل ہوئی تھیں.
“ممی کل ابیہا کو کون پک کریگا. میں اسے کہہ چکی ہوں اب.” روحینہ نے منہ بنا کر کہا.
“بیٹا آپ ابیہا کو کہو کہ وہ کل دوپہر میں ہی ادھر آجائیں اور پھر یہیں سے تیار ہو کر وہ ہمارے ساتھ ہی فارم ہاؤس چلی چلیں گی.” شکیلہ بیگم کا آئیڈیا روحینہ کو صیحیح لگا تھا.
“اوکے میں اسے بتا دیتی ہوں.. مگر اسکے ابو تو بیمار ہیں. وہ ہمارے گھر کیسے آئیگی¿”
“دوپہر میں توڈرائیور بھی اسے پک کرلے گا یار.” ولید بولا تو روحینہ سر ہلا کر اٹھ کر فون کی طرف بڑھی اور ابیہا کے نمبر ڈائیل کرنے لگی.
———————–
“کونسا ڈریس پہنوگی آج¿” نیہا نے ناشتے کے برتن دھوتی ابیہا سے پوچھا.
“پتہ نہیں یار.میرا تو جانے کا ہی دل نہیں کر رہا. مگر روحینہ نے اتنا اصرار کیا تھا..” اس نےجواباً کہا.
“تم پاگل ہو.. اتنی اچھی دوست تو چراغ لیکر بھی ڈھونڈوگی ناں تو نہیں ملے گی.” نیہا نے کاؤنٹر سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا.
“لیکن وہ لوگ اتنے امیر ہیں یار.. مجھے ان سب کے درمیان اپنا آپ بہت آکورڈ سا لگتا ہے.”
“تمہارا یہ احساس کمتری کب ختم ہوگا آبی” نیہا نے اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورا.
“یار آپی تم بھی چلو ناں میرے ساتھ. روحینہ نے ہم سب کو انوائیٹ کیا تھا.” وہ برتن دھوچکنے کے بعد ہاتھ دھوتے ہوئے لجاجت آمیز لہجے میں بولی.
“میں نہیں جارہی بھئی.زبیر کو میرا کہیں بھی آنا جانا پسند نہیں.” نیہا نے ٹکا سا جواب دیا.
“یار زبیر بھائی کو کیسے پتہ چلے گا. انھوں نے کونسا ہمارے گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے فٹ کروائے ہوئے ہیں.” اس نے نل بند کرتے ہوئے ناک چڑھا کر کہا.
“پاگل ہو تم. زبیر ڈیلی مجھے رات نو بجے کال کرتے ہیں اور اگر میں کال پک نہ کروں تو گھر آدھمکتے ہیں. کیا ادھر فنکشن میں میں انکی کال پک کر سکوں گی.” نیہا چمک کے بولی. وہ چپ ہوگئی. اور کچن سے باھر آگئی. جہاں لاؤنج میں امی اور دادو بیٹھی تھیں. امی دوپہر کے کھانے کیلیئے آلو چھیل رہی تھیں.
“کب جانا ہے تو نے اپنی سہیلی کے گھر¿” دادو نے اسے دیکھتے ہی پوچھا.
“دو بجے ڈرائیور آئے گا.” اس نے مرے مرے انداز میں جواب دیا.
“میں تو اکیلی لڑکی کو ڈرائیور کیساتھ بھیجنے کے سخت خلاف ہوں امی جی ” امی نے دادو سے کہا.
” تیری دوست ساتھ نہیں آئیگی¿” دادو نے اس سے پوچھا.
“کمال کرتی ہیں آپ بھی امی جی. اسکے بھائی کی مہندی ہے وہ اتنی فارغ ہوگی کیا جو اپنی سہیلی کو لینے بھاگی چلی آئیگی” اسکے بجائے امی نے جواب دیا تھا. “تو نے جانا ہے ضرور جا آبی لیکن ڈرائیور کیلئیے منع کردے. عامر کیساتھ چلی جا. اچھا نہیں لگتا بیٹا. انھوں نے کوئی تجھے چھوڑنے لینے کا ٹھیکہ نہیں لیا ہوا.” امی نے قطیعت سے کہا. تبھی ابو اندرونی کمرے سے برآمد ہوئے اور صوفے پہ بیٹھ گئے. انکا بخار تو اب کم تھا مگر نقاہت باقی تھی.
“عامر کا تو شناختی کارڈ بھی نہیں بنا ہوا امی.اگر راستے میں پولیس نے روک لیا تو”.
” ارے روز تجھے یونیورسٹی لینے جاتا ہے تب تو کبھی پولیس نے نہیں روکا” دادو بولیں.
“نہیں امی جی ابیہا ٹھیک کہہ رہی ہے. عامر ابھی بچہ ہے. آبی تم تیار ہوجاؤ میں چھوڑ آتا ہوں تمہیں.” ابو نے نرم لہجے میں کہا تھا.
“نہیں ابو جی رہنے دیں آپکی طبیعت آگے ہی ٹھیک نہیں.”
“بیٹا آپکی دوست نے اتنے آصرار سے آپکو بلایا ہے اگر آپ نہیں جاؤگی تو اسے دکھ ہوگا. جاؤ تیار ہوجاؤ میں چھوڑ آتا ہوں.” ابو نے کہا. ابیہا شش و پنج میں کھڑی تھی. اسی وقت اطلاعی گھنٹی بجی تھی. نیہا کچن سے نکل کر صحن میں نکل گئی. چند لمحوں بعد وہ پھر اندر آئی.
“تمہاری دوست نے ڈرائیور کو بھجوایا ہے.” نیہا نے اطلاع دی.
“جاؤ بیٹا آپ.” ابو نے کہا.
“ڈرائیور کیساتھ اکیلی لڑکی ذات کو بھیجنا مجھے صیحیح نہیں لگ رہا کاظم صاحب.” امی نے کہا.
“کوئی بات نہیں بیگم میں خود ڈرائیور سے مل آتا ہوں اور وہ شریف لوگ ہیں انکا ڈرائیور بھی شریف ہی آدمی ہوگا.” ابو مطمئن نظر آرہے تھے. امی کچھ بولی تو نہیں مگر انکے چہرے سے ظاہر ہورہا تھا کہ وہ مطمئن نہیں. بہرحال وہ اپنے کپڑے بیگ میں ڈال کر چادر اوڑھ کر ابو کیساتھ باہر نکلی ابو نے ڈرائیور کیساتھ سلام دعا کی اور پھر مطمئن انداز میں اسکو جانے کی اجازت دیدی تھی.
—————–
فارم ہاؤس میں مہندی کے فنکشن کے سب انتظامات مکمل کروانے کےبعد وہ گھر لوٹا. فنکشن کا وقت مغرب کے بعد کا تھا اور اس وقت سورج ڈوبنے ہی والا تھا. وہ گھر پہنچ کر کسی سے بھی بات کئے بناء جلدی سے سیڑھیاں پھلانگ کر اپنے کمرے میں آیا. اسکا سفید شلوار قمیض سلیقے سے پریس شدہ بیڈ پہ پڑا ہوا تھا. اس نے جلدی سے شاور لیکر کپڑے تبدیل کیئے اور بال سلیقے سے جما کر خود پہ پرفیوم اسپرے کیا. پاؤں میں کوہاٹی چپل پہنی. کلائی پہ گھڑی باندھی. اور اپنا والٹ اٹھا کر جیب میں ڈال کر ایک ہاتھ میں گاڑی کی چابیاں اور دوسرے ہاتھ میں موبائل اٹھا کر میسیجز چیک کرتا ہوا تیزی سے کمرے سے باہر نکلا تھا اور پھر کسی سے شدید ترین تصادم کے نتیجے میں جہاں اسکے ہاتھ سے موبائل پھسل کر زمیں بوس ہوا تھا وہیں مقابل کی دبی دبی سی چیخ نے اسے حواس باختہ کردیا.
“اوہ… سو سوری…” وہ جلدی سے بولا اور پھر سامنے کھڑی ابیہا کو دیکھ کر وہ قدرے حیران ہوا تھا. وہ اپنی پیشانی ہاتھ سے دبائے ہوئے تھی. اور آنکھوں میں مارے تکلیف کے پانی جمع ہوگیا تھا.
“زور سے لگی ہے کیا¿” ولید نے قدرے جھک کر معذرت خواہانہ لہجے میں پوچھا. وہ اس سے قد میں کم سے کم ایک فٹ تو چھوٹی تھی ہی.
“نہیں بہت آرام سے لگی ہے.” وہ جواباً سوں سوں کرتے ہوئے پھاڑ کھانے والے لہجے میں بولی.
“آئم سوری.. لیکن آپکو بھی دیکھ کر چلنا چاہیئے تھا ناں” وہ جھک کر زمین سے اپنا موبائل اٹھاتے ہوئے بولا جس کی اسکرین پہ لمبے لمبے اسکریچ نظر آرہے تھے.
“آپ مجھ سے ٹکرائے ہیں. میں نہیں” وہ سخت چڑچڑے پن سے بولی تھی. پیشانی میں درد ہی اتنا ہورہا تھا کہ سارا لحاظ بالائے طاق چلاگیا تھا.
“یہ دیکھیں آپکی وجہ سے میرے موبائل کا کیاحال ہوگیا ہے” اسنے بھی چبا چبا کر کہتے ہوئے اپنا موبائل اسکے سامنے لہرایا.
“اور آپکے اس نا معقول موبائل نے جو میری پیشانی کا حال کیا ہے اسکا کیا” وہ پیشانی سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے تلخ لہجے میں بولی تھی. صبیح پیشانی پہ چھوٹا سا سرخ نشان واضح تھا.
“غلطی تو بہرحال آپکی ہی ہے.” وہ شانے اچکا کر بے نیازی سے بولا تو وہ احتجاجاً واک آؤٹ کر گئی. اسکا رخ روحینہ کے کمرے کیطرف تھا. ولید کے ہونٹوں پہ ایک شرارتی سی مسکراہٹ بکھر گئی تھی. وہ بھی اسکے پیچھے پیچھے روحینہ کے کمرے کیطرف بڑھا. دروازہ کھلا ہوا تھا وہ دروازے کے پاس ہی رک گیا. روحینہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے میک اپ کو آخری ٹچ دے رہی تھی جبکہ ابیہا بیڈ کے کنارے ٹکی ہوئی تھی روٹھی روٹھی سی.
“روحی کیمرہ چارج کرلیا تھا¿” ولید نے اندر داخل ہوتے ہوئے پوچھا.
“ہاں وہ بیڈ سائیڈ ٹیبل پہ پڑا ہے. ویسے کیمرے کا کیا کرنا ہے آپ نے. مون کے ساتھ فوٹوگرافر نہیں ہوگا کیا¿” روحینہ اپنی لپ اسٹک کا شیڈ چیک کرتے ہوئے بولی.
” یار ہوگا وہ تو. مگر مجھے خود پکچرز بنانے کا شوق ہے.” اس نے کہتے ہوئے بیڈ سائیڈ ٹیبل سے کیمرہ اٹھاتے ہوئے ایک شرارتی سی مسکراہٹ ابیہا کی جانب اچھالی تھی. وہ رخ موڑ کر بیٹھ گئی.
“جلدی سے ریڈی ہو کر آجاؤ سب گاڑیاں جا چکی ہیں. میں صرف پندرہ منٹ ویٹ کرونگا.” وہ روحینہ سے کہہ کرکمرے سے نکل گیا تھا.
ابیہا اسکے جاتے ہی اٹھ کر آئینے کے سامنے آکھڑی ہوئی اور اپنی پیشانی پہ واضح ہوتا سرخی مائل نشان دیکھنے لگی.
“کیا ہوا¿” روحینہ اپنا میک اپ مکمل کرچکی تھی سو اسکی طرف متوجہ ہوئی.
“یہ دیکھو” ابیہا نے اسکی طرف رخ موڑا.
“اوہ.. یہ کیا ہوا¿”
“تمہارے بھائی سے ٹکر ہوئی تھی انکا موبائل میرے سر پہ بجا ہے.” وہ منہ بنا کربولی. روحینہ ہنسنے لگی. “اچھا چلو منہ مت بناؤ. ہلکا سا میک اپ کردیتی ہوں تمہارا یہ نشان چھپ جائیگا.” روحینہ نے کہا اور پھر اسکے نہ نہ کرنیکے باوجود بھی اسکو ہلکا سا میک اپ کردیا تھا. ابیہا نے اپنے بالوں کو جوڑے کی شکل میں لپیٹا اور دوپٹہ اچھی طرح سر اور سینے پہ پھیلا کر روحینہ کے ہمراہ نچلے پورشن میں آئی. روحینہ نے اپنا بیگ اور کچھ ضروری چیزیں اٹھائیں اور وہ دونوں مین ڈور لاک کرکے پورچ تک آئیں ولید گاڑی سے ٹیک لگائے کھڑا تھا. انکو آتے دیکھ کر گھوم کے ڈرائیونگ سیٹ پہ بیٹھ گیا روحینہ فرنٹ سیٹ پہ بیٹھی جبکہ وہ پچھلی سیٹ پہ بیٹھ گئی. اور گاڑی چل پڑی.
“ولی بھیا آپ نے ابیہا کو ٹکر کیوں ماری¿” روحینہ نے مذاقاً ولید سےدریافت کیا تھا.
“توبہ توبہ.. بھلا میں یہ گستاخی کرسکتا ہوں.. اصل میں ہم دونوں اچانک ایک دوسرے سے ٹکرا گئے تھے کیوں ابیہا” وہ بھی شرارت کے موڈ میں تھا.

بات کے اختتام پہ اس نے عقب نما آئینے میں دکھائی دیتے اسکے عکس پہ نظر ڈالی تھی. وہ گڑبڑا گئی.
“بیچاری کے ماتھے پہ نیل پڑ گیا ہے” روحینہ بولی.
“کہاں¿..مجھے تو نظر نہیں آرہا.” وہ عقب نما آئینے سے اسی پہ نظریں جمائے ہوئے تھا.
“میک اپ میں چھپ گیا ہے” روحینہ نے بتایا.
“اوہ.. آئی سی.. تو یہ میک اپ کا کمال ہے.” وہ مسکراہٹ لبوں تلے دبا کر بولا تھا. ابیہا جھینپ کر کھڑکی سےباہر دیکھنے لگی.
———————–
فارم ہاؤس میں مہندی کا فنکشن اپنے عروج پہ تھا. ہرسو رنگ و نور کی برسات تھی.جھلملاتے ملبوسات پہنے ہوئے خوبصورت لڑکیاں خوشبوئیں بکھیرتی ہوئی خوش باش ادھر سے ادھر پھر رہی تھیں. گیندے کے پھولوں سے سجے جھولے پہ شزاء اور سکندر براجمان تھے. شزاء پیلے اور سبز غرارہ شرٹ میں ملبوس بالوں کی چوٹی کو پیلے پھولوں سے سجائے اور پیلے پھولوں کا زیور پہنے ہوئے تھی. اسکا چہرا نفاست سے کئے گئے ہلکے ہلکے میک اپ سے مزین تھا. اور وہ بہت جاذب توجہ نظر آرہی تھی. سکندر سفید شلوار قمیص میں بڑھی ہوئی شیو کیساتھ کافی ہینڈسم لگ رہا تھا اسکے چہرے کی مشابہت ولید سے تھی مگر ولید ازحد ہینڈسم تھا. مہندی کی رسم شروع ہو چکی تھی اور اسٹیج پہ ایک رش سا لگ گیا تھا. ابیہا اسٹیج سے اتر کر ایک الگ تھلگ گوشے میں آکھڑی ہوئی. مووی کیمرے کی تیز لائٹ میں اسٹیج پہ کھڑی لڑکیوں کے میک اپ سے مزین چہرے چمک رہے تھے. ابیہا اس خوش باش بے فکرے لوگوں کے ہجوم کا جائزہ لینے لگی. روحینہ سبز غرارے پہ پیلی ایمبرائیڈڈ شرٹ پہنے بالوں میں گجرے سجائے پھولوں کے زیور پہنے پیلا اور سبز جھلملاتا دوپٹہ دائیں شانے پہ سیٹ کیئے ہلکا سا میک اپ کئے بہت پیاری لگ رہی تھی. وہاں موجود سبھی لڑکیاں ایک سے بڑھ کر ایک تھیں. ابیہا تو ان میں کسی صورت بھی میچ نہ ہوتی تھی. ادھر ادھر سرسری سی نگاہیں دوڑاتے اسکی نظر بے اختیار اسٹیج کے قریب ہی کھڑے ولید اور علیشا پہ جارکی تھی. سفید شلوار قمیص میں درازقد ولید بے حد ہینڈسم لگ رہا تھا جبکہ خوبصورت سی علیشا گہرے سبز رنگ کی پوری آستینوں والی میکسی میں دوپٹے کے بغیر اپنے لیئرز میں کٹے لمبے بال ایک انداز سے سیٹ کیئے ہلکے میک اپ اور جیولری کے نام پہ صرف کانوں میں لبے آویزے اور دونوں کلائیوں میں گجرے پہنے کسی آسمانی حور کیطرح لگ رہی تھی. وہ دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہے تھے اور ابیہا کے دل پہ نجانے کیوں احساس کمتری سا حاوی ہونے لگا تھا. وہ دونوں ساتھ کھڑے کتنے پرفیکٹ لگ رہے تھے. ابیہا کے دل میں بے نام سی اداسی اترنے لگی. اسنے نظریں جھکا لیں. اور ایک طرف کرسی پہ بیٹھ گئی.
“ارے آپ یہاں بیٹھی ہیں.” چند ثانیے گزرنے کےبعد ولید کی آواز اسکے قریب ہی ابھری تو وہ بے طرح چونک گئی. وہ کرسی کے قریب ہی کھڑا تھا.
“جی.” وہ سنجیدہ لہجے میں بولی.
“اکیلی کیوں بیٹھی ہیں¿” وہ بھی کرسی گھسیٹ کر اسکے مقابل ہی بیٹھ گیا.
“یونہی.” وہ مدھم آواز میں بولی.
“کیا ہوا¿ آپ انجوائے نہیں کر رہیں کیا¿” ولید نے ذرا غور سے اسکے چہرے کےتاثرات کا جائزہ لینا چاہا. فی الوقت اسکے چہرے پہ صرف بوریت کے تاثرات تھے.
“ایسی بات نہیں ہے.” وہ سابقہ لہجے میں بولی. وہ اسے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس قدر شان و شوکت دیکھر وہ احساس کمتری کا شکار ہورہی ہے. ولید نے ایک سرسری سی نظر سے اسکا جائزہ لیا. سبز رنگ کی گھیردار شلوار کیساتھ پوری آستینوں والی اسٹائلش سی پیلی شرٹ میں اسکا متناسب سراپا بہت جچ رہا تھا. سوٹ کا جھلملاتا دوپٹہ اس نے سر اور سینے پہ اچھی طرح پھیلا رکھا تھا. سادہ سا چہرا ہلکے سے میک اپ میں کافی اچھا لگ رہا تھا. دونوں کلائیوں میں پھولوں کے گجرے پہن رکھے تھے. چھوٹی سی ناک میں باریک سی نوز رنگ اسکے معصوم سے چہرے کیساتھ بہت میچ کر رہی تھی. وہ درحقیقت ایک معصوم سی باحیا لڑکی کے مروجہ معیار پہ پوری اترتی تھی. ولید اسے دیکھے گیا. وہ اسکی نظروں کے ارتکاز سے کنفیوز ہونے لگی تھی.
“ٹائم کیا ہوگیا ہے¿” ابیہا نے پوچھا.
“ساڑھے نو ہو گئے ہیں” ولید نے کلائی گھڑی پہ نظر ڈال کر جواب دیا.
“اف اتنی دیر ہوگئی.” وہ یکدم گھبرا سی گئی تھی.
“اتنی بھی دیر نہیں ہوئی. یہ فنکشن تو کم سے کم بھی دوبجے تک چلے گا.” ولید کے لہجے میں لاپرواہی تھی. جبکہ ابیہا کی بالکل سٹی ہی گم ہو کر رہ گئی تھی.
“اتنی دیر… مجھے تو اتنی دیر تک گھر سے باہر رہنے کی پرمیشن نہیں ہے.” وہ سخت پریشان نظر آرہی تھی.
“پریشان مت ہوں آپکے گھر والوں کو معلوم تو ہے کہ آپ ادھر ہیں. اور اگر آپکو زیادہ ٹینشن ہے تو فون کر کے بتادیں گھر پہ” ولید نے نرم لہجے میں کہا.
“مگر میرے پاس تو موبائل نہیں ہے.” وہ روہانسی ہوگئی تھی.
“میرا موبائل تو آج شہادت کے رتبے پہ فائز ہوگیا تھا. آپ رکیں میں روحینہ سے موبائل لیکر آتا ہوں” وہ کہہ کر اسٹیج کیطرف بڑھ گیا. چند لمحوں بعد وہ روحینہ کے ہمراہ آتا دکھائی دیا تھا.ابیہا اٹھ کھڑی ہوئی تھی.
“کیا ہوا ابیہا¿” روحینہ نے آتے ہی پوچھا.
“میں نے گھر انفارم کرنا ہے کہ دیر ہوجائیگی.” وہ مدھم آواز میں بولی ولید ذرا فاصلے پہ ہی کھڑا تھا.
“یہ لو کال کرلو اور بتادو کہ ذرا دیر ہوجائیگی ہم خود تمہیں ڈراپ کرینگے یار.” روحینہ نے اپنا موبائل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا. ابیہا موبائل اسکے ہاتھ سے لیکر ذرا الگ ہٹ آئی. اور گھر کا نمبر ڈائل کرکے فون کان سے لگایا.دوسری جانب تیسری بیل پہ نیہا کی ہیلو سنائی دی تھی
“ہیلو آپی میں ابیہا بول رہی ہوں. یہاں فنکشن میں تھوڑی دیر ہوجائیگی. روحینہ مجھے ڈراپ کردینگی.” اس نے جلدی جلدی کہا.
” آبی جلدی سے گھر پہنچو.”دوسری جانب سے نیہا کی پریشان سی آواز سنائی دی.
“کیا ہوا¿” وہ نیہا سے بڑھ کر پریشان ہوگئی تھی.
“پھپھو آئی ہوئی ہیں. زبیر نے دوپہر میں تمہیں گاڑی میں دیکھ لیا تھا. جلدی سے آؤ سخت جھگڑا ہورہا ہے یہاں” نیہا کی بات سن کر اسکے ہوش ہی اڑ گئے تھے.
“اف اللّہ اب کیا ہوگا.”
“پتہ نہیں بس جلدی سے آؤ.” نیہا نے کہہ کر جلدی سے فون رکھ دیا تھا. ابیہا لرزتے قدموں کیساتھ روحینہ کے پاس آئی.
“ہوگئی بات¿”
“مجھے فوراً گھر جانا ہے. روحینہ.” وہ مدھم آواز میں بولی تھی.
“کیا ہوا یار سب ٹھیک تو ہے ناں¿” روحینہ بھی پریشان ہو گئی تھی.
” پھپھو آئی ہوئی ہیں گھر پہ پلیز مجھے واپس بھجوادیں ورنہ بہت ایشو بن جائیگا.” وہ جیسے رودینے کے قریب تھی.
ولید چند قدموں کا فاصلہ عبور کرکے ان دونوں کے پاس چلا آیا.
“کیا ہوا¿” اس نے روحینہ سے دریافت کیا.
“ابیہا کو گھر ڈراپ کردیں ولی بھیا.” روحینہ نے کہا.
“ہوا کیا ہے¿”
“آپ بعد میں انویسٹی گیشن کر لیجئیے گا ابھی اسکو ڈراپ کر آئیں.” روحینہ نے اسے ذرا آنکھیں دکھائیں.
“ڈرائیور کو بول دیتا ہوں میں میرا جانا مناسب نہیں ہے.” وہ سنجیدہ لہجے میں کہہ کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا چلا گیا.
“ڈونٹ وری یار. اور پلیز مجھے بتا ضرور دینا اگر کوئی مسئلہ ہوا تو.” روحینہ نرم لہجے میں کہہ رہی تھی اور وہ ڈوبتے دل کیساتھ سن رہی تھی. وہ جانتی تھی کہ گھر پہ ایک ہنگامہ اسکا منتظر ہوگا.
——————
ڈرائیور اسے گھر کے باہر ڈراپ کرکے چلا گیا وہ دل ہی دل میں جل تو جلال تو کا ورد کرتے ہوئے گھر کیطرف بڑھی. گیٹ اندر سے بند نہیں تھا وہ اسے دھکیل کر اندر داخل ہوئی. سامنے ہی صحن میں گھر کے سبھی افراد پھپھو اور زبیر بھائی کے ہمراہ براجمان تھے. پھپھو غصے میں بول رہی تھیں.
“آگئی صاحبزادی.” پھپھو اسے دیکھتے ہی طنزیہ لہجے میں بولی تھیں.”یہ کوئی وقت ہے شریف لڑکیوں کے گھر آنے کا.”
ابیہا لرزتے قدموں کے ساتھ صحن میں ایک جانب کھڑی تھی .
“غضب خدا کا لڑکی اتنا بن سنور کر آدھی رات کو گھر تشریف لا رہی ہیں اور تو چپ کرکے بیٹھا ہوا ہے کاظم” پھپھو نے واویلا کرنے کے سےانداز میں کہا. ابو کچھ نہ بولے.
“کس کے ساتھ آئی ہے تو” پھپھو اٹھ کر اسکے پاس آتے ہوئے غضبناک انداز میں بولیں.
“ڈڈ…ڈرائیور کیساتھ.” وہ اٹکتے ہوئے بولی.
“ہائے توبہ بے حیائی کی انتہا.” پھپھو نے اپنے سینے پہ دو ہتھڑ مارے.” اتنی رات کو اتنا ہار سنگھار کیئے لڑکی انجان مرد کیساتھ واپس آئی ہے اور تو یوں بت بنا بیٹھا ہے کاظم. اور تو بتا بے غیرت اتنا ہار سنگھار کس لیئے کیا ہوا ہے تو نے¿” پھپھو چیل کیطرح اس پہ جھپٹی تھیں اور ایک زوردار تھپڑ اسے رسید کیا تھا. وہ گال پہ ہاتھ رکھے لڑکھڑا سی گئی.
‘بس آپا.”ابو دھاڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے.”آپکو دس دفعہ بتایا ہے کہ یہ میری اجازت سے گئی تھی. اور یہ میری بیٹی ہے آپکو اسکی فکر میں گھلنے کی ضرورت نہیں ہے. میں بہت دیر سے آپکا یہ بیکار کا واویلا برداشت کررہا ہوں. مگر میرے سامنے میری بیٹی پہ کوئی ہاتھ اٹھائے یہ میں کسی صورت برداشت نہیں کرسکتا.”انھوں نے سسکتی ہوئی ابیہا کو اپنے ساتھ لگاتے ہوئے مضبوط لہجے میں کہا تھا.
“ہائے اب میں کوئی ہوگئی. سن رہی ہیں آپ امی جان” پھپھو نے جاہل عورتوں کیطرح اونچا اونچا بولتے ہوئے ہوئے رخ سخن دادو کی طرف موڑا.
“بس کردے سعیدہ. ایسی بھی کوئی آفت نہیں آگئی. آجکل زمانہ بدل گیا ہے. بچے بچیاں دوستوں کے گھر آیا ہی جایا کرتے ہیں.اسمیں کیا بڑی بات ہوگئی. اور آبی ہم سے اجازت لیکر گئی تھی تو نے بلاوجہ بچی کو رلادیا” دادو بھی اکتائے ہوئے انداز میں بولی تھیں.
“یہ آپ کہہ رہی ہیں امی.” پھپھو کو سخت صدمہ پہنچا تھا.
“ہاں میں کہہ رہی ہوں وقت کیساتھ تھوڑے خیالات بدل لینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہوتا.” دادو نے کے جواب پہ پھپھو جزبز سے ہوتی بیٹھ گئیں. جبکہ ابیہا اپنے کمرے میں چلی آئی. اسنے باتھ روم میں جاکر رگڑ رگڑ کے منہ دھودیا اور کمرے میں آکر اپنے بیڈ پہ بیٹھ کر رونے لگی. صحن سے اب پھپھو کے لیکچر کی آوازیں آرہی تھیں اور ابیہا کا دل شدید دکھ کا شکار ہورہا تھا.
——————
سوئی ہوئی ابیہا کی آنکھ آوازوں سے کھلی تھی اس نے بمشکل آنکھیں کھولیں ذہن ذرا صاف ہوا تو آوازیں واضح ہوگئیں.
“آپا کچھ ایسا غلط نہیں کہہ رہی تھیں” یہ امی کی آواز تھی.”میں تو خود بھی ابیہا کو اکیلے ڈرائیور کیساتھ بھیجنے پہ رضامند نہیں تھی. ہمارے گھروں میں یہ رواج نہیں ہیں. ہم شریف لوگ ہیں”
ابیہا اٹھ بیٹھی رات دیر تک روتے رہنے کےباعث وہ دن چڑھے تک سوتی رہی تھی.
“بہو کہتی تو تم ٹھیک ہو” یہ دادو کی آواز تھی. ابیہا بجھے دل کیساتھ بستر سے اتری. ضروریات سے فارغ ہو کے وہ لاؤنج میں آئی. یہاں امی دادو اور نیہا بھی موجود تھیں. وہ بھی وہیں بیٹھ گئی.
“تمہاری دوست کا فون آیا تھا. پوچھ رہی تھی کہ گاڑی کب بھجوائے میں نے تو صاف منع کردیا. اب تمہارے ابو چاہے کتنے بھی ماڈرن بننے کی کوشش کریں لیکن ایک تمہاری خاطر ہم سارے خاندان سے کٹ کر تو نہیں بیٹھ سکتے ناں. لہٰذا بہتری اسی میں ہے کہ تم بھی سمجھ لو کہ ہمارے گھر کی روایات ایسی باتوں کی اجازت نہیں دیتیں.” امی نے چھوٹتے ہی کہا تھا. وہ اس وقت کتنی اکھڑی اکھڑی اور اجنبی سی لگ رہی تھیں وہ جان گئی تھی کہ نیہا ان سب کی برین واشنگ کرچکی ہے سو اسنے چپ چاپ سر تسلیم خم کردیا.
“اب اٹھ کر یہ ہانڈی چڑھاؤ تم کوئی مہمان نہیں ہو. سارا دن بہن اکیلی لگی رہتی ہے کبھی خود بھی احساس کرلیا کرو. اب یونیورسٹی جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ بندہ گھر کے کاموں کو ہاتھ بھی نہ لگائے.” امی نے سبزی کی ٹوکری اسکی طرف بڑھاتے ہوئے سخت لہجے میں کہا تو وہ ٹوکری لیئے چپ چاپ کچن میں چلی آئی. اور ہانڈی چڑھانے کی تیاری کرنے لگی.
“آپا بھی کل یہی کہہ رہی تھیں کہ یونیورسٹی جانے کیوجہ سے اس لڑکی کے رنگ ڈھنگ ہی بدل گئے ہیں. وہ بھی سچی ہیں جب جب آتی ہیں یہ سوئی ہوئی ملتی ہے.اب ہم کوئی شہنشاہ تو نہیں ہیں کہ صاحبزادی پڑھ کر آئے تو باقی کا دن آرام کرکے گزاردے. پڑھائی کیساتھ ساتھ باقی کام بھی کرنے چاہیئیں.” امی کی آواز اسے واضح سنائی دے رہی تھی.
“بس یہ کاظم کو ہی شوق تھا کہ بیٹی بہت پڑھ لکھ لے. پڑھی لکھی لڑکیاں بھی بھلا کبھی گھر گرہستی سنبھالتی ہیں.” دادو نے بھی امی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی. ابیہا تیل میں براؤن ہوتے پیاز پہ نظریں جمائے ہوئے تھی.
“امی پھپھو کا تجزیہ بالکل ٹھیک ہے ابیہا کے خیالات واقعی بہت بدل گئے ہیں. وہ سمجھتی ہے کہ اسکی زندگی بس اسی تک محدود ہے اور کسی کا کوئی حق نہیں کہ اسکی زندگی کے متعلق کچھ بھی بولے.” نیہا نے بھی اپنے نادر خیالات کا اظہار کیا تھا. وہ ہانڈی میں ٹماٹر اور دیگر مصالحہ جات ڈالنے لگی.
“حق کیوں نہیں ہے. اگر اتنی ہی تیری اپنی زندگی ہے تو پھر الگ گھر بھی بنا لے اور رہ اکیلی.” امی نے اسکو سنانے کیلیئے بلند آواز میں کہا تھا. ابیہا سب سنتی رہی تھی. اسنے دل ہی دل میں تہیہ کرلیا تھا کہ اب وہ گھر والوں کو شکایت کا موقع نہیں دیگی. امی دادو اور نیہا ابھی بھی اسی کے متعلق ڈسکس کررہی تھیں. ابیہا جلدی جلدی کھانا تیار کرنے لگی.
———————-
سکندر کی سہرا بندی کے بعد بارات ہوٹل روانگی کیلیئے تیار کھڑی تھی. ولید نے ایک بار پھر تمام نفوس پہ ایک نگاہ دوڑائی مگر اسے وہ کہیں نظر نہ آئی تھی. وہ روحینہ کے پاس چلا آیا.

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Episode 01 Episode 02 Episode 03 Episode 04 Episode 05 Episode 06 Episode 07 Episode 08 Episode 09 Last Episode 10

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This function has been disabled for Online Urdu Novels.

%d bloggers like this: